Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 19)

Nahal By Fatima Noor 

وہ قریب صبح سات بجے ہوسپٹل واپس آیا تو زین وہیں باہر بیٹھا ہوا تھا ٫ کمبل ارگرد اوڑھے چائے پیتا ہوا جیسے دنیا میں ایک یہی کام باقی رہ گیا ہو ،تازہ دم چہرے کے ساتھ ٫وہ یقینا رات کو کہیں سوگیا تھا ٫ عیسیٰ اس کے ساتھ بیٹھا تو وہ چونکا

” کہاں گئے تھے ۔۔۔؟”

” یہیں کہیں تھا …”

ہاتھوں کو مسلتے اس نے ہوسپٹل کو دیکھا

” ڈاکٹر نے کیا کہا ہے ؟”

” ٹھیک ہیں قرت ٫ میں دوبارہ گیا تھا پوچھنے ٫ شام تک ڈسچارج کردیں گے “

عیسیٰ خاموشی سے ہوسپٹل کو دیکھتا رہا اور زین اسے

” تم واپس چلے جائو زین۔۔۔۔”

” کیا کروں گا جاکر؟ ہوٹل میں بور ہو جائوں گا ۔۔۔۔۔”

وہ دونوں اسی دن ہوٹل چلے گئے تھے جو کچھ ہوا اس کے بعد انہیں مسجد میں رکنا مناسب نہیں لگا

” میں اسلام آباد جانے کی بات کررہا ہوں “

” جانتا ہوں۔۔۔۔۔ اور میں نہیں جائوں گا یہ بات تم جانتے ہو “

اس نے رخ موڑ کر زین کو دیکھا

” میری وجہ سے پہلے ہی بہت خوار ہو چکے ہو تم “

” میں مزید خوار ہونے کیلئے بھی تیار ہوں “

وہ اگلے کئ لمحے خاموش رہا ٫ بوٹ سے گھاس اکھیڑتے ہوئے نیچے دیکھے گیا

” تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔؟”

زین کو اس پر ترس آیا ٫ سفید شرٹ پر سیاہ جیکٹ پہنے بکھرے بالوں اور سرخ آنکھوں کے ساتھ تھکے ہوئے چہرے والا عیسیٰ ۔۔۔وہ ایسا تو نہیں تھا !

” نہیں ۔۔۔۔۔میں ٹھیک نہیں ہوں ” وہ اسی طرح نیچے دیکھتا رہا

” سب ٹھیک ہو جائے گا یارر”

وہ بس یہی کہہ سکا

” کچھ ٹھیک نہیں ہوگا” اس نے زکام زدہ سانس اندر اتاری “میں ہمیشہ سوچتا رہا کہ میرے ارگرد کے لوگوں نے مجھے بہت تکلیف دی ہے ٫ ان چند دنوں میں مجھے معلوم ہوا میں نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو ان کی دی گئ تکلیف سے زیادہ تکلیف لوٹائ ہے ٫ میرا وجود کبھی کسی کیلئے خوشی کا باعث نہیں بن سکا”

” عیسیٰ ۔۔۔۔۔” زین کو دکھ ہوا

” اسے کچھ ہوجاتا تو یہ دنیا میرے لئے درد بن جاتی ٫ اسے میری وجہ سے کچھ ہوجاتا تو میں خود کو کبھی معاف نا کر پاتا “

” یہ سب تمہاری وجہ سے نہیں ہوا “

” میں یقین کرلیتا اگر میں سچ نا جانتا لیکن میں سچ جانتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ان کی اس حالت کا ذمہ دار میں ہوں”

بوٹ سے مٹی کھرچتے وہ بہت تکلیف سے کہہ رہا تھا ٫ زین نے کپ نیچے رکھ دیا ٫ اس کی چائے حرام ہوگئ تھی

” وہ اب ٹھیک ہیں۔۔۔۔”

” وہ زندہ ہیں ۔۔۔۔ٹھیک نہیں ہوں گی “

” تم ۔۔۔تم یار ۔۔۔۔کیوں کرلی محبت ؟” وہ جھنجھلایا

” ہوگئ بس ۔۔۔۔۔” آواز میں بے بسی در آئ

” نا ہوتی تواچھا ہوتا “

” ہوگئ ہے ۔۔۔۔اس سے زیادہ کچھ اچھا نہیں رہا اب “

وہ پیچھے کو ہوا اور بینچ سے ٹیک لگالی ٫آنکھیں رتجگے کے باعث سرخ تھیں ٫ زین نے اس کے تھکے ہوئے چہرے کو دیکھا

” اندر چلو یا پھر واپس چلو عیسیٰ”

” جب تک وہ یہاں ہیں نا میں اندر جاسکتا ہوں نا واپس “

اس نے بازؤں آنکھوں پر رکھ لیا

” انکل کی کال آئ تھی ۔۔۔”

زین نے بات بدل دی

” بتادو انہیں٫ ان کا بیٹا درباروں کی خاک چھانتا پھر رہا ہے “

اس کی آواز بھاری ہونے لگی ٫ شاید اسے نیند آرہی تھی

” بتایا تھا ٫ ان کے بیٹے کا دل خاک بن گیا ہے “

عیسیٰ نے کچھ نہیں کہا ٫ وہ غنودگی میں جارہا تھا اسے کچھ کہنا بھی نہیں تھا

بعض اوقات آپ صرف سونا چاہتے ہیں ٫ ایک گہری نیند ٫ دکھوں سے فرار حاصل کرنے کیلئے چند گھنٹوں کی ۔۔۔۔چند دنوں کی ۔۔۔چند لمحوں کی گہری نیند ٫ یوں جیسے اس کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا ٫ یہ جاننے کے باوجود بھی کہ چند لمحوں کے فرار سے کچھ ٹھیک نہیں ہوتا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اس کی نیند چند لمحوں میں ہی کھل گئ تھی٫ ہوسپٹل کے شور میں یہ چند لمحوں کی نیند بھی غنیمت تھی٫ زین جانے کہاں تھا ٫ وہ اگلے کئ گھنٹے وہیں بیٹھا رہا ٫ زین کھانا لے کر آیا تو خاموشی سے کھالیا ٫ ایک بار اندر جانے کا سوچا لیکن پھر خیال جھٹک دیا

شام کے وقت قرت کو ڈسچارج کردیا گیا٫ وہ ہوسپٹل کی پارکنگ میں ٹھہرا اسے دیکھتا رہا ٫ایک طرف نعمان صاحب کا ہاتھ تھامے ، دوسری طرف ابوبکر کا وہ بہت آہستہ چل رہی تھی ، آنکھیں جھکی ہوئ تھیں ، کمزور اور خود کو گھسیٹ کر چلتی ہوئ ٫ وہ کسی مجسمے کی طرح ساکت کھڑا اسے کھڑا دیکھتا رہا ، شاید یہ اس کی نظروں کی تپش تھی کہ اسی لمحے قرت نے نگاہیں اٹھائیں اور نظر اس پر پڑی، وہ چند لمحے اسے دیکھے گئ اور پھر رخ موڑ لیا ، عیسی نے جانا تھا کچھ نگاہیں عذاب ہوتی ہیں ، اور وہ چند لمحے پہلے اس عذاب سے گزرا تھا

وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ گئے وہ تب بھی کتنی دیر وہیں ٹھہرا رہا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” اتنا سب ہوگیا اور تم نے بتایا ہی نہیں “

حریم اس سے الگ ہوئ تو دوبارہ سے اسے دیکھا ، اس کا چہرہ زرد ہورہا تھا ، آنکھیں سفید بے جان سی ٫ وہ اپنی امی کے ساتھ اس سے ملنے آئ تھی

” اپنی بربادی کا قصہ کیسے سناتی “

” کون سی بربادی ؟ کسی کو علم نہیں ہوا قرت “

گائوں میں بات زیادہ نہیں پھیلی تھی ، صرف خاندان میں چند لوگوں کو پتا چلی تھی اور جنہیں پتا چلی تھی انہوں نے دبے دبے لفظوں میں قصے کو چھیڑ کر فنا کردیا تھا ، وہ اب تک حیران تھی کہ اتنا سب ہونے کے بعد بھی اس کی عزت بچی رہی تھی

” کسی کو علم نا ہونے سے میرے حصے میں آئ بربادی دور نہیں ہوگی حریم ، جانتی ہو میں ساری زندگی لوگوں سے ڈرتی رہی ، میں سوچتی تھی کہ لوگ مجھے بدنام کردیں گے ، خدا سے ڈرتے ڈرتے میں نے کب لوگوں سے ڈرنا شروع کردیا مجھے علم ہی نا ہوا ، جب علم ہوا تب دیر ہوچکی تھی ، جب سمجھ آیا عزت ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے تب تک ذلت کے چھینٹے مجھ پر پڑ چکے تھے “

” ایسا مت کہو ، تم بہت بہادر ہو “

” نہیں ہوں ، تم چاہو تو بے حس کہہ سکتی ہو “

حریم خاموش ہوگئ ، مہرالنساء چائے لارہی تھی

” چچی تم سے بات کیوں نہیں کررہیں ؟”

مہر واپس چلی گئ تو وہ پوچھنے لگی

” ناراض ہیں ۔۔۔۔۔”

وہ بے تاثر لہجے میں کہتے ہوئے چائے پینے لگی ، حریم کو وہ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی

” مجھے ماریہ سے یہ امید نہیں تھی “

” مجھے بھی نہیں تھی ، لیکن اب میں نے یہ بھی جان لیا ہے کہ لوگوں سے امیدیں لگانے کا یہی انجام ہوتا ہے ، ” حریم چند لمحے اسے دیکھتی رہی

” پوچھ لو حریم”

” کیا ؟”

” وہی جو پوچھنا ہے “

” عیسیٰ ؟” اسے سمجھ نہیں آئ آگے کیا پوچھے

” وہ آیا تھا ، اس نے بتایا کہ کیسے اس نے اور ماریہ نے مل کر مجھے وہاں بلایا تھا ، اس دن ہوسپٹل میں بھی دکھا تھا ” آواز کے ساتھ چہرہ بھی بے تاثر ہوگیا

” وہ سچ میں تم سے محبت کرتا ہوا تو ؟”

کچھ جھجھک کر حریم نے سوال کیا

” اس کی محبت میرے لئے سوائے عذاب کے کچھ نہیں “

” مجھے لگا تھا کہ شاید تم دونوں کسی خوبصورت داستاں کا حصہ بنوگے ٫ میں نہیں جانتی تھی اس داستان کا انجام یہ ہوگا “

” انجام تو نہیں تھا یہ حریم ٫ اختتام تھا ہر شے کا ٫ میرے لئے ہر شے مٹ گئ ٫ فنا ہوگئ ٫ میں نے ہر شے خود ہی مٹادی “

اس کی آواز بھرا گئ

” تمہارا قصور نہیں تھا قرت “

” تھا ۔۔۔ہر شے سے زیادہ تھا ٫ میں ملنے نا جاتی تو یہ سب نا ہوتا ٫ میں بھول گئ دو نا محرموں کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے ٫ بھول گئ خدا کی حدود مذاق نہیں ہوتیں ٫ میں اس سے تنہائ میں ملنے نا جاتی تو یہ سب نا ہوتا حریم ” اس نے چہرہ ہاتھوں میں دے دیا ٫ آنسو تھے کہ ختم ہی نہیں ہوتے تھے ٫جانے آنکھیں اتنا پانی کہاں سے لاتی ہیں

دکھ تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا ٫ یہ تکلیف یہ احساس کہ یہ سب اس کی خود کی وجہ سے تھا ہر شے سے بڑھ گیا تھا ٫ وہ جب جب عیسیٰ سے ملی تھی کوئ نا کوئ ساتھ ہوتا ٫ کوئ نا کوئ پاس ہوتا ٫ حریم ٫ ابوبکر ٫ مہر ٫ ماریہ ٫ پہلی بار وہ اس کے ساتھ تنہا گئ ٫ پہلی بار بند دروازے کے پیچھے تنہا اس سے ملی ، پہلی بار کی غلطی آخری سزا بن گئ

حریم کا دل کٹنے لگا ٫ بے ساختہ قرت کو اپنے ساتھ لگایا ٫ وہ جیسے ایک بار پھر بکھر گئ

” اوہ حریم یہ میں نے کیا کردیا ٫ میں خود کو کیسے معاف کروں گی ؟ کیسے اللہ سے معافی مانگوں گی ؟ وہ مجھے معاف کرے گا ؟بتائو حریم وہ معاف کردے گا ؟ “

اس کے سر کا درد پھر جاگنے لگا ٫ اس نے دعا کی کاش اس بار وہ مر جائے ٫ بعض دعائیں پوری نہیں ہوتیں ٫ اس کی بھی آج کل نہیں ہورہی تھیں ٫ حریم کے ساتھ لگ کر روتے اس کی ہچکیاں تھمنے لگیں ٫ تھوڑی دیر پہلے لی گئ دوائ کا اثر تھا کہ وہ غنودگی میں جانے لگی

اس کی پشت سہلاتی حریم کو جی بھر کر رونا آیا ٫ وہ اس کیلئے صرف دوست نہیں تھی دوست سے بڑھ کر تھی ٫ اور اب اس کی تکلیف اس کا دل دکھا رہی تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے جارہی تھی جب ابا کے کمرے سے آتی آواز پر رک گئ

” کیا کرتا ؟ بتائو ؟ بیاہ دیتا اسے جواد کے ساتھ ؟”

” بیاہ دیتے ، ہمارے سر سے بوجھ اتر جاتا “

” خدا کا خوف کرو سعدیہ بیگم ، بیٹی ہے وہ تمہاری “

” اسے بھی یاد رہ جاتا حافظ صاحب ، اسے بھی یاد رہ جاتا، جب اس لڑکے سے ملنے گئ تھی تو وہ کیوں بھول گئ “

اس نے سیڑھی کو مضبوطی سے تھام لیا

” اپنی مرضی سے نہیں گئ تھی “

ابا کی آواز کمزور ہوئ

” جیسے بھی گئ ہمارے سر پہ تو خاک پڑ گئ نا ، اختر صاحب کی بیوی آئ تھی ، ذو معنی لہجے میں پوچھنے لگی کہ قرت کا رشتہ کسی باہر کے امیر زادے سے طے کردیا ہے ؟ مجھے بتائیں کس کس کو جواب دوں ” اماں کی آواز میں آنسو کی آمیزش تھی نعمان صاحب خاموش رہے ” دشمن نہیں ہوں اس کی ، ماں ہوں کلیجہ میرا بھی پھٹتا ہے ، مگر میں لوگوں سے ڈرتی ہوں ، بات زیادہ نہیں پھیلی ، جو پھیلی ہے اس کی وجہ سے ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، میں تو کہتی ہوں اسی لڑکے کو کہیں لے جائے اسے ، میری نظروں کے سامنے رہتی ہے تو دل پھٹتا ہے “

اس نے مزید نہیں سنا ، لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے کی طرف بڑھ گئ ، دروازہ بند کیا اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ ، آنھیں پل بھر میں نم ہوئیں ، اذیت حد سے بڑھ گئ ، وہ نہیں جانتی تھی اب کیا ہوگا ، اسے بس اتنا معلوم تھا اس کی ہر بربادی کا ذمہ دار عیسیٰ حیات تھا

تبھی دروازہ کھلا اور ابوبکر اندر داخل ہوا ٫ اسے روتا دیکھ وہ وہیں ٹھٹھک کر رک گیا

” آپ رو رہی ہیں ؟ “

اس نے چونک کر سر اٹھایا پھر سرعت سے آنسو صاف کئے

” کچھ کہنا تھا تم نے ؟”

وہ زمین سے اٹھ کر الماری تک گئ اور یونہی کپڑے درست کرنے لگی

” جی ۔۔۔۔۔منزل سنانی تھی ” وہ اس کے پیچھے آکھڑا ہوا ٫ سر جھک گیا ٫ اسے روتے دیکھ بہت تکلیف ہوئ تھی

” مہر کو سنا دو ٫ میری طبیعت نہیں ٹھیک “

آواز زکام زدہ سی تھی ٫ ابوبکر چند لمحے اسے دیکھتا رہا

” آپی۔۔۔۔۔”

” ہوں …”

” آپ رویا مت کریں “

اس کے حلق میں بہت سے آنسو اٹکے

” تم دعا کرو کہ جو غم مجھے رلا رہا ہے وہ دور ہو جائے “

” آپ خود کیلئے خود دعا کیوں نہیں کرتیں ؟”

بہت معصومیت سے پوچھا

” میری دعائیں رد ہورہی ہیں ابوبکر ٫ قرت العین سے اس کا اللہ ناراض ہوگیا ہے “

وہ پلٹ کر اس کے سامنے آئ ٫ آنکھیں لمحوں میں نم ہوگئیں

” وہ تو مان جایا کرتا ہے “

” نہیں مان رہا ٫ تم میرے لئے دعا کرو ابوبکر ۔۔۔دعا کرو کہ اللہ مان جائے ۔۔۔۔۔کروگے نا ؟”

اس نے سر ہلا دیا

” میں جائوں ؟ پھر مجھے مسجد جانا ہے “

اس نے سر ہلادیا ٫آنکھوں میں موجود آنسو پیچھے دھکیلے اور مڑنے لگی ٫ اسی لمحے کوئ خیال سا آیا

” تم مسجد جائوگے ؟”

وہ جو باہر جارہا تھا رکا

” جی ۔۔۔۔۔”

وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی

” میرا ایک کام کروگے؟”

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ایک گہری سانس اندر اتار کر اس نے مسجد کو دیکھا

” وہ تمہاری بات سن لیں گے ؟”

پاس سے زین کی آواز ابھری تو اس نے رخ موڑا

” معلوم نہیں ۔۔۔۔۔”

” کیا کہوگے …؟”

” جو کہہ سکا “

وہ گاڑی سے اتر کر اندر کی طرف بڑھ گیا ٫ زین پیچھے گاڑی میں ہی بیٹھا رہا ٫ صحن میں جوتے اتار کر وہ اندر کی طرف بڑھا ٫ ظہر کی نماز کا وقت ہوچکا تھا تو وہ بھی باقی سب کے ساتھ وضو کرنے لگا ٫ وضو کرکے وہ سب سے آخری صف میں کھڑا ہوگیا ٫ ابھی پہلی صف تک آنے میں وقت لگتا

نماز ہوئ

دعا مانگی گئ

لوگ بکھر گئے اور وہ وہی بیٹھا رہا

” کیا ہم بات کرسکتے ہیں .؟”

وہ جو نماز پڑھا کر باہر جارہے تھے ٹھٹک کر رک گئے ٫ نظر نیچے بیٹھے عیسیٰ پر گئ جو انہیں دیکھ رہا تھا

” آپ یہاں کیا کررہے ہیں ؟’

” آپ سے بات کرنی تھی “

” مجھے کچھ نہیں سننا “

وہ سختی سے کہتے آگے بڑھ گئے ٫ عیسیٰ جھٹکے سے اٹھتا ان تک آیا

” میں آپ سے ضد نہیں کرنا چاہتا ٫ لیکن کیا ایک بار صرف ایک بار آپ مجھے نہیں سن سکتے ؟”

وہ آنکھوں میں ڈھیروں التجا لئے انہیں دیکھ رہا تھا ٫ نعمان صاحب نے چند لمحے اسے دیکھا پھر رخ موڑ کر مسجد میں بیٹھے لوگوں کو

” میرے پیچھے آئیں …”

وہ ایک مطمئن سانس خارج کرتا ان کے پیچھے بڑھ گیا ٫ صحن سے گزر کر وہ سامنے بنے کمرے کی طرف بڑھ گئے ٫ دروازہ کھولا اور لائٹ جلائ

” آپ کے پاس صرف دس منٹ ہیں ٫ مجھے گیارہویں منٹ میں یہاں سے جانا ہے “

عیسیٰ نے سر ہلایا

” آپ خفا ہیں مجھے سے ؟”

” جو کچھ آپ نے کیا اس کے بعد خفا ہونا باقی نہیں رہا ٫ اس کے بعد کچھ باقی نہیں رہا”

” میں وضاحت دے سکتا ہوں قاری صاحب “

” کس چیز کی وضاحت دیں گے ؟ اس بات کی کہ آپ میری بیٹی کو اتنا عرصہ تنگ کرتے رہے ؟ اس بات کی کہ آپ نے مجھے دھوکے میں رکھا ؟ یا اس بات کی کہ میری بیٹی موت کو چھو کر آئ اور اس کے ذمہ دار آپ ہیں ؟’

ان کی آواز سخت ہوگئ ٫ عیسیٰ کے چہرے پہ کرب اترا

” مجھے آپ کا ہر الزام قبول ہے “

” مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی عیسیٰ٫ بھروسہ توڑا ہے آپ نے میرا”

” میں یہ بھی قبول کرتا ہوں لیکن میرا یقین کریں میں ایسا نہیں چاہتا تھا “

” چاہنے یا نا چاہنے سے کیا فرق پڑتا ہے ٫ جو ہوگیا وہ آپ ختم نہیں کرسکتے “

وہ تلخی سے کہہ رہے تھے ٫ اس نے ان چند دنوں میں جب بھی انہیں سنا تھا ان کا نرم لہجہ سنا تھا اور جب نرم لہجے سخت ہوتے ہیں تو ان سے زیادہ سخت کچھ محسوس نہیں ہوتا

” جو ہوگیا میں اس کیلئے معافی چاہتا ہوں “

” میری معافی کا اس سب سے کوئ تعلق نہیں ہے “

” جس کا ہے میں ان سے بھی مانگ لوں گا “

” آپ مجھے دوبارہ قرت کے آس پاس بھی نظر آئے تو میں بھول جائوں گا کہ آپ کبھی میرے مہمان تھے ” ان کا چہرہ سخت ہوگیا

” میں صرف ۔۔۔۔۔”

نعمان صاحب نے اس کی بات کاٹ دی

” کہہ لیا آپ نے جو کہنا تھا ؟ ٫ جاسکتے ہیں آپ “

وہ رخ موڑ گئے چہرے پر دبا دبا غصہ تھا ٫ عیسیٰ چند لمحے انہیں دیکھتا رہا

” میں کچھ اور کہنے آیا تھا سر ” طرز تخاطب بدل گیا ٫ اسے احساس ہوا وہ انہیں قاری صاحب کہنے کا حق کھوچکا تھا ” میرے گھر والے اتنی جلدی یہاں نہیں آسکتے ورنہ وہ یہ بات کرلیتے ” وہ لمحہ بھر کو رکا ” میں قرت العین سے نکاح کرنا چاہتا ہوں “

انہوں نے عیسیٰ کو دیکھا

” میں آپ کو اس سوال کا جواب دے چکا ہوں “

” میں یہ سوال دہرا رہا ہوں ٫ میں چاہوں گا آپ اس کا جواب اس مرتبہ سوچ کر دیں “

” میں اس پر سوچنا بھی نہیں چاہتا عیسیٰ ٫ آپ میری بیٹی کیلئے میرا انتخاب کبھی نہیں ہوں گے “

وہ سخت تاثر جیسے ان کی آواز اور چہرے پر جم گیا تھا

” میں نے اس دن آپ کے گھر میں بھی آپ سے انہیں مانگا تھا …”

” اور میں نے انکار کردیا تھا “

” آپ نے انکار کردیا تھا ” اس نے سر کو خم دیا ٫ دل میں تکلیف اٹھنے لگی” لیکن آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ جس چیز کی مجھے تلاش ہے میں اسے اس کے مالک سے مانگوں ٫ میں نے اسے اللہ سے مانگا ہے لیکن اللہ نے اسے دنیا میں کسی اور کے سپرد کیا ہے اور میں انہی کے پاس آیا ہوں ” وہ رخ موڑ کر ان کے سامنے آیا ٫ نعمان صاحب اسے درشتگی سے دیکھے گئے ” اللہ نے قرت العین کو دنیا میں آپ کے سپرد کیا ہے ٫ میں آپ سے قرت العین کو مانگتا ہوں “

وہ چند لمحے کو بالکل خاموش رہ گئے ٫ جو چیز خود اسے سکھائ تھی وہ اس کے ساتھ آیا تھا تو ان کے پاس الفاظ کم پڑگئے

” آپ نے بہت دیر کردی ہے عیسیٰ “

ان کا چہرہ پھر سے بے تاثر ہوگیا

” میں جانتا ہوں ٫ لیکن اب بھی بہت زیادہ دیر نہیں کی “

” اب دیر کا، جلدی کا وقت ہی گزر چکا ٫ آپ قرت کو تنگ کرنے کے بجائے سب سے پہلے میرے پاس آتے تو شاید میں اس بارے میں سوچ لیتا ٫ اب نہیں ۔۔۔۔اب کبھی نہیں “

اس کے چہرے پر بے بسی اتری

” میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں رہتی ہیں ٫ جب ڈھونڈ لیا تب اپنے پیرنٹس کو بھیجنے کے لئے ان کی اجازت لینا چاہتا تھا ،لیکن پھر یہ سب ہوگیا٫”اس نے رک کر سر جھٹکا پھر گویا بے بسی اور التجا سے انہیں دیکھا “میرا یقین کریں سر میں دنیا کا وہ آخری انسان ہوگا جو ان کی آنکھوں میں آنسو لانے کی وجہ بنے گا “

” پہلے انسان بھی آپ ہی ہیں “

” جو کچھ ہوا میں اس کا ازالہ کرنے کو تیار ہوں ٫ لیکن آپ میرے دل کے ساتھ یہ مت کریں “

” آپ کے دل کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے ٫ جس کے دل کی ہے میں اسے مزید تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا ٫ وہ میرے پاس خدا کی امانت ہے ٫ میں وہ امانت آپ کے سپرد نہیں کروں گا “

” سر۔۔۔۔۔”

” یہاں سے جائیں عیسیٰ ٫ مجھے دوبارہ اپنی بات نا دہرانی پڑے “

وہ رخ موڑ گئے٫ عیسیٰ چند لمحے بے بسی سے انہیں دیکھتا رہا پھر تھکے تھکے قدموں سے باہر نکل گیا

اسے معلوم تھا وہ اتنی آسانی سے نہیں مانیں گے ٫اس نے سوچا تھا انہیں منانے کیلئے جو بھی کرنا پڑا وہ کرے گا ٫ اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ اگر وہ کبھی نا مانے تو وہ کیا کرے گا ؟

کچھ بہت تکلیف اور تھکن سے وہ صحن کے سرے پر رکھا اپنا بوٹ پہننے لگا جب نظر مسجد کے دروازے پر کھڑے ابوبکر پر پڑی ٫ وہ کچھ غصے اور خفگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا عیسیٰ سر جھکا کر تسمے باندھے گیا

قرت العین سے جڑا ہر انسان اسے انہی نگاہوں سے دیکھے گا وہ جانتا تھا

٫ وہ تسمے باندھ کر سیدھا ہوا تو رک گیا ٫ابوبکر اس کی طرف آرہا تھا ٫ وہ اسے دیکھے گیا

” آپ یہاں کیا کررہے ہیں ؟”

” کیا خدا کے گھر میں آنے والے ہر انسان سے یہ سوال کرتے ہو ؟”

ابوبکر چند لمحے اسے دیکھتا رہا

” آپ اپنے شہر واپس نہیں گئے ؟”

” تم یہاں مجھ سے یہ پوچھنے نہیں آئے ابوبکر ” نرمی سے اسے ٹوکا ۔۔۔۔” جو پوچھنے آئے ہو وہ پوچھو”

” پوچھنے نہیں آیا تھا کچھ دینے آیا تھا “

خفگی سے کہتے اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا ٫ اردگرد محتاط نظروں سے دیکھا

” آپی نے یہ آپ کو دینے کو کہا تھا “

وہ جیب سے سفید کاغذ نکال رہا تھا ٫ عیسیٰ سانس روکے اسے دیکھے گیا

” قرت نے ؟”

وہ بے یقین تھا

” جی ۔۔۔۔۔”

سفید رقعہ اس کی طرف جھٹ سے بڑھایا ٫ عیسیٰ نے کانپتے ہاتھوں سے وہ تھاما ٫ اس کے تھامنے کی دیر تھی کہ ابوبکر لمحے میں پیچھے ہٹا

” میں چلتا ہوں “

وہ جانے کو پر تولنے لگا جب عیسیٰ کی آواز پر رکا

” وہ کیسی ہیں ؟”

ابوبکر چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس کی آنکھوں میں دکھ ابھرا ٫ چہرہ جھکا لیا

” ٹھیک نہیں ہیں ۔۔۔۔وہ بہت روتی ہیں ٫ بہت زیادہ ٫ اتنا کہ جب وہ چپ ہوجاتی ہیں تو میں سوچتا ہوں اب وہ نہیں روئیں گی، شاید ان کی آنکھوں کا پانی ختم ہوگیا ہوگا ٫ لیکن ان کی آنکھیں پھر سے نم ہوجاتی ہیں ٫ جانے ان کی آنکھوں کا پانی ختم کیوں نہیں ہوتا ٫ کوئ اتنا کیسے رو سکتا ہے ؟”

عیسیٰ کے چہرے پر تکلیف ابھری ٫ اس تکلیف نے لمحوں میں اس کی آنکھوں سے دل کا سفر کیا

” ابوبکر ۔۔۔۔”

ابوبکر جھٹکے سےمڑا پیچھے نعمان صاحب ٹھہرے تھے ٫ عیسیٰ کے ہاتھ نا محسوس انداز میں پیچھے ہوئے لیکن نعمان صاحب اسے نہیں دیکھ رہے تھے

” یہاں کیا کررہے ہو ؟”

وہ ماتھے پر بل لئے اس سے پوچھ رہے تھے

” میں ۔ ۔میں نماز پڑھنے آیا تھا “

” گھر جائو تم ٫ تمہاری ماں کو کام تھا تم سے “

” جی ۔۔۔جی ۔۔۔جاتا ہوں “

وہ تیزی سے سر ہلاتا مڑ گیا ٫ نعمان صاحب بنا عیسیٰ پر کوئ نظر ڈالے باہر کی طرف بڑھ گئے ٫ ان کے جانے کے بعد اس نے وہ کاغذ کھولا

” میں آخری ملاقات کو مکمل کرنے کیلئے آپ کی منتظر رہوں گی ۔۔۔۔۔آخری ادھوری ملاقات !”

نیچے کسی جگہ کا پتہ اور وقت لکھا ہوا تھا ٫ اس نے سر اٹھا کر دروازے سے نکلتے ابوبکر کو دیکھا

کیا اب بھی کچھ ممکن تھا ؟۔ اس کا دل خوش گمانیوں کا شکار ہوا

°°°°°°°°°°°°°°°°

حریم نے رکشے سے گال ٹکا کر بیٹھی قرت کو دیکھا اور بے چینی سے اپنی انگلی مروڑی ، وہ اس کے ساتھ آ تو گئ تھی لیکن اب ڈر لگ رہا تھا

” قرت ، کسی کو پتا چل گیا تو ؟”

” تو تم مکر جانا حریم ، کہہ دینا تم میرے ساتھ نہیں گئ تھیں “

” میں تمہیں ایسی لگتی ہوں ؟ ۔۔”

حریم کو صدمہ ہوا

” ایسی تو ماریہ بھی نہیں لگتی تھی ، “

” ہم دوست ہیں “

” وہ بھی تھی ، جب کوئ دوست مان توڑتا ہے تو انسان پھر کسی دوست پر بھروسہ نہیں کرسکتا ، وہ ایک انسان ہماری زندگی میں آنے والے ہر انسان کو ناقابل اعتبار بنا دیتا ہے “

” خالہ سے کیا کہا ہے ؟”

اس نے موضوع بدل دیا

” جھوٹ بولا ہے کہ تم سے ملنے کیلئے جارہی ہوں ، انہوں نے یقین کرلیا ، تم کہتی تھیں مجھے جھوٹ بولنا نہیں آتا ، دیکھو میں نے یہ بھی سیکھ لیا “

حریم نے مزید کچھ نہیں کہا ، وہ دربار آنے تک خاموش رہی ٫ حریم نے اپنی ماں سے کہا تھا کہ وہ دونوں دربار پر دیئے جلانے جارہی ہیں عام دن ہوتے تو وہ دونوں اس بات پر لمبی بحث کرتیں لیکن قرت نے اس بار کچھ نہیں کہا

دربار کے سامنے رکشہ رکا تو قرت کرایہ دے کر نیچے اتر گئ ، ظہر کے آس پاس کا وقت تھا ،سورج ابھی ڈھلا نہیں تھا٫آسمان کو بادلوں نے ڈھانپ رکھا تھا٫ٹھنڈی ہوائوں نے موسم مزید سرد بنادیا تھا٫دربار پر رش نسبتا کچھ کم تھا ، پکی روش کی دائیں جانب سامنے صحن تھا ٫ صحن میں برگد کا پیڑ تھا ، اس کے نیچے کسی نے دیئے جلا رکھے تھے ، وہ راستوں سے ہوتیں ، جوتے اتارتیں آگے بڑھ گئیں ، دربار کے صحن کے ساتھ چار پانچ سیڑھیاں اتر کر نیچے کچی جگہ تھی وہاں چنار کا بڑا سا درخت تھا ، عیسیٰ اس کے نیچے ٹھہرا تھا ، قرت رک گئ اس نے اتنی سردی میں کوئ شال یا سوئیٹر تک نا پہن رکھا تھا

” تم جائو حریم ، میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں ، اور سنو ، کوئ دیکھ لے تو کہہ دینا کہ تم نہیں جانتی میں کس کے ساتھ آئ ہوں “

” بکو مت ، میں انتظار کررہی ہوں “

وہ خفگی سے کہتی آگے بڑھ گئ ، قرت ایک گہرا سانس لیتی عیسیٰ کی طرف بڑھی ، اس کا رخ دوسری طرف تھا ، ہاتھ جینز کی پاکٹ میں ڈال رکھے ، ماتھے کی سفید پٹی غائب تھی ٫ نیلی جینز پر سیاہ شرٹ پہنے وہ بنا کسی جیکٹ کے ٹھہرا تھا ٫ شاید وہ دونوں ہی موسم کے سرد پن سے بے نیاز ہوگئے تھے ٫ وہ درخت کے نیچے آئ تو نیچے رکھے پتے چرمرائے ، عیسیٰ نے رخ موڑا

وہ سامنے سے آرہی تھی ، سیاہ عبایا ، سیاہ نقاب ، سیاہ دستانے ، وہ اسے خاموشی سے دیکھے گیا یہانتکہ وہ اس کے سامنے آکر رک گئ ، چند لمحے وہ ایک دوسرے کو دیکھے گئے پھر عیسیٰ نے گہری سانس لے کر نظریں جھکائیں

” کیسی ہیں ؟”

” زندہ ہوں “

اس کی جھکی نظروں میں کرب سا اترا

” جو کچھ ہوا اس کیلئے۔۔۔۔۔ “

” جو کچھ ہوا میں اس پر بات کرنے نہیں آئ “

عیسیٰ نے نظریں اٹھا کر سوالیہ اسے دیکھا

” آپ گئے نہیں یہاں سے ؟”

” میں جارہا تھا لیکن وہ سب ہو گیا “

” آپ چلے جاتے تو وہ سب نا ہوتا “

” قرت آئ ایم سوری ، مجھے اندازہ نہیں تھا یہ سب ہوجائے گا “

اس کی آواز میں شرمندگی در آئ ، وہ چند لمحے خاموش رہی ، اس کی نظریں دور رکھے دیوں پر تھیں ، ہوا کے باعث وہ پھڑپھڑا رہے تھے

” آپ کو معلوم ہے وہ اذیت کیا ہوتی ہے عیسیٰ جب آپ اپنی ماں کی زبان سے سنیں کہ کاش آپ مرجاتے ” اس کی آواز بھرا گئ

” قرت ۔۔۔”

وہ اسے نہیں سن رہی تھی

” انہوں نے کہا کاش قرت تم مر گئ ہوتیں ، انہیں احساس نہیں ہوا اس لمحے میں واقعی ہی مر گئ تھی ، جب جواد نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا میں اس لمحے بھی مرگئ تھی ، جب میرے گھر میں کھڑے ہوکر سب مجھ پر الزام لگارہے تھے میں اس لمحے بھی مرگئ تھی ، کوئ اتنی بار مر کر زندہ کیسے رہ سکتا ؟ ” اس کی آنکھیں نم ہوئیں ،عیسیٰ کا دل اس نمی میں ڈوبا

” ایسا مت کہیں “

” ایک وقت تھا جب میں لوگوں سے ڈرتی تھی عیسیٰ ، مجھے ڈر تھا کہ لوگ مجھے بے عزت کردیں گے ، ایسا ہوا تو میں مرجائوں گی وہ وقت آیا اور گزر گیا ، میں زندہ کھڑی ہوں ، میں مرکیوں نہیں جاتی ؟”

اسے اپنے زندہ رہنے پر افسوس تھا، آنسو قطار کی صورت پھسلنے لگے

” مجھے ایک موقع دیں قرت میں سب ٹھیک کردوں گا “

” دیا آپ کو موقع ، کردیں سب ٹھیک “

” میرا یقین کریں ۔۔۔”

” کررہی ہوں یقین ، کریں سب ٹھیک “

” میں اپنے پیرنٹس سے بات کرتا ہوں وہ کل ہی یہاں آئیں گے ، آپ۔۔۔”

وہ رک گیا ، تھم گیا ، اس لمحے اسے احساس ہوا وہ کچھ اور بھی کہنے والی تھی

” آپ کیا چاہتی ہیں۔۔۔۔ “

اس نے آنکھیں بند کیں اور جب کھولیں تو ان میں سپاٹ تاثرات تھے ، آنسو رک گئے تھے

” میری زندگی سے چلے جائیں عیسیٰ حیات “

ہوا زور سے چلی ، برگد کے پیڑ تلے رکھا ایک دیا بجھ گیا

” مجھ سے یہ مت مانگیں ۔۔” وہ ملتجی ہوا ، ملتجی ہوکر خاک ہوا

” اگر مجھے آپ سے کچھ چاہئے تو یہی چاہئے ، میری زندگی سے ، میرے شہر سے ، میرے علاقے سے چلے جائیں ،ہمیشہ ہمیشہ کیلئے “

” مجھ پر رحم کریں قرت ” اس کی آواز بے بس ہوئ

” میرے دل سے آپ کیلئے رحم مٹ گیا ہے ، اب وہاں صرف نفرت ہے “

کوئ اتنا سفاک کیسے ہوسکتا ہے ؟ کوئ محض الفاظ سے کسی کا دل کیسے چیر سکتا ہے ؟ اسے اگلے الفاظ کہنے میں دقت ہوئ

” میں سب ٹھیک کردوں گا، صرف ایک موقع دیں ، میں اپنے پیرنٹس کو آپ کے گھر بھیجتا ہوں ، پلیز میرے ساتھ ایسا مت کریں ” اگر بے بسی کا کوئ اور نام ہوتا تو عیسیٰ حیات ہوتا

” میں آپ کو موقع دے رہی ہوں ، سب ٹھیک کردیں “

” یہ آپ کیلئے سب ٹھیک کردے گا ، میرے لئے سب فنا کردے گا “

” کس نے کہا یہ میرے لئے سب ٹھیک کرے گا ؟ شاید یہ مجھے اذیت نا دے ، شاید میں اس طرح آپ کو دوبارہ نا دیکھوں اور میری نفرت مانند پڑ جائے ” عیسیٰ کے چہرے پر کرب اترا

” تو یہ نفرت ہے ؟”

” ہاں یہ نفرت ہے

” بھلے یہ نفرت ہو لیکن میں پھر بھی نہیں جائوں گا ، میں ساری عمر آپ کے گھر کے باہر کھڑا رہ سکتا ہوں ، میں صدیاں اس انتظار میں گزار سکتا ہوں کہ آپ کا دل موم ہوجائے لیکن میں یہاں سے نہیں جائوں گا ” اس کی آواز میں دنیا جہاں کی مضبوطی سمٹ آئ

” آپ کو آپ کی اس محبت کا واسطہ جس کے سچ ہونے کا آپ دعویٰ کرتے ہیں”

اس کی مضبوطی پل بھر میں ریت کا ڈھیر بنی، برگد کے پیڑ تلے رکھا دوسرا دیا بھی بجھ گیا ، قرت کی نظروں میں بے چینی ابھری

” آپ مجھ سے بہت بڑی قربانی مانگ رہی ہیں “

” کیا محبت قربانی کے علاوہ کچھ اور ہے ؟ “

” اگر یہ قربانی ہے تو میں ہی کیوں دوں ؟ آپ بھی تو دے سکتی ہیں ؟”

اس نے نظریں پھیر کر اسے دیکھا

” محبت تو آپ کرتے ہیں عیسیٰ ، قربانی میں کیسے دے سکتی ہوں “

وہ لاجواب ہوا ، اندر تک سب رک گیا، ہاں وہ تو محبت کرتی ہی نہیں تھی ، یہ مرض تو صرف عیسیٰ حیات کو لاحق تھا ،اس نے رخ پھیرا، نظر برگد کے درخت تلے گئ ، اگلے کئ لمحے وہ خاموش رہا ، کئ ساعتیں وہ ہوا سے پھڑپھڑاتے دیئے دیکھے گیا ،

” اگر میں یہاں سے چلا جائوں تو کیا آپ کی نفرت ختم ہوجائے گی ؟”

اس کی آواز مدھم ہوئ

” نہیں ۔۔۔۔”

اس کے چہرے پر کرب اترا ، چند لمحے وہ دیوں کو دیکھتا رہا، دیکھتا رہا پھر رخ پھیر کر ان آنکھوں کو دیکھا ، بنا پلک جھپکے بنا اگلا سانس لئے ، پھر اس نے آنکھیں بند کیں اور جب کھولیں تو ان میں سرخی تھی

” میں چلا ئوں گا ” برگد کے پیڑ تلے رکھا تیسرا دیا بھی بجھ گیا

” بہت شکریہ “

وہ جانے لگی جب عیسیٰ کی آواز سن کر رکی

” لیکن میں منتظر رہوں گا قرت ، آپ کی کال کا ، آپ کے میسج کا ، آپ کی ایک آواز کا ، “

” آپ کا انتظار لا حاصل رہے گا “

وہ نہیں پلٹی ، عیسیٰ نے زکام زدہ سانس اندر کھینچی اور اس کے سامنے آیا

” میں دعا کرنا سیکھ گیا ہوں قرت العین ، اور میں نے یہ بھی جان لیا کہ دعائیں رد نہیں کی جاتیں “

قرت کے گلے میں بہت سے آنسو اٹکے ، وہ دعا تب سیکھا تھا جب وہ دعا کرنا بھول بیٹھی تھی

” میرے لئے دعا مت کیجئے گا ، مجھے بھول جائیے گا “

” یہ ناممکن ہے “

” اس نے جلتی آنکھیں پھیرلیں

” خدا حافظ ۔۔۔”

” میری طرف سے یہ الوداع نہیں ہے ، میں نے کہا نا میں دعائیں کرنا سیکھ گیا ہوں “

اس نے کچھ نہیں کہا ، قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ اس کی آواز نے پھر روک لیا

” آپ کی تسبیح میرے۔۔۔”

” آپ اسے رکھ لیں ، مجھے اب اسے جوڑنے کی کوئ خواہش نہیں رہی ” وہ چند لمحے رکی ۔۔”میں چاہوں گی آپ میرے شہر سے چلے جائیں ، اس شہر کے راستے آپ سے واقف ہوگئے ہیں ،جب جائیں تو اپنے قدموں کے نشان مٹا کر جائیے گا ، واپسی کیلئے کوئ دھاگے میرے شہر کے درختوں پر مت باندھئے گا ، آپ کو واپسی پر یہ درخت سوکھے ملیں گے ، محبت امربیل کی مانند ہے جس درخت پر لگ جائے اسے سوکھا کردیتی ہے ، میرے شہر کے درختوں کو ہرا رہنے دیجئے “

اور وہ چلی گئ ، عیسیٰ کئ لمحے اسے دیکھے گیا ، وہ برگد کے پیڑ کے پاس رکی ، آخری بچ جانے والے دیے کو چند لمحے دیکھا ٫ اردگرد نظر دوڑائی ٫ شاید وہ اس آخری بچ جانے والے شعلے کو بجھنے نہیں دینا چاہتی تھی ٫ نیچے جھک کر اس نے ابھی اپنے ہاتھ دیے کے اردگرد رکھے ہی تھے کہ ہوا کی لہر آئ اور وہ بجھ گیا ٫ اس کا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا ٫ چند لمحے وہ ساکت سی وہیں بیٹھ رہ گئ پھر سر جھٹکتے اٹھ کھڑی ہوئ

عیسیٰ اسے دیکھتا رہا یہانتکہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئ ، پھر وہ آگے بڑھا، برگد کے پیڑ پاس رکا ، پنجوں کے بل نیچے بیٹھا ، جیب سے لائٹر نکالا اور دیئے جلانا شروع کئے

کچھ تھا جو قرت العین نے وہاں کھودیا تھا

کچھ تھا جو عیسیٰ حیات نے وہاں پالیا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” کیا کہہ رہا تھا ؟”

وہ واپس آئ تو حریم وہیں تھیں

” معلوم نہیں، مجھے صرف وہ یاد ہے جو میں اس سے کہہ کر آرہی ہوں “

” کیا کہا ہے ؟ “

” یہی کہ واپس چلاجائے “

” اس کے ساتھ ایسا مت کرو قرت “

حریم کو عیسیٰ کیلئے افسوس ہوا

” تم میری جگہ نہیں ہو حریم ، اس لئے مجھ سے وہ چیز مت مانگو جس کے نقصان کا تمہیں اندازہ نہیں ہے “

وہ سپاٹ سی کہہ کر آگے بڑھ گئ ، کچھ تھا جو گلے میں اٹک رہا تھا ، کچھ تھا جو وہ اس درخت تلے دفن کرآئ تھی