Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 24)
Nahal By Fatima Noor
منتہیٰ نے اندر سے آتی آواز سنی اور تھوک نگلا ، پھر تھوڑا سے آگے ہوئ
” ضعیف حدیث تب تک ضعیف رہتی ہے جب تک اسے حسن یا صحیح کے درجے تک پہنچانے والے امور نا پائے جائیں ، ایک ضعیف حدیث کو بعض اوقات دوسری ضعیف حدیث مضبوط کردیتی ہے ، جیسے کہ ۔۔۔”
” کیا میں اندر آجائوں باجی جان ؟”
قرۃ العین کے الفاظ زبان میں رہ گئے ، رخ موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا پھر کلاس میں موجود گھڑی کو
” یہ کون سا وقت ہے جماعت میں آنے کا منتہیٰ ؟”
” معذرت باجی جان ، راستے میں ٹریفک بہت تھی ” اس نے دنیا جہاں کی معصومیت اپنے چہرے پر سجالی ، قرت نے سر جھٹکا
” آجائیں ۔۔”
” شکریہ باجی جان ” وہ جھٹ سے اندر آئ اور اپنی سیٹ پر بیگ رکھا
” بیگ رکھ کر دیوار کے ساتھ کھڑی ہوجائیں “
” جی ؟”
منتہٰی نے رخ موڑ کر صدمے سے پوچھا
” بیگ رکھ کر دیوار کے ساتھ کھڑی ہوجائیں منتہیٰ”
” باجی جان ۔۔۔۔”
” منتہیٰ ۔۔”
” جی ۔۔”
وہ مرے مرے قدموں سے دیوار کی طرف چلی گئ ، سر نیچے جھکا لیا
اچھا ٹھیک ہے وہ صبح دیر سے اٹھی تھی ، مدرسے آنے کا دل بھی نہیں تھا اس لئے امی کی ڈانٹ سن کر سستی سے تیاری کی تھی لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ اس طرح پوری کلاس کے سامنے باجی جان اسے کھڑا کردیں ، افف سب دیکھ رہی ہوں گی ، یا خدایا اتنی بعزتی ، اففف
پندرہ منٹ تک وہ وہیں ٹھہری رہی ٫ پندرہ منٹ بعد قرت نے اسے بیٹھنے کی اجازت دے دی
” آئندہ جس وجہ سے لیٹ ہوں وہی بتائیے گا ، سزا کی وجہ آپ کی دیری نہیں جھوٹ تھا ، بیٹھ جائیں ” نرم سی سختی سے کہتے ہوئے اس نے کتاب کھولی منتہیٰ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر شرمندگی سے نظریں جھکادیں
” جی “
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ جب دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئ برآمدے میں رکھی کرسیوں پر اماں کے سامنے کوئ لڑکی بیٹھی تھی ٫ دروازہ بند کرتے وہ برآمدے تک آئ تو قدم رک گئے
” میں نے چار سال اس کے گھر کو دیئے ہیں خالہ ٫ دن رات گدھوں کی طرح کام کیا اس کے بعد بھی وہاں کوئ مجھ سے خوش نہیں ہوا ٫ بیٹی پیدا کرنا اضافی جرم بن گیا ٫ میں نے اب تک برداشت کیا لیکن اب جب وہ دوسری شادی کا کہہ رہا ہے تو یہ مجھ سے برداشت نہیں ہورہا ٫ کل اس نے مجھے طلاق کی دھمکی دی ہے ٫ خدا کیلئے آپ لوگ اسے سمجھائیں “
قرت العین برآمدے کے سامنے رک گئ ٫ وہ ماریہ ابراھیم تھی ٫ جواد کی بیوی ٫ اس کیلئے اب یہی حوالہ ذہن میں آتا تھا
” تم اپنے گھر والوں سے کیوں بات نہیں کرتیں ؟”
سعدیہ کو بے ساختہ دکھ ہوا ٫ بھلے جو کچھ چار سال پہلے ہوا لیکن ان کے سامنے ایک عورت بیٹھی تھی جو مظلوم تھی
“جب سے ان کی دکان جلی ہے تب سے ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ٫ میں انہیں تکلیف نہیں دینا چاہتی٫ اب اگر وہ نا مانا تو شاید میرے پاس کوئ اور راستہ نا بچے اور مجھے گھر میں بتانا پڑے٫ میرے گھر والوں کیلئے یہ بہت بڑا صدمہ ہوگا ٫ ابو یہ برداشت نہیں کرپائیں گے ٫ گھر سے جانے کا وہ پہلے ہی کہہ چکا ہے میں صرف ایک آخری کوشش کرنا چاہتی ہوں اس رشتے کو بچانے کی ٫ صرف اور صرف زینب کیلئے “
اس کی نظر ساتھ کھیلتی بچی پر گئ
” فکر مت کرو بیٹا ٫میں قرت کے ابا سے بات کرتی ہوں وہ سمجھانے کی کوشش کریں گے “
ماریہ نے ہاتھ سے آنسو صاف کرتے سر ہلایا تبھی پیچھے سے آواز ابھری
” السلام علیکم ۔۔۔۔”
وہ نقاب اتارتی سامنے آئ ٫ ماریہ کی نظر اس پر گئ
” وعلیکم السلام ٫ تم ماریہ کے ساتھ بیٹھو قرت ٫ میں کچھ کھانے کیلئے لے کر آتی ہوں “
اماں اٹھنے لگیں
” نہیں خالہ ٫ اس کی ضرورت نہیں ہے ٫ میں چلتی ہوں ٫ آپ بس چچا سے بات کرلیجئے گا “
وہ واقعی میں اٹھ کھڑی ہوئ
” بیٹھ جائو ماریہ ٫ پہلی بار آئ ہو ،میں یونہی نہیں جانے دے سکتی “
وہ بادل ناخواستہ بیٹھ گئ ٫ اماں اٹھ کر اندر چلی گئیں تو وہ ان کی جگہ پر بیٹھی ٫ ماریہ کے ساتھ بیٹھی ڈھائ سالہ بچی کو دیکھا پھر ماریہ کو
” کیسی ہو ؟”
” جیسی نظر آرہی ہوں “
وہ تلخ ہوئ
قرت نے بس خاموشی سے اسے دیکھا ٫ اسے ماریہ کے ساتھ نہیں بیٹھنا تھا ،اگر اماں یہاں ہوتیں تو وہ ایک لمحہ یہاں نا بیٹھتی ٫ اب مروت آڑے آتی تھی ٫ اگلے کئ لمحے وہ دونوں خاموش رہیں ٫ پھر ماریہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
” تم تو بہت خوش ہوگی نا ؟”
” کس بات پر ؟”
” میری حالت دیکھ کر ٫ بہت خوش ہوگی نا تم ؟”
” میں کیوں خوش ہوں گی ؟'”
اسے حیرانی ہوئ
” کیونکہ تم یہی چاہتی تھیں قرت ٫ تمہاری بددعا لگی ہے مجھے “
” میں نے تمہیں کبھی بددعا نہیں دی ماریہ “
رسان سے اس سے کہا
” دی تو ہے تم نے ٫ میری ایک غلطی کی بہت بڑی قیمت چکائ ہے میں نے “
” تمہاری اس ایک غلطی کی قیمت میں نے تم سے زیادہ چکائ ہے “
” تمہیں صرف اپنے نقصان کی پڑی ہے ٫ کبھی میرا سوچا ہے ؟ جس شخص کو میں اپنی دوست کیلئے بھی ناپسند کرتی تھی اسی شخص سے میری شادی کردی گئ، تمہاری مدد کرنے کے جرم میں میرے بھائ نے آنے والے پہلے ایرے غیرے رشتے پر مجھے بیاہ دیا ٫ وہ مجھ پر یوں شک کرتا تھا جیسے میں کسی کے ساتھ بھاگ جائوں گی ٫ میرا قصور یہ تھا کہ میں نے تمہارا بھلا چاہا تھا ٫ غلط کیا “
اس کی آنکھوں میں نمی اور تلخی بیک وقت ابھری
” جو تم نے چاہا وہ بھلا نہیں تھا “
” بھلا ہی تھا قرت العین ٫ میں چاہتی تھی تم اور عیسیٰ مل جائو ٫ تمہاری خیر چاہنے میں اپنے لئے شر چن لیا میں نے “
قرت کے چہرے پر سختی ابھری
” اپنی بربادی کا ذمہ دار مجھے مت ٹھہرائو ماریہ ٫ جو کچھ تم نے کیا تھا وہ تمہاری مرضی تھی ٫ تم نے اپنی مرضی کی سزا بھگتی ٫ جو کچھ میں نے کیا وہ میری غلطی تھی ٫ میں اپنی غلطی کی سزا بھگت رہی ہوں ٫ ہم دونوں ایک ہی صف میں کھڑی ہیں “
” مجھے خود کے ساتھ مت ملائو ” وہ دبا دبا سا چلائ ” میں نے تمہاری طرح غیر مردوں سے رابطے نہیں رکھے تھے ٫ میرے لئے کوئ مرد دوسرے شہر سے نہیں آیا تھا ٫ نا ہی کوئ میرے گھر کے باہر کھڑا رہتا تھا ٫ وہ تم تھیں قرت جس نے ایک غیر مرد کو اس قدر شہہ دی کہ وہ تمہارے گھر تک پہنچ گیا “
قرت کے چہرے پر سرخی دوڑی
” بس ماریہ ٫ یہ بہت ہوگیا ٫ مجھ پر الزام لگا کر تم ہر شے سے بری نہیں ہوسکتیں ٫ میں نے کسی مرد کو اپنے پیچھے آنے کیلئے نا کہا تھا نا یہ خواہش کی تھی ٫ مجھ پر وہ الزام مت لگائو جس سے تم خود کو ہر شے سے بری الذمہ کر سکو “
وہ اٹھ کھڑی ہوئ ٫ چہرے پر صرف سختی تھی ٫ ساتھ رکھا بیگ اٹھایا اور مڑنے لگی جب پیچھے سے ماریہ کی آواز ابھری
” اور جواد کا کیا٫ کیا وہ بھی تمہارے شہہ دینے پر مجھے طلاق کی دھمکیاں نہیں دے رہا ؟”
وہ رک گئ ٫ چہرے پر صدمہ ابھرا ٫ پھر وہ آہستہ سے پلٹی اور ماریہ کو دیکھا وہ نفرت سے اسے ہی دیکھ رہی تھی
” کیا مطلب ؟”
” اتنی معصوم مت بنو قرۃ العین ٫ تم اچھی طرح جانتی ہو میں کیا کہہ رہی ہوں “
” نہیں ٫ میں نہیں جانتی کہ تم کیا کہہ رہی ہو اس لئے صاف الفاظ میں بتائو “
ماریہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر وہ اٹھتی اس کے سامنے آئ
” کیا وہ تم نہیں ہو جس نے جواد کو شہہ دی ہے اور وہ اب مجھے طلاق کی دھمکی دے رہا ہے کیونکہ وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے ٫ مکرنا مت ٫ پچھلے کئ دن سے وہ یہی کہہ رہا ہے کہ وہ قرت العین سے دوسری شادی کررہا ہے ‘”
قرت کا چہرہ تاریک پڑا
” جھوٹ مت بولو “
“میں جھوٹ نہیں بول رہی لیکن تم معصوم تم بھی مت بنو ٫ کوئ شہہ تو دی ہوگی نا تم نے کہ وہ اپنی بیٹی تک کو چھوڑنے پر تیار ہے ٫ وہ دنیا کی کسی اور عورت کا نام لیتا تو میں سمجھتی نقص مجھ میں ہے ٫ وہ تمہارا نام لے رہا ہے تو ہر عیب تمہاری ذات سے موسوم ہوا قرۃ العین “
” تم غلط سمجھ رہی ہو ماریہ “
کھولتے دماغ سے اس نے بمشکل وضاحت دینی چاہی
” اب جاکر ہی تو صحیح سمجھ آئ ہے ٫ تمہارا کردار شروع سے ہی ایسا تھا قرت ٫ تم شہ نا دیتیں تو عیسیٰ کبھی یہاں تک نا آتا ٫ تم نے شہ دی ہوگی تبھی جواد اس حد تک جارہا ہے ٫ تمہارا کردار شروع سے ہی ایسا تھا مجھے سمجھنے میں دیر لگ گئ “
وہ نفرت سے سرخ پڑتے چہرے کےساتھ کہہ رہی تھی ٫ قرت کا دماغ سنسنا اٹھا
” میرے کردار پر بات مت کرو “
” میں کروں گی سب کے سامنے بھی کروں گی ٫ اگر کوئ گلٹ تھا بھی میرے اندر تو وہ ختم ہوا ٫ جو کچھ تب ہوا وہ صحیح تھا ٫ جو کچھ تم اب کررہی ہو غلط کررہی ہو ٫ میں تمہیں اتنی آسانی سے اپنا شوہر نہیں چھیننے دوں گی، بھلے ہی یہ رشتہ میری مرضی سے نہیں جڑا تھا لیکن میں اب اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹوں گی” اس نے آنسو صاف کئے ٫ پیچھے کھیلتی اپنی بیٹی کو اٹھایا اور قہر بار نظر قرت پر ڈالی ” ٫ خدا کا انصاف تم دیکھو گی قرت ٫ یاد رکھنا “
اور وہ وہاں سے چلی گئ ٫ قرت کا وجود زلزلوں کی ضد میں آیا تھا ٫ زہن میں جھکڑ سے چلنے لگے٫ اتنے عرصے بعد اب پھر سے وہی تذلیل ٫ وہی احساس زیاں ٫ وہی الزامات ٫ اور وہی جواد کا خوف
” ماریہ کہاں گئ ؟”
سعدیہ کی آواز پر وہ چونکی اور انہیں دیکھا ٫ ٹرے میں کھانے پینے کا سامان رکھے وہ پیچھے ٹھہری تھیں
” چلی گئ ہے”
” ایسے کیسے چلی گئ ؟ کہا بھی تھا رکنے کا “
وہ بڑبراتے ہوئے واپس کچن میں گئیں ٫ اس کی نظر دروازے پر گئ
ایسے تو نہیں گئ تھی وہ ٫ بہت کچھ راکھ کرکے گئ تھی
آنسو پر قابو پاتے وہ بمشکل کمرے کی طرف بڑھی ٫ کمرا خالی تھا٫ مہر اس وقت کالج ہوتی تھی ٫ وہ بیڈ کی طرف بڑھی ٫ بیگ وہاں رکھا اور تھکے انداز میں سر ہاتھوں میں گرا لیا
عرصہ ہوا
وہ اسے بھول گئ تھی
عیسیٰ حیات اس کی زندگی کی کسی داستان کا حصہ نہیں رہا تھا
اور آج ایک بار پھر وہی اذیت وہی درد ٫ وہی تکلیف پھر سے تازہ ہوگیا تھا ٫ صرف ایک انسان کے نام سے جڑا ہر درد ٫ ہر اذیت ٫ ہر الزام پھر سے ہرا ہوگیا ،نفرت کا ایک بھرپور احساس اس لمحے اس کے اندر اٹھا ٫ صرف عیسیٰ کیلئے نہیں جواد کے لئے بھی
جواد کریم یہ سب کیوں کررہا تھا اب ؟ اب جبکہ وہ شادی شدہ تھا ٫ اب جب اسے لگا وہ اس کی زندگی سے نکل گیا ہے اب ؟ ایک بار پھر ؟
اس کا دماغ مائوف سا ہونے لگا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” تم نے لاہور والے پراجیکٹ سے نام واپس لے لیا ؟”
” جی ، ان کی ڈیڈ لائن مشکل تھی ، دو مہینوں میں پورا کرنا مشکل ہوجاتا ہمارے لئے ” اس نے آملیٹ منہ کی طرف لے جاتے حیات کو دیکھا، صبح صبح کا وقت تھا ، بلیک ٹو پیس سوٹ پہنے وہ آفس جانے کیلئے تیار لگ رہا تھا ، کوٹ پیچھے چیئر پر تھا جبکہ بازوں کہنیوں تک موڑ رکھے تھے
” ہوجاتا عیسیٰ ، اتنا مشکل بھی نہیں تھا “
حیات کو اس کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا تھا ، وہ آج کل طبیعت خرابی کے باعث آفس نہیں جارہے تھے تو اس بارے میں انہیں دیر سے پتا چلا تھا
” ورکرز بزی ہیں ڈیڈ ، اور آپ بے فکر رہیں میں نے سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ لیا ہے “
اور اس بات کے تو حیات بھی قائل تھے ، اس نے بہت کم عرصے میں بزنس بہت اچھی طرح سنبھال لیا تھا ، عیسیٰ حیات اب بزنس کی دنیا کا جانا پہچانا نام تھا
” یہ سب چھوڑو ،عیسیٰ تم یہ بتائو کہ ویک اینڈ پہ شاہ زیب کی شادی پر جارہے ہو نا ؟”
” میرا شیڈیول بزی ہے مام، سوری “
شاہ زیب اس کا فرسٹ کزن تھا اور پچھلے کئ دن سے اس کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں
” بالکل بھی کوئ بہانہ نہیں چلے گا ، تم اپنا بزی شیڈیول سائیڈ پہ رکھو “
” یار مام دو گھنٹے کے فنکشن کیلئے میں اپنی میٹنگز نہیں کینسل کرسکتا ” اس نے نیپکن سے منہ صاف کیا اور پیچھے رکھا کوٹ اٹھایا
” فنکشن تو ایک بہانہ ہے ڈیئر سن ، تمہاری مام تو چاہتی ہیں کہ تم کوئ لڑکی وہاں پسند کرلو “
” آپ کو لگتا ہے میں یہ بات نہیں جانتا ؟” مسکراتے ہوئے شہوار کی طرف دیکھا جو خفا خفا لگ رہی تھیں
” اب تم دونوں باپ بیٹا میری برائیاں کرو “
” کس نے کی ؟ ہم تو کوئ اور بات کررہے تھے ، کیوں عیسیٰ ؟”
” بالکل “
اس نے مسکراہٹ دبا کر شہوار کو دیکھا پھر ان کا خفا چہرہ دیکھ کر فورا چہرے کے زاویے درست کئے ” اچھا ٹھیک ہے ۔۔فائن مام ۔۔۔آپ ناراض مت ہوں ۔۔میں کوشش کروں گا اوکے ؟ ، اب چلوں؟” اس نے جھک کر شہوار کا سر چوما اور باہر کی طرف بڑھ گیا ، گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب تھی ، وہ جتنا اس موضوع سے بچنے کی کوشش کرتا اتنا مام اس ٹاپک کو چھیڑتی تھیں
اندر واپس آئو تو شہوار اب حیات سے بحث کررہی تھیں
” بجائے اس کے کہ آپ میرا ساتھ دیں اس کو سپورٹ کرتے ہیں “
” شہوار وہ بچہ نہیں ہے ، اور بہتر ہوگا تم اسے پریشرائز کرنا چھوڑ دو ، وہ جب مناسب سمجھے گا شادی کرلے گا “
” یہی عمر ہوتی ہے شادی کی ، اس کا بس چلے تو ساری عمر قرت کی یادوں کو سینے سے لگا کر بیٹھا رہے اس نے تو شاید اب تک شادی بھی کرلی ہو ” انہوں نے بے زاری سے ہاتھ جھلایا
” اس بات کا ذکر عیسیٰ کے سامنے مت کیا کرو ، وہ ہرٹ ہوتا ہے ” انہوں نے تنبیہہ کی
” مجھے جیسے اس کی فکر نہیں ہے ، مبین اٹھائو یہ سب یہاں سے ” قدرے خفا سی وہ حیات کو دیکھتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں ، اور حیات بس ایک گہری سانس لے کر رہ گئے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کھلے دروازے سے اندر داخل ہوتے وہ برآمدے میں رکھی چارپائ پر آبیٹھے ٫ سر پر پہنی ٹوپی اتار کر رکھ دی ٫ سعدیہ کچن سے باہر کی طرف آئیں تو انہیں دیکھا ٫ تھکے سے چہرے کے ساتھ چارپائ پر بیٹھے ٫ وہ ان کے ساتھ آکر بیٹھ گئیں
” جلدی آگئے آج “
وہ چونکے ٫ پھر سعدیہ کو دیکھتے گہری سانس لی ٫ وہ عموماً اس وقت گھر نہیں آتے تھے
” بھائ صاحب کی طرف گیا تھا “
” ماریہ سے متعلق بات کرنے ؟”
انہوں نے سر ہلادیا
” کیا کہا انہوں نے ؟”
سعدیہ کو خدشہ سا ہوا ٫ اتنی خاموشی ؟ وہ یوں چپ تھے جیسے زبان وہیں رکھ آئے ہوں
” جواد راضی نہیں ہے ٫ وہ ہر صورت ماریہ کو طلاق دینا چاہتا ہے”
” مجھے تو بہت افسوس ہوتا ہے اس بچی کیلئے ٫ نازوں پلی تھی ماں باپ نے یہاں بیاہ دیا ٫ کچھ وہ بھی پرانی طبیعت نہیں چھوڑ پائ کچھ بھابھی کا مزاج بھی مختلف ہے ،ہر وقت جھگڑے ہوتے تھے ان کے گھر ،اب پتا نہیں کیا بنے گا “
نعمان صاحب خاموش رہے ٫ سعدیہ چند لمحے ان کی طرف سے تبصرے کا انتظار کرتی رہیں پھر خود ہی دوبارہ بات شروع کردی
” آپ بھائ صاحب سے بات کرتے ٫ اس طرح کیسے وہ طلاق دے دے گا ٫ بیٹی کا کیا ہوگا ان کی “
” کی ہے بات٫ وہ کہہ رہے ہیں جواد نہیں مان رہا ٫ میں نے کہا کہ اگر طلاق دینا ہی چاہتا ہے تو رجعی دے دے ٫ اس طرح تین ایک ساتھ دے کر بالکل ہی معاملہ ختم نا کرے ٫ شاید آگے مصلحت کی کوئ راہ نکل آئے “
” یہ اچھا کیا آپ نے ٫ شاید حالات بہتر ہوجائیں ” انہوں نے کچھ مطمئن ہو کر سر ہلایا ٫ ماریہ کے کہنے پر انہوں نے نعمان صاحب سے بات کی تھی ٫ گو چار سال پہلے قرت کے رشتے سے ان کے صاف انکار پر ان کے درمیان تلخی اب تک قائم تھی لیکن وہ پھر بھی ان سے بات کرنے کو تیار ہوگئے تھے
” کھانا لاتی ہوں آپ کیلئے ۔۔۔۔ “
” بھائ صاحب قرت کے رشتے کیلئے کہہ رہے تھے”
سعدیہ جو اٹھنے لگی تھیں یکدم واپس بیٹھیں
” کیا کہا ہے ؟”
” جواد اور قرت کے رشتے کیلئے کہا ہے” وہ تھکی سی گہری سانس لیتے کہنے لگے ‘” کہہ رہے تھے کہ جواد ماریہ کو طلاق دے دے گا ٫ وہ قرت اور جواد کا نکاح کرنا چاہتے ہیں “
” ایسے ۔۔۔ایسے کیسے ؟”
وہ بے یقین ہوئیں
” چار سال پہلے انہیں انکار کیا تھا تو اب تک ناراض ہیں ٫ وہ کہہ رہے ہیں اب انکار کیا تو ہر تعلق ختم کردیں گے “
سعدیہ کتنے ہی لمحے کچھ بول نا سکیں
” لیکن۔۔۔۔ وہ شادی شدہ ہے ۔۔۔اور “
ان کے الفاظ منہ میں رہ گئے ٫ بات جواد کے شادی شدہ ہونے کی نہیں تھی ٫ بات قرۃ العین کے شادی شدہ نا ہونے کی تھی ٫ وہ چار سال سے اس امید پر تھیں کہ اس کیلئے کوئ مناسب رشتہ آئے گا ٫ چار سال پہلے خاندان میں ہونے والی بدنامی نے ہر ایک کو ان سے متنفر کردیا تھا ٫ اس کی عمر کی ہر لڑکی شادی شدہ تھی ٫ اور قرت کا اب تک ان کے گھر ہونا ہی جواد کو یہ ہمت دلا رہا تھا کہ وہ اسے خود کیلئے میسر سمجھ رہا تھا ٫ انہیں شدید بے بسی نے آن گھیرا
” آپ نے کیا کہا ؟”
” کیا کہتا ؟ خاموش رہا ٫ وہی بولتے رہے ٫ سناتے رہے ٫ چار سال پہلے میں ہاں کردیتا تو آج قرت بھی گھربار والی ہوتی ٫ خود کو خاندان سے الگ کرلیا میں نے , اب بلکل کٹنے کی ہمت ہے تو دوبارہ منع کردوں ، اور بھی بہت کچھ کہا ، جانے وہ رشتہ مانگ رہے تھے یا دھمکی دے رہے تھے “
بات سچ تھی ٫ کڑوی تھی لیکن سچ تھی ٫ سعدیہ کو یوں چپ لگی کہ انہیں گمان ہوا وہ گونگی ہوچکی ہیں
” آپ ۔۔۔ہاں کرنا چاہتے ہیں ؟”
بلآخر ان کی زبان سے سوال نکلا
” قرت کا سوچتا ہوں تو اس سے پہلے اس چھوٹی بچی کا خیال آتا ہے ٫ قرت تک سوچ آنے میں جواد کا وہ تھپڑ یاد آجاتا ہے جو اس نے میری بیٹی کے چہرے پر مارا تھا ٫ وہ میرا بھتیجا ہے لیکن بیٹی سے زیادہ عزیز نہیں ہے ٫ میری سوچیں مفلوج ہوگئ ہیں “
جملے بے ربط تھے لیکن کیفیت واضح تھی ٫ اگلے کئ لمحے وہ دونوں خاموش رہے٫ پھر نعمان صاحب ساتھ رکھی ٹوپی اٹھاتے اٹھے
” نماز کیلئے جارہا ہوں ٫ کھانا نہیں کھائوں گا “
وہ آہستہ قدموں سے دروازے کی طرف بڑھ گئے ٫ سعدیہ کی نظروں نے ان کی قدموں کو دیکھا ٫ تھکے ہوئے آہستہ قدم ٫ وہ نماز کا وقت نہیں تھا ٫ ابھی دوپہر کے بارہ بھی نہیں بجے تھے ٫ وہ شاید قضاء کا وقت تھا ٫ ان رشتوں کی قضاء کا جنہیں وہ چار سال پہلے چھوڑ بیٹھے تھے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مے آئ کم ان “
وہ دروازہ تھوڑا سا کھولے اندر آنے کی اجازت مانگ رہی تھی ، عیسیٰ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر یکدم گہری سانس لی
” کم آن صوفیہ ۔۔”
” تھینکیو ۔۔۔” خوشبو میں بسا اس کا وجود اندر داخل ہوا تو عیسیٰ نے چہرے پر زبردستی مسکان سجائ ، وہ گورے چہرے اور لمبے قد والی خوبصورت لڑکی تھی ، سٹائلش اور طرح دار ، آج کل کے زمانے کی لڑکی ، بال کرل کررکھے اور جینز پر سفید شرٹ پہنی ہوئ تھی ، کہنی پر بیگ لٹکا رکھا تھا
” تم بزی تو نہیں تھے ؟”
عیسیٰ نے ایک نظر سامنے بکھری فائلز اور کھلے ہوئے لیپ ٹاپ کو دیکھا
” پانچ منٹ کیلئے نہیں ہوں اس کے بعد تم جاسکتی ہو “
اس نے بنا کسی لحاظ کے کہہ دیا ، اگر ان چار سالوں میں اس کے اندر کچھ نہیں بدلا تھا تو وہ اس کی طبیعت تھی، بنا لحاظ کئے جو دل میں آئے بول دینا
صوفیہ نزاکت سے ہنسی
” مجھے پانچ منٹ کافی ہوں گے تمہارے اگلے دو گھنٹے خود کو دینے کیلئے راضی کرنے میں “
” اور میں اپنے دو گھنٹے تمہیں کیوں دوں گا ؟” عیسیٰ نے ابرو اچکائے
” کیونکہ تمہاری مام نے مجھے تمہارے ساتھ شاپنگ پر جانے کا کہا ہے “
اففف یہ مام !
” پھر بہتر ہوتا کہ تم مام کے ساتھ ہی چلی جاتیں “
” لیکن مجھے تمہارے ساتھ جانا ہے ” اس نے آگے کو ہر کر دونوں کہنیاں میز پر رکھیں اور دلچسپی سے عیسیٰ کو دیکھا
” اور مجھے تمہارے ساتھ نہیں جانا “
صوفیہ ہلکا سا مسکرائ
” تم آج بھی اتنی ہی بے مروتی کا مظاہرہ کررہے ہو جتنا ہماری دوسری ملاقات میں کیا تھا “
دوسری لاقات ؟ اوہ ہاں ، وہ کلب میں بیٹھا تھا ، صوفیہ اس کے ساتھ آکر بیٹھی تھی ، وہ چاہتی کہ وہ سگریٹ پینا بند کردے اور اس نے منع کردیا پھر عیسیٰ نے اس کی آنکھوں کی تعریف کی تھی کیونکہ اس کی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔
اس نے سر جھٹکا ، جانے ہر بات پہ وہ کیوں یاد آجاتی تھی
” میں آگے بھی اتنا ہی بے مروت رہوں گا “
” کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ تم مجھے برداشت کیسے کرلیتے ہو اگر میں تمہیں اتنی ہی ناپسند ہوں ” وہ ناراض نہیں تھی بس جاننا چاہ رہی تھی، قدرے اشتیاق سے ، قدرے دلچسپی سے
” کس نے کہا تم مجھے نا پسند ہو ؟”
” میں تمہیں پسند بھی نہیں “
” میں تمہیں پسند کرتا ہوں کیونکہ تم اچھی لڑکی ہو “
اس نے فائل آگے کرلی ٫ مصروف تھا یا شاید وہ مصروف ہونے کا بہانہ ضرور کررہا تھا صوفیہ چند لمحے اسے مسکراتے ہوئے دیکھے گئ پھر اٹھ کھڑی ہوئ
” تو تم شاپنگ پر نہیں جارہے ؟”
” میں مصروف ہوں “
” فائن لیکن میں ویک اینڈ پر تم سے ملنے کی منتظر رہوں گی”
ویک اینڈ پر کیا تھا ؟ اوہ شاہ زیب کی شادی ۔۔۔کیا وہ بھی وہاں آرہی تھی ؟
” تم شاہ ذیب کی شادی پر آرہی ہو ؟” اس نے بے اختیار پوچھا
” وہ میرا دوست ہے ، تو یقیناً میں آئوں گی “
” اوکے ۔۔” اس نے سر دوبارہ فائل میں گھسا لیا ، صوفیہ چند لمحے اس کے کچھ کہنے کی منتظر رہی پھر بائے بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئ ، اس کے جانے کے بعد عیسیٰ نے فائل پیچھی کی اور ماتھا مسلا
صوفیہ پہلی لڑکی نہیں تھی جس کے بارے میں مام اس طرح اسے پریشرائز کررہی تھیں ٫ جانے مام کو اس کی شادی کی کیا جلدی تھی ، شاید انہیں لگتا تھا کہ وہ اس طرح قرۃ العین کو بھول جائے گا , انہیں ایسا لگتا تھا تو غلط لگتا تھا ، وہ قرت العین کو کبھی نا بھول پاتا اور اس طرح کسی اور عورت کو اپنی زندگی میں شامل کرکے وہ دو حصوں میں نہیں بٹنا چاہتا تھا
عیسیٰ کی نظر شیشے کی دیوار کے ساتھ رکھے گلدان پر گئ ، اس میں سفید پھول رکھے تھے ، ٹیولپ کے سفید اور سرخ پھول ، کیبن میں رکھے سفید پھول ، سفید تسبیح ، اردگرد کا ہر منظر سفید تھا
وہ اسے بھول نہیں پارہا تھا
قرۃ العین اس کی زندگی کی ہر داستان کا لازمی حصہ بن گئی تھی
اور اگر مام یہ سوچتی تھیں کہ ایک دن وہ اسے بھول جائے گا تو وہ غلط سوچتی تھیں
