Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 5)
Nahal By Fatima Noor
” یعنی بتائو کیا ضرورت ہے منطق کے قواعد اور صرف کی گردانوں کو رٹا مارنے کی ؟ بھئ صرف فقہ پڑھائیں نا ؟”
وہ دونوں رک گئیں، نظر پلر کے ساتھ کھڑی لڑکی پر گئ جو آنسو پونچھتے ہوئے اپنے ساتھ کھڑی لڑکی سے کہہ رہی تھی ، قرت نے بے اختیار ماریہ کو دیکھا وہ ہنس دی
” اتنی زور سے بے عزتی کی باجی نے میری پوری کلاس کے سامنے ، اب نہیں پڑھی جاتی صرف صغیر ایک سانس میں تو کیا کروں ؟” وہ مسلسل شوں شوں کرتے ہوئے کہہ رہی تھی
” اچھا رباب بس بھی کرو اب ، باقی لڑکیوں کی بھی ہوئ ہے بعزتی “
اب کے اس کے ساتھ کھڑی لڑکی بھی گویا اکتا کر بولی
” ایسے کیسے ۔۔۔۔”
وہ تلملا کر کچھ کہنے لگی لیکن وہ دونوں آگے بڑھ گئ تھیں
” کتنا اچھا وقت تھا نا قرت “
اس نے ساتھ چلتی ماریہ کو دیکھا ، لبوں پہ مسکراہٹ ابھری
” بہت اچھا ، جب ہم بھی یونہی کسی پلر کے ساتھ کھڑے ہوکر گردان نا آنے پر روتے تھے “
” وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے ، چند سال پہلے ہم بھی انہی بچیوں کی طرح تھے “
” اور چند سال بعد کوئ لڑکی ایسے ہی باہر کھڑی کہہ رہی ہوگی کہ ماریہ باجی نے بہت زور سے بعزتی کی ” وہ دونوں ہنس دیں
” میں بعزتی نہیں کروں گی ” ماریہ اترائ
” اچھا “
” میں ماروں گی ” قرت نے رک کر اسے دیکھا پھر ہلکا سا ہنس دی
” بہت اچھے “
” بالکل ، اب تیز چلو ، لائبریری دو بجے بند ہوجاتی ہے ان کی ، ایک تو بجنے کو ہے بس “
ماریہ اسے ساتھ لیتی تیزی سے چلنے لگی تو اس نے بھی رفتار تیز کردی ، نظر یونہی پیچھے گھمائ وہ لڑکی اب ہاتھ گھما گھما کر کچھ کہہ رہی تھی ،اور سامنے کھڑی لڑکی افسوس سے اسے دیکھ رہی تھی ، اس کی آنکھوں میں چند سال پہلے کا منظر گزرا
، پلر کے ساتھ کھڑی حریم اور سامنے کھڑی قرت ، کسی حدیث کی سند نا یاد ہونے پر باجی کی ڈانٹ کی شکایت لگاتی حریم اور افسوس سے سنتی قرت
اس نے سر جھٹکا ، حریم بہت شدت سے یاد آئ تھی اس لمحے ، لیکن خیر چند دن بعد وہ وہیں ہوگی ، اپنے مدرسے ، ہاں بس چند دن بعد !!!
☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ دروازہ ناک کرکے اندر آئیں تو عیسیٰ دراز کھولے اپنا پاسپورٹ چیک کررہا تھا، دروازہ کھلنے کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا اور دوبارہ سے اپنے کام میں مشغول ہوگیا
” تو تم نے واقعی جانے کا فیصلہ کرلیا ہے ؟”
” میں مذاق نہیں کررہا تھا ” شانے اچکا کر اس نے پاسپورٹ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا
” تم رک نہیں سکتے عیسیٰ؟ ، تم رک جائو “
“جیسا کہ میں نے کہا میں مذاق نہیں کررہا “
” عیسیٰ۔۔”
شہوار بے تابی سے آگے بڑھیں اور یکدم اسے گلے لگالیا ، عیسیٰ جیسے پل بھر کو ساکت رہ گیا
” ایسے مت کرو ، تم ہمیں اکیلا چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہو ؟ “
” مام ۔۔” قدرے ضبط سے انہیں خود سے الگ کیا اور بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا ” میں فیصلہ کرچکا ہوں “
” فیصلہ بدلا بھی تو جاسکتا ہے “
” کیوں ؟ ، کس کیلئے بدلوں ؟”
” ہمارے لئے “
” آپ دونوں کیلئے ؟”
وہ استہزائیہ ہنسا ، اس کی ہنسی میں گھلا کرب شہوار نے صاف محسوس کیا تھا
” ہاں ہمارے لئے ، اپنے مام ڈیڈ کیلئے، “
اس کی آواز کا کرب آنکھوں میں اتر آیا ، شہوار نے دیکھا اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں
” مام ڈیڈ ، رائٹ ؟ آپ کو وہ پانچ سالہ عیسیٰ یاد ہے مام جسے آپ روتا ہوا چھوڑ کر گئ تھیں اور جو آپ کے پیچھے دروازے تک بھاگتا ہوا گیا تھا ، کیا آپ کو یاد ہے ؟ مجھے یاد ہے، اس دن میں زندگی میں پہلی بار گرا تھا ، میرے سر پر چوٹ آئ تھی ، مجھے ڈرائیوے میں پڑا اپنا خون بھی یاد ہے ، آپ کو یاد ہے ؟” اس کی آواز بلند ہوئ ۔۔۔” نہیں آپ کو یاد نہیں ہوگا ، کیونکہ اس دن آپ وہاں نہیں تھیں ، مجھے ہاسپٹل ملازم لے کر گئے تھے ، واپس بھی ملازم لے کر آئے تھے ، آپ میری زندگی کی پہلی چوٹ میں میرے ساتھ نہیں تھی ، میں نے اس کے بعد اپنی زندگی کی ہر چوٹ سے آپ کو دور کردیا “
” عیسیٰ ۔۔” وہ دکھ سے کہتے آگے کو ہوئیں ، عیسیٰ ہاتھ اوپر اٹھاتے دو قدم پیچھے کو ہوا
” رکیں ابھی ، مجھے آپ کو کچھ اور بھی یاد دلانا ہے ، بلکہ بتانا ہے کیونکہ تب آپ سننے کیلئے موجود نہیں تھیں ، جب نو سال کی عمر میں ، میں نے آپ کو ٹی وی پر اورفینج کے بچوں کو گلے لگاتے دیکھا تھا تو کیا آپ کو احساس ہوا تھا مام کہ آپ کے گھر میں بھی ایک بچہ ہے جسے آپ کے لمس کی ضرورت ہے ؟، جسے شاید یہ بھی یاد نہیں کہ آخری مرتبہ آپ نے کب اسے گلے لگایا تھا ” اس کی آواز کی اذیت محسوس کرتے شہوار کا دل پھٹنے لگا
” آئ ایم سوری عیسیٰ”
” سوری۔۔۔۔۔ ” وہ جیسے یہ لفظ سنتے طیش میں آیا تھا ، آنکھوں میں شدید جلن ابھری ” یہ لفظ کہنے اور سننے کا وقت گزر چکا مام ، میں نے اپنی زندگی کے بہترین سال آپ دونوں کی وجہ سے ضائع کردیئے ، آپ دونوں کی دولت اور شہرت کی خواہش کی وجہ سے، میں نے سکول میں پوزیشنز لینا چھوڑ دیں کیونکہ انہیں سیلیبریٹ کرنے کیلئے میرے پاس میرے پیرنٹس نہیں تھے ، میں نے دوست بنانے چھوڑ دیئے کیونکہ میں لوگوں کو کھونے سے ڈرتا تھا ، دادا کی ڈیتھ کے بعد میں انگلینڈ چلا گیا کیونکہ یہاں اب میرا کوئ نہیں تھا ، اور اب جب میں لوگوں کے بغیر رہنا سیکھ چکا ہوں تو آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کیلئے اور ڈیڈ کیلئے یہاں رک جائوں ، آپ مجھ سے اس شے کی توقع کیسے رکھ سکتی ہیں جو آپ دونوں میرے لئے نہیں کرسکے “
” جو ہم نہیں کرسکے وہ تم کردو عیسیٰ ہم تمہیں کھو کر پچھتارہے ہیں تم کیوں یہ پچھتاوا مول لینا چاہتے ہو ” وہ روتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئیں ،عیسیٰ نے زندگی میں پہلی بار ان سے شکوہ کیا تھا ، اور شہوار نے سوچا اچھا تھا جو وہ اب تک خاموش تھا
” میں نہیں پچھتائوں گا ، کم از کم اب نہیں ، آپ دونوں کو بھی تو احساس ہو جس انسان کی آپ کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے جب وہ آپ کے پاس نا ہو تو کیسا محسوس ہوتا ہے ، “
” ایسا مت کرو عیسیٰ ، خدا کیلئے مت کرو “
” خدا ، ۔۔۔۔میرے پاس تو میرا خدا بھی باقی نہیں رہا مام آپ مجھے اس کا واسطہ کیسے دے سکتی ہیں ؟ ” وہ تھک کر بیڈ کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا
” عیسیٰ۔۔” شہوار کو صدمہ ہوا
” میں بچہ تھا مام، آپ کو مجھے بتانا چاہئے تھا کہ عیسیٰ کوئ خدا ہے جس کیلئے نمازیں پڑھی جاتی ہیں ، کوئ خدا ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے ، مجھے کسی نے نہیں کہا نماز پڑھو ، آپ نے بھی نہیں ، مجھے کسی نے نہیں کہا کہ قرآن پڑھو ، ڈیڈ نے بھی نہیں ، میں جان ہی نا پایا کہ کہ مجھے یہ سب خدا کیلئے کرنا ہے ، کبھی آپ نے مجھ سے پوچھا بھی نہیں کہ عیسیٰ تمہیں نماز آتی ہے ؟ ، مجھے اپنی نمازوں کی تعداد بھی یاد نہیں ، اس لئے نہیں کہ وہ بہت زیادہ ہیں ، اس لئے کہ وہ اتنی کم ہیں کہ مجھے انہیں شمار کرتے ہوئے بھی شرم آتی تھی ، میں نے سگریٹ پینی شروع کردی ، وہاں لندن میں ، میں نے ڈرگز بھی لینی شروع کی تھیں ، آپ کو تو یہ بھی نہیں معلوم ہوگا میں وہاں دو مہینے ری ہیبلیٹینشن سنٹر میں رہا ہوں ، آپ دونوں کی وجہ سے میں نے ہر کسی کو خود سے دور کردیا مام ، مجھے لگا جو مجھے عزیز ہوگا وہ مجھے چھوڑ جائے گا ، اس ڈر نے میرا ہر عزیز مجھ سے چھین لیا ، خدا کو بھی “
اس کی آواز پہلی مرتبہ کانپی ، پہلی مرتبہ ٹوٹی ، شہوار کی زباں گنگ ہوئ تھی ، یہ اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے، شہرت کا پیچھا کرتے انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ کیا کردیا تھا ، ان کی نظریں نیچے بیٹھے عیسیٰ پر گئیں ، وہ گھٹوں کے گرد بازوں باندھے سامنے لگی پینٹنگ کو دیکھ رہا تھا ، اس کی آنکھیں سرخ تھیں ، شہوار کو یاد آیا ان کے سسر نے عیسیٰ کے کمرے میں چند اسلامک پینٹنگز لگوائ تھیں ، وہ دنیا کے بہترین مصوروں کے فن پارے تھے ، وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھیں وہ سب کہاں ہیں؟ لیکن وہ نہیں پوچھ سکیں بہت سے سوال وہ اب نہیں پوچھ سکتی تھیں
” ۔عیسیٰ ۔۔۔ ہم بھول جاتے ہیں نا وہ سب ، نئے سرے سے شروع کرتے ہیں تم ہمیں معاف کردو ، نئے سرے سے سب شروع کرتے ہیں بچے “
ان کا لہجہ تھکا تھکا سا تھا عیسیٰ نے سر گھما کر شہوار کو دیکھا
” مجھے میرا بچپن لوٹا دیں مام ، وہ پانچ سال کا عیسیٰ واپس لادیں ہم سب نئے سرے سے شروع کرلیتے ہیں ” شہوار لاجواب ہوئیں ، وہ تھوڑی دیر انہیں دیکھتا رہا پھر تلخی سے مسکراتے ہوئے اٹھا
” نہیں لاسکتیں نا ، اس لئے سب نئے سرے سے شروع نہیں ہوسکتا مام ، میں اب وہ عیسیٰ نہیں رہا ،اور نا ہی کبھی بنوں گا ، اس لئے پلیز مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں ،” اس نے ایک آخری نظر شہوار پر ڈالی ، گاڑی کی چابی اٹھائ اور دروازہ کھولا ، دروازے کے پاس حیات صاحب کھڑے تھے ، سفید چہرہ لئے اسے دیکھتے ہوئے ، وہ ایک لمحے کو رکا اور پھر تیزی سے آگے بڑھ گیا
☆________________☆
عیسیٰ حیات نے اپنا بچپن ملازموں ، ٹین ایج کا وقت دادا اور جوانی تنہائ میں گزاری تھی ، وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کے پاس دنیا کی ہر آسائش ہوتی ہے ، سوائے آسائش مہیا کرنے والے ماں باپ کے ، عیسیٰ کی پیدائش کے بعد شہوار کو دوسری اولاد نہیں ہوئ تھی ، انہیں اس کی پرواہ بھی نہیں تھی ، ان کے نزدیک عیسیٰ کافی تھا ، لیکن عیسیٰ کیلئے وہ کافی نہیں تھیں ، اسے ماں اور باپ دونوں چاہئے تھے ، شہوار عیسیٰ کی پیدائش کے بعد پانچ سال تک گھر میں مصروف رہیں ، اور پانچ سال بعد باہر کی دنیا میں ایسی گم ہوئیں کہ انہیں عیسیٰ یاد ہی نا رہا ، حیات شروع سے ہی بزنس میں حد سے زیادہ انٹرسٹڈ تھے ، ان کے نزدیک عیسیٰ کو رات کے وقت آ کر ملنا کافی تھا ، ان دونوں کی اپنی اپنی دنیا تھی اور فلوقت اس دنیا میں عیسیٰ کی گنجائش نہیں تھی ، عیسیٰ ماں باپ سے دور ہوتا ہوتا آہستہ آہستہ ہر کسی سے دور ہوگیا ، اس کے ذہن میں بچپن سے کھونے کا خوف بیٹھ گیا ، شہوار نے اسے قرآن پڑھانے کیلئے گھر پر قاری ٹھہرا دیا ، وہ بے زاری سے پڑھتا ، بے دلی سے سنتا اور جب دل چاہتا قرآن وہیں چھوڑ کر چلا جاتا
” عیسیٰ اس طرح کیسے پڑھو گے قرآن ؟ ” شہوار ایک دن اس سے جھجھلا کر پوچھنے لگیں
” مجھے نہیں پڑھنا “
سینے پر بازو باندھے آٹھ سالہ عیسیٰ نے تڑخ کر کہا
” کیوں نہیں پڑھنا ؟”
” کیوں پڑھوں ؟ “
” کیونکہ سب پڑھتے ہیں “
” سب کیوں پڑھتے ہیں ؟”
شہوار اسے دیکھ کر رہ گئیں ، وہ اسے کیا جواب دیتیں ؟ ، عیسیٰ نے قرآن چھوڑ دیا ، شہواراور حیات نے کچھ نہیں کہا ، ان کا خیال تھا شاید اسے کچھ وقت اکیلے گزارنے دیا جائے تاکہ وہ میچیور ہوسکے ، وہ سمجھ نا سکے کہ اسے اکیلا نہیں سب کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے ، وہ ہر وہ الٹا سیدھا کام کرتا جس سے اس کے ماں باپ اسے توجہ دیں ، چاہے اسے خود کتنا نقصان کیوں نا ہو
دس سال تک وہ مینٹلی اس قدر ڈسٹرب ہوا کہ اس کے سکول میں سب اسے پاگل سمجھنے لگے، وہ پاگل نہیں صرف تنہا تھا ، گھر میں ملازموں کی فوج تھی ، پیسے کی ریل پیل تھی ، کچھ نہیں تھا تو اس کے ساتھ وقت گزارنے والا ساتھی ، اس نے سکول جانا بھی چھوڑ دیا
” تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے آخر عیسیٰ ؟” حیات اور شہوار ایک دن اسے سامنے بٹھا کر پوچھنے لگے
” مجھے کوئ مسئلہ نہیں ہے “
” سکول کیوں نہیں جانا ؟”
” مجھے نہیں پڑھنا “
” کیوں نہیں پڑھنا “
” نہیں پڑھنا تو بس نہیں پڑھنا ” منہ پھلائے قدرے غصے سے کہا ، وہ دن بدن چڑچڑا ہوتا جارہا تھا ، حیات نے کچھ دن سے اس کا گھر سے باہر نکلنا مکمل بند کردیا تھا ، انہیں سکیورٹی تھریٹس ملے تھے
” ایسے کیسے پڑھائ چھوڑ دو گے ” اب کے وہ بھی غصے میں آئے
” میں نے کہا مجھے نہیں پڑھنا ، آپ لوگوں نے مجھے کچھ کہا تو میں گھر چھوڑ کر چلا جائوں گا ” وہ چلا کر کہتے وہاں سے چلا گیا
” یہ اتنا عجیب کیوں ہوگیا ہے شہوار ” انہوں نے اکتا کر بیٹھی شہوار سے پوچھا
” مجھے کیا معلوم “
” تو معلوم کرو ، گھر پر کچھ وقت گزارو اس کے ساتھ “
” میں ہی کیوں ؟ آپ کا بھی بیٹا ہے وہ ” وہ تڑخ کر کہتی اٹھ گئیں ، حیات پیچھے کچھ بڑبڑا کر رہ گئے
نا ان دونوں نے اپنی مصروفیات چھوڑیں نا عیسیٰ نے سکول جانا شروع کیا
اس کی اس تنہائ کو دیکھتے ہوئے اس کے دادا اسے اپنے ساتھ گائوں لے گئے ، وہ پانچ سال ان کے پاس رہا ، اور یہ پانچ سال اسے آج بھی یاد تھے
” تمہارے ماں باپ پیسے کی دوڑ میں اندھے ہوکر دوڑ رہے ہیں ، ایک دن آئے گا جب وہ پچھتائیں گے اس دن کا انتظار کرو ، دیکھنا وہ تمہیں واپس مل جائیں گے “
دادا اکثر اس سے کہتے تھے ، وہ ان سے کہنا چاہتا تھا کہ اسے وہ لوگ آج اپنی زندگی میں چاہئے ہیں ، اسے اپنے ماں باپ کے پچھتاؤوں سے نہیں ان کی محبت اور وقت سے غرض تھی
دادا کے ساتھ زندگی کچھ پرسکون ہوگئ ، وہ گائوں میں رہتے تھے ، اپنی بڑی ساری حویلی تھی، وہاں لوگ تھے ، سکون تھا ، اس کے نئے دوست بن گئے اور وہ کچھ حد تک ٹھیک ہوگیا
دادا نے خود عیسیٰ کو گھر پہ قرآن پڑھانا شروع کردیا ، وہ اس پر توجہ دینے لگے ، وہ غلط پڑھتا تو تصحیح کردیتے، صحیح پڑھتا تو شاباش دیتے ، اسے نماز سکھاتے ، اپنے ساتھ پڑھاتے ، جو غلطی انہوں نے حیات کے وقت کی تھی وہ عیسیٰ پر نہیں دہرانا چاہتے تھے
دادا کے دوست طاہر انکل سائکائٹرسٹ تھے،وہ اس سے ہر ہفتے ملنے آتے ، وہ ان کے ساتھ گھومنے جاتا ، وہ اس سے باتیں کرتے ، اس کی باتیں سنتے ، غیر محسوس طریقے سے وہ اس کا علاج کررہے تھے، اس نے سکول جانا دوبارہ شروع کردیا ، دادا کے پاس باقاعدگی سے قرآن پڑھنا بھی شروع کردیا، ان کے ساتھ روز نماز پڑھنے بھی چلا جاتا
حیات اور شہوار نے شروع میں اس کے وہاں رہنے پر احتجاج کیا تھا
” اس کی پڑھائ ڈسٹرب ہوگی بابا “
” نہیں ہوگی ، ملازم روز اسے شہر کے سکول چھوڑ آتا ہے “
” اتنا سفر ؟”
” اتنا سفر نا اسے تھکا رہا ہے نا مجھے “
” وہ اپنے ماں باپ کے بغیر کیسے رہے گا ؟” حیات جھنجھلا گئے
“جیسے ماں باپ اس کے بغیر رہ رہے ہیں ، تم دونوں وہاں اس کے ساتھ ہوتے ہو ہر وقت ؟ ” شہوار نے پہلو بدلا
” آپ بزرگ ہیں ، اس کا خیال کیسے رکھیں گے ؟” شہوار نے اب کے نرمی سے سمجھانا چاہا
” میں رکھ سکتا ہوں خیال ، تم دونوں مجھے اور میرے پوتے کو اکیلا چھوڑ دو “
” بابا۔۔۔۔”
” مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا ڈیڈ ” عیسیٰ سپاٹ سے تاثرات سے ان کے سامنے آیا
” تم بیچ میں مت آئو عیسیٰ “
” آپ بیچ میں مت آئیں ، میں دادا کے ساتھ خوش ہوں ، آپ لوگ بھی یہاں آجائیں ، لیکن میں نہیں جائوں گا ” وہ دھپ دھپ کرتا چلا گیا ، شہوار اور حیات صرف وہیں بیٹھے رہ گئے
وہ جب پندرہ سال کا تھا تو دادا کی ڈیتھ ہوگئ ، اس دن وہ بند کمرے میں بیٹھ کر گھنٹوں رویا ، اسے ڈر تھا کہ اس کے عزیز اس سے چھن جاتے ہیں اسے صحیح ڈر تھا ، دادا کی وفات کے بعد وہ ایک بار پھر تنہا ہوگیا ، اور پھر اولیول کے بعد حیات نے اسے انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا
” میں یہاں بھی سٹڈی کمپلیٹ کرسکتا ہوں ڈیڈ ، مجھے نہیں جانا ” وہ قطعی انداز میں نفی میں سر ہلاتے ہوئے بول رہا تھا
” یہاں کرلی تم نے سٹڈی کمپلیٹ؟ حال دیکھا ہے اس ملک کے ایجوکیشن سسٹم کا ؟” انہوں نے استہزائیہ سر جھٹکا
” مجھے آپ دونوں کے ساتھ رہنا ہے ، پلیز مام پلیز ڈیڈ ، ڈونٹ ڈو دس ” پانچ سال بعد اس نے ایک بار پھر ان کی منت کی ، وہ تنہائ سے خوفزدہ تھا
” ہم بھی تو تم سے دور رہیں گے نا بیٹا ، یہ تمہارے بہتر مستقبل کیلئے ہے “
” مجھے نہیں چاہئے بہتر مستقبل ، آپ دونوں ایسا کرکے مجھے کھودیں گے ” اس نے روتے ہوئے آخری بار جیسے اپنے ماں باپ کو تنبیہہ کی تھی
” تم ابھی جذباتی ہورہے ہو ، کچھ عرصے بعد تمہیں اندازہ ہوگا کہ ہم نے تمہارے لئے کتنا بہترین فیصلہ کیا تھا “
” کچھ عرصے بعد آپ کو بھی اندازہ ہوگا ڈید کہ آپ لوگوں نے اپنے لئے کتنا بدترین فیصلہ کیا ہے ” وہ کہنی سے آنسو پوچھتے اپنے کمرے میں چلا گیا ، ٹھیک ہے وہ ایسا چاہتے تھے تو ایسا ہی صحیح وہ ان کی زندگی سے چلا جائے گا اور وہ چلا گیا ، یوں سولہ سال کی عمر میں وہ انگلینڈ آ گیا ، جانے وہ فیصلہ صحیح تھا یا غلط لیکن اس نے کرلیا تھا ، انگلینڈ میں وہ بابا کے کزن فیض انکل کے گھر رہا ، وہ یہاں ڈاکٹر تھے اور ان کا اپنا ہوسپٹل تھا ، پچھلے کئ سالوں سے وہ یہیں رہائش پذیر تھے، جب تک وہ فیض انکل کے گھر رہا سب نارمل رہا لیکن اٹھارہ سال کا ہوتے ہی اس نے حیات سے اپنے لئے علیحدہ اپارٹمنٹ مانگا
” مجھے پرائیویس چاہئے ہوتی ہے ، ان کے گھر میں سٹڈی صحیح سے نہیں کرپاتا ” اور حیات نے اس کی بات مان لی ، وہ اس کیلئے ہی تو کما رہے تھے
اسے علیحدہ اپارٹمنٹ ملا تو اس نے جیسے پوری دنیا سے کنارہ کرلیا ، سارا دن یونہی پڑا رہتا ، باہر سے کھانا منگواتا ، گیمز کھیلتا یا ڈرگز لےکر ہوش سے بے گانہ ہوجاتا ، گریڈز جو خراب ہوئے سو ہوئے اس کی خود کی طبیعت بھی بگڑ گئ ، انہی دنوں فیض انکل اس سے ملنے آئے اور اس کی حالت دیکھ کر انہیں جیسے دھچکا سا لگا ، وہ ڈرائنگ روم میں صوفے پر الٹا لیٹا تھا ، ادھ کھلی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں ، سانس آہستہ آہستہ چل رہی تھی ، اور اردگرد بکھری سفید پڑیاں ، انہیں جیسے لمحوں میں سارا قصہ سمجھ میں آیا تھا ، وہ اگلے دو دن ہوسپٹل میں رہا تیسرے دن فیض انکل اسے اپنے گھر لے آئے
” میں نے حیات یا بھابھی کسی سے تمہارے ڈرگز لینے کا ذکر نہیں کیا ، وہ پریشان ہوجاتے اور ممکن تھا تمہیں واپس بلالیتے ، اب یہ فیصلہ تم خود کرو عیسیٰ کیا تم اس حالت میں ان کے سامنے جاسکتے ہو؟ “
وہ اس حالت میں ان کے سامنے جاسکتا تھا ، وہ انہیں دکھا سکتا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا کیا حال کردیا ہے ، لیکن اس صورت میں فیض انکل صحیح تھے وہ یقیناً اسے پاکستان واپس بلا لیتے اور وہ کم از کم اب واپس نہیں جانا چاہتا تھا ، اس نے ڈرگز چھوڑ دی ، دو مہینے ری ہیبلیٹینشن سنٹر میں رہ کر وہ واپس یونیورسٹی چلا گیا
” تم تو یوں غائب ہوئے دنیا سے جیسے کبھی تھے ہی نہیں، انکل آنٹی نے کتنی کالز کیں کچھ خبر بھی ہے ” زین نے اس کی دو مہینے کی غیر موجودگی پر اسے لتاڑا ، اس نے بس اتنا کہا تھا کہ وہ دو مہینے کیلئے کہیں گھومنے جارہا ہے کہاں یہ اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا ،فیض انکل کو بھی اس نے بتانے سے منع کردیا تھا
” آ گیا ہوں نا واپس دماغ مت کھائو اب ” وہ بے زار ہوا ، ماں اور ڈیڈ کو اس کی فکر ہوہی نا جائے، وہ کبھی اس کیلئے پریشان نہیں ہوسکتے تھے
وہ غلط تھا ، اگلے دو دن میں شہوار اور حیات انگلینڈ میں تھے ،عیسیٰ کی دو مہینے کی غیر موجودگی میں ان کے دل پر جو بیتی تھی وہ بیان کرتے ہوئے شہوار بار اس کے چہرے کو چھوتیں اپنے آنسو صاف کرتیں اور پھر ہنس دیتیں
” اب تم واپس چلو عیسیٰ جتنا پڑھنا ہے پاکستان میں پڑھ لینا ” وہ اسے ساتھ لگائے بیٹھی تھیں اور وہ جو کب سے بیزار بیٹھا ہوا تھا حیرانی سے انہیں دیکھا
” میں اب یہیں رہوں گا مام ، آیا آپ کی مرضی سے تھا لیکن جائوں گا اپنی مرضی سے ” وہ غصے سے وہاں سے واک آئوٹ کرگیا ، اس کے ماں باپ نے کیا اسے کھلونا سمجھ رکھا تھا ، جب چاہا انگلینڈ بھیج دیا جب چاہا واپس بلا لیا ، پھر شہوار اور حیات کے لاکھ سمجھانے اور کوشش کے باوجود وہ ان کے ساتھ واپس نہیں گیا ، اس نے ان سے رابطہ رکھنا تقریبا کم کردیا ، وہ لوگ فون کرتے تو وہ کال کاٹ دیتا ، ملنے آتے تو وہ کسی دوسرے شہر چلا جاتا ، اس نے زین اور عمار کے علاوہ کسی سے دوستی نہیں رکھی ، پڑھائ بھی یوں پوری کی جیسئ کوئ بوجھ ہو جو اسے سر سے اتارنا تھا ، سٹڈی کمپلیٹ ہونے کے بعد زین اور عمار واپس چلے گئے اور وہ وہیں رک گیا
” اب تو واپس آجائو عیسیٰ ” شہوار کال پر اس سے کہہ رہی تھیں
” جب موڈ ہوگا آجائوں گا “
اس کا موڈ ایک سال تک نا بنا، وہ یونہی گھومتا رہتا ، کلبز جاتا ، پارٹیز کرتا یا پورا دن گھر میں پڑا رہتا پھر اسی روٹین سے اکتا کر وہ ایک دن اچانک واپس پاکستان آگیا ، یہاں آکر بھی اس کا وہی معمول رہا ، وہ اکثر گھر سے غائب رہتا ، کئ کئ دن بعد واپس آتا ، اس کی یہ حالت دیکھ کر شہوار اور حیات کا دل کٹتا لیکن اب وقت گزر چکا تھا اس کے دادا صحیح کہتے تھے ، اس کے مام ڈیڈ کو پچھتاوا ہوگا ، لیکن اب عیسیٰ کو نا ان سے غرض تھی نا ان کے پچھتاوے سے
