Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 10)
Nahal By Fatima Noor
اس نے چابی ٹیبل پر رکھی اور گرنے کے انداز میں اوندھے منہ صوفے پر لیٹ گیا ، ایک بازو نیچے لٹک رہا تھا ، پچھلے ایک ہفتے سے وہ زین کے ساتھ مختلف مدارس اور مختلف جگہیں گھوم رہا تھا ، اسلام آباد کا تقریبا ہر مدرسہ ان دونوں نے گھوم لیا تھا ٫ کسی مدرسے کا کارڈ ویسا نہیں تھا جیسا اس نے مارگلہ پر قرت کے گلے میں دیکھا تھا ٫ عجیب بے چینی تھی جو اس کے اندر باہر پھیلتی جارہی تھی ٫ جو وقت بچ جاتا وہ یونہی مالز میں آوارہ گردی میں گزار دیتا یا مارگلہ پر جاکر گھنٹوں بیٹھا رہتا لاشعوری طور پر وہ سوچ رہا تھا کہ شاید قرت پھر ان میں سے کسی جگہ پر آئے ، گو یہ ناممکن سا تھا ، لیکن یہ سب لاشوری تھا ، کبھی کبھی ذہن میں اس کے آخری الفاظ گونجنے لگتے ، ذہنی حالت جو تھی سو تھی ، اسے تو اپنا ہوش بھی نہیں رہا تھا
وہ ہلکی ہلکی غنودگی میں جارہا تھا جب کسی نے اس کا سردبانا شروع کیا ، آنکھیں ہلکی سی کھول کر اس نےاوپر دیکھا ، وہ شہوار تھیں جو صوفے پر بیٹھیں اس کا سر دبا رہی تھیں
” تم ٹھیک ہو ؟”
” جی ۔۔” وہ کسلمندی سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور بالوں میں انگلیاں پھیریں
” کہاں ہوتے ہو پورا دن ؟”
” اِدھر اُدھر بس۔۔۔ “
” انگلینڈ کب جانا ہے ؟”
” انگلینڈ۔۔۔۔ ؟”
بالوں میں چلتا ہاتھ رکا
” ہاں ، فلائٹ بک کروالی تھی نا ،”
اس نے کچھ نہیں کہا ، اسے تو بھول بھی گیا تھا کہ اس نے انگلینڈ جانا تھا ، شہوار کچھ دیر اسے دیکھتی رہیں ، وہ جتنا بھی لاپرواہ رہا ہو کپڑوں کے معاملے میں بہت کونشیس تھا ، ایک سوٹ ایک دن سے زیادہ نہیں پہنتا تھا اور اب دو دن سے ایک ہی شرٹ پہنی ہوئ تھی ، رات کو دیر سے آتا صبح جلدی نکل جاتا جانے کیا کرتا پھررہا تھا آج کل
” سر دبادوں تمہارا ؟”
وہ جو ہلکا ہلکا سا انگلیوں سے سر دبارہا تھا رک کر شہوار کو دیکھا اور پھر صوفے پر سیدھا لیٹ گیا ، سر کے نیچے کشن رکھ لیا ، شہوار خاموشی سے اس کا سر دبانے لگیں ، دو دن کی بے آرامی تھی یا تھکن کہ اسے نیند آنے لگی
” عیسیٰ ۔۔۔۔”
” ہوووں ۔۔” وہ نیند میں تھا
” تم کسی بات پر پریشان ہو ؟” وہ ہاتھ روک کر اس کے چہرے کو دیکھنے لگیں
” سر دباتی رہیں مام “
اس کی آواز نیند کے باعث بھاری ہورہی تھی ، شہوار کچھ پریشانی سے اسے دیکھتے دوبارہ سر دبانے لگیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” میں نے انگلینڈ کی فلائٹ کیسنل کروادی ہے “
اس نے صبح ناشتے پر ان دونوں کو اطلاع دی
” کیوں ؟”
شہوار اور حیات دونوں ٹھٹھکے ، کہاں وہ ان دونوں کے بار بار کہنے پر بھی نہیں رک رہا تھا اور اب اچانک یہ فیصلہ؟؟
” میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں انگلینڈ نہیں جارہا “
” وجہ جان سکتا ہوں اس فیصلے کی ؟ “
” کچھ خاص نہیں “
” جو عام ہے وہ بتادو “
عیسیٰ نے سکون سے جوس کا گھونٹ بھرا اور حیات کو دیکھا
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ آپ دونوں کو میرے اس فیصلے سے خوشی نہیں ہوئ “
” بالکل نہیں عیسیٰ انفیکٹ ہم بہت خوش ہیں ” شہوار فورا بولیں کہیں وہ برا مان کر دوبادہ سے ٹکٹ نا کروالے ، وہ محض ہلکا سا مسکرایا
تھوڑی دیر بعد وہ وہاں سے چلا گیا تو حیات نے شہوار کو دیکھا
” کیا تم اس فیصلے کی وجہ جانتی ہو ؟ “
” عیسیٰ کے ساتھ کوئ مسئلہ ہے حیات ، پچھلے چند دن سے وہ بہت عجیب بیہیو کررہا ہے “
” جیسا کہ۔۔۔۔۔ ؟”
” پورا دن گھر سے غائب رہتا ہے ، خود سے لاپرواہ ہوگیا ہے ، ایک تسبیح ہے جسے وہ ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہے ، “
” ہوووں ۔۔۔۔۔۔، ریلیکس میں بات کرتا ہوں اس سے “
شہوار نے پرسوچ نظریں ان پر ٹکائیں
” آپ اس سے بات کریں یا نا کریں مجھے اب کسی اور سے بات کرنی پڑے گی “
” کس سے ؟ “
” زین سے ۔۔”
وہ گہری سانس لے کر بولیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” تمہیں معلوم بھی ہے کتنی مشکل سے سنبھالا ہے میں نے معاملہ ؟ ہسپتال کے بلز بھرنے سے لے کر انہیں رقم تک دی تاکہ معاملہ پولیس تک نا جائے “
انہوں نے طیش سے سامنے صوفے پر بیٹھے عیسیٰ کو دیکھا جو ہاتھ میں آئس پیک تھامے ہونٹوں کے کنارے پر رکھے ہوئے تھا اس کے ساتھ بیٹھا زین زخمی نہیں تھا لیکن وہ بار بار اپنی شرٹ کے پھٹے ہوئے بازوں کو دیکھتا اس کی نئ برینڈڈ شرٹ تھی ، دکھ تھا کہ شدید تھا
وہ دونوں ابھی ابھی وہاں آکر بیٹھے تھے اور شہوار کا بس نہیں چلتا تھا کہ عیسیٰ کو ہسپتال لے جائیں ، معاملہ کچھ یوں تھا کہ عیسیٰ حیات اور زین فیاض کی کسی لڑکے سے لڑائ ہوگئ تھی ، وہ دونوں کسی مدرسے کے باہر کھڑے تھے جب ایک لڑکی کو یہ غلط فہمی ہوئ کہ وہ دونوں اسے تاڑ رہے ہیں ، لڑکی اپنے بھائ کے ساتھ تھی اور بھائ کو غیرت آ گئ ،اس لڑکے کے دوست بھی آگئے یوں چھوٹی سی لڑائ ہاتھا پائ تک پہنچ گئ
” تم وہاں کرکیا رہے تھے مدرسے کے باہر ؟”
حیات کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا
” جو بھی کررہا تھا کم از کم لڑکیوں کو نہیں چھیڑ رہا تھا ، نان سینس ، میں اس طرح کا انسان لگتا ہوں آپ کو ؟”
بے زاری سے کہتے ہوئے اس نے سر جھٹکا، زین نے دانت چبا کر اسے دیکھا ، آیا بڑا مفتی تقی عثمانی کا جانشین !!
” اور تم۔۔۔۔ ؟” ان کا رخ اب زین کی طرف ہوا
” بائے گاڈ انکل ، مانا کہ ہم دونوں ایک نمبر کے گھٹیا انسان ہیں ، لیکن ہمارا ٹیسٹ اتنا برا بھی نہیں ہے ان پانڈا کی بہن کو چھیڑتے “
” تم دونوں کا گھٹیا پن تو میں نکالتا وہاں ، دو دن جیل میں رہتے تو پتا لگ جاتا ، ہاتھا پائ شروع کس نے کی تھی ؟” انہوں نے عیسیٰ پر کسی بھی بات کا اثر نہ ہوتے دیکھ زین سے سوال کیا
” ان کی جانب سے آغاز ہوا تھا انکل “
” میں نے لڑائ کا نہیں مار پیٹ کا پوچھا ہے “
زین گڑبڑایا ، ہونٹوں پر آئس پیک رکھے عیسیٰ نے پہلے حیات کو اور پھر زین کو دیکھا وہ اسے منع کرنا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے ہی وہ بول پڑا
“عیسیٰ نے ۔۔۔”
عیسیٰ نے اسے کھاجانے والی نظروں سے اسے دیکھا وہ جانتا تھا اب کیا ہوگا
اور وہی ہوا
” یعنی حد ہوتی ہے جذباتی پن کی ، حد ہوتی ہے “
تھوڑی دیر بعد حیات یہاں سے وہاں چکر لگاتے سامنے صوفے پر بیٹھے عیسیٰ پر گرج رہے تھے جو ان کی ڈانٹ اور شہوار کی پریشانی سے بے نیاز سر جھکائے بیٹھا تھا اس کے ہونٹ کا ایک کنارہ پھٹا ہوا تھا گریبان چاک اور بال بکھر چکے تھے ان سب سے قطع نظر وہ اس کی بے نیازی اور ڈھٹائ تھی جو حیات صاحب کو مشتعل کررہی تھی
“زین کو تو چھوڑوں گا نہیں میں “
وہ جھکے سر سے بڑبڑایا ، حیات کی پہلی پھٹکار سنتے ہی وہ وہاں سے فورا رفو چکر ہوا تھا
” دیکھو اسے شہوار دیکھو اسے ، اس لڑکے کی ٹانگ ٹوٹ گئ ہے اور یہ ایسے بیٹھا ہے جیسے اس کی انگلی پر ذرا سی ضرب لگائ ہو اس نے “
عیسیٰ نے جھکا سر اٹھایا
” میرا ارادہ اس کی ٹانگ توڑنے کا نہیں تھا “
” ارادہ نہیں تھا پھر بھی توڑ دی اگر ہوتا تو کیا کرتے ” وہ سیخ پا ہوئے البتہ ذرا تسلی بھی ہوئ چلو کچھ تو وہ مان رہا تھا کہ اس کا یہ ارادہ نہیں تھا لیکن عیسیٰ کا اگلا جملہ سن کر ان کا سکون بھک سے اڑا
” میرا ارادہ اس کا سر پھاڑنے کا تھا ، اور مجھے افسوس ہے کہ میں اس میں کامیاب نہیں ہوسکا” اسے واقعی افسوس تھا
” سر پھاڑنے کا تھا ؟؟” وہ کچھ اور مشتعل ہوئے ” تمہیں اندازہ ہے یہ پولیس کیس بن سکتا تھا “
” آپ لوگ خواہ مخواہ بات کو بڑھارہے ہیں ” وہ بے زار ہوا ” یہ ہمارا آپس کا معاملہ تھا ٫ہم اسے حل کرلیتے آپ بڑوں کو بیچ میں گھسنے کی ضرورت نہیں تھی “
” آپس کا معاملہ؟ وہ زخمی ہوکر ہوسپٹل میں پڑا ہے ، تم زخمی ہوکر گھر میں بیٹھے ہو اس کا باپ پولیس میں رپورٹ کروانے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اسے تم آپس کا معاملہ کہتے ہو ؟”
“میں ہینڈل کرلیتا ڈیڈ ، آپ خواہ مخواہ پینک کررہے ہیں ” اس نے زخمی ہونٹ پر ہاتھ رکھا
” خواہ مخواہ۔۔۔۔ ” وہ غصے سے اس کی طرف بڑھے، شہوار فورا آگے ہوئیں
” حیات ریلیکس ، آپ کا بی پی شوٹ کر جائے گا ” ان کو بازوں سے تھاما اور عیسیٰ کو گھورا
” مجھے ایسے مت دیکھیں ۔۔میں اب بھی وہی کہوں گا میں معاملہ ہینڈل کرلیتا لیکن آپ سب بیچ میں آگئے ” وہ اٹھ کھڑا ہوا
آئوچ !!! ٹانگ بھی درد کرتی تھی شاید کسی کمبخت نے ہاکی ماری تھی
” دفع ہوجائو، اور جب تک میں نا کہوں کمرے میں بند رہنا اپنے ” وہ اب غصہ نہیں تھے لیکن طیش اب بھی وہیں تھا
” میں بزدل نہیں ہوں “
” زیادہ بہادر بھی مت بنو “
” وٹ ایور میں نہ چھپوں گا نہ گھر بیٹھوں گا ” اس نے بے زاری سے ہاتھ جھلایا
” شہوار اس سے کہو یہاں سے چلا جائے ” حیات صاحب نے ضبط سے پر آواز میں کہا
” عیسیٰ۔۔۔” وہ بے بسی سے اسے دیکھتے بولیں ، عجیب صورتحال میں پھنس گئ تھیں
” اوکے اوکے ، جارہا ہوں کچھ بجھوادیجئے گا کمرے میں، اپنے بیٹے کی فکر نہیں ہے اور دوسروں کے بلز بھررہے ہیں ” آخر میں وہ صرف بڑبڑایا کہ حیات صاحب واقعی غصہ تھے
” تم جائو بھجواتی ہوں ” وہ تحمل سے گویا ہوئ عیسیٰ سرہلاتے اوپر کی طرف بڑھ گیا ، آخری سیڑھی پر وہ رکا اور نیچے سر تھام کر بیٹھے حیات کو پکارا
” ڈیڈ ۔۔”
انہوں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
” میں سچ کہہ رہا تھا، مجھے واقعی افسوس ہے کہ میں اس کا سر نہیں پھاڑ سکا “
وہ ڈھٹائ سے مسکراتے وہاں سے سے فورا غائب ہوا پیچھے حیات صاحب نے اسے ناقابل اشاعت گالیوں سے نوازا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شہوار نے آہستہ سے دروازہ کھولا٫ اندر مکمل اندھیرا تھا اور عیسیٰ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا انہوں نے اے سی آف کیا ، کھڑکیوں سے پردے ہٹائے ،چلتے ہوئے عیسیٰ کے بیڈ کے قریب آئیں ، نیچے گرے ہوئے کشنز اٹھا کر بیڈ پر رکھے اور عیسیٰ کے بیڈ پر اس کے سر کے قریب بیٹھیں، تھوڑی دیر اسے دیکھتی رہیں ، اس کے بال ماتھے پہ بکھرے تھے ، چہرے پر سوتے ہوئے بھی بے چینی تھی ، ، موسم میں خنکی تھی وہ پھر بھی اے سی آن کرکے سو رہا تھا
” عیسیٰ۔۔۔۔ ” نرمی سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے مخاطب کیا ،وہ اسی طرح لیٹا رہا
” عیسیٰ۔۔۔”
ہوووں ” اس نے بند آنکھوں سے جواب دیا
” اٹھو بچہ، کافی دیر ہوگئ ہے ” وہ اسی طرح پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھیں عیسیٰ نے مندی مندی آنکھیں کھولیں تھوڑی دیر یونہی لیٹارہا اور پھر اسے احساس ہوا کہ شہوار بھی اس کے کمرے میں تھیں
” آپ یہاں ؟”
کمبل سائیڈ پر کرتا وہ قدری سستی سے اٹھ بیٹھا٫ منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائ روکی اور موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا
” ایک بج گئے ؟؟” تعجب سے نظریں اٹھا کر سامنے بیٹھی شہوار کو دیکھا ” میں اتنی دیر کیسے سوتا رہا “
وہ مسکرائیں
” رات دیر سے سوئے تھے ؟”
” نہیں” اس نے بیڈ کرائون سے ٹیک لگالی، وہ پچھلے کچھ دنوں سے جلدی جاگ جاتا ٫ تیار ہوکر پورا دن غائب رہتا ٫ سو آج اس کا تعجب جائز تھا ٫ شہوار کچھ لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہیں
“تم مسکرارہے تھے “
” جی ؟”
اس نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا
” جب میں نے تمہیں اٹھایا اس سے پہلے تم نیند میں مسکرارہے تھے “
” اچھا ” ہنستے ہوئے آنکھیں سے بند کرلیں
” میری دادی ماں کہا کرتی تھیں کہ بچے نیند میں اس لئے مسکراتے ہیں کیونکہ انہیں خواب میں کوئ پری دکھائ دیتی ہے ، کیا تم نے بھی خواب میں کسی پری کو دیکھا ہے ؟”
” دیکھا تو ہے ” وہ بند آنکھوں سے مسکرایا ” لیکن خواب میں نہیں حقیقت میں ” آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا شہوار نے اس کے چہرے کی روشنی سے نظریں چرائیں
” مجھے نہیں ملوائو گے اس سے ؟”
” آپ ملنا چاہیں گی ؟”
” بالکل “
” انتظار کریں ، میں خود اسے ڈھونڈ رہا ہوں ” وہ مسکرا کرکہتا بیڈ سے اٹھا٫ سلیپرز پائوں میں ڈالے شہوار اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھیں
” اور اگر وہ نہ ملی تو ؟”
” میں ڈھونڈ لوں گا “
وہ وارڈروب سے کوئ ڈریس نکال رہا تھا، اس نے رات لباس بھی تبدیل نہیں کیا تھا اسی جینز اور شرٹ میں سو گیا تھا جو کل صبح پہنی تھی
” اور اگر وہ نہ ملی تو کیا تم ٹوٹی تسبیح لے کر ساری عمر مدارس کے قریبی علاقوں کی گلیاں چھانتے رہو گے ؟”
شرٹ نکالتا عیسیٰ تھم گیا ٫وارڈروب آہستہ سے بند کی اور مڑ کر شہوار کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں
” آپ کو ۔۔۔کس نے بتایا ؟”
اس نے وارڈروب سے ٹیک لگالی٫ چہرے پہ کوئ تاثر نہیں تھا وہ اپنے گھر سے غائب رہنے کی وجہ پر شرمندہ نہیں تھا
” زین نے “
” مجھے اس سے یہ امید نہیں تھی “
” اسے میں نے مجبور کیا تھا “
” وہ میرا راز تھا مام ٫میں نے وہ اس کے ساتھ بانٹا تھا٫ اسے کوئ حق نہیں تھا کہ وہ اسے آپ کے ساتھ بانٹتا “
” تو کیا اب تم مجھ سے باتیں چھپائوگے ؟”
” آپ نے یہ سوال پوچھنے میں بہت دیر کردی ہے ” شہوار لاجواب ہوئیں عیسیٰ اسی طرح انہیں دیکھ رہا تھا
” میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ اگر وہ لڑکی نہ ملی تو ؟”
” میں نے یہ نہیں سوچا “
” کہ کیا کروگے ؟”
” یہ کہ وہ نہیں ملے گی “
وہ اس قدر مضبوط لہجے میں بول رہا تھا کہ پل بھر وہ کچھ بول ہی نہ سکیں
” عیسیٰ۔۔۔” وہ اٹھیں اور چلتے ہوئے اس کے قریب آئیں “تمہیں نہیں لگتا تم ایک لاحاصل منزل کے پیچھے بھاگ رہے ہو ، اگر اس کے اختتام پر تمہیں کچھ نہ ملا تو تم خود کو برباد کردو گے ؟ “
” میں خود کو برباد کرچکا ہوں مام “
وہ بے خوف تھا٫ نہ کوئ ملال نہ کوئ بے چینی جیسے اگر اسے پوری دنیا ڈھونڈنی پڑی تو وہ اس کیلئے یہ بھی کرے گا ۔۔یہ کیسی محبت تھی؟ شہوار نے گہری سانس لی
” تم اسے بھول نہیں سکتے ؟” وہ تھوڑی دیر انہیں دیکھتا رہا پھر اس نے سر جھکایا اور دھیرے سے نفی میں سر ہلایا
“یہ میرے بس میں نہیں ہے مام، اس کی محبت کسی آسیب کی طرح مجھ سے چمٹ گئ ہے میں پورا دن سڑکوں پر گھومتا ہوں کہ شاید وہ کہیں نظر آجائے ، میں ہر اس لڑکی کو غور سے دیکھتا ہوں جس نے نقاب کر رکھا ہوتا ہے کہ شاید ان میں سے کوئ وہ بھی ہو، میں ان دنوں میں مارگلہ ہلز پر اتنی بار گیا ہوں جتنا ساری زندگی نہیں گیا ، وہ میرے لئے محبت سے زیادہ ہوگئ ہے، مل گئ تو عشق نہ ملی تو روگ ، مجھے وہ دونوں صورتوں میں برباد کردے گی اور آپ پوچھتی ہیں کہ کیا میں اسے بھول نہیں سکتا ؟ تو مام یہ اب میرے بس میں نہیں رہا “
وہ سرجھکائے اپنے پائوں کو دیکھتے بے بسی سے بول رہا تھا ،شہوار کو سمجھ نہ آیا وہ اس سے کیا کہیں
” یہاں بیٹھو۔۔۔۔ ” انہوں نے اسے ہاتھ سے تھاما اور بیڈ پر بٹھاکر خود اس کے قریب بیٹھ گئیں وہ اس وقت کوئ چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا جو اپنی پسندیدہ چیز نا ملنے پر اداس ہو
” مجھے بتائو تمہاری اس سے ملاقات کیسے ہوئ ؟”
وہ اب نرم اور دوستانہ انداز میں اس سے پوچھ رہی تھیں عیسیٰ نے اپنا سر ان کی گود میں رکھا آنکھیں بند کیں اور انہیں شروع سے سب بتانا شروع کیا ، مال میں ہونے والی پہلی ملاقات سے لے کر مارگلہ پر ہونے والی دوسری اور آخری ملاقات تک سب کچھ٫
شہوار خاموشی سے سنتی رہیں اور جب وہ سب بتا کر خاموش ہوا تو انہوں نے گہری سانس لی
” تو تمہیں پہلی نظر کی محبت ہوئ ہے ؟” اس نے سر نفی میں ہلایا
” دوسری نظر کی۔۔۔ “
” وہ کیسے؟ مال میں تو پہلی بار دیکھا تھا نا اسے “
” میں نے مال میں ان کی آنکھوں کو پہلی بار دیکھا تھا اور مارگلہ پر دوسری بار٫ پہلی نظر بے اختیار تھی دوسری پر اختیار تھا ، کاش میں نے دوسری نظر پر اختیار رکھا ہوتا ” وہ بڑبڑایا
” تو تمہیں اس کی آنکھوں کو دیکھ کر محبت ہوئ ؟”
” مجھے اس کی آنکھوں “میں” دیکھ کر محبت ہوئ “
“تم مارگلہ پر کیا کرنے گئے تھے اس دن؟ “
وہ اس سے یونہی خواہ مخواہ کی باتیں پوچھے گئیں٫ بچپن سے لے کر اس کی جوانی تک پہلی بار تھا جب وہ یوں ان کی گود میں سر رکھے اپنے دل کا حال بتا رہا تھا
” ویسے ہی پلین بن گیا تھا ، جانتی ہیں وہ پہاڑی پر کھڑی تھی آنکھیں بند کئے٫ ہاتھ ہوا میں بلند کئے اس کا عبایا ہوا سے اڑ رہا تھا اور وہ کسی مغل دور کے مجسمہ ساز کا شاہکار لگتی تھی ” بند آنکھوں کے پیچھے اس کا عکس لہرایا ہونٹوں پہ مدھم سی مسکراہٹ ابھری ” میں نہیں جانتا تھا کہ وہ وہی ہے جو مجھے مال میں ملی تھی ٫ میرا دل چاہا کہ میں اس کی تصویر لوں میں یہی پوچھنے اس کے پاس گیا تھا کہ اس کا پائوں پھسل گیا “
” اور تمہارا دل ؟”
وہ ہنسا
” اور میرا دل۔۔۔۔ “
” اور اب ؟”
” اب یہ کہ میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں وہ مل جائے گی ۔۔۔۔، وہ مل جائے گی نا ؟” ان سے سوال کیا شہوار نے سر ہاں میں ہلایا
” وہ یقینا مل جائے گی ” عیسیٰ ہلکا مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا
” میں چینج کرلوں ؟ “
شہوار نے سر ہلادیا ، وہ چلا گیا تو ان کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھی آدھی تسبیح پر گئ ، اٹھ کر وہ تسبیح اٹھائ اور اسے دیکھے گئیں
جانے ان کے بیٹے کی قسمت میں کیا لکھا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
قرۃ العین ۔۔۔”
” جی اماں ۔۔”
” کیا ہر وقت کتابوں میں گھسی رہتی ہو ، انوکھے ہی پیپر ہوتے ہیں تمہارے ” قرت نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا اور ہلکا سا مسکرائ
” آخری سال ہے اماں ، اتنی محنت تو کرنی پڑتی ہے “
” یہ کچھ زیادہ ہی ہے ، خیر کتاب بند کرو اور بات سنو میری “
” جی کہیں ” اس نے کتاب بند کردی
” کچھ دن پہلے تم سے ذکر کیا تھا کہ تمہاری تائ آنا چاہ رہی ہیں تمہارے رشتے کیلئے ، کیا سوچا ہے تم نے ؟” قرت نے جھکے سر کو اٹھا کر انہیں دیکھا
” ابا کیا کہتے ہیں ؟”
” ان کا بھتیجا ہے بیٹا دل تو موم ہوگا ہی نا ، لیکن انہوں نے آخری فیصلہ تم پر چھوڑا ہے “
” اماں آپ لوگوں نے جواد کے بارے میں باتیں نہیں سنیں کیا ؟”
” سنی ہیں بیٹا ، تمہاری تائ کہتی ہیں سب افواہ پھیلاتے ہیں ،ان کے بیٹے کی ترقی سے جلتے ہیں ، پتا نہیں کون سی ترقی ہے جس سے جلتے ہیں “وہ بڑبڑائیں ، قرت نے غور سے اماں کو دیکھا
” آپ کا دل کیا کہتا ہے ؟”
” سچ پوچھو تو میں راضی نہیں ہوں ، جواد حد سے زیادہ لاپرواہ ہے ، پھر ان کے گھر کا ماحول بھی مناسب نہیں تمہارے لئے ” اس نے کچھ نہیں کہا بس خاموشی سے بند کتاب کو گھورتی رہی
” تم سوچ لو ۔۔۔۔ابھی تو پیپر ہونے والے ہیں تو میں بات ٹال دوں گی لیکن پیپر کے بعد تم اپنا جواب بتا دینا ٫کوئ اور مناسب رشتہ ہوتا تو میں سوچتی بھی نا جواد کا ، لیکن غریبوں کے گھر کون آتا ہے “
انہوں نے سر جھکا کر بیٹھی قرت کو دیکھا اور گہری سانس لیتے اٹھ گئیں ، جانے ان کی بیٹی کی قسمت میں کیا لکھا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ دوسرا گھونٹ بھررہا تھا جب نظر انٹرنس پر پڑی ،بلیک جینز پر وائٹ شرٹ اوپر وائٹ ہی جیکٹ پہنے عیسیٰ اس کی طرف ہی آرہا تھا ،ہاتھ جینز کی جیب میں تھے ، چال قدرے لاپرواہ لیکن اعتماد سے پر تھی ، یہ پچھلے دو ہفتوں میں پہلی بار تھا جب زین نے اسے ڈھنگ کے حلیے میں دیکھا تھا ، ورنہ پچھلے چند دن سے وہ خود سے بھی لاپرواہ ہوگیا تھا ، کچھ اس کی امارت اور کچھ اس کا حسن تھا کہ اردگرد سب کی نظریں اس پر اٹھیں ، زین ان سب کا عادی تھا
وہ جب اس کی ٹیبل کے پاس آیا تو اس نے اٹھ کر گرمجوشی سے اسے گلے لگانا چاہا ، عیسیٰ دو قدم پیچھے ہوا ، وہ ٹھٹھک کر رکا پھر گہری سانس لے کر اسے دیکھا
” آئ پرامس آنٹی نے مجبور کیا تھا ورنہ میں کبھی نا بتاتا ۔۔”
” مجبور ؟ واقعی ؟؟ “
اس کے چہرے کے تاثرات سپاٹ تھے
” قسم لے لو بڈی ، آج تک ایسے کون سے راز ہیں جو میں نے تمہاری مام کو بتائے ہوں ؟ وہ پریشان تھیں اس لئے مجبورا مجھے بتانا پڑا ۔۔”
” واؤ ، واٹ آ ایموشنل سٹوری ۔۔۔”
اس نے طنزیہ سر جھٹکا
” اچھا سوری ، مجھے بتائو کس طرح تمہاری ناراضگی دور ہوگی ؟” وہ قدرے بیچارگی سے کہتے ہوئے دو قدم آگے ہوا ، جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے عیسیٰ چند لمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر ہاتھ نکال کر پنجہ بنایا اور زور سے زین کے دائیں گال پر مارا ، وہ ایک دم لڑکھڑایا ، پھر گال پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے عیسیٰ کو دیکھا
” کس نے کہا میں ناراض ہوں ؟اگر تھا بھی تو اب نہیں ہوں “
بند مٹھی پر پھونک ماری اور زین کو دیکھا جو کھاجانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
” کھجلی دور ہوگئ ہاتھوں کی ؟” چبا کر کہتے وہ سیدھا ہوا ،نظریں اردگرد بیٹھے لوگوں پر پڑیں جو انہیں ہی دیکھ رہے تھے
” ریلیکس گائیز ، دوست ہے میرا ” زبردستی مسکراتے ہوئے کہا تو سب بڑبڑاتے ہوئے اردگرد متوجہ ہوگئے
عیسیٰ اب آرام سے چیئر کھینچ کر بیٹھ چکا تھا ، زین اسے گھورتے سامنے والی چیئر پر بیٹھا
” دانت ٹوٹ جاتا میرا “
” بہت خوشی ہوتی مجھے “
اس نے کاندھے اچکائے ، زین چند لمحے اسے گھورتا رہا پھر گہری سانس لی اور جیب سے کریڈٹ کارڈ نکال کر میز پر رکھا
” تمہارا دیا گیا کریڈٹ کارڈ خالی ہوگیا ہے “
” سریسلی ؟ اچھا خاصا اماؤنٹ تھا اس میں “
” میں نے اکیلے خرچ نہیں کئے “
زین نے شانے اچکائے
” ظاہر ہے ۔۔۔اپنے دوستوں کو بھی پارٹیز دی ہوں گی تم نے ، میرے باپ کی حق حلال کی کمائ پتا نہیں کن حرام کاموں میں خرچ کی ہے “
وہ اکتایا ہوا لگ رہا تھا زین نے برا نہیں منایا وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھے گیا
” پوچھو گے نہیں کن دوستوں پر خرچ کیا ہے ؟”
” مجھے کوئ انٹرسٹ نہیں ہے، جس کام میں انٹرسٹ ہے وہ تو تم سے ہونہیں سکا اس لئے ۔۔۔۔۔”
” میں نے پتا کروالیا ہے کہ وہ کون سے شہر سے ہیں “
عیسیٰ کی زبان کو بریک لگی آنکھوں میں پہلی بے یقینی اور پھر ڈھیروں حیرت آئ
” کون سے ؟” وہ آگے کو ہوا
” اس کریڈٹ کارڈ کی آدھی رقم ان دوستوں پر خرچ ہوئ ہے جو تمہارے نزدیک گھٹیا اور دو نمبر ہیں اور اونچی اونچی پوسٹوں پر بیٹھے ہیں اور آدھی ۔۔۔۔۔”
” زین۔۔۔۔ “ضبط سے اسے پکارا لیکن وہ نہیں سن رہا تھا
” اور آدھی اس شہر کا پتا لگانے میں جہاں وہ لڑکی رہتی ہے ، میرے حصے میں بچ جانے والے ایک دو لاکھ ہی آئے ہیں اور اتنے پیسوں سے آج کل تو کسی برینڈ کا سوٹ بھی نہیں ملتا اس لئے ۔۔۔” اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی اور عیسیٰ کو دیکھا جو ضبط سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
” اس لئے تمہیں مزید رقم چاہئے تبھی تم اس شہر کا نام اپنے منہ سے پھوٹو گے ۔۔۔رائٹ ؟”
زین کی مسکراہٹ گہری ہوئ
” اب میں اتنا بھی لالچی نہیں ہوں “
” بخدا تم اس سے زیادہ لالچی ہو “
” کہہ لو کہہ لو ” وہ ہنوز مسکرارہا تھا اور عیسیٰ کو زہر لگ رہا تھا
” نام۔۔۔۔؟”
” پہلے میری شرط پوری کرو “
” بکو ۔۔۔”
” اممم ” اس نے ایک انگلی ماتھے پر رکھی اور مصنوعی انداز میں سوچنے لگا پھر یکدم جیسے چونکا ” مجھے تمہاری سپورٹس بائیک چاہئے ” عیسیٰ نے گہری سانس لی اور کرسی سے ٹیک لگائ
“وہ نئ ہے اور مجھے بہت عزیز ہے “
” قرت سے بھی زیادہ ؟”
اور بس !!
اس نے جیب سے چابی نکالی اور میز پہ پٹخی
” نام ؟”
” اوہوں ، پہلے مجھے اپنی محنت کی کہانی تو سنا لینے دے “
” مجھے انٹرسٹ نہیں ہے ۔۔”
” مجھے ہے ۔۔۔۔۔، ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس مدرسے کا پتا چلاتے چلاتے مجھے ایک ایونٹ کا پتا چلا جو چند دن پہلے یہیں اسلام آباد میں ہوا تھا ، اس میں پورے پاکستان سے کئ مدارس نے شرکت کی تھی ، میرے دوست ساحر کے ڈیڈ ان مدرسے کے اونر کو جانتے تھے اس لئے ساحر کے ذریعے میں نے ان تمام مدارس کی لڑکیوں کا ڈیٹا نکلوایا ، وہاں کل پچاس لڑکیوں نے شرکت کی تھی اور ان میں سے قرت نام کی صرف ایک لڑکی تھی ، قرۃ العین ۔۔” رک کر عیسیٰ کو دیکھا جو قدرے ضبط سے اسے دیکھ رہا تھا ، زین نے گلا کھنکارا
” وہ ملتان میں رہتی ہیں٫ چند دن پہلے اسلام آباد اسی مقابلے میں شرکت کرنے آئ تھیں ، میں نے مدرسے کا نام بھی ڈھونڈ لیا ہے ” فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ بتایا ساتھ ہی ایک فائل میز پر رکھی ” اس میں ساری ڈیٹیلز ہیں “
” کیا نام ہے مدرسے کا ؟” زین نے نام بتادیا ، عیسی چند لمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر آنکھیں بند کرکے سر کرسی سے ٹکایا
” مراقبے میں چلا گیا ہے کیا ؟”
” یہاں سے دفع ہوجاؤ اس وقت “
وہ بند آنکھوں سے بولا
” تجھے اکیلا ۔۔۔۔۔”
” زین۔۔۔”
” اوکے اوکے ،ٹیکسی سے آؤگے کیا ،؟ میرے ساتھ میری نئ بائیک پر چلو”
عیسیٰ نے کوئ جواب نہیں دیا وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر شانے اچکا کر میز سے چابی اٹھائ اور آگے بڑھنے لگا جبھی پیچھے سے اس کی آواز آئ
” ایک نمبر کے گھٹیا اور خبیث انسان ہو تم “
وہ رکا اور پلٹا
” تم مجھے سیدھے سیدھے الفاظ میں بھی شکریہ کہہ سکتے ہو “
” میں نے تمہیں عملاً بہت زیادہ شکریہ کہہ دیا ہے اب شکل گم کرو اپنی “
اس نے ہاتھ جھلایا
زین ہنہہہ کرکے آگے بڑھ گیا، جبکہ پیچھے بیٹھے عیسیٰ نے آنکھیں کھولیں ، سیدھا ہوا اور سامنے رکھی فائل کھولی٫ وہاں اس مدرسے کا ایڈریس لکھا ہوا تھا جہاں قرت پڑھتی تھی ، ساتھ قرت کا نام اور کچھ ڈیٹیلز، درس نظامی کا کون سا سال ہے ، مقابلے میں کارکردگی کیسی رہی وغیرہ وغیرہ ،۔۔۔۔
اس نے انگلی اٹھا کر اس کے نام پر پھیری
” قرۃ العین ۔۔۔”
لبوں سے سرگوشی نکلی
