Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 11)

Nahal By Fatima Noor 

وہ گہری نیند میں تھا جب موبائل بجنے کی آواز نے نیند میں خلل ڈالا

” ہیلو ۔۔۔۔”

موبائل اٹھا کر کان سے لگایا اور بند آنکھوں سے بولا

” کہاں ہو ؟” آواز کچھ جانی پہچانی سی تھی

” لیڈی ڈیانا کے ساتھ ڈنر کررہا ہوں “

” ڈنر کینسل کرو اور فورا باہر نکلو “

زین نے مندی مندی آنکھیں کھولیں اور موبائل کو دیکھا٫ سکرین پر عیسیٰ کا نام جگمگا رہا تھا

” عموما اس وقت شریف لوگ سورہے ہوتے ہیں “

” شریف لوگ سورہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔تم اپنی بات کرو”

” اس وقت کون سی مصیبت آ گئ ہے تمہیں ؟”

وہ کمفرٹر ہٹاتا اٹھ کھڑا ہوا

” باہر آئو بتاتا ہوں “

وہ بڑبڑاتا ہوا نیچے آیا تو عیسیٰ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا تھا ، موسم سرد ہو رہا تھا اس لئے اس نے جیکٹ بھی پہن رکھی تھی

” کیا ؟”

” سامان اٹھائو اپنا اور میرے ساتھ چلو “

” کدھر ؟”

وہ جو گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا مڑ کر زین کو دیکھا

” ہم ملتان جارہے ہیں “

زین کا دماغ بھک سے اڑا

” دماغ ٹھیک ہے تمہارا ؟”

” نہیں “

” لگ رہا ہے “

اس نے دانت کچکائے

” تم چل رہے ہو یا نہیں ؟”

” عیسیٰ کل بھی تو جاسکتے ہیں ؟ اور یہ گاڑی ؟ فلائٹ سے چلے جائیں گے “

” میں کل کا ویٹ نہیں کرسکتا ، اور گاڑی کی وہاں ضرورت پڑے گی “

” دیکھو ، ابھی اس وقت سفر مناسب نہیں ہے ، ویٹ کرلو کل چلیں گے ، آج جانا ضروری ہے ؟ “

گو وہ جانتا تھا اسے سمجھانا فضول ہے لیکن پھر بھی وہ کوشش کررہا تھا

” یو آر رائٹ ۔۔۔”عیسیٰ نے سینے پر ہاتھ باندھے سکون سے اسے دیکھا ” لیکن تم چل رہے ہو یا میں اکیلا جاؤں ؟ “

زین کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے یا اس کا گلا دبا دے لیکن دونوں خواہشوں پر قابو پایا اور ضبط سے اسے دیکھا

” پانچ منٹ رکو آتا ہوں “

وہ اندر گیا چینج کیا ، بیگ میں ایک دو سوٹ اور سامان ڈالا ، باہر آیا تو عیسیٰ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا

” میرے ماں باپ مجھے اس حرکت پر گھر سے نکال دیں گے۔۔۔ لکھوالے ” وہ بھنا بیٹھا تھا ،عیسیٰ نے کچھ نہیں کہا ، وہ سامنے دیکھے ڈرائیو کئے گیا ، زین کچھ دیر غصے سے بڑبڑاتا رہا پھر سو گیا ٫

رات صبح میں اور صبح دوپہر میں بدل گئ جب اس کی آنکھ کھلی ، ہاتھ اٹھا کر گردن کو مسلا اور عیسیٰ کو دیکھا جو سپاٹ سے تاثرات کے ساتھ ڈرائیو کررہا تھا ، آنکھیں سرخ ہورہی تھیں

” گاڑی کہیں روک لے بھائ ، بھوکے پیٹ مجھ سے سفر نہیں ہوتا “

” ملتان میں داخل ہونے والے ہیں ، وہیں رکے گی اب کار “

زین نے اکتا کر اس ڈھیٹ انسان کو دیکھا

” رحم کر کچھ عیسیٰ خود پر بھی اور مجھ پر بھی ، کم از کم گاڑی تو مجھے ڈرائیو کرنے دو ” اس نے پھر بھی کار نہیں روکی ، ایک دو گھنٹے کی مزید ڈرائیو کے بعد کسی ہوٹل کے سامنے اس نے کار روکی تو زین ایک بار پھر سوچکا تھا ، عیسیٰ نے باہر نکل کر اپنا بیگ نکالا اور زین کو دو چار تھپڑ مار کر جگایا

” بھوکے پیٹ سفر نہیں ہوتا لیکن نیند آجاتی ہے “

” میرے منہ نا لگ اس وقت ، ” اس کا غصہ ابھی کم نہیں ہوا تھا اس لئے تپے انداز میں کہتا اندر بڑھ گیا جبکہ عیسیٰ نے رک کر ہوٹل کے اوپر لکھے نام کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرایا

محبوب کا شہر بلاوجہ ہی محبوب ہوجاتا ہے

باآخر وہ ملتان میں تھا !

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلا پورا دن وہ ہوٹل میں رہے،شام کو زین کے بڑے بھائ کی کال آگئی اور عیسیٰ نے اس کی بعزتی لائیو سنی ، دس بجے حیات کی کال آ گئ

” کہاں ہو تم ؟”

” شہر سے باہر ہوں “

” شہر سے باہر کہاں ؟”

” دوسرے شہر “

” عیسیٰ۔۔۔” حیات نے ضبط سے گہری سانس لی ” یہ کیا پاگل پن ہے ؟ یوں اچانک کہاں چلے گئے ہو ؟”

” ابھی تو بتایا ہے ، دوسرے شہر میں ہوں “

” اس دوسرے شہر کا نام بتاسکتے ہو ؟”

چند لمحے خاموشی چھائ رہی اور پھر عیسیٰ کی آواز ابھری

” نہیں ۔۔” حیات نے گہرے سانس لے کر اپنے غصے کو ضبط کیا

” تمہیں پتا بھی ہے سکیورٹی کے مسائل ہوسکتے ہیں ، کم از کم انفورم کرکے تو جاسکتے تھے “

” آپ دونوں سو رہے تھے، کیسے کرتا انفارم ؟ “

” تم رات کو گئے تھے ؟ یا خدایا کہاں ہو اس وقت ؟”

” کیا میں دوبارہ سے اپنا جواب دہراؤں ڈیڈ ؟”

” تم صرف اپنی لوکیشن بتائو “

“ریلیکس ڈیڈ ، ٹھیک ہوں چند دن میں آجائوں گا ، سم آف کررہا ہوں اس لئے پریشان مت ہوئیے گا ، خدا حافظ ” اس نے کال کاٹی اور سم بند کردی

” اس مرتبہ تمہارے بھی بے گھر ہونے کے نوے فیصد چانسسز ہیں”

” who cares?”

اس نے بے نیازی سے شانے اچکائے

” مجھے ہے فکر اپنی ۔۔۔۔”

” اچھا ۔۔۔” وہ ہینڈ فری لگا کر موبائل دیکھنے لگا ، زین کو اس کی ڈھٹائ پر تاؤ آیا

“تم اب ایسا کرو ڈھونڈو ٫جسے بھی ڈھونڈنا ہے ، مجھ سے کوئ امید مت رکھنا “

صوفے پہ بیٹھے زین نے اس کی ڈھٹائ اور بدتمیزی پر لعنت اور ملامت دونوں بھیجی ، اور وہاں سے واک آؤٹ کرگیا ، اس کا غصہ اگلے دن تک کم نا ہوا اس لئے وہ بنا اس سے کچھ کہے اکیلا مدرسے چلا گیا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” جاکر رکشہ روکو میں آتی ہوں “

ابو بکر کو آگے جانے کا کہہ کر وہ ہاتھ میں تھامی کتاب بیگ میں رکھنے لگی ، وہ سر ہلاتا آگے بڑھ گیا ، اس کے جانے کے بعد رفتار قدرے تیز کرتے ہوئے وہ باغ کی روش سے گزرنے لگی ، جب نظر سامنے سے آتے جواد پر پڑی ، قدموں کی رفتار مزید تیز ہوگئ

“رکشے پہ جائوگی ؟میں چھوڑ دیتا ہوں تمہیں اور ابوبکر کو “

اس کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ ایک دم اس کے سامنے آگیا ، قرت جھٹکے سے رکی

” یہ کیا طریقہ ہے ؟ راستے سے ہٹو میرے “

سختی سے اس سے کہا تو وہ ڈھٹائ سے ہنسا

” سوال ہی پوچھا ہے ، پھاڑ کھانے کو کیوں دوڑ رہی ہو ؟” دلچسپی سے اس کی آنکھوں کو دیکھا جن میں غصہ تھا

” نہیں جانا تمہارے ساتھ، آئندہ میرے راستے میں آئے تو ابا سے شکایت لگادوں گی “

اسی درشت لہجے میں کہتے وہ اس کی سائیڈ سے ہوکر گزر گئ

وہ ابا کی نحل تھی ، لہجہ شہد رکھنا بھی جانتی تھی اور زہر رکھنا بھی ، چہرہ سرخ ہوگیا ، اسے سخت برے لگتے تھے راستے میں آنے والے مرد ،عورتوں کے راستوں میں کھڑے ہوکر باتیں کرنے والے مرد ، اور یہ شخص تو کچھ زیادہ ہی برا لگتا تھا ، اس کی نظریں جیسے اندر تک اترجاتی تھیں ، سر جھٹکتے وہ سڑک تک گئ ، ابوبکر رکشے کے ساتھ ٹھہرا تھا ، وہ خاموشی سے رکشے میں بیٹھ گئ

اس کے جانے کے بعد جواد کے لبوں پہ زہر خند سی مسکراہٹ ابھری

” اس قدر عام سی عورت پر یہ غرور نہیں سجتا قرت العین، تم بس اس دن کا انتظار کرو جس دن میں تمہیں دکھائوں گا کہ تم ہو کیا میرے سامنے ” آنکھوں میں تپش لئے وہ آگے بڑھ گیا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اردگرد کے ہجوم سے بے نیاز وہ ٹی شرٹ اور جیکٹ میں ملبوس گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا تھا ، نظریں بے چینی سے اردگرد کا طواف کررہی تھیں

زین کیونکہ اس سے ناراض تھا سو اسے ہوٹل میں چھوڑ کر وہ قرت کے مدرسے چلا آیا تھا، چھٹی میں ابھی دیر تھی کہ وہ گارڈ سے ساری معلومات لے چکا تھا اس لئے باہر کھڑے ہوکر انتظار کرنے کی بجائے وہ ایڈمن آفس چلا گیا

” ہمارے پاس ایڈریس نہیں ہے محترم ، مدرسے کی ہر لڑکی کا ایڈریس نہیں رکھا جاتا٫ ہوتا بھی تو بغیر اجازت ہم آپ کو کبھی نا دیتے ” سامنے بیٹھے سفید داڑھی والے باریش بزرگ نے اب کے کچھ سختی سے اس سے کہا تھا جو مسلسل یہی رٹ لگائے ہوئے تھا کہ اسے قرۃ العین نامی لڑکی کا ایڈریس چاہئے تھا ، کیوں چاہئے تھا اس کا جواب نا انہوں نے پوچھا تھا نا اس لڑکے نے دیا تھا

” موبائل نمبر تو ہوگا ۔۔۔۔؟” وہ کچھ بے چینی اور مایوسی سے پوچھنے لگا

” موبائل لانے کی اجازت نہیں ہے مدرسے میں “

” ان کے گھر میں کسی کا ، آئ مین ان کے فادر کا ؟”

” ڈھونڈنا پڑے گا ، ۔۔۔۔” وہ جان چھڑانے کو بولے اور سامنے رکھی فائل کھول لی

” تو ڈھونڈ لیں ۔۔۔۔”

” اتنا وقت نہیں ہے میرے پاس٫ آپ براہ مہربانی یہاں سے تشریف لے جائیں ۔۔۔” ہاتھ سے باہر کی طرف اشارہ کیا ،عیسیٰ چند لمحے انہیں دیکھتا رہا پھر جیب سے والٹ نکالا ، چند نوٹ میز پر رکھے اور انگلی سے میز بجائ

” آپ کے اس وقت کی قیمت دے سکتا ہوں میں “

بزرگ نے چونک کر سر اٹھایا، نظر سامنے پڑے پیسوں پر گئ ، لمحوں میں چہرہ سرخ ہوا

” لا حول ولا قوة الا باللہ ” وہ جھٹکے سے اٹھے ” آپ رشوت دے رہے ہیں مجھے ؟ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس لعنت سے “

عیسیٰ کو اس ردعمل کی توقع نہیں تھی ، ایک پل کو وہ گڑبڑا گیا ، پھر بے اختیار دونوں ہاتھ اٹھائے

” ریلیکس ۔۔۔۔رشوت نہیں دے رہا تھا ، میں صرف تحفہ سمجھ کر دے رہا تھا “

” نام بدلنے سے صفت نہیں بدل جاتی ، جائیں یہاں سے اس سے پہلے کہ میں گارڈ کو بلائوں “

وہ زیر لب بڑبڑاتا اٹھ گیا ، اس نے زندگی میں پہلا انسان دیکھا تھا جو مفت کی رقم لینے سے انکار کررہا تھا

اور اب وہ خاموشی سے باہر کھڑا چھٹی کا انتظار کررہا تھا ۔۔۔۔صبر اور تحمل ٫ان دو چیزوں سے وہ زندگی میں پہلی بار واقف ہورہا تھا

زمین کو پائوں سے رگڑتے اس کی نظر ارگرد گھوم رہی تھی جب گیٹ کھلا اور لڑکیاں باہر نکلنے لگیں ، وہ سیدھا ہوا

ایک جیسی ہزاروں لڑکیاں ، سیاہ برقعوں میں ملبوس، نقاب کے ساتھ ٫ نقاب کے بغیر٫ سیاہ داستانوں میں ہاتھ چھپائے، دستانوں کے بغیر بھی ٫ جھکی نظروں والی ، اٹھی نظروں سے کسی کو ڈھونڈتی ہوئیں

عیسیٰ کی نظر بے چینی سے ان دو آنکھوں کو ڈھونڈنے لگی

اور پھر اسے وہ نظر آگئ ، بیگ اٹھائے ارگرد دیکھتی سیاہ نقاب والی لڑکی ، نقاب سے جھانکتی دو آنکھیں ، وہ دو آنکھیں جنہوں نے عیسیٰ حیات کو عرصہ خود میں قید رکھا تھا ، وہ دو آنکھیں جن کے آنسو اس کی کئ دنوں کی نیند لے گئے تھے ، وہ بھوری آنکھیں جو کسی طلسم کا حصہ تھیں ، دو آنکھیں جو وہ لاکھوں کے ہجوم میں بھی ڈھونڈ سکتا تھا ، کروڑوں کے مجمعے میں بھی پہچان سکتا تھا ،

گلے میں ابھرتی گلٹی اور پتھر ہوئ آنکھوں سے وہ اسے دیکھے گیا ، اس کی ہر حرکت کو ، وہ ساتھ چلتی کسی لڑکی سے کچھ کہہ رہی تھی ، رک کر اس کی بات سنی ، سر ہلایا ، اردگرد دیکھا اور ہاتھ ہلا کر وہاں سے ہٹی ، کسی کو ڈھونڈا، سامنے کوئ رکشہ کھڑا تھا اس تک گئ ، عیسیٰ کی آنکھیں اس کی ہر حرکت کو دیکھے گئیں

” راستہ دو بھائ ۔۔۔۔” سامنے سے آتے تیز ہارن کی آواز پر وہ چونکا

کوئ موٹر سائیکل سوار بے زاری سے اس سے راستے سے ہٹنے کا کہہ رہا تھا، وہ راستے کے درمیان میں کھڑا ہوا تھا بے اختیار پیچھے ہوا ، نظر دوبارہ سے اس طرف گئ جہاں قرت نظر آئ تھی

اور اس کا دل دھک سے رہ گیا وہ وہاں نہیں تھی

ارگرد ہزاروں کا ہجوم تھا ، ایک جیسے لباس والی سینکڑوں لڑکیاں ، سیاہ نقاب اور دستانوں میں ملبوس ، اور ان سب میں وہ جاکر ہر چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا ٫کچھ بے چینی اور بے قراری سے مجمعے کو چیرتے وہ اردگرد چکر لگانے لگا ، کبھی یہاں٫ کبھی وہاں ، ہر آنکھ کو دیکھتے ، ہر نقاب کے پیچھے اسے ڈھونڈتے ، لیکن وہ وہاں نہیں تھی

شدید مایوسی کے عالم میں وہ کار تک واپس آیا ، زور سے پیر ٹائر پہ مارا ،ایک بار ٫دو بار٫ کئ بار ، اس کی نظر بس ایک لمحے کو ہٹی تھی ۔۔۔۔بس ایک لمحہ !!

ہر شے اسی ایک لمحے کی وجہ سے ہورہی تھی ، بے اختیاری کا ایک

اٹھائ گئ ایک نظر اور اس نے دل کھودیا

پھیری گئ ایک نظر اور اس نے قرت کو کھودیا

گاڑی میں بیٹھتے اس نے زور سے ہاتھ سٹیئرنگ پہ مارا ، سر کرسی کی پشت سے ٹکایا اور چند گہرے سانس لے کر گاڑی سٹارٹ کردی

بس ایک لمحہ !!

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلے دن وہ دونوں پھر قرت العین کے مدرسے کے باہر کھڑے تھے

” مستقبل کی تاریخ میں دوستی کی مثال دیتے ہوئے میرا نام سرخ سے اور تیرا سیاہ حروف سے لکھا جائے گا “

” میں تاریخ میں اپنا نام محبت کے ابواب میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔” چہرہ موڑ کر اسے دیکھا ” دوستی کی تاریخ اپنے پاس رکھو “

وہ دوبارہ سے سامنے دیکھنے لگا ، زین منہ میں کچھ بڑبڑا کر رہ گیا

ہم اندر چل کر ایڈریس بھی تو پتا کرواسکتے ہیں ؟”

” میں نے کوشش کی تھی ، اول تو ان کے بقول ان کے پاس ایڈریس نہیں تھا ٫ پھر وہ قرت کے متعلق بتانے پر راضی بھی نہیں تھے٫ ورنہ ہم یہاں نا کھڑے ہوتے “

” چند ہزار دے دیتے ، سارا شجرہ نسب بتادیتے ” زین نے ناک بھوں چڑھائ ، عیسی نے رخ موڑ کر اسے دیکھا، پھر نظریں واپس گیٹ پر جمادیں

ہر کسی کو پیسوں سے نہیں خریدا جاسکتا تھا، وہ زین کی یہ غلط فہمی کم ازکم کل والا واقعہ سنا کر دور نہیں کرنا چاہتا تھا

تھوڑی دیر گزری جب چند لڑکیاں باہر نکلنے لگیں ، سیاہ برقعے پہنے ، کئ نے دستانے بھی پہن رکھے تھے

” پہچانے گا کیسے بھابھی کو ؟”

” پہچان لوں گا ، مارگلہ بھی پہچان لیا تھا جب جانتا تک نا تھا “

” مجھے تو سب ایک جیسی لگ رہی ہیں ، کسی اور کو نا بھابھی سمجھ لینا “

اس کی نظریں گیٹ پر تھیں جہاں سے سیاہ برقعوں میں ملبوس لڑکیاں نکل رہی تھیں

” اپنا منہ بند نہیں رکھ سکتے تم ؟” عیسیٰ نے اکتا کر اسے دیکھا

” اوکے اوکے ” زین نے دونوں ہاتھ اٹھائے ، اس نے کچھ کہے بغیر نظریں دوبارہ گیٹ پر جمادیں

مدرسے میں چھٹی ہوئ اور لڑکیاں باہر نکلیں ، اس کی نظریں بے چینی سے قرت کو ڈھونڈنے لگیں

” بڑی ذلیل حرکتیں کی ہیں لیکن آج شرمندگی کا مقام ہی کوئ اور ہے ” اس نے زین کی بڑبڑاہٹ نظرانداز کی

آہستہ آہستہ ہجوم کم ہونے لگا اور پھر ختم ہوگیا ، لیکن قرۃ العین اسے نظر نا آئ، امید مایوسی میں اور دوپہر سہ پہر میں بدل گئ

” واپس چل عیسیٰ کل آجائیں گے ” زین کو اب اس پر ترس آنے لگا ، عیسیٰ نے گاڑی کی چابی خاموشی سے اسے دے دی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” آنٹی کی کال اٹھالے بھائ”

اپنے موبائل پر تیسری مرتبہ شہوار کی کال آنے پر اس نے کچھ اکتا کر سامنے بیٹھے عیسیٰ سے کہا تھا جو ہونٹوں پہ انگلی رکھے باہر دیکھ رہا تھا ، اس کے بلانے پر نظر گھمائ

” کٹ کر دو ، میرا نمبر بند ہے سو مام تمہیں کال کررہی ہیں “

” میں کٹ کردوں لیکن تم تو موبائل آن کرلو ، پیچھے سب فکر مند ہوں گے “

” مجھے فلحال پیچھے والوں سے رابطہ نہیں رکھنا ۔۔۔”

” تو مجھے کیوں ساتھ لائے ہو ؟ مجھے بھی پیچھے چھوڑ آتے ” تڑخ کر کہا ، وہ دو دن سے اپنے باپ اور بھائ کی گالیاں سن رہا تھا

” کتنے احسان فراموش ہو تم زین ” عیسیٰ نے اب کے افسوس سے اسے دیکھا

” کون سے احسان ہیں جو میں نے فراموش کردیئے ہیں ؟”وہ صدمے سے کہتے ہوئے آگے کو ہوا

” منہ نا کھلواؤ میرا “

وہ دوبارہ باہر دیکھنے لگا

” نہیں نہیں۔۔۔۔کھولو منہ ، مجھے بھی تو ان احسانوں کا پتا چلے جو میں نے فراموش کردیئے ہیں”

عیسیٰ رخ موڑے چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر فیصلہ کن انداز میں آگے ہوا

” یونیورسٹی میں پروفیسر مچل کی گاڑی کے شیشے توڑنے کے الزام سے کس نے بچایا تھا تمہیں؟ لندن میں ہونے والے پروٹیسٹ میں٫ جس میں بعد میں پولیس نے کئ سٹوڈنٹ کو گرفتار کیا تھا اس سے کس نے بچایا تھا ؟ حالانکہ تمہارے تینوں دوست دو دن جیل میں رہ کر آئے تھے ، فلزا کی ڈائمنڈ رنگ جسے بیچ کر تم نے اور مائیکل نے فائن پے کیا تھا اس کا بھانڈا پھوٹنے سے کس نے بچایا تھا ؟ میری آدھی پاکٹ منی اسے نئ رنگ لے کر دینے میں لگی تھی ، سہیل بھائ کی نئ گاڑی جسے تم نے ون ویلنگ کے دوران کسی درخت سے جامارا تھا اس ۔۔۔۔۔”

” بس بس ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے ٹھیک ہے ” سرخ پڑتے چہرے سے دونوں ہاتھ اٹھا کر اسے روکتے زین نے مصالحانہ انداز اپنایا تھا، بدتمیز کو ہر شے یاد تھی !!

” میں یہ تھوڑی کہہ رہا ہوں کہ مجھے یہاں نا لاتے، بس جس طرح سے لائے ہو وہ طریقہ مجھے بے گھر کردے گا ” اب کہ وہ دھیما پڑا

” زیادہ اوور رئیکٹ مت کرو ، تمہارا باپ پہلے بھی ایسی کئ دھمکیاں دے چکا ہے ” اس نے جیب سے نوٹ نکالتے سامنے رکھے کارڈ میں رکھے

” اس بار وہ عمل کریں گے سیدھا سیدھا ” وہ اٹھتے ہوئے بڑبڑایا ، عیسی نے نے پیچھے پڑی جیکٹ اٹھائ اور اس کے پیچھے ہولیا

” کوئ بات نہیں ، شیلٹر ہوم بہت ہیں ملک میں “

” اگلا ٹھکانہ وہی ہوگا میرا ” وہ سر ہلاتے کہہ رہا تھا ” اکلوتا بیٹا ہونا بھی نعمت ہے ، خود کو دیکھ لو ، جو مرضی کرو نا ماں باپ ٹوکیں گے نا روکیں گے ، بہن بھائیوں کی فوج ہو تو میرے جیسا حال ہوتا ہے ” وہ اسی طرح بڑبڑاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا ، اپنی طرف کا دروازہ کھولتا عیسیٰ رکا ، وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا ، لبوں پہ زہر خند سی مسکراہٹ ابھری

اکلوتا ہونا نعمت نہیں عذاب ہوتا ہے ، جب آپ کے ساتھ دکھ بانٹنے کیلئے بھائ نا ہوں ، جب تنگ کرنے کیلئے بہن نا ہو ، قصے سنانے کیلئے کوئ ساتھی نا ہو تو یہ نعمت نہیں رہتا

وہ اس سے کہہ نا سکا کہ وہ یہ سب چیزیں مس کرتا تھا ، جو بھی کرنا چاہیں تو اسے روکتے وقت ماں باپ یہ نا سوچیں کہ اسے برا لگے گا ، بہن بھائیوں کی لڑائ کے وہ قصے جو وہ عمار اور زین سے سنا کرتا تھا ، یونیورسٹی میں انہیں بہن بھائیوں کی طرف سے آنے والی کالز ،ان کے ساتھ آئوٹنگ پر جانا ، وہ سب مس کرتا تھا

زین کے موبائل پر آنے والی کال سنتے وہ جیسے چونکا ، ارگرد دیکھا اور پھر سر جھٹکتے اندر بیٹھا

” آنٹی پھر سے کال کررہی ہیں عیسیٰ ” زین کچھ اکتاہٹ سے کہتا اسے دیکھنے لگا ، عیسیٰ نے موبائل اس کے ہاتھ سے جھپٹا ، کال کاٹی اور موبائل بند کردیا ، زین کا منہ کھلا

” اب میرا سر مت کھانا ۔۔۔” موبائل واپس اس کی جیب میں پٹخا

” میں خود بھی بند کرسکتا تھا، اگر یہی کرنا تھا ۔۔۔” اس نے دانت کچکائے

” کردیتے پھر ، لیکن اب میرا سر مت کھانا “

جھڑک کر کہتے وہ باہر دیکھنے لگا ، زین کچھ خاموش ہوگیا ، عیسیٰ کا موڈ بگڑا ہوا تھا ، ماتھے پر بل تھے ، اکتاہٹ اور بیزاری جیسے اس کے وجود کا حصہ بنتی جارہی تھی ، زین ڈرائیور کرتے ہوئے کبھی کبھی اسے دیکھ لیتا ، وہ گاڑی کے شیشے پر بازو ٹکائے باہر دیکھ رہا تھا

آدھی رات کا وقت تھا تقریبا ٫پھر بھی ملتان کی رونقیں بحال تھیں ، روشن سڑکیں ، ارگرد گھومتے لوگ ان سب سے قطع نظر اس کے اندر کا موسم بے چینی کا شکار تھا ، عجیب یقینی بے یقینی سی کیفیت تھی ، اگر قرت نا ملی تو ؟ اگر اس کی تلاش لاحاصل رہی ؟ تو کیا وہ ساری زندگی اسی بے چینی کا شکار رہے گا؟ ، یوں ہی ملتان کی گلیاں چھانتے ہوئے ، ہر آنکھ میں وہی ایک نظر تلاش کرتا رہے گا ؟

اس کی سیاہ آنکھیں باہر کے مناظر میں کوئ شناسا منظر ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگیں ، اجنبی سے اس شہر میں کوئ شناسا آنکھیں، کسی کا کپکپاتا وجود ، خوف سے جکڑی نگاہیں جو اسے دیکھتے شکوہ کناں تھیں

” تم میں کچھ احساس ہے ؟”

نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھتی پتھر کردینے والی نظر ، اور اب جب وہ اسے ڈھونڈ لے گا تو کیا وہ اسے بتاپائے گا کہ اسے جو احساس ہوا تھا وہ کیا تھا ؟ سیاہ چغہ پوش شہزادی کی آنکھوں کا ہر احساس اس کی آنکھوں میں جم گیا تھا ، اس کی ٹوٹی تسبیح کے دانے تھامے وہ کن کن جگہوں پہ گھوما تھا ، اس تسبیح کے ٹوٹے دانے اس کی روتی آنکھوں سمیت عیسی کے دل پر ثبت ہوگئے تھے ،کیا وہ اسے یہ سب بتاپائے گا ؟ کیا وہ اس سب پر یقین کرلے گی ؟ کیا یہ سب اتنا آسان تھا ؟

جانے وہ مل جاتی تو کیا وہ اس سے یہ سب کہہ پاتا ، کہہ پاتا تو کیا اسے اجنبی شہر کا باسی یاد بھی تھا ، یاد تھا تو کیا وہ اس کے کہے پر یقین کرلیتی ؟ ان سب سے زیادہ اہم کیا وہ اسے ڈھونڈ بھی پائے گا ؟ لوگوں کے اس ہجوم میں کیا وہ اس ایک کو ڈھونڈ پائے گا ؟ اگر وہ دوبارہ اسے نظر ہی نہیں آئ؟ اس نے دوبارہ اسے پاکر کھودیا ؟

اس نے آنکھیں بند کرلیں ، یہ خیال اذیت تھا ، ہر اذیت سے زیادہ تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

یہ دو دن کی چھٹی کس غم میں کی تھی ؟”

وہ دونوں ابھی کلاس سے باہر آئ تھیں

” چھٹی صرف غم میں تھوڑی کی جاتی ہے “

” میں سوال تبدیل کرکے پوچھ لیتی ہوں ، یہ دو دن کی چھٹی کس خوشی میں کی تھی ؟”

قرت ہنس دی

” کسی خوشی میں نہیں کی تھی ، اماں کی طبیعت خراب تھی ” وہ دونوں اب سیڑھیوں پر بیٹھ رہی تھیں

” اوہ ۔۔۔۔اب کیسی ہیں ؟ “

” بہتر ہیں الحمدللہ “

حریم نے سر ہلادیا

” ماریہ نے دو دن آکر تمہارا پوچھا تھا “

” خیریت ؟”

” اسے کچھ مدد چاہئے تھی “

” اچھا ، میں پوچھ لوں گی ، تم یہ بتائو پیپرز کے بعد شادی پکی ہے تمہاری ؟” حریم کا منہ بن گیا

” کنفرم ہے ، گھر والوں کو بس مجھے نکالنا ہے کسی طرح “

” استغفراللہ۔۔۔ ایسے مت کہو “

” چھوڑو ، ابا اماں تو یوں پریشان تھے جیسے خدانخواستہ میں کنواری مرنے لگی ہوں “

” کتنا اول فول بولتی ہو حریم “

” بہت شکریہ اس اول فول کو برداشت کرنے کیلئے ، تمہارا کیا پروگرام ہے ؟”

” کس چیز کا ؟”

وہ انجان بن گئ

” شادی کا بھئ ۔۔”

” نصیب کی بات ہے ، جب ہونی ہوگی ہوجائے گی”

” یہ تو ہے لیکن کہیں بات بھی طے کرنی پڑتی ہے “

” خوش قسمتی سے میرے گھر والوں کو مجھے نکالنے کی جلدی نہیں ہے اس لئے فلحال ایسے کوئ امکانات نہیں ہیں ، اٹھو اب ٫ماریہ کو ڈھونڈیں ، پتا نہیں کیا کہنا تھا “

وہ بیگ سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئ

” کترالو اس موضوع سے بیٹا ، ایک دن تم نے بھی پھنسنا ہی ہے “

” ہاں بھئ دیکھ لیں گے جب پھنسوں گی ، ابھی چلو ، مجھے کل کیلئے چھٹی بھی لینی ہے ، اماں کی طبیعت آج بھی خراب تھی ، مجھے ان کی فکر ہورہی ہے “

ان کی آوازیں مدھم ہوتی جارہی تھیں