Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 25)
Nahal By Fatima Noor
الماری کھولتے ہوئے اس نے وہ فائل باہر نکالی اور میز پہ رکھی
” آپی جلدی کریں نا ، آپ کے پاس ہی رکھا تھا آئ ڈی کارڈ ” مہر پیچھے سے کبھی وہاں جاتی کبھی یہاں ، کوئ چیز اِدھر پٹختی کوئ چیز اُدھر ،اسے پیپر کیلئے دیر ہورہی تھی
” پرسکون رہو لڑکی ، مل جائے گا ” وہ اندرونی خانہ کھولنے لگی ، نیچے کچھ ضروری سامان رکھا تھا ، پرانے کاغذ اور ایک چھوٹا سا ڈبہ ، اس نے ڈبہ اٹھایا ، بے دھیانی میں تیزی سے اسے کھولا اور پل بھر کو اردگرد سب رک گیا
اندر سفید کاغذ رکھا تھا ، موتیے کے سوکھے پھول جو اب زرد ہوچکے تھے ، سفید ادھوری تسبیح ، اس کا ہاتھ بے ساختہ تسبیح کی طرف بڑھا ، سفید ٹوٹی تسبیح ویسی ہی تھی ، نا اس نے جوڑنے کی کوشش کی تھا نا خواہش ، اس تسبیح کے ساتھ صرف وہی موتی آ سکتے تھے اور وہ موتی کسی اور کے پاس تھے ، شاید اس شخص نے وہ تسبیح مکمل کرلی ہو ، شاید اس نے نا کی ہو ، وہ اس کے سوکھے پتے گم کرچکی تھی ، اسے کسی اجنبی سے رابطے کا شوق نہیں رہا تھا نا انتظار
تسبیح پر جمی نظریں سفید پھولوں کی طرف مڑ گئیں، وہ اب زرد رنگ بھی کھو رہے ، ان کی خوشبو ختم ہوچکی تھی ، خوشبو سے جڑا کسی کا احساس باقی رہ گیا تھا ، اس اجنبی کا خط اب بھی اس کے پاس تھا ، جانے کیوں اس نے سنبھال کر رکھ لیا تھا ، وہ خط اب بھی ویسا تھا ،یا شاید ویسا نہیں تھا اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا تھا ،اس نے ڈبہ بند کردیا ، دل وحشت کا شکار ہوا تھا
” مل گیا ، رات کو کتاب میں رکھا تھا ، اف میرا بھلکڑ پن ” پیچھے سے مہر کہہ رہی تھی اس نے وہ ڈبہ اندر رکھا اور الماری کو بند کردیا ، یہ بند ڈبہ کھلنے پر زیادہ تکلیف دیتا تھا
، مہر چلی گئی تو اس نے دوبارہ شیلف پر رکھی کتابوں کو دیکھا ، اسے آج چھٹی تھی سو گھر کی صفائ کرنے لگ گئ ، کپڑا اٹھا کر کتابوں کو جھاڑنا ابھی شروع ہی کیا تھا جب نعمان صاحب اندر داخل ہوئے
قرت بہار شریعت کی چوتھی جلد اٹھا دو ۔۔۔۔”
انہوں نے شیلف پر رکھی کتابیں صاف کرتی قرت سے کہا ، جو کچھ سستی سے کام کررہی تھی، اس نے چوتھی جلد اٹھا کر ان کو دی اور دوبارہ سے کتابیں صاف کرنے لگی لیکن اسے احساس ہوا کہ ابا وہیں کھڑے تھے، مڑ کر انہیں دیکھا
” کوئ اور کتاب چاہئے ابا ؟”
انہوں نے نفی میں سر ہلایا اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ، اس نے ناسمجھی سے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھا، میز سے نیچی اتری ،وہ اسے لئے صوفے کی طرف بڑھے وہاں بٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گئے
” مجھ پر بھروسہ ہے قرت العین؟”
وہ ہلکا سا مسکرائ
” ہر انسان سے زیادہ “
” تو تم جانتی ہو نا کہ میں جو فیصلہ کروں گا تمہاری بھلائ کیلئے ہی کروں گا “
اس نے سر ہلادیا لیکن دل زور سے دھڑکا ، کیا انہوں نے جواد کے لئے ہاں کردی تھی ؟
” تو پھر تم بے فکر ہوجائو بیٹا ، کیونکہ تمہارا باپ تمہارے لئے کبھی غلط فیصلہ نہیں کرے گا ” اس نے تب بھی سر ہلادیا ، نعمان صاحب جیسے کچھ اور بھی کہنا چاہتے تھے لیکن خاموش ہوگئے ” جائو اپنی اماں سے کہو چائے بنادیں ” وہ اٹھی اور پھر رک کر ابا کو دیکھا
” ابا آپ بہت اچھے باپ ہیں “
” میں بہت اچھی بیٹی کا اچھا باپ ہوں ” وہ مسکرا دیئے، قرت بھی مسکرا کر چلی گئ ، نعمان صاحب چند لمحے دروازے کی طرف دیکھتے رہے پھر کتاب کو دیکھا ، اس پر گرد جمی ہوئ تھی ،شاید عرصے سے اسے کھولا نہیں گیا تھا ، انہوں نے گرد جھاڑتے کتاب کھول لی ، وہ درمیان سے کھل گئ ، اندر کوئ موٹا کاغذ پڑا تھا ، انہوں نے وہ کھولا، اس پر ایک فون نمبر اور ایڈریس لکھا تھا ، ساتھ کسی کا نام بھی ، نعمان صاحب چند لمحے اس کاغذ کو دیکھتے رہے ، کسی اجنبی شہر کا شناسا بن جانے والا شخص یاد آیا ، اس کے سوال ، اس کے جواب ، کسی کیلئے ان کے سامنے ملتجی ہوکر ٹھہرنا ، آخری بار اس کی آنکھوں کی بے بسی ، انہوں نے کتاب بند کردی ، دل اچاٹ ہوگیا تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ بائیک صحن میں کھڑی کرتا اندر داخل ہوا تو سامنے ہی فرزانہ تائ چارپائ پر لیٹی تھیں ، آنکھوں پر بازو رکھا ہوا تھا ، جواد اچھنبے سے ان تک آیا
” طبیعت ٹھیک ہے آپ کی ؟”
انہوں نے بازو ہٹایا اور اسے دیکھا
” تھک گئ ہوں کام کرکے “
وہ سستی سے اٹھ بیٹھیں
” کیوں ؟ ملازمہ نہیں آئ ؟”
” چھٹی پر ہے منحوس ، نا بہو کام کی ملی نا ملازمہ “
” دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کررہی ہیں آپ “
وہ ہنستے ہوئے دوسری چارپائ پر بیٹھا ، تائ نے اسے کڑی نظروں سے گھورا
” ایک صف میں بھی کھڑا نہیں کرسکتی ،پتا نہیں کیا دیکھ کر بیاہ لائے تھے اسے ،ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا تھا “
وہ تپی بیٹھی تھیں ، ملازمہ چھٹی پر تھی اور ماریہ دو دن ہوگئے میکے چلی گئ تھی ،سارا کام انہیں کرنا پڑا تھا
” خود ہی آپ لوگوں کو شوق تھا کہ ابراھیم صاحب کی اکلوتی بیٹی بیاہ کر لانی ہے ، ہوگیا شوق پورا ؟ میں اس کے پھوہڑ پن اور زبان درازی سے تنگ آگیا تھا “
وہ منہ بناتا بولا
” تمہارے ابا کو ہی شوق تھا ، ان کی جائیداد دیکھ کر ریجھ گئے ، کہاں گئ جائیداد ؟ ایک دکان کیا جلی وہ تو گویا کنگال ہوگئے ہیں، اور ان کی بیٹی الگ پھوہڑ نکلی ، نا ڈھنگ کا کام آتا نا کرنے والی تھی وہ ، الٹا بیٹی کا بوجھ الگ ڈال دیا “
” زینب کو نا لائیں بیچ میں ” وہ اکتایا ، بھلے بیٹی تھی لیکن اولاد تھی،دل موم ہوجاتا تھا ” اچھا چھوڑیں یہ سب، آپ یہ بتائیں ابا نے چچا سے بات کی ؟”
” کی تھی ، دو چار دھمکیاں بھی دے ڈالیں لگے ہاتھوں ، مجھے تو سچ مانو کوئ امید نہیں ہے نعمان سے ، چار سال پہلے نا بیاہ کردی اپنی بیٹی تو اب کیوں دے گا ؟”
” چار سال پہلے کی بات اور تھی اماں ، چچا کا غرور خاک میں مل گیا ہوگا اب تک ،دیکھتا ہوں کیسے نہیں بیاہتے اپنی بیٹی “
اس کے لبوں پہ استہزائیہ مسکراہٹ ابھری
” خواہمخواہ قرت کے پیچھے پڑ گئے ہو ، ہے کیا اس میں ؟ عام شکل وصورت کی لڑکی ہے ، اس سے زیادہ خوبصورت تو ماریہ ہے ، تمہارے چچا کے پاس تو کچھ ہے بھی نہیں جو جہیز میں دے “
ان کے ماتھے پر بل پڑے تھے
” آپ لوگوں کی سوچ جہیز سے آگے جاتی ہی نہیں ہے ” وہ افسوس سے سر ہلا کر رہ گیا ،تائ نے گھور کر مشکوک نظروں سے اسے دیکھا
” سچ بتاؤ کہیں پسند تو نہیں کرتے قرت کو ؟”
وہ چند لمحے اماں کو دیکھتا رہا پھر ایک دم قہقہ لگاگیا
” پسند ؟ اوہ میرے مولا ، میری بھولی ماں کیا کیا سوچتی ہے “
وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا ، فرزانہ کچھ خائف ہوئیں
” ہاں تو، چار سال سے یہی رٹ لگا رکھی ہے ، اب مجھے تو یہی وجہ سمجھ میں آئے گی نا “
جواد ہنسی پر قابو پاتا اٹھا
” پسند نہیں ہے اماں ، نفرت ہے ، چار سال پہلے تک منگیتر تھی ، اب نفرت کے سوا کچھ نہیں ہے ، پسند ہوتی تو کسی کی پرواہ بھی نا کرتا اسے حاصل کرنے کیلئے ، وہ میری بیوی کی حیثیت سے اس گھر میں ہوتی اس وقت ، لیکن یہ پسند ہرگز نہیں ہے ” اس کے چہرے پر نفرت کے باعث غضبناکی چھا گئ ” میری انا کو ٹھیس پہنچائ ہے اس نے ،وہ مجھے انکار کا اور میری تذلیل کا بدلہ چکائے گی “
نفرت سے پر لہجے میں کہتا وہ اندر بڑھ گیا ، اس کی لہجے کی تپش پر لمحہ بھر کو فرزانہ کا دل بھی ہولا گیا تھا لیکن پھر وہ خود کو پرسکون کرتی دوبارہ لیٹ گئیں ، ان کی بلا سے وہ قرت کے ساتھ جو بھی کرے ، انہیں تو مفت کی ملازمہ مل جائے گی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” بولو۔۔۔۔۔۔ “
موبائل کاندھے اور کان کے درمیان رکھے اس نے دوسرا ہاتھ بڑھا کر فائل اٹھائ ، شرٹ کے بازوں فولڈ کر رکھے تھے، وہ اس وقت شدید ترین مصروف تھا جب زین کی کال آئ
” میں خود کشی کرنے جارہا ہوں “
” جب کرلو تب بتانا ، ابھی میں مصروف ہوں “
اس نے کال کاٹ کر موبائل ٹیبل پر رکھا اور فائل کھول لی ، اگلے ہی پل دوبارہ سے کال آنے لگی
” کرلی ؟”
” میں مذاق نہیں کررہا، میں ابھی تھوڑی دیر تک خود کشی کرلوں گا “
” کال بھی تبھی کرلینا ” وہ موبائل بند کرنے لگا جب اسپیکر سے آواز گونجی
” آئ لو یو عیسیٰ ، تم میرے لئے ہر شے سے بڑھ کر ہو ، شاید میرے بھائیوں سے بھی بڑھ کر ، میں جنت میں جا کر سب سے زیادہ تمہیں مس کروں گا ، لو یو یارر “
کال کٹ گئ، وہ لمحے کو ساکت رہ گیا پھر سر جھٹکتے ہوئے فائل دوبارہ کھول لی،زین یقیناً مزاق کررہا تھا ، وہ لوگ کئ مرتبہ ایک دوسرے کو ایسے فون کرچکے تھے ، لندن میں ہر روز وہ ایسی پرینک کال جانے کتنوں کو کرتے تھے ، اب بھی یہ پرینک کال ہی ہوگی ، اس نے خود کو تسلی دی، البتہ ذہن منتشر ہوگیا تھا ، زین کی آواز بھاری کیوں تھی ؟ کیا وہ رو رہا تھا ؟ ابھی دس منٹ بھی نہیں گزرے تھے جب سہیل بھای کی کال آگئ
” السلام علیکم سہیل بھائی ” اس نے موبائل دوبارہ سے کاندھے پر رکھ لیا
” وعلیکم السلام عیسیٰ ، زین تمہارے ساتھ ہے ؟”
” نہیں ، ۔۔۔”
اس نے پین اٹھا کر ایک جگہ پر کچھ مارک کیا
” آخری مرتبہ کب ملے تھے اس سے ؟”
” چند دن پہلے۔۔۔۔۔وہ میرے آفس آیا تھا “
” بات کب ہوئ تھی اس سے آخری بار ؟”
” دس منٹ پہلے ، اس نے کال کی تھی ، عجیب باتیں کررہا تھا “
دوسری طرف تھوڑی دیر کیلئے خاموشی چھا گئ
” is everything alright?”
” زین رات سے گھر سے غائب ہے “
” آپ عمار یا ساحر وغیرہ سے پتا کروالیں ، وہ اکثر ان کے ساتھ اِدھر اُدھر جاتا رہتا ہے ” اس نے موبائل دوسرے کاندھے پر منتقل کیا ، لیپ ٹاپ آگے کیا اور فائل کو دیکھا
” ان کے ساتھ نہیں ہے ، ایکچولی اس کی کل رات بابا سے شدید لڑائ ہوئ ہے ، کچھ کہے بغیر نکل گیا ہے کہیں ، موبائل بھی آف ہے “
صفحہ پلٹتے عیسیٰ کے ہاتھ رک گئے
” کچھ بتایا نہیں اس نے ؟”
” نہیں ، عجیب سچویشن ہوگئ ہے ، وہ بزنس جوائن کرنا چاہتا ہے اور ڈیڈ کو اس کے لاابالی پن سے چڑ ہے ، دوبارہ اگزیم بھی نہیں دینا چاہتا ، یہ لڑکا پتا نہیں چاہتا کیا ہے ” وہ شاید غصے میں تھے
” ریلیکس سہیل بھای میں پتا کرواتا ہوں “
” پلیزز۔۔۔۔ “
اس نے کال بند کرکے زین کو کال ملائ ، نمبر بند تھا ، کچھ سوچ کر اس نے عمار کو کال کی
” زین تمہارے ساتھ ہے ؟”
” نہیں ، میری تو دو ہفتے سے بات بھی نہیں ہوئ “
وہ آگے بھی کچھ کہہ رہا تھا لیکن اس نے کال کاٹ دی ، یکدم ڈھیروں پریشانی نے اسے آ گھیرا تھا ، ابھی چند دن پہلے ہی تو وہ اس سے ملا تھا ، غصے میں جھنجھلایا ہوا سا ، اور ابھی دس منٹ پہلے ہی بات ہوئ تھی اس سے ، عیسیٰ کے ذہن میں جھماکا سا ہوا
” ڈیڈ نے اس بار کچھ کہا تو میں خود کشی کرلوں گا “
” میں خود کشی کرنے جارہا ہوں “
” آئ لو یو عیسیٰ “
اس کا پورا وجود لمحوں میں ہلا تھا تو کیا وہ مزاق نہیں کررہا تھا ؟
” نو نو زین ، نوو “
لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے وہ جھٹکے سے اٹھا ، کوٹ پیچھے سے جھپٹ کر اٹھایا ، تیزی سے لفٹ کی طرف بڑھا ، بٹن دبایا ،لفٹ کھلی اور وہ فورا اندر داخل ہوا ، باہر سے کوئ اور اندر آتا اس سے پہلے ہی اس نے بٹن دبا دیا
زین کو کال ملائ لیکن اس کا نمبر مسلسل بند تھا ، ماتھے کو ایک ہاتھ سے مسلتے ہوئے اس نے دوسرے ہاتھ سے ٹائ ڈھیلی کی ، زین اس وقت کہاں جاسکتا تھا ؟ کوئ جگہ جہاں وہ ایک ساتھ نا گئے ہوں ؟ کوئ جگہ جہاں اس نے کبھی ایسے ارادے کیلئے جانے کا اس نے ذکر کیا ہو؟ کوئ جگہ ….؟ کوئ ایسا مقام۔۔۔۔۔؟ ماتھے کو مسلتا ہاتھ رکا ، لفٹ کھل گئ تھی اس نے گہری سانس لیتے ہوئے تیزی سے پائوں باہر نکالے
ریسیپشنسٹ فورا آگے بڑھی
” سر بیس منٹ تک آپ کی نعیم گردیزی سے میٹنگ ہے، ان کی کال آئ تھی ،میں ۔۔۔”
” کینسل کروا دو ” وہ چابی نکالتے ہوئے باہر کی طرف جارہا تھا
” جی سر؟ ۔۔لیکن وہ میٹنگ اہم تھی “
” i said cancal the meeting, did you hear me ?”
وہ رک کر پیچھے مڑا اور کڑے تیوروں سے اسے گھورا
” yes sir “
وہ فورا گھبرا کر رکی ، عیسیٰ نے اس کا جواب نہیں سنا تھا ، وہ تیزی سے باہر کی طرف جارہا تھا
” میں جانتا ہوں وہ کہاں ہے “
سہیل بھای کو میسج کرتے ہوئے اس کے قدم تیزی سے گاڑی کی طرف جارہے تھے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” تم نے تو کہا تھا کہ تم خودکشی کرنے جارہے ہو ؟” زین نے چونک کر پیچھے دیکھا ، جیبوں میں ہاتھ ڈالے عیسیٰ پیچھے کھڑا تھا ، ٹائ ڈھیلی تھی اور چہرے پر ڈھیروں افسوس تھا
” آدھے گھنٹے کیلئے ارادہ ملتوی کردیا ہے ، سوچا پہلے تھوڑے سے نیک کام کرلوں ،کہیں ایسا نا ہو کہ فرشتہ سیدھا جہنم میں لے جائے “
اس نے رخ موڑ لیا
” سو یہاں مارگلہ پر بیٹھ کر تم کون سا نیک کام کررہے ہو ؟”
” کیوں تمہیں میرے ہاتھ میں تسبیح نظر نہیں آرہی ؟”
چمک کر ہاتھ میں پکڑی ڈیجیٹل تسبیح دکھائ ، وہ سر جھٹکتے ہوئے آگے بڑھا اور اس کے ساتھ بینچ پر بیٹھا
” مرنے کیوں جارہے تھے ؟” کہنیاں گھٹنوں پر رکھے اس نے رخ موڑ کر زین کو دیکھا
” کل رات ڈیڈ نے اچھی خاصی سنادی ، انہیں لگتا ہے میں ایک ناکارہ انسان ہوں جو نا سی ایس ایس پاس کرسکا نا بزنس سنبھال سکتا ہے ، ٹھیک ہے میں اتنا ہی ناکارہ ہوں تو سوچا خود کو ختم ہی کرلیتا ہوں ، سب کو اہمیت پتا چل جائے گی “
” اہمیت جتانے کا یہ واحد طریقہ نہیں ہے “
” آخری ضرور ہے “
” پہلے دوسرے راستوں پر تو چل لو “
” چل لیا یارر ، اب تھک گیا ہوں ، پیرنٹس یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہماری ناکامی سب سے زیادہ ہماری ہی ہوتی ہے ، دکھ بھی سب سے زیادہ ہمیں ہوتا ہے ، وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ بچوں کی ناکامیوں پر انہیں طعنے دینا بچوں کو کتنا ڈسٹرب کرتا ہے ” سر بینچ کی پشت سے لگائے وہ واقعی تھکا ہوا لگ رہا تھا ، عیسیٰ نے رخ موڑ لیا وہ سامنے دیکھ رہا تھا ، مغرب کے قریب کا وقت تھا سو سورج غروب ہونے والا تھا ، ڈوبتا سورج ، پہاڑی ، زین کے ہاتھ میں موجود تسبیح ، بہت کچھ تھا جو اسے بیک وقت یاد آیا تھا ، گلے میں گلٹی سی ابھری
” سی ایس ایس میں ایک بار ناکام ہونا میری زندگی کا سب سے بڑا غم بن گیا ہے، دوسری بار ناکام ہونا سب سے بڑا خوف ، اور ڈیڈ اسی غم اور خوف کو بار بار تازہ کردیتے ہیں ، وہ سمجھتے کیوں نہیں ہیں کہ میں اپنی خوشی سے فیل نہیں ہوا تھا “
عیسیٰ چند لمحے خاموش رہا پھر وہ بولا تو اس کی آواز دھیمی تھی
” ہماری زندگی میں کوئ نا کوئ غم ایسا ضرور ہوتا ہے جس سے ہم کبھی مووآن نہیں کرسکتے ، بہت کوشش کے باوجود بھی نہیں “
” پھر انسان کیا کرے ؟”
وہ مایوسی سے پوچھ رہا تھا
” اس غم کے ساتھ رہنا سیکھ لے کیونکہ بعض غم کبھی نہیں بھرتے “
” غموں کے ساتھ رہ کر کون کامیاب ہوتا ہے ؟”
” یہاں ہر شخص کوئ نا کوئ غم لئے پھر رہا ہے زین، بظاہر چھپا ہوا لیکن دل کے کسی کونے میں موجود وہ غم کبھی کبھی بہت بڑا بن جاتا ہے ، ہر کسی کی زندگی میں یہ ایک غم ضرور ہوتا ہے ، کچھ نا ملنے کا غم ، کچھ مل کر کھوجانے کا غم ، ناکامی کا غم ، یہ ہر کسی کی زندگی میں ہوتا ہے ، اور بہت سے لوگ اس غم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تم بھی ان بہت سے لوگوں میں سے بن جائو ، “
” میں نے کوشش کرکے دیکھ لیا ہے میں کامیاب نہیں ہوسکتا ، مجھے لگتا ہے میں اس بار بھی فیل ہوجائوں گا “
” آخری کوشش تو نہیں کی نا ؟ ابھی تمہارے پاس ایک موقع اور ہے، جب وہ بھی ضائع ہوجائے تب آکر خود کشی کرلینا “
زین کے سارے موڈ کا ستیاناس ہوا
” یہ نہیں کہ مجھے روک لو کہ کچھ بھی ہو جائے خود کشی نہیں کرنی چاہے “
” میں کیوں روکنے لگا ؟ اگلی بار مجھے کال کرکے ڈسٹرب مت کرنا جب خود کشی کرلو تب بتانا ، اور پلیز کسی اور جگہ پر جاکر کرنا ، خواہمخواہ پرانے زخم ادھیڑ دیئے ” آخر میں وہ بہت ہلکا سا بڑبڑایا
” میں پھر بھی یہیں آئوں گا ،” وہ چمک کر کہتا سیدھا ہوا اور سامنے دیکھا ، پھر کتنی ہی دیر وہ دونوں خاموش رہے
” کیا میں ایک اور کوشش کرلوں، ایک آخری کوشش ؟”
” جب تک تمہارے پاس موقع ہے تب تک کوشش کرو “
اس کی نظر زین کے ہاتھ میں تھامی تسبیح پر گئ
” اور ڈیڈ ؟”
” تمہیں کب سے لوگوں کی پرواہ ہونے لگی زین ؟” وہ حیران ہوا تھا ، زین ہلکا سا ہنسا
” ایک نا ایک کی پرواہ ہر کسی کو ہوتی ہے ، کوئ نا کوئ ایک ہوتا ہے جسے ہم کامیاب ہو کر دکھانا چاہتے ہیں ، کوئ نا کوئ ایک ہوتا ہے جس کے سامنے ناکام ہونے سے ڈر لگتا ہے ، میرے لئے وہ انسان ڈیڈ ہیں “
” اور وہ تمہارے ڈیڈ ہیں ، ماں باپ واحد وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہمیں ہر ناکامی اور کامیابی کے ساتھ قبول کرتے ہیں ، عرصہ لگا لیکن میں نے یہ بات جان لی، اب اگر دماغ جگہ پر آ گیا ہو تو چلیں ؟ میری بہت امپورٹنٹ میٹنگ کینسل کروائ ہے تم نے” وہ زین پر ایک تاسف بھری نظر ڈال کر اٹھ کھڑا ہوا
” میں نے کہا تھا کہ مجھے بچانے آئو ؟ “
اس نے شانے اچکائے
” جیسے میں تو جانتا ہی نہیں ہوں کہ تم نے مجھے فون کس لئے کیا تھا “
” الوداع کرنے کیلئے کیا تھا “
تڑخ کر کہا
” جنہیں جانا ہوتا ہے وہ الوداع کہنے کا تکلف نہیں کیا کرتے ، اور جو الوداع کہنے کیلئے رک جائیں اس کا مطلب ہے کہ وہ چاہتے ہیں انہیں روک لیا جائے “
” اسی کوئ بات نہیں ہے ، میں ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ تم یہاں آئو ، اپنی مرضی سے آئے ہو ورنہ میں اب تک اس دنیا سے جا چکا ہوتا “
” بہت اچھے ، ابھی بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے ، جائو واپس ، میں ایک غلطی دوبار نہیں دہراتا “
وہ بیچ راستے میں رک گیا تو زین گڑبڑایا
” ایسے ہی خود کشی کرلوں ؟ ابھی ابھی اتنی نیکیاں کما کر آرہا ہوں ، خود کشی کرلی تو حرام موت ساری ضائع کردے گی “
” کون سی نیکیاں؟ جو تم نے تسبیح کے بٹن دبا کر حاصل کی ہیں ؟جبکہ تم کچھ پڑھ نہیں رہے تھے “
زین کا چہرہ سرخ ہوا
” میرے اعمال پر شک مت کرو ، میں دل میں پڑھ رہا تھا ، اور اب چلو ادھر سے ، اپنے باپ کی ایک اور ڈانٹ سننی ہے مجھے “
وہ آگے بڑھ گیا ،عیسیٰ جوابا کچھ بڑبڑا کر رہ گیا
دنیا میں سب سے زیادہ آسان دوستوں کو موٹیویٹ کرنا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ مشکل بھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” مرفوع حدیث کی تعریف یہ ہے زہرہ ؟،موضوع حدیث کی تعریف بھی غلط ہے “
سترہ سالہ زہرہ نے سر اٹھا کر بے چارگی سے سامنے بیٹھی قرت کو دیکھا
” باجی جان، میرے ذہن میں الفاظ مکس ہوگئے تھے “
قرت نے رجسٹر بند کیا اور سے دیکھا
” اپنا ذہن کلاس میں رکھا کریں، چلیں جائیں اسے دوبارہ یاد کریں میں تھوڑی دیر تک سنتی ہوں آپ سے “
نرمی سے اسے کہتے ہوئے سامنے پڑا دوسرا رجسٹر کھول لیا ، وہ اپنا رجسٹر اٹھا کر واپس آگئ اور منتہیٰ کو دیکھا
” تمہارا ٹیسٹ بھی غلط تھا نا ؟”
” ہاں “
” تو یاد کیوں نہیں کررہیں؟”
” کیونکہ مجھے معلوم ہے قرت باجی ماریں گی نہیں “
وہ ڈھٹائ کی حد تک مطمئن لگ رہی تھی، زہرہ نے سر اٹھا کر قرت کو دیکھا ، اس نے سیاہ عبائے پر سیاہ ہی حجاب لے رکھا تھا ، گندمی چہرے پر محسوس کی جانے والی نرمی تھی ، آنکھیں بھی اتنی ہی نرم ، وہ بہت کم مسکراتی تھیں لیکن یہ نرمی اس نے کبھی ان کے چہرے سے الگ ہوتے نہیں دیکھی تھی ، وہ مارتی نہیں تھی ، ڈانٹتی بھی زیادہ نہیں تھی ، نرمی سے تنبیہہ کرتی ، کوئ چھوٹی سی سزا دیتی اور سمجھا کر واپس بھیج دیتیں ، اسے پورے مدرسے میں یہ باجی سب سے زیادہ پسند تھیں
” یہ تو میں بھی جانتی ہوں لیکن ڈانٹ تو پڑے گی “
اس نے رخ موڑ کر واپس منتہیٰ کو دیکھا
” میں پیدائشی ڈھیٹ واقع ہوئ ہوں ، اس لئے مجھے چھوڑو اور اپنا سبق یاد کرو “
وہ ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہتی کتاب پر جھک گئ ، زہرہ ہنہہ کرکے رہ گئ
” منتہیٰ ، کتاب لے آئیں “
منتہیٰ نے یکدم گڑبڑا کر سر اٹھایا ، اسے لگا تھا باجی بھول گئ ہوں گی ،اللہ۔۔۔ اس نے تو سبق یاد ہی نہیں کیا تھا ، مرے مرے قدموں سے وہ اٹھی کھاجانے والی نظروں سے مسکراتی ہوئ زہرہ کو دیکھا اور کتاب لے کر باجی کے حوالے کیا
” مقطوع حدیث کون سی ہوتی ہے ؟”
” آااا۔۔۔وہ حدیث جسے خود بخود گھڑلیاجائے “
قرت نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
” غلط مت پڑھیں، موضوع حدیث کا بتائیں “
” وہ جو تابعی سے مروی ہو “
زبان دانتوں تلے دبا لی ، جواب غلط تھا ، قرت نے کتاب بند کی اور اس کی طرف بڑھا دی
” کل آپ حدیث کی ساری اقسام یاد کرکے آئیں گی ، میں سب سنوں گی ، ٹھیک ؟”
” جی ۔۔” اس کی پھنسی پھنسی آواز نکلی
” جائیں اب ” ، قرت نے اپنا بیگ اٹھا کر ایک نظر کلاس پر ڈالی ، دس منٹ تک چھٹی ہوجاتی اور اسے ابھی جانا تھا مدرسے سے دس منٹ کے فاصلے پر مہر کا کالج تھا اسے چھٹی ہوتے ہی وہاں سے لینا تھا، واپسی پر پھپھو کے گھر جانا تھا ، ماہ نور کی آج مہندی تھی
