Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 36)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 36)
Nahal By Fatima Noor
اس مہمان کی آمد غیر متوقع تھی
وہ سٹڈی میں بیٹھ کر اپنی کچھ پرانی کتابیں وہاں رکھ رہی تھی جب ملازمہ نے آکر اسے بتایا کہ کوئ اس سے ملنے آیا ہے ، وہ اسے پانچ منٹ میں آنے کا کہہ کر جلدی جلدی کتابیں سیٹ کرتی باہر آئ تو لائونج میں کوئ نیم رخ پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ بلکہ تھی
وہ کچھ دیر کو وہیں رک گئ ، آنکھوں میں پہلے حیرانی ابھری، پھر خوشی اور پھر وہ سب کچھ بھلائے تیزی سے اس مہمان تک آئ
” حریم۔۔۔۔۔۔”
حریم نے کچھ ٹھٹھک کر رخ موڑا ، پیچھے سے قرت آرہی تھی ، اس کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری وہ مسکراہٹ آنکھوں تک پہنچی
” یا ربی ۔۔۔۔۔ “
وہ اس تک آتی اسے زور سے گلے لگا گئ ، کتنی ہی دیر ، کتنی ہی لمحے ، پھر حریم نے اس کے کاندھے پر چپت مارتے پیچھے کیا
” اب بس بھی کرو ، یونہی کھڑا رکھو گی کیا ؟”
اس کی آواز بھیگی ہوئ تھی ، وہ پیچھے ہوئ ، چہرے پر اس قدر خوشی تھی کہ بیان کرنا مشکل تھا
” تم ۔۔۔ کیسے ؟ یا اللہ یا اللہ “
وہ حیران تھی ، خوش تھی ،اس کی آنکھیں نم تھیں
” سرپرائز سمجھ لو “
حریم خوش تھی ، پرجوش تھی ، وہ رو رہی تھی
” یا اللہ ، میں بتانہیں سکتی میں کتنی حیران ہوں “
وہ صرف حیران نہیں تھی وہ حد سے زیادہ خوش تھی
” مُجھے بھی حیرانی ہوئ تھی محترمہ ، شادی کرلی اور بتایا بھی نہیں “
” رابطہ کس نے توڑا تھا ؟”
وہ اسے لیتی صوفے پر بیٹھی تو شکوہ لبوں سے نکل گیا
” اچھا بابا ، کچھ میری غلطی تھی ، شادی کے بعد زندگی کچھ زیادہ ہی مصروف ہوگئ ، نمبر بھی گم گئے ، لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑی تھا کہ تم بھی رابطہ نا رکھو “
وہ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہہ رہی تھی ، نم آنکھیں ، گلابی رنگت ، حریم ویسی ہی تھی
” اختیی حریم ، نمبر بھی آپ نے ہی چینج کیا تھا ، میں نے کئ بار کالز کیں لیکن نمبر بند تھا “
” اچھا چھوڑو یہ سب ، یہ بتائو شادی کب کی ؟ کیسے ؟ کیوں ؟ میں ملتان گئ تھی تو تمہارے گھر جانے پر مہر نے بتایا سب ، میں بتا نہیں سکتی مجھے کتنی خوشی ہوئ “
وہ ہلکا سا ہنس دی ، نم آنکھوں سے مسکراتی ہوئ قرت العین ، وہ پرانے دنوں جیسی لگ رہی تھی
” جب اس نے سب بتا ہی دیا ہے تو میں کیا بتائوں ؟”
” تم خوش ہو قرت ؟”
وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ عیسیٰ کے ساتھ خوش تھی یا نہیں لیکن یہ سوال لبوں پہ ہی رک گیا
” نہیں لگ رہی ؟”
” لگ رہی ہو ، “
” ہوں بھی ، تم بتائو کیسے آنا ہوا ؟”
” عادل کے کزن کی شادی ہے ، اسی میں شرکت کے لئے آئے ہیں “
” بہت بہتر ، یعنی میں ویسے ہی خوش ہورہی تھی کہ خاص طور پر مجھ سے ملنے آئ ہو “
” یہاں تو تم سے ہی ملنے آئ ہوں ، قاسم کو عادل کے پاس ہی چھوڑ آئ ہوں اب پریشانی ہورہی ہے “
” تمہارا بیٹا ؟”
” ہاں “
اس نے سر ہلادیا پھر ملازمہ کو کچھ لانے کا کہہ کر وہ خود بھی اٹھنے لگی تو حریم نے روک لیا
” بیٹھو یہیں ، اول تو کچھ منگوانے کی ضرورت نہیں ہے ، اگر منگوا ہی رہی تو ملازمہ لے آئے گی ، مجھے جانا ہے تھوڑی دیر تک”
” اتنی جلدی کیوں ؟”
” کل مل لیں گے ، آج دیر ہورہی ہے”
اس نے سر ہلا دیا ، وہ کچھ دیر بیٹھی رہی ، شہوار آئیں تو ان سے ملی ، پھر بمشکل دس منٹ ہی گزرے تھے کہ عادل بھائ اسے لینے آگئے
” میں سوچ رہی تھی کہ عیسیٰ بھائ سے مل لیتی ، لیکن لگتا ہے تمہارے میاں جی بڑے مصروف ہوتے ہیں “
” شام کو آتے ہیں ، تم رک جاتیں کچھ دیر “
” بس اب چلتی ہوں ، کل ملاقات ہوجائے گی ان شاءاللہ “
اس سے گلے ملتی وہ ہاتھ ہلاتی چلی گئ ، اور قرت بے انتہا سرشار دل سے اندر کی طرف بڑھی ، حریم کا آنا اس کو پل بھر کے لئے ہر شے بھلا گیا تھا ، جواد بھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” آپ کل آئیں گے نا عیسیٰ ؟”
صوفے پر بیٹھے لیپ ٹاپ پہ کام کرتے عیسیٰ نے اس بار بھی صرف سر ہلایا ، وہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی پھر کشن رکھتی جھٹکے سے اٹھی ، عیسیٰ کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ رکی ، اس نے ہاتھ تھام رکھا تھا
” میں واقعی سن رہا ہوں “
انداز معذرت خوانہ تھا ، وہ پچھلے پندرہ منٹ سے اس کے ساتھ بیٹھی ” حریم نامہ ” سنا رہی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ عیسیٰ صرف سننے کا ڈرامہ کررہا ہے
” چھوڑیں ، ڈسٹرب کررہی ہوں آپ کو “
اس نے ہاتھ چھڑانا چاہا ، عیسیٰ نے نہیں چھوڑا ، نرمی سے اپنے ساتھ صوفے پر واپس بٹھایا اور لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھتے رخ اس کی طرف موڑا ، وہ خفا لگ رہی تھی
” آپ کہیں تو جو قصے ابھی سنائے ہیں وہ دہرادوں ؟”
” بتائیں کیا سنایا ہے میں نے ؟”
” یہی کہ کیسے آپ لوگ گردان ایک سانس میں پڑھتے تھے ،کیسے کلاس میں فقہ کی بحث کرتے تھے ، کیسے اپنی ایک باجی کے روم سے ٹیسٹ چرائے تھے”
اس کی بات سنتی قرت کی آنکھوں میں خفگی آئ
” چرائے نہیں تھے ، صرف نمبر دیکھے تھے “
” یہ بھی چیٹنگ ہے ویسے “
وہ کھنکارا
” نمبر تب تک لگ چکے تھے ، یہ چیٹنگ نہیں تھی “
” جیسا آپ کہیں مادام ! تو بتائیں پھر کیا ہوا تھا جب آپ پیپر کے لئے غلط کتاب کی تیاری کرکے گئ تھیں “
وہ اسے ایسا ہی کوئ قصہ بتارہی تھی جب لیپ ٹاپ پر کوئ کام کرتے عیسیٰ نے جواب نہیں دیا ، وہ واحد عورت تھی جس کی وہ خفگی بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا ، اس کے پاس ڈھیروں کام تھا لیکن کوئ بات نہیں
قرت دوبارہ آرام دہ ہوکر بیٹھ گئ اور حریم اور اپنے پرانے دن کے قصے بتانے شروع کردیئے، ایک ہاتھ وہ مسلسل ہلا رہی تھی ، دوسرا ہاتھ عیسیٰ نے تھاما ہوا تھا ،اس کی نگاہیں نیچی تھیں وہ اس کی ہاتھ کی رگوں پر انگلی پھیر رہا تھا ، نظر اس کی رگوں سے ہوتے ہوئے کلائ تک گئ ، سفید رنگ کی قمیص جس کی کلائیوں پر گلابی رنگ سے کڑھائ کی گئ تھی ، اس کی ہر قمیص کے بازوؤں لمبے ہوتے تھے ، کلائیوں سے اوپر تک ، ہر قمیص لمبی ہوتی تھی ، وہ اس معاشرے سے تھا جہاں اس نے عورتوں کو سلیولیس لباس پہنے دیکھا تھا ، قرت کا اس طرح کا لباس اسے عجیب طرح سے متوجہ کرتا تھا
” آپ کے بازوں بہت لمبے نہیں ہوتے ؟”
اس کی زبان کو بریک لگی ،نظر کلائ پر گئ ، عیسیٰ اس کی کلائ کو ہی دیکھ رہا تھا ، وہ ایک بار پھر خفگی دکھانا چاہتی تھی ،یعنی وہ اسے اب بھی نہیں سن رہا تھا ، لیکن اس بار نہیں دکھا سکی ،گہری سانس لی اور سادگی سے شانے اچکائے
” تقویٰ اور فتویٰ کہتا ہے کہ عورت کی قمیص کے بازوں لمبے ہونے چاہئیں “
” وہ کیوں ؟”
” تقویٰ اس لئے تاکہ جسم چھپا رہے، کلائ اور کلائ کی زینت ظاہر نا ہو اور فتویٰ اس لئے کہ فقہ کہتا ہے کہ اگر کلائ سے اوپر بازوں نظر آرہے ہوں تو نماز نہیں ہوتی ، چوتھائ حصہ معاف ہے ، اس سے زیادہ بازوں ظاہر ہوا تو نماز فاسد ، سو میں تقویٰ اور فتوی دونوں کی مانتی ہوں “
وہ اس کی سادہ اور نرم آواز سنے گیا ، وہ اس پر غیر محسوس انداز میں اثر انداز ہورہی تھی ، وہ صبح دیر تک سونے کا عادی نہیں تھا لیکن کبھی کبھی آنکھ نا کھلتی تو نماز رہ جاتی تھی ، اب وہ اٹھا دیا کرتی تھی ، وہ صبح قرآن پڑھتی تو وہ ساتھ بیٹھ کر سن لیا کرتا ، اس کی آواز بہت پرسکون سی ہوتی ، نرم ، ترتیل ،تجوید سے پڑھتے ہوئے
” تجوید کا اتنا دھیان کیوں رکھتی ہیں ؟”
وہ اکثر حیران ہوتا کہ بہت آہستہ سے پڑھنے میں بھی اور روانی سے پڑھنے میں بھی وہ تجوید کا دھیان رکھتی تھی
” علماء کہتے ہیں تجوید کے بغیر قرآن پڑھنا حرام ہے “
” وہ کیوں ؟”
اس کے پاس آج کل سوال بہت زیادہ ہوتے تھے
” میں آپ کو مثال سے سمجھاتی ہوں، وہ مثال جو ہم نے کتب میں پڑھی ہے” وہ قرآن بند کرتی اس کی طرف مڑی ” دیکھیں ، جیسے ” ق ” اور ” ک ” کا ہمیں لگتا ہے کہ عام عربی لفظ ہیں ،لیکن تجوید میں ان دونوں کو مختلف طریقے سے پڑھتے ہیں ” ق” موٹا اور ” ک ” باریک ، عربی میں ان دونوں کا معنی بھی الگ الگ ہے ، اب اگر دونوں کو ایک ہی طریقے سے پڑھ لیں تو قرآن کا معنیٰ تبدیل ہوجاتا ہے
جیسے ” قل ھواللہ احد ” آیت ہے ، اس کا معنی ہے ” کہہ دو اللہ ایک ہے ” ، آپ یہاں ” ق ” کی بجائے” ک ” پڑھ دیں تو معنی ہوگا ” کھا لیجئے اللہ ایک ہے “، نعوذ باللہ من ذلک ، ق والا ” قل ” کہنے اور ” ک ” والا ” کل ” کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے ، ٫ یعنی صرف دو الفاظ کی چھوٹی سی غلطی اور پورا مطلب تبدیل ، اس لئے تو فرمایا گیا ہے کہ بعض لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت کرتا ہے ، میں تجوید کا دھیان رکھتی ہوں تاکہ میں ان بعض لوگوں میں سے نا بن جائوں “
اس کے پاس سوال زیادہ تھے ، اس کے پاس دلائل ، اس کے سوال کم پڑجاتے اس کے دلائل کم نا پڑتے ، وہ جس طبقے سے تھا وہاں وہ عورت اس کے لئے کسی سکون کی مانند تھی ، وہ بہت مذہبی نہیں تھا لیکن اب تھوڑا بہت بن رہا تھا ، آپ کا ہم سفر آپ کو دین نہیں سکھا سکتا لیکن وہ آپ کے ساتھ مل کر دین پر چل سکتا ہے ، سو وہ دونوں بھی یہی کوشش کرررہے تھے
اس کے ہاتھ پر انگلیاں پھیرتے عیسیٰ چند لمحے کو جیسے کہیں اور پہنچ گیا تھا ، وہ عورت اس کے لئے خدا کا انعام تھی ، وہ اس نعمت کا کتنی بار شکر ادا کرتا ؟
” عیسیٰ…. “
” ہوووں ؟”
وہ اسی طرح نظریں جھکائے ہوئے تھا
” میں جب ملتان میں تھی تو ماریہ مجھ سے ملنے آئ تھی “
اس نے بے اختیار سر اٹھا کر قرت کو دیکھا ، وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
” کس لئے ؟”
یہ نام چار سال بعد ان کے بیچ آیا تھا
” وہ معافی مانگ رہی تھی ، سب کو بتایا بھی کہ اس سب میں اس کا قصور بھی تھا “
وہ اس کا ہاتھ چھوڑتا سیدھا ہوا
” اتنے سالوں بعد اسے کیسے خیال آگیا ؟”
” وہی تو میں پوچھنا چاہ رہی ہوں کہ اتنے سالوں بعد اسے کیسے خیال آگیا ؟”
وہ چند لمحے کچھ بول نا سکا ، پھر شانے اچکائے
” مجھے کیسے معلوم ؟”
” بنیں مت ، سچ سچ بتائیں آپ کا ہاتھ تھا نا اس میں ؟”
وہ مشکوک تھی
” استغفر اللہ مسز عیسیٰ کیسے کیسے شک کرتی ہیں آپ ؟”
اس نے دوبارہ لیپ ٹاپ آگے کرلیا
” عیسیٰ ۔۔۔ “
” میں خاموش ہوں “
” عیسیٰ ۔۔۔۔”
” میں نہیں جانتا “
” عیسیٰ ۔۔۔۔”
” مجھے ڈسٹرب نا کیا جائے “
” میں ابوبکر سے پوچھ لوں گی “
اس کا سر ایک بار پھر اٹھا
” آپ کو لگتا ہے اس سب میں ابوبکر اور میں ملوث ہیں ؟”
” مجھے یقین ہے “
” غلط یقین ہے ، میں ایک دن وہاں رکا تھا ، کہیں باہر بھی نہیں گیا تھا ، میں کیسے اس میں ملوث ہوسکتا ہوں ؟”
” آپ فلائٹ سے چار گھنٹے پہلے کیوں گئے تھے ؟”
” کسی سے ملنا تھا ، مجھ پر شک مت کریں ،میں انتہائ معصوم انسان ہوں “
” مجھے ذرا بھی آپ کی معصومیت پر یقین نہیں ہے “
اس نے کان کھجایا
” ہوسکتا ہے ماریہ کو احساس جرم ہورہا ہو اس لئے وہ معافی مانگ رہی ہو “
” بالکل ، اسے احساس جرم ہورہا تھا اور اسے الہام بھی ہوا تھا کہ قرت العین اپنے میکے آئ ہوئ ہے ، بلکہ اسے اس وقت کا بھی الہام ہوا تھا جب سب لوگ ہمارے گھر آئے ہوئے تھے اور وہ عین اسی وقت وہاں آئ “
اب کے اس کے بولتی بند ہوئ ، پھر گویا ہار ماننے والے انداز میں وہ سیدھا ہوا
” بال کی کھال کیوں نکالنا چاہ رہی ہیں ؟ جو ہوگیا سو ہوگیا ، جانے دیں “
” نہیں جانے دے سکتی ، سچ سچ بتائیں آپ کا ہاتھ تھا نا اس میں ؟ “
” ہاتھ نہیں تھا ” اس نے گویا سیرینڈر کردیا ” صرف دو تین انگلیاں تھیں ، میں ان کے گھر گیا تھا لیکن وہ پہلے ہی احساس جرم کا شکار تھی ، مجھے اپنے الفاظ ضائع نہیں کرنے پڑے ، میں نے بس اتنا کیا کہ اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ صحیح وقت پر آپ کے گھر پہنچے، اس سب میں ابوبکر نے میری مدد کی “
وہ عام سے انداز میں نا خوشی سے کہہ رہا تھا ، اسے اپنا راز فاش ہونے پر خوشی نہیں ہوئ تھی ، وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس کا ہاتھ تھاما
” بہت شکریہ عیسیٰ”
” اس کی ضرورت نہیں ہے قرت ، جو کچھ ہوا اسکا زمہ دار میں تھا، وہ سب صحیح بھی مجھے ہی کرنا تھا ، یہ میرا فرض تھا ،فرض کی ادائیگی پر کیسا شکریہ ؟”
وہ اداس سا مسکرایا
” آئ ایم سوری “
” کس لئے ؟”
” میں نے آپ کو بہت برا کہا نا ؟ ابا نے مجھے بتایا تھا کہ آپ ان کے کہنے پر واپس آئے تھے ، آئ ایم سوری عیسیٰ ، ہر اس بار کے لئے جب جب میں نے آپ کو واپسی کا الزام دیا “
وہ اب رو رہی تھی ، عیسیٰ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کئے
” آپ کی آنکھیں مجھ پر بہت ظلم کرتی ہیں “
” آی ایم سوری ۔۔۔۔ “
” قرت , ” اس نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے ” میں نے آپ سے وعدہ نا کیا ہوتا تو میں کبھی نا جاتا ، آپ نے محبت کا واسطہ دیا تھا ورنہ عیسیٰ حیات ساری زندگی آپ کے در پر ٹھہرا رہتا ، نعمان صاحب کا آنا میرے بخت کا بہترین واقعہ تھا ، وہ نا آتے تو عیسیٰ حیات ساری زندگی قرت العین کا روگ لے کر جیتا ، میں کسی اور کو آپ کی جگہ نہیں دے سکتا ، کبھی بھی نہیں ، ان کا آنا معجزہ تھا ، وہ معجزہ جس کے لئے میں نے ہر روز دعا کی تھی “
قرت کے آنسو نہیں رکے ، عیسیٰ کو بے بسی نے آن گھیرا ، اس نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ حیا سے سرخ پڑنے والی اور غم میں رونے والی عورت نہیں دیکھی تھی ، ایک نظارہ اس کا پسندیدہ تھا دوسرا نا پسندیدہ ترین
” لیکن میں آپ کو قصور دیتی رہی ، آپ کو بتانا چاہئے تھا کہ آپ اپنی مرضی سے واپس نہیں آئے تھے “
” آپ کے جملوں کا انتخاب غلط ہے ، میں اپنی مرضی اور خوشی سے واپس آیا تھا ، میں نے سوکھے پتے اس لئے چھوڑے تھے کیونکہ میں ان کی آہٹ کا منتظر تھا ، ان سوکھے پتوں پر پڑنے والے قدم آپ کے نہیں تھے لیکن وہ قدم آپ کی طرف لے جانے ہی آئے تھے “
” میں نے آپ کے سوکھے پتے گم کردیئے تھے “
وہ اب اپنے آنسو صاف کرتی کہہ رہی تھی ، عیسیٰ کے لبوں کے کونے پہ مسکراہٹ ابھری ، اس کی بات سے دکھ ہوا تھا لیکن اس نے ظاہر نہیں کیا ، وہ جانتا تھا وہ یہی کرے گی
” آپ نے گم کردیئے لیکن کسی اور کو مل گئے ، یہ یوں ہی ہونا تھا، یہ مقدر تھا “
اس نے اب کہ صرف سر ہلادیا ، آنسو چہرے پر سے صاف کئے
” رونے کے بعد آپ کا چہرہ زیادہ پیارا لگتا ہے “
وہ ہنس دی
” اور کوئ کہتا ہے کہ میرے رونے سے اسے تکلیف ہوتی ہے “
” آپ جان بوجھ کر مجھے اور زیادہ تکلیف دیتی ہیں ؟”
” کیا یہ حق نہیں مجھے ؟”
وہ گردن اٹھائے اس سے پوچھ رہی تھی ، چہرے پر مان تھا ، وہ مسکرایا
” مجھے کسی نے آج تک اتنی تکلیف نہیں دی جتنی آپ کے رونے سے ہوتی ہے ، اس حق کو اتنا بھی استعمال مت کیا کریں “
” اب حق ہے تو استعمال کروں گی نا ؟”
وہ کاندھے اچکاتی اٹھ کھڑی ہوئ ، اسے نماز پڑھنی تھی ، عیسیٰ اسے رخ موڑے دیکھتا رہا
وہ عورت اسے جانے انجانے میں تکلیف دے جاتی تھی لیکن وہ واحد عورت تھی جس کی دی جانے والی ہر تکلیف قبول تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آپ آئیں گے نا لنچ ٹائم ؟” اس کا کوٹ اٹھا کر آئینے میں دیکھا
” مشکل ہے ، بہت بزی ہوں “
وہ ٹائ لگا رہا تھا
” وقت نکال لیجئے گا عیسیٰ “
اس نے ٹائ درست کی اور کوٹ اس کے ہاتھ سے لیا
” کوشش کروں گا لیکن مشکل ہے “
” عادل بھائ بھی ہوں گے عیسیٰ اور مجھے آکورڈ لگے گا “
” اوکے بابا ۔۔۔پرامس میں کوشش کروں گا “
اس کا ہاتھ تھام کر یقین دلایا ، وہ ہاتھ تھامتا تھا تو لگتا تھا کہ جو کہہ رہا ہے کرے گا ، اس نے سر ہلادیا
” ڈرائیور کو ساتھ لیتے جائیے گا اور ۔۔۔” رہ کر اسے دیکھا ” گن بھی ساتھ رکھ لیجئے گا “
اس کے چہرے پر جھنجھلاہٹ ابھری
” زہر لگتا ہے مجھے یہ ہتھیار ، نا ہی مجھے چلانا آتا ہے “
” حفاظت کے لئے ہے قرت ، آپ گارڈز کے لئے منع کردیں گی اس لئے گن کا کہہ رہا ہوں “
” مجھے کس سے خطرہ ہوگا ؟”
وہ لاپرواہ تھی
” آپ عیسیٰ حیات کی بیوی ہیں ، اور میں نہیں چاہتا کہ میرے دشمن آپ کو نقصان پہنچائیں “
” کچھ نہیں ہوگا ، جو ہونا طے ہے وہ ہوکر رہے گا “
وہ گہری سانس لے کر رہ گیا ، پھر سر ہلاتے باہر کی طرف بڑھا تو وہ بھی ساتھ ہوگئ
” آپ پکا آئیں گے نا ؟” دروازے پر ایک بار پھر روکا ، وہ مسکرایا
” پرامس ۔۔۔ کوشش کروں گا ” اس کے جانے کے بعد وہ اندر گئ کچھ دیر شہوار کے ساتھ بیٹھی ، پھر تیار ہونے چلی گئ ، حریم اور اس نے مال روڈ پر ملنا تھا
وہ جب وہاں پہنچی تو وہ لوگ پہلے ہی موجود تھے
عادل بھائ نے قاسم کو اٹھا رکھا تھا ، وہ ہلکی داڑھی والے خوش شکل سے جوان تھے ، کسی سرکاری سکول میں ٹیچر تھے ، اس سے اچھے سے ملے خیرخیریت پوچھی اور قاسم کو لئے ان سے آگے بڑھ گئے
” عیسیٰ بھائ نہیں آئے ؟”
” آفس گئے ہیں ، کہہ رہے تھے کوشش کریں گے “
حریم نے سیاہ چادر سے خود کو ڈھانپ رکھا تھا ،چہرے پر نقاب تھا ،وہ ایک بار پھر امید سے تھی
” عادل کو بہت اشتیاق ہورہا تھا عیسیٰ بھائ سے ملنے کا ، کہہ رہے تھے کہ بہت تعریف سنی ہے عیسیٰ حیات کی ” اس نے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری ، جانے کیوں اس کی تعریف سن کر اچھا لگا تھا
” تمہاری ساس تو اچھی خاتون لگیں “
” عیسیٰ ان سے زیادہ اچھے ہیں “
لبوں سے بے ساختہ پھسلا
” اہممم۔۔۔ہاں بھئ ہوں گے اچھے “
قرت نے اسے گھورا تو وہ ہنس دی ، کچھ دیر تک وہ یونہی گھومتے رہے ، حریم اور عادل بھائ نے شاپنگ کی اور وہ بس قاسم کے ساتھ ادھر ادھر گھومتی رہی ، اس دوران عجیب سا احساس ہوتا رہا جیسے کوئ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا ، یوں جیسے کوئ نظر تھی جو اس کے پیچھے تھی وہ بار بار دیکھتی لیکن کوئ نہیں تھا ، لنچ تک عیسیٰ نہیں آیا تو وہ لوگ ریسٹورنٹ آگئے ،سامنے نظر آتے پہاڑ ، آسمان پر ہلکے ہلکے بادل ، عجیب دھوپ چھائوں سا منظر ہورہا تھا ، اسے یونہی خواہمخواہ عیسیٰ کی یاد آنے لگی ، اسے یہ دھوپ چھائوں سا منظر پسند نہیں تھا
” بھئ یا تو بادل پورے نکلیں یا نکلیں ہی نا “
لان میں شہوار اور حیات کے ساتھ بیٹھے وہ چڑ کر کہنے لگا
” اتنا اچھا موسم تو ہے رومانٹک سا “
حیات مسکرائے
” آپ کی بیوی ساتھ بیٹھی ہے ڈیڈ ، میری بیوی کو تو کچن میں لگادیا ہے مام نے “
کچن سے آتی بیوی نے اس کا جملہ سن لیا تھا اسے اتنی خفت ہوئ کہ حد نہیں ، سب کے سامنے ان کے کپ رکھتے ہوئے وہ عیسیٰ کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئ
” بیٹا جی مام پر الزام نا لگائو ، ہماری بہو کو خود ہی کچن کا کام پسند ہے “
شہوار نے اسے گھورا
” ہر ساس یہی کہتی ہے “
اس نے بے نیازی سے شانے اچکائے
” اچھا چھوڑو ، قرت یہ بتائو تمہیں یہ موسم پسند ہے یا نہیں “
اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا ، اٹکھیلیاں کرتا سورج جس کی چمک کبھی ہر شے کو سنہرا کردیتی اور کبھی سیاہ ، وہ مسکرائ
” ایسا موسم کسے پسند نہیں ہوگا انکل ؟”
” تمہارے شوہر کو “
حیات محظوظ ہوئے اور اس نے سامنے بیٹھے شوہر کو افسوس سے دیکھا جس کے چہرے پر ایسے تاثرات تھے جیسے اسے قرت کا بیان پسند نا آیا ہو
” افسوس ہے قرت میری بات کی تائید ہی کردیتیں “
” میں نے صرف سچ بولا ہے “
” ایسا سچ جس سے کسی کا دل ٹوٹے اس سے جھوٹ بہتر ہوتا ہے ” ناصح انداز
” کس کا دل ٹوٹا ہے ؟”
کچھ ناسمجھی سے اسے دیکھا
” لیں جی ” اس نے جھنجھلا کر ہاتھ اٹھائے اور احتجاجاً واک آئوٹ کرگیا پیچھے وہ تینوں ہنس دیئے
اسے اب بھی یاد آیا تو اب بھی مسکرادی
حریم پیچھے تصاویر بنا رہی تھی
” باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ ایک دوسرے کا ہاتھ کس خوشی میں پکڑا ہوا ہے “
اس نے کچھ دیر پہلے کی بنائ گئ تصویر سٹیٹس پر لگائ تھی جس میں حریم اور اس نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ، تصویر میں صرف ان کے پائوں اور ہاتھ نظر آرہے تھے ، عیسیٰ نے اس سٹیٹس پر رپلائے کیا تھا ، وہ میسج پڑھتی ایک دم ہنس دی، تصویریں بناتی حریم نے پلٹ کر اچھنبے سے اسے دیکھا
” کوئ جیلس ہورہا ہے ؟”
مسکراہٹ دبائے اسے میسج کیا
” بالکل ہورہا ہے “
” ہونا تو نہیں چاہئے “
” ہوتو رہا ہے “
” آپ کی اپنی غلطی ہے ، آفس آپ کو زیادہ محبوب ہے “
“طعنے مل رہے ہیں “
” حقیت بتائ جارہی ہے “
” تو کیا واپس چلاجاؤں ؟”
” کہاں سے ؟”
” ریسٹورنٹ سے “
ریسٹورنٹ؟
اس نے یکدم چونک کر سر اٹھایا، سامنے لگی سیڑھیوں سے وہ اوپر چل کر آرہا تھا صبح والی سیاہ پینٹ اور سفید شرٹ پہنے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی جو قرت کو دیکھ کر گہری ہوگئی وہ خوشگوار سی حیرت میں مبتلا اٹھ کھڑی ہوئ، آنکھوں کی چمک بڑھ گئ
“میرے خیال سے یہ آپ کے آفس کا راستہ تو نہیں ہے “
وہ سر جھکا کر ہنس دیا
” یقینا نہیں ہے “
” بھول کر آ گئے ہیں ؟”
” جان بوجھ کر آیا ہوں “
مسکراہٹ دبائے اسے دیکھا جانے کب اس کی آنکھوں کے تاثر بدلے تھے کبھی جن آنکھوں میں اسے دیکھ کر بے زاری آتی تھی وہاں آج چمک سی تھی ، وہ بتاتی نہ تھی لیکن اس کا دل بدل رہا تھا ، وہ کہتا نا تھا لیکن وہ اس کے دل بدلنے سے خوش تھا
حریم تصاویر بنانا چھوڑ کر وہاں آگئ تھی ، عادل بھائ بھی ساتھ تھے
” یہ میری دوست ہے حریم ان کے ہزبینڈ عادل بھائ، اور یہ عیسیٰ ہیں “
ان کا تعارف کرایا تو عیسیٰ نے شائستگی سے سلام کیا ، تعارف کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ لوگ لنچ کیلئے بڑھ گئے ، عیسیٰ اور عادل بھائ آگے تھے
” میاں جی تو تمہارے بڑے ہینڈسم ہیں “
حریم کچھ شوخی سے بولی تو اس کی نظر بے ساختہ عیسیٰ پر گئ ، وہ عادل بھائ کے ساتھ چلتا ان کی بات سن رہا تھا ، ہاتھ جیبوں میں تھے
” ہیں تو ۔۔۔” اس کی تعریف اب بری نہیں لگتی تھی
” اخلاقا کیسے ہیں ؟”
” کچھ کے ساتھ اچھا، کچھ کے ساتھ بہت اچھا، کچھ کے ساتھ برا کچھ کے ساتھ بہت برا “
” تم کون سی فہرست میں آتی ہو “
” کسی میں نہیں ۔۔۔” سکون سے کہا
” ہیں ؟” حریم کی حیرت دیکھ کر وہ ہنس دی
” میرے لئے ان کے پیمانے الگ ہیں حریم ” حریم کی نظر اس کی آنکھوں پر گئ
” تمہیں عیسیٰ بھائ سے محبت ہوگئ ہے نا ؟”
وہ چلتے چلتے رک گئ
” محبت ؟”
دل رک سا گیا
” ہاں محبت ۔۔۔” حریم اس کے سامنے آ رکی ” وہ چہرہ جو عیسیٰ بھائ کے آنے سے پہلے مرجھایا تھا وہ کھل گیا ہے ، وہ آنکھیں جو سادہ سی تھیں ان میں چمک آ گئ ہے ، وہ آواز جو خالی تھی اس میں کھنک آگئ ہے ، تم بار بار انہیں دیکھتی ہو اور وہ بس تمہیں دیکھتے ہیں ، اسے محبت نہیں تو اور کیا کہتے ہیں ؟” وہ سکون سے کہہ رہی تھی اور قرت کا سکون غائب ہوا
” ضروری تو نہیں یہ محبت ہو “
” پھر کیا ہے ؟”
” یہ ۔۔۔” الفاظ گم ہوئے ، یہ کیا تھا ؟
” یہ محبت ہی ہے ، مبارک ہو قرت العین محبت تم پر مہربان ہوئ “
حریم آگے بڑھ گئ اور وہ کتنے ہی لمحے وہیں ٹھہری رہی
محبت ؟ !!!!!
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
سر شام حریم اور عادل بھائ چلے گئے، ان کو دو دن یہاں رکنا تھا پھر واپسی ، آخری بار حریم سے مل کر ، دوبارہ کبھی ملنے کے ڈھیروں وعدوں کے ساتھ وہ عیسیٰ کے ساتھ گھر کی طرف بڑھ گئ ، گاڑی میں کچھ خاموش سی رہی، ذہن میں حریم کی باتیں گونج رہی تھیں
ہاں ٹھیک ہے وہ اس کے آس پاس ہوتا تھا تو اسے اچھا لگتا تھا ، حفاظت سکون ، خوشی بھی محسوس ہوتی ہے ، وہ اس کی پسند نا پسند کا بھی خیال رکھنے لگی تھی، لیکن یہ محبت تو نہیں تھی، محبت کیسے ہوسکتی تھی ؟ اس نے سوچا تھا کہ عیسیٰ کے ساتھ اس کی نفرت مٹ جائے گی، لیکن آگے ؟ نفرت مٹ جائے تو کیا اس کی جگہ محبت لے لیتی ہے ؟
اس کی طرف والا دروازہ کھلا تو وہ چونکی ، عیسیٰ ہاتھ اس کی طرف بڑھائے ہوئے تھا ، قرت نے ہاتھ تھام لیا ، باہر نکل کر دیکھا تو وہ کسی سڑک پر تھے
” کہاں لائے ہیں ؟”
” تھوڑا انتظار کریں “
وہ اس کا ہاتھ تھامے اوپر کی طرف بڑھا ، راستہ کچھ جانا پہچانا تھا ، گھاس ، اونچائ ، کہیں پتھر ، وہ اس کے ساتھ چلتا ہوا آہستہ سے آگے بڑھتا گیا اور جب وہ ایک جگہ پر جا کر رکا تو قرت بھی ٹھہر گئ
سامنے کا منظر دیکھ کر اسے لمحوں میں یاد آیا وہ کون سی جگہ تھی
” عیسیٰ یہ ۔۔۔” حیرانی سے اردگرد دیکھا ، عصر کے قریب کا وقت تھا سو وہاں چند لوگ بھی پھر رہے تھے
” آپ کو یاد ہے ؟”
اسے بھولا کب تھا ؟ یہی تو جگہ تھی جہاں وہ مرنے کی قریب تھی ، یہی تو وہ جگہ تھی جہاں اس کی تسبیح ٹوٹی تھی ، یہی تو وہ جگہ تھی جہاں اس کا دل ٹوٹا تھا ، اس وقت اس کے ذہن میں بس یہی خیال آیا تھا
” میں اس جگہ کو کبھی نہیں بھولی ” اس نے سر جھٹکا ۔۔” اس سے زیادہ اسلام آباد کی کوئ جگہ مجھے نا پسند نہیں رہی “
وہ جو اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا رک گیا ، دل میں دکھ سا ابھرا
اسے اس جگہ سے زیادہ اسلام آباد کی کوئ جگہ اتنی پسند نہیں تھی ، وجہ قرت العین سے یہیں ہونے والی ملاقات تھی ، وہ قرت کی ناپسندیدگی کی وجہ بھی اسی ملاقات سے جوڑ رہا تھا ، وہ نہیں جانتا تھا اس لمحے قرت کو یہ احساس تک نہیں تھا کہ عیسیٰ حیات نے اپنا دل یہیں ہارا تھا
” یہاں کیوں لائے ہیں ؟”
ایک پتھر پر بیٹھ کر اس نے سر اٹھائے عیسیٰ کو دیکھا
” ہم یہیں ملے تھے “
اسے یاد دلانا چاہا
” مجھے یاد ہے ۔۔۔”
اس نے اردگرد دیکھا
” آپ کی تسبیح یہیں ٹوٹی تھی ۔۔۔”
” یہ بھی یاد ہے ۔۔۔”
” اور میں نے اپنا دل بھی یہیں ہارا تھا ۔۔۔”
وہ تھم گئ ، عیسیٰ کو اس ملاقات کے بعد محبت ہوئ تھی ؟
” کچھ کہیں گی نہیں ؟”
اسے خاموش دیکھ کر کہا
” کیا کہوں ؟”
” یہی کہ ایک ملاقات میں محبت کہاں ہوتی ہے ۔”
اس نے سوچا واقعی ایک ملاقات میں محبت کہاں ہوتی ہے؟ لیکن کہہ نا سکی ، عیسیٰ اب اس کے ساتھ رکھے پتھر پر بیٹھا تھا ، کچھ دیر وہ سر پیچھے کئے پہاڑوں کو دیکھتا رہا پھر قرت نے اس کی آواز سنی
” جب میں ڈھلوان چڑھ کر اوپر آیا تب آپ یہاں ٹھہری تھیں ۔۔۔” انگلی سے اشارہ کیا “ہاتھ پھیلائے ، سر اٹھائے ، کسی مغل مجسمہ ساز کا شاہکار ، میں نہیں جانتا تھا آپ وہی ہیں جن سے میری مال میں ملاقات ہوئ تھی ، میں بس آپ سے یہ پوچھنے کیلئے آگے بڑھا تھا کہ کیا میں آپ کی پک لے سکتا ہوں ؟ آپ کا پائوں پھسل گیا ، میں نے آپ کو تو بچالیا لیکن خود کو ہار گیا ۔۔۔”
قرت کی نظر اسی ڈھلوان پر تھی
” آپ اس دن نا آتے تو میں مرجاتی ۔۔۔۔”
” میں اس دن نا آتا تو شاید میں بھی مرجاتا “
اس نے رخ موڑ کر اسے دیکھا
” کوئ کسی کیلئے نہیں مرتا عیسیٰ “
” عیسیٰ حیات قرت العین کیلئے مر سکتا ہے “
وہ کچھ کہہ نا سکی ، کبھی کبھی اس کے پاس الفاظ ختم ہوجاتے تھے
” میں نے پچھلے چار سال میں اس جگہ کے اتنے چکر لگائے ہیں کہ مجھے یہ تک یاد ہوگیا کہ اس جگہ پر کتنے پتھر پڑے ہیں ،” وہ سامنے دیکھ کر کہنے لگا ” اتنے چکر کہ مجھے یہاں کے درختوں کی تعداد بھی یاد ہوگئ ، صرف کچھ بھولا تو یہ کہ میں کتنی بار یہاں آیا ہوں ، آپ نے میرے ساتھ کیا کردیا تھا قرت ؟” بے بسی سے اسے دیکھا ، وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ، گلے میں کچھ اٹکا
” کیا کردیا تھا ؟”
” آپ کی آنکھوں نے میرے دل کو آسیب زدہ کردیا تھا “
وہ اسے دیکھ رہا تھا ، آنکھوں میں ویسے ہی تاثرات تھے جب چار سال پہلے دربار کے صحن میں کھڑے ہو کر اس سے کہہ رہا تھا کہ وہ اسے واپس جانے کا نا کہے ، ملتجی لیکن ایک جہان لئے ہوئے آنکھیں،اس نے نظریں چرائیں
” ایک نظر میں محبت کہاں ہوتی ہے ؟”
اس نے عیسیٰ کا سوال اپنے الفاظ میں دہرایا
” مجھے تو ہوگئ تھی “
وہ لاجواب ہوئ
” کیا معلوم وہ محبت نا ہو “
” مجھے بھی لگا تھا کہ یہ محبت نہیں ہے ، جس لمحے آپ کی آنکھوں میں دیکھا تھا وہ لمحہ مجھ پر بہت بھاری رہا ، اگلے کئ دن میں اس ایک لمحے کے ساتھ زندہ رہا ، جب احساس ہوا کہ یہ محبت ہے تب میں نے جانا کہ میں نے ایک روگ اپنے سر لے لیا ہے ” وہ سر جھکا کر بے بسی سے ہنسا ، وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس نے رخ پھیرا
” میری تسبیح یہیں ٹوٹی تھی “
اس نے اس کا دھیان کہیں اور لگانا چاہا
” وہ تسبیح ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہر شے کا آغاز تھی “
” آپ مجھے وہ واپس کرنے کیوں نا آئے ؟ “
” کیونکہ مجھے لگا تھا کہ ایک تسبیح ہی تو ہے “
” وہ صرف تسبیح نہیں تھی “
” جب یہ احساس ہوا تب تک میرے لئے بھی وہ صرف تسبیح نہیں رہی تھی “
وہ اسے دیکھ کر رہ گئ ، اسے کوئ اور بات کرنی چاہئے ، کون سی بات ؟ وہ جو بھی کہتی عیسیٰ اس ملاقات کا تذکرہ لے آتا ، ڈھلوان کو دیکھتے ہوئے وہ دھیرے سے اٹھی ، اور آگے بڑھی
” دھیان سے ۔۔” وہ بے ساختہ ٹوک گیا ، آگے کھائ تھی ، قرت کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری ، وہ یہیں گری تھی، عیسیٰ اسے دیکھتا آگے بڑھا ،نرمی سے اس کی کہنی تھامی اور پیچھے کیا
” میں ہر بار صحیح وقت پہ نہیں پہنچ پائوں گا “
وہ اس سب میں پہلی بار ہنسی
” میرا بھی اس بار گرنے کا ارادہ نہیں ہے ” سر اٹھائے اپنی آنکھیں اس پر جمائیں ، سورج عیسیٰ کی پشت پر تھا ، ڈھلتے سورج کی روشنی قرت کی آنکھوں پر پڑ رہی تھی ، بھوری آنکھیں سورج کی روشنی میں چمکنے لگیں ، اس کی کہنی تھامے عیسیٰ کا ہاتھ بے اختیار اس کی آنکھ کی طرف بڑھا ، وہ لمحوں میں آنکھ بند کرگئ ، دل کی دھک دھک بڑھ گئ ، ایک ہاتھ سے اس کی بند آنکھ کو چھوا
” میں آپ کا نقاب کھول سکتا ہوں قرت ؟ “
دھیمے سے نرمی سے پوچھا ، بند آنکھوں کے پار اس کی پلکیں لرزیں
” یہاں لوگ ہیں ۔۔۔”
عیسیٰ کی نظر اردگرد گئ
” یہاں میرے اور آپ کے سوا کوئ نہیں ہے ، ہے بھی تو میں آپ کے سامنے ہوں ” انگلی ہٹا لی ، قرت نے آنکھیں کھولیں وہ سامنے کھڑا تھا ، پیچھے کا ہر منظر چھپ گیا
” کھول لیں ۔۔۔”
کوئ پرانی خواہش تھی جو اس نے کی تھی ، کوئ پرانی یاد تھی جو اس لمحے اس کے ذہن پر دستک دے رہی تھی ، برسوں پہلے جس لمحے وہ زمین پر بیٹھی ہانپ رہی تھی ، اور اس نے سر اٹھا کر عیسیٰ کو دیکھا تھا اس لمحے اس نے سوچا تھا کہ وہ اس کا نقاب کھول کر دیکھ سکتا ، برسوں بعد کس موڑ پر آکر خواہش پوری ہوئ تھی ، اس نے ہاتھ قرت کے نقاب کی طرف بڑھایا ، پٹی پیچھے سے بندھی تھی ، ہاتھ اس پٹی پر جاکر رک گیا، وہ چند لمحے اسے دیکھے گیا، بنا پلک جھپکے، پھر اس نے ہاتھ ہٹا لیا
” آج مجھ پر ایک انکشاف ہوا ہے “
” کیا ۔۔۔؟”
” محبت سے زیادہ احترام ہے جو میں آپ کا کرتا ہوں ” وہ اس کی آنکھوں پر نگاہیں جمائے کہہ رہا تھا ” اس لمحے پل بھر کو خیال آیا کہ اگر کوئ یونہی اس طرف آگیا تو ؟ عیسیٰ حیات آپ کے پردے کا احترام اپنی خواہش سے زیادہ کرتا ہے “
اور اس لمحے قرۃ العین پر بھی انکشاف ہوا ، ایسا انکشاف جس نے اس کی دھڑکن لمحہ بھر کو روک دی ، وہ سامنے کھڑے شخص سے محبت کرنے لگی تھی ، وہ اسے دیکھ کر مسکراتی تھی کیونکہ اسے دیکھ کر مسکراہٹ خودبخود چہرے پر آجاتی ، وہ ساتھ ہوتا تو تحفظ کا احساس ہر احساس پر غالب آجاتا ، اسے دیکھ کر آنکھوں میں آنے والی چمک محبت کی چمک تھی ، وہ مرض تھا تو اسے لاحق ہونے لگا تھا، وہ درد کی شفا تھی تو وہ شفا اسے مل رہی تھی ، وہ محبت نصیب تھی تو اس تک پہنچ گئ تھی
برسوں پہلے اسی جگہ پر عیسیٰ کے دل میں محبت پیدا ہوئ تھی ، برسوں بعد اسی جگہ قرت العین کو محبت سے نوازا گیا تھا
عیسیٰ اب آگے جا رہا تھا جب اسے احساس ہوا کہ وہ وہیں پیچھے کھڑی تھی ، وہ پیچھے مڑا اور اس کا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ، برسوں پہلے اسی جگہ اس نے کہا تھا کہ وہ اسے کھینچے گا تو وہ اس کے سینے سے آ لگے گی ،اور قرت نے وہ ہاتھ جھٹک دیا تھا برسوں بعد اسی جگہ اس شخص کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے وہ ہاتھ جھٹکا نہیں تھا ، یہ طے تھا کہ اب قرۃ العین عیسیٰ حیات کا ہاتھ کبھی نہیں جھٹکے گی
