Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 27)

Nahal By Fatima Noor 

اسلام آباد کے پہاڑوں پر شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا جب ان کی ٹیکسی وہاں رکی ، کرایہ دے کر وہ نیچے اترے، کاغذ پر لکھا ایڈریس دیکھا پھر سامنے کھڑے شاندار سے سفید بنگلے کو ، کیا وہ اندر جائیں ؟ کیا یہاں آنے کا فیصلہ صحیح تھا ؟ انہیں عیسیٰ کو ایک کال کرلینی چاہئے تھی ، لیکن وہ اس کے سامنے بیٹھ کر ساری بات کرنا چاہتے تھے ، سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا پھر ایک گہری سانس لے کر گیٹ کی طرف بڑھے

بیل بجانے پر اندر بیٹھا گارڈ فور باہر آیا تھا

” جی ؟”

” السلام علیکم، مجھے عیسیٰ حیات سے ملنا ہے “

” صاحب گھر پر نہیں ہیں “

” کہاں ہیں ؟”

” ہمیں کیا معلوم بزرگو ، مالک لوگ بتا کر تھوڑی جاتے ہیں “

وہ کچھ لمحے کو خاموش ہوگئے ، رات ہورہی تھی اور انہیں کل تک واپس بھی جانا تھا ، موبائل نکال کر وقت دیکھا ، پھر کاغذ کو ، انہیں عیسیٰ کو کال کرلینی چاہئے ؟

” بہت شکریہ “

باوردی گارڈ انہیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے اندر چلا گیا ، وہ تھوڑا سا سائیڈ پر ہوئے اور نمبر ملایا ، وہ نہیں جانتے تھے کہ عیسیٰ کا نمبر اب بھی یہی تھا یا نہیں ،اگر تھا بھی تو وہ ان کی کال اٹھائے گا یا نہیں ، معلوم نہیں وہ کون سا احساس تھا یا کون سی قوت تھی جو وہ یہاں چلے آئے تھے

دوسری طرف گھنٹی جارہی تھی ، ان کی بے چینی بڑھنے لگی ، عیسیٰ کال نہیں اٹھا رہا تھا ، انہوں نے کال کاٹ کر دوبارہ سے ملائ

دوسری اور آخری مرتبہ

اب یا تو وہ کال اٹھالے گا یا وہ واپس چلے جائیں گے، گھنٹی کی آواز سناٹے میں گونجنے لگی

۔ °°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

شدید بے زاریت نام کی کوئ شے تھی تو وہ اس وقت عیسیٰ محسوس کررہا تھا ، بلیک ٹو پیس سوٹ پہنے وہ اسٹیج کے سامنے والے صوفے پر بیٹھا تھا ، کہنی صوفے کے ہتھے پر رکھے انگلیاں ہونٹوں پر جمائے وہ سامنے اسٹیج پر دیکھ رہا تھا جہاں دلہا اور دلہن کے ساتھ شہوار اور حیات تصاویر بنوا رہے تھے ، وہ یہاں کبھی نا آتا اگر شہوار پچھلے دو دن میں اسے کئ دھمکیاں نا دے چکی ہوتیں ، اور اب یہاں آکر وہ شدید بے زار تھا ، پچھلے چند سالوں میں بمشکل اس نے دوچار شادیوں میں ہی شرکت کی تھیں

دفعتاً اسے صوفیہ اپنی طرف آتی دکھائ دی ، اس کا موڈ کچھ اور بگڑا ، سر میں درد سا اٹھ رہا تھا

” تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو ؟”

وہ اس کے ساتھ بیٹھ گئ ، پنک فراک پہنے ، لمبے بالوں کو کھلا چھوڑے وہ آج محفل جاں بنی ہوئ تھی

” یوں ہی ۔۔”

” اوپر چلو نا پکس بنواتے ہیں “

” not interested Sofia “

صوفیہ لمحے بھر کو خاموش ہوگئ ، وہ ماتھے پر بل ڈالے سامنے دیکھ رہا تھا

” are you ok ?”

” Absolutely “

” تم ایسے بی ہیو کیوں کررہے ہو عیسیٰ ؟”

اس کی آواز میں ناگواری سمٹ آئ

” کیسے بی ہیو کررہا ہوں ؟”

” بے زار ، یوں جیسے تمہیں یہاں زبردستی بٹھایا گیا ہو “

” ایسا کچھ نہیں ہے “

” یا پھر مجھے دیکھ کر تمہارا موڈ بگڑا ہے ؟”

اففف !

” ایسی کوئ بات نہیں “

” تو پھر تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟”

اس نے رخ موڑ کر صوفیہ کو دیکھا

” can you please leave me alone?”

صوفیہ کا چہرہ ہلکا سا سرخ ہوا

” تم میری انسلٹ کررہے ہو ؟”

” ریکوئسٹ کررہا ہوں “

” فائن ، بھاڑ میں جائو “

” بہت شکریہ ۔۔”

اس نے سر کو خم دیا ، صوفیہ پیر پٹختی وہاں سی اٹھی اور اسٹیج کی طرف بڑھی اسٹیج سے نیچے اترتی شہوار اسے دیکھ کر رکیں اور کچھ پوچھا ، جوابا وہ تیزی سے کچھ کہنے لگی ، آنکھوں میں آنسو آگئے، شہوار کی نظر عیسیٰ پر پڑی وہ انہیں ہی دیکھ رہا تھا ، شہوار کو اپنی طرف دیکھتا پاکر رخ پھیر لیا ، سر کا درد بڑھنے لگا تھا

شہوار اس کی طرف آرہی تھیں ، وہ جانتا تھا کہ اب کیا ہوگا

” یہ کیا بی ہیویئر ہے عیسیٰ ؟”

” میں نے کیا کیا ہے ؟”

سر اٹھا کر پرسکون نظروں سے انہیں دیکھتا ، البتہ چہرے پر تنائو سا آرہا تھا

” صوفیہ سے کیا کہا ہے تم نے ؟”

” میں نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ وہ آپ کو جاکر شکایت لگائے “

اسی پل اس کے موبائل پر کال آنے لگی ، نمبر انجان تھا ، گزرے چار برسوں میں وہ ہر انجان نمبر اٹھا لیا کرتا تھا ، کسی کال کا انتظار تھا جو ختم ہی نہیں ہوتا تھا ، وہ اب بھی اٹھا لیتا لیکن شہوار نے اس کے ہاتھ سے فون لے لیا

” تم چلو میرے ساتھ ۔۔”

اس کا بازو تھاما اور سائیڈ پر لے کر آئیں

” تم چاہتے کیا ہو عیسیٰ ؟”

” میں کچھ نہیں چاہتا ” اس نے ہاتھ پاکٹ میں ڈال لیا

” تمہارا مسئلہ ہی یہی ہے کہ تم کچھ نہیں چاہتے ،سوائے اس کہ کے ساری زندگی قرت کی یاد سینے سے لگا کر رہو “

موبائل سے آتی آواز کٹ گئ ، کال بند ہوگئ تھی

” مام پلیز اسے اس سب میں مت لائیں ۔۔” اس کے چہرے پر ضبط چھلکا

” نہیں عیسیٰ ، آج اس بارے میں بات کرہی لیتے ہیں ، وہ اب تمہاری زندگی میں نہیں ہے ، شاید کبھی آئے بھی نا ، تم اس بات پر یقین کیوں نہیں کرلیتے ؟”

اس نے کرلیا تھا یقین، لیکن پھر بھی ہاں پھر بھی کسی اور کے منہ سے اسے یہ سننا اذیت دیتا تھا

” مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی “

اس کا موبائل پھر سے بجنے لگا تھا ، عیسیٰ کی نظر موبائل پر گئ ، اسی نمبر سے دوبارہ کال آرہی تھی

” لیکن مجھے کرنی ہے ، تم کب تک اس طرح جیو گے ؟ آگے کیوں نہیں بڑھ جاتے ؟ ایک سے ایک لڑکی تمہارے اردگرد موجود ہے ، کامیاب ہو ، ہینڈسم ہو ، آخر کب تک بہانے دے کر مجھے ٹالتے رہو گے ؟”

ان کی آواز بلند ہورہی تھی ، عیسیٰ کی نظر دوبارہ موبائل پر گئ

” میرا موبائل دیں مام “

شہوار نے ناگواری سے بجتے موبائل کو دیکھا اور کال کاٹ دی

” میں تم سے بات کررہی ہوں عیسیٰ “

اس نے آنکھیں بند کیں اور جب کھولیں تو ان میں سرد پن تھا

” آپ کو یہ سب آسان لگتا ہے مام ؟ آپ کو لگتا ہے میں نے کوشش نہیں کی اسے بھولنے کی ؟ میں نے کی ہے ، اور اسے بھولنے کی کوشش میں وہ مجھے پہلے سے زیادہ یاد آتی ہے ، آپ کو لگتا ہے ایک زخمی دل کے ساتھ نئ زندگی شروع کرنا آسان ہے ؟ رئیلی مام ؟ آپ کو یہ نہیں دکھتا کہ میں کن کن حالات سے گزرا ہوں لیکن آپ کو بس اس بات کی فکر ہے کہ عیسیٰ شادی کرلے ، آپ کو یہ نظر آتا ہے کہ میں کامیاب ہوں لیکن یہ نظر نہیں آتا کہ اس کامیابی کی قیمت خود کو کھو کر چکائ ہے میں نے ” اس کی آواز اختتام پر کانپی ، شہوار کی زبان گنگ ہوئ

” میں صرف تمہارا بھلا چاہتی ہوں “

وہ دھیمی پڑیں

” مجھے نہیں چاہئے ایسا بھلا ، آپ ٹھیک کہتی ہیں میں قرت کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پارہا ، ایسا ہی ہے، بالکل ایسا ہی ہے ، آپ ٹھیک کہتی ہیں کہ آگے نا بڑھنے کی وجہ کہیں پیچھے ہی موجود ہے ، لیکن آپ اس وجہ کی اذیت کو نہیں سمجھ سکتیں، کیونکہ آپ اس چنار کے درخت تلے نہیں تھیں، وہاں میں تھا ، آپ نے ہوا سے بجھتے دییے نہیں دیکھے تھے ،میں نے دیکھے تھے ، آپ نے دل ٹوٹنے کی اذیت محسوس نہیں کی میں نے کی ہے ، آپ کو بس یہ چاہئے کہ میں زندگی میں آگے بڑھ جائوں ، وقت لگتا ہے مام اور ابھی میرے لئے وہ وقت نہیں آیا ” اس کا سر درد سے پھٹنے کو تھا

” بھول جائو اسے عیسیٰ ۔۔”

” نہیں بھول سکتا ، یہ میرے اختیار میں نہیں ہے ، میں نے ان چار سالوں میں ہر انجان نمبر سے کال اٹھائ ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے ایک دن وہ کال کرے گی ، حالانکہ مجھے یقین ہے کہ اس نے میرا نمبر پھاڑ کر کہیں پھینک دیا ہوگا لیکن پھر بھی مجھے امید ہے وہ کال کرے گی ، جو کچھ چار سال پہلے ہوا وہ یقیناً کبھی مجھے نہیں بلائے گئ لیکن دل کے کسی کونے میں میں اس کی بس ایک آواز کا منتظر ہوں ، اس کی ایک پکار اور میں سب چھوڑ کر اس کے پاس چلا جائوں گا ، یہ محبت نہیں رہی یہ اب کچھ اور ہے ، بھولنے یا یاد رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ میرے اندر۔۔ کہیں بہت اندر تک موجود ہے “

وہ خاموش ہوا اور اردگرد سب خاموش ہوا ، شہوار کا دل دکھ سے بھر گیا ، عیسیٰ کا دل اذیت سے پھٹنے کو ہوا ، وہ زخم ابھی بھرا بھی نہیں تھا جسے مام نے اُدھیڑ دیا تھا ، اسی پل حیات اس طرف آئے

” سب ٹھیک ہے ؟”

عیسیٰ نے رخ پھیر کر گہری سانس لی، آنکھوں کو مسلا اور پھر شہوار کو دیکھ کر ہاتھ ان کی طرف بڑھایا

” موبائل پلیززز۔۔۔”

شہوار نے دھیرے سے موبائل واپس اس کے ہاتھ میں رکھ دیا

” آئ ایم سوری عیسیٰ ۔۔”

وہ کچھ کہے بغیر آگے بڑھ گیا

” کیا ہوا ہے شہوار ؟”

حیات ابھی تک صورتحال سمجھنے کی کوشش کررہے تھے ، شہوار تھکی تھکی سی ساتھ رکھے صوفے پر بیٹھیں

” میں نے اس کے زخم پھر ادھیڑ دیئے حیات “

ان کی آواز بھرا گئ ، حیات کی نظریں دروازے کی طرف جاتے عیسیٰ پر گئیں ، راستے میں کسی نے اسے روکا تھا لیکن وہ سنے بغیر آگے بڑھ گیا

” میں نے منع کیا تھا تمہیں کہ اس سے اس بارے میں بات مت کرنا ، وہ ہرٹ ہوجائے گا “

” میں صرف ۔۔۔صرف اس کا بھلا چاہتی ہوں “

آنسو آنکھوں سے قطار کی صورت پھسلنے لگے

” اس کے نزدیک یہ بھلائ نہیں ہے ، اسے وقت دو شہوار ، کتنا وقت ، نہیں معلوم لیکن اسے وقت دو ” ان کی نظر واپس شہوار کی طرف گئ ، وہ سر جھکائے رو رہی تھیں ، حیات کو ان پر ترس آیا

” ریلیکس ، وہ ٹھیک ہوجائے گا ” ان کے ساتھ بیٹھ کر انہیں کاندھے سے لگایا

” وہ بھی یہی کہتا ہے اور وہ جھوٹ کہتا ہے ، وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوگا ، اسے ساری عمر لگے گی قرت کو بھلانے میں اور صرف ایک لمحہ لگے گا اس کی یاد تازہ ہونے میں ، وہ ٹھیک کہتا ہے یہ محبت سے زیادہ ہے “

حیات کچھ نا کہہ سکے ، انہیں صرف اس وقت عیسیٰ کی فکر تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

جانے کتنی ہی دیر وہ سڑک پر یونہی گاڑی دوڑاتا رہا ، سر کا درد مزید بڑھ گیا تھا ، اندر کی وحشت بھی

” کیوں اللہ ! ” نظریں باہر کی طرف رکھے اس نے آنکھوں کو مسلا ” یہ اس قدر اذیت کیوں دیتا ہے ؟ یہ زخم بھرتا کیوں نہیں ہے ؟ وہ مجھے بھولتی کیوں نہیں ہے ؟ کوئ ایک شے تو کردیں ، یا زخم بھر دیں یا وہ مجھے مل جائے ، کچھ ایک ہی صحیح “

باہر اب اندھیرا پھیل چکا تھا ، اس نے موبائل بند کردیا تھا ، بعض لمحے ایسے بھی ہوتے ہیں جب آپ کو کسی ہمدرد کی ضرورت نہیں ہوتی ، اس وقت صرف تنہائ چاہئے ہوتی ہے ، اسے بھی اس وقت صرف تنہائ چاہئے تھی

مغرب رات میں بدل گئ تب وہ گھر پہنچا ،ابھی وہ لائونج میں ہی پہنچا تھا جب مبین اس کی طرف آیا

” سر آپ سے کوئ ملنے آئے ہیں”

سفید شرٹ پر بلیک پینٹ ایک ہاتھ میں کوٹ جبکہ دوسرے ہاتھ میں موبائل تھامے اس نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے مبین کو دیکھا

” واپس بھیج دو ، مجھے کسی سے نہیں ملنا “

اس کے لہجے میں تھکن تھی

” سر وہ کافی دیر سے انتظار کررہے ہیں “

” کہا نا واپس بھیج دو “

وہ اس وقت صرف آرام کرنا چاہتا تھا جو تھکن جسم پر تھی وہ روح تک اترنے لگی تھی ، دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کی کیفیت میں نہیں تھا ، سر کا درد ہر شے پر غالب آگیا تھا ، دل کا درد پہلے ہی غالب تھا

” اوکے سر ۔۔۔۔۔”

ملازم تابعداری سے سر ہلا کر آگے بڑھ گیا ، اس نے پانی لاتی ملازمہ کو ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا اور خاموشی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا ، پہلی سیڑھی پر وہ یونہی رکا، مڑ کر کچن کی طرف جاتے مبین کو دیکھا اسے غالباً کچن سے کچھ لینا تھا

” مبین۔۔”

” جی سر” وہ فورا پلٹا

” نام کیا ہے ان کا ؟”

” نعمان اسماعیل بتایا ہے سر “

وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر بنا کچھ کہے آگے بڑھ گیا

( نعمان اسماعیل ۔۔۔ )

ذہن کے پردے پر کچھ نمودار ہوا اس نے شاید یہ نام کہیں سن رکھا تھا ، کسی بہت قریبی انسان سے ، یوں جیسے وہ انہیں جانتا تھا لیکن ذہن اس وقت اس قدر تھکاوٹ کا شکار تھا کہ یاد ہی نہیں آرہا تھا ، سوچیں اس قدر مفلوج تھیں کہ وہ اس وقت کسی کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتا تھا

(” میرا نام نعمان ۔۔۔۔” )

راہداری سے کمرے کے طرف جاتے ہوئے ایک ہاتھ میں اب بھی کوٹ تھا جبکہ دوسرا ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالا ہوا تھا ، جھکے سر سے ٹائلوں کو دیکھتے ہوئے دماغ لمحے بھر کو کہیں اور بھٹکا ، اس نے سر جھٹکا لیکن آواز پلٹنے لگی

(” میرا نعمان اسماعیل ہے ۔۔۔ ” )

ایک ہاتھ سے ٹائ کی ناٹ ڈھیلی کرتے وہ دوسرے ہاتھ سے دروازے کا ہینڈل پکڑ کر کھولنے لگا ، سویا ذہن بیدار ہونے لگا

(” میرا نام نعمان اسماعیل ہے ، یہاں کا امام مسجد ہوں “)

دروازے کو پکڑے اس کا ہاتھ ساکت ہوا ، ٹائ ڈھیلی کرتا ہاتھ رک گیا ، وہ جہاں تھا وہیں رہ گیا ، اردگرد سب رک گیا ، موبائل سے آتی رنگ ٹون ، اردگرد گھومتے ملازم، اس کا دل ۔۔۔

” قرت۔۔۔۔۔”

لبوں سے ہلکی سی سرگوشی نکلی, وہ ایک دم تیزی سے ریلنگ کی طرف بڑھا ، مبین دروازے سے باہر نکل رہا تھا

” مبین ۔۔” اس کی آواز کانپی

دروازے سے باہر نکلتا مبین رک گیا ،سر اٹھا کر اوپر دیکھا

” نام ۔۔” اس کا چہرہ سفید پڑ رہا تھا ،آواز ٹوٹ رہی تھی ” کیا نام بتایا ہے تم نے ؟”

” نعمان اسماعیل سر “

اس کا ریلنگ پر رکھا ہاتھ پہلو میں آ گرا ، ساری دنیا ایک لمحے میں ہل گئ تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

دوسری اور آخری بار اس کے نمبر پر کال کرنے کے بعد وہ واپس دروازے پر گئے ، بیل بجانے پر اندر سے وہی گارڈ باہر نکالا

” کیا مسئلہ ہے بھئ بزرگوار “

وہ اندر بیٹھا فلم دیکھ رہا تھا اور یہ آدمی بار بار مخل ہورہا تھا

” عیسیٰ آئیں تو ان سے کہئے گا کہ نعمان اسماعیل آئے تھے “

” اچھا اچھا کہہ دوں گا “

وہ دروازہ بند کرنے لگا جب پیچھے سے کسی کی آواز آئ

” کون ہے راشد ؟”

” کوئ بزرگ ہیں، عیسیٰ سر کا پوچھ رہے ہیں “

نعمان صاحب وہیں رک گئے ، دروازے سے کوئ تیس پینتیس کی عمر کا باوردی ملازم باہر آیا تھا

” السلام علیکم انکل، عیسیٰ سر تو گھر پر نہیں ہیں “

” وعلیکم السلام بیٹا ، جی بتایا ہے انہوں نے “

وہ اب بس واپس جانا چاہتے تھے

” آپ کو کوئ ضروری کام تھا تو انہیں کال کرلیتے “

” کی تھی ، انہوں نے اٹھائ نہیں “

مبین نے ہاتھ پر بندھی گھڑی کو دیکھا پھر نعمان صاحب کو

” آپ انتظار کرسکتے ہیں تو کرلیں ، سب گھر والے کسی فنکشن پر گئے ہوئے ہیں ،اب تک تو آنے والے ہوں گے “

انہوں نے لمحے بھر کو رک کر سوچا ، انہیں کل تک لازماً واپس جانا تھا ، تھوڑی دیر تک انتظار کرنے میں کوئ حرج نہیں تھی ، ملازم کو دیکھتے انہوں نے سر ہلادیا ، وہ انہیں لئے اندر کی طرف بڑھ گیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

نعمان صاحب نے دروازہ کھلنے کی آواز پر سامنے دیکھا اور پھر بے اختیار کھڑے ہوئے ، وہ عیسیٰ تھا ، ٹائ ڈھیلی تھی ،اسی پینٹ شرٹ میں وہ سرخ پڑتی آنکھوں کے ساتھ کھڑا تھا ، وہ چند لمحوں تک اسے دیکھتے رہے ، اس کے چہرے پر ہلکی داڑھی تھی ، آنکھیں وہی تھیں ، جانے وہ خود وہی تھا یا نہیں ، اگر ان کا یہاں آنا غلط فیصلہ ہوا ؟

” السلام علیکم “

عیسیٰ نے صرف ہلکا سا سر ہلا دیا وہ اس وقت کچھ بھی کہنے کی حالت میں نہیں تھا

” کچھ بات کرنی تھی ، وقت مل سکتا ہے ؟”

وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا ہوا ان کے سامنے آیا اور پھر صوفے کی طرف اشارہ کیا

” بیٹھیے “

نعمان صاحب اسے دیکھتے بیٹھ گئے ، عیسیٰ چند لمحے ویسے ہی کھڑا رہا اس کا دماغ مائوف سا ہورہا تھا ، آنکھیں سرخ پڑ رہی تھیں اور دل عجیب سا دھڑک رہا تھا پھر اس نے گہری سانس لی اور ان کی دائیں طرف پڑے صوفے پر بیٹھا ، دونوں بازوں کی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیں اور میز کو گھورنے لگا

” ممکن ہے شاید میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا ہو ۔۔۔”

” ایسا نہیں ہے ” اس نے تیزی سے ان کی بات کاٹی پھر رکا “کیسے ہیں آپ ؟”

” ٹھیک ہوں ، اور آپ ؟”

اس نے صرف سر ہلادیا ،جانے یہ ہاں تھا ناں نعمان صاحب سمجھ نا سکے

” مجھے آپ کے آنے کا علم نہیں تھا ، معذرت آپ کو انتظار کرنا پڑا “

” کوئ بات نہیں ، مجھے بتا کر آنا چاہئے تھا “

” ایڈریس کہاں سے ملا آپ کو ؟”

وہ سوگوار سا مسکرائے ” ایک پرانی کتاب سے ملا تھا جسے میرے گھر میں چار سال سے کھولا نہیں گیا ” اسے سمجھ نہیں آئ لیکن سر ہلادیا

” میں کچھ منگواتا ہوں “

” نہیں ، اس کی ضرورت نہیں ہے ۔” اسے اٹھتے دیکھ انہوں نے ٹوکا ” مجھے صرف بات کرنی ہے آپ سے “

” میرے خیال سے چائے پیتے ہوئے بھی بات ہوسکتی ہے “

وہ ہلکا سا مسکراتے ہوئے اٹھ کر باہر چلا گیا ،ملازم کو چائے اور اپنے لئے کافی کے ساتھ کچھ اور لانے کا کہتے ہوئے جب وہ واپس آیا تو نعمان صاحب فون بند کررہے تھے وہ واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا ، ملازم کے چائے لانے اور ان دونوں کو پیش کرنے تک خاموشی چھائ رہی ، ملازم کو جانے کا اشارہ کرکے ان کا کپ اٹھا کر ان کو دیا اور اپنی کافی لبوں سے لگالی

” آپ کے گھر میں سب کیسے ہیں ؟”

” ٹھیک ہیں “

کاش وہ یہ سوال ان سے بھی کرسکتا

” ملازم نے بتایا تھا کہ آپ لوگ کہیں گئے ہوئے ہیں ، مجھے علم ہوتا تو نا آتا “

“کزن کی شادی تھی ، مام ڈیڈ وہیں ہیں ، میں کسی وجہ سے واپس آگیا “

” آپ نے شادی نہیں کی ابھی تک ؟”

کافی اس کا اندر تک جلا گئ ، کپ واپس رکھتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلایا

” کیا میں وجہ جان سکتا ہوں ؟”

اس کا دل وحشت کا شکار ہوا ، وہ جانتے تھے پھر بھی انجان بن رہے تھے

” میں ۔۔۔ ” الفاظ اٹک گئے، کیا وجہ دیتا

” شاید آپ کو کسی کا انتظار تھا “

اس نے نظر اٹھا کر نعمان صاحب کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہے تھے چند لمحے وہ خاموش رہا

” شاید ۔۔۔۔” اس نے کہہ دیا ، اقرار کرلیا ، خود سے بھی

” مجھے بھی تھا ” انہوں نے کپ میز پر رکھا اور نظر اٹھا کر اسے دیکھا ” اپنی بیٹی کیلئے ” عیسیٰ کے حلق میں کچھ اٹکا

” میں اب تک انتظار ہی کرتا رہا ،چند دن پہلے مجھے ادراک ہوا کہ اس انتظار نے میری بیٹی کا بہت نقصان کردیا ، جس شخص کو مجھے اپنی بیٹی کیلئے چننا چاہئے تھا اسے میں خود ہی رد کرچکا ہوں ” وہ اسے نہیں دیکھ رہے تھے نگاہیں میز پہ جمیں تھیں ” اس ادراک نے مجھ سے وہ سکون چھین لیا جو اتنے عرصے سے میرے اندر تھا ، وہ صبر بھی چھین لیا جو میں اگلے کئ عرصے تک کرسکتا تھا ، اس لئے میں آج پھر سے اس شخص کے پاس آیا ہوں جسے قدرت نے ایک بار میرے گھر سوالی بنا کر بھیجا تھا اور میں نے اسے خالی ہاتھ لوٹا دیا تھا “عیسیٰ کی آنکھیں جلنے لگیں

وہ کچھ دیر خاموش رہے

” کچھ دن پہلے میں قرت کے کمرے میں گیا تو وہ کہہ رہی تھی کہ جس دن اسے نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا کاش وہ اسی دن م-رجاتی ،وہ م-و-ت کی دعا کررہی تھی کیونکہ زندگی اس پر تنگ کردی گئ ہے ،” سر اٹھا کر اسے دیکھا ” آپ یہ اذیت سمجھ سکتے ہیں میں نے اپنے بیٹی کے منہ سے م وت کی خواہش سنی ، مجھے لگا میرا دل رک گیا ہو ” دل تو اس کا بھی رک گیا تھا ” میں بھاری دل اور کاندھوں سے یہاں بیٹھا ہوں ، آپ کی مرضی ہے یہ بوجھ اتاریں یا رہنے دیں میں مجبور نہیں کروں گا، ” عیسیٰ کو دیکھتے وہ چند لمحے کو رکے ، اگلی بات مشکل تھی ، اس کا جواب اس سے زیادہ مشکل ہوتا پھر انہوں نے گہری سانس لی

“چند سال پہلے جب آپ ہمارے علاقے میں آئے تھے تو آپ نے مجھ سے ایک سوال کیا تھا ، میں چاہتا ہوں میں اس سوال کا جواب اب دوں ,اگر آپ وہ سوال دوبارہ کریں تو “

اگلے کئ لمحے اردگرد خاموشی چھائ رہی اور پھر انہیں عیسیٰ کی آواز سنائ دی

” مجھے لگا تھا قسمت مجھ پر کبھی مہربان نہیں رہی ، مجھ سے ہر وہ خوشی چھین لی گئ جو میرا مقدر ہونا چاہئے تھی ، ” وہ تلخی سے ہنسا ” عجیب ہے کہ میں نے کبھی کسی چیز کے چھننے پر واویلا نہیں کیا وہ صبر نہیں تھا وہ خاموشی تھی ،پہلی بار، پہلی بار میں نے قرت کے چھننے پر خاموشی توڑی تھی ، میں نے شکوہ کیا اور بہت کیا ، آپ نے میرے دل کے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا سر ” اس کی آنکھوں میں شکوہ ابھرا

” میں بہت بوجھ اٹھائے پھررہا ہوں عیسیٰ ، مجھ پہ اور بوجھ مت ڈالیں “

وہ شکست خودرہ نظر آنے لگے ، اور عیسیٰ جس نے سوچا تھا کہ وہ انہیں بہت سنائے گا ، انہیں بتائے گا کہ انہوں نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا اس نے سب اندر دبا لیا

” میں بوجھ نہیں ڈال رہا ، میں صرف اپنے اندر کا درد نکال رہا تھا، لیکن شاید اس کی اب ضرورت نہیں ہے ، آپ نے میرا دل ہلکا کردیا ہے ” وہ پہلی بار دل سے مسکرایا

” آپ ۔۔۔”

” میری بات سنیں سر ، میں عیسیٰ حیات آپ سے آپ کی بیٹی کا ہاتھ مانگتا ہوں اس وعدے کے ساتھ کہ میں اس دنیا کا آخری انسان ہوں گا جو ان کی آنکھوں میں آنسو لائے گا “

نعمان صاحب چند لمحے اسے دیکھتے رہے ،قسمت میں شاید یہی لکھا تھا ،قرت العین کو عیسیٰ حیات کا نصیب بننا تھا لیکن انہیں افسوس تھا کہ وہ اذیت ان کی وجہ سے اس شخص اور ان کی بیٹی کا مقدر بنی تھی جس کے وہ دونوں حقدار نہیں تھے ،وہ چار سال پہلے عیسیٰ کو منع نا کرتے تو آج حالات کچھ اور ہوتے

” مجھے آپ پر اور آپ کے وعدے پر یقین ہے ، میری طرف سے آپ کو انکار نہیں ملے گا لیکن میں چاہوں گا آپ کے خاندان کا کوئ فرد میرے خاندان کے سامنے یہ خواہش رکھے “

اس کی مسکراہٹ تھمی لیکن پھر اس نے سر ہلادیا

” میرے پیرینٹس آپ کے گھر آئیں گے ، مجھے امید ہے اس بار آپ مجھے خالی ہاتھ نہیں لوٹائیں گے “

” میں کچھ اور بھی پوچھنا چاہتا تھا “

کچھ کہنے کی بجائے اس نے سر ہلادیا

” کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ میرے کہنے پر ، یا میرے یہاں آنے پر ۔۔۔۔۔۔۔”

عیسیٰ نے ان کی بات کاٹ دی

” میں چاہوں گا آپ ایسا سوچیں بھی مت ، یہ ایسا معجزہ ہے جس کے ہونے کی میں نے عرصہ دعا کی ہے ، یہ میرے لئے خوشی سے زیادہ عزت کا باعث ہے کہ آپ نے قرت العین کیلئے مجھے چنا “

” میرے بھائ صاحب جواد کیلئے قرت کا کہہ رہے ہیں عیسیٰ ، وہ مجھے مجبور کررہے ہیں اور سچ پوچھو تو مجھے ان کی طرف سے ڈر ہے ، اگر آپ کو اعتراض نا ہو تو میں چاہوں گا کہ یہ سب جلدی ہو “

” مجھے کوئ اعتراض نہیں ہے ، جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہوگا “

جواد کے زکر پر اس کا چہرہ تنائو کا شکار ہوا تھا، نعمان صاحب اٹھ کھڑے ہوئے تو وہ بھی ان کی تقلید میں اٹھا ، انہوں نے چند لمحے اسے دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا ، عیسیٰ لمحہ بھر کو ٹھہر گیا ،ہاتھ ان کی پشت پر گئے ، چار سال پہلے کے شفیق رہنما جیسے واپس مل گئے تھے، وہ الگ ہوئےاور ہلکا سا مسکرائے

” میں چلتا ہوں “

” آپ یہیں رک جائیں ” وہ فورا بولا تھا

” نہیں مجھے کل صبح واپس جانا ہے “

اس نے بس سر ہلادیا ، ان کا نمبر لے کر ان کو دروازے تک چھوڑ کر جب وہ واپس آیا تو مبین لائونج سے برتن اٹھا رہا تھا ،عیسیٰ رکا

” نعمان صاحب کو تم نے روکا تھا یہاں ؟”

” جی سر ۔۔” وہ گھبراگیا کہ شاید غلطی ہوگئ تھی ، عیسیٰ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر والٹ نکال کر جتنے نوٹ تھے وہ نکالے اور اس کے ہاتھ میں پکڑائے

” بہت شکریہ مبین “

آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا اور پھر تیزی سے اوپر کی طرف بڑھا ، لبوں پہ مسکراہٹ تھی

اور پیچھے کھڑا مبین تھوڑی دیر کیلئے تو اپنی جگہ سن ہوگیا تھا ، پھر ہاتھ میں پکڑے نوٹوں پر نظر پڑی تو ایک خوشی کی لہر سر تا پا دوڑ گئ

اس کے پیچھے عیسیٰ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جارہا تھا ، کمرے کا دروازہ کھولتے وہ بیڈ تک آیا ، ٹائ کھینچ کر اتاری اور بیڈ پہ پھینکی پھر وہ بالکنی کی طرف بڑھا ، ریلنگ پر ہاتھ رکھے نیچے دیکھا ، چند گہرے گہرے سانس لئے ، چہرے پر بے یقینی تھی، کیا یہ سب خواب تھا ؟ وہ دعائیں جو وہ عرصے سے کررہا تھا کیا وہ قبول ہوگئ تھیں ؟ یہ سب حقیقت تھی ؟ اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا ، دل کی کیفیت عجیب ہوگئ ، خوشی حد سے سوا ، بے یقینی ہر شے سے زیادہ ، بلآخر وہ ان کہے وعدے کی قید سے آذاد تھا ، بلآخر قرت العین کو اسی کے مقدر کا حصہ بننا تھا ، وہ کسی اور کا نصیب نہیں تھی ، ہر ڈر ختم ہوگیا ، ہر خوف پیچھے رہ گیا ، اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا

” اوہ اللہ میں کیسے آپ کا شکر ادا کروں ؟”

یقین بے یقینی کے درمیان ڈولتے دل کو سکون ملنے لگا ، بلآخر چار سال کی اذیت کم ہونے کو تھی ، بلآخر !

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

کچن میں رکھا سالن گرم کرتے اس نے روٹی بھی بنا ڈالی ، ملازمہ صبح کی جاچکی تھی ورنہ اسے کام نا کرنا پڑتا ، سالن شاید صبح ہی بنایا گیا تھا ، ورنہ رات کو تو قورمہ پکا تھا ، روٹی اتار کر وہ سالن پلیٹ میں ڈالتی باہر آگئ ، چائے کا کپ دوسرے ہاتھ میں تھا ، ٹیبل پر کھانا رکھتے خود کرسی کھینچ لی ، عجیب بے زاری سے ہورہی تھی

” تم اب ناشتہ کررہی ہو ؟”

ثناء قریب سے گزری تو اسے دیکھتے تعجب سے پوچھا

” جی “

وہ بس اتنا ہی کہہ سکی ،نظر آبھی رہا تھا پھر بھی پوچھ رہی تھیں

” صبح دیر سے اٹھوگی تو دیر سے ہی ناشتہ کروگی نا ، سب کے ساتھ کرلیتیں صبح “

” زینب کی طبیعت خراب تھی بھابھی ، ساری رات اس کے ساتھ جاگتی رہی ہوں ، صبح ہی آنکھ لگی تھی بس “

کچھ تھکن سے اس نے وضاحت دی

” دوائ لی تو تھی کل ، ویسے جواد کو کہہ دیتیں وہ لے جاتا ہوسپٹل ، باپ ہے اس کا ، خرچ کرنے کا فرض بنتا ہے “

” کاش اسے بھی یہ احساس ہوتا “

وہ بڑبڑا کر رہ گئ ، ثناء جانے کی بجائے اس کے ساتھ بیٹھ گئ ، ماریہ نے بمشکل لقمہ زہر مار کیا ، اب پھر سے بھابھی سے بحث شروع ہوجاتی

” علی گیا تھا جواد سے ملنے “

وہ پوری کی پوری چونکی

‘ کس لئے ؟”

” کس لئے مطلب ؟ ظاہر ہے بات کرنے ، ایسے کیسے وہ تمہیں طلاق دے سکتا ہے “

” کوئ ضرورت نہیں ہے بات کرنے کی بھائ کو ، میں کوئ گری پڑی عورت نہیں ہوں جو آپ لوگ میرے لئے اس سے بات کرتے پھریں “

اس نے کھانا پیچھے کردیا ، ہوگیا اس کا ناشتہ

” تو کیا ساری عمر بھائ کے گھر رہوگی ؟”

سوال کچھ تیکھا تھا ، ماریہ کو آگ لگا گیا

” باپ کا گھر ہے میرے ، جب تک رہوں “

” ماموں کہاں کام کرتے ہیں اب ماریہ ، جب سے دکان جلی ہے وہ تو ڈھے گئے ہیں ،ساری محنت علی کو ہی کرنی پڑرہی ہے ، گھر کا خرچا ، ماموں کی دوائ ، حاشر کی فیس، اپنے بچے ہیں ہمارے اور اب تم لوگوں کا خرچہ الگ “

وہ گویا انگلیوں پر گنواتی گئ

” اپنے ابا کا کھارہی ہوں بھابھی “

اس سے یہ باتیں برداشت نہیں ہوتی تھیں سو اب بھی تڑخ کر کہہ دیا

” لو ابھی تو بتایا ہے کہ وہ بستر پر پڑے ہیں ، کام کہاں کرتے ہیں ,اس لئے کہہ رہی تھی کہ جواد سے بات کرو اور معاملہ حل کرلو آپس میں ، ایک بچی کی ماں ہو ، طلاق ہوگئ تو زندگی رک جائے گی “

وہ اب رسانیت سے سمجھا رہی تھیں

” جتنا سلجھانا تھا سلجھا لیا ، وہ شخص اتنا ہی وفادار ہوتا تو دوسری شادی کا نا سوچتا ، مجھے اب نہیں رہنا اس کے ساتھ “

وہ اٹھ کھڑی ہوئ ، چائے کا کپ اٹھایا کہ سردرد کررہا تھا جب پیچھے سے آواز آئ

” سارا قصور اس کا تو نہیں ہوگا ، کچھ نا کچھ تم نے بھی کیا ہوگا کہ وہ طلاق دینے کی بات کرنے لگا “

ماریہ رک گئ ، رک کر صدمے سے انہیں دیکھا

” میرا کوئ قصور نہیں تھا ، میں نے اپنے باپ اور بھائ کا بنایا گیا رشتہ آخری حد تک نبھایا ہے بھابھی ، جس جہنم میں انہوں نے بھیجا تھا اس سے جل کر آرہی ہوں ، اب بھی میرا قصور ہے ؟”

” میں نے یہ تو نہیں کہا کہ سارا قصور تمہارا ہے ، لیکن کچھ نا کچھ تو ہوگا جو وہ طلاق ۔۔۔۔۔”

ماریہ نے ان کی بات کاٹ دی

” بار بار یہ لفظ منہ سے مت نکالیں ، دینی ہے تو دے دے طلاق ، مر نہیں جائوں گی میں “

ثناء ناگواری سے اسے دیکھتی اٹھیں

” تمہارے یہی تیور ہیں جو وہ طلاق دے رہا ہے، خود کو زرا دھیمے مزاج کا بناتیں تو اپنے گھر ہوتیں ،لیکن نہیں تمہیں تو بس سارا الزام کسی اور پر ڈالنا ہے چاہے خود جو بھی کرو “

وہ بڑبڑا کر طعنہ مارتی وہاں سے چلی گئیں اور ماریہ وہیں کھڑی رہ گئ ، پھر تھک کر کرسی پر بیٹھی ، جب سے وہ واپس آئ تھی ، اٹھتے بیٹھتے بھابھی یوں ہی طعنے مار رہی تھیں ، سارا الزام اس پر ڈال کر جواد خود بری الزمہ ہوگیا تھا ، اور وہ سب کی نظروں میں مجرم بن گئ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” میں شادی کرنا چاہتا ہوں “

اس نے رات کو ڈنر پر یہ بم پھوڑا تھا ، حیات اور شہوار کو اس سے اس بات کی توقع نہیں تھی کم از کم کل جو کچھ ہوا اس کے بعد تو بالکل نہیں ، لمحے بھر کو تو وہ شاکڈ رہ گئے

” کیا کہا ہے تم نے؟”

انہیں لگا شاید انہوں نے غلط سنا ہے

” میں نے کہا ہے کہ میں ۔۔۔شادی ۔۔۔کرنا ۔۔۔چاہتا ہوں ” پرسکون انداز میں اپنی بات دہرائ

” تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ؟” شہوار کو ٹینشن ہوئ ، عیسیٰ دھیرے سے ہنس دیا

” i am absolutely fine mom “

” میرا خیال ہے اس کا دماغ شاید ہل گیا ہے “

حیات کا لہجہ مشکوک تھا ، عیسیٰ ایک بار پھر ہنس دیا

” میرا دماغ بالکل ٹھیک ہے “

” پھر یہ فیصلہ کیسے لے لیا اچانک ؟ ، “

” اچانک تو نہیں لیا ، آپ ہی تو کافی عرصے سے کہہ رہی تھیں شادی کا “

” اور تم نہیں مان رہے تھے “

” اب مان گیا ہوں “

” اور اس کے پیچھے کی وجہ کیا ہے ؟”

” کوئ وجہ نہیں ہے ، آئ مین ، انتیس سال کا ہوگیا ہوں اب نہیں کروں گا شادی تو کب کروں گا “

و ہ مسلسل مسکرارہا تھا، شہوار اور حیات نے خاموش نظروں کا تبادلہ کیا

” تم حیران کررہے ہو عیسیٰ “

” حالانکہ آپ کو خوش ہونا چاہئے “

” آفکورس میں خوش ہوں ” وہ سنبھلیں ” بہت اچھی بات ہے ، تو مجھے بتائو کہ کیسی لڑکی چاہئے ؟ کس مزاج کی ؟ فیملی کی کافی لڑکیاں ہیں میری نظر میں اور ہمارے فرینڈ سرکل میں بھی کافی ہیں “

” میں نے لڑکی ڈھونڈ لی ہے ” اس نے مسکراہٹ دبائ ، اور یہ آج صبح کی دوسری حیران کن بات تھی ، اس کا بار بار بلاوجہ مسکرانا ، ہنسنا ، یہ تبدیلی اچھی ہونے کے باوجود ان دونوں کو تشویش میں مبتلا کررہی تھی

” اوکے ، کیا نام ہے اس کا ؟”

حیات ذرا سنبھلے

” اس کا نام ۔۔” اس نے رک کر باری باری دونوں کے چہرے دیکھے ” قرت العین ہے “

لمحہ بھر کو وہاں خاموشی چھا گئ ، یہ نام اگر عیسیٰ حیات کو حفظ تھا تو بھولے اس کے ماں باپ بھی نہیں تھے ، کم از کم یہ نام وہ نہیں بھول سکتے تھے

” اس کا دماغ واقعی ہل گیا ہے “

حیات کا شک یقین میں بدلا ، عیسیٰ نے اس بار زور سے ہنس دیا

” ایسا کچھ نہیں ہے “

” پھر تم نے رات میں کوئ خواب دیکھا ہے “

” ہاں وہ تو دیکھا ہے “

” یقیناً اسی خواب کا اثر ہے “

اور یہ پہلی بار تھا جب اس نے اپنی مسکراہٹ دبائ اور چہرے کو قدرے سنجیدہ کیا

” ریلیکس ڈیئر پیرنٹس ، میں نا ہی پاگل ہوا ہوں اور نا ہی کسی خواب کے زیر اثر ہوں “

” پھر کچھ بتانا پسند کروگے ؟”

” شیور ۔۔۔بات یوں ہے کہ میری قرت کے ڈیڈ سے بات ہوئ ہے کل ، انہوں نے کہا کہ میں ان کے گھر رشتہ بھیج سکتا ہوں “

” کب ہوئ بات ؟”

” آپ آم کھائیں گٹھلیاں کیوں گن رہے ہیں “

” کیونکہ بیٹا جی یہ آم ہمارے اپنے ہی گھر کا ہے ” اس نے رخ پھیر کر حیات کو دیکھا

” آپ کو لگ رہا ہے میرا دماغ واقعی ہل گیا ہے؟”

وہ جانے سچ میں سنجیدہ ہوا تھا یا ایکٹنگ تھی لیکن حیات ذرا سا سنبھلے

” تم اب اس طرح کی باتیں کروگے اور وضاحت نہیں دو گے تو ہم یہی سمجھیں گے نا ” عیسیٰ نے بے اختیار ماتھا مسلا

” دیکھیں ، میں بالکل ٹھیک ہوں، میرا دماغ بھی اپنی جگہ پر ہے ، سو فیصد اپنی جگہ پر ہے اور میں کسی خواب کے زیر بھی نہیں ہوں ، میری نعمان صاحب سے کل واقعی بات ہوئ ہے ۔۔۔”

” اتنے سالوں بعد ایسے اچانک کیسے ؟”

” بس ۔۔۔ جو خدا کو منظور، یوں سمجھیں میری دعائیں قبول ہوگئیں “

اس نے شانے اچکائے ، وہ ان دونوں کو نعمان صاحب کے یہاں آنے کا نہیں بتانا چاہتا تھا ، وہ چاہتا تھا کہ سب اس کی طرف سے ہو

” چھوڑو ان باتوں کو ، تم بتائو رشتہ لے کر کب جانا ہے ان کے گھر ؟”

” ویک اینڈ پر چلے جائیں “

” ہاں ٹھیک ہے ، یہ مناسب رہے گا، تیاری بھی تو کرنی ہے “

شہوار اب سب بھلائے پرجوش ہوئ تھیں ، عیسیٰ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا

” زیادہ کچھ اہتمام مت کیجئے گا مام ، وہ سادہ سے لوگ ہیں ، اور یہ سب پسندنہیں کرتے “

” تم بس دور رہو اس سب سے ، مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ کیا کیا انتظام کرنا ہے “

اس نے بس سر ہلادیا اور اوپر کی طرف بڑھ گیا ، اسے آفس کا کام کرنا تھا

” بہت خوش لگ رہا ہے عیسیٰ “

حیات کے دل میں عرصے بعد عیسیٰ کو لے کر سکون سا پیدا ہوا تھا

” اللہ اسے خوش رکھیں “

ان دونوں کی زبان سے بیک وقت آمین نکلا تھا