Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 14)
Nahal By Fatima Noor
” جی ؟”
دروازے کے باہر کھڑے عیسیٰ نے وہ آواز سنی اور ساکت ہوا ، دھیرے سے پلٹ کر اس نے دروازے کی طرف دیکھا ، دروازہ ہلکا سا کھلا ہواتھا ، دروازے کی اوٹ سے ایک سفید آنچل لہرارہا تھا
” نعمان صاحب کا گھر یہی ہے ؟”
اسے لگا اسے شبہ ہوا تھا
” جی ۔۔یہی ہے “
وہ شبہ نہیں یقین تھا ، خواب نہیں حقیقت تھی ، الہام نہیں اعلان تھا ، محبت مہربان ہوئ تھی ، انتظار اختتام ہوا تھا ، اسے دعا نصیب ہوئ اور قبولیت تک پہنچی
دروازے کے اس پار کھڑی قرت العین کچھ دیر انتظار کرتی رہی کہ وہ آگے سے کچھ کہے گا لیکن اجنبی خاموش تھا
” کوئ کام تھا آپ کو ؟”
عیسیٰ کے الفاظ گم ہوئے ، دل اس سفید آنچل میں اٹکا ، اسے بھول گیا کہ اسے کیا کہنا تھا آنکھیں بند کر کے اس نے گہری سانس لی ، حلق میں کچھ اٹکا ، اسے کچھ کہنے میں دقت ہوئ
” وہ ۔۔۔ وہ گھر پر ہیں ؟”
بہت دقت سے اس نے چار الفاظ کہے ، روح مضطرب٫ دل بے چین ہوا ، اسے یہ نہیں کہنا چاہئے اسے قرت العین سے پوچھنا چاہئے کیا اسے مغرب کے وقت کا وہ اندھیرا یاد ہے جس میں اس نے اپنی تسبیح کھوئ تھی اور عیسیٰ نے سکون ، اسے ان پہاڑوں کے سبز درخت یاد ہیں جنہوں نے اس کے جانے کے بعد عیسیٰ حیات کو اس پہاڑ کے کئ چکر لگاتے دیکھا تھا ، اور کیا اسے اس شہر کا وہ اجنبی یاد ہے جس نے اس پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھی لڑکی کی آنکھوں میں اپنا دل کھویا تھا
” نہیں ۔۔۔۔”
اس نے سر جھٹکا یہ “نہیں “کس سوال کا جواب تھا؟ ،وہ سمجھ نہ سکا ، کیا ان سوالوں کا جو وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا یا اس سوال کا جو وہ پوچھ چکا تھا ؟ ، اس کی یاداشت محو ہوئ ، اس نے کیا سوال کیا تھا ؟ پھر یاد آیا وہ قاری صاحب کا پوچھ رہا تھا
” کہاں پر ہیں ؟” الفاظ تین پر مشتمل ہوئے ، وہ الفاظ کھو رہا تھا یا کچھ اور ؟
” نہیں معلوم ۔۔”
جواب دو لفظی ہوئے، وہ تو چلو کچھ بھول رہا تھا ، کچھ کھو رہا تھا لیکن مقابل کیوں بخل سے کام لے رہا تھا ، کیا اس کی زباں کلام بھول چکی ، جبکہ وہ اپنا جسم سماعت بنا چکا تھا
” آپ مسجد چلے جائیں ، وہ وہاں مل جائیں گے ” آواز سپاٹ تھی ، دوسری جانب خاموشی چھائ ، اسے شبہ ہوا شاید سامنے والا بہرا تھا ، یا وہ الفاظ دیر سے سمجھتا تھا، دیر سے کہتا تھا ، ایسا تھا تو وہ قصور وار نہیں تھی ، وہ اس کے الفاظ منتخب کرنے اور انہیں ادا کرنے تک دروازہ کھلا نہیں رکھ سکتی تھی ، اس نے ہوا سے لہراتا اپنا سفید آنچل سنبھالا اور دروازہ بند کردیا
دروازہ بند ہوا ، آنچل غائب ہوا اور جیسے عیسیٰ کو ہوش آیا ، چند لمحے اسے سمجھنے میں لگے اور یقین کرنے میں کہ یہ حقیقت تھی ، اس حقیقت نے اس کا دل لمحے بھر کو روک دیا تھا
وہاں کھڑے اس نے لوٹتے قدموں کو سننا چاہا لیکن آواز نہ آئ ،چند گہرے سانس لئے سر جھٹکا آنکھوں کو مسلا ، ہونٹ بھینچے ، آنکھیں بند کیں ٫ایک پھر گہرا سانس لے کر کھولیں اور ہاتھ میں تھامی سیفید شال کو دیکھا اس نے یہ واپس کیوں نہ کی ؟ ایک نظر بند دروازے پر ڈالی اور آہستہ تھکے قدموں سے واپس گاڑی کی طرف آیا
زین گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائے اس کا منتظر تھا
” کیا تم گاڑی چلا لو گے ؟”
چابی اس کی طرف پھینکی اور دوسری سائیڈ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا
” خیریت ہے ؟”
زین نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے اس پر ایک نظر ڈالی وہ جس چہرے کے ساتھ گیا تھا اس کے ساتھ نہیں لوٹا تھا
” ہاں ” آنکھوں کو مسلتے عیسیٰ نے سر سیٹ سے لگایا
” شال واپس کیوں نہیں کی ؟”
” وہ گھر پر نہیں تھے “
” اچھا “
زین نے فکرمندی سے اسے دیکھا
” گاڑی مسجد کی طرف موڑ لو “
وہ بند آنکھوں سے بولا
” کیا ہم آگے نہیں جارہے ؟”
” نہیں ،”
” کیوں ؟”
“کیونکہ جسے ڈھونڈنا تھا وہ یہیں ہے “
زین نے گاڑی جھٹکے سے روکی
” کہاں؟” اس نے آنکھیں کھولیں اور زین کے شاکڈ چہرے کو دیکھا
” وہیں جہاں سے ابھی آرہا ہوں ، قاری صاحب کے گھر “
” وضاحت کروگے ذرا ؟ “
” قرت ” وہ اداسی سے مسکرایا ” قاری صاحب کی بیٹی ہے ” زین نے پلکیں جھپکا کر اسے دیکھا اسے چند لمحے لگے یقین کرنے میں
” کیسے پتہ چلا ؟”
” ان کی آواز سے ، وہ آواز پچھلے کئ دنوں سے میرے آس پاس ہے “
” اب ؟”
” اب یہ کہ ” اس نے آنکھیں دوبارہ بند کرلیں چہرہ پرسکون تھا وہ ہم وقت کی بے چینی غائب تھی ” ہم یہیں رک رہے ہیں ، میں اس سے بات کئے بغیر نہیں جائوں گا “
زین نے چند لمحے اسے دیکھا پھر گاڑی دوبارہ سے سٹارٹ کرلی
“عجیب حسن اتفاق ہے” وہ بے یقین تھا
“میں اسے معجزہ کہتا ہوں “
” تم اب جوگیوں جیسی باتیں کرنے لگے ہو “
” میں اب جوگیوں جیسا دل لئے پھرتا ہوں “
” تمہارا حال دیکھ کر میں نے توبہ کرلی ہے ، خدا کی پناہ محبت سے “
” تم پناہ مانگو زین ، تم پناہ مانگو “
وہ ہلکا سا بڑبڑایا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آئ ایم سوری ، آپ کو ہمیں مزید چند دن برداشت کرنا پڑے گا “
نعمان صاحب ہلکا سا مسکرائے
” مجھ پر آپ کی میزبانی بھاری نہیں ہے “
” ایکچولی ، جس کام کیلئے جارہے تھے وہ ملتوی ہوگیا ہے ، ہمیں نہیں معلوم آگے کچھ رہائش کا انتظام ہو یا نا ہو اس لئے یہاں رکنا مناسب سمجھا “
اس نے یہ جھوٹ دوسری بار سنایا
یہ عصر کے قریب کا وقت تھا ، نعمان صاحب ظہر کی نماز پر آئے تھے اور وہ اس وقت تک واپس آچکے تھے
” آپ گھر گئے تھے ؟”
ان کا پہلا سوال یہی تھا ، وہ اس کیلئے تیار تھا
” جی ، آپ کی شال واپس کرنی تھی ، ہم واپس جارہے تھے لیکن پھر جس کام کیلئے جارہے تھے وہ ملتوی ہوگیا ” اس نے شال ان کی طرف بڑھادی
” یعنی خدا کے گھر آپ کا قیام مزید طویل ہوگیا “
وہ بس مسکرادیا
اب وہ کچے صحن میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا ، نعمان صاحب کچھ حساب کتاب کررہے تھے تو وہ ان کے ساتھ آکر بیٹھ گیا تھا
ان سے بات کے دوران اس نے کچے صحن کی طرف دیکھا جہاں چند بچے اینٹیں اٹھا کر دوسری طرف رکھ رہے تھے ، کل قاری صاحب بتارہے تھے کہ مسجد کی بائیں طرف کی دیوار گرگئ تھی تو اس کی تعمیر کا کام کرنا تھا
” آپ کو پیسوں کی ضرورت ہے ؟ میرا مطلب اس مرمت کیلئے ؟ مجھے خوشی ہوگی اگر میں اس سلسلے میں کوئ مدد کرسکوں “
” پیسے تو نہیں البتہ اگر آپ چاہیں تو ان بچوں کے ساتھ اینٹیں رکھوالیں “
عیسیٰ گڑبڑایا ، وہ مالی امداد کی بات کررہا تھا لیکن اب انہیں منع کرنا مناسب نہیں لگا ، سر ہلا کر وہ صحن کی طرف بڑھ گیا
زندگی میں اس نے آج تک کچن سے جا کر خود پانی تک نہیں پیا تھا ، اور اب یہاں اینٹیں اٹھوائے گا ۔۔۔۔۔۔آہ
کراہ کر اردگرد دیکھا ، زین گاڑی لے کر کہیں گیا ہوا تھا سو شکر کہ وہ وہاں نہیں تھا ، گہری سانس لے کر اس نے اینٹیں اٹھوانی شروع کردیں ، گو کام زیادہ نہیں تھا لیکن پھر بھی چند اینٹیں اٹھوانے کے بعد ہی وہ تھک گیا ، جبکہ سعادت مند بچے ابھی تک کام میں لگے ہوئے تھے ، اس نے وہاں ٹھہر کر خود کو شرم دلائ اور دوبارہ سے کام میں لگ گیا ، دس منٹ تک جب وہ لوگ فری ہوگئے تو بچے اندر چلے گئے جبکہ وہ ہاتھ منہ دھو کر صحن کی گھاس پر بیٹھے قاری صاحب کی طرف بڑھ گیا
” میرا خیال ہے میں نے آپ کو مشقت میں ڈال دیا “
” نہیں ، ایسی بات نہیں ہے ، ویسے میں مالی امداد کے بارے میں کہہ رہا تھا “
” مالی امداد کا ہم کیا کریں گے عیسیٰ ؟”
” آپ مسجد کو وسیع کرسکتے ہیں ، میرا خیال ہے یہ نمازیوں کیلئے ناکافی ہوگی “
وہ چند لمحے اسے دیکھتے رہے اور پھر اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا ٫ وہ خاموشی سے بیٹھ گیا
” آپ اس دن صبح کی نماز کے وقت موجود تھے٫ آپ کو یاد ہے نمازیوں کی تعداد کیا تھی ؟”
” شاید پندرہ ؟”
” دس ” عیسیٰ نے سر ہلادیا ” اس دن عشاء کے وقت نو لوگ تھے ، کیونکہ قریب ہی ایک سیاسی جلسہ ہورہا تھا ، وہاں بریانی مفت تھی اور کام آسان تھا ، صرف دو گھنٹے کی تقریر سننی تھی، یہاں جنت کیلئے تھوڑی سی مشقت کرنی تھی ،کام صرف سردی میں وضو کرکے آدھے گھنٹے کی نماز پڑھنا تھا ، لوگوں نے مشقت کو چھوڑ کر آسانی کو چن لیا “
ان کی آواز میں مایوسی در آئ
” میں اپنے لوگوں کا حال دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے ، آپ نے مالی امداد کا کہا ، مجھے دو جمعے کے دن صرف اس اعلان کی ضرورت پڑے گی کہ مسجد کو وسیع کرنا ہے ، آپ دیکھئے گا کہ لوگ کس قدر خیرات کرتے ہیں ، ہمارے ہاں لوگ سمجھتے ہیں خیرات انہیں جنت دلادے گی ، وہ فرض چھوڑ کر نفل کے ذریعے بخشش چاہتے ہیں ، میں ایسی مسجد کو وسیع کر کے کیا کروں گا جس میں نمازی ہی نہیں آتے ؟”
وہ لاجواب ہوا ، الفاظ کہیں گم ہوگئے جبکہ وہ اب بھی کہہ رہے تھے
” میں نے اس دن عشاء کی نماز پڑھائ اور میرے پیچھے دس لوگ تھے ، جس دن تعداد بڑھ جائے گی مسجد کی صفیں بھی بڑھ جائیں گی ، یہ مسجد چھوٹی نہیں ہے ، لوگوں کے دل چھوٹے ہوگئے ہیں ، جس دن دل بڑے ہوگئے مسجد بھی بڑی ہوجائے گی “
وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اندر کی طرف بڑھ گئے شاید انہیں بچوں کو قرآن پڑھانا تھا ، لیکن عیسیٰ وہیں بیٹھا رہ گیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
بلیو جینز پر سیاہ سوئیٹر پہنے وہ باغ کے اختتام پر کچی سڑک پر ٹھہرا تھا ،سوئیٹر کے نیچے سے سفید شرٹ جھلک رہی تھی، صبح صبح کا وقت تھا ، دھند کے باعث سورج غائب تھا ، وہ زین کو سوتا چھوڑ کر یہاں آگیا تھا ، اس کا خیال تھا کہ شاید اس وقت قرت مدرسے جاتی ہو ،گو اسے یقین نہیں تھا لیکن ممکن تھا کہ ایسا ہی ہو ، وہ بس ایک بار اس سے بات کرنا چاہتا تھا ، اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ یہاں اس کیلئے آیا تھا ، دل میں جو تھا وہ اس کے دل تک پہنچانا تھا، بار بار ٹھنڈے ہاتھ آپس میں رگڑتے وہ نظریں سامنے ٹکائے ہوئے تھا ٫ دفعتا سیدھا ہوا
سامنے سیاہ برقعے میں ملبوس وہ آرہی تھی ، بیگ دائیں طرف تھا ، ہاتھ میں چند رجسٹر تھے ، وہ آگے بڑھنا چاہتا تھا لیکن وہیں رک گیا ، قرت کے ساتھ قاری صاحب بھی تھے ، اس سے پہلے وہ کہیں اِدھر اُدھر ہوتا ان کی نظر عیسیٰ پر پڑی، وہ اسے وہاں دیکھ کر ٹھٹھکے پھر قرت کو پیچھے رکنے کا کہہ کر اس کی طرف آ گئے قرت کچھ فاصلے پر رک گئ
” السلام علیکم برخودار ، یہاں کیسے ؟”
” وعلیکم السلام، یونہی علاقہ گھومنے آیا تھا ، تو اس باغ کو دیکھ کر رک گیا ” ذہن میں سب سے پہلے یہی جھوٹ آیا تھا
” میرا خیال ہے آپ پہلے آ چکے ہیں یہاں پر ؟”
” آا ۔۔جی ۔۔۔ ایکچولی جگہ بہت خوبصورت ہے تو پکس لینے کیلئے دوبارہ آگیا ” زبردستی مسکراتے ہوئے اس نے ایک سرسری سی نظر قرت پر ڈالی جو نیچے دیکھ رہی تھی
” صحیح ، آپ چاہیں تو اندر جا کر مالٹے توڑ لیں ، دائیں طرف لگے ہوئے ہیں ، “
” یہ آپ کا باغ ہے ؟”
” جی ہاں ، ہمارا ہی ہے “
” اوہ ، بہت شکریہ آفر کیلئے “
” کوئ بات نہیں ، آپ چلے جائیں اندر ، میں ساتھ جاتا لیکن بیٹی کو چھوڑنے جانا ہے “
اس نے سر ہلادیا ، قاری صاحب آگے بڑھ گئے ، وہ قرت کو دیکھنے لگا جو ان کے پیچھے چل رہی تھی، اس نے نظر اٹھا کر ایک بار بھی عیسیٰ کو نہیں دیکھا تھا ، مرکزی سڑک چند قدم دور تھی شاید وہ قرت کو رکشے تک چھوڑنے جارہے تھے ، اس کا باغ میں جانے کا کوئ ارادہ نہیں تھا سو وہ اندر گاڑی میں بیٹھ گیا ، اسی وقت شہوار کی کال آنے لگی
” السلام علیکم مام “
منہ سے بے ساختہ سلام نکلا
” عیسیٰ، کیسے ہو ؟”
شہوار کو یقین نہیں آیا تھا کہ اس نے ان کی کال پک کرلی تھی ، اس کی طبیعت خرابی کا سننے کے بعد انہوں نے کئ بار اسے کال کی تھی لیکن یا تو موبائل بند ہوتا یا وہ کال پک ہی نہیں کرتا تھا
” ٹھیک ہوں ، آپ کیسی ہیں ؟”
” تمہارے بغیر کیسی ہو سکتی ہوں ؟”
ان کی آواز سوگوار ہوگئ
” اتنی صبح کال کی ٫خیریت ؟”
” اتنی صبح کال نہیں کرسکتی ؟”
” ایسا تو نہیں کہا میں نے “
وہ گاڑی سٹارٹ کرنے لگا
” واپس کب آرہے ہو ؟”
” معلوم نہیں “
” اس لڑکی سے ملے ؟”
اس کی نظریں اس راستے کی طرف گئیں جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ کھڑا تھا ، لبوں پہ مدھم سی مسکراہٹ ابھری
” میں اس سوال کا جواب نہیں جانتا “
” کیوں ؟”
” ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ مجھ سے چند فٹ دور کھڑی تھی ، چند صدیوں دور بھی ، چند دن پہلے میں نے اس سے بات کی ، جانتی ہیں مام وہ مجھے بھول چکی ہے “
اس کی آواز حزن زدہ ہوئ
” تم تو نہیں بھولے ؟”
” ایک اسی کو تو نہیں بھول پارہا “
” میں وہاں آؤں ؟”
” کس لئے ؟”
” اسے دیکھنے ، ملنے۔۔۔۔بات کرنے “
” انتظار کریں مام ، ابھی تک میں خود نہیں ملا “
” ابھی تو کہہ رہے تھے ملا ہوں “
” یہ ملاقات تھی ، اسے ملاقات تو نہیں کہتے “
” عجیب باتیں کررہے ہو “
وہ ہنسا
” زین کہہ رہا تھا کہ میں اب جوگیوں جیسی باتیں کرتا ہوں ، کیا جوگی ایسی ہی باتیں کرتے ہیں مام ؟”
” میں نہیں جانتی عیسیٰ”
” میں جانتا ہوں ، ہاں وہ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں “
” تم مجھے پریشان کررہے ہو “
وہ واقعتا پریشان ہوگئ تھیں
” مجھے لگا کہ شاید میں آپ کو حیران کررہا ہوں “
” تم واپس آجائو ۔۔۔ “
اس نے گہری سانس لی
” ابھی نہیں مام “
” مجھے تمہاری فکر ہونے لگی ہے “
” بے فکر رہیں ، ٹھیک ہوں میں ، اچھا میں ڈرائیو کررہا ہوں پھر بات ہوگی “
” ٹھیک ہے ، لیکن تم موبائل بند نہیں کروگے “
تنبیہہ کی
” پرامس ، اللہ حافظ “
شہوار کا اللہ حافظ سن کر اس نے موبائل بند کردیا ، نظریں سامنے تھیں اور دماغ کچھ دیر پہلے کے منظر میں اٹک گیا تھا
کیا قرت واقعی اسے بھول گئ تھی ؟”
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس دن خلاف توقع اس کی نیند صبح صبح ہی کھل گئ ، کچھ دیر سونے کی کوشش کرتا رہا پھر اٹھ کر مسجد کی طرف بڑھ گیا
صبح کی نماز کیلئے جماعت کھڑی ہونے والی تھی ، پچھلی مرتبہ کی نسبت تعداد کم تھی، شاید سردیوں کی وجہ سے لوگ گھروں میں ہی نماز پڑھ لیتے تھے
” قد قامت الصلوة “
” قد قامت الصلوة “
اندر جانے کی بجائے وہ دروازے پر رک گیا ،
آواز طلسم ہوتی ہیں ، آواز سحر ہوتی ہیں ، آواز قدم جکڑ لیتی ہیں ، انسان آگ سے راکھ ہوجاتا ہے ، دل لمحوں میں ریزہ ، خون منجمد ، ذہن خالی ہوجاتا ہے ،
نمازی صفیں درست کررہے تھے
عیسیٰ حیات برسوں سے تھکا ہوا جسم ، منجمد احساسات اور بے زار دل لئے پھررہا تھا ، اس نے کئ دن وہ آواز نظر انداز کی تھی ، وہ سنتا ، جاگتا اور پھر سوجاتا ، لاشعوری طور پر وہ اور زین ہر نماز کے وقت اِدھر اُدھر ہوجاتے ، وہ دونوں خدا کے سامنے جانے سے خوفزدہ نہیں تھے ، وہ شرمندہ تھے
قاری صاحب پہلی صف میں کھڑے ہوئے
وہ گمراہ نہیں تھا ، وہ مسلمان تھا ، اس کے دادا پانچ وقت کے نمازی تھے ، جب وہ چھوٹا تھا وہ بھی نماز پڑھتا تھا ، پھر اس نے سب کو چھوڑا تو خدا کو بھی چھوڑ دیا ، اتنے سالوں بعد وہ خدا کے سامنے جانے سے خوفزدہ نہیں تھا وہ شرمندہ تھا
اندر نمازیوں کی چھوٹی سی صف بنی ہوئ تھی
” اندر آجائیں، نماز کیلئے بلایا جارہا ہے “
کوئ بزرگ اس کے پاس سے کہتے ہوئے گزر گئے آخری شخص کھڑا ہوا اور نماز قائم ہوگئ
عیسیٰ کے قدم آگے نا بڑھے
وہ چند لمحے دروازے پر رکا رہا اور پھر الٹے قدموں پلٹنے لگا ، وہ ان چند لوگوں میں سے نہیں تھا جنہیں یہ سعادت نصیب ہوتی تھی ، وہ نامراد تھا تو یہ نامرادی اس نے خود چنی تھی ، وہ ناکام تھا تو یہ ناکامی اس کی خود ساختہ تھی ,وہ ہر روز اپنی نیند قربان کرکے نہیں اٹھ سکتا تھا ، وہ جس طبقے سے تعلق رکھتا تھا وہاں یہ چیز اضافی تھی
تیزی سے چلتے ہوئے وہ صحن میں آگیا ، ہاتھ پاکٹ میں تھے ، اندر جماعت قائم تھی ، وہ باہر تھا ،تیزی سے چلتے ہوئے وہ یکدم رکا ، نظر سامنے گئ ، دیوار پر سفید پینٹ کے درمیان حدیث لکھی ہوئ تھی
” انسان اور کفروشرک کے درمیان فرق نماز ترک کرنا ہے “
صحیح مسلم “
وہ جم گیا ، نظریں اسی ایک جگہ پر ساکت ہوگئیں
کفر اور شرک !!
کفر اور اسلام !!
نمازی اور بے نمازی !!
فرق واضح تھا ، فرق سامنے تھا
نماز پڑھی گئ ،دعا مکمل ہوئ وہ باہر ہی رہا
نمازی کب واپس گئے اسے نہیں معلوم ، اسے تب احساس ہوا جب قاری صاحب پیچھے آکھڑے ہوئے
” آپ واپس نہیں گئے ؟”
وہ چونکا اور مڑ کر انہیں دیکھا
” آپ کو بتایا تھا کہ کچھ دن یہیں رہیں گے “
” میں خدا کی طرف واپس جانے کا پوچھ رہا ہوں”
وہ ساکت ہوا
” میرا نہیں خیال کہ میں خدا سے دور ہوں “
” تو پھر آپ یہ سوچیں کہ کیا آپ خدا کے نزدیک ہیں ؟”
وہ لاجواب ہوا
” میں ۔۔۔میں نماز نہیں پڑھ سکتا “
” کیوں ؟”
” کیوں ؟۔۔۔۔۔”
وہ خود نہیں جانتا تھا کیوں ٫چند لمحے وہ سامنے لکھی اس حدیث کو دیکھتا رہا اور نعمان صاحب اسے ، وہ جس حصے میں ٹھہرے تھے وہاں بلب کی روشنی پڑرہی تھی ، وہ جس حصے میں ٹھہرا تھا وہاں اندھیرا تھا، حدیث پر نظریں جمائے عیسیٰ کے حلق میں کچھ اٹکا
” میں خدا کا سامنا کرنے سے شرمندہ ہوں “
” قیامت میں شرمندگی سے اس کا سامنا کرنے سے بہتر دنیا میں شرمندگی سے اس کا سامنا کرنا ہے “
” آپ سمجھ نہیں رہے ، میں نے خدا کو چھوڑ دیا تھا ، اپنی مرضی سے ، اپنی کوشش سے، میں واپس اس کی طرف کیسے جائوں ؟ وہ مجھے معاف نہیں کرے گا “
” آپ کی والدہ آپ کو معاف کردیتی ہیں ؟ جب آپ ان کی بات نا مانیں ، انہیں نظرانداز کریں ، انہیں دکھ پہنچائیں ؟ “
عیسیٰ کا سر بے ساختہ اثبات میں ہلا ، کبھی کبھی وہ حیران ہوجاتا کہ شہوار اس کی اتنی بدتمیزیوں پر بھی اس سے ناراض نہیں ہوتی تھیں
” تو پھر جس رب نے آپ کو تخلیق کیا ہے اس کے بارے میں آپ یہ گمان کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کو معاف نہیں کرے گا ؟ ” اس نے کچھ نہیں کہا بس خاموشی سے سامنے دیکھے گیا
” میرے اندر بہت اندھیرا بھر گیا ہے ، میرے اردگرد بہت اندھیرا ہے ، میں اس سے نہیں نکل سکتا ، میں نے روشنی کھودی ہے ، اب اسے واپس پانا مشکل ہے یا شاید نا ممکن ” وہ بے بسی سے کہہ رہا تھا
نعمان صاحب چند لمحے اس کے چہرے کو دیکھے گئے پھر آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما اور جس جگہ وہ ٹھہرے تھے وہاں کھڑا کردیا
” صرف ایک قدم اور دیکھیں آپ نے روشنی پالی ، ایک قدم ہی تو اٹھانا تھا “
وہ ساکت رہ گیا
” رب کی طرف پلٹ جائیں عیسیٰ، اس سے پہلے کہ پچھتانے کیلئے زندگی نا رہے ، اور وہ دن آجائے جب آپ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں لیکن اس وقت شرمندگی کو دور کرنے کیلئے کچھ کرنا سکیں “
وہ پلٹ گئے عیسیٰ وہیں کھڑا رہا ، اس کے گلے میں کچھ اٹک رہا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
درخت سے ٹیک لگائے وہ سامنے دیکھ رہا تھا ، گو آج دھند نہیں نکلی تھی لیکن موسم پھر بھی سرد ہورہا تھا ,اس نے جینز پر سیاہ ہائ نیک اور سیاہ ہی جیکٹ پہن رکھی تھی ،سر پہ کیپ تھی، وہ آج پھر زین کو مسجد میں سوتا چھوڑ کر یہاں نکل آیا تھا ، آج قرت سے بات کئے بغیر وہ جانے والا نہیں تھا ،
بالوں میں ہاتھ پھیرتے اس نے اردگرد دیکھا ، باغ زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن بہت چھوٹا بھی نہیں تھا ، وہ قاری صاحب کے گھر کے آگے بنا تھا ہوا اور انہی کی ملکیت تھا ، زین نے بتایا تھا کہ اسی کی آمدنی سے وہ خرچ چلاتے تھے ، گو باغ مالٹوں کا تھا لیکن چند آم کے درخت اور سفید موتیے کے پھول بھی لگا رکھے تھے ، آم کی ایک ٹہنی کو توڑ کر وہ پتے اکھیڑنے لگا ، اس نے سوچ رکھا تھا کہ اگر آج قاری صاحب قرت کے ساتھ ہوئے تو وہ یہی بہانہ بنا دے گا کہ کل وہ مالٹے نہیں کھا سکا تھا اس لئے آج آیا تھا ، یہ ڈھٹائ تھی تو وہ ڈھیٹ بننے پر راضی تھا
کچھ فاصلے سے دو نسوانی آوازیں آنے لگیں ، یعنی قرت کے ساتھ کوئ اور بھی تھی ، پتوں کو کھرچتے اس کے ہاتھوں میں تیزی آگئ
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تم آؤ گی بھائ کی شادی پہ ؟”
وہ دروازہ بند کرکے پلٹی تو ماریہ نے اس سے پوچھا ، وہ صبح صبح قرت کے گھر آگئ تھی ، دو گھنٹے وہ لوگ ساتھ بیٹھ کر میراث کے مسائل حل کرتی رہیں اور اب مدرسے جارہی تھیں ، سلپ آ گئ تھی سو انہیں وہی لینے جانا تھا اس لئے دیر سے جانے پر کوئ ڈانٹ پڑنے کا امکان نہیں تھا
” نہیں “
” کیوں ؟ میرے بھائ کی شادی ہے ، سب آرہے ہیں ، تمہارے تایا کی فیملی بھی”
” تایا لوگ ؟”
” ہاں ، ابا کی تمہارے تایا سے بہت دوستی ہے ، جواد اور علی کی بھی، تمہیں ایک بات بتائوں ؟” اس کی آواز دھیمی ہوئ ” تمہارے تایا نے جواد کیلئے میرا رشتہ مانگا تھا ، ابا نے انکارکردیا “
” آااں ۔۔۔صحیح ” اسے حیرت ہوئ ، اگر وہ لوگ کہیں اور جواد کا رشتہ طے کرچکے تھے تو اس کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے تھے
” بالکل ، تمہاری چچی خود ہمارے گھر آئ تھیں ، انہوں نے منتیں کی تھیں وہ تو ابا نا مانے ، امی نے بتایا کہ تمہاری تائ کہہ رہی تھیں کہ وہ لوگ تمہارے لئے کہیں گے اگر ہماری طرف سے انکار ہوگیا تو ، تم دونوں کا رشتہ ہوگیا ہے کیا ؟” اس کی آواز تجسس سے پر تھی ، قرت نے گہری سانس لی
” میں اس بارے میں نہیں جانتی ، بہتر ہے تم اس ٹاپک کو نا ہی چھیڑو “
ماریہ نے کوئ جواب نہیں دیا اس لئے نہیں کہ وہ قرت کی بات سے لاجواب ہوئ تھی اس کے پاس بہت کچھ تھا کہنے کو ، اس کی خاموشی کی وجہ کچھ اور تھی بلکہ کوئ اور تھا ، ان سے چند قدم آگے پی کیپ پہنے درخت سے ٹیک لگائے کھڑا لڑکا
” یہ کون ہے ؟”
قرت نے اس کی سرگوشی پر نظروں کا رخ موڑا، وہ لڑکا سر جھکائے کسی تنے کو توڑ رہا تھا اس کی شکل واضح نہ تھی
” کوئ مسافر ہوگا “
روش سے آگے پکی سڑک تھی سو کبھی کبھی یہاں کچھ منچلے رک کر تصویریں بنایا کرتے تھے
” لگ تو نہیں رہا ” ماریہ نے آنکھیں سکیڑیں
” جو بھی ہے ہمیں کیا تم بس تیز چلو “
وہ اسے کہہ کر تیزی سے چلنے لگی، ابھی وہ دونوں اس کے سامنے سے گزری ہی تھیں جب وہ لڑکا یکدم سیدھا ہوا ،قرت کے قدم مزید تیز جبکہ ماریہ کے سست ہوئے
” بات سنیں “
ماریہ یکدم رکی اس کی ساتھ چلتی قرت کو بھی رکنا پڑا ،وہ چلتے ہوئے ان دونوں تک آرہا تھا ،اسے دیکھتے قرت کو لگا شاید اس نے اسے کہیں دیکھ رکھا تھا، کہاں ؟ یہ فوری طور پر یاد نا آیا
” کچھ بات کرنی تھی آپ سے ” وہ قرت کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
” مجھ سے ؟ “
اس نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا کہ شاید وہ غلطی سے اس کا کہہ گیا تھا
” جی “
” کیا بات کرنی ہے ؟” عیسیٰ نے ایک نظر ماریہ کو دیکھا
” کیا ہم اکیلے میں بات کرسکتے ہیں؟”
” نہیں “
وہ سختی سے کہہ کر ماریہ کا ہاتھ تھام کر جانے لگی
” سن تو لیتیں۔۔۔۔۔۔۔”
” قرۃ العین !”
وہ جھٹکے سے رکی ،وہ نام اسی شخص نے لیا تھا
” اسے تمہارا نام کیسے پتا؟”
” اس نے ماریہ کی تعجیب آمیز آواز سنی اور مڑ کر پیچھے دیکھا
” میں نہیں جانتی “
عیسیٰ ان سے قدرے فاصلے پر اب بھی وہیں تھا
” تھوڑی دیر پلیز “
وہ قدرے ملتجی ہوا اور اسے یکدم یاد آیا کہ وہ شخص کون تھا اسلام آباد کی پہاڑی، ٹوٹی تسبیح ، پس منظر سے آتی آذان ، وہ سب منظر اس کے دماغ میں تازہ ہوئے
وہ ماریہ کا ہاتھ چھوڑتی اس تک آئ
” آپ یہاں کیا کررہے ہیں مسٹر ؟ “
وہ نہیں جانتی تھی اس کی آواز میں اتنی درشتگی کیسے آئ تھی
” مجھے لگا تھا آپ مجھے بھول گئ ہوں گی ” وہ اداسی سے مسکرایا
“میں نے آپ کو یاد ہی نہیں رکھا تھا “
” تو پھر آپ نے مجھے پہچان کیسے لیا اگر آپ نے مجھے یاد ہی نہیں رکھا ؟”
وہ طنز نہیں کررہا تھا لیکن اسے طنز ہی لگا
” کیا بات کرنی ہے جلدی کہیں ” اس نے حیرت سے دیکھتی ماریہ کو نظرانداز کیا، اف اب اس کو بھی وضاحت دینی پڑے گی
عیسیٰ نے جیب کے اندر ہاتھ ڈالا اور جب اس نے ہاتھ باہر نکالا تو اس کے ہاتھ میں ٹوٹی تسبیح تھی ،قرت ساکت ہوئ
” یہ ۔۔۔۔”
” اس دن مارگلہ پر ملی تھی مجھے ” اس نے بے اختیار ہاتھ آگے بڑھایا لیکن عیسیٰ نے تسبیح پیچھے کرلی، اس کاہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا
” میں آپ کی امانت آپ کو لوٹا دوں گا لیکن ایک امانت میری بھی آپ کے پاس ہے ،آپ وہ مجھے لوٹادیں “
اس نے حیرت سے ابرو اٹھائے
” میرے پاس آپ کی کیا امانت ہے ؟” عیسیٰ چند لمحے اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہا پھر دو قدم آگے آیا
“میرا دل۔۔۔ “
” جی ؟”
” آپ اس دن ٹوٹی تسبیح کا ایک حصہ اپنے ساتھ لے آئ تھیں، میرے دل کا ایک حصہ اس تسبیح کے ساتھ رہ گیا تھا ، آپ اس دن ٹوٹی تسبیح کا ایک حصہ وہاں چھوڑ آئ تھیں میرے دل کا دوسرا حصہ اس تسبیح کے ساتھ ہے ، اب میں دونوں حصے آپ کے پاس لایا ہوں، تسبیح کا بھی میرے دل کا بھی،یہ آپ پر منحصر ہے کہ ان دونوں کو جوڑتی ہیں یا نہیں “
اس کی عیسیٰ کو دیکھتی آنکھوں میں پہلے ناسمجھی پھر ڈھیروں تعجیب اور پھر شدید غصہ ابھرا
” جانتے بھی ہیں کیا کہہ رہے ہیں ؟”
” بہت اچھی طرح “
وہ چند لمحے اسے غصے سے دیکھتی رہی اور پھر وہاں سے مڑ گئ
” قرت ” وہ تیورا کرپلٹی
” مسٹر میرا نام مت لیں ، اور یہاں سے چلے جائیں “
” میرا نام عیسیٰ حیات ہے “
” آپ کا نام جو بھی ہو ، براہ کرام” میرا “نام لینا بند کردیں “
وہ سختی سے کہہ کر وہاں سے چلی گئ ، عیسیٰ اس کے پیچھے نہیں گیا باغ سے کسی مرد کی ہلکی سی آوازیں آرہی تھیں وہ قرت کی پیچھے جاتا تو اس کیلئے مسئلہ ہوتا
