Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 30)

Nahal By Fatima Noor 

اس نے دستک دے کر دروازہ ہلکا سا کھولا پھر مکمل کھول کر اندر داخل ہوگیا ، قرت آئینے کے سامنے بیٹھی تھی ، پنک کلر کی لمبی کامدار میکسی پہنے ، چہرے پر نقاب تھا، اس کے اندر داخل ہونے پر نظریں اٹھائیں

وہ چند لمحے کو رک کر اسے دیکھے گیا پھر نظریں پھیر کر اردگرد موجود میک اپ آرٹسٹ اور لڑکیوں کو دیکھا

” can you girls leve us alone ?”

وہ سامان چھوڑ کر وہاں سے چلی گئیں ، عیسیٰ دروازہ بند کرکے پلٹا اور قرت کو دیکھا

“is everything alright?”

اس نے میک اپ آرٹسٹ کو بھیج کر عیسیٰ کو بلوایا تھا اور اسے اندازہ ہورہا تھا کہ کیوں بلوایا تھا

” میں باہر نہیں جائوں گی “

” اوکے ریلیکس ، آپ کمرٹیبل نہیں ہیں ؟”

اس نے نفی میں سر ہلایا ، عیسیٰ کی نظریں اس کی آنکھوں پر گئیں ، وہ آنکھیں سادگی میں بھی اس کا دل لے ڈوبتی تھیں ، اور آج تو نگاہیں ہٹانا مشکل لگ رہا تھا ، وہ گہرا سانس لے کر رہ گیا

” میں مام سے بات کرتا ہوں ، بے فکر رہیں ، اگر آپ باہر نہیں جانا چاہتیں تو آئ پرامس آپ نہیں جائیں گی “

” آپ کی مام ۔۔۔۔”

” میں نے کہا نا اگر آپ باہر نہیں جانا چاہتیں تو نہیں ۔۔۔جائیں ۔۔۔گی ، میں آتا ہوں “

وہ اس پر ایک نظر ڈال کر باہر کی طرف بڑھ گیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” mom , can i take your one minut please! “

شہوار کو کہنی سے تھام کر انہیں اپنے ساتھ لگائے وہ ہال کے قدرے سنسان کونے کی طرف آیا ، وہ جو مہمانوں کے ساتھ ٹھہری تھیں اس کی اس حرکت پر گڑبڑائیں پھر مہمانوں سے معذرت کرتے ہوئے اس کے ساتھ آئیں

” کیا ہوا عیسیٰ ؟”

” قرت کا میک اپ آپ نے سجیس کیا تھا ؟”

وہ ان کے سامنے کھڑا پوچھ رہا تھا

” ، کیا ہوا ؟ میک اپ آرٹسٹ نے غلطی کردی کوئ ؟ افف میں دیکھتی ہوں، دس منٹ تک اسے باہر آنا ہے “

وہ قدرے جھنجھلا کر جانے لگیں جب عیسیٰ نے نرمی سے ان کی کہنی تھامی

” وہ اس میک اپ کے ساتھ باہر نہیں آئیں گی مام”

شہوار رکیں

” کیا مطلب ؟اس نے پردہ بھی تو کررکھا ہے”

انہیں اس اعتراض کی وجہ سمجھ نہیں آئ تھی

” اسے آپ پردہ کہتی ہیں ؟ انہیں اس قدر ہیوی ڈریس پہنا کر ، آنکھوں کا اس قدر گہرا میک اپ ،ہاتھوں میں چوڑیاں اور ایون ان کے سر پر موجود وہ واٹ ایور ٹیکا یا جو بھی وہ بھی حجاب سے باہر آرہا تھا ، سریسلی مام یہ پردہ ہے ؟”

” عیسیٰ ۔۔” شہوار کو غصہ آیا ” تو کیا اب اسے برقع پہنا کر بٹھا دوں ؟”

” یہ بہتر ہوتا بجائے اس کے کہ وہ اس طرح تیار حالت میں باہر آئے ، میں اپنی بیوی کو نمائش کیلئے پیش نہیں کرسکتا ” اس کا لہجہ سخت ہوا

” یہ اسی نے پٹی پڑھائ ہے نا تمہیں ؟””

” بچہ نہیں ہوں میں مام جو ان کی باتوں میں آئوں گا ، خود نظر آتا ہے مجھے ، یہ جو ایلیٹ کلاس کے مرد یہاں پر ہیں ان میں سے ہر ایک کی نظر پہنچانتا ہوں میں ،کچھ عرصہ پہلے میں بھی انہیں جیسا تھا “

” تو کیا کروں ؟ باہر ہی نا آئے پھر وہ اگر اتنی ہی پردہ دار ہے تو “

” میں ان کے پردے کے بارے میں ایک بھی بات نہیں سنوں گا مام “

شہوار کا غصہ مزید بڑھا

” ٹھیک ہے مت سنو لیکن اب کیا وہ باہر بھی نہیں آئے گی ؟ میں مہمانوں کو کیا جواب دوں گی ؟”

” مجھے آپ کے مہمانوں کی پرواہ نہیں ہے ، اگر وہ باہر نہیں آنا چاہتیں تو وہ نہیں آئیں گی لیکن مجھے اس سے پہلے کچھ اور کرنا ہے ۔۔”

موبائل نکالتے ہوئے وہ جانے لگا

” کیا کروگے تم ؟”

وہ رکا پلٹ کر شہوار کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرایا

” you will see it “

شہوار کو برسوں بعد اس میں پرانے عیسیٰ کی جھلک نظر آئ تھی انہیں یکدم شدید پریشانی نے آن گھیرا

اب کیا کرنے لگا تھا یہ لڑکا ؟ افف عیسیٰ !

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ میک اپ روم میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی تھی ، نظریں بار دروازے کی طرف جاتیں ، آدھا گھنٹہ ہونے کو تھا اور عیسیٰ ابھی تک نہیں آیا تھا ، اس کے پاس نا موبائل تھا اور نا اس کا نمبر کہ کال ہی کرلیتی ، پریشانی بڑھتی ہی جارہی تھی

اسی پل دستک دے کر کوئ اندر داخل ہوا ، سیاہ لیولیس ساڑھی میں ملبوس ، لمبے بالوں والی لڑکی ، قرت کی نظر اٹھی تو پل بھر کو ٹھہر گئ ، وہ جو کوئ بھی تھی بلاشبہ بہت خوبصورت تھی

” ہیلو ۔۔۔” قدرے نروس سی مسکراہٹ سے اسے دیکھتی وہ اندر آئ ، قرت نے بس سر ہلایا

” میں صوفیہ ہوں ، عیسیٰ کی دوست “

اس بار بھی وہ بس سر ہلا سکی ، عیسی کی دوست ؟ دل میں کچھ عجیب سا احساس ہوا ،صوفیہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی پھر ساتھ رکھے کائوچ پر بیٹھی اور اسے دیکھا

گلابی لمبی میکسی پہنے سر پر حجاب اوڑھے جو قدرے ڈھلکا ہوا تھا ، ہلکے میک اپ میں موجود قرت العین ، وہ عام سی لڑکی جس پر صوفیہ مہران کو رشک ہوا تھا ، اس نے رخ اردگرد پھیرا

” عیسیٰ کہاں ہے ؟”

” میں نہیں جانتی ۔۔۔”

وہ خود کب سے اس کی منتظر تھی ، اگلے کئ لمحے خاموشی چھائ رہی

” تم عیسیٰ سے محبت کرتی ہو ؟”

قرت نے سر اٹھا کر آئینے میں نظر آتے اس کے عکس کو دیکھا

” نہیں “

” پھر شادی کیوں کی ؟”

سوال بے ساختہ تھا

” شادی کرنے کیلئے محبت کا ہونا ضروری ہے ؟”

” شاید ۔۔۔”

” میرا نہیں خیال “

” عیسیٰ کرتا ہے تم سے محبت ؟”

اس کے لہجے میں عجیب سی حسرت تھی

” یہ سوال آپ عیسیٰ سے ہی پوچھیں “

اسی پل وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا

” کیا مجھے کسی نے یاد کیا ؟”

قرت بے ساختہ کھڑی ہوئ اور اسے دیکھا ، عیسیٰ کی نظر اس پر گئ اور لمحے بھر کو پلٹنا بھول گئ ، وہ جب تھوڑی دیر پہلے آیا تھا تو اس نے نقاب کررکھا تھا اب جب آیا تو چہرے پر نقاب نہیں تھا ، ہلکے میک اپ میں جیولری پہنے سر پر سے حجاب ڈھلکا ہوا تھا تو کانوں کے آویزے بھی نظر آرہے تھے ، وہ لڑکی اس روپ میں اس کا دل بے قابو کررہی تھی ، وہ رک کر صدیوں اسے دیکھ سکتا تھا لیکن فی الحال اس نے بدقت اپنا رخ پھیرا اور صوفیہ کو دیکھا

” ہیلو صوفیہ ، مجھے خوشی ہے کہ تم آئیں “

وہ ہلکا سا مسکرائ

” مجھے خوشی ہے کہ تم خوش ہو “

عیسیٰ نے اب کہ دوبارہ قرت کو دیکھا اور گہری سانس لی ، ہاتھ میں پکڑا ہوا شاپنگ بیگ اس کی طرف بڑھایا

” آپ کے پاس دو آپشنز ہیں قرت ،آپ یہ بیگ لیں ، اندر جاکر چینج کریں اور میرے ساتھ باہر چلیں

آپشن نمبر ٹو ، آپ چینج مت کریں اور باہر بھی مت جائیں ، اور یقین کریں آپ جو فیصلہ کریں گی میں آپ کے ساتھ ہوں “

اس نے بیگ کھول کر اندر دیکھا ، اس میں ایک ہلکے کام والا سرخ فراک رکھا تھا ساتھ سفید عبایا ، سر اٹھا کر دوبارہ عیسیٰ کو دیکھا

” میں چینج کرکے آتی ہوں “

اس نے سر ہلادیا وہ اپنی میکسی سنبھالے وارڈروب کی طرف بڑھ گئ ، عیسیٰ نے اب کے رخ موڑ کر فرصت سے صوفیہ کو دیکھا

” تم کہاں گم ہوگئ تھیں ؟”

” میں تو یہیں تھی ، گم تو تم ہوگئے تھے “

” میں نے گم ہوکر بہت کچھ پالیا “

اس کی نگاہیں دروازے کی طرف گئیں ، صوفیہ کے دل میں تکلیف سی اٹھی ، جس سوال کا جواب قرت نہیں دے سکی تھی اس سوال کا جواب بنا پوچھے عیسیٰ کی نگاہوں نے دے دیا تھا

” وہ تمہیں بہت عزیز ہے ؟”

” وہ مجھے عزیز تر ہے “

اس کی آنکھیں گزشتہ دنوں کا قصہ لکھنے لگیں ، صوفیہ کے گلے میں کچھ اٹکا

” محبت کرتے ہو اس سے ؟”

” اس سوال کی ضرورت ہے ؟”

پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ مسکرایا

” وہ کرتی ہے ؟”

” اس سوال کی ضرورت بھی نہیں ہے ، وہ محبت نا بھی کرے تو ہمارے لئے میری محبت کافی ہوگی “

صوفیہ کو اپنے آنسو پر قابو پانا مشکل ہوگیا ، اسے یہاں سے جانا چاہئے ، کسی کونے میں بیٹھ کر اپنی ناکام محبت کا ماتم منانا چاہئے ، اگر وہ آج روتی اور اپنے آنسو سے سب بہا ڈالتی تو جائز تھا ، اس نے اپنے قدم پیچھے کئے اور جانے کیلئے پلٹنے ہی لگی تھی جب عیسیٰ کی آواز پر رکی

” تم نے پوچھا تھا نا کہ میں تمہیں برداشت کیسے کرلیتا ہو اگر تم مجھے اتنی ہی ناپسند ہو ؟ آئ سویر صوفیہ میں تمہیں ناپسند نہیں کرتا ۔۔” سر جھکائے دھیرے سے ہنسا ، ” ہاں لیکن تمہیں برداشت کرنے کی ایک وجہ تھی میرے پاس “

” کون سی وجہ ؟” وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھے گئ ، عیسیٰ کی نظر اس کی آنکھوں پر گئ

” تمہاری آنکھیں ۔۔”

” کیا ؟”

” یاد ہے میں نے تم سے کہا تھا کہ تمہاری آنکھیں کسی سے ملتی ہیں، کوئ ایسا جو مجھے بہت عزیز ہے ۔۔” وہ اس کی آنکھوں پر نگاہیں جمائے کہہ رہا تھا ” وہ عزیز قرت العین ہے ، تمہاری آنکھیں قرت کی آنکھوں سے ملتی ہیں ، تمہاری آنکھوں کا رنگ قرت کی آنکھوں جیسا ہے “

” تمہیں اس کی آنکھوں سے محبت ہوئ تھی نا ؟” جانے کس امید پر اس نے یہ سوال کیا تھا ، وہ آنکھیں تھیں تو قرت کی آنکھیں کیوں ؟ وہ صوفیہ کی آنکھیں بھی تو ہوسکتی تھیں ؟

“No comment”

وہ ہنسا ، صوفیہ نے نگاہیں پھیر لیں ، اسے ڈر تھا عیسیٰ کو اس کی نظر نا لگ جائے ، اسی پل دروازہ کھلا اور وہ باہر نکلی ، سفید فراک نما کھلا عبایا پہنے جس پر پیچھے سے ایک اور ریشمی چادر سی تھی جو دونوں طرف سے سامنے والے حصے پر آرہی تھی یوں کہ سامنے سے کھلا لگتا ، سفید گلوز ، اوپر سفید نقاب پہنے وہ عبایا درست کررہی تھی ، صوفیہ سے بات کرتے عیسیٰ نے دروازہ کھلنے پر یونہی رخ موڑا اور رک گیا

محبت کا الہام تھا تو وہ سامنے تھا

وہ شاعر ہوتا تو دیوان لکھتا

جادوگر ہوتا تو پھول توڑ کر اس کے قدموں میں لا رکھتا

مورخ ہوتا تو تاریخ میں سفید لباس والی شہزادی کا ذکر کرتا

سلطان ہوتا تو تخت وار دیتا

سوداگر ہوتا تو جزیرے سے سارے پھول توڑ لاتا

صوفیہ کو یکدم اپنا آپ وہاں غیر ضروری لگا ، سفید لباس میں آتی قرت العین ، سیاہ لباس میں اسے تکتا عیسیٰ ، وہ مکمل تھے اور وہاں اس کی جگہ نہیں تھی

” میں چلتی ہوں ۔۔”

وہ ان دونوں سے نظریں چراتی باہر کی طرف بڑھی ، نا عیسیٰ نے اسے سنا تھا نا قرت العین نے ، وہ عبایا درست کرتی عیسیٰ کے سامنے آئ

” چلیں ۔۔۔؟ “

وہ جو اسے مبہوت سا تک رہا تھا چونکا پھر نظریں پھیر کر پیچھے پڑے ایک دوسرے بیگ کو دیکھا

” ابھی کچھ رہتا ہے ۔۔”

اس کی آنکھوں میں سوال ابھرا ، عیسیٰ جھک کر دوسرا بیگ اٹھا رہا تھا اور جو اس نے نکالا قرت اسے دیکھ کر دم بخود ہوئ

وہ سفید موتیوں کا تاج تھا ، بے انتہا خوبصورت ، وہ تاج جو بادشاہ کی ملکہ کا نصیب ہوتا ہے ، وہ تاج جو شہزادیوں کے سر کی زینت بنتا ہے ،عیسیٰ وہ تاج لے کر اس تک آیا اور نرمی سے اس کے سر پر رکھا قرت کی آنکھیں بند ہوئیں ، بہت سے آنسو حلق تک آئے ، وہ دو قدم پیچھے ہوا اور اسے دیکھا

” میں نے آج جانا کہ آپ زیورات سے زیادہ اس تاج کے ساتھ پیاری لگتی ہیں ، ان بھاری ملبوسات سے زیادہ آپ پر یہ سفید عبایا اچھا لگتا ہے ، عیسیٰ حیات کا دل ایک بار پھر آپ کی محبت میں مبتلا ہوا قرت العین “

جھک کر اس کی کان میں سرگوشی کی اور پیچھے ہوا ، قرت نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا ، عیسیٰ کو نگاہیں ہٹانے میں دقت ہوئ

” مجھے لگا تھا آپ کے چہرے سے نظریں ہٹانا سب سے زیادہ مشکل کام ہے لیکن آپ کی آنکھوں کے معاملے میں یہ زیادہ دقت طلب کام ہے “

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے بے بسی سے کہہ رہا تھا ، اس نے کچھ نہیں کہا ، آج کل اس کے پاس الفاظ کی کمی ہوگئ تھی یہ عقدہ آج اس پر کھلا تھا

” چلیں اب ؟”

اس نے نظریں چرائیں ، عیسیٰ نے سر ہلاتے اپنا ہاتھ آگے کیا ، اس نے چند لمحے اس کے چوڑے ہاتھ کو دیکھا پھر اپنا ہاتھ اس پر رکھ دیا

وہ عیسیٰ حیات کا ہاتھ ہر بار تھام لے گی ، یہ عقدہ بھی اس لمحے اس پر کھلا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

شہوار اسٹیج کے سامنے بیٹھی تھیں ، آدھے گھنٹے سے زیادہ ہوگیا تھا عیسیٰ کو گئے اور وہ اب تک واپس نہیں آیا تھا ، وہ اسے کئ کالز کرچکی تھیں لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا ، حیات کئ بار آکر پوچھ چکے تھے اور انہیں نہیں معلوم تھا وہ کیا کہیں ، مہمان الگ اب بیزار ہورہے تھے ، انہیں یقین تھا اس نے یہ انہیں تنگ کرنے کیلئے کیا تھا ، وہ یقیناً کہیں چلا گیا تھا تاکہ قرت کو باہر نا آنا پڑے ، وہ اس قدر پریشان تھیں کہ یہ خیال بھی نا آیا کہ قرت سے جا کر پوچھ لیتیں

اسی پل ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا ، پہلا خیال لائٹ کے جانے کا تھا دوسرا خیال آنے سے پہلے ہی ایک سپاٹ لائٹ ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتی ہوئ مرکزی دروازے تک گئ ، وہ پلٹیں اور پھر رک گئیں

سامنے مرکزی دروازے سے سیاہ تھری پیس سوٹ پہنے عیسیٰ اور اس کا ہاتھ تھام کر سفید عبایا میں ملبوس قرت العین آرہی تھی ، وہ دونوں اس قدر اچھے لگ رہے تھے کہ انہوں نے بے اختیار ان کی نظر اتاری

” اچھے لگ رہے ہیں نا دونوں ؟” حیات ان کے ساتھ آ کھڑے ہوئے

” بہت ۔۔۔” وہ دونوں کو اپنی طرف آتا دیکھے گئیں

” مجھے یقین تھا کہ تم کہیں چلے گئے ہو ” قرت کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے انہوں نے عیسیٰ کو گھورا

” مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی امیدوں ہر پورا نہیں اترا ” وہ محظوظ ہوا

” اور مجھے بہت خوشی ہے ، سنو قرت اس لڑکے سے ذرا بچ کر رہنا ایک نمبر کا بدتمیز انسان ہے “

” کیوں میری بیوی کو مجھ سے بدظن کررہی ہیں “

وہ کراہا

” تمہاری مام صرف سچ کہہ رہی ہیں “

حیات نے بھی اپنا حصہ ڈالا

” سریسلی ڈیڈ ؟۔۔”

اس نے آنکھیں گھمائیں

” اچھا بھئ اوپر چلو ۔۔”

وہ قرت کا ہاتھ تھامے اوپر اسٹیج کی طرف بڑھ گئیں ، حیات ان کے ساتھ ہی تھے

” میں اب تک تمہارے شکریہ کے انتظار میں ہوں ۔۔” زین کی آواز پر وہ پلٹا اور پھر ابرو اچکائے

” کس لئے ؟”

” اس شادی کیلئے ، بھولو مت تمہاری لو اسٹوری میں اگر میں مدد نا کرتا تو آج تمہارا ولیمہ نا ہورہا ہوتا “

اس نے فخریہ کالر اچکائے ، عیسیٰ سمجھ کر سر ہلاتا اس تک آیا

” اور اگر میں نا ہوتا تو تم یہاں زندہ نا کھڑے ہوتے ، کئ دن پہلے مارگلہ پر تمہارا جنازہ پڑھا جا چکا ہوتا ” ایک ہاتھ پاکٹ میں ڈالے دوسرے ہاتھ سے اس کے کالر کو درست کیا ، پھر تپانے والے انداز میں مسکرایا ” بائے دا وے تھینکیو “

زین کو تپ چڑھی گھور کر عیسیٰ کو دیکھا جو اسٹیج کی طرف جارہا تھا ، ہاتھ پاکٹ میں تھے اور لبوں پہ مسکراہٹ

” فوٹو شوٹ کروانا ہے تم دونوں نے ؟”

وہ قرت کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تو شہوار پوچھنے لگیں ، عیسیٰ کی نظر قرت پر گئ پھر شہوار کو دیکھا

” بعد میں کروالیں گے مام “

اس نے ٹال دیا

قرت نے کچھ نہیں کہا ، وہ شخص گویا اس کے دل کی بات کہے بغیر جان لیتا تھا ، اسے کیمرہ مین کے سامنے پوز دینا سخت نا پسند تھا ، یہ خیال ہی عجیب تھا کہ آپ سج سنور کر کسی نا محرم کے سامنے ٹھہرے ہوں اور وہ آپ کی ہر زاویے سے تصویریں اتارے ، آپ کے وجود کا ہر حصہ کوئ نامحرم ہر نگاہ سے دیکھے ، اسے اس سوچ سے ہی نفرت تھی ، وہ بعد میں بھی فوٹو شوٹ نا کرواتی اور یہ بات وہ دونوں جانتے تھے ،اسٹیج خالی ہوگیا تو عیسیٰ قرت کی طرف متوجہ ہوا

” دلہن بن کر اچھی لگ رہی تھیں آپ”

عبایا کافی کھلا تھا تو وہ اسے درست کررہی تھی جب ساتھ بیٹھے عیسیٰ کی آواز اس تک آئ ، اس نے رخ موڑ کر اسے دیکھا ، وہ مسکرا رہا تھا

” خود کو نہیں لگ رہی تھی “

” خود کو میری نظر سے دیکھتیں “

” آپ کی نظروں نے مجھے ہمیشہ رسوا کیا ہے “

عیسیٰ کی مسکراہٹ تھمی

” میری نظروں نے ہمیشہ آپ کا احترام کیا ہے “

” مجھ سے کئے گئے وعدے کا احترام بھی کرلیتے “

” وہ وعدہ نہیں تھا ،سزا تھی …”

” آپ نے مجھے ہر سزا کا حق دیا تھا “

” قرت العین کا ہر حق عیسیٰ حیات کے نام “

” قرت العین کا ہر غم بھی عیسیٰ حیات کے نام سے جڑا ہے “

اس کی آواز پل بھر کو نم ہوئ ، صرف ایک لمحے کو ،

” آپ کے نام سے جڑا ہر غم میرا ہوا ، میرے نام سے جڑی ہر خوشی آپ کی ہوئ “

وہ جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ نکال رہا تھا ، قرت کی نظر اس کے ہاتھوں پر گئ ، مٹھی میں تھامے چند سفید پھول ، چھوٹے لیکن خوشبودار ، ہاتھ بڑھا کر اس کے سفید دستانوں والے ہاتھ میں پھول رکھے ،اپنا ہاتھ رکھ کر ہتھیلی بند کی

” میں آپ کو آپ کے ہر غم سمیت قبول کرتا ہوں ، میں آپ کو دیا گیا ہر غم دور کرنے کی کوشش کروں گا ، آپ مجھے میری ہر خامی سمیت قبول کرلیں ، آپ کا موجود ہونا آپ کے لئے میری ہر خامی دور کردے گا ، آپ کا میری زندگی میں موجود ہونا ، یہ مقدر ہے اور میں اس مقدر پر شکر گزار ہوں”

اس نے ہاتھ ہٹا لیا ، قرت کی نظر ان پھولوں پر پڑی ، سفید چھوٹے پھول ، نظر اٹھا کر عیسیٰ کو دیکھا وہ اب کسی مہمان سے مل رہا تھا ، اس کے گلے میں ڈھیرے سارے آنسو اٹکے ، نظر سامنے گئ ، مہمانوں کے مجمعے میں کسی اپنے کو ڈھونڈنا چاہا ، اس کے خاندان سے کسی نے ولیمے میں شرکت نہیں کی تھی ، گھر والوں میں سے بھی کوئ نہیں آیا تھا ، اس کی صبح ہی ابا سے بات ہوئ تھی

” مشکل ہے بیٹا ، آنے جانے میں ہی وقت لگ جائے گا ، ایک دو گھنٹے کا ولیمہ ہوگا پھر آنے تک رات ہوجائے گی “

” آپ لوگ یہیں رک جائیے گا “

” مناسب نہیں لگے گا بیٹی کے سسرال رکنا “

ان کے پاس ہزار بہانے تھے ، اس کے پاس ایک تاویل تھی، ان کے بہانے جیت گئے ، اس کی تاویل ہار گئ ،اور اب اس بھرے مجعمے میں یوں لگتا تھا جیسے وہ تنہا ہو ، نئ زندگی مشکل تھی ، عیسیٰ کے ساتھ بہت زیادہ مشکل لگ رہی تھی ، وہ ماحول اس کیلئے مختلف تھا ، لوگ اجنبی تھے ، اسے یہاں وہاں گھومتے لوگوں کی نظروں سے وحشت ہوئ ، عیسیٰ ساتھ بیٹھا تھا اور وہ پھر بھی خود کو اکیلا سمجھ رہی تھی ، ،دل گہری اداسی میں اترا ، ہاتھ میں تھامے پھول مسل گئے

” قرت ۔۔۔۔ “

اس پکار پر رخ موڑ کر دیکھا ، ساتھ بیٹھا عیسیٰ اس کے ہاتھ پر نرمی سے ہاتھ رکھے ہوئے تھا ” آپ ٹھیک ہیں ؟”

اس کا سر جانے کیوں نفی میں ہلا

” آپ کی دنیا میرے لئے اجنبی ہے عیسیٰ ، میں یہاں آپ کے طریقے سے نہیں رہ پائوں گی “

” آپ میری دنیا میں اپنے طریقے سے رہ لیجئے گا “

جانے وہ شخص ایسے الفاظ کہاں سے لاتا تھا ، اسے الفاظ منتخب کرنے آتے تھے ، وہ اس کے منتخب کئے گئے الفاظ سے ڈرتی تھی ، عیسیٰ کی نظر اس کے ہاتھ میں تھامے پھولوں پر گئ ، اس کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ ابھری

” میرے دل جیسا حال کررہی ہیں ان کا بھی “

اس نے وہ پھول اپنے ہاتھ میں لے لئے

” اپنا دل بھی لے لیں “

وہ اب اس کے دل کی محبت اور اپنے دل کے بوجھ سے تھک گئ تھی

” وہ آپ کا ہوا، جس حال میں رکھیں ، میں راضی ہوں “

نرمی سے کہتے وہ سامنے دیکھنے لگا ، قرت نے جلتی آنکھیں پھیر لیں

اس شخص کے الفاظ سحر تھے اور وہ مسحور نہیں ہونا چاہتی تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

حیات ولا میں صبح کے ناشتے کی خوشبو پھیلی ہوئ تھی ، شہوار ملازمہ سے سارا سامان ٹیبل پر رکھوا رہی تھیں ، حیات اخبار پڑھ رہے تھے ، غرض صبح صبح کی چہل پہل جاری تھی ، ایسے میں عیسیٰ سیڑھیوں سے اترتا دکھائ دیا، بلیو جینز پر ہلکے آسمانی رنگ کی شرٹ پہنے وہ فارمل سے حلیے میں تھا ، صوفے پر آکر وہ حیات کے سامنے بیٹھا اور اخبار اٹھایا

” تمہاری چھٹیاں ختم نہیں ہوئیں ابھی تک ؟”

” آپ شاید بھول رہے ہیں کہ میری ابھی ابھی شادی ہوئ ہے “

” اس شادی کو آج چوتھا دن ہے “

” اتنی چھٹیاں تو کوئ ایمپلائے بھی کرلیتا ہے ڈیڈ ، میں تو پھر بھی باس ہوں “

” ہاں جی ، باس ہو تم ، آفس کیسے چلے گا تمہارے بغیر ؟”

پیچھے کو ٹیک لگائے ایک ٹانگ گھٹنے پر رکھے اس نے سنجیدگی سے حیات کو دیکھا

” آپ کا نہیں خیال آپ کو بھی ایک آدھ چکر آفس کا لگالینا چاہئے ؟ “

” میں ریٹائر ہوگیا ہوں ۔۔”

انہوں نے عینک کے پار سے اسے گھورا ، اس سے پہلے وہ کوئ جواب دیتا شہوار درمیان میں آئیں

” اچھا بس کریں اب ، عیسیٰ میری بہو کہاں ہے ؟”

” آپ کی بہو اپنی وارڈروب سیٹ کررہی ہے “

اس نے اخبار کھول لیا

” لیکن وہ تو میں نے سیٹ کروادی تھی “

” ظاہر ہے یہ وجہ نہیں ہے ، وہ نیچے اس لئے نہیں آرہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے نیچے سرونٹس ہوں گے “پھر رک کر تصیح کی ” میل سرونٹس “

” لیکن انہیں تو تم نے جاب سے نکال دیا ہے ” شہوار کے لہجے میں خفگی ابھری

” نکالا نہیں ہے ، اِدھر اُدھر شفٹ کیا ہے ، لیکن آپ کی بہو اس بات سے ناواقف ہے ” وہ بلا کا سنجیدہ لگ رہا تھا ، شہوار نے مشکوک ہوکر اسے گھورا

” تم کیا سوچ رہے ہو ؟”

” میری سوچ پر شک مت کریں ، میں ایک شریف آدمی ہوں ” شہوار نے سر جھٹکا

” میں بلا کر لاتی ہوں ۔۔”

” رکیں مام ، میں بلاتا ہوں آپ لوگ بیٹھیں “

اخبار رکھ کر وہ اسی سنجیدگی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا ، کمرے کے سامنے رک کر نیچے دیکھا ، لبوں پہ مسکراہٹ ابھری جسے اس نے دبالیا ، پھر دروازہ کھولا

قرت ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی بالوں میں کیچر لگا رہی تھی

” کھلے بال اچھے لگتے ہیں آپ پر “

تعریف میں چھپا کر خواہش کی گئ ، عیسیٰ کی آواز پر اس کے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے پھر دوبارہ سے اس نے کیچر لگادیا

” تنگ کرتے ہیں ، بار بار باندھنا پڑتا ہے۔۔”

خواہش کو رد کردیا گیا ، عیسیٰ اب کے ڈریسنگ ٹیبل کے پیچھے آ کھڑا ہوا

” میں باندھ دیا کروں گا ” اس کا چہرہ ہلکا سا سرخ ہوا ، عیسیٰ کیلئے مسکراہٹ دبانا مشکل ہوگیا

” اہمم، مام نیچے بلا رہی ہیں ناشتے پر ” وہ واپس پلٹنے لگا پھر رکا ، وہ متذبذب سی بیٹھی تھی ” کیا ہوا ؟”

” نیچے ملازم ہوں گے ۔۔”

” ہاں وہ تو ہیں ۔۔۔” اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی امڈ آئ

” پھر ۔۔۔” وہ اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کی دوسری طرف آئ ، گلابی رنگ کی لمبی قمیص پر ہم رنگ شیفون کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا

” پھر ؟ میں ایسا کرتا ہوں ملازموں کو باہر بھیج دیتا ہوں،۔۔۔” وہ رکا ” بلکہ فائر کردیتا ہوں “

اس سے پہلے وہ اسے کچھ کہتی عیسیٰ باہر کی طرف بڑھا ، ریلنگ پر ہاتھ رکھے نیچے کو جھکا

” میل سرونٹس ، آپ سب باہر جائیں اور آئندہ سے کام پر مت آئیے گا، میں آپ سب کو فائر کرتا ہوں “

وہ سختی سے دو ٹوک انداز میں کہہ رہا تھا ،اس کا منہ ہلکا سا کھلا ، نیچے کام کرتی خواتین ملازم اور ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے شہوار اور حیات نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ، وہ سنجیدگی سے نیچے کی طرف دیکھ رہا تھا البتہ آنکھوں میں مسکراہٹ تھی ، شہوار نے اسے گھورا

” عیسیٰ ۔۔۔”

وہ کندھے اچکاتا پیچھے کی طرف مڑا اور قرت کو دیکھا جو خفا سی اسے دیکھ رہی تھی

” سب ملازم چلے گئے ہیں ، اس گھر میں میرے اور ڈیڈ کے علاوہ آپ کو کوئ مرد نظر نہیں آئے گا “

آواز نیچے تک گئی ، حیات نے سر اٹھا کر اسے گھورا ، قرت کا چہرہ سرخ پڑا ، آگے بڑھ کر ٹھک سے دروازہ بند کیا ، آواز باہر تک گئ ، وہ ہلکا سا ہنس دیا ، آگے بڑھ کر دروازہ کھٹکٹایا

” i was just jocking qurat “

اندر سے جواب نہیں آیا

” سریسلی ، مذاق تھا “

اندر خاموشی تھی

” قرت ۔۔۔”

اب کہ وہ واقعی سنجیدہ ہوا ، کیا وہ ناراض ہوگئ تھی ؟ اللہ ! وہ تو پہلے ہی ناراض تھی ، وہ بے چارگی سے پیچھے کی طرف کی مڑا

” ڈیڈ ۔۔۔” حیات نے سر اٹھایا ” یارر اوپر آکر انہیں بتائیں کہ یہ مزاق تھا ، مجھے لگتا ہے محترمہ ناراض ہوگئ ہیں “

” بھگتو اب بیٹا “

” مام ۔۔”

اب کے بے چارگی سے شہوار کو پکارا انہوں نے سرے سے نظرانداز کیا ، وہ واپس روم کی طرف آیا، دروازہ کھٹکٹایا تو وہ کھلتا چلا گیا ، عیسیٰ اندر آیا

وہ صوفے پر بیٹھی تھی ، سرخ چہرہ لئے اسے دیکھا

” آئ سویر یہ مزاق تھا، میں سرونٹس کو پہلے ہی بھیج چکا تھا ، مام ڈیڈ یہ جانتے ہیں ۔۔”

وہ اٹھی اور اس تک آئ

” میرا اور آپ کا مزاق والا تعلق نہیں ہے عیسیٰ ،آپ کی طرف سے جو بھی ہو لیکن میری طرف سے آپ کیلئے صرف نفرت کا تعلق ہے اس لئے آئندہ مجھ سے ایسا مزاق مت کیجئے گا “

دو ٹوک انداز میں کہتی وہ باہر کی طرف بڑھ گئ ، عیسیٰ کے چہرے پر بے بسی اتری، جانے ان کے بیچ کب سب صحیح ہوگا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

شادی کے پہلے ہفتے میں یہ ان کی پہلی دعوت تھی جس پر جانے کیلئے عیسیٰ رضامند ہوا تھا ، اس سے پہلے اس نے ہر دعوت پر جانے سے معذرت کرلی تھی ، اسے شام میں تیار رہنے کا کہہ کر وہ آفس چلا گیا ، شام کو واپس آیا تو وہ لائونج میں شہوار کے ساتھ بیٹھی تھی ، سیاہ عبایا پہنے، وہ بس پانچ منٹ کا کہہ کر اوپر چلا گیا

” زین سے بہت دوستی ہے عیسیٰ کی اس لئے اس کے گھر دعوت قبول کرلی “

قرت نے بس سر ہلادیا وہ زین کو جانتی تھی

وہ دس منٹ میں دوبارہ سے نیچے تھا ، فریش سا ، بلیک جینز پر گرے شرٹ پہنے ہوئے ، اوپر کوٹ ، شہوار اور حیات نے جانے سے منع کردیا تھا سو وہ دونوں ہی جارہے تھے

” زیادہ دیر نہیں بیٹھیں گے ، آنٹی نے خود کال کی تھی ورنہ میں منع کردیتا ” وہ گاڑی نکالتے ہوئے کہہ رہا تھا

گیٹ پر ان کا استقبال زین اور اس کی مام نے کیا تھا

” السلام علیکم بھابھی ، میں زین ہوں یقینا آپ مجھ سے واقف ہوں گی “

وہ جھک کر کورنش بجالایا ، وہ بس ہلکا سا مسکرادی ، نجمہ آنٹی البتہ بہت فرینڈلی سی خاتون تھیں ، بے نیاز اور صاف دل سی ، کم ازکم پانچ منٹ کی ملاقات میں اس سے تو اچھے سے ہی رہی تھیں

کھانا کھانے اور سب سے ملنے ملانے تک ماحول خوشگوار ہی رہا ، عیسیٰ فیاض انکل اور باقی سب بزنس پر بات کرتا رہا اور گھر کی خواتین سے بات کرتی رہی، وہ لوگ تین بھائ اور ایک بہن تھے ، چھوٹی بہو آنسہ کافی باتونی تھیں ، سہیل بھائ کی بیوی مشال البتہ کچھ پرائوڈ سی تھیں ، زیادہ بات چیت نہیں کی ، بھرا پرا سا گھر تھا ، سو ڈنر کے بعد اچھی خاصی محفل جم گئ

” بھئ سچ پوچھو قرت تو عیسیٰ سے ایسی امید نہیں تھی کہ وہ کسی مذہبی سی لڑکی سے شادی کرے گا ، جس طرح کی اس کی فیملی لبرل اور ویل آف سی ہے مجھے تو سو فیصد یقین تھا اپنے جیسے خاندان کی ہی کوئ لڑکی لائے گا عیسیٰ ۔۔۔”

آنسہ بھابھی کافی صاف گو تھیں سو اب بھی باتوں باتوں کے درمیان کہہ دیا

” مجھے خوشی ہے کہ آپ کا یقین غلط تھا بھابھی ، جسے خدا نے میرے لئے چنا تھا وہ میرے ساتھ ہے “

وہ مسکرا کر بولا تو آنسہ بھابھی بھی ہنستے ہوئے سر ہلاگئیں

انہیں شاید بات بات پہ ہنسنے کی عادت تھی ، پھر قرت کو دیکھا

” بالکل ، لیکن مطلب قرت تم کچھ زیادہ ہی پردہ نہیں کرتیں ؟ آئ مین انسان کو اتنا بھی پرہیز گار نہیں ہونا چاہئے کہ انسان ہی نا لگے “

پل بھر کو وہاں خاموشی چھا گئ ، عیسیٰ نے بے اختیار قرت کو دیکھا، وہ آنسہ بھابھی کو دیکھ رہی تھی ، ہلکا سا مسکرائ

” یہ میرے رب کا فیصلہ تھا بھابھی میں نے قبول کیا ، حکم تھا میں مان لیا ، آپشن ہوتا تو چھوڑنے کا سوچ بھی لیتی فرض تھا سوچ خود ہی بند ہوگئ ، اور میں اس فیصلے حکم اور فرض پر راضی ہوں الحمدللہ “

مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص نرم لہجے میں کہا ، یوں جیسے وہ اس جواب کی عادی تھی آنسہ بھابھی کی مسکراہٹ غائب ہوئ ،، عیسیٰ نے پرسکون سا ہوکر صوفے پر پیچھے کو ٹیک لگالی

” میں ویسے ہی کہہ رہی تھی کہ عیسیٰ کو تمہارے پردے کی وجہ سے مشکل ہوتی ہوگی ، اس کا ایک اسٹینڈرڈ ہے سوسائٹی میں ۔۔”

” ڈونٹ یو وری بھابھی ، میرے لئے قرت کا پردہ مشکل نہیں بلکہ فخر کا باعث ہے ، وہ میرے ساتھ چلتی ہیں تو مجھے ان کے ساتھ پر خوشی سے زیادہ فخر محسوس ہوتا ہے “

قرت نے رخ موڑ کر اسے دیکھا، وہ سامنے دیکھ رہا تھا الفاظ نرم لیکن چہرہ سخت تھا ، اور پھر عورت کو ایسے مرد زیادہ اچھے لگتے ہیں جو محبت سے زیادہ عزت دینے کے قائل ہوں سو اس لمحے یوں ہی لمحے بھر کو اسے عیسیٰ حیات بھی تھوڑا سا اچھا لگا تھا ، آنسہ بھابھی نے اس کے بعد کچھ نہیں کہا ، انہیں شاید اندازہ ہوگیا تھا کہ عیسیٰ کو ان کی گفتگو ناگوار لگی تھی

چائے کافی کے بعد نجمہ آنٹی قرت کو اپنے ساتھ اندر لے گئیں تو وہ زین کے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گیا

” ٹریننگ کیلئے کب جارہے ہو ” پاکٹ میں وہ گاڑی کی طرف جارہا تھا

” دیکھو چند دنوں تک شاید ۔”

” خوش ہو ۔۔؟”

” مجھ سے زیادہ تو تم خوش لگ رہے ہو ۔۔”

زین مسکرایا

” کیونکہ میں خوش ہوں ۔۔”

وہ دھیرے سے ہنسا

” اور میں تمہارے لئے خوش ہوں ۔۔” پھر وہ رکا ” صوفیہ بہت ڈسٹرب ہے عیسیٰ “

وہ دونوں جانتے تھے کہ وہ کیوں ڈسٹرب تھی

” میں اس کیلئے کچھ نہیں کرسکتا ، قرت مجھے نا ملتی تب بھی میری زندگی میں اس کی جگہ نہیں تھی ۔۔”

وہ دو ٹوک لہجے میں کہہ رہا تھا ، گاڑی سے ٹیک لگائے یونہی نظر گلاس وال کے پار گئ ، قرت سہیل بھائ کی بیٹی کے ساتھ کھڑی تھی مسکراتے ہوئے اس سے کچھ کہہ رہی تھی ، وہ مسکراتی تو وہ اس کی نگاہوں سے اس کی مسکراہٹ پہچان لیتا تھا

” آئ نو ، پھر بھی بہتر ہوتا کہ تم ایک بار اس سے مل کر کلیئر کرلو سب ، تمہارے ریسپشن پر بہت مشکل سے میں نے اسے راضی کیا تھا آنے کیلئے “

” اچھا بھئ ۔۔۔” وہ جیسے جھنجلایا ۔۔۔” کرلوں گا بات ” نظر اب بھی گلاس وال کے پار تھی ، اس نے بات کرتے کرتے جھک کر اس چھوٹی سی بچی کی پونی درست کی اور پھر گال پر چٹکی کاٹی ، عیسیٰ مسکرایا

” ویسے میں بھی اب سوچ رہا کہ شادی کرلوں، ایک میں ہی سنگل رہ گیا ہوں بس ” عیسیٰ نے رخ موڑ کر سنجیدگی سے اسے دیکھا

” کس کی قسمت برباد کرنا چاہتے ہو ؟”

” بس ، یہی باتیں تمہاری جن کی وجہ سے میں اب تک کنوارہ ہوں ، اور میری کوئ محبت کامیاب نہیں پاتی ” وہ تپا

” میری باتوں کا تمہاری ناکام محبتوں سے کیا تعلق ؟”

” باتیں نہیں بد دعائیں مارتے ہو سیدھا “

” واہ ۔۔۔اب یہ الزام بھی مجھ پر ڈال دو ، کسی ایک کے ساتھ سریس ہوکر رہوگے تو ناکام نہیں ہوگے “

” مہر ماہ کے ساتھ کتنا سریس تھا میں اندازہ ہے تمہیں ؟ ہم نے انگیجمنٹ تک پلین کرلی تھی “

اسے اپنے دکھ یاد آنے لگے

” اور انگیجمنٹ سے پہلے ہی اسے سارہ کے بارے میں علم ہوگیا چچچ “

مصنوعی افسوس سے سر ہلایا ، زین اس سے پہلے کچھ کہتا ، اندر سے قرت کے ساتھ باقی خواتین باہر نکلتی دکھائ دیں ، چھوٹی سی بچی نے قرت کا ہاتھ تھام رکھا تھا

” بہت خوشی ہوئ مجھے عیسیٰ کہ تم آئے زین بتارہا تھا کہ تم سب کو منع کرچکے ہو دعوتوں کیلئے “

” بس آنٹی مصروفیات کی وجہ سے “

” بتایا تھا زین نے لیکن پھر بھی مجھے بہت خوشی ہے کہ تم نے میرا مان رکھا ” اس نے بس مسکرا کر سر ہلادیا اور قرت کو چلنے کا اشارہ کیا ، وہ آنٹی کو مل کر جانے ہی لگی جب اس بچی نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑا

” آپ رک جائو پلیز ” عیسیٰ رک کر انہیں دیکھنے لگا ، قرت کو بے اختیار اس بچی پر ڈھیرو پیار آیا

” میں پھر آجائوں گی حمنہ “

” نہیں ، آپ ابھی مت جائو ” وہ اپنی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو بھر لائ ، مشال بھابھی فورا آگے بڑھیں

” حمنہ جانے دیں انہیں ، بری بات ہے یہ “

” no “

وہ زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی ، قرت نیچے بیٹھی اور اس کے دونوں ہاتھ تھامے

” آپ کل میرے گھر کیوں نہیں آجاتے ؟ ہم وہاں بہت ڈھیر سارا کھیل لیں گے ؟ ٹوائز بھی لیں گے ؟ ” بچی آنسو روک کر اسے دیکھنی لگی

” ٹوائز ؟”

” یس ۔۔” عیسیٰ بس خاموشی سے انہیں دیکھے گیا ، اس کا میرا گھر کہنا اچھا لگا تھا

” پرامس ؟”انگلی اٹھا کر اس کی طرف بڑھائ ، قرت نے انگلی اس کی انگلی میں ڈالی

” پکا والا ” اس نے اب کے سمجھ کر سر ہلایا اور پیچھے ہٹ گئ

” سوری ، یہ بس جس سے اٹیچ ہوجائے تو یوں ہی پوزیسو ہوجاتی ہے “

” اٹس اوکے بھابھی ، آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے ” وہ مسکراکر کہتی گاڑی کی طرف بڑھی اور بچی کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا ، عیسیٰ پہلے ہی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا ، وہ بیٹھی تو اس نے گاڑی سٹارٹ کردی ، قرت نے رخ موڑ کر عیسیٰ کو دیکھا وہ کچھ خاموش خاموش تھا تھا

خیر اسے کیا ؟” وہ سر جھٹک کر باہر دیکھنے لگی