Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 8)

Nahal By Fatima Noor 

پارٹی اپنے عروج پر تھی جب وہ وہاں پہنچا ، ہوٹل کی چھت پر گویا رنگ وبو کا سیلاب آیا ہوا تھا ، وہ اردگرد طائرانہ نگاہ ڈالتا عمار کے پاس پہنچا جو کسی لڑکی کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا،عیسیٰ کو آتے دیکھ اس کی طرف آیا

” تم نے تو کہا تھا کہ نہیں آئو گے “

اس سے بغلگیر ہوتے ہوئے وہ حیران ہوا تھا

” اچانک پلین بنالیا بس ، زین کہاں ہے ؟”

چیونگم چباتے ہوئے اس نے ارگرد دیکھا ، وہ بلیو جینز پر سرمئ رنگ کی شرٹ پہنے ہوئے تھا ، بازوں کہنیوں تک موڑ رکھے تھے

” سارہ کو متاثر کرنے کی کوشش کررہا ہے “

عمار ہنسا

” یہ پچھتائے گا “

اس نے سر جھٹکا ،نظر سامنے سے آتی لڑکی پر گئ ، سیاہ رنگ کی شرٹ پر بلیو جینز پہنے ، بالوں کو جوڑے میں لپیٹے ، سرخ و سفید رنگت والی حسینہ ، وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھے گیا ، وہ جو کوئ بھی تھی بلا کی حسین تھی

” اس کا نام صوفیہ ہے “

عمار نے سرگوشی کی تو وہ چونکا پھر شانے اچکائے

” میں نہیں جانتا اسے “

” جان لینا ، اوہ ہیلو صوفی کیسی ہو ؟”

وہ اسے مخاطب کرتے اختتام پر صوفیہ کی طرف بڑھا اور اسے ساتھ لگایا

” فائن ، تم کیسے ہو ؟ “

عمار نے مسکرا کر سر کو خم دیا پھر عیسیٰ کو دیکھا جو انہیں خاموشی سے دیکھ رہا تھا

” اس سے ملو ۔۔۔۔عیسیٰ حیات “

” جانتی ہوں ” نازکی سے ہنستے ہوئے اپنا ہاتھ عیسیٰ کی طرف بڑھایا

” کیسے ؟” اس سے ہاتھ ملا کر قدرے اچھنبے سے پوچھا

” یونیورسٹی میں مجھ سے سینیئر تھے تم ، ہماری دو چار بار ملاقات بھی ہوچکی ہے لندن میں “

عیسیٰ نے ابرو اچکائے

” مجھے یاد نہیں ایسا کچھ “

” تم غالباً لوگوں کو یاد رکھنے میں اچھے نہیں ہو “

صوفیہ مسلسل مسکرا رہی تھی ، عمار وہاں سے غیر محسوس انداز میں غائب ہوا تھا

” میں اعتراف کرتا ہوں ، میں واقعی لوگوں کو یاد رکھنے میں اچھا نہیں ہوں “

” حالانکہ میں بھولے جانے کے قابل نہیں ہوں “

اس کے لہجے میں غرور سمٹ آیا ، عیسیٰ ہلکا سا مسکرایا

” میری یاداشت نے تمہیں یاد رکھے جانے کے قابل نہیں سمجھا ، افسوس”

صوفیہ ہنسی

” صاف گو ہو “

” تم منہ پھٹ بھی کہہ سکتی ہو میں مائنڈ نہیں کروں گا “

“اتنی صاف گوئ اچھی نہیں ہوتی “

” اچھا ہونے کی فکر کسے ہے ؟”

لبوں پہ محظوظ کن مسکراہٹ تھی وہ جیسے صوفیہ کی کمپنی انجوائے کررہا تھا

” نا اچھا لگنے کی فکر نا برا ہونے کا غم ، آئ ایم امپریسڈ “

عیسیٰ جواب دیئے بنا سامنے دیکھنے لگا جہاں سے زین آرہا تھا ، اس کے ساتھ مسکراتی ہوئ سارہ بھی تھی

” صوفی کیسی ہو تم ؟” صوفیہ کو دیکھ سارہ آگے بڑھی جبکہ زین عیسیٰ کے ساتھ آ کھڑا ہوا

” تم کیسے آ ٹپکے ؟” اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے زین نے آہستہ آواز میں پوچھا

” کیوں ؟ خوشی نہیں ہوئ میرے آنے کی ؟”

” نہیں ۔۔۔۔”

زین کا منہ بگڑا،عیسیٰ نے رخ موڑ کر اسے گھورا اور پھر سارہ کی طرف متوجہ ہوا جو اس سے کچھ کہہ رہی تھی ، کیا ؟ یہ اس نے نہیں سنا کیوں کہ وہ بنا پلک جھپکے اس کے گلے میں موجود سفید موتیوں کی مالا دیکھ رہا تھا

سفید موتی۔۔۔۔ سفید تسبیح ۔۔۔۔۔، سفید پانی ،۔۔۔۔۔ اردگرد صرف ایک رنگ باقی رہ گیا ۔۔۔سفید !!!!

” عیسیٰ ” وہ چونکا ، پھر زین کو دیکھا

” کیا ؟”

” سارہ پوچھ رہی ہے کہ تم کیسے ہو ؟”

عیسیٰ نے سر جھٹکا

” فائن ۔۔۔”

” مجھ سے نہیں پوچھوگے٫ کیسی ہوں ؟”

” ٹھیک لگ رہی ہو تو ٹھیک ہی ہوگی “

شانے اچکائے ، سارہ ہلکا سا مسکرائ، پھر صوفیہ کی طرف متوجہ ہوگئ ، زین البتہ وہیں اس کے ساتھ ٹھہرا رہا

” تم دونوں ایک دوسرے کو ڈیٹ کررہے ہو ؟”

سارہ اور صوفیہ کے وہاں سے ہٹتے اس نے زین سے پوچھا

” عنقریب اس سوال کا جواب دوں گا “

وہ پراسرار سا مسکرایا

” مجھے اب بھی اس سوال کا جواب معلوم ہے “

پاکٹ میں ہاتھ ڈالے اس نے ارگرد دیکھا٫ ڈیکوریشن ، اردگرد گھومتے لوگ ، خوشبوں میں بسی لڑکیاں ، اور ایک جگہ اس کی نظر ٹھہر گئ

سامنے کسی لڑکے سے بات کرتی سیاہ میکسی میں ملبوس کوئ لڑکی ٹھہری تھی ، جس کی میکسی اس قدر لمبی تھی کہ وہ اس کے پائوں سے نیچے تک آرہی تھی ، عیسیٰ بنا پلک جھپکے اسے دیکھتا رہا، ذہن کے پردے پر کوئ سیاہ برقع لہرایا ، پہاڑ کی چوٹی پر ٹھہری سیاہ چغہ پوش شہزادی جس کا برقع ہوا سے پھڑپھڑا رہا تھا ، اس کے ہاتھوں میں مقید سیاہ دستانوں میں چھپے ہاتھ

“عیسیٰ ۔۔۔۔”

زین نے زور سے اس کا بازو ہلایا تو اس کی محویت ٹوٹ گئ ، چونک کر اسے دیکھا ، پھر نظر دوبارہ اس ٹیبل پر گئ ، وہ لڑکی غائب تھی

“ہوا کیا ہے تجھے ؟”

” کیا ہوا ہے مجھے ؟” قدرے اکتا کر کہتے اس کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھا

” غائب دماغ لگ رہے ہو “

” کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ ” اسے لمحوں میں کوفت نے آن گھیرا

” واقعی؟”

” کیا واقعی؟ جھوٹ تھوڑی بول رہا ہوں ، دماغ مت کھائو میرا “

جھڑک کر اسے کہا تو زین خاموش سا ہوگیا ، عیسیٰ نے انگوٹھے سے ماتھا مسلا

وہ لڑکی کیوں اس کے دماغ سے چپک گئ تھی ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆

بس چچی غصے میں طلاق دے دی بچارے نے ، فرح ہے ہی اس قدر تیز زبان “

وہ دروازہ بند کرکے پلٹی تو نفیسہ باجی کی آواز کان میں پڑی ، ساتھ میں تائ اور اماں بھی بیٹھی تھیں ، وہ بے اختیار ایک تھکن بھری سانس لے کر رہ گئ

نعمان صاحب وغیرہ تین بھائ اور ایک بہن تھے ، سب سے بڑے کریم تایا تھے ان کی دو بیٹیاں تھیں اور ایک بیٹا تھا نفیسہ باجی انیسہ باجی اور جواد ٫ جواد کے علاوہ باقی دونوں کی شادی ہوچکی تھی ٫ دوسرے نمبر پر نعمان صاحب تھے ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا پھر پھپھو ان کے بھی دو بیٹے اور بیٹیاں تھیں ، بیٹوں کے نام احد اور موحد جبکہ بیٹیوں کے نام کرن اور ماہ نور تھے وہ سب ابھی سکول کالج کے سٹوڈنٹ تھے ، سب سے چھوٹے زاہد چچا تھے ان کا ایک آٹھ سال کا بیٹا اور تین سال کی بیٹی تھی ، دادا نے سب کو ان کے الگ الگ گھر بنا کردے دیئے تھے ، کچھ علاقہ بھی دیہی تھا اس لئے سب کے پاس تھوڑی بہت زمینیں بھی تھیں زندگی بہت اچھی نا سہی لیکن سکون سے سب گزاررہے تھے

” السلام علیکم ، کیسی ہیں نفیسہ باجی ؟ “

وہ دروازہ بند کرکے آئ اور انہیں سلام کیا

” وعلیکم السلام ، ٹھیک ہوں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو ؟”

نفیسہ باجی آگے بڑھیں اور والہانہ پن سے اسے گلے لگایا ، وہ گڑبڑائ

” الحمدللہ ۔۔۔۔”

” دیکھیں تو امی کتنی بڑی ہوگئ ہے خیر سے “

تائ زبردستی مسکرائیں

” بچیاں تو جلدی ہی بڑی ہوجاتیں ہیں نفیسہ ، قرت تم جائو کھانا گرم کرکے کھالو “

اماں نے نفیسہ باجی سے کہتے اختتام پر اسے مخاطب کیا تو وہ فورا اندر گئ

نماز پڑھ کر جب وہ واپس آئ تو وہ لوگ ابھی بھی کسی بات پر بحث کررہی تھیں

” بس چچی ، میرے سامنے طلاق دے دی اشرف نے ، وہ تو شکر ہے کہ فرح پیٹ سے تھی تو طلاق نہیں ہوئ “

کچن کی طرف جاتی قرت رکی

” طلاق ہوجاتی ہے ایسے نفیسہ باجی “

نفیسہ باجی اور تائ چونک کر اسے دیکھنے لگیں

” ہوجاتی ہے ؟ بھائ ہم نے تو ہر جگہ سے یہی سنا ہے کہ نہیں ہوتی “

” دین سنی سنائ باتوں پر نہیں چلتا ، سورہ طلاق میں خود اللہ تبارک نے فرمایا ہے کہ

” حمل والیوں کی عدت حمل جننے تک ہے(سورہ الطلاق : آیت نمبر 4 ) ” یعنی اس صورت میں طلاق ہوجاتی ہے البتہ طلاق واقع بچہ پیدا ہونے کے بعد ہوتی ہے ، جیسے ہی بچہ پیدا ہوا عورت کو طلاق واقع ہوئ اور اس کی عدت بھی ختم ہوگئ ، لیکن اس دوران میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہی رہیں گے “

قدرے سادگی سے کہتے ہوئے اس نے جیسے ان دونوں کو خاموش کرادیا٫ سعدیہ نے فخر سے اپنی بیٹی کو دیکھا

” بھئ میرے دیور نے خود جا کر فتوی لیا ہے کسی عالم سے ،” نفیسہ باجی بھی کہاں ہار ماننے والی تھیں

” یا تو آپ کے دیور جھوٹ بول رہے ہیں یا ان عالم کو مغالطہ ہوا ہے کیونکہ میں نے قرآن میں یہی شے پائ ہے جو آپ کو بتادی “

متانت بھری سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ کچن میں چلی گئ پیچھے تائ اور نفیسہ باجی چپ سی رہی گئیں

☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھا اور گہرے سانس لے کر اردگرد دیکھا، وہ اپنے کمرے میں سو رہا تھا ، وہ مارگلہ ہلز پہ نہیں تھا

” کیا مسئلہ ہے بھئ “

جھنجھلا کر کمبل اتارا اور باہر بڑھا ،ریلنگ پر کھڑے ہوکر نیچے دیکھا تو دوچار ملازم نیچے کام کررہے تھے ابھی فجر صحیح طرح طلوع نہیں ہوئ تھی ، اندھیرا ابھی باقی تھا ، وہ چند لمحے نیچے دیکھتا رہا

یہ دوسرا دن تھا جب اس نے خواب میں وہی منظر دیکھا تھا ، مارگلہ ہلز اور نیچے گرتی لڑکی ، ہر بار خواب یہیں ٹوٹ جاتا اور اس کی نیند خراب ہوجاتی ، خواب کا منظر بہت واضح تھا اور سب سے زیادہ واضح وہ تسبیح تھی

وہ چونکا ، ایک نظر نیچے ڈالی جہاں مبین صفائ کررہا تھا ، ٹراؤزر کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ نیچے اترا

” مبین ۔۔”

” جی سر ۔۔۔” وہ فورا سیدھا ہوا اور عیسیٰ کو دیکھا

” وہ تسبیح تمہارے پاس ہے ؟

” ن۔۔ نہیں سر “

” کسی کو دے دی ؟” ابرو اچکائے

نو سر “

” پھینک دی ؟”

” نہیں سر “

” پھر ؟ کہاں ہے وہ ؟”

وہ۔۔۔ وہ مجھ سے کھو گئ “

عیسیٰ کا دماغ بھک سے اڑا

” واٹ ؟ کہاں کھودی ؟”

” معلوم نہیں سر ، میرے پاس ہی تھی ، لیکن پتا نہیں کیسے کھو گئ “

وہ عیسیٰ کا رئیکشن دیکھتے ڈر گیا ، خود ہی تو کہا تھا کہیں دینے یا پھینکنے کیلئے ، اب اگر گم ہوگئ تو ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟

” اسٹوپنڈ انسان، دماغ ٹھیک ہے تمہارا ایسے کیسے کھودی وہ ؟”

” پتا نہیں سر ، میرے پاس ہی تھی ، گروسری کی شاپنگ کرنے گیا تو پتا نہیں کہاں گر گئ “

وہ ہڑبڑا گیا

” جا کر ڈھونڈو اسے ورنہ وہ حشر کروں گا کہ یاد رکھوگے “

وہ طیش میں آتا غرایا

جج جی سر “

مبین فورا سے وہاں سے غائب ہوا

” جاھل ۔۔۔۔، “

وہ بڑبڑایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ، پتا نہیں کہاں کردی تھی تسبیح ، اگر نا ملی تو دیکھ لے گا وہ ان سب کو

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” آپی ، یہ تسبیح بن بھی تو سکتی ہے نا “

مہر سیاہ لکڑی کا ڈبہ اٹھائے اس تک آئ تو قرت نے سراٹھا کر اسے دیکھا

” نہیں بنے گی ۔۔۔” آواز مدھم ہوگی

” کیوں ؟ اس کے ساتھ کوئ اور موتی ملا لیں “

” اس کے ساتھ کے موتی کھو گئے ہیں مہر ، اب کوئ موتی ان جیسا نہیں بن سکتا “

اس نے کتاب بند کردی ، دل میں تکلیف سی اٹھی

” آپ کو ڈھونڈنا چاہئے تھا انہیں ۔۔۔”

وہ دکھ سے کہتی اس کے ساتھ بیٹھی

” ڈھونڈا تھا ، جتنی وقت نے اجازت دی ، نظروں نے ساتھ دیا ، اتنا تو ڈھونڈا ہی تھا “

اس نے سفید تسبیح ہاتھوں میں لی ، اس کے پورے پچاس دانے غائب تھے ، اس کے نام کا ایک حصہ بھی غائب تھا ، جانے وہ ادھورا نام اور ادھوری تسبیح کہاں تھی ؟

” یہ کتنی پیاری تھی آپی ، آپ کو اسے نہیں کھونا چاہئے تھا “

” لیکن میں نے اسے کھودیا “

وہ قدرے دکھ سے کہتی تسبیح دوبارہ ڈبے میں بند کرنے لگی ، وہ ادھوری تھی اور جب تک وہ ادھوری رہتی اس کا دل یونہی دکھی رہتا ، خود کو مزید دکھ سے بچانے کیلئے اس نے اسے ادھوری تسبیح کو سنبھال کر رکھ لیا تھا ٫ اور دور کہیں اندر اسے احساس تھا کہ شاید اس کے اندر کا کوئ حصہ بھی ادھورا ہوگیا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

گاڑی کہاں ہے میری ؟”

وہ باہر آیا تو گاڑی پورچ میں نہیں تھی ، ساتھ کھڑے ڈرائیور کو ہاتھ سے آگے آنے کا اشارہ کیا اور ماتھے پل بل ڈالے پوچھا

” وہ تمہارے ڈیڈ نے ورکشاپ پہ بھجوادی ہے “

ڈرائیور کی بجائے جواب شہوار نے دیا تھا جو نک سک سے تیار پیچھے سے آ رہی تھیں

” کس لئے ؟ اور کس سے پوچھ کر ؟ “

” کوئ مسئلہ آرہا ہوگا اس لئے بھیجا ہے”

سامنے بلیو جینز پر گرے شرٹ ، پائوں میں سیاہ جوگرز اور ماتھے پہ بکھرے بالوں والے عیسیٰ کو دیکھا ، وہ ہمیشہ ایسے ہی لاپرواہ حلیے میں رہتا تھا یہ الگ بات تھی کہ اس حلیے میں بھی وہ بلا کا ہینڈسم لگتا تھا

” واؤ ، مجھے پتا نہیں کیوں نظر نہیں آیا مسئلہ ” ہاتھ جھلاتے وہ اندر کو بڑھنے لگا جب شہوار کی بات پر رکا

” تم نے کہیں جانا تھا ؟”

” یونہی آؤٹنگ کیلئے جارہا تھا “

” اگر تم چاہو تو میرے ساتھ مسز ظفر کے گھر جاسکتے ہو ان کے ہاں پارٹی ہے آج ، تمہارے فرینڈز بھی ہوں گے یقیناً وہاں پر “

وہ چند لمحے سوچتا رہا پھر قدم آگے بڑھا دیئے

” تم نے چینج نہیں کرنا ؟”

” میں ایسے ہی جائوں گا اینی پرابلم مام ؟” ابرو اچکائے سوال کیا

” ناٹ ایٹ آل “

وہ گہرا سانس لیتیں آگے بڑھ گئیں ،عیسیٰ نے اپنی مرضی کرنی ہوتی تھی سو اس سے بحث بیکار تھی ، عیسیٰ ان کی بات سنے بغیر ہی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا ،گاڑی کے پاس کھڑے ڈرائیور سے چابی لی اور فرنٹ ڈور کھول کر اندر بیٹھ گیا اسے یہ ڈرائیور کے چونچلے پسند نہیں تھے

” یہ کیا ہے۔۔۔۔ ؟”

وہ جو گاڑی سٹارٹ کرنے لگا تھا شہوار کی آواز پر رکا اور پیسینجر سیٹ کی طرف دیکھا ، اور وہ جیسے ایک پل کو ساکت رہ گیا ، پیسنجر سیٹ کے نیچے بالکل سامنے ہی سفید موتیوں کی تسبیح پڑی تھی ، عیسیٰ نے جھپٹ کر اسے اٹھایا

” کیا یہ تمہاری تھی ؟”

وہ اندر بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھیں

” نہیں ۔۔”

” پھر کس کی یے ؟”

” مجھے کیا معلوم ؟ ، آپ ایڈریس بتائیں گی پلیز ؟”

اکھڑے انداز میں مخاطب کیا

” ہاں ، شیور ۔۔”

وہ اسے ایڈریس بتانے لگیں جبکہ عیسیٰ کے دل کو پتا نہیں کیوں لیکن سکون مل گیا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس نے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور سلگا کر کش لینے لگا وہ جب یہاں آیا تھا تو پرسکون تھا اب جب یہاں چند منٹ گزارے تھے تو اندر باہر ہر طرف بے چینی پھیل گئ تھی ، بے زاریت تھی کہ حد سے سوا تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہاں سے بھاگ جائے

” ہےےےعیسیٰ تم اکیلے کیوں بیٹھے ہو “

اس نے پلٹ کر دیکھا پھر رخ موڑ لیا ، وہ فاخر تھا ، مام کی کزن کا بیٹا

” کیا اکیلے بیٹھنا منع ہے ؟” طبیعت کی بے زاریت آواز میں بھی جھلکی

” اتنی خوبصورت تتلیوں کے ہوتے ہوئے اکیلئے بیٹھنا منع ہے “

اس نے اردگرد نظر دوڑائ وہاں ہر طرف مرد عورت تھے ہر طرح کے لباس میں ، اس کی مام بھی یہیں کہیں ہوں گی

” چلو آئو اندر چلتے ہیں تمہیں کچھ خاص لوگوں سے ملواتا ہوں ” وہ فاخر کا خاص اچھی طرح جانتا تھا

” موڈ نہیں ہے “

” حیرت ہے ” وہ ہنسا ۔۔۔۔” چلو جب موڈ ہو آجانا “

وہ آنکھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا ، عیسیٰ وہیں بیٹھا رہا پتا نہیں مام کہاں تھیں ڈیڈ یہاں ہوتے یا دوسری گاڑی موجود ہوتی تو وہ اس طرح پابند ہوکر نہ بیٹھا ہوتا ،

سگریٹ ختم ہوگئ تو اس نے دوسری نکالنے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا ٫ ہاتھ کسی اور چیز سے ٹکرایا ٫اس نے وہ چیز باہر نکالی اور یکدم گہری سانس لی

وہ اس لڑکی کی ٹوٹی تسبیح تھی ، پچھلے چند دنوں سے وہ شدید ذہنی اذیت سے گزر رہا تھا، روتی ہوئ آنکھیں اس کے دماغ سے چپک گئ تھیں ، مبین کو خود تسبیح پھینکنے کا کہہ کر وہ اسے دو دن پورے گھر میں ڈھونڈتا رہا تھا، اس نے سامنے موجود ٹیبل پر تسبیح رکھی اور اسے دیکھے گیا ، وہ آسیب زدہ تھی یا جانے اس میں کوئ کشش تھی

” کیا تم نے تسبیح پڑھنا شروع کردی ہے ؟”

وہ چونکا پھر پلٹ کر دیکھا٫ میری کو دیکھ کر موڈ کچھ اور بگڑا

“میرے خیال سے اس میں کوئ قباحت تو نہیں ہے ” تسبیح جیب میں ڈال دی

” تم اتنے مذہبی کب سے ہوگئے ؟ “

وہ ہنستے ہوئے اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گئ

” اٹس مائ لائف٫ میری مرضی میں مذہبی بنوں یا جو بھی کروں نن آف یور بزنس “

وہ رکھائ سے کہتے اٹھ کھڑا ہوا ،آج جو بھی اس کے منہ لگتا وہ اس کا ذرا بھی لحاظ نہیں کرے گا یہ طے تھا

” تم تو غصے میں لگتے ہو ” گو وہ اس کی اس بدتمیزی پر تلملائ تھی لیکن مسکراہٹ برقرار تھی” چلو چھوڑو تم میرے ڈیڈ سے ملے؟ ، چلو ملواتی ہوں “

اس نے بے تکلفی سے عیسیٰ کے بازوں کو تھاما

” میں تمہارے ڈیڈ سے ملنے میں انٹرسٹڈ نہیں میری، لیو می الون گو اینڈ انجوائے دا پارٹی ” اس کے ہاتھ سے اپنا بازوں کھینچا اور وہاں سے چلا گیا

” سمجھتا کیا ہے یہ خود کو “

میری پیر پٹخ کر رہ گئ

” مام آپ کو مزید کتنی دیر ہے ؟ “

ماتھے پر ڈھیروں بل لئے وہ شہوار کے پاس آیا٫ وہ جو چند خواتین کے ساتھ محو گفتگو تھیں عیسیٰ کو دیکھ کر مسکرائیں

” عیسیٰ ان سے ملو مسز فائزہ ، میری بہت اچھی دوست ، اور فائزہ یہ عیسیٰ ہے میرا بیٹا ” محبت سے اس کے چہرے کو دیکھا

” نائس ٹو میٹ یو بیٹا ، بہت ذکر سنا ہے تمہارا ،کیا کرتے ہو ؟”

” نائس ٹو میٹ یو ٹو آنٹی ، مام گھر چلیں ؟ یا پھر میں اکیلا ہی چلا جائوں ؟” شہوار کی مسکراہٹ تھمی

” ایکسکیوزمی ” معذرت کرتے ہوئے اسے باذوں سے تھاما اور قدرے خاموش گوشے میں لے گئیں

” موڈ کیوں بگڑا ہوا ہے ؟”

” اٹس سو بورنگ ، آپ کے فرینڈز کے بچے ممی ڈیڈی ٹائپ ہیں ، عجیب چپکو ” وہ خراب موڈ کے ساتھ کہہ رہا تھا

” عیسیٰ ریلیٹو ہیں ہمارے “

” آپ کے ، مجھے خواہمخواہ کے رشتے نہیں بنانے ” شہوار نے ضبط سے اسے دیکھا ٫ موڈ بگڑا ہوا تھا ٫ چہرے پہ حد درجہ بیزاری اور اکھڑپن تھا ٫ اب وہ اسے ہزار سمجھاتیں اس نے وہاں نہیں رکنا تھا وہ جانتی تھیں

” دس منٹ رکو میں مسز ظفر سے معذرت کرکے آتی ہوں “

” پلیززز۔۔۔۔۔۔ “

وہ بے زاری سے کہہ کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

شہوار کو گھر چھوڑنے کے بعد وہ کلب آ گیا ، کتنی دیر جانے وہاں بیٹھ کر سموکنگ کرتا رہا ، وہ تسبیح اس کی جیب میں تھی اور اس کے دل پر بھاری پڑ رہی تھی یا شاید کچھ اور تھا جو اس کے دل پر بھاری پڑ رہا تھا

” کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں ؟”

نازک سی آواز پر اس نے رخ موڑا اور پیچھے کھڑی صوفیہ کو دیکھا جس نے جینز پر وائٹ شرٹ پہن رکھی تھی، لباس نا مکمل تھا ، وہ کاندھے اچکا کر دوبارہ سامنے دیکھنے لگا

” تھینکس٫ میں فرینڈز کے ساتھ آئ تھی، تم چاہو تو ہمیں جوائن کرسکتے ہو ” وہ اس کے ساتھ بیٹھتی بتانے لگی

” میں ٹھیک ہوں یہیں ۔۔۔۔” اس کی نظریں سامنے جمی تھیں ، سیاہ ڈیکوریٹڈ وال ۔۔۔۔سیاہ رنگ ۔۔۔سیاہ عبایا ۔۔۔سیاہ دستانے میں مقید ہاتھ

اس نے سر جھٹکا

” کیا تم سموکنگ بند نہیں کرسکتے ؟” وہ ناک سکیڑتی قدرے حکمیہ لہجے میں بولی

” نہیں ۔۔۔۔”

اس قدر صاف انکار پر صوفیہ کا چہرہ پھیکا پڑا ،پھر وہ مسکرائ

” ایکچولی مجھے اس کی سمیل اچھی نہیں لگتی “

” پھر تم کہیں اور جا کر بیٹھ سکتی ہو “

بے رخی سے کہتے اسے دیکھا

” اٹس اوکے ۔۔۔۔۔۔میں یہاں کمفرٹیبل ہوں “

وہ زبردستی مسکرائ ، عیسیٰ نے جواب نہیں دیا ، وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہا تھا

” ہیلو ۔۔۔؟”

اس نے عیسیٰ کے چہرے کے آگے ہاتھ ہلایا تو وہ چونکا ، چند لمحے اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہا پھر ہلکا سا اس کی طرف جھکا

” تمہاری آنکھیں “

” کیا بہت خوبصورت ہیں ؟”

وہ اترائ

” وہ اس کی آنکھوں جیسی ہیں “

” کس کی ؟”

وہ چند لمحے یونہی جھکے جھکے اس کی آنکھوں میں دیکھتا پھر سیدھا ہوا اور چہرہ واپس موڑا، چند لمحے ایش ٹرے کو گھورا اور پھر جھٹکے سے اٹھ کر باہر چلا گیا ٫ ان آنکھوں کا رنگ ایک جیسا تھا لیکن وہ آنکھیں ایک جیسی نہیں تھیں

ابھی وہ اینٹرس پر پہنچا ہی تھا جب نظر سامنے چیئر پر بیٹھی لڑکی پر پڑی ، وہ ٹشو سے آنکھیں پونچھ رہی تھی ، عیسیٰ کے قدم رک گئے ، دو آنکھیں شدت سے یاد آئیں تھیں ، پھر وہ کئ لمحے رک کر اسے دیکھے گیا یہانتکہ اس لڑکی نے نظریں اٹھا کرعیسیٰ کو دیکھا ٫آنکھوں میں ناگواری ابھری ، پھر وہ بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئ ، اس کے جاتے ہی وہ جیسے ہوش میں آیا ، خود پر لعنت بھیجی اور باہر کی طرف بڑھ گیا