Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 6)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 6)
Nahal By Fatima Noor
گاڑی سگریٹ کے دھوئیں سے بھر چکی چکی تھی لیکن اس نے پھر بھی ونڈو کھولنے کی زحمت نہیں تھی
شہوار سے ہونے والی بحث کے بعد وہ گاڑی لے کر سڑکوں پر یونہی آوارہ گردی کرتا رہا ، اور اب پچھلے ایک گھنٹے سے وہ سر سیٹ سے ٹکائے سگریٹ پھونک رہا تھا
” آئ ایم سوری عیسیٰ ۔۔۔۔”
شہوار کی آواز کان کے پردے سے ٹکرائ تو اس نے سر جھٹکا
” نہیں مام ، اتنی آسانی سے نہیں “
وہ واپس چلا جائے گا تو ایک بار پھر سب سے رابطہ ختم کرلے گا ، جانے وہ خود کو سزا دے رہا تھا یا اپنے ماں باپ کو ، لیکن اب وہ ایسے ہی جیئے گا ، اسے اب ان دونوں کی ضرورت نہیں رہی تھی ، وہ لوگوں کے بغیر رہنا سیکھ چکا تھا
لیکن دور اندر دل کے کسی کونے میں وہ آج بھی ان دونوں کو مس کرتا تھا، وہ آج بھی ان کی توجہ چاہتا تھا ، لیکن اس کی انا ہر بار بیچ میں آجاتی تھی ، وہ اپنے ماں باپ کو ان کے بغیر جی کر دکھائے گا اگر یہ سزا تھی تو عیسیٰ حیات نے اپنے ماں باپ کیلئے یہ سزا چن لی تھی
☆☆☆☆☆☆
” تو آپ کے کہنے کا مطلب ہے طلاق ثلاثہ پر پیدا ہونے والے مسئلے کا ذمہ دار معاشرہ ہے ؟ حالانکہ یہ اختلاف تابعین کے دور سے چلا آرہا ہے “
” میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ اس مسئلے کا ذمہ دار معاشرہ ہے ، میں نے یہ کہا ہے کہ اس بارے میں عوام کو شعور نا دینے کا ذمہ دار معاشرہ ہے ،خاص کر میڈیا “
” وضاحت کریں گی ذرا۔۔۔۔۔؟ “
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور سامنے بیٹھی لڑکیوں کو دیکھا
” آج کا دور میڈیا اور سوشل میڈیا کا دور ہے ، عوام کی اکثریت ڈرامے دیکھتی ہے اور اکثریت ناولز پڑھتی ہے ، آپ نے ہر دوسرے ڈرامے میں دیکھا ہوگا کہ لڑکا ایک ہی جگہ پر کھڑے ہوکر لڑکی کو ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ” کے الفاظ کہہ دیتا ہے ، یہی چیز ناولز میں بھی دہرائ جاتی ہے ، ایک قاری یا ایک سامع یہ اثر قبول کرتا ہے اور غصے کی حالت میں وہ بھی اس کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے ، یعنی اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دینا
یہ چیز ہم اپنے اردگرد بھی دیکھتے ہیں ، ہر دوسرے روز خاندان یا باہر کسی نا کسی کے بارے میں پتا چلتا ہے کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ، ہمارے ہاں اکثریت کو یہ بھی نہیں معلوم کہ طلاق تین مہینوں میں الگ الگ کرکے دی جاتی ہے اور دی جاسکتی ہے ، کیونکہ انہیں ہر جگہ سے یہی دیکھنے کو اور یہی سننے کو ملا ہے کہ طلاقیں تین ہی دی جاتی ہے ، وہ طلاق رجعی طلاق بائنہ اور طلاق مغلظہ سے واقفیت ہی نہیں رکھتے ٫ اس کی وجہ آپ دین سے دوری بھی کہہ سکتے ہیں ٫ فرائض سے ناواقفیت بھی اور معاشرے کو بھی ، جیسا کہ میں نے کہا اس کی بڑی وجہ ہمارا میڈیا بھی ہے جو اس ٹرینڈ کو پرموٹ کررہا ہے ، لوگ وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے اردگرد دیکھتے ہیں وہ تین طلاقیں دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے اردگرد یہی دیکھا ہوتا ہے”
” اس طرح آپ سارا الزام میڈیا پر ڈال رہی ہیں قرۃ العین ، دین سکھانا میڈیا کا کام نہیں ہے ، وہ وہی دکھائیں گے جس سے ان کی ریٹنگ آتی ہے ، اور تین طلاقیں دکھانا ان کی ریٹنگ کا ایک ذریعہ ہے “
” پہلی بات تو یہ کہ میں سارا الزام نہیں آدھا الزام میڈیا پر ڈال رہی ہوں، آدھا الزام میں اپنے علماء پر ڈالنا چاہوں گی ،معذرت کے ساتھ لیکن ہمارے ہاں علماء تین طلاقیں ہوتی ہیں یا نہیں ؟ اس پر بحث کریں گے٫ اختلاف کریں گے لیکن کوئ طلاق رجعی کو عام کرنے کیلئے کوشش نہیں کرے گا ، اگر طلاق رجعی کے متعلق آگاہی پھیلائ جائے تو تین طلاقوں کا مسئلے سرے سے ختم ہوجائے گا ، اور جہاں تک بات دین سکھانے کی یا میڈیا ریٹنگ کی ہے تو یہ اسلامی ملک ہے باجی جان ، یہاں اسلام موجودہے علماء بھی موجود ہیں ، انہیں کم از کم اس بارے میں ایکشن لینا چاہئے ، یہ فقہاء اور علماء کا فرض ہے کہ وہ اس بارے میں اصلاحات نافذ کروائیں “
مجمعے میں تھوڑی دیر خاموشی رہی اور پھر تالیوں کی گونج ابھری ، سٹیج پہ کھڑی قرت العین ہلکا سا مسکرائ
” بہرحال اس بات سے تو ہم بھی اتفاق کرتے ہیں کہ طلاق رجعی سے متعلق آگاہی دے جائے تو تین طلاقوں سے متعلق مسئلہ کافی حد تک حل کیا جاسکتا ہے ، میڈیا سے متعلق بھی آپ کی بات کچھ حد تک درست تھی ، ماشاء اللہ علم میں وسعت پیدا ہو “
وہ جزاک اللہ کہتے ہوئے اسٹیج سے اتری اور نیچے کہ طرف بڑھ گی
” قرت العین ہمیں یقین تھا کہ آپ مایوس نہیں کریں گی، بارک اللہ فیکم “
” جزاک اللہ باجی جان ” وہ مسکرا کر کہتے ماریہ کے ساتھ آ بیٹھی
” میدان مار لیا تم نے “
“جزاک اللہ ” نرم سی مسکراہٹ سے اس نے توجہ سامنے کی طرف کرلی جہاں اب کوئ اور لڑکی اسی مسئلے سے متعلق بات کررہی تھی
☆☆☆☆☆☆☆
” آئ ایم سوری ینگ مین ، میں کلینک میں تھا ، اس لئے لیٹ ہوگیا “
وہ جو سامنے لگی پینٹنگ کو غور سے دیکھ رہا تھا چونکا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو ڈاکٹر طاہر غزنوی اندر داخل ہورہے تھے
وہ دادا کے بیسٹ فرینڈ تھے اور ایک مشہور سائیکائٹرسٹ بھی ، بچپن میں جب وہ شدید ذہنی تنائو سے گز رہا تھا تو دادا اسے ان کے پاس لے کر آئے تھے ، پھر اس کے ٹھیک ہونے کے بعد بھی اکثر عیسیٰ اور دادا ان سے ملنے آتے تھے
” اٹس اوکے ، میں ابھی ہی آیا ہوں ” وہ رکا ۔۔” سوری مجھے آپ سے اپائنمنٹ لے کر آنا چاہئے تھا “
” سوری ایکسپیٹڈ ، لیکن کیا تم علاج کرانے آئے ہو ؟”
” نہیں “
” پھر اپائنمنٹ کس لئے لیتے بھئ ؟”
وہ بس ہلکا سا مسکرادیا ، طاہر غزنوی اپنی سٹڈی ٹیبل سے گزر کر چیئر پر بیٹھے اور عیسیٰ کو دیکھا ، اس نے بلیک جینز پر بلیک ہی شرٹ پہنی ہوئ تھی ، حلیہ فارمل سا تھا یوں جیسے اچانک ہی ان سے ملنے کا پروگرام بن گیا ہو
” تم تو بالکل اپنے دادا جیسے ہو “
” عادات میں؟”
” شکل وصورت میں۔۔۔۔۔ کالج کے زمانے میں اس پر بیسوں لڑکیاں مرتی تھیں ، اور وہ بھی ہر ایک کو لفٹ کراتا تھا ، اپنا بتائو ، تمہارا سکور کتنا ہے ؟”
وہ محظوظ سا ہنس دیا
” نیور مائنڈ ، لیکن عادات میں بھی میں دادا پر گیا ہوں ، فرق صرف اتنا ہے کہ میں چند ایک کو ہی لفٹ کراتا ہوں “
سٹڈی میں طاہر غزنوی کا قہقہہ گونجا ،عیسیٰ اب ان کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ چکا تھا
” تم سے مل کر شاہنواز کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ، اس کے جانے کے بعد تو ملنا ہی چھوڑ دیا تم نے “
وہ شکوہ کناں ہوئے
” میں انگلینڈ چلا گیا تھا “
” پتا چلا تھا مجھے ، اب کیا کررہے ہو ؟”
” دوبارہ سے انگلینڈ جانے کی تیاری “
طاہر صاحب چونکے
” خیریت ؟”
اس نے سر ہلادیا
” یونہی ، شاید پاکستان سے دل اکتا گیا ہے ، سوچا جانے سے پہلے آخری بار آپ سے مل لوں “
” میں کیونکہ فلحال بیمار نہیں ہوں اس لئے مجھے اپنے مرنے کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ، سو یہ میری طرف سے تو آخری بار نہیں ہے ، “
” یہ میری طرف سے آخری بار ہے ، شاید میں دوبارہ پاکستان نا آؤں “
” لیکن میں انگلینڈ آسکتا ہوں ، بہر حال کیا پیوگے ، جوس یا کافی ؟”
” کافی ۔۔۔۔”
وہ ان کے سامنے تھوڑا تکلف برتتا تھا یا شاید ان کمفرٹیبل ہوجاتا تھا، وہ اس کے بچپن کے ٹراماز سے واقف تھے ، انہوں نے انگلینڈ کے ری ہیبلیٹینشن سنٹر میں اسے دیکھا تھا جب وہ وہاں مریضوں کی نفسیاتی حالت پر دوسرے ڈاکٹرز کے ساتھ دورے کیلئے گئے تھے ، اس کے بعد وہ ان سے ملنے سے کترانے لگا ،گو انہوں نے کبھی اس سے ذکر نہیں کیا تھا، وہ اکثر کہتے تھے کہ جب کسی کے زخم بھرجائیں تو ان کے بارے میں پوچھا نہیں کرتے ، ہمارے لئے وہ محض سوال ہوتے ہیں ، سامنے والے کیلئے عذاب ہوتے ہیں ، لیکن پھر بھی عیسیٰ حیات اب لوگوں سے دور ہوگیا تھا
” مام ڈیڈ کیسے ہیں تمہارے ؟”
” ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔”
تھوڑی دیر وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے ، دادا کے قصے٫ عیسیٰ اور ان کی ملاقاتیں ، پھر جب ملازم کافی لے کر آیا تو انہوں نے خود اس کیلئے نکالی
” مجھے یہ کڑوی کافی کبھی پسند نہیں آئ ، پتا نہیں تیمور کو کیا نظر آتا ہے اس میں ، یہ نا رکھی ہوتی تو میں تمہیں چائے پلاتا ۔۔”
وہ چائے کے شیدائ تھے اور عیسیٰ چائے پسند نہیں کرتا تھا
” میں پانی پینا زیادہ پسند کرتا “
وہ مسکراتے ہوئے اپنے سامنے رکھا کپ اٹھانے لگا تو رک گیا ، سر اٹھا کر طاہر انکل کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہے تھے
” مجھے خوشی ہے تمہیں یہ کپ یاد ہے “
” یہ اب تک آپ کے پاس ہے ؟”
وہ حیران ہوا تھا
” میں چیزیں سنبھال کر رکھتا ہوں ، خاص کر وہ چیزیں جو دوسروں کو عزیز ہوں ، تم نے ان کپس کیلئے کتنی ضد کی تھی ، پورا بازار سر پر اٹھالیا تھا “
اس نے مسکرا کر سر جھٹکا ، بچپن میں ایک بار وہ دادا اور طاہر انکل کے ساتھ کسی گائوں میں ہونے والے میلے میں گیا تھا ، وہاں اسے یہ کپ اتنے پسند آئے تھے کہ اس نے وہیں بیٹھ کر ضد ڈال دی کہ اسے وہی کپ چاہئیں ، دکاندار ان کو فروخت کرنے کیلئے تیار نہیں تھا کیونکہ وہ اس نے خود کیلئے بنوائے تھے اور اس نے محض ڈسپلے کیلئے رکھے ہوئے تھے لیکن کیونکہ طاہر انکل سے اس کے خاص تعلقات تھے سو ان کے کہنے پر دکاندار بیچنے کیلئے رضامند ہوگیا ، طاہر انکل وہ اپنے ساتھ لے گئے ، وہ آسمانی رنگ کے کپس تھے جن پر کسی سمندر کا منظر بنا ہوا تھا، نیلا پانی ، نیچے سے اوپر جاتی موجوں کا سا منظر، عیسیٰ جب بھی ان کے گھر جاتا وہ انہیں کپس میں اسے کافی دیتے ، دادا کی وفات کے بعد اس نے طاہر انکل سے ملنا تقریبا چھوڑ دیا تھا
” چاہو تو اپنے ساتھ لے جاسکتے ہو ، میرے پاس یہی ایک بچ گیا ہے “
” یہ آپ اپنے پاس رکھیں انکل ، میرے پاس گیا تو ٹوٹ جائے گا “
” تم نے اس کیلئے بہت ضد کی تھی عیسیٰ ” وہ اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولے ، وہ گیارہ بارہ سالہ عیسی اب کہیں نہیں تھا ،اس کی جگہ سنجیدہ سے تاثرات والا جوان لڑکا بیٹھا تھا
” مجھے یاد ہے ، مجھے یہ پہلی ہی نظر میں پسند آ گئے تھے “
” دوسری نظر میں۔۔۔۔ “
” جی ؟” اس نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا
” تم پہلی نظر ان پر ڈال کر آگے بڑھ گئے تھے تھوڑی دور جا کر تم نے دوسری مرتبہ انہیں دیکھا تھا ، تم وہ دوسری نظر نا ڈالتے تو کبھی انہیں لینے کی ضد نا کرتے ” وہ نا سمجھی سے انہیں دیکھے گیا
” لیکن پسند تو پہلی نظر میں آئے تھے تبھی تو دوسری نظر ڈالی تھی “
” پہلی نظر میں ان کپس نے تمہیں اپنی طرف متوجہ کیا تھا ، دوسری نظر میں تم نے انہیں پسند کرلیا “
” آپ کا مطلب ہر چیز انسان کو دوسری نظر میں پسند آتی ہے پھر پہلی نظر کا کیا ؟”
طاہر صاحب چند لمحے اسے دیکھتے رہے اور پھر آگے کو ہوئے
” میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں لڑکے !
پہلی نظر بے اختیار ہوتی ہے
دوسری نظر پر اختیار ہوتا ہے
اگر تم اختیار کھودو گے تو قلب کھودو گے
” قلب یعنی ؟”
بوڑھا فلسفی آگے کو ہو کر مسکرایا
” قلب یعنی ۔۔۔۔دل “
سٹڈی میں خاموشی چھا گئ ، پھر عیسیٰ نے گہری سانس لی اور شانے اچکائے
” آپ کی بعض باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں “
” ممکن ہے ایک دن تم سمجھ جائو “
” ممکن ہے میں نا سمجھوں ؟”
اس کا انداز چیلنجنگ تھا
” تمہیں مجھ پر یقین کرنا چاہئے ، ایک بزرگ کے تجربے کو تم جھٹلا نہیں سکتے “
” واٹ ایور ۔۔۔۔۔”
اس نے سر جھٹکا
وہ تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھا رہا اور پھر اٹھ کر واپس آگیا اس کے جانے کے بعد طاہر غزنوی نے سامنے رکھے کپ کو دیکھا ان کے چہرے پر دکھ تھا
” اوہ عیسیٰ، یہ تم نے خود کو کیا بنادیا ہے ؟ “
☆☆☆☆☆☆☆
اگلے چند دن ان کے یوں گزرے کہ نا کچھ سوچنے کا وقت ملا نا کہیں جانے کا ، سوموار کی صبح فجر کے بعد ان کی واپسی تھی اس لئے اتوار کی شام کو مدرسے کی جانب سے تمام لڑکیوں کو مارگلہ ہلز لے جایا گیا ، موبائل لانے کی جازت انہیں نہیں دی گئ تھی، اس لئے وہ تصویریں نہیں لے سکی ، لیکن وہاں ان پہاڑوں پر گھومتے جیسے وہ ایک پل کو اردگرد سے بے نیاز ہوگئ ، جانے وہ اپنے اندر کیسا طلسم رکھتے تھے کہ جانے والے وہیں کھوجانا پسند کرتے
” چلو قرت ، سب جارہے ہیں “۔۔۔۔
وہ جو محو ہوکر سورج کو دیکھ رہی تھی ماریہ کی آواز پر چونکی ، ایک نظر سورج کو دیکھا جو ڈوبنے کے قریب تھا اور دوسری نظر ماریہ پر ڈالی
” تم لوگ چلو ، میں بس پانچ منٹ میں آتی ہوں “
” دماغ ٹھیک ہے ، بس فورا روانہ ہوجائے گی ، چلو بس اب “
” ماریہ پلیززز ، بس یہ سورج کو دیکھ لوں ، پلیززز ، ” اس کا لہجہ ملتجیانہ ہوگا ، ماریہ کو چاروناچار ماننا ہی پڑا
” پانچ منٹ بس ۔۔۔۔، “
اس نے تیزی سے سرہلادیا ، ماریہ چلی گئ تو وہ دوبارہ سورج کو دیکھنے لگی جو ڈوبنے لگا تھا ، وہ منظر اس کا پسندیدہ ترین تھا ، بنا ہلے وہ صدیوں ایسے منظر دیکھ سکتی تھی ، جب سورج ڈوب چکا تو اس نے اردگرد دیکھا ، وہاں کوئ بھی نہیں تھا سب جاچکے تھے، قرت کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ،
اس نے تسبیح ہاتھ میں پکڑی ایک مرتبہ پھر اِدھر اُدھر دیکھا کسی کے نا ہونے کا اطمینان کیا اور دونوں ہاتھ فضا میں بلند کئے آنکھیں بند کرلیں ہلکی ہلکی سی ہوا جس سے اس کا عبایا پھڑپھڑا رہا تھا، بلند پہاڑ، دور سے آتی پرندوں کی ہلکی سی چہک، وہاں سکون تھا اور عجب سا سکون تھا، اس کا دل چاہا یونہی یہاں آنکھیں بند کئے کھڑی رہے دنوں ، مہینوں ، سالوں ،صدیوں تک، یہاںنتکہ وہ پتھر بن جائے اور وہاں آنے والے سیاح اسے دیکھ تعجب سے پوچھیں ” کیا کسی مغل دور کے مجسمہ ساز نے یہاں قیام کیا تھا اور اپنے وقت کی شہزادی کا مجسمہ تراش کرگزر گیا ؟
لا حول ولا قوة الا باللہ “
جھٹ سے آنکھیں کھولیں اور اپنے خیال پہ خود کو سرزنش کی ، وہ بھی کیا عجیب عجیب سوچنے لگی تھی ایک آخری نظر پہاڑوں پر ڈالی اور مڑنے ہی لگی تھی کہ پائوں کسی پتھر سے ٹکرایا ،اس نے توازن قائم رکھنے کی کوشش کی لیکن پائوں پھسلا ،اس کے منہ سے یکدم چیخ نکلی، موت کے خوف سے آنکھیں بند کیں اور خود کو گرنے کیلئے تیار کرلیا ،اقر یہ تبھی تھا جب کسی نے اسے ہاتھ سے تھاما ،وہ ہوا میں جھول گئ
” اللہ اللہ ربی اللہ اللہ ربی ” کا ورد ورد کرتے اس نے خوفزدہ آنکھیں کھولیں وہ زمین اور آسمان کے درمیان میں معلق تھی ایک پائوں زمین پر جبکہ دوسرا ہوا میں تھا،اور کسی نے اسے ہاتھ سے تھام رکھا تھا ، قرت نے خوفزدہ آنکھیں کھول کر یکدم اس لڑکے کو دیکھا اور پھر اس کے ہاتھوں میں مقید اپنے ہاتھ کو
اوپر کھینچیں پلیز ” آنکھوں میں ڈھیروں ہراس خوف اور آنسو لئے اس نے عیسیٰ کو مخاطب کیا، وہ جو ایک لمحے خود بھی فریز ہوگیا تھا یکدم حواسوں میں لوٹا نظریں بے اختیار دستانے میں چھپے اس کے ہاتھ پر گئیں جس میں تسبیح تھی ، وہ چند لمحے اس کے ہاتھوں کو دیکھے گیا پھر چہرہ اوپر اٹھایا
” تم وہی ہو نا جس نے مجھے مال میں اپنے ہاتھ پکڑنے سے منع کیا تھا ؟ “
آنکھیں سکوڑ کے غور سے اسے دیکھا گوکہ اس نے برقعے کے اوپر نقاب لے رکھا تھا اور اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں لیکن وہ پھر بھی اسے پہچان گیا تھا قرت نے روہانسا ہو کر اسے دیکھا
” اوپر کھینچیں خدارا ۔۔۔۔” عیسیٰ نے اسے اوپر نہیں کھینچا
” تم وہی ہو مجھے یاد ہے “
اس نے نیچے دیکھا اور سرخ پڑتی آنکھوں سے اپنا ہاتھ پکڑے لڑکے کو وہ کیا کہہ رہا تھا؟ وہ موت کے منہ میں کھڑی تھی اور وہ جانے کس ملاقات کا تذکرہ کررہا تھا
” مجھے نہیں معلوم آپ کیا کہہ رہے ہیں “
وہ بار بار خوف سے نیچے دیکھتی
” میں یاد دلا دیتا ہوں، تمہیں ٹکر لگی تھی مجھ سے اور میں نے تمہیں سہارا دینے کیلئے تمہارا ہاتھ پکڑا تو تم نے سختی سے جھٹک دیا یہ کہہ کر کہ مجھے ہاتھ مت لگائیں ، اب کیا خیال ہے اب بھی میں نے تمہیں ہاتھ لگا رکھا ہے “
استہزائیہ انداز میں اس کے ہاتھ کو دیکھا اور قرت کو یکدم یاد آیا کہ وہ کون تھا ،اس نے اس لڑکے کی شکل غور سے نہیں دیکھی تھی لیکن اسے واقعہ یاد تھا
” آپ یہ سب مجھے اوپر کھینچ کر بھی کہہ سکتے ہیں “
” اووہوں ،، یونو مجھے اس لئے تمہاری جیسی لڑکیاں شدید نا پسند ہیں، موقع کے مطابق خود پر لبادے اوڑھنے والی ،اب تم مرنے لگی ہو تو تمہیں کوئ اعتراض نہیں کہ میں تمہارا ہاتھ پکڑ لوں انفیکٹ اگر میں تمہیں اوپر کھینچوں گا تو تم میرے سینے سے آ کر لگو گی اور تمہیں اس پر بھی کوئ اعتراض نہیں ہوگا ، لیکن اس دن تمہیں اس بات پر اعتراض تھا کہ میں نے تمہیں ہاتھ کیوں لگایا حالانکہ تب بھی تمہاری مدد کیلئے ہی لگایا تھا، سو مین نا؟ “
وہ افسوس سے سر ہلاکر کہہ رہا تھا ،قرت کو شدید ترین رونا آیا
” آپ کو مدد کرنی ہے تو کریں ورنہ چھوڑدیں مجھے ،ایسے اذیت نا دیں “
اس کا ہاتھ اب درد کرنے لگا تھا جسم خوف سے کانپ رہا تھا اس پر مستزاد یہ اذیت کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا اور جانے کیا کیا کہہ رہا تھا
” تو تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں چھوڑدوں تاکہ تمہارے قتل کا الزام مجھ پر آجائے ؟ناٹ بیڈ لیکن۔۔۔۔لیکن افسوس تمہاری یہ خواہش پوری نہیں ہوگی ، ڈیئر لیڈی میں تمیہں اوپر کھینچ رہا ہوں دھیان رکھنا کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا تم ڈائریکٹ میرے سینے سے آ کر لگوگی “
وہ قدرے کمینگی سے مسکرایا اور اسے جھٹکا دے کر اوپر کھینچا قرت نے اوپر ہوتے ہی اپنے دونوں ہاتھ فورا آگے کئے ،اس کے ہاتھ عیسیٰ کے سینے سے ٹکرائے اور وہ خود فوراً دائیں طرف ہوگئ ،عیسیٰ ہلکا سا پیچھے ہوا ،اسے امید نہیں تھی کہ وہ اس طرح کا کچھ کرے گی
” نائس لیکن میں متاثر نہیں ہوا “
داد بھرے انداز میں زمین پہ بیٹھی لڑکی کو دیکھا جو گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ، جس کے گلے میں موجود سیاہ کارڈ جھول رہا تھا ، ،عیسیٰ کی آواز پر آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا اور یہ دوسری بار تھا جب عیسیٰ کی آنکھیں اس کی بھوری آنکھوں سے ٹکرائیں
“پہلی نظر بے اختیار ہوتی ہے
دوسری نظر پر اختیار ہوتا ہے
اگر تم اختیار کھودو گے تو قلب کھودو گے
” قلب ؟” !
بوڑھا فلسفی آگے کو ہو کر مسکرایا
” قلب یعنی ۔۔۔۔۔دل!”
آنکھیں طلسم ہوتی ہیں ، آنکھیں سحر ہوتی ہیں ، یہ مسحور کرتی ہیں اور فنا کردیتی ہیں ، آنکھیں الفاظ ایک نظر میں بیاں کرتی ہیں ، ایک نظر میں چھین لیتی ہیں ، آنکھیں قہر ہوتی ہیں ، آنکھیں کسی صوفی کا رقص ہوتی ہیں ، آنکھیں شاعر کا دیوان ،فلسفی کا راز ، سپاہی کی تلوار ، بادشاہ کا ہتھیار ہوتی ہیں بادشاہ اپنی سلطنت لٹا دیں آنکھیں ایسا خزانہ ہیں ، بعض آنکھوں پر جنگیں لڑی جاسکتی ہیں ، تخت وارے جاسکتے ہیں ، ملک قربان کئے جاسکتے ہیں ، ایسی آنکھوں والے پر آنکھوں کا پردہ لازم ہے ، ایسی آنکھوں والوں پر آنکھوں کا چھپانا فرض ہے
” کیا تم میں کچھ احساس ہے ؟” وہ نیچے بیٹھی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لئے اس سے کہہ رہی تھی، عیسیٰ نے گہری سانس لیتے اپنی نظریں پھیریں۔۔۔۔افف وہ آنکھیں !
بالوں میں ہاتھ پھیر کر سر جھٹکا اور نیچے گری جوس کی بوتل اٹھا کر اس کی جانب بڑھائ قرت نے بوتل نہیں لی ، ہاتھ سے آنسو صاف کرتے وہ اٹھنے لگی اور یہ تبھی تھا جب اسے احساس ہوا کہ اس کی تسبیح کے موتی بکھر گئے تھے اس کا دل یکدم تھما
اوہ خدایا ، میری تسبیح “
جھٹ سے تسبیح والا ہاتھ آگے کیا اس کے موتے نہیں بکھرے تھے بلکہ تسبیح ٹوٹ گئ تھی ایک حصہ اس کے ہاتھ میں تھا اور دوسرا جانے کہاں تھا ،اس کا دل ڈھیروں اذیت سے دوچار ہوا، ٹوٹی تسبیح بیگ میں ڈالی اور دوسرا حصہ ڈھونڈنے کیلئے گھاس میں ہاتھ مارنے لگی ، چند موتی سامنے بکھرے تھے اس نے جھٹ سے انہیں اٹھالیا ، لیکن اس کی آدھی تسبیح ٹوٹی تھی باقی موتی کہاں تھے ؟
” یہاں زہریلے کیڑے بھی ہوتے ہیں “
وہ اسے ہاتھ ادھر ادھر مارتے دیکھ بے اختیار بولا
” انسانوں کے زہر سے پھر بھی کم ہوتا ہوگا ان کا زہر “
وہ آنسو صاف کرتی تسبیح ڈھونڈتی یہاں وہاں ہاتھ مار رہی تھی، عیسیٰ کے ماتھے پر بل پڑے کیا وہ یہ اس کے بارے میں کہہ رہی تھی ؟
” یو آر رائٹ ،انسان کے الفاظ اور آواز زیادہ زہریلی ہوتی ہے، بلکل جیسے مجھے تمہاری آواز زہر کی مانند سنائ دے رہی ہے ” لحاظ تو اس نے کبھی اپنے ماں باپ کا بھی نہیں کیا تھا
قرت نے کوئ جواب نہیں دیا وہ تسبیح ڈھونڈتی رہی ٫ بس تسبیح مل جائے اسے٫ خدایا نہیں وہ اس کیلئے قیمتی تھی ،اسے دیکھتے عیسیٰ کو اب کوفت ہونے لگی، ایک تسبیح ہی تو تھی گم ہوگئ تو کیا ہوا دوسری لے لیتی
” تم دوسری لے لینا ایک تسبیح ہی تو ہے “
اففف کیا اس کا دماغ کچھ زیادہ اونچا سوچنے لگا تھا؟ ، لیکن وہ یہ سوچ ہی کیوں رہا تھا ؟بلکہ وہ یہاں کھڑا ہی کیوں تھا؟ اسے یہاں سے جانا چاہئے ، اندھیرا پھیل رہا تھا اس وقت یہاں ٹھہرنا خطرے سے خالی نہیں تھا ،اس نے یہ صرف سوچا لیکن وہاں سے گیا نہیں
تسبیح ڈھونڈتی قرت نے ہاتھ روک دیے ، ہلکا ہلکا اندھیرا اب بڑھ رہا تھا ، دور کہیں سے مغرب کی اذان آرہی تھی ٫وہ وہاں بیٹھ کر تسبیح ڈھونڈ لیتی اگر اندھیرا نا ہورہا تھا ، اگر نیچے سب اس کا انتظار نا کررہے ہوتے ، تو ہاں وہ تسبیح ڈھونڈ لیتی لیکن وہ تسبیح وہاں نہیں تھی وہ گم ہوگئ تھی ، وہ اب اسے کبھی نہیں ملے گی وہ جانتی تھی گم ہوجانے والی چیزیں چند منٹوں میں نہ ملیں تو وہ پھر کبھی نہیں ملا کرتیں اور اس سوچ نے اس کے رونے کی رفتار کو مزید تیز کیا٫ وہ وہیں چہرہ ہاتھوں میں گرائے رونے لگی عیسیٰ کو اسے دیکھتے دکھ ہوا کیوں ہوا وہ نہیں جانتا تھا لیکن اسے دکھ ہوا تھا ،اس نے سوچا وہ اسے کوئ تسلی دے لیکن اسے تسلی دینا نہیں آتی تھی
“اتنی کوئ خاص تسبیح بھی نہیں تھی ویسے “
کہنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہ تسلی نہیں تھی
نیچے بیٹھی قرت کو روتے روتے یکدم احساس ہوا کہ وہ وہاں اس مرد کے ساتھ تنہا تھی اردگرد جنگل اور سنسان علاقہ ان دونوں کے علاوہ وہاں کوئ نہیں تھا، اس نے ہاتھ چہرے سے ہٹائے آنسو صاف کئے اور بیگ اٹھایا ،نیچے سے بس کے ہارن کی آوازیں آرہی تھیں کھڑے ہو کر ایک نظر اردگرد دیکھا ،جانے سے پہلے آخری ، نظر شاید جو کھویا تھا وہ اس ایک آخری نظر میں مل جائے ،ہاں شاید مل جائے بہت دیر ڈھونڈنے پر جو نہ ملا وہ ایک آخری نظر ڈھونڈ لے !
لیکن وہ نہ ملا اس نے آنسو ضبط کرتے نظریں اٹھا کر سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا ،چلتے ہوئے اس کے سامنے آئ جسم کی ساری حسیات پائوں کی طرف متوجہ ہوگئیں، شاید جو کھویا تھا وہ پائوں کے نیچے کہیں آ جائے ڈھیروں قدم جو نہ ڈھونڈ سکے وہ چند قدم ڈھونڈلیں
” بہت شکریہ میری جان بچانے کیلئے لیکن میں دعا کروں گی اب ہماری ملاقات دوبارہ کبھی نہ ہو “
زخمی لہجے میں کہتے ہوئے وہ پلٹ گئ جسم کی ساری حسیات خاموش ہوگئیں امید۔۔۔ تلاش۔۔۔۔ خواہش ۔۔سب ترک کردیئے !
پیچھے کھڑے عیسیٰ کا چہرہ ہلکا سا سرخ ہوا ،ایک تو اس کی جان بچائ تھی اوپر سے وہ اسے ایٹیٹیوڈ دکھا رہی تھی ،, سمجھتی کیا تھی خود کو ؟
” مجھے بھی کوئ شوق نہیں ہے تم سے دوبارہ ملنے کا بلکہ میں زندگی میں دوبارہ تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہوں گا “
پیچھے سے چلا کر کہا لیکن وہ اسی طرح سر جھکائے چلتی رہی یہانتکہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئ ٫اس کے جانے کے بعد عیسیٰ نے سر جھٹکا ،جوس کی بوتل وہیں پھینکی اور موبائل نکالا ہی تھا کہ اسے کچھ احساس ہوا ٫اس کی شرٹ پر بٹنوں کے بیچ کچھ اٹکا ہوا تھا، موبائل واپس جیب میں ڈالتے ہوئے اس نے شرٹ کا بٹن کھولا اور وہ چیز نکالی
” اوہ۔۔۔۔ “
وہ تسبیح تھی شاید جب اسے اوپر کھینتے وقت اس نے عیسیٰ کے سینے پر ہاتھ رکھے تھے تو وہ تسبیح اس کی شرٹ کے بٹن سے الجھ گئ ہوگئ٫اس نے بے اختیار مڑ کر پیچھے دیکھا وہ جا چکی تھی٫ ٹوٹی تسبیح ہاتھ میں پکڑے اس نے چند لمحے کو سوچا کہ اس کے پیچھے جائے یا نہیں لیکن پھر کاندھے اچکاتے ہوئے وہ تسبیح جیب میں ڈال دی
ایک ٹوٹی تسبیح ہی تو تھی !
☆☆☆☆☆☆☆
” حد ہوتی ہے قرت ، کب سے انتظار کررہے ہیں آپ کا اس قدر غیر ذمہ داری ، بیٹھیں اب “
وہ نیچے آئ تو باجی جان بس سے باہر کھڑے ہوکر اس کا انتظار کررہے تھے ، ان کی ڈانٹ خاموشی سے سن کر وہ اندر چلی گئ ،اختتام پر بیٹھی ماریہ نے اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا تو وہ اس کی طرف بڑھ گئ ، وہ جانتی تھی کہ قرت کو ونڈو سیٹ پر بیٹھنا پسند تھا سو اس نے پہلے ہی اس کیلئے وہ سیٹ رکھی ہوئ تھی
” پانچ منٹ ہاں ؟ بیس منٹ ہوگئے ہیں ” اس نے کچھ نہیں کہا بس کھڑکی سے باہر دیکھے گئ
” کون سا مائونٹ ایورسٹ سر کرنا تھا ؟ ، یعنی ضروری تھا کیا رکنا وہاں ؟ پتا بھی ہے کتنی ڈانٹ پڑی ہے مجھے ، خاموش کیوں ہو اب بولو بھی ؟” ، ۔۔” بولتے بولتے اسے احساس ہوا کہ قرت خاموش تھی
” ایم سوری ، میری وجہ سے ڈانٹ پڑی تمہیں ” اس کا لہجہ بھیگا ہوا تھا
” قرت تم رو رہی ہو ؟۔۔۔” ماریہ اس کی طرف مڑی
” نہیں ۔۔”
” قرۃ العین ” ماریہ نے اس کا رخ اپنی طرف موڑا ” کیا ہوا ہے ، بتائو مجھے ؟”
قرت نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ، اس کی آنکھیں رونے کے باعث سرخ ہورہی تھیں
” میری تسبیح ماریہ۔۔۔۔ “
” کیا ہوا تسبیح کو ؟”
، وہ کھو گئ ، ان پہاڑوں پر میں نے اسے کھو دیا ” ماریہ کا دل دھک سے رہ گیا
” کیا ؟؟؟ کیسے ؟”
” میں نہیں جانتی کیسے ، وہ میرے ہاتھ میں تھی ، چند لمحوں میں گم ہوگئ ، میں نہیں جانتی کیسے ” وہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رودی
” قرت ۔۔۔” ماریہ نے دکھ سے کہتے ہوئے اسے گلے سے لگالیا
” میں نے اسے کیسے کھودیا ماریہ ؟ “
” سب ٹھیک ہے ، تم نئ لے لینا “
” نئ چیزوں کے آجانے سے پرانی چیزوں کا غم مٹ جاتا ہے ؟ ، میرے لئے اب اس تسبیح کی جگہ کوئ نہیں لے سکتا “
ماریہ چند لمحے کو خاموش ہوگئ
” اچھا ٹھیک ہے ، تم رو تو نہیں ، سب دیکھ رہے ہیں کیا سوچیں گے ؟ “
اس نے روتے روتے سر ہلایا ، ماریہ سے الگ ہوئ اور آنسو صاف کرتے دوبارہ سے باہر دیکھنے لگی پھر پورا راستہ وہ خاموش رہی ، ماریہ باربار فکرمندی سے اسے دیکھتی لیکن وہ چپ تھی
