Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 7)
Nahal By Fatima Noor
” قرت کہاں ہے ؟”
انہوں نے ہاتھ میں پکڑی سبزی سعدیہ بیگم کو دی اور قرت کا پوچھا
” کمرے میں ہے ، چار دن ہوگئے ہیں واپس آئے ابھی تک بخار نہیں اترا ، منع بھی کیا تھا میں نے لیکن سنتا کون ہے میری “
وہ بڑبڑاتے ہوئے کچن میں چلی گئیں ، نعمان صاحب گہرا سانس لیتے اس کے کمرے کی طرف بڑھے دروازہ پر دستک دے کر کھولا تو سامنے ہی قرت نماز پڑھ رہی تھی ، وہ بیڈ کی پائنتی پر بیٹھ گئے ، اس نے نماز پڑھی اور بنا دعا مانگے جائے نماز طے کرتی اٹھ کھڑی ہوئ
” دعا مانگے بغیر نہیں اٹھنا چاہئے بچے ” نعمان صاحب کی آواز پر وہ ٹھٹکی اور پیچھے مڑ کر دیکھا
” اللہ دلوں میں موجود دعا تو جانتا ہے نا ابا “
” دلوں میں موجود دعا کو زبان سے مانگنے میں کیا حرج ہے ؟”
” بعد میں مانگ لوں گی ابا “
” کیا معلوم یہ ساعت قبولیت کی ہو ، اور تم اسے ضائع کردو ؟ ، “
” کیا یہ ساعت قبولیت کی ہے ؟”
” ہو بھی سکتی ہے ، دعا مانگنے کا جب بھی موقع ملے مانگ لینی چاہئے ،کیا معلوم کون سی ساعت قبولیت کی ہو، بعد پر رکھی جانے والی دعا بدل جاتی ہے اس کی جگہ کوئ اور دعا لے لیتی ہے “
وہ جائے نماز رکھ کر پلٹی اور انہیں دیکھا
” اگر میں مانگوں تو کیا میری تسبیح واپس مل جائے گی ؟” نعمان صاحب چند لمحے اسے دیکھتے رہے پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا
” تم نے وہ حدیث قدسی پڑھی ہے جس میں رب تعالی فرماتے ہیں کہ جب میں اپنے بندے سے اس کی کوئ محبوب شے لے لیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کا بدلہ صرف جنت ہے “
اس نے سر اثبات میں ہلادیا ، آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے ، پچھلے چند وہ روئ نہیں تھی ، ماریہ کے سامنے جو آنسو بہائے تھے سو بہائے تھے
” میں صبر کررہی ہوں ابا “
” تم آنسو ضبط کرنے کو صبر کہتی ہو ؟”
” میں شکوہ نا کرنے کو صبر کہتی ہوں ، اور میں نے شکوہ نہیں کیا ، ۔۔۔۔۔خدا گواہ ہے “
” شکوہ نہیں کیا لیکن شکر بھی تو نہیں کیا “
” شکر ؟” سر اٹھا کر حیرانی سے انہیں دیکھا ، نعمان صاحب چند لمحے اسے دیکھتے رہے
” تم پر وہاں کوئ بڑی مصیبت آئ تھی ، جس سے خدا نے تمہیں بچایا ہو ؟”
وہ چند لمحے کو لاجواب رہ گئ ، اس نے گھر میں کسی سے بھی مارگلہ پر اپنے گرنے کا تذکرہ نہیں کیا تھا
” جی ، میں نے سوچا آپ پریشان ہوں گے اس لئے نہیں بتایا ۔۔” آواز میں شرمندگی در آئ
” اب بھی مت بتانا ، اگر وہ مصیبت تم تک نہیں پہنچی تو مجھے مت بتانا ” وہ رکے اور اسے دیکھا۔۔۔ ” شاید اسی مصیبت کی وجہ سے ہی تسبیح گم ہوگئ ؟”
اس نے سر ہلادیا
” یعنی تم نے چھوٹی مصیبت پر غم منایا لیکن بڑی مصیبت کے ٹلنے پر شکر ادا نہیں کیا ٫ایسا کیوں ؟”
” مجھ پر آنے والے چھوٹے غم نے ٹلنے والے بڑے غم کو بھلوا دیا ” نعمان صاحب نے سر کو خم دیا
” بعض اوقات ہم پر آنے والی بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے اور اس کی جگہ چھوٹی مصیبت آجاتی ہے ، اس چھوٹی مصیبت میں ہونے والا نقصان بڑی مصیبت کو ٹالنے والا صدقہ بن جاتا ہے ایسے موقع پر شکر واجب ہے ، صبر لازم ، شکر ثواب لاتا ہے ، صبر اجر لاتا ہے ، “
اس نے سر ہلادیا
” میں ٹھیک ہوں ابا “
” ہمیشہ ٹھیک ہی رہو ” انہوں نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا اور پھر اٹھ کھڑے ہوئے
” چلو شاباش اب بخار بھی دور بھگائو اپنا ، مدرسے بھی جانا ہے کل سے “
” جی ۔۔۔۔۔”
وہ چلے گئے تو قرت اٹھ کر الماری تک گئ ٫اندر رکھا ڈبہ نکالا اور وہ ٹوٹی ہوئ تسبیح نکالی
“بعض چیزیں کھو جاتی ہیں ، بعض امتحان طویل ہوجاتے ہیں ، بعض دکھ اذیت ناک ہوتے ہیں ، ہر غم آزمائش ہوتا ہے اور ہر آزمائش دو چیزیں ساتھ لاتی ہے ، صبر اور شکوہ ، یہ آپ پر منحصر ہے آپ کون سی چیز لیتے ہیں “
اور قرۃ العین نے صبر کو چن لیا تھا
☆☆☆☆☆☆☆
“آپ نے کال ملائ اسے ؟”
وہ چہرے پر مصنوعی مسکان سجائے حیات صاحب کے پاس آئیں لہجے میں پریشانی واضح نظر آرہی تھی
” ملائ ہے، اٹھا نہیں رہا “
اسی پل اس کی گاڑی مین گیٹ سے اندر داخل ہوئ ، گاڑی سے اتر کر چابی ملازم کو پکڑائ اور بے نیازی سے چلتے ہوئے اندر کی طرف جانے لگا
“عیسیٰ !”
جی ۔۔۔۔”
شہوار کی پکار پر وہ ان کی طرف چلا آیا
” کال کیوں نہیں اٹھارہے تھے ؟”
“موبائل سائلنٹ پر تھا ” اس کی نظریں اردگرد کا طواف کررہی تھیں
” تمہیں معلوم تھا نا کہ آج پارٹی ہے گھر پہ “
ضبط سے اس کے لاپرواہ انداز اور حلیے کو دیکھا جو جینز پر وائٹ شرٹ پہنئےہوئے تھا شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھلے ہوئے تھے اور آدھی شرٹ جینز سے باہر جبکہ آدھی اندر تھی
” تو ۔۔” اس نے کاندھے اچکائے ” ایسی پارٹیز تو روز ہوتی ہیں ،اس میں نیا کیا ہے ؟”
” عیسیٰ کچھ ریسپکٹ ہے شہر میں ہماری ٫سب لوگ تمہارا پوچھ رہے تھے ” حیات صاحب کی آواز سخت ہوئ انہیں اس کے لاپرواہ حلیے سے کوفت ہورہی تھی
” میں کوئ شوپیس نہیں ہوں ڈیڈ جسے آپ سب کے سامنے پیش کریں کہ یہ دیکھو میری اولاد، بلاں بلاں، میری اپنی بھی زندگی ہے٫ میں آپ لوگوں کیلئے ہر وقت موجود نہیں رہ سکتا جیسے میرے بچپن میں آپ کی ایک زندگی ہوا کرتی تھی اور آپ میرے لئے ہر وقت موجود نہیں رہ سکتے تھے “
وہ بے تاثر لہجے میں کہتا وہاں سے ہٹ گیا پیچھے شہوار اور حیات صاحب کے دل میں کوئ سویا درد پھر سے جاگا، وہ اپنے بچپن کے چند سال جو اس نے تنہا گزارے تھے نہ خود بھولتا تھا نہ انہیں بھولنے دیتاتھا
” you should respect your parents “
” اس نے اندورنی دروازے کے آگے بنے سٹیپس پر ابھی قدم رکھا ہی تھا جب پاس سے آتی آواز پر رکا ٫اندرونی دروازے کے پاس سیڑھیوں کے قریب کوئ ٹھہرا تھا وہ تھوڑا قریب ہوا٫ وہ سارہ تھی ، عیسیٰ مسکرایا
” look ! who is saying”
وہ سینے پر ہاتھ باندھے فرصت سے اسے دیکھنے لگا اس نے سفید رنگ کی ہاف باذوں والی لمبی میکسی پہن رکھی تھی ہلکے سے میک اپ کے ساتھ آنکھوں کا سموکی میک اپ لئے وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی عیسیٰ کو اپنے دیر سے آنے پر افسوس ہوا
” میں اپنے پیرنٹس سے ایسے بات نہیں کیا کرتی “
وہ بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتی بولی ، اس نے سر کو خم دیا
“لیٹ می کمپلیٹ یور آنسر سویٹ ہارٹ ، تم اپنے پیرنٹس سے بات ہی نہیں کیا کرتیں ” قدرے جھک کر سرگوشی سے اسے کہا ٫ وہ ہلکا سا ہنسی
” لگتا ہے بہت اچھے سے جانتے ہو مجھے ” محظوظ ہوکر اسے دیکھا
” جتنا تم سوچ رہی ہو اس سے کم “
اس کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لیا جو ابھی ابھی ویٹر اسے دے کر گیا ایک گھونٹ بھرا اور واپس اس کے ہاتھ میں تھما دیا
” سوری بٹ نو سوری ” ڈھٹائ سے مسکرا کر کہتا وہ اوپر چلا گیا
” اٹس اوکے ” وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھے گئ
چند مہمان گھر کے اندر بھی تھے وہ بنا کسی سے ملے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ٫ابھی چند قدم دور ہی تھا جب پیچھے سے زین کی آواز گونجی
” بے حیا انسان۔۔۔ “
” ناٹ اگین۔۔۔۔ “
وہ کراہ کر پلٹا زین تیزی سے چلتا اس کی طرف آرہا تھا، اس کا چہرہ غصے سے لال ہورہا تھا
” تم سب نے قسم کھارکھی ہے کیا کہ آج مجھے کمرے میں نہیں پہنچے دو گے ؟”
زین نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا اور بازوں سے گھسیٹ کر اسے کمرے میں دھکیلا
” تھینکیو لیکن میں پہنچ گیا تھا خود ہی ” اس کے ہاتھ سے اپنا باذوں چھڑواتے وہ بیڈ پر بیٹھ کر اپنے بوٹ کے تسمے کھولنے لگا
” سارہ سے کیا کہہ رہا تھا تو ؟ “
” کچھ نہیں بس یونہی “
وہ لاپرواہ لہجے میں بولا
” تمہارا یونہی اچھی طرح سمجھتا ہوں میں، شرم کرو کچھ، اس پر سے اپنی گندی نظریں ہٹا لو “
” اہاااں ۔۔ میری گندی نظریں ؟ جو تم نے اس پر رکھی ہوئ ہیں اپنی ان نظروں کی وضاحت کروگے ذرا ؟ ” تسمے کھولتے ابرو اٹھائے سوال کیا
” عزت دار نظریں ہیں میری ،عزت دار اور شریف “
” عزت دار ؟” وہ جوتا پھینکتا کھڑا ہوا ” ابھی ایک ہفتہ پہلے تم نے یہ عزت دار اور شریف نظریں سونیا پر جما رکھی تھیں “
” وہ صرف نظریں تھیں ، یہ عزت دار نظریں ہیں “
زین ڈھٹائ سے کھڑا رہا
” تمہاری ساری نظریں ایک جیسی ہوتی ہیں کیا عزت دار کیا بے غیرت ” وہ وارڈروب کھولے اس میں سے سوٹ نکالنے لگا
” دیکھ بھائ تجھے اور بھی مل جائیں گی٫ ڈھیروں مل جائیں گی ، اس ایک پر مجھے ٹرائ کرنے دے”
زین نے بس ہاتھ نہیں جوڑے تھے اس کے سامنے، عیسیٰ شرٹ نکالتا پلٹا
” میں صرف اس سے بات کررہا تھا ورنہ اس کی خوبصورتی کے سوا اس میں کچھ ایسا نہیں ہے جس سے متاثر ہوا جائے ، انفیکٹ اگر تم غور کرو تو وہ مجھے صرف ایک گولڈ ڈگر لگتی ہے، نیچے پانچ منٹ میں ٫میں نے اسے دو مردوں سے بے تکلفی سے بات کرتے دیکھا تیسرا میں خود ہوں “
“تم تو رہنے ہی دو خواہ مخواہ اس پر الزام لگارہے ہو ” زین سارہ کے بارے میں کہے گئے الفاظ پر بھنا گیا
” اوکے ، میں غلط کہہ رہا ہوں تو اب ایسا کرو ” شرٹ صوفے پر پٹخی زین کو باذوں سے پکڑا اور دروازے سے باہر نکال دیا ” یہاں سے دفعع ہوجائو “
” ذرا تمیز چھو کر گزری ہے تمہیں ؟”
زین کا چہرہ سرخ ہوا
” نہیں ۔۔۔۔ “
اس نے کھٹاک سے دروازہ اس کے منہ پر بند کردیا
” جینا حرام کرکے رکھ دیا ہے “
بڑبڑاتے ہوئے وہ وارڈروب کی طرف بڑھ گیا ، تھوڑی دیر بعد جب وہ چینج کرکے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آیا تو ڈرسینگ ٹیبل پر بالکل سامنے ہی کچھ رکھا تھا ، عیسیٰ کی آنکھوں میں ناگواری ابھری
” مبین ۔۔۔” باہر نکل کر زور سے ملازم کو پکارا ، وہ فورا حاضر ہوا
” یہ میرے روم میں کیا کررہی ہے ؟ ” تسبیح والا ہاتھ آگے کیا چہرے پر شدید بے زاری تھی
” سر یہ آپ کی شرٹ سے ملی تھی تو اس لئے آپ کے روم میں رکھ دی “
” میری نہیں ہے یہ ، لے جاؤ اسے “
” میں اس کا کیا کروں سر ؟” وہ تسبیح ہاتھ میں پکڑے ہونق سا عیسیٰ کو دیکھے گیا
“کسی کو دے دو ، خود رکھ لو یا چاہو تو کہیں پھینک دو ، لیکن یہ میرے روم میں نظر نا آئے ، اب دفع ہوجائو یہاں سے “
اس نے دروازہ بند کردیا، اور مبین متذبذب سا وہاں کھڑا رہ گیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” تم ٹھیک ہو ؟” قرت نے سر اٹھا کر اطمینان سے ساتھ بیٹھی حریم کو دیکھا
” تم یہ تیسری مرتبہ پوچھ رہی ہو ، میں تیسری مرتبہ اپنا جواب دہرا دیتی ہوں ٫ ہاں میں ٹھیک ہوں “
حریم نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا ، وہ گندمی چہرے والی عام سے نقوش کی حامل لڑکی تھی ، نا کچھ خاص سی نا مثل حور جیسی ، مناسب قد اور ذہانت سے بھرپور برائون آنکھیں، وہ ان کی کلاس کی سب سے ذہین لڑکی تھی ، سب سے زیادہ خوش اخلاق بھی ، لیکن اسے مرکز نگاہ بننا نہیں آتا تھا، وہ پس منظر میں رہتی ، اسے بھلادیا جاتا اور وہ اس بھلا دیئے جانے پر راضی رہتی ،اسے ضرورتاً یاد کیا جاتا اور وہ اس یاد کئے جانے پر شکوہ نا کرتی، اسے خواہش بننا نہیں آتا تھا ،نا توجہ لینا آتا تھا ،وہ پرہجوم محفلوں کی خاموش تماشائی ہوتی ،پرشور محفلوں کی خاموش سامع ، وہ محفلوں میں ہوتی تو حریم کو اسے ڈھونڈ کر سب کے بیچ لانا پڑتا ، وہ سب کے بیچ ہوتی تو زبردستی بلوانا پڑتا ، ایسا نہیں تھا وہ کم گو تھی اسے بس محفلوں میں الفاظ ترتیب دینے پڑتے تھے ، ان ترتیب دیئے گئے الفاظ کو ادا کرنے میں دقت ہوتی ، وہ خوش گفتار ہوتی اگر ماریہ کی طرح مسلسل بول لیتی ، وہ خوش لباس ہوتی اگر وہ حریم جیسی خوبصورت ہوتی ، لیکن قرت العین ان جیسی نہیں تھی اور نا اس نے کبھی خود کو ان جیسا بنانا چاہا تھا ، وہ خود کو جیسی تھی ویسی پسند تھی ، بس ایک دھیمی سی مسکان تھی جو اس کے چہرے پر ہمہ وقت رہتی تھی ایک اس کی آنکھیں تھیں جو روشنی پڑنے پر طلسماتی لگتی تھیں ، اور بس قرۃ العین کے پاس یہی خوبصورتی تھی لیکن حریم کو وہ عزیز تھی ، اس کے بیمار ہونے پر وہ پچھلے پانچ دنوں میں دو بار ان کے گھر گئ تھی
” محترمہ وہ تم ہی تھیں جس نے تسبیح کے غم میں خود کو بیمار کرلیا تھا “
” اور اب وہ تم ہوگی جو پیپر کے غم میں خود کو بیمار کرلو گی ” منیبہ کتاب اٹھائے ان کے ساتھ آکر بیٹھی تو حریم کا منہ بگڑا ، اسے منیبہ اچھی نہیں لگتی تھی
” میری تیاری ہے پڑی ، اپنا سوچیں منیبہ “
اگلے مہینے سے ان کے پیپر شروع ہورہے تھے
” وہ تو میری بھی ہے پڑی “
قرت نے ایک نظر منہ بناتی حریم پر ڈالی اور دوسری منیبہ پر ،پھر کھنکاری
” ہم لوگ کینٹین جارہے تھے ،چلیں گی منیبہ ؟”
” ہاں ضرور ، میں بک رکھ کر آتی ہوں۔”
وہ فورا اٹھ گئ ،حریم کا بگڑا منہ کچھ اور بگڑ گیا ، قرت نے بمشکل اپنی ہنسی چھپائ
“کیا ضرورت تھی اسے دعوت دینے کی ؟ ، پیپر آنے والے ہیں نا اس لئے اب تمہاری چاپلوسی کرنے لگی ہے ہنہہ “
” ساتھ بیٹھی تھی نا دیتی دعوت ؟”
تحمل سے اس کی ناراضگی کو دیکھا اور اٹھ گئ ٫ حریم کچھ اور بھی کہہ رہی تھی لیکن ان کی آواز اب دھیمی ہوتی جارہی تھی
☆☆☆☆☆☆☆
“ٹکٹ بک کروالی تم ؟”
انہوں نے سامنے بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے عیسیٰ کو مخاطب کیا
” جی ۔۔۔۔۔”
” کب کی ؟”
” نیسکٹ منتھ کی “
حیات صاحب نے کچھ کہنے کی بجائے سر ہلادیا ، نظریں ٹی وی پر گئیں جہاں عیسیٰ صرف چینل سرفنگ کررہا تھا ، وہ کچھ دیر اسے دیکھتے رہے ، کوئ بات ڈھونڈنی چاہی جو وہ کرسکیں ، کوئ سوال جو وہ پوچھ سکیں ، کوئ قصہ کوئ یاد جو وہ ایک دوسرے سے شیئر کرسکیں، اور انہیں یکدم احساس ہوا کہ ان کے پاس ایسا کچھ نہیں تھا جو وہ عیسیٰ سے بات کرنے کیلئے کہہ سکیں ، اپنی زندگی کے بہترین سال وہ پیسے بنانے میں مصروف رہے اور انہوں نے یادیں بنانے کا وقت کھو دیا
ٹی وی پر جمی ان کی نظروں نے عیسیٰ کو دیکھا جو کب سے چینل سرفنگ کررہا تھا ، اگر اسے ٹی وی نہیں دیکھنی تھی تو وہ یہاں کیوں بیٹھا تھا ؟کیا اس لئے کہ ان کے ساتھ بیٹھ سکے ؟کچھ وقت گزار سکے ، ان کے دل میں خوش فہمی سی پیدا ہوئ ، انہیں یقیناً کچھ کہنا چاہئے ، کوئ بزنس ریلیٹڈ بات ، ملکی سیاست پر بحث ، وہ آگے کیا کرے گا یہ پوچھنا چاہئے ، کچھ بھی لیکن انہیں کوئ بات شروع کرنی چاہئے
ٹی وی دیکھتے ہوئے عیسیٰ، حیات کی متذبذب نظروں سے بے نیاز چینل سرفنگ کررہا تھا جب ایک چینل پر وہ رکا
وہ کوئ اسلامی چینل تھا جس پر نقاب میں ملبوس کوئ خاتون کسی مسئلے پر بحث کررہی تھیں ، وہ بے دھیانی میں اس عورت کو دیکھے گیا ،اس کی سیاہ آنکھوں کو ، آنکھوں کے تاثرات کو، سیاہ نقاب کو ، پھر وہ سیاہ آنکھیں بھوری آنکھوں میں تبدیل ہونے لگیں ، ان آنکھوں میں پانی بھرنے لگا ، اس پانی میں کسی کا عکس چمکا، عیسیٰ اس عکس میں ڈوبا
عیسیٰ ۔۔۔”
ان خاتون کے ہاتھ میں تھامی سبز کڑیوں والی تسبیح سفید موتیوں میں تبدیل ہوئ ، اس کے ذہن میں زمین پر بکھرے موتی چمکے ، کسی کی آنکھوں میں بکھرے موتی سمائے
” عیسیٰ۔۔۔”
” وہ چونکا
اس کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھے حیات اسے بلا رہے تھے
” جی ؟”
” کہاں گم ہو ؟”
” کہیں نہیں ۔۔”
اس نے سر جھٹکا، نظر ٹی وی پر گئ ، وہ عورت اب بھی وہی تھی لیکن اب وہ بھوری آنکھیں اور پانی غائب تھا
” تم کب سے اسلامک شوز دیکھنے لگے ؟”
حیات نے یونہی بات کرنے کی غرض سے پوچھا ، عیسیٰ نے ٹی وی بند کردی
” ویسے ہی دیکھ رہا تھا ” اس کا موڈ جیسے بگڑ گیا تھا
” اچھی بات ہے ، دیکھ لیا کرو ، اپنے دین کے بارے میں علم ہونا چاہئے “
انہوں نے جیسے بات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ، عیسیٰ نے رخ موڑ کر انہیں دیکھا
” یہ بات آپ کو مجھے دس سال پہلے کہنی چاہئے تھی ” حیات لاجواب ہوئے ،عیسیٰ اب اٹھ کر اپنے روم میں جارہا تھا ،اور وہ وہیں بیٹھے رہ گئے
☆☆☆☆☆☆
چھت سے سوکھے کپڑے اتار کر وہ صحن میں آئ تو مہر برآمدے میں رکھے تخت پر بیٹھی تھی ،کتاب سامنے پھیلائے جس سے اس کا چہرہ چھپ گیا تھا ، اس نے کپڑے ساتھ رکھی چارپائ پر ڈالے اور مہر کو دیکھا
” پیپر کب ہیں تمہارے ؟”
وہ ایف ایس سی کے پہلے سال میں تھی
” تین مہینے بعد “
اسی طرح منہمک سے انداز میں جواب آیا
” تیاری کیسی ہے ؟”
” اچھی ہے۔۔۔۔”
” پیپر اچھے ہوجائیں گے ؟”
” بہت اچھے ہوجائیں گے ” بنا سر اٹھائے جواب دیا
” اور کیا لکھو گی پیپر میں ؟ یہ کہ فلاں ہیرو نے ہیروئن کو فلاں تحفہ دیا ؟”
وہ آخری سوٹ رکھتی اس تک آئ اور کتاب سامنے سے ہٹائ ، کتاب پر رکھا ناول گرگیا ، مہر ہڑبڑا کر سیدھی ہوئ
” وہ۔۔۔آپی “
” آپی کی بچی ۔۔۔یہ پڑھائ کررہی ہو تم ؟”
اسے گھورا
” ابھی ہی پڑھنا شروع کیا تھا “
وہ منمنائ
” ہاں ، آدھی رات تک بستر میں گھس کر تو تم اپنے پیپروں کی تیاری کرتی ہو نا ؟” مہر نے تھوک نگلا ، آپی جانتی تھیں کہ وہ آدھی رات تک ناول پڑھتی ہے ؟
” کبھی کبھی پڑھتی ہوں “
قرت نے گہری سانس لیتے اسے دیکھا
” آج کل تم کبھی کبھی نہیں پڑھ رہیں مہر “
” بس یہ ہفتہ زیادہ پڑھا ہے ، آئندہ پڑھوں گی ہی نہیں ” وہ خفا ہوئ
” میں نا پڑھنے کا نہیں کہہ رہی ، بس بہت زیادہ نا پڑھنے کا کہہ رہی رہی ہوں ، زیادتی جس شے کی بھی ہو بری ہے ، ایک آدھ ناول میں بھی پڑھ لیا کرتی ہوں مہینے میں،لیکن اس قدر زیادہ نہیں مہر کہ ہر کام چھوڑ کر اسی میں گھسے رہو ، اب تم خود بتائو کیا تم آدھی رات تک یہ نہیں پڑھتیں ؟ کالج سے آنےکے بعد پھر دوبارہ سے ناول نہیں اٹھا لیتیں ؟ جب سے تم اپنی دوست سے یہ لے کر آئ ہو تم نے کالج کا پڑھنا چھوڑ دیا ہے تقریبا “
نرمی سے اسے سمجھایا تو وہ سر جھکا گئ
” حفصہ کو واپس کرنے تھے اس لئے جلدی پڑھ رہی تھی “
” پیپروں کے بعد لے آنا پھر ، ابھی پیپروں کی تیاری کرو ، اور تم حفظ کی دہرائ بھی نہیں کررہیں نا ؟” مہر کی شرمندگی کچھ اور بڑھی
” نہیں۔۔۔۔۔ “
” بہت بری بات ہے یہ مہر ، ابوبکر کو دیکھا ہے جو یاد کرتا ہے ہر وقت پڑھتا رہتا ہے ، ایک حافظ اپنا قرآن بھول جائے اس سے زیادہ شرمندگی والی بات کوئ نہیں ہے “
” بس آج سے نیت کررہی ہوں پکی والی ، اور یہ ناول بھی واپس کردوں گی حفصہ کو کل ان شاء اللہ ، “
وہ ایک عزم سے بولی تو قرت مسکرائ
” شاباش۔۔۔۔۔ “
کپڑے اٹھاتے ہوئے وہ اندر کی طرف بڑھی، جبکہ مہر اب ناول سائیڈ پر رکھے بک اٹھائے پڑھ رہی تھی
☆☆☆☆☆☆
” اے سنو ” وہ باہر جارہا تھا جب دروازے سے اندر داخل ہوتے مبین کو روکا
” جی سر !”
” وہ جو تسبیح دی تھی، وہ پھینک دی تم نے؟” یونہی سرسری سا پوچھا
” نہیں سر ، آپ کو چاہئے تھی ؟”
” مجھے کیوں چاہئے ہوگی ، رکھو اپنے پاس یا پھینک دو ” ناک سے گویا مکھی اڑاتے وہ جانے لگا جب مبین کی بات سن کر رکا
تسبیح کو کیسے پھینکوں سر ؟”وہ جیسے خود سے بڑبڑایا تھا
” کیسے پھینکوں مطلب؟”
مبین گڑبڑایا ” میرا مطلب اتنی مقدس ہوتی ہیں تسبیحات ۔۔کیسے پھینک دیتا “
” سریسلی ، چند سفید موتی ہی تو ہیں “
” وہ عام موتی نہیں لگتے سر ، بہت صاف ہیں ، پاک سے “
اس کے خیال کے پردے پر کوئ لہرایا پھر اس نے سر جھٹکا
” جو بھی ہو ، اب وہ تسبیح مجھے اپنے آس پاس نظر نا آئے ” بے زاری سے کہتے وہ آگے بڑھ گیا ، جبکہ مبین نے افسوس سے سر ہلایا
” اتنی مقدس تسبیح کو پھینک دوں ؟عیسیٰ سر بھی نا “
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
