Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 41) 2nd Last Episode

Nahal By Fatima Noor 

رات اپنے پر پھیلائے بہت تیزی سے گزر رہی تھی جب وہ کچن کا سارا کام نپٹاتی کمرے کی طرف بڑھی ، جو پریشانی پچھلے چند دنوں میں اسے ہوئ تھی اس کے بعد دماغ مسلسل درد میں رہنے لگا تھا ، اب بھی ہلکا ہلکا سا سر دباتے اس نے دروازہ کھولا ، آواز آہستہ رکھی کیونکہ عیسیٰ آج کل دوائیوں کے زیر اثر اس وقت تک سوچکا ہوتا تھا ، نماز اس نے سٹڈی میں ہی پڑھ لی تھی ، ابا اور اماں واپس جاچکے تھے ، آج ملنے بھی کوئ نہیں آیا تھا ، شہوار اسے نظر انداز کررہی تھیں اور حیات کا رویہ پہلے جیسا تھا ، اس سب کے باوجود بھی اذیت سی اذیت اندر تک تھی

وہ دروازہ بند کرتی اندر داخل ہوئ تو اسی وقت واش روم کا دروازہ کھلا ، عیسیٰ باہر نکل رہا تھا ، وہ عموماً اس وقت تک سوجاتا تھا

” آپ ٹھیک ہیں عیسیٰ ؟”

اس کے چہرے پر تکلیف دیکھ کر وہ فوراً اس تک آئ

” ٹھیک ہوں ” ہاتھ سینے پر تھا ، یقیناً زخم درد کررہا ہوگا ، اسے یکدم گھبراہٹ ہوئ

” میں ڈاکٹر کو کال کرتی ہوں “

وہ موبائل کی طرف بڑھی جب عیسیٰ نے اس کا ہاتھ تھاما

” ریلیکس قرت میں ٹھیک ہوں ، یہ بس تھوڑا سا درد تھا ، یہ ہوتا ہے، تھوڑی دیر تک ٹھیک ہوجاتا ہے پھر ” اسے تسلی دی لیکن وہ پھر بھی پریشانی سے دیکھتی رہی

” لیکن ایسے کیسے درد ہوتا ہے ؟ میں ڈاکٹر کو کال کرتی ہوں “

” میں نے کہا نا ٹھیک ہوں ،پرسکون رہیں “

” آر یو شیور عیسیٰ ؟”

” ہنڈرڈ پرسنٹ “

وہ اس کا ہاتھ چھوڑتا بیڈ کی طرف بڑھا ، کمبل ہٹایا اور وہاں لیٹا ، وہ متذبذب سی اس تک آئ

” پین کلر دوں ؟”

” نہیں ۔۔۔۔۔”

وہ ٹھیک لگ رہا تھا لیکن پھر بھی اسے فکر ہونے لگی ، حالانکہ آج صبح ہی ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ وہ جلدی ریکور کررہا ہے ، اسے پسند بھی نہیں آرہا تھا کہ سب لوگ اسے یوں دیکھنے آرہے تھے جیسے وہ کوئ بہت بیمار ہو ،نا بیماروں جیسا ٹریٹمنٹ لینا اچھا لگ رہا تھا، ڈاکٹر نے کچھ عرصے تک پرہیزی کھانا بتایا تھا اس نے صاف انکار کردیا ، وہ بلا کا ضدی واقع ہوا تھا

” ایک گلاس پانی لادیں گی ؟”

وہ چونکی پھر سر ہلایا ، پانی میز پر پڑا تھا ، گلاس بھر کر اس تک لائ ، عیسیٰ نے پانی پی کر گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور پھر اسے دیکھا

” یہاں آئیں ۔۔۔”

وہ بیڈ کی پائنتی پر کھڑی تھی چند قدم آگے کو ہوئ

” میرے سامنے بیٹھیں ۔۔۔”

نرمی سے کہا تو وہ کچھ دیر وہیں ٹھہری رہی پھر اس کے سامنے بیٹھی ، عیسیٰ نے اس کا گود میں رکھا ہاتھ تھاما اور اسے دیکھا ، پیلے لباس میں وہ خود بھی کوئ زرد گلاب لگ رہی تھی ، چہرے پر اداسی تھی ، اسے سردی زیادہ لگتی تھی لیکن اس وقت سوئیٹر بھی ندارد تھا ، اسے جیسے کسی شے کا ہوش نہیں رہا تھا

” آپ ٹھیک ہیں ؟”

عیسیٰ کے سوال پر نظر اٹھا کر اسے دیکھا

” مجھے کیا ہونا ہے ؟”

” گولی مجھے لگی تھی ،چہرہ آپ کا زرد ہورہا ہے “

” یونہی تھک گئ ہوں شاید۔۔۔”

” تو کس نے کہا ہے کہ ملازموں کے ہوتے ہوئے سارا کام خود کرنے لگ جائیں “

اس کا ہاتھ سہلایا ، وہ خاموش رہی ، کام تو بہانہ تھا وہ بس اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی

” قرت۔۔۔۔”

” جی۔۔۔۔”

” آپ پولیس اسٹیشن گئ تھیں ؟”

اس کے ہاتھوں پر نظر جمائے اسی نرمی سے پوچھا

” آپ کو برا لگا ؟”

” آپ کی سوچ سے بھی زیادہ “

وہ کچھ کہہ نا سکی پھر سر جھٹکا

” میں جواد سے ملنے گئ تھی “

عیسیٰ کا اس کا ہاتھ سہلاتا ہاتھ رکا ،نظر اٹھا کر اسے دیکھا

” کیوں ؟”

” اس سے کہنے گئ تھی کہ ۔۔۔”

وہ خاموش ہوگئ

” کہ ؟”

” کہ آپ کو کچھ ہوا۔۔۔”

” تو آپ اس کی جان لے لیں گی ؟”

اس کے لبوں پہ مبہم سی مسکراہٹ ابھری ، وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر سر ہلایا ، حلق میں آنسو اٹکے

” آپ کو پولیس اسٹیشن نہیں جانا چاہئے تھا ، “

” ایم سوری “

” اٹس اوکے، مجھے اچھا نہیں لگا آپ کا جانا لیکن۔۔۔۔”

” میں نے اس لئے سوری نہیں کہا “

وہ رکا

” پھر کس لئے کہا ہے ؟”

قرت کی آنکھوں میں آنسو جمع ہوگئے

” اس نے میری وجہ سے آپ کو گولی ماری ، ایم سوری عیسیٰ “

اس نے گہری سانس لی

” آپ کی وجہ سے نہیں ماری تھی قرت “

نہیں ۔۔میری وجہ سے ہی ماری تھی ، وہ میرا کزن ہے ، میں نے اسے ریجیکٹ کیا اسے لگا آپ کی وجہ سے کیا ، اس دن آپ دونوں کے بیچ جھگڑا بھی میری وجہ سے ہوا ، آپ کو کچھ ہوجاتا تو میں خود کو کبھی معاف نا کرپاتی عیسیٰ “

اس کے آنسو پوری رفتار سے بہنے لگے ، وہ آگے کو ہوا اور اس کے چہرے سے آنسو صاف کئے

” یہ آنکھیں مجھ پر بہت ظلم کرتی ہیں “

اس کے رونے میں مزید شدت آئ ، اس شخص کو کچھ ہوجاتا تو قرۃ العین کا بڑا نقصان ہوتا

” آئ ایم سوری “

اس کی رٹ اب بھی قائم تھی ، عیسیٰ نے اب کے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے

” آپ تقدیر پر ایمان رکھتی ہیں ؟”

” یقیناً رکھتی ہوں “

” تو پھر یہ مصیبت تقدیر میں لکھی تھی “

” اس کا سبب میں بنی ہوں “

” کیسے ؟ صرف اس وجہ سے مجھ پر گولی جواد نے چلائ آپ کا اس کا سبب کیسے بن گئ ؟ آپ نے اس سے جاکر نہیں کہاتھا کہ وہ مجھ پر گولی چلائے یہ اس کا عمل تھا قرت ، اس عمل کی ذمہ اس پر آتی ہے آپ پر نہیں “

” لیکن میری وجہ ” عیسیٰ نے اس کی بات کاٹ دی

” اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھنا چھوڑ دیں ، اس نے گولی مجھ پر میری وجہ سے چلائ ہے ، اس دن میں نے اس پر پسٹل تانی تھی ، اس نے یقیناً وہی بدلہ لیا ہے ، وہ نا مارتا تو کوئ اور ماردیتا ،یہ گولی میرے لئے ہی لکھی تھی ” وہ رک کر اسے دیکھے گئ

” وہ میرا کزن ہے “

” اور مجھے یہ حوالہ ذہر لگتا ہے ” اس کا حلق تک کڑوا ہوا ، پھر رک کر اسے دیکھا ” اس کے اندر کا بغض گولی کی صورت نکلا تھا ، اپنے عمل کا ذمہ دار انسان خود ہوتا ہے ، دوسروں کے الفاظ سے متاثر ہوکر کیے جانے والے عمل کا ذمہ دار بھی انسان خود ہوتا ہے ، وہ اس عمل کا انجام بھگتے گا ، آپ خود کو اس کا ذمہ دار سمجھنا چھوڑ دیں، ” اس نے سر ہلادیا ، وہ شاید ٹھیک کہہ رہا تھا، شاید نہیں کہہ رہا تھا

” میں ڈر گئ تھی عیسیٰ”

” کس سے ؟”

” جواد سے، اس کا خوف بچپن سے میرے اندر ہے ، میں نے ہر کسی سے سنا کہ تمہارا نصیب جواد کے ساتھ جڑے گا ، میں اس نصیب سے ڈر گئ ، اس نے میرے چہرے پر ہاتھ اٹھایا میں اس کے ہاتھ سے ڈر گئ ، اس نے میرے کردار کو برا کہا میں اس کی زبان سے ڈر گئ ، اس نے کہا وہ مجھ سے بدلہ لے گا میں اس کے عمل سے ڈر گئ ، میں ساری زندگی جواد سے ڈرتی رہی “

” غلط کرتی رہیں “

” جانتی ہوں ، اب جانتی ہوں ، جس دن اس نے آپ کو نقصان پہنچایا اس دن ہر ڈر پیچھے پھینک دیا ، اس دن جو ڈر اندر تھا وہ ہر ڈر سے زیادہ تھا ، اب میں نے جان لیا ہے کہ میں نے آپ کو جواد کے یہاں ہونے کا کیوں نہیں بتایا تھا ، اب میں نے جان لیا ہے کہ برسوں پہلے آپ کے ملنے کا ابا کو کیوں نہیں بتایا تھا “

” کیوں نہیں بتایا تھا ؟”

وہ محو کلام تھی ،وہ محو سماعت تھا ، کلام کرنے والا بولتا رہے ، سامع پوری رات سن سکتا تھا

” کیونکہ میں تب بھی ڈر گئ تھی ، برسوں پہلے ابا کو کھونے سے ، برسوں بعد آپ کو کھونے سے ، وہ میرا خوف تھا جس نے مجھے ہر بار آزمائش میں ڈالا “

وہ یہ بات مسکراتے چہرے کے ساتھ کہتی تو وہ اس لمحے کی موجودگی پر رشک کرتا ، وہ یہ بات روتے چہرے کے ساتھ کہہ رہی تھی اسے اس لمحے کی موجودگی پر افسوس ہوا

” آپ کا خوف غلط تھا قرت ، جو عزیز ہوں ان سے کیسا ڈر ؟”

” یہ اب کا ڈر نہیں تھا ،یہ ڈر بچپن سے اندر تھا عیسیٰ ، ہم لڑکیاں گھر سے نکلتی ہیں تو واپسی پر کئ نظروں کی اذیت ساتھ لے کر آتی ہیں ، ہر پڑنے والی نظر کی اذیت ایک خوف اندر بھر دیتی ہے ، ہمیں اپنے عزیز لوگوں کو یہ بتانے سے ڈر لگتا ہے کہ راستے میں ٹھہرے مرد ہمیں کن نظروں سے دیکھتے ہیں ، لڑکیاں ڈر جاتی ہیں ، کچھ اس خوف سے کہ انہیں باہر نہیں جانے دیا جائے گا ، ان لڑکیوں کو یہ اعتماد ہی نہیں دیا جاتا کہ ان کے گھر کے مرد ان کے محافظ ہیں ، ان سے یہ پوچھا ہی نہیں جاتا کہ تمہیں کوئ تنگ تو نہیں کرتا ؟ ، جو پوچھا نہیں جاتا وہ بتانے سے لڑکیاں ڈر جاتی ہیں ، کچھ اس خوف سے کہ اپنے گھر کے مردوں کا اعتماد کھودیں گی ، وہ اپنے عزیز مردوں کو کھودیں گی، ان کے گھر کے مرد ان کو اعتماد دیتے ہیں وہ اس اعتماد کے ٹوٹنے سے ڈر جاتی ہیں ، میں بھی انہیں میں سے تھی ،برسوں پہلے ابا کو کھونے سے ڈر گئ ، برسوں بعد آپ کو کھونے سے “

وہ جب روتی تھی تو ناک اور گال پل میں سرخ ہوتے تھے ، اب بھی ہوئے تھے ، عیسیٰ نے تھکی تھی سانس خارج کی

” آئ ایم سوری اگر میں کبھی آپ کو تحفظ نا دلا سکا “

ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔”

وہ اسے روکنا چاہتی تھی وہ کہنا چاہتی تھی جب تحفظ کا لفظ سنائ دیتا اسے وہ یاد آتا تھا لیکن اس نے نہیں سنا

” مجھے کہنے دیں ، میں سمجھ سکتا ہوں ، آپ کے لئے وہ سب مشکل رہا ہوگا ، آئ ایم سوری میں اس مشکل کو سمجھ نہیں سکا ، مجھے آپ کو بتانا چاہئے تھا کہ میں ہمیشہ آپ کے لئے موجود ہوں ، آپ کو ڈرنا نہیں چاہئے تھا ، آپ ڈر گئیں کیونکہ میں آپ کو اعتماد نہیں دے سکا “

” اس میں آپ کا قصور نہیں تھا عیسیٰ ، وہ عمل میرا خود کا تھا ، میں ڈرتی رہی کیونکہ مجھے لگا میں کمزور ہوں”

” بالکل اسی طرح ، جواد کے عمل پر آپ قصور وار نہیں ہیں ، اس نے جو کیا خود کو طاقتور سمجھ کر کیا “

وہ بالکل چپ رہ گئ ، جو بات وہ اتنے دن سے زہن میں لے کر پھر رہی تھی وہ عیسیٰ نے چند لمحوں میں زہن سے نکال دی ، اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھا پھر خود پر جمی اس کی آنکھوں کو ، سیاہ پرکشش آنکھیں بھوری آنکھوں کو دیکھ رہی تھیں

” آنٹی مجھ سے ناراض ہیں “

” کیوں ؟”

” انہیں بھی یہی لگتا ہے کہ میری وجہ سے آپ کو گولی لگی تھی “

” انہوں نے آپ سے کہی ہے یہ بات ؟”

” نہیں ۔۔۔لیکن ان کا رویہ “

” ان کا رویہ ٹھیک ہوجائے گا، اس کی آپ فکر مت کریں “

کچھ دیر وہ دونوں خاموش رہے پھر عیسیٰ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں کے درمیان میں رکھے ، ٹھنڈے ہاتھ گرم ہاتھوں کے بیچ آگئے

” آپ نے میرے لئے دعا کی تھی ؟”

” اتنی کہ مجھے باقی ہر دعا بھول گئ “

اس کی آنکھیں رونے کے باعث سرخ سی ہورہی تھیں ، ناک اور گال بھی سرخ تھے ، وہ مبہم سا مسکرایا

” کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک خواہش کی تھی “

” کیا ؟”

” جب آپ اپنے ابا کیلئے رو رہی تھیں تو یونہی میں نے سوچا تھا کہ کاش آپ کسی دن میرے لئے بھی روئیں ، مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری خواہش اتنی جلدی پوری ہوگی “

قرت کی آنکھوں میں صدمہ ابھرا ، وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتی رہی پھر اپنا ہاتھ جھٹکے سے کھینچا

” آپ ۔۔۔ عیسیٰ ۔۔۔اللہ اللہ ۔۔ “

اسے جیسے سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کہے ، یعنی یہ انسان !

” میں کیا ؟”

سکون سے پیچھے کو ٹیک لگائ

” اف لکم عیسیٰ اف لکم “

” مجھے عربی میں برا بھلا مت کہیں ، عربی سمجھ نہیں آتی مجھے “

وہ غصے سے بیڈ سے اٹھی

” برا نہیں کہہ رہی “

” تعریف کررہی ہیں ؟ “

مسکراہٹ دبائ

” آپ کی تعریف کیلئے دنیاکی کسی زبان کے الفاظ نہیں ہیں میرے پاس “

” اس تعریف کیلئے بھی شکریہ “

سر کو خم دیا ، وہ ہنہہ کرکے بیڈ کی دوسری طرف گئ

” اچھا سنیں تو “

” بات مت کریں مجھ سے “

” مسز عیسیٰ ۔۔۔”

” یہ نمبر فلحال آپ کو اگنور کررہا ہے ” دراز کھول کر اس کی دوائیاں نکالیں ، یقیناً اس نے رات والی دوائ نہیں لی ہوگی تبھی درد ہورہا تھا

” میں دوائ نہیں لوں گا ” اس کا منہ بگڑا ، قرت اسے نظر انداز کرتی دوائیاں نکال کر آئ ، گلاس اٹھایا اور دونوں ہاتھ آگے کئے

” آئ سیڈ نو “

سکون سے اسے دیکھا

” عیسیٰ ۔۔۔”

” جی جان عیسیٰ “

اس کے سرخ چہرے پر مزید سرخی دوڑی

” شرافت سے رہیں “

” میں انتہائ شریف آدمی ہوں “

” آہ آپ کی شرافت “

” آہ میں اپنی شرافت پہ قربان “

قرت نے اب کے ضبط سے اسے دیکھا

” اللھم اعطنی صبر ( یا اللہ مجھے صبر دے )”

” آمین ۔۔۔۔۔”

وہ ہلکا سا ہنس دی

” محترم عیسیٰ “

” جی محترمہ قرۃ العین “

” دوائ لے لیں عیسیٰ “

” ایک شرط پر “

اس نے ابرو اچکائے سوالیہ انداز سے اسے دیکھا

” میرے لیے کافی بنا کر لائیں پہلے “

” ہرگز نہیں۔۔۔”

وہ بدکی ، ڈاکٹر نے اسے کافی سے منع کیا تھا، وہ بنا کچھ کہے اسے بس دیکھتا رہا، بلاخر اسے ہتھیار ڈالنے پڑے

” پہلے دوائ لیں پھر ۔۔۔”

” شیور ۔۔۔۔” شانے اچکاتے اس نے دوائ لے لی ، نگل کر گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اسے دیکھا، وہ وہیں کھڑی تھی

” کیا ہو اگر میں اپنا قول پورا نا کروں تو ؟”

ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنے قول سے پھرے “

افسوس سے اسے دیکھا

” میں نے کب کہا میں کافی لاکر دوں گی ؟”

وہ ہنوز مسکرارہی تھی

” مائ مسٹیک ۔۔آپ کی باتوں میں آگیا ” اسے خود پر افسوس ہوا ، وہ ہلکا سا ہنسی پھر گلاس اٹھایا

” لاتی ہوں ۔۔۔”

” دو کپ لیتے آئیے گا ، آپ مجھے جوائن کررہی ہیں نا ؟”

اگر وہ کبھی اور پوچھتا تو وہ منع کردیتی لیکن ابھی سر ہلادیا

” قرت ” وہ جو جانے لگی تھی رکی، عیسیٰ اب اپنا موبائل کھول رہا تھا

” جی “

” ڈریسنگ ٹیبل پر میرا والٹ پڑا ہوگا وہ اٹھادیں ” موبائل پر نگاہیں جمائے مصروف سا کہا، اس نے ایک نظر ڈریسنگ ٹیبل کو دیکھا پھر اسے ، والٹ کا کیا کرنا تھا اس نے ؟ سر ہلا کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی، والٹ اٹھاتے ہوئے یونہی نظر آئینے پر پڑی

بال سامنے سے بکھرے ہوئے تھے ، آنکھیں سوج چکی تھیں ، صبح کاجل ڈالا تھا وہ بھی پھیل گیا تھا ، آنسو کے باعث چہرہ بھی سرخ سا ہورہا تھا ، شدید ترین شرمندگی تھی جو اس نے اس وقت محسوس کی تھی ، صاف صاف بھی تو کہہ سکتا تھا کہ عجیب ہونق سی لگ رہی ہو ، حلیہ درست کرکے جائو ، اس نے والٹ اٹھا کر میز پر رکھا اور واش روم کی طرف بڑھی ، اس حلیے میں باہر جاتی تو سب کیا سوچتے ،ملازم اب بھی باہر ہی تھے ، عیسیٰ اب بھی موبائل پر مصروف تھا ، البتہ ہونٹوں کے کناروں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ صوفے پر بیٹھا اور پائوں سیدھے کرکے میز پر پھیلا لئے ،

” طبیعت کیسی ہے اب ؟”

شہوار اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئ ، حیات دوسرے صوفے پر تھے

” فائن مام۔۔۔آپ سب لوگ مجھے ایسے ٹریٹ کررہے ہیں جیسے میں پتا نہیں کتنا بیمار ہوں “

اس نے گویا ناک سے مکھی اڑائ

” مرنے کے قریب تھے تم “

خفگی سے اسے گھورا

” مرا تو نہیں نا ، صرف گولی ہی لگی تھی “

وہ لاپرواہ تھا

” اور جس نے ماری تھی اسے میں پھانسی کے تختے تک لے کر جائوں گی “

عیسیٰ کی نظر بے اختیار اوپر گئ ، قرت کمرے میں نماز پڑھ رہی تھی

” آپ قرت سے اس طرح کیوں بیہیو کررہی ہیں مام ؟”رخ موڑ کر واپس انہیں دیکھا

” کیسے بی ہیو کررہی ہوں ؟”

” آپ کو لگتا ہے مجھے نظر نہیں آرہا ؟ آپ انہیں نظر انداز کررہی ہیں ، ان کے ساتھ بات نہیں کررہیں ، ان کی باتوں کا جواب نہیں دے رہیں ، اور یہ سب اس وجہ سے کہ آپ مجھے لگنے والی گولی کا ذمہ دار انہیں سمجھتی ہیں “

” تو کیا غلط سمجھتی ہوں ؟”

ان کے ماتھے پر بل پڑے، حیات نے اخبار رکھ کر دونوں ماں بیٹے کو دیکھا وہ جانتے تھے اب یہاں بحث شروع ہوگی

” مجھے گولی قرت نے نہیں ماری مام “

” جس نے ماری ہے وہ اس کا کزن ہے “

” وہ اپنے کزن کے عمل کی ذمہ دار نہیں ہیں “

” اوہ کم آن عیسیٰ ۔۔” شہوار نے طنزیہ سر جھٹکا ” تم بھی جانتے ہو میں بھی کہ اس گولی کے پیچھے کی وجہ کہیں نا کہیں قرت ہی ہے ، اس کے کزن کی تم سے کون سی دشمنی تھی جو اس نے تمہیں گولی ماردی ؟” عیسی نے ضبط سے انہیں دیکھا

” جو بھی دشمنی تھی قرت کی وجہ سے نہیں تھی “

” عیسیٰ ٹھیک کہہ رہا ہے شہوار ، ان سب میں قرت کا کیا قصور ؟”

حیات نے انہیں سمجھانا چاہا اور شہوار جیسے غصے میں آئ تھیں

” کیا قصور ؟ وہ لڑکا اسی کی وجہ سے یہاں آیا ہوگا ، قرت سے بدلہ لینے کیلئے ہی اس نے میرے بیٹے کو نشانہ بنایا ، اگر اس کی دشمنی قرت سے تھی تو اسی پر چلاتا ۔۔۔”

” مام۔۔۔۔”

شہوار یکدم خاموش ہوئیں ، عیسی ضبط سے انہیں دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر تکلیف تھی ، انہیں احساس ہوا وہ کیا کہہ گئ تھیں پھر سر جھٹکا

” میں وہ نہیں کہنا چاہتی تھی “

” اور جو آپ نے کہا ہے اس پر غور کریں ، جس لڑکی کے بارے میں کہا ہے یہ بھی غور کریں، آپ جانتی ہیں وہ میرے لئے کیا معنیٰ رکھتی ہیں ، اس کے باوجود آپ یہ کہہ رہی ہیں ” اس کی آواز میں دکھ تھا

” میری اس سے کوئ دشمنی نہیں ہے ، وہ مجھے بہت عزیز ہے لیکن تم سے زیادہ نہیں عیسیٰ ، تم بیٹے ہو میرے ، تمہیں مرتے دیکھا تو باقی سب عزیز میرے لئے ثانوی ہوگئے “

اس نے گہری سانس لی، وہ مام کی کیفیت سمجھ سکتا تھا لیکن وہ اس کی بات نہیں سمجھ رہی تھیں، سیدھا ہوتے اس نے شہوار کا ہاتھ تھاما

میں سمجھ سکتا ہوں مام ، لیکن آپ بھی سمجھیں، وہ میری زندگی میں خوشیوں کی ذمہ دار ہوسکتی ہیں غم کی نہیں ، میں ان کی زندگی میں غموں کا ذمہ دار رہ چکا ہوں اب کم ازکم خوشیوں کا ذمہ دار بننے دیں ، وہ میری وجہ سے ہربار تکلیف جھیل جاتی ہیں “

” عیسیٰ اب تم بلیم خود پر مت لو “

” یہ الزام نہیں ہے مام ، آپ کہہ رہی ہیں کہ نا جواد کی دشمنی قرت سے تھی ، اس کی دشمنی مجھ سے ہی تھی ، برسوں پہلے میرا اس سے تعارف اچھا نہیں ہوا تھا ، اس نے میرے سامنے میری وجہ سے قرت کو جانے کیا کچھ نہیں کہا اس سب کا ذمہ دار میں تھا ،ان کے حصے کے بہت سے غم جواد نے میری وجہ سے انہیں دیئے ، ان کی زندگی کے بہت پرانے غموں میں میرا حصہ رہا ہے ، وہ گلٹ آج تک میرے ساتھ ہے ، زندگی بھر رہے گا ، وہ شخص قرت کی وجہ سے نہیں میری خود کی وجہ سے میرے حصے میں یہ زخم لایا تھا ” شہوار کچھ لمحے کچھ کہہ نا سکیں

” میں وہ نہیں کہنا چاہتی تھی عیسیٰ “

” آپ کو وہ واقعی نہیں کہنا چاہئے تھا ، میری زندگی میں آپ ڈیڈ اور قرت ہیں بس ، آپ میں سے سے کسی ایک کو بھی کچھ ہوا تو میرے لئے یہ ہر اذیت سے بڑی اذیت ہے، ہر دکھ سے بڑا دکھ ہے، “

” ہاں بھئ میں تو تمہارا سوتیلا دوست ہوں نا “

دروازے سے زین کی آواز آئ تو وہ سب چونکے ، وہ خفگی سے اسے دیکھتا اندر آرہا تھا

” تم میرے دوست بھی ہو ؟”

۔ ابرو اچکائے حیرانی سے پوچھا

” دیکھ لیں آنٹی انکل، میں ہمیشہ اس کی سوتیلی ماں اور باپ کا کرداد ادا کرتا رہا ہوں اور یہ مجھے اپی دوستی کی فہرست سے ہی خارج کررہا ہے “

اس کی خفگی کچھ اور بڑھی ، حیات مسکرائے

” بھئ ، ہمارے لئے تم ہمارے بیٹے جیسے ہو ، اس لئے شاید عیسیٰ بھی یہی کہنا چاہ رہا ہے کہ تم اس کے دوست نہیں بھائ ہو “

” بس انکل ، پتا چل گیا مجھے اس کی دوستی کا “

وہ ناراضگی سے کہتا حیات کے ساتھ بیٹھا ، عیسیٰ بے نیازی سے اسے دیکھ رہا تھا

” ہوگیا ڈرامہ تمہارا؟ میں نے تو سنا تھا ٹریننگ کے دوران چھٹیاں نہیں ملا کرتیں ، تمہیں دیکھ کے لگتا ہے غلط سنا تھا ، آفیسر کچھ نہیں کہتے ؟ “

” ایمرجنسی بیس پر چھٹیاں مل جاتی ہیں ، تمہارا زخمی ہونا کیا ایمرجنسی نہیں ہے؟ “

” بہت اچھے ، لیکن براہ مہربانی ہر روز اپنی شکل دکھانے سے گریز کیا کرو ، ڈاکٹر نے میرے زخم کو جراثیم سے دور رکھنے کا کہا ہے “

وار بہت کاری تھا ، زین تلملا کر اٹھا ، شہوار بوکھلائیں

” میں زین فیاض بقائمی ہوش وحواس میں تمہیں اپنی دوستی سے طلاق دیتا ہوں عیسیٰ حیات “

” تین ایک ساتھ دے دو تاکہ رجوع کا امکان بھی ختم ہوجائے “

اس نے صوفے پر پیچھے کو ٹیک لگائ اور ایک ہاتھ پیچھے پھیلا لیا

” بڑی اسلامی معلومات ہیں تمہیں “

” تم بھول رہے ہو میری بیوی عالمہ ہے”

” پھر ان سے دوستی کے حقوق بھی جان لیتے “

” میں نے غیر اہم ٹاپک چھیڑنا ضروری نہیں سمجھا ” تپانے والے انداز میں مسکرا کر اسے دیکھا

” میں تمہیں دوسری طلاق بھی دیتا ہوں عیسیٰ حیات “

تپ کر کہا تو عیسیٰ نے سر کو خم دیا

” میں تیسری کا منتظر ہوں “

” اوفوہ کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو تم دونوں ،زین کیا کہنے آئے تھے “

شہوار جھنجھلائیں تو زین نے قدرے خفگی سے عیسیٰ کو دیکھا پھر دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا ، نظر سیڑھیوں پر گئ ، جوتوں کی ٹھک ٹھک کی آواز پر سب کی نظر اوپر گئ سوائے عیسیٰ کے ، وہ اسی طرح سامنے دیکھتا رہا ، وہ پیچھے مڑے بغیر آنے والی کو جانتا تھا

” آپ کہیں جارہی ہیں ؟” وہ سامنے آئ تو اسے عبایا میں ملبوس دیکھ کر پوچھا

” بکس لینی تھیں کچھ ۔۔۔”

” دس منٹ ویٹ کریں میں چینج کرکے آتا ہوں، آپ کو لے جائوں گا ” وہ اٹھنے لگا

” نہیں عیسیٰ ، میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جائوں گی ” وہ ابھی مکمل صحتیاب نہیں ہوا تھا ڈرائیونگ کیسے کرتا

” میں اکیلے نہیں جانے دے سکتا آپ کو “

” تمہارا زخم درد کرے گا عیسیٰ “

شہوار نے ٹوکا تو اس نے گویا لاپرواہی سے ہاتھ جھلایا

” بچہ نہیں ہوں یارر ، آپ سب بھی سمجھ لیں یہ بات ، اور کم از کم یہ جواد والے معاملے کے بعد میں آپ کے اکیلے جانے کا رسک نہیں لے سکتا “

” میں چلی جائوں گی عیسیٰ “

وہ نرمی سے بولی

” اور میں نے کہا میں لے جاتا ہوں مسز عیسیٰ “

اس کے گال سرخ ہوئے ، عیسیٰ آگے بڑھنے لگا جب زین کھنکارا ، وہ رک کر اسے دیکھنے لگا

” میں اسی سلسلے میں بات کرنے آیا تھا ” اس نے جیب سے لفافہ نکال کر عیسیٰ کی طرف بڑھایا

” یہ کیا ہے ؟”

نا اس نے جواب دیا نا عیسیٰ جواب سننے کیلئے رکا ، وہ لفافہ کھول کر پڑھنے لگا اور باقی سب اسے دیکھنے لگے ، چند لمحوں بعد اس نے سر اٹھایا اور زین کو دیکھا

” یہ کیسے ممکن ہے ؟”

” ممکن ہے یا نہیں لیکن سچ ہے “

” کوئ بتائے گا کہ یہ کیا ہے ؟”

حیات کی جھنجھلاہٹ بھری آواز پر زین نے انہیں دیکھا

” میں بتاتا ہوں انکل ، عیسیٰ پر گولی جواد نے نہیں چلائ ” لمحے بھر کو سناٹا چھاگیا

” پھر کس نے ؟”

” پولیس تفتیش کررہی ہے ، لیکن یہ جواد نے نہیں کیا ، وہ پسٹل لے کر فنکشن میں آیا ضرور تھا لیکن عیسیٰ کو گولی اس نے نہیں ماری ، عیسیٰ کی جسم سے نکلنے والی گولی کی فرانزک رپورٹ ہے یہ ،جواد کے پسٹل کی گولی اس گولی سے میچ نہیں ہوتی “

” اگر اس نے نہیں تو پھر کس نے ؟”

شہوار کی زبان گنگ تھی

آپ لوگوں کے فارم ہائوس کی فوٹیج چیک کررہی ہے پولیس ، ایک دو مشکوک لوگوں کو پکڑاہے ، جلد سچ سامنے آجائے گا ” قرت نے بے اختیار صوفے کی پشت کو تھاما ، باقی سب جیسے خاموش سے ہوگئے تھے ، عیسیٰ کا چہرہ بے تاثر تھا

” لیکن ان سب میں اب عیسیٰ تمہیں مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے ، اگر جواد حملہ آور نہیں ہے تو جو ہے وہ تمہیں دوبارہ سے ٹارگٹ کرنے کی کوشش کرے گا اس لئے اپنے ساتھ سکیورٹی لے کر جانا جہاں بھی جائو “

” اوہ کم آن زین ، میں گارڈز نام کا دم چھلا اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا “

وہ بے زار ہوا

” سکیورٹی کیلئے یہ ضروری ہے ، میں پولیس کو بھی یہاں تعینات کروارہا ہوں اور خبردار جو تم نے کچھ کہا ” وہ جو کچھ کہنے لگا تھا رکا، زین اس وقت اس کا دوست نہیں بطور اسسٹنٹ کمنشنر اسے حکم دے رہا تھا ، جانے کیوں لیکن وہ ہلکا سا مسکرایا

” اور بھابھی آپ بھی بغیر سکیورٹی کہیں نہیں جائیں گی ” اس نے بس سر ہلادیا، جواد حملہ آور نہیں تھا ؟

اسی لمحے زین کا موبائل بجا تو وہ ایکسکیوزمی کہتا سائیڈ پر ہوگیا

” یعنی اب جواد چھوٹ جائے گا ؟”

عیسیٰ نے حیات کو دیکھتے شانے اچکائے

” وہ مجرم نہیں ہے، لیکن وہ اسی ارادے سے آیا تھا “

وہ دوبارہ صوفے پر آبیٹھا ، قرت دو قدم پیچھے ہوئ اور سیڑھیوں کی طرف بڑھی جب عیسیٰ نے پیچھے سے پکارا

” آپ کو بکس لینے نہیں جانا ؟”

” ابھی تو زین نے تمہیں منع کیا ہے عیسیٰ “

شہوار نے تنبیہی مظروں سے اسے گھورا

” اور میں تو جیسے اس کی بات مان لوں گا نا “

” میں بعد میں چلی جائوں گی “

وہ بنا رکے اوپر کی طرف بڑھ گئ ، عیسیٰ نے اب کے شہوار کو دیکھا

” آپ کا رویہ اب ان کے ساتھ ٹھیک ہوجائے گا نا ؟” سادگی سے پوچھا تو شہوار نے اسے گھورا

” میری بہو ہے وہ ، ہمارے بیچ اختلافات پیدا مت کرو “

” واہ ۔۔۔ ساسو ماں کو بڑی جلدی یاد آیا ہے “

شہوار بغیر کچھ کہے اوپر کی طرف بڑھیں، انہیں قرت سے معافی مانگنی تھی وہ کچھ زیادہ ہی اس کے ساتھ تلخ ہوگئی تھیں ، ان کے جاتے عیسیٰ کے چہرے پر سنجیدگی ابھری، زین اسی طرف آرہا تھا

” تم پوری بات بتائوگے اب ؟” آنکھیں سکیڑیں اسے مشکوک انداز میں دیکھا

” کون سی پوری بات ؟”

” پولیس نے کن لوگوں کو پکڑا ہے ؟ “

زین گہری سانس لیتے صوفے پر بیٹھا

” تب اس لئے نہیں بتایا تھا کیونکہ میں خود کنفرم نہیں تھا لیکن ابھی تھانے سے کال آئ تھی “

” حملہ کس نے کروایا تھا ؟” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا آگے کو ہوا ، زین چند لمحے اسے دیکھتا رہا

” کامران آفندی نے ۔۔۔”

حیات چونکے اور عیسیٰ کے ابرو تعجب سے اکٹھے ہوئے

” کامران آفندی؟”

” بالکل کامران آفندی نے “

” وہ کیوں مجھے مارنا چاہے گا ؟”

اسے جیسے یقین نہیں یوا تھا

” واہ بیٹا ، اس سوال کی کوئ تک بنتی ہے ؟ دو سال سے ان کے سارے پراجیکٹس تم لے رہے ہو ، کامران آفندی کو پچھلے سال انہی پراجیکٹس کی وجہ سے کئ کروڑ کا نقصان ہوا ، اور تمہیں فائدہ ، پچھلے دنوں دو تین انٹرنیشنل پراجیکٹس ان کے ہاتھ سے نکل گئے ، یعنی ایک بندہ جس کی بزنس ورلڈ میں ایک جگہ تھی تم اس کی جگہ لے رہے ہو بلکہ لے چکے ہو اب بھی وہ تمہیں نامروائے تو کیا پھولوں کے ہار پہنائے گا ؟”

وہ تپ کر بولا تو عیسیٰ بدمزگی سے پیچھے کو ہوا

” میں نے اس کی جگہ نہیں لی اپنی جگہ خود بنائ ہے ، وہ ویسے بھی کرپشن میں ملوث تھے ، ان پر کیسز بھی چل رہے ہیں ایسے میں بزنس سیکٹر کا ان پر اعتماد کیسے باقی رہتا ؟”

” جو بھی ہے وہ تمہیں ہی اس سب کا ذمہ دار سمجھتے ہیں “

” یہ اچھا ہے ۔۔” وہ کراہا ” مجھ پر الزام لگا کر خود بری ہوگئے ، ویری نائس “

” کتنا کم ظرف ہے یہ انسان ” حیات کو شدید افسوس ہوا پھر وہ چونکے ” پولیس کو کیسے علم ہوا ؟”

” عیسی پر حملہ آپ کے فارم ہائوس کے سامنے والی بلڈنگ سے ہوا تھا ، وہ ایک ہائوسنگ سوسائٹی ہے ، جس اپارٹمنٹ سے حملہ ہوا تھا پولیس نے اس کے اونر کو گرفتار کیا تو اس نے بتایا کہ وہ یہاں تھا ہی نہیں ، پچھلے پانچ ماہ سے وہ کراچی میں تھا اور اس کا اپارٹمنٹ خالی تھا ، وہ عیسیٰ پر حملے کے دو دن بعد واپس آیا تھا، حملہ آور کی شومئ قسمت کہ اس اپارٹمنٹ کے مالک نے وہاں چند خفیہ کیمرے لگا رکھے تھے جو اب بھی کام کررہے تھے اور وہ یہ بات نہیں جانتا تھا ، پولیس نے کیمرے چیک کئے اور حملہ آور کو گرفتار کرلیا ، پہلے پہل تو وہ بتانے پر راضی نہیں تھا لیکن پولیس کے ٹارچر کرنے پر اس نے بتادیا کہ اسے عیسیٰ کو مارنے کا حکم کامران آفندی نے دیا تھا ” وہ تفصیل سے بتا کر خاموش ہوا تو عیسیٰ نے افسوس سے سر جھٹکا

” گو لی کس نے چلائ تھی ؟”

” ہاشم سرور نے “

عیسیٰ آگے کو ہوا

” ہاشم ؟”

” وہی جسے تم نے اپنے آفس سے اچھا خاصا بعزت کرکے نکالا تھا کیونکہ وہ کامران آفندی کے لئے کام کررہا تھا”

” بہت اچھے ،، سب کو کوئ نا کوئ بغض ہے مجھ سے” اس نے ہاتھ جھلایا۔۔۔۔ ” پولیس نے کامران آفندی کو اریسٹ کرلیا؟”

” ابھی کال آئ تھی وہ لوگ اسے اریسٹ کرنے جارہے ہیں ” وہ موبائل جیب میں ڈالتا اٹھا ، اسے بھی پولیس کے ساتھ جانا تھا

” میں بھی چلتا ہوں “

وہ اٹھنے لگا جب زین نے ٹوک دیا

” شرافت سے بیٹھے رہو ، ڈاکٹر نے زیادہ چہل قدمی سے منع کیا ہے تمہیں “

” زیادہ باپ مت بنو میرے “

” باپ نہیں دوست بن رہا ہوں “

وہ تپانے والے انداز میں مسکرایا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا ، عیسیٰ زیرلب بڑبڑا کر رہ گیا

” میں نے تم سے کہا تھا کہ وہ خطرناک انسان ہے “

” اور میں نے بھی کہا تھا کہ وہ ایک بیوقوف انسان ہے ، ہم دونوں کی بات سچ نکلی “

حیات نے کچھ نہیں کہا ، وہ ششدر تھے

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

کامران صاحب نے ملازمہ کو جانے کا اشارہ کیا اور سگار سلگا لیا ، دھوئیں کے اٹھتے عکس میں ان کا چہرہ صاف نظر آرہا تھا ، اسی دھوئیں کے پار سے انہیں حمزہ آتا دکھائ دیا ، دھواں چھٹا تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئ تھیں

” پاپا وہ لڑکا پکڑ گیا ہے “

” کون لڑکا؟”

” وہی جس نے عیسیٰ کو گولی ماری تھی ، ہاشم “

ان کا سگار والا ہاتھ رکا ، آنکھوں میں تعجب اترا پھر پریشانی اور پھر وہ جھٹکے سے اٹھے

” کیا بکواس ہے یہ ؟”

” ابھی ابھی تھانے سے کال آئ تھی ، اس نے بتادیا ہے کہ گولی چلانے کا حکم آپ نے دیا تھا، پولیس آپ کو ارسیٹ کرنے آرہی ہے “

وہ شدید ترین بوکھلایا ہوا لگ رہا تھا ، کامران صاحب نے سگار زمین پر پٹخا

” ایسے کیسے بتادیا ؟ میں نے اسے شہر سے دفعع ہونے کا کہا تھا ، اور پولیس کو کیسے پتا چلا ؟”

ان کا دماغ سنسنا اٹھا تھا

” یہ سب فلحال چھوڑیں ، پولیس کسی بھی وقت یہاں آسکتی ہے آپ فورا نکلیں یہاں سے “

حمزہ فورا آگے بڑھا اور انہیں دھکیلا ، کامران صاحب بھی قدرے بوکھلائے ، اسی لمحہ گیٹ دھاڑ سے کھلا اور پولیس کئ گاڑیاں ایک ساتھ اندر داخل ہوئیں ، وہ دونوں جہاں تھے وہیں رہ گئے، باوردی افسران نیچے اترے ، بندوقیں ان پر تانیں ، اور لمحوں میں انہیں گھیر لیا

” یہ سب کیا ہورہا ہے؟ ہمت کیسے ہوئ میرے گھر میں ایسے داخل ہونے کی ؟”لمحے بھر کو ساکت رہنے کے بعد وہ دھاڑے

” ہمت ابھی دیکھی کہاں ہے آپ نے کامران صاحب؟” پولیس کے مجمعے میں سے کسی کی آواز ابھری تو وہ چونکے ، نظر سامنے گئ ، خاکی پینٹ پر سفید شرٹ پہنے زین فیاض ان کے سامنے کھڑا تھا

” تم۔؟””

” جی میں۔۔۔ مستقبل کا اسسٹنٹ کمشنر زین فیاض بذات خود آپ کو گرفتار کرنے آیا ہوں “

” کس جرم میں ہاں ؟ دفعع ہوجائو یہاں سے سب ” وہ چلائے، اس نے کان پر انگلی رکھی

” کچھ لوگوں کو عزت راس نہیں آتی، آپ انہیں لوگوں میں سے ” وہ کان کھجاتا آگے کو ہوا اور جیب سے اریسٹ وانٹ نکالا

” ویسے تو یہ میرا کام نہیں ہے لیکن کیونکہ معاملہ میرے دوست کا ہے تو میں بذات خود یہاں آیا ہوں ” اس نے وارنٹ حمزہ کی طرف بڑھایا جس نے بوکھلائے انداز میں اسے تھاما ” مسٹر کامران آفندی آپ کو عیسیٰ حیات پر قاتلانہ حملہ کروانے کے جرم میں گرفتار کیا جارہا ہے ، یہ آپ کے ناقابل ضمانت ارسیٹ وارنٹ ہیں ، بہتر ہوگا آپ شرافت سے خود کو پولیس کے حوالے کردیں ورنہ ہم آپ کو گھسیٹتے ہوئے لے کر جائیں گے “

آخر میں اس کی آواز اور چہرہ دونوں سخت ہوگئے ، کامران صاحب چند لمحے ساکت رہے پھر وہ غرائے

” میں نے کوئ حملہ نہیں کروایا “

” جس لڑکے نے گولی چلائ اسی نے آپ کے خلاف بیان دیا ہے ” پیچھے کھڑے انسپکٹر نے آگے کو ہوکر اطلاع دی

” جھوٹ بول رہا ہے وہ ، میں کیوں مروائوں گا عیسیٰ کو ” وہ کف اڑانے لگے

” اس کا فیصلہ عدالت کرے گی فلحال آپ کو اریسٹ کیا جارہا ہے ” انسپکٹر آگے بڑھا اور ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائ ، کامران صاحب تلملا کر اسے دھکیلنے لگے جب زین آگے کو ہوا اور ان کے سینے پر سختی سے ہاتھ رکھا

” میرے باپ کی عمر کے ہیں آپ ، مجھے مجبور مت کریں کہ آپ کے ساتھ بدتمیزی کروں ، خاموشی سے گرفتاری دے دیں ورنہ بخدا میں بہت برا پیش آئوں گا ” کامران صاحب کا مزاحمت کرتا وجود ساکت ہوا ، نظر اٹھا کر قہر سے زین کو دیکھا

” تمہیں اور تمہارے دوست کو دیکھ لوں گا میں “

وہ پھنکارے

” میں آپ کو اس قابل ہی نہیں چھوڑوں گا ، جس پر آپ نے حملہ کروایا ہے وہ مجھے ہر شخص سے زیادہ عزیز ہے ، میرا بھائ دوست سب کچھ ہے ، زین فیاض سے اس کا سب کچھ چھیننے کی کوشش کی ہے آپ نے ،آپ کو برباد نا کردیا تو بتائیے گا “

چبا چبا کر کہتے وہ پیچھے کو ہوا ، انسپکٹر نے ہتھکڑی لگائ اور انہیں اپنے ساتھ لے جانے لگے ، گھر کے اندر سے بوکھلائ ہوئ خواتین اس طرف آرہی تھیں

” میں دیکھ لوں گا تم سب کو، جانتے نہیں ہو کس پر ہاتھ ڈالا ہے، تم سب بھگتو گے ، سب کے سب ” ان کی چیختی چلاتی آواز دور جانے لگی ، زین انہیں دیکھتا رہا پھر اس نے رخ موڑ کر حمزہ کو دیکھا جو کینہ توز نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ، وہ گہری سانس لیتا اس تک آیا

” دیکھو حمزہ ، تمہیں اچھا لگے یا برا میری بلا سے لیکن تمہارا باپ اب ایک لمبے عرصے کیلئے جیل جاچکا ہے ، اگر میں زین فیاض ہوں تو میں دیکھتا ہوں وہ کیسے باہر آتا ہے ” آگے کو ہوا اور اس کا کالر درست کیا ” اب تمہارے باپ کی سیٹ خالی ہے ، اور اسے ظاہر ہے تم ہی سنبھالو گے کوشش کرنا اپنے باپ جیسے نا بنو ورنہ تمہارا انجام بھی یہی ہوگا “

کالر جھٹکتا وہ پیچھے ہوا اور ماتھے پر دو انگلیاں لے جاکر سلام کرتے مڑ گیا، حمزہ اس کی پشت کو خونخوار نظروں سے گھورے گیا ، پیچھے سے اس کی ماں اب چلا رہی تھی ، اسے ان کو تسلی دینا تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” مام سے صلح ہوگئ آپ کی ؟”

صحن میں واک کرتے اس نے رخ موڑ کر قرت کو دیکھا

” ناراضگی کب ہوئ تھی ؟” سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھا، سیاہ ٹرائوزر پر سفید ڈھیلی سے شرٹ پہنے وہ فارمل سے حلیے میں تھا ، زخم پہلے کی نسبت بہت بہتر تھا ، وہ ایک دو دن تک آفس جانے کا کہہ رہا تھا

” پرسوں کوئ میرے سامنے بیٹھا کہہ رہا تھا کہ آنٹی مجھ سے ناراض ہیں “

وہ ہلکا سا ہنسی

” وہ ناراضگی نہیں تھی ، اگر تھی بھی تو وہ حق بجانب تھیں ” اس نے بے نیازی سے شانے اچکائے، سیاہ لمبی قمیص پر سیاہ دوپٹہ اوڑھے وہ بالآخر مطمئن لگتی تھی ، سب ٹھیک تھا، ہر پریشانی اب مٹنے لگی تھی

” یعنی اس گھر میں جو ساس بہو کی لڑائ ہونے کا امکان تھا وہ ختم ہوگیا چچ “

افسوس سے سر ہلایا ، اس نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا

” نندوں والی حرکتیں مت کریں ، بیچ میں پھنستے آپ ہی پھر “

” میں انجوائے کرتا ، سوچیں ذرا شام کو آفس سے واپس آتا اور میری بیوی اور ماں میرے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کی شکایتیں لگاتیں ، کیا سین ہوتا “

وہ جیسے سوچ کرہی محظوظ ہوا تھا ، وہ اب کے خفا ہوئ

” ایسی کوئ بات نہیں ہوتی ، میں اور آنٹی کبھی لڑائ نہیں کرتے ” عیسیٰ نے مسکراہٹ دبا کر اس کا خفا چہرہ دیکھا

” یہ دیکھنے کا موقع تو ضائع ہوگیا “

وہ جواب دیتی اس سے پہلے گیٹ سے آوازیں آنے لگیں ، ان دونوں کی نظر گیٹ پر گئ ، گارڈ کسی کو اندر آنے سے روک رہا تھا ، عیسیٰ کچھ اچھنبے سے آگے کو ہوا

” کون ہے راشد ؟”

” صاحب کوئ کریم صاحب ہیں کہہ رہے ہیں کہ قرت میڈم سے ملنا ہے “

وہ بند گیٹ کے پیچھے سے ہی بولا

” کون کریم صاحب ؟”

” تایا ۔۔۔” قرت کی ششدر آواز پر پیچھے مڑ کر اسے دیکھا

” آپ کے تایا ؟” وہ جو گم صم سی گیٹ کو دیکھ رہی تھی چونکی پھر سر ہلایا ، عیسیٰ نے واپس گارڈ کو دیکھا

” انہیں اندر لے آئیں “

وہ واپس اس تک آیا

” جواد کے والد ؟”

اس نے اب بھی سر ہلادیا، نظر گیٹ پر تھی ، کرہم تایا کچھ متذبذب سے چلتے ان کی طرف آرہے تھے ، وہ ان کے سامنے آئ اور سر جھکایا

” السلام علیکم تایا ” انہوں نے متذبذب انداز میں ہاتھ اس کے سر پر رکھا

” وعلیکم السلام بیٹا کیسی ہو ؟”

” ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ؟”

نرمی سے ان سے پوچھا تو وہ سر ہلاگئے ، عیسیٰ آگے بڑھا اور ہاتھ ملا کر انہیں سلام کیا

” اندر چلیں “

” نہیں نہیں بیٹے میں یہیں ٹھیک ہوں ، کچھ بات کرنی تھی آپ دونوں سے “

اس نے بے اختیار قرت کو دیکھا، وہ سمجھ رہا تھا کہ کیا بات کرنی تھی اور شاید وہ بھی

“بیٹھ کر بات کرتے ہیں “

صحن میں رکھی کرسیوں کی طرف اشارہ کیا تو قرت انہیں دیکھتی کرسیوں کی طرف بڑھی ، کرسیاں آمنے سامنے پڑی تھیں ، عیسیٰ انہیں بٹھانے کا کہتے اندر کی طرف بڑھا

” تمہارا شوہر اچھا آدمی ہے “

تایا کی بات پر وہ مسکرائ ، وہ شخص پہلی ہی ملاقات میں لوگوں کو متاثر کرنے کا فن جانتا تھا

” گھر میں سب کیسے ہیں تایا ؟”

” سب ٹھیک ہیں بیٹا ” عیسیٰ واپس آیا تو وہ خاموش ہوئے وہ قرت کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھا

” آپ کا زخم کیسا ہے ؟”

” پہلے سے بہتر ہے اب “

تایا نے سر ہلایا اور پھر سے خاموش ہوگئے شاید وہ جو بات کرنا چاہتے تھے وہ کرنہیں پارہے تھے

” آپ کو کوئ بات کرنی تھی تایا “

اس نے یاد دلایا تو وہ چونکے پھر سر اٹھا کر اسے دیکھا، چند لمحے اسے دیکھتے رہے پھر گہری سانس لی

” میں جواد کے بارے میں بات کرنے آیا تھا “

” کیا بات ؟”

” وکیل سے ملا تھا میں وہ کہہ رہا ہے کہ آپ لوگوں کی طرف سے اس کے خلاف ایف آئ آر درج کرائ گئ ہے اس لئے اسے ضمانت نہیں مل سکتی ، اس نے عیسیٰ کو گولی نہیں ماری بیٹا “

” جانتی ہوں “

” پھر بھی ؟”

وہ انہیں دیکھتی آگے کو ہوئ

” لیکن وہ وہاں اسی ارادے سے آیا تھا “

عیسیٰ بس خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا

” میں اس کی طرف سے معافی چاہتا ہوں ” ان کی گردن جھک سی گئ ،اسے بے پناہ افسوس ہوا ، وہ اس کے باپ کی جگہ پر تھے

” آپ اس کے عمل کے ذمہ دار نہیں ہیں اس لئے معافی بھی مت مانگیں “

جو چیز وہ اتنے دن نہیں سمجھ پارہی تھی ، اپنے ہی جملوں سے سمجھ گئ ، وہ کسی دوسرے کے عمل کی ذمہ دار نہیں تھی ،تایا بھی نہیں تھے ، ہر جان اپنا بوجھ خود اٹھائے گی

” نہیں بیٹا مانگنے دو معافی ، وہ آج میری تربیت کی وجہ سے جیل میں ہے ، وہ جو کرتا رہا میں نے کرنے دیا ، لاڈلا بیٹا تھا تو اس کے ہر عمل کو جائز سمجھتا رہا ، جس دن اس نے تم پر ہاتھ اٹھایا تھا اسی دن اس کے منہ پر رکھ کر دو تھپڑ مار دینے چاہئے تھے ” قرت کی آنکھوں میں اذیت ابھری ، سینے میں کوئ درد سا پھر سے ابھرا تایا اب بھی بول رہے تھے ” لیکن مجھے لگا وہ صحیح ہے ، غیرت مند ہے، مجھے یہ بھی بھول گیا کہ عورت پر ہاتھ اٹھانا غیرت کی نشانی نہیں ہوتی ، مجھے بہت سی باتیں بھول گئیں قرت ، اب یاد آرہی ہیں تو مجھے بہت دکھ دے رہی ہیں “

” ایسے مت کہیں تایا “

وہ تڑپ اٹھی

” مجھے معاف کردینا بیٹے ، وہ پندرہ دن سے جیل میں ہے ، میں نے کہہ دیا تھا کہ نہیں چھڑوائوں گا ، اس کی ماں وہاں رو رو کر پاگل ہورہی ہے ، بہنوں کا دکھ الگ ہے ، بات صرف میری ہوتی تو دل پر پتھر رکھ کبھی اس کا پتا کرنے نا آتا ، لیکن بات تو اس کی ماں کی ہے ، ماں کے دل کو کیسے سمجھائوں ؟ ، اسے معاف کردو بیٹا ” انہوں نے یکدم ہاتھ جوڑے تو وہ جھٹکے سے اٹھی اور ان تک آئ ، ان کے بندھے ہاتھ تھام لئے

” ایسے مت کریں تایا ، آپ میرے لئے میرے باپ کی جگہ پر ہیں “

” اپنے باپ کی جگہ پر سمجھ کر ہی اس بوڑھے کے بیٹے کو معاف کردو ، میں وعدہ کرتا ہوں وہ آئندہ تمہیں اپنی شکل تک نہیں دکھائے گا “

ان کی آنکھیں نم ہوگئیں ، اس کی آنکھوں کی نمی پہلے باہر نکلی ،وہ کوئ بھی منظر سوچ سکتی تھی لیکن یہ نہیں

” وہ میرا قصور وار تھا تو میں معاف کرتی ہوں تایا ، جتنی اذیت اس نے مجھے دی خدا کی رضا کیلئے معاف کرتی ہوں لیکن اس نے عیسیٰ کو مارنا چاہا اس کیلئے کیسے معاف کردوں ؟”

تایا کی نظر عیسیٰ پر گئ ، وہ بس خاموشی سے انہیں دیکھ رہا تھا

” اسے معاف کردیں عیسیٰ بیٹے ” اس نے گہری سانس لی پھر سر جھٹکا

” میرے لئے یہ مشکل ہے ، بات صرف آج کی نہیں ہے برسوں پرانی ہے ، جواد کا جرم صرف جسم پر زخم دینا نہیں ہے بہت سے زخم اس نے روح پر لگائے ہیں “

” آپ جسم کے زخموں کیلئے معاف کردیں ، روح کے زخموں کا معاملہ اللہ پر چھوڑدیں “

وہ خاموش ہوا ، نظر قرت پر گئ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ، آنکھوں میں آنسو اور بے بسی لئے ، عیسیٰ چند لمحے ان آنکھوں کو دیکھتا رہا ، وہ ان آنکھوں میں لکھے سوال جان جاتا تھا ، التجا پہچان جاتا تھا ، شکوے اس تک پہنچ جاتے تھے ، خواہشیں معلوم کرلیا کرتا تھا سو اب بھی وہ جان گیا ، وہ لڑکی اپنی باپ کی عمر کے شخص کے جڑے ہاتھ نہیں دیکھ سکتی تھی ، ان کی معافی رد نہیں کرسکتی تھی ، ان کی درخواست نظر انداز نہیں کرسکتی تھی ، وہ ان آنکھوں میں آنسو لئے عیسیٰ حیات سے اس کی زندگی مانگتی تو وہ بھی دے دیتا ،سو جو التجا اب ان آنکھوں میں تھی وہ کیسے رد کرتا

” میں دس منٹ میں آتا ہوں آپ ویٹ کریں ہم تھانے چل رہے ہیں ” کوئ فیصلہ کرتے وہ اٹھا ، قرت کی آنکھوں سے نمی پھسلی ، وہ اندر جا رہا تھا، وہ تایا کو وہیں بیٹھے کا کہہ کر تیزی سے اس تک پہنچی

” عیسیٰ ۔۔۔”

وہ رک گیا پلٹ کر اسے دیکھا ، قرت آنسو صاف کرتی اس تک آئ ، اس کا ہاتھ تھاما ، بنا ملازموں کی پروا کئے بنا کچھ سوچے غیر ارادی طور پر

” میں نہیں جانتی میں خدا کا شکر کن الفاظ میں ادا کروں ، آپ اس کی وہ نعمت ہیں جن کا میں الفاظ میں شکر ادا نہیں کرسکتی ، لیکن میں خدا سے دعا کروں گی کہ وہ قرۃ العین کو کبھی عیسیٰ حیات سے محروم نا کرے نا عیسیٰ حیات کو قرۃ العین سے” اس کا ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگایا ، عیسیٰ پل بھر کو ساکت رہ گیا ، پھر اس نے گہری سانس لی

” آپ مجھے ہر بار مجبور کردیتی ہیں کہ میں نئے سرے سے آپ کی محبت میں مبتلا ہوجائوں ، میرا ایک دل کتنی بار اپنے نام کریں گی ؟”

وہ بھیگی آنکھوں سے ہنس دی،

” جتنی بار کرسکی ۔۔۔” ایک ہاتھ سے آنسو صاف کئے

” قلب عيسى حیات خلق لقرة العين، وقلب قرة العين خلق لعيسى حیات

(عیسیٰ حیات کا دل قرۃ العین کے دل کیلئے بنایا گیا ہے اور قرۃ العین کا دل عیسیٰ حیات کے دل کیلئے) “

” یہ اچھا ہے ، آپ عربی میں کچھ بھی کہہ ڈالتی ہیں اور میں جان تک نہیں پاتا کہ میری تعریف تھی یا برائ “

وہ بدمزہ ہوا اور وہ پھر سے ہنس دی ، وہ کیا جانے اس نے عیسی علیہ کیلئے اجنبی زبان میں کون سا اظہار کیا تھا ، جان جاتا تو کیا کہتا ، وہ اس کا ہاتھ چھوڑتی پیچھے کو ہوئ

” عربی سیکھ لیں “

” آپ سکھادیں “

وہ مسکرایا

” اور بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟”

” بدلے میں ، میں بھی آپ کو کچھ سکھادوں گا “

” کیا ؟”

دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے وہ ہلکا سا اس کی طرف جھکا

” محبت ! “

دھیرے سے سرگوشی کی اور اندر کی طرف بڑھ گیا، وہ بس اس کی پشت کو دیکھ کر رہ گئ

وہ کیا جانے قرۃ العین محبت کب سے سیکھ چکی تھی

ملازمہ چائے اور باقی سب لے کر آرہی تھی تو وہ اس کے ہاتھ سے لے کر تایا کی طرف بڑھ گئ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°