Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 18)
Nahal By Fatima Noor
عیسیٰ چلا گیا تو اس نے جھکا سر اٹھا کر ابا کو دیکھا وہ تھکے تھکے قدموں سے صوفے پر بیٹھ رہے تھے
” بہت غلط کررہے ہیں بھائ آپ ٫ جواد یا عیسیٰ ،آپ کے پاس دو ہی آپشن ہیں “
” میرے پاس ایک خدا بھی ہے زاہد “
” یہ سب باتیں ہیں بھائ صاحب ٫ جو بدنامی پھیل چکی وہ ان باتوں سے مٹ نہیں جائے گی “
نعمان صاحب خاموش بیٹھے زمین کو گھورتے رہے ٫ زاہد چچا نے کچھ دیر انتظار کیا کہ وہ کچھ کہیں گے لیکن وہ خاموش ہی رہے ٫ انہوں نے گہری سانس لے کر چچی کو جانے کا اشارہ کیا ٫ وہ ایک ترحم بھری نظر ان سب پر ڈال کر چچا کے پیچھے چلی گئیں
ان کے جانے کے بعد قرت ختم ہوتی ہمت اکٹھی کرتی نعمان صاحب کے پاس آئ ٫ دھیرے سے ان کے قدموں میں بیٹھی اور ان کا ہاتھ تھاما
” مجھے معاف کردیں ابا “
نعمان صاحب نے جھکا سر اٹھایا
” یہ نا کرتیں قرت ۔۔۔۔یہ نا کرتیں “
اس کے آنسو تیز ہوگئے
” مجھے معاف کردیں۔۔۔۔”
” تمہیں مجھے بتانا چاہئے تھا “
” میں ڈر گئ تھی ابا ۔۔۔۔قرت العین ساری زندگی ڈرتی رہی ٫اس کا ڈر سچ بن کر آگیا “
وہ ہچکیوں سے روئے گئ
سامنے والے صوفے پر بیٹھی سعدیہ نے آنکھوں سے ہاتھوں کو ہٹا کر اسے دیکھا ٫ چند لمحے دیکھتی رہیں پھر جھٹکے سے اٹھ کر اس تک آئیں اور اسے پکڑ کر کھڑا کیا
” سچ بتانا قرت ٫ اس لڑکے سے کیا تعلق ہے تمہارا ؟ “
وہ اسے تھامے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھ رہی تھیں
” آپ کو بھی یہی لگتا ہے کہ یہ سچ ہے ؟”
اسے صدمہ ہوا
” جھوٹ ہو یا سچ تم نے ہمارے سر پر خاک تو ڈال دی نا ٫ ہمیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا “
وہ اسے جھنجھوڑ کر پوچھنے لگیں، آواز کانپ گئ
” جواد جھوٹ کہتا ہے اماں ٫ میرا سچ کمزور ہے ٫ اس کا جھوٹ مضبوط ہے لیکن میں سچ کہہ رہی ہوں ٫ میرا عیسیٰ سے کوئ تعلق نہیں ہے “
” پھر ملنے کیوں گئ تھیں اس سے ” ہاتھ چھوڑتے اسے پٹخا قرت لڑکھڑا گئ
” میں نہیں جانتی تھی ۔۔۔میں نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔بازار میں ماریہ نے بتایا کہ عیسیٰ وہاں بازار میں مجھ سے ملنے آیا ہے ۔۔۔اس نے عیسیٰ سے وہاں آنے کا کہہ رکھا تھا ٫ میں نے منع کیا تو اس نے اپنی قسم دی ٫ میں قسم سے نہیں ڈری اس بدنامی سے ڈر گئ جو عیسیٰ کے یہاں رہنے پر میری ہوتی ٫ میں ڈر گئ کہ سب کو پتا چل جائے گا ٫ مجھے لگا اسے سمجھادوں گی ٫ بخدا میں اسے سمجھانے گئ تھی ٫ سمجھانے گئ تھی کہ وہ میرے پیچھے آنا بند کردے ٫ وہ اپنے ساتھ بدنامی لے کر آیا تھا میں اسے کہنے گئ تھی وہ واپس چلا جائے ٫ نہیں جانتی تھی جس چیز کے ساتھ وہ آیا ہے وہ اپنے لئے چننے گئ تھی “
وہ وہیں بیٹھتی روتی چلی گئ سعدیہ کھڑے کھڑے آنسو بہائے گئیں نعمان صاحب صوفے پر خاموش بیٹھے رہے بیٹھک میں اس کی ہچکیاں گونجنے لگیں پھر ان میں دوسری آواز ابھری
” مجھے شروع سے بتائو سب “
اس نے سر اٹھا کر ابا کو دیکھا
” وہ کہتا تھا کہ وہ یہاں میرے لئے آیا ہے ۔۔۔۔”
وہ آہستہ سے سب بتاتی گئ ٫اسلام آباد کی ملاقاتیں ٫ اس کا یہاں آنا ٫ اس کے گھر کے باہر رکنا ٫ ہر شے بنا کچھ چھپائے بار بار رک جاتی آواز ٹوٹ جاتی زبان لڑکھڑا جاتی لیکن وہ مسلسل بولتی گئ
” تم مجھے بتاتیں قرت ۔۔۔مجھے تو بتادیتیں “
” میں ڈر گئ تھی ابا ۔۔۔میں ڈر گئ تھی “
” تمہارا ہر ڈر سچ نکلا قرت ۔۔۔تمہارا ہر ڈر سچ نکلا ” وہ وہیں بیٹھے بیٹھے بڑبڑائے پھر آہستہ سے اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گئے ٫ سعدیہ اسی طرح روتی رہیں
” مجھے معاف کردیں اماں …”
” تم نے ہمارے سر پر خاک ڈال دی قرت ،اس خاک پر آگ بھابھی چھڑکیں گی٫ تم مر کیوں نا گئیں تم پیدا ہوتے مر کیوں نا گئیں قرت “
سعدیہ تھک کر روتے صوفے پر ڈھے سی گئیں، اس کا ہچکیاں کھاتا وجود رک گیا
” مر کیوں نا گئیں ؟” زیر لب بے یقینی سے بڑبرایا ٫ پھر اماں کو دیکھا
کیا ابھی موت آنا باقی تھی ؟ یہ زندگی ابھی مزید چلنی تھی ؟
” آپی۔۔۔۔۔۔”
اس نے رخ موڑ کر دروازے میں کھڑی مہر کو دیکھا وہ روتے ہوئے اس تک آرہی تھی ہاتھ میں چند دوائیاں اور کاٹن تھا
“ابا نے کہا ہے آپ کو چوٹ لگی ہے ،زخم صاف کردوں ” کاٹن اور دوائ رکھ کر وہ اس کے ساتھ بیٹھی ،اس نے اماں کو دیکھا پھر مہر کے ساتھ رکھی دوائ کو
” دل کا زخم صاف کرسکتی ہو مہر ؟”
وہ جو اس کا نقاب ہٹا رہی تھی قرت کی بڑبڑاہٹ پر اسے دیکھا وہ آنکھوں میں ڈھیروں حزن لئے اسے دیکھ رہی تھی ،مہر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی آنسو حلق میں اٹکے ٫ اس نے ایک بار پھر سعدیہ کو دیکھا پھر مہر کو اور دھیرے سے اٹھی
” دل کا زخم ہی نہیں بھرے گا تو جسم کے زخموں کی پرواہ کسے ہے “
وہ اسی بڑبڑاہٹ کے ساتھ بیٹھک کے دروازے کی طرف بڑھی
کیا ابھی موت آنا باقی تھی ؟
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیبن میں بیٹھ کر سموسے کھاتی ماریہ نے جواد کو آتے دیکھا تھا اور پھر ساتھ والے کیبن کا پردہ ہٹاتے بھی ، اس کا رواں رواں ساکن ہوا ، پھر جھٹ سے پرس اٹھایا اور باہر گئ ،کیبن سے اونچی اونچی آوازیں آرہی تھیں ٫ لڑکھڑاتے قدموں سے وہ ابھی باہر نکلی ہی تھی جب نظر سامنے کھڑے علی پر گئ ٫ اس لمحے اس نے جانا روح نکلنا کسے کہتے ہیں، اس سے بدتر یہ ہوا کہ علی نے اسے دیکھ لیا تھا وہ اپنے دوستوں کو وہیں چھوڑتا اس تک آیا، کسی موت کےفرشتے کی طرح وہ اسےاپنی طرف آتا دیکھے گئ
” یہاں کیا کررہی ہو تم ؟”
اس کے پاس آکر سختی سے اس کی کہنی کو تھاما، ماریہ کے الفاظ گم ہوگئے وہ بس ساکت نظروں سے علی کو دیکھے گئ علی نے کھینچ کر اسے اپنے ساتھ گھسیٹا اور وہ جیسے ہوش میں آئ
” بھائ ۔۔۔۔”
” خبردار گھر جانے تک تمہارے منہ سے ایک لفظ بھی نکلا تو زندہ زمین میں گاڑھ دوں گا “
وہ غرایا تو اس کے باقی الفاظ منہ میں دب گئے
گھر پہنچنے تک وہ مسلسل دعائیں کرتی رہی قرت کے ساتھ کیا ہوتا اسے فلوقت اس کی فکر نہیں تھی اس کے ساتھ کیا ہوتا اسے یہ چیز ڈرا رہی تھی
گھر پہنچ کر علی نے کار کا دروازہ کھول کر کھینچ کر اسے باہر نکالا اور گھسیٹتے ہوئے اندر لے جانے لگا
” بھائ۔۔۔۔۔پلیز بات تو سنیں ” خوف سے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اس نے خود کو چھڑانا چاہا علی بنا سنے اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لایا اور پٹخا
” کیا کررہی تھیں وہاں پر ؟” اس کا منہ دبوچا، ماریہ اندر تل ہل گئ
” میں ۔۔۔۔۔”
” بکواس کی تو جان سے ماردوں گا سچ بولنا ماریہ اسی لڑکے سے ملنے گئ تھیں نا تم ؟”
اس کا منہ دبوچے وہ سرخ پڑتی آنکھوں سے پوچھ رہا تھا
” میں ۔۔۔گئ تھی لیکن ۔۔۔” باقی الفاظ منہ میں رہ گئے علی نے اس کا چہرہ چھوڑ کر گردن کو پکڑا
” بے حیا عورت جان سے ماردوں گا میں تمہیں “
وہ اس کی گردن تھامے غرارہا تھا٫اس کی آواز پھنس گئ ٫ آنکھیں وحشت سے ابل پڑیں ٫چہرہ سفید پڑنے لگا ٫ ہاتھ اٹھا کر اسے پیچھے کرنا چاہا لیکن اسے ہلا تک نا سکی ٫ وہ عورت تھی کمزور تھی٫ وہ مرد تھا مضبوط تھا
” بھ۔۔بھائ ” اس کا دم گھٹنے لگا ٫ اسی لمحے بلقیس اندر داخل ہوئیں اور اندر کا منظر دیکھ کر ان کے قدموں تلے زمین نکل گئ ٫ سفید پڑتی ماریہ اور اس کا گلا تھام کر ٹھہرا علی ٫ وہ جھپٹ کر اس تک پہنچیں
” چھوڑو اسے۔۔۔چھوڑو “
اس کے بازوؤں پر ہاتھ مارتے ماریہ کو چھڑانا چاہا اس کی گرفت ویسی رہی
علی چھوڑو ۔۔۔۔خدا کا واسطہ چھوڑدو “
وہ رونے لگیں ایک ہاتھ سے مسلسل اس کے ہاتھ پر ماررہی تھیں ٫ علی کی گرفت ڈھیلی پڑی ٫ ماریہ دھڑام سے نیچے گری ٫ اس کا چہرہ شدید سرخ پڑچکا تھا ٫ سانسیں بند ہونے کو تھیں ٫ گلے پر ہاتھ رکھے وہ کھانسنے لگی
” پوچھیں اس سے ۔یہ جواد کی کزن کے ساتھ کسی لڑکے سے ملنے گئ تھی ،خود دیکھا ہے اسے وہاں میں نے “
وہ نیچے بیٹھتی کھانستی ماریہ کو دیکھ کر کہنے لگا ٫ آواز طیش کی وجہ سے عجیب نکل رہی تھی بلقیس فورا ماریہ تک گئیں اور اسے تھاما
” ظالم بن گئے ہو تم ۔۔۔میری بچی “
اسے تھامے گلے لگا کر وہ اس کے آنسو صاف کرنے لگیں، ماریہ کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہورہا تھا
” ظالم ہوں تو ظالم صحیح ٫ یہ آج زندہ نہیں بچے گی میرے ہاتھوں “
وہ ایک بار ماریہ کی طرف بڑھنے لگا ،جب خود کو گھسیٹ کر وہ بلقیس کی اوٹ میں ہوگئ
” میں ۔۔۔میں ۔۔۔نے ۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔ کیا اماں ” وہ روانی سے نکلتے آنسو سے کہہ رہی تھی ٫ آواز پھنس گئ تھی ٫ ہاتھ گردن پر تھا ٫ وہ مسلسل کھانس رہی تھی
” جھوٹ بول رہی ہے ۔۔۔بے حیا عورت “
” الزام مت لگائو میری بچی پر علی ” وہ علی کے سامنے آئیں
” کھائو قسم تم ٫ کھائو قسم کہ وہاں اس لڑکے سے نہیں مل رہی تھیں تم “
” میں۔۔۔۔ نہیں تھی ۔۔۔قرت تھی وہ “
” تو تم اس کے ساتھ کیا وہاں نہیں تھیں ؟” وہ طیش میں آتا اس تک بڑھا ٫ ماریہ کا سانس اٹکنے لگا
” گئ ۔۔۔گئ تھی ۔۔۔لیکن ۔۔۔اس لڑکے سے ملنے نہیں گئ تھی ٫ وہ۔۔۔۔ قرت کے پیچھے یہاں آیا تھا۔۔۔۔۔ ملتان اسلام آباد سے ٫ قرت اس سے ملنے گئ تھی ۔۔۔۔پانی ۔۔۔اماں ” بیڈ کے سرے پر ہاتھ رکھتے اس نے بلقیس کو پکارا ٫ وہ فورا میز سے پانی اٹھا کر لائیں اور اسے دیا ٫ ماریہ پھولی سانسوں سے پانی پئے گئ ٫آدھا پانی نیچے گرا ٫ اس کا عبایا گیلا ہوگیا
” مجھے کہانیاں مت سنائو تم ” اس نے بوتل منہ سے ہٹا کر علی کو دیکھا جو سرخ خہرے سے اسے گھور رہا تھا
” یقین کریں ۔۔۔۔بھائ وہ لڑکا ۔۔۔ عیسیٰ نام ہے اس کا ….وہ قرت کے پیچھے یہاں آیا ہے ۔۔۔ان ۔۔۔ان کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئ تھی ” اس نے رک کر سانس لیا پھر دوبارہ بولنا شروع کیا ” وہ اس سے ملنے مدرسے جاتا تھا ۔۔۔قرت کی سب دوستیں جانتی ہیں ….وہ آج بھی اس سے ملنے گئ تھی٫مجھے نہیں معلوم تھا ٫ میں صرف ۔۔۔صرف اسے بازار لے کر گئ تھی ٫ ثناء بھابی کا عبایا لینا تھا ٫ آپ امی سے پوچھ لیں ” گہری گہری سانسیں لیتے اس نے سارا الزام قرت پر ڈال دیا
” وہ سچ کہہ رہی ہے مجھ سے اور تمہارے ابو سے اجازت لے کر گئ تھی وہ ٫ حاشر چھوڑ آیا تھا انہیں ” بلقیس پریشان سی مسلسل اس کی پشت سہلا رہی تھیں
” تو پھر تم کیوں بیٹھی تھیں وہاں ” وہ اب بھی غصے سے اسے دیکھ رہا تھا
” میں صرف اس کے ساتھ گئ تھی ٫ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کسی لڑکے سے ملنے جارہی ہے ۔۔۔٫ یقین کریں نہیں معلوم تھا ٫ اگر مجھے علم ہوتا تو کبھی نا جاتی ٫ اس نے کہا کہ میں چلی جائوں وہ اکیلی آجائے گی ٫ میں نے منع کردیا کہ میرے ساتھ ہی جائوگی تم لیکن وہ نا مانی ٫ میں ۔۔۔میں اس کا انتظار کررہی تھی تاکہ اسے ساتھ لے کر جائوں “
کچھ جھوٹ کچھ سچ سے اس نے ایک بار پھر سارا الزام قرت کے سر ڈال دیا
” بکواس۔۔۔۔” وہ ایک بار پھر اس کی طرف بڑھا جب بلقیس ماریہ کے سامنے آئیں
” خںردار علی ۔۔۔خبرادار میری بیٹی کو کچھ کہا ٫ وہ جو کہہ رہی ہے مجھے اس پر یقین ہے ٫ اگر تم نے اسے ہاتھ بھی لگایا تو میں اپنا حق معاف نہیں کروں گی تمہیں “
سختی سے اس سے کہا تووہ رک گیا ٫ پھر ماریہ کو دیکھا
” میری بات سنو ۔۔۔” کھینچ کر اسے سامنے لایا ” اگر تم نے کسی کے سامنے یہ بکواس کی کہ تم اس لڑکی کے ساتھ گئ تھیں یا تمہیں اس بارے میں کچھ علم تھا توبخدا زندہ زمین میں گاڑھ دوں گا ٫ اور اگر ابو کو بھنک بھی پڑی اس سب کی تو مجھ سے پہلے وہ یہ کام کریں گے اس لئے منہ بند رکھنا اپنا “
اس کے بازو پر پر دبائو ڈالے سرخ آنکھوں سے گھورتے وہ پھنکارا تو ماریہ نے جھٹ سے سر ہلادیا ٫ اس کا وجود کپکپا رہا تھا ٫ علی جھٹکے سے اسے چھوڑتا دروازے کی طرف بڑھ گیا ٫ وہ پیچھے دھڑام سے نیچے بیٹھی چلی گئ
ہمت کرکے قرت کے ساتھ جانا الگ بات تھی اس بات کا اعتراف کرنا الگ ٫ وہ اب چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتی تھی، کچھ بھی نہیں
” تم ٹھیک ہو ماریہ ؟”
علی چلا گیا تو بلقیس ماریہ کو ساتھ لگاتی پوچھنے لگیں ٫ اس نے بمشکل سر ہلایا
” آپ جائیں اماں ۔۔۔” ان سے الگ ہوتے اس نے آنسو پونچھے
” ماریہ تم۔۔۔۔”
” پلیز جائیں ٫ مجھے اکیلا چھوڑ دیں “
بلقیس چند لمحے اسے دیکھتی رہیں پھر اٹھ کھڑی ہوئیں ٫ ان کے جانے کے بعد وہ جھٹکے سے اٹھی دروازہ بند کیا اور واپس آکر موبائل آن کیا ٫ انسٹا گرام پر آئ ڈی لاگ ان کی٫ عیسیٰ کے ساتھ ہونے والی چیٹ ڈلیٹ کی ٫ اور وہیں کھڑے کھڑے اس نے وہ آئ ڈی ڈلیٹ کردی
قرت خود کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے اس کا نام ضرور لیتی ٫ ایسا ہوتا تو اس کا بھائ اسے ماردیتا ٫ اس نے قرت کو مارنا مناسب سمجھا
آئ ڈی ڈلیٹ کرنے کے بعد وہ بے چینی سے اردگرد چکر لگانے لگی٫ جانے جواد نے قرت کے ساتھ کیا کیا ہوگا ٫ شدید گلٹ بے چینی اور پریشانی میں اس نے قرت کیلئے دعا کی، فلوقت وہ یہی کرسکتی تھی
قریب ڈیڑھ گزرا تھا جب اس نے اپنے ابا کی آواز سنی ، دل زور سے دھڑکا
” جی۔۔۔ “
” کریم صاحب کی کال آئ ہے ، تم سے اپنی بھتیجی کے سلسلے میں کچھ بات کرنی ہے ” ان کا لہجہ سخت اور ناگوار تھا ، موبائل سامنے رکھ کر اسپیکر آن کردیا
اس کی توقع کے مطابق انہوں نے وہی پوچھا جو اس نے سوچ رکھا تھا ، ماریہ کا جسم کانپنے لگا ، نظر سامنے بیٹھے علی پر گئ جو اسے گھور رہا تھا ٫ اگر وہ قرت کو بچاتی تو اس کا بھائ اسے زندہ نا چھوڑتا ، وہ یقیناً اسے جان سے مار ڈالتا، مزید جو بدنامی ہوتی وہ الگ ، وہ خود کو اور اپنے باپ کو بدنام نہیں کرسکتی تھی ، اس لئے اس نے قرت کو بدنام ہونے دیا
دل میں کہیں شدید شرمندگی اور دکھ بھی تھا ، لیکن وہ مجبور تھی
” کریم صاحب میں بہت عزت کرتا ہوں آپ کی لیکن اپنے گھر کے معاملے میں میری بیٹی کو مت گھسیٹیں ٫ آپ سے اپنی بیٹیاں نہیں سنبھالی جارہیں تو ان پر توجہ دیں میری بیٹی کو دور رکھیں ان سب سے ” وہ ناگواری سے ان سے کہہ رہے تھے ٫ چند لمحے کچھ سنا پھر کال کاٹ دی
” کیا تھا یہ سب ؟” کال کاٹنے کے بعد وہ ماریہ کو کڑی نظروں سے دیکھنے لگے
” قرت کسی لڑکے سے ملنے گئ تھی بازار “
اس نے ایک بار پھر علی کو دیکھا
” اور تم ۔۔۔تمہیں کیوں بیچ میں لارہے ہیں یہ ؟”
” ظاہر ہے ابو اپنے سر پڑنے والی بدنامی کو وہ کسی اور پر ڈالنا چاہتے ہیں اس لئے ٫ اور ماریہ میرے ساتھ آئ تھی بازار سے اس کا ان سب سے کوئ تعلق نہیں ہے “
علی نے ان کی تسلی کرائ تو وہ مطمئن ہوئے
” میں جائوں ابو ؟”
وہ اٹھ کھڑی ہوئ ٫ مزید یہاں رکتی تو رونے لگ جاتی
” ہاں ہاں جائو۔۔۔۔اور یہ ایسی لڑکیوں سے دوستی رکھنے کی کوئ ضرورت نہیں ہے ٫ خوف خدا ختم ہوگیا ہے عورتوں کے اندر سے اس قدر بے حیائ۔۔۔۔۔”
وہ کچھ اور بھی کہہ رہے تھے لیکن وہ سنے بغیر اپنے کمرے میں آگئ دروازہ بند کیا اور وہیں بیٹھتی چلی گئ ٫ آنکھوں سے آنسو پھسلنے لگے
” مجھے معاف کردینا قرت ۔۔۔آئ ایم سوری ” منہ پر ہاتھ رکھے وہ گھٹی گھٹی آواز میں روئے گئ
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اگلے دو دن اس نے بخار میں گزارے، سوتی جاگتی روتی کیفیت میں، ابا دوبارہ اس سے ملنے نہیں آئے تھے ، اماں آتیں دوائ دیتیں ، کھانا کھلاتیں اور چلی جاتیں ، چند دن بعد اس کا پیپر تھا اور اسے یاد تک نا تھا کہ اسے پیپر کی تیاری کرنی ہے ، اسے نہیں معلوم تھا باہر کیا ہورہا ہے وہ یقیناً بدنام ہوگئ ہوگی ٫ اس وقت اسے اس چیز کی بھی پرواہ نہیں تھی اسے فکر تھی تو بس اتنی کہ ابا ناراض ہیں ، تیسرے دن وہ بمشکل ہمت کرکے اٹھی ٫ابا کے کمرے کا دروازہ کھٹکٹایا اور کھول دیا
وہ سامنے نماز پڑھ رہے تھے، قرت تھکا ہوا جسم لے کر ان کی جائے نماز کی دائیں طرف ساتھ بیٹھ گئ ، سر گھٹنوں پر رکھ لیا ، وہ سلام پھیر کر دعا کرنے لگے تو وہ بول پڑی
” میرے لئے بھی دعا کردیں ابا کہ میں مرجائوں ” نعمان صاحب کا دل رک گیا ، دعا کیلئے اٹھے ہاتھ نیچے گرگئے
” قرت ۔۔۔۔۔”
” دعا کریں ابا ! کیا معلوم یہ ساعت قبولیت کی ہو دعا کریں کہ میں مرجائوں “
” ایسے مت کہو بیٹے “
” مجھے کہنے دیں ، میں نے اپنے حصے کی تکلیف آپ کے حوالے کردی ، اپنے حصے کہ بدنامی آپ کے سر ڈال دی ، میں نے آپ کے کاندھوں پر بوجھ بڑھا دیا “
اس نے چہرہ گھٹنوں میں چھپا لیا اور ہچکیوں سے روئے گئ ، نعمان صاحب کی آنکھیں نم ہوئیں
” تم مجھ پر بوجھ نہیں ہو قرت “
” میں خود پر بوجھ بن گئ ہوں ابا ،میرا جی کرتا ہے میں مٹ جائوں “
” ایسے مت کہو میرے دل کو تکلیف ہوتی ہے “
اس نے سر اٹھا کر ابا کو دیکھا ان کی آنکھیں نم تھیں ، اس کی آنکھیں سرخ تھیں
” مجھے معاف کردیں ۔۔۔۔۔ “
” معاف کیا “
” میرے لئے دعا کریں “
” کی ہے ۔۔۔۔خدا تمہیں شفا دے گا “
” اس سے کہیں وہ مجھے موت دے دے “
” مجھ سے ایسی دعا کرنے کا مت کہو ، یہ میرا دل زخمی کرتی ہے “
” میرا دل تو زخمی ہوگیا ہے ابا ،”
” تم نے خود کے ساتھ کیا کردیا قرت “
” میں نے خود کو بیمار کرلیا ہے ابا ، کوائ دوا لادیں جو شفا والی ہو ، مجھ پر کسی آسیب نے قبضہ کرلیا ہے کوئ اسم پھونکیں جو اسے دور کردے، میری روح زخمی ہوگئ ہے کسی طبیب کو لادیں جو اسے تندرست کردے ” اس نے ان کے دونوں ہاتھ تھامے اور سر ان پر ٹکا دیا ، اسے لمحے اماں اندر آئیں
” اللہ ہے نا۔۔۔۔۔۔شافی۔۔۔۔۔۔طبیب۔۔۔۔۔۔۔ہر اسم والا “
” ہاں ابا اللہ ہے ، اپنے اللہ سے کہیں وہ مجھ سے راضی ہوجائے ، آپ ناراض ہیں تو وہ بھی ناراض ہوگیا ہے “
نعمان صاحب نے اسے اپنے ساتھ لگاالیا
” میں ناراض نہیں ہوں قرت “
” پھر۔۔۔ اللہ کیوں۔۔۔ ناراض ہے ؟” اس کی آواز ہچکیوں کی وجہ سے ٹوٹنے لگی
” تم منالو ۔۔۔۔”
” وہ نہیں۔۔۔ مان رہا ، میں نے رو کر بھی ۔۔۔۔دیکھا ۔۔۔ہے ” سر میں شدید درد کی لہر اٹھی
” مان جائے گا اللہ ” وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ، نعمان صاحب کو فکر نے آ گھیرا
نہیں مانے گا ۔۔، میں۔۔ مجرم ہوں۔۔۔۔ اس کی ، میں ایک نا۔۔۔۔نا محرم۔۔۔ سے ملنے گئ ، جو خاک مجھ پر پڑی ہے وہ میں نے خود۔۔۔ چنی ہے “اس کا سانس اکھڑنے لگا
” کوئ خاک نہیں پڑی بچے ، “
” پڑ گئ ۔۔ہے ۔۔ابا ۔”
” تم تو میری نحل ہو بچے ٫ تم کیوں ہمت ہار رہی ہو ؟”
” آپ کی نحل کا شہد ختم ہوگیا ابا ۔۔۔۔جو زہر بچا ہے وہ اس کے اندر ۔۔۔تک چلا گیا ہے “
اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ، نظریں اندھیر ہونے لگیں، درد اندر تک سرایت کرگیا ۔۔۔۔وہ وہیں بیٹھے ابا کی گود میں گری ،آخری خیال سفید تسبیح کا ابھرا
” قرت ۔۔۔” آخری آواز اس نے اماں کی سنی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زین نے فون پر عیسیٰ کا نمبر دیکھا اور کتنے لمحے دیکھتا رہا ، کال تیسری مرتبہ بجنے لگی
” ہیلو ۔۔۔”
بالآخر اس نے کال اٹھالی
” کہا مرگئے تھے “
” جہاں مرنے کیلئے تم نے بھیجا تھا “
وہ قرت کے گھر کے باہر کھڑا تھا
” بکواس بند کرو “
” تم شروع کردو ۔۔۔۔۔۔”
” زین ۔۔۔”
اس کی آواز ضبط سے پر تھی
” عیسیٰ ، ان کے گھر کے باہر ایمبولینس آئ تھی ” سگریٹ پیتے عیسیٰ کے ہاتھ رکے
“کس لئے ؟” دوسری طرف خاموشی چھا گئ عیسیٰ کا دل رکنے لگا
” زین۔۔۔۔۔”
” قرت کو ہوسپٹل لے کر گئے ہیں “
سگریٹ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئ
” کیوں ۔۔۔۔؟”
” میں نہیں جانتا ٫ ہوسپٹل کی طرف جارہا ہوں، وہیں جاکر پتا چلے گا “
” میں آرہا ہوں ” اس نے موبائل بند کیا ، جیکٹ جھپٹ کر اٹھائ اور تیزی سے نیچے کی طرف بڑھا ، سگریٹ اس کے پائوں کے نیچے آکر بجھ گئ
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” انہیں نروس بریک ڈائون ہوا ہے”
زین اسے صحن میں ملا تھا ، وہ تیر کی طرح اس کے پاس پہنچا ، اور جو خبر اس نے سنی وہ اسے اندر تک ہلاگئ
” یہ نہیں ہوسکتا “
” میں نے خود ڈاکٹر سے سنا ہے “
وہ سر ہاتھوں میں تھامے بینچ پر بیٹھ گیا
” کیسی ہیں اب ؟”
” معلوم نہیں ، اندر چلے گا ” عیسیٰ نے سر گھما کر اسے دیکھا
” میں ان کا سامنا نہیں کرسکتا “
” پھر واپس چلو “
” نہیں ، میں یہیں رہوں گا ” اس نے زکام زدہ سانس اندر کھینچی ، زین نے کچھ نہیں کہا ، وہ دونوں شدید سردی میں اگلے چند گھنٹے وہیں بیٹھے رہے ،اذیت میں، تکلیف میں ، رکتے ہوئ دھڑکن کے ساتھ ، کہنیاں گھٹنوں پر رکھے دونوں ہاتھ آپس میں ملائے ، وہ کتنی دیر اردگرد سے بے نیاز وہیں بیٹھا رہا ٫ دل پھٹنے کو تھا، روح جھلسنے کو تھی ٫ اگر اسے کچھ ہوگیا تو وہ کیا کرے گا ؟
” عیسیٰ ۔۔۔۔۔”
زین کے پکارنے پر اس نے رخ موڑ کر اسے دیکھا
” وہ ٹھیک ہوجائیں گی “
بنا کچھ کہے وہ چند لمحے زین کو دیکھتا رہا ٫ زین کو اس کی آنکھوں کی ویرانی سے وحشت ہوئ
” اور اگر نا ہوئیں ؟”
وہ چند لمحے کچھ بول نا سکا
” اور اگر وہ ۔۔۔۔وہ چلی گئی زین پھر ؟ میں کیسے زندہ رہوں گا ؟ میں کیسے زندہ رہوں گا اس گلٹ کے ساتھ ؟”
اس نے زین کا جواب سننے سے پہلے رخ موڑ لیا ٫ گلے میں بار بار کچھ اٹک رہا تھا ٫جانے مزید کتنی دیر وہ دونوں وہیں بیٹھے رہے ٫ سرد ہوتی ٹانگوں سے منجمد ہوتے دماغ سے ٫ بند ہوتے دل سے ٫ خوف کی حالت میں
” عیسیٰ۔۔۔۔۔”
آدھی رات کے قریب زین اندر جاکر واپس آیا ٫ اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا٫ آنکھوں میں بیک وقت کچھ کھونے کا خوف اور کچھ مل جانے کی امید ابھری
” کچھ ایسا مت کہنا زین جو میرے دل کو مردہ کردے “
” وہ ٹھیک ہیں “
وہ نئ زندگی کا پیغام تھا جو اسے ملا تھا ٫ تھک کر وہ یک دم نیچے بیٹھا
” اوہ اللہ ۔۔۔”
” عیسیٰ ۔۔۔۔۔”
زین فکرمندی سے اس کے ساتھ بیٹھا ٫ وہ اردگرد سے بے نیاز زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا
“وہ ٹھیک ہیں عیسیٰ..”
” ہاں وہ ٹھیک ہیں ۔۔۔سب ٹھیک ہے”
” تم چلو میرے ساتھ ٫ تمہارا زخم خراب ہو جائے گا “
” کچھ نہیں ہوگا ٫ وہ ٹھیک ہیں تو کچھ بھی ہو جائے فرق نہیں پڑتا٫ وہ ٹھیک ہیں تو سب ٹھیک ہے “
گہرے گہرے سانس لیتا وہ اٹھ کھڑا ہوا ٫ آنکھیں سرخ ہورہی تھیں ٫ اٹھ کر زکام زدہ سانس اندر اتاری ٫ پیچھے پڑی کار کی چابی اٹھائ
” کہاں جارہے ہو ؟”
” معلوم نہیں۔۔کہیں جانا ہے بس ٫ میرے پیچھے مت آنا “
وہ زین کو ساتھ چلتا دیکھ سنجیدگی سے کہتا آگے بڑھ گیا ٫ اس وقت اسے کوئ جگہ چاہئے تھی ٫ خاموش رہنے کیلئے یا بہت سارا رونے کیلئے !!
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
گاڑی روکتے ہوئے وہ باہر نکلا تو چند لائٹس کی روشنی کے سوا ہر طرف اندھیر تھا ٫ بنا جیکٹ اٹھائے وہ اندر کی طرف بڑھا ٫ اکا دُکا لوگوں کے علاوہ اس وقت وہاں کوئ نہیں تھا سکیورٹی اہلکار بھی سورہے تھے ٫ وہ سرخ قالین پر چلتا چلتا کنارے پر ہوگیا ٫ قدم دیوار کی طرف بڑھے ٫ وہاں مٹی اور دھول تھی بنا صفائ کئے وہ وہاں بیٹھ گیا نظر سامنے ٹکا دی
شاہ رکن عالم !!
سامنے وہ عمارت تھی ٫ اولیاء کی سرزمین کی شان !! اندھیرے میں بھی اسے چند کبوتر گنبد پر بیٹھے نظر آگئے ٫ وہ ہاتھ گھٹنوں پر ٹکائے پیچھے دیوار سے ٹیک لگائے گنبد کو دیکھے گیا چند لمحے ۔۔۔چند ساعتیں ۔۔۔۔ ساکت نظروں اور مائوف ہوتے دماغ کے ساتھ ٫ پھر نظر مڑی اور اسے کوئ اپنی طرف آتا دکھائ دیا ٫ سفید شلوار قمیص میں لاٹھی ٹیکتا کوئ بزرگ اس کے ہاتھ میں بھاپ اڑاتا کپ تھا ٫ عیسیٰ نے رخ پھیر لیا
” صبح صبح کوئ آتا تو نہیں ہے ، صبح بھی تہجد والی”
وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے اس کے ساتھ بیٹھے ٫ کپ نیچے رکھا
” زمین ٹھنڈی یے بہت ٫ اتنی سردی میں نیچے کیوں بیٹھے ہو ؟”
” سردی نہیں لگ رہی “
وہ سامنے دیکھتا بڑبڑایا
” کسی سرد علاقے سے آئے ہو ٫ ورنہ یہاں کی سردیاں سخت ہوتی ہیں “
چائے کا کپ اٹھا کر لرزتے ہاتھوں سے زرا سی چائے پلیٹ میں ڈالی چند گھونٹ جتنی چائے اور پھر کپ عیسیٰ کی طرف بڑھایا ٫ اس نے نظر موڑ کر کپ کو دیکھا پھر سر نفی میں ہلایا
” مجھے منع کررہے ہو یا چائے کو ؟”
” میں چائے نہیں پیتا “
” اچھا اچھا ۔۔۔۔مجھے لگا مجھے منع کررہے ہو “
وہ سر ہلا ہلا کر چائے پینے لگے ٫ عیسیٰ چند لمحے انہیں دیکھتا رہا ٫ سفید شلوار قمیص سر پر سفید امامہ پہنے وہ ستر سے اوپر کے تھے ٫ چہرے سفید داڑھی تھی ٫لہجے میں تھوڑی بہت پنجابی یا شاید سرائیکی شامل تھی
” چائے بھی ٹھنڈی ہوگئ ۔۔۔۔” خود سے بولتے کپ نیچے رکھ دیا پھر اسے دیکھا ” زیارت کیلئے آئے ہو ؟”
اس نے نفی میں سر ہلایا
” لنگر کھانے …؟”
اس نے اب بھی سر نفی میں ہلایا
” دعا مانگنے…؟”
وہ چند لمحے خاموش رہا
” دعائیں قبول کہاں ہوتی ہیں میری “
وہ بڑبڑایا
” کبھی مانگی ہیں ۔۔۔؟”
وہ پھر خاموش رہا
” بچپن میں مانگی تھیں ۔۔۔۔”
” بچپن کی دعائوں کا شکوہ جوانی میں کرنا تو نادانی ہے “
” جوانی کی بھی نہیں ہوتیں “
” جوانی میں مانگی تھیں ؟”
” کسی اور کی مانگی ہوئ دعائوں کو رد ہوتے دیکھا ہے “
اس کی نظروں کے سامنے سیاہ عبایا والی لڑکی گھومی
” ان دعائوں کو خدا پر رہنے دو ۔۔۔۔۔کسی اور کی دعائوں پر اپنی دعائوں کو کیوں جانچ رہے ہو، کیا معلوم ان کی دعا کسی اور وقت قبول ہوجائے “
اس کے گلے میں گلٹی ابھری رخ موڑ لیا ٫ اگلے کئ لمحے وہاں خاموشی رہی پھر سناٹے میں بزرگ کی آواز گونجی
” کہاں سے ہو ؟ “
” اسلام آباد “
” ملتان کیوں آئے ہو ؟
” کسی کیلئے آیا ہوں “
” جس کیلئے آئے ہو وہ مل گیا ؟”
اس کے حلق میں آنسو اٹکے
” نہیں ۔۔۔۔۔۔”
” کوشش نہیں کی ہوگی “
” کی تھی ۔۔۔۔آخری حد تک !”
” دعا نہیں کی ہوگی ۔۔۔”
عیسی چند لمحے انہیں دیکھتا رہا پھر رخ موڑ لیا
” دعا کی تھی ۔۔۔؟”
وہ جیسے اس کی خاموشی سے سمجھ گئے تھے
” نہیں۔۔۔۔۔” وہ بہت دھیرے سے بولا
” پھر تو شکوہ بھی نہیں بنتا “
انہوں نے سر ہلایا ، پیالی نیچے رکھ دی
” کیوں نہیں بنتا شکوہ ؟ ” اس نے جرح کی
” شکوہ دعا پوری نا ہونے پر کیا جاتا ہے ٫ تم نے دعا نہیں کی تو شکوہ کیسے کروگے ؟”
وہ لاجواب ہوا
” جو چاہئے اس کیلئے دعا کرنا ضروری ہے ؟”
” جو چاہئے اس کیلئے کوشش بھی نا کرتے “
” زباں سے دعا کرنا ضروری ہے ؟ خدا دل کا حال جانتا ہے “
وہ گنبد کو دیکھتا بہت آہستہ سے پوچھنے لگا
” جو دل میں ہو وہ خواہش ہوتی ہے دعا نہیں ، دل میں ہونا کافی ہوتا تو مانگنے کا نا کہا جاتا “
” اگر وہ پھر بھی نا ملی تو ؟” اس نے جیسے کسی خوف کو ظاہر کیا تھا
” اگر وہ مل گئ تو ؟”
” دعائیں رد بھی کردی جاتی ہیں “
” محفوظ کرلی جاتی ہیں ۔۔۔کسی اور وقت کیلئے “
” اور جو چاہئے وہ ابھی ہی چاہئے ہو تو ؟”
وہ دھیرے سے ہنسے
” یہی تو مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔دیر منظور نہیں ۔۔۔۔۔جو چاہئے جلدی چاہئے ۔۔۔۔۔ابھی چاہئے ۔۔۔۔ حدیث میں ہے انسان کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلدی نا کرے ، میں نہیں کہہ رہا اللہ کے نبی نے کہا تھا “
” جلدی کی خواہش کرنا برا تو نہیں “
اس نے جرح کی
” ہر شے کا وقت مقرر ہے ۔۔۔ہر تکلیف کا ۔۔۔۔ہر صبر کا ۔۔۔۔ہر اجر کا ۔۔۔۔۔ دعا اس شے کو وقت پر لاتی ہے جلدی نہیں “
” پھر دعا کریں ہی کیوں اگر اس نے وقت پر ہی آنا ہے ؟”
” اور اگر خدا نے لکھ رکھا ہو کہ دعا کرو تبھی عطا کیا جائے گا تو ؟ اگر تم دعا نا کرو اور وہ تمہیں نا ملے ؟”
عیسیٰ حلق میں ابھرتی گلٹی کے ساتھ انہیں دیکھے گیا پھر اس نے رخ موڑ کر گنبد کو دیکھا
” کس منہ سے دعا کروں ؟ کیا خدا یہ نہیں سوچے گا کہ مطلب پڑا تو دعا مانگنے آگیا ، میں نے اتنا عرصہ اسے بھلائے رکھا ، اب کیسے اس کے پاس جائوں ؟”
” کیا تمہیں یقین ہے خدا ایسا ہی سوچے گا ؟”
” میں اس کے ارادوں کو کیسے جان سکتا ہوں ؟”
” پھر تم اس کی سوچ کو کیسے جان گئے ؟”
سوال نہیں تھا گویا چابک تھا ، وہ چند لمحے وہی رہ گیا
” ویسے ہی ۔۔۔کہہ دیا “
” خدا کے بارے میں ویسے ہی مت کہا کرو ” نرمی سے اسے ٹوکتے وہ اٹھ کھڑے ہوئے ، گھٹنوں پر ہاتھ رکھے اٹھے
” میرے اندر بہت اندھیرا ہے ، اس اندھیرے سے کیسے دعا کروں ؟”
ایک آخری سوال !
” دعا معجزہ ہے۔۔۔معجزہ روشنی ہے ۔۔۔۔اندھیرے کو روشنی ہی مٹاتی ہے “
آخری جواب !
” میرے لئے آپ دعا کردیں “
“میں صرف زباں سے کروں گا ۔۔۔۔۔تم دل سے کروگے ۔۔۔۔خود کیلئے جیسی دعا ہم کرسکتے ہیں ویسی کوئ دوسرا نہیں کرسکتا ۔۔۔۔۔”
بزرگ نے جھک کر اپنا پیالہ اٹھایا اور اسے دیکھا
” اگر تمہارے پاس خدا کے علاوہ کوئ اور ہے تو اس سے مانگ لو ۔۔۔۔نہیں ہے تو خدا کے علاوہ کس سے مانگو گے ؟ خدا کے علاوہ کون دے گا ؟” وہ دھیرے سے آگے بڑھ گئے
” اور کون دیتا ہے ؟ بار بار کون دیتا ہے ؟ ۔۔۔”
وہ بڑابڑاتے ہوئے جارہے تھے ۔۔۔عیسی حلق میں اٹکتے آنسو کو دھکیلتا اٹھ کھڑا ہوا، چند قدم یونہی اٹھائے اندازے سے ، دربار کے سبزے سے گزر کر سڑک کے قریب چھوٹی سی مسجد بنی تھی ، وہ مسجد تک گیا
آسمان صاف تھا زمین منور تھی ، اردگرد ہلکی سی دھند تھی اور خاموشی ، وہ کسی کیفیت کے زیر اثر چلتا ہوا ساتھ بنے نل کی طرف گیا
( ” نماز پڑھے گا ؟”
” اتنی ٹھنڈ میں کون وضو کرے “
وہ ساتھ بیٹھے زین سے کہہ رہا تھا )
اس نے جرابیں اتاریں اور وضو کرنے لگا ، پانی ٹھنڈا تھا ، اسے نہیں معلوم تھا موٹر کا بٹن کہاں سے آن کرنا ہے سو وہ اسی ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے لگا،
( آپ لوگ نماز سے پہلے صفیں کیوں درست کرتے ہیں؟ “
وہ قاری صاحب سے پوچھ رہا تھا
” حدیث میں آتا ہے کہ صفیں درست رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرمادے گا ، ہم وہ جگہ کیوں درست نا کریں جہاں ہم سجدہ کرتے ہیں ؟” )
جینز ٹخنوں سے اوپر تک فولڈ کرکے وہ آگے بڑھا ، مسجد کو اندر سے تالا لگا ہوا تھا لیکن باہر چند صفیں پڑی تھیں ، اس نے صف درست کی اور مٹی جھاڑی
( ” آپ دونوں کھانا کھالیں ، پھرنماز کیلئے آجائیے گا “
” ایکچولی ، مجھے دراصل نماز پڑھنی نہیں آتی صحیح طرح سے تو میں نہیں پڑھ پائوں گا )
اللہ اکبر کہہ کر وہ نماز میں چلا گیا ، جانے کون سی دعا کہاں پڑھی ، تسبیحات یاد نا تھیں ، رکعات بھول گئیں ، نماز کون سی پڑھ رہا تھا یہ بھی معلوم نا تھا ، اسے بس سجدوں سے غرض تھی ، سجدے جو حکم خدا ہیں ، سجدہ جس کا انکار عزازیل سے شیطان بنا دیتا ہے ، حکم خدا ہے ، اطاعت واجب ہے
اس نے سر سجدے میں جھکایا
زمین وسیع ہوئ ، آسماں روشن ہوا ، نور نکلا اور عرش سے فرش پر پھیل گیا
اس نے دوسرا سجدہ کیا
سکون روشنی بنا اور چہار سو چھا گیا ، پانی آنسو ہوئے ، دل سمندر
وہ قعدے میں بیٹھا ، دعا بھول گئ تھی ، درود یاد تھا ، جو یاد تھا وہ پڑھا جو بھول گیا وہ رہنے دیا ، اس نے سلام پھیرا ، نگاہیں اٹھیں اور آسمان پر گئیں ، وہ چند لمحے آسمان کو دیکھے گیا ، دل میں آنسو جمع ہوئے اور آنکھوں سے نکل پڑے
” اللہ ! “
” جب میں چھوٹا تھا تو دادا مسجد لے کر جاتے تھے ، وہ کہتے تھے خدا کو نا بھولنا عیسیٰ ، تم اسے دنیا میں بھولو گے وہ تمہیں آخرت میں بھلا دے گا ، میں نے زندگی میں ہر سبق یاد رکھا لیکن یہ سبق بھول گیا ” اس کی ہچکی نکلی
” مجھے نہیں معلوم معافی کیسے مانگتے ہیں ، مجھے نہیں معلوم میں نے کون سی نماز پڑھی ہے ، مجھے نہیں معلوم میرے سجدے قبول ہوئے یا نہیں ، مجھے بس اتنا معلوم ہے عیسیٰ حیات آج خاک ہوا ہے ، “
دور کہیں کوئ بلب روشن ہوا ، روشنی مسجد تک پھیل گئ
” مجھے وہ الفاظ نہیں معلوم جن سے معافی مانگی جاتی ہے ، لیکن مجھے وہ دل معلوم ہیں جو معافی مانگتے ہیں ، وہ میرے دل جیسے دل ہوتے ہیں ، مجھے وہ بصارت نہیں معلوم جو نیکی کو پہچان سکے لیکن مجھے وہ آنکھیں معلوم ہیں جو گناہوں کے بوجھ سے جھکتی ہیں وہ میری آنکھوں جیسی ہوتی ہیں ، مجھے وہ سماعت نہیں معلوم جو خیر کا کلام پہچان سکے لیکن مجھے وہ سماعت معلوم ہے جو شر کا کلام پہچانے ، وہ سماعت میری سماعت جیسی ہوتی ہے ، میرے دل کو معاف کردیں ، آنکھوں کو منور کردیں ، سماعت کو ہدایت دے دیں ” اس نے ہاتھ چہرے پر رکھ لئے
” میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں اچھا مسلمان بن گیا ہوں ، میں نے آپ کو طویل عرصہ لگا کر کھویا ہے، مجھے آپ تک واپس پلٹنے کیلئے بھی شاید اتنا ہی عرصہ درکار ہوگا ، لیکن میں کوشش کرنا چاہتا ہوں اللہ ، ایک کوشش ، صرف ایک کوشش ، مجھے آپ تک پلٹنے کی ایک کوشش کرنے دیں ، ” وہ روئے گیا، ہچکیوں سے ، آوازوں سے
” مجھے کچھ نہیں کہنا سوائے اس کے کہ مجھے اپنا آپ لوٹادیں ، مجھے میری وہ روح لوٹادیں جسے آپ نے دنیا میں بھیجا تھا ، گناہوں سے خالی روح ، مجھے میرا وہ دل لوٹادیں جسے گناہوں سے پاک میرے جسم میں داخل کیا گیا ، عیسیٰ حیات کو اس کا دل لوٹادیں ” اس نے آنسوں صاف کئے اور نظریں جھکادیں
” مجھے کچھ نہیں مانگنا سوائے اس ایک چیز کے ، مجھے گلٹ رہے گا اور ہمیشہ رہے گا لیکن میں کیا کروں اللہ ، میرے پاس صرف ایک رب ہے جس سے میں مانگوں ، میں اس رب سے قرت العین کو مانگتا ہوں ، مجھے وہ دے دیں تاکہ میرا دل نا ٹوٹے ، مجھے وہ دے دیں تاکہ میں نیا زخم نا کھائوں ، مجھے وہ ایک عورت دے دیں جس کے آپ مالک ہیں ” اس کی آواز ٹوٹی ، شرمندگی سے ہلکی ہوئ ، وہ خدا کے گھر میں بیٹھ کر خدا سے کیا مانگ رہا تھا
“ہاں ٹھیک ہے یہ غلط ہے ۔۔۔میں اس غلط پر شرمندہ ہوں ٫ لیکن میں اس کے علاوہ کہ آپ سے مانگوں کچھ نہیں کرسکتا ٫ وہ آپ پر بہت یقین رکھتی ہے ٫ وہ آپ کو بہت پیاری بھی ہوگی ٫ اپنے پیاروں کو کوئ مجھ جیسوں کو نہیں دیا کرتا ٫ لیکن اگر یہ معجزہ ہے تو میرے لئے کردیں ٫ اسے میرے نصیب میں لکھ دیں میرے اللہ “
اس نے آنکھیں بند کرلیں
” مجھے وہ دے دیں ۔۔۔ عیسیٰ حیات کو قرۃ العین دے دیں ٫ اس کا موجود ہونا میرے حال کا سب سے بڑا سچ ہے٫ اس کا نا ملنا میرے مستقبل کا سب سے بڑا خوف ٫ میرے سچ کو جھوٹ مت بننے دیں میرے خوف کو خوف ہی رہنے دیں ٫ آپ کا گنہگار بندہ آپ کی نیک بندی کو مانگ رہا ہے ٫ عیسیٰ حیات قرۃ العین کو مانگتا ہے ٫ مجھے وہ دے دیں جو میں مانگ رہا ہوں “
وہ روتے روتے جانے کب چپ ہوا ٫ جانے کب بے چین دل کو قرار آیا ٫ آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے اس نے زکام زدہ سانس اندر کھینچی ٫ ایک نظر موڑ کر پیچھے ٹھہرے گنبد کو دیکھا اور دھیرے سے اٹھتے وہ واپسی کی طرف بڑھ گیا
واپسی کا راستہ آسان ہوتا ہے !
