Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 12)
Nahal By Fatima Noor
“اپنے باپ سے گالیاں کھانے اور بے گھر ہونے کے نوے فیصد چانسسز کے ساتھ اس قدر عظیم طریقے سے دوستی نبھانے پر زین فیاض کو کوئ تمغہ تو ضرور ملنا چاہئے ، کیا خیال ہے ؟”
گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑے زین نے دسویں بار جملہ کسا تھا اور عیسیٰ نے دسویں بار ہی اسے نظر انداز کیا ، وہ زین کے ساتھ ہی گاڑی سے ٹیک لگا کر ٹھہرا تھا ، نیلی جینز پر سیاہ شرٹ پہنے وہ چیونگم چبا رہا تھا
یہ تیسرا دن تھا جب وہ دونوں مدرسے کے باہر کھڑے تھے، ان تین دنوں میں عیسیٰ نے قرت کو باہر نکلتے نہیں دیکھا تھا جبکہ زین کا خیال تھا کہ وہ اسے پہچان نہیں سکا ہوگا کیونکہ اسے سب ایک جیسی لگ رہی تھیں
سامنے دروازے کو دیکھتا عیسیٰ قدرے بے چین تھا ، گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑے وہ بار بار نیچے زمین پر سے مٹی کھرچنے لگتا ، کبھی بے چینی سے تھوڑی پر ہاتھ پھیرتا ، زین اس کے برعکس اکتایا ہوا تھا یہ تیسرا دن تھا اور ابھی تک انہیں کچھ پتا نہیں چلا تھا ، اسے تو شک ہورہا تھا کہ قرت یہاں پڑھتی بھی تھی یا نہیں
” تم نے کوئ بیک اپ پلین سوچا ہے کیا ؟”
” بیک اپ پلین ؟”
اس نے نا سمجھی سے زین کو دیکھا
” ہاں ، جیسے اگر قرت نا ملی تو ؟ ضروری تھوڑی ہے اگر تم اسے ڈھونڈ لو تو تم دونوں مل بھی جائوگے ، آئ مین کچھ بھی ہوسکتا ہے تو کوئ بیک اپ پلین ہے کیا تمہارے پاس ؟”
” محبت میں بیک اپ پلینز نہیں رکھے جاتے ، “
وہ زخمی سا مسکرایا
” عجیب فلسفے جھاڑنے لگے ہو تم بھائ ، وہ بھی کیا دن تھے جب ہم یونہی سڑک پر چلتے ہوئے کسی بھی لڑکی کو چھیڑ دیتے تھے ، تم مسکراتے اور سامنے والی پگھل جاتی ، ٹھیک ہے تم اچھے خاصا ہینڈسم ہو لیکن مجھے حیرت ہے کہ ہینڈسم تو میں بھی ہوں پھر میری ایسی قسمت کیوں نہیں ہے ؟ تمییں وہ فوکسی یاد ہے ؟ ” گیٹ کی طرف دیکھتا عیسیٰ ہلکا سا مسکرایا
” فوکسی برائون ؟ کچھ زیادہ ہی پیچھے پڑگئ تھی وہ ، آئ سویر میں نے اسے صرف مذاق میں پرپوز کیا تھا ، وہ تو دل پر لے گئ ، “
” کتنے چکر لگائے تھے بیچاری نے تمہارے اپارٹمنٹ کے ، اگر اس کے آدھے چکر بھی میرے کمرے کے لگاتی تو آج ہم دونوں ساتھ ہوتے، گو مجھے شک تھا کہ شاید سیمسٹر کے اینڈ پر وہ مجھے پسند کرنے لگی تھی لیکن تمہارے دھوکے کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکی “
” کون سا دھوکہ ؟ میں نے صاف صاف کہا تھا کہ میں اسے چند دنوں کیلئے اپنی گرل فرینڈ بننے کی آفر کررہا ہوں، صرف اور صرف ولیم کی شرط کی وجہ سے ، اسے بھی یہ بات معلوم تھی ، ان دا اینڈ وہ سریس ہوگئ تو میرا کیا قصور ؟”
” اچھا ٹھیک ہے ، لیکن یہ بتائو اب کیا ؟ وہ سب محبتیں کدھر گئیں اب ؟ وقتی تھیں نا ؟ کیا معلوم یہ بھی وقتی ہو “
“وہ سب محبتیں نہیں تھیں ” وہ کچھ برا مان کر بولا “وہ سب پسندیدگیاں تھیں ، اور اب جو ہے وہ محبت سے بڑھ کر ہے “
” یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ ممکن ہے یہ بھی ویسی ہی پسندیدگی ہو اور کچھ عرصے بعد تمہیں اس بات کا احساس ہو “
وہ چند لمحے خاموشی سے گیٹ کو دیکھتا رہا ٫ زین کو لگا شاید وہ لاجواب ہوا تھا یا شاید اسے برا لگا تھا ٫ وہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی اسے عیسیٰ کی مدھم آواز سنائی دی ٫یوں جیسے وہ خود سے بول رہا ہو
” یہ پسندیدگی نہیں ہے زین ، یہ اب محبت بھی نہیں رہی ، میں نے فوکسی کا دل دکھایا تھا لیکن اس سے سوری تک نہیں کیا ، اور ایک ٹوٹی تسبیح کو جوڑنے کیلئے میں اسلام آباد کے سارے مالز گھوما ہوں ، میں نے کبھی کسی لڑکی کو منانے کیلئے اسے کال تک نہیں کی اور قرت کو ڈھونڈنے کیلئے دوسرے شہر کی انجان سڑک پر کھڑا ہوں ، مجھے زندگی میں کبھی کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہیں رہی ، لیکن اب اس کی روتی ہوئ آنکھیں اس کی ناراض نظریں میرے ذہن سے چپک گئیں ہیں ، یہ محبت ہے یا کوئ آسیب ؟” اس کے لہجے میں دنیا جہاں کی بے بسی آن سمائ
” یہ پاگل پن ہے عیسیٰ حیات ، مجھے تو خوف آرہا ہے اس کہانی کے اختتام سے ، تمہیں اتنا آگے نہیں جانا چاہئے تھا ، تمہیں اسے بھول جانا چاہئے تھا “
اس نے زین کی بات کا جواب نہیں دیا ، وہ یک ٹک سامنے دیکھ رہا تھا، سیاہ گیٹ کے پاس سے جہاں سے سیاہ برقعے میں ملبوس لڑکیاں نکل رہی تھیں، سینکڑوں لڑکیاں ، کئ آنکھیں ، لیکن عیسیٰ حیات کی نظریں صرف دو آنکھوں پر جم گئ تھیں ، وہ بھوری آنکھیں جو کسی کو تلاش کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھیں ، اس کے ساتھ کوئ اور لڑکی بھی تھی ، لیکن عیسیٰ صرف اسے دیکھے جارہا تھا ، اس کی سانس تھمی ، دھڑکن رواں ہوئ ، آنکھیں قصہ گو کی کتاب لگنے لگیں ، دل کسی صوفی کا رقص بن گیا ، وہ کسی طلسم کا شکار ہوا اور منجمد رہ گیا
تب ہی زین کی نظر اس پر پری تو وہ ٹھٹھکا
” عیسیٰ۔۔”
اس نے نہیں سنا ، زین نے اسے کہنی سے پکڑا تو وہ چونکا
” کیا ؟”
” وہی تو پوچھ رہا ہوں کیا ہوا ؟”
” قرت ۔۔”
اس کی نظریں دوبارہ اس کی طرف گئیں ،زین نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا ، سیاہ برقعے میں ملبوس دو لڑکیاں کسی رکشے میں بیٹھ رہی تھیں
” ان میں سے قرت کون سی ہیں ؟” اس نے سرگوشی کی ،عیسیٰ نے سنی لیکن وہ جواب نا دے سکا ، تیزرفتاری سے ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا اور گاڑی سٹارٹ کی ، زین ایک دم بوکھلایا اور فورا پیسنجر سیٹ کی طرف بڑھا
” یہ وہی ہیں ، یہ وہی ہیں “
وہ سامنے موجود رکشے کی طرف دیکھتا کہہ رہا تھا ، پیچھے کچھ سواریوں کے ساتھ قرت بیٹھی تھی ، نظریں ہاتھ میں موجود صفحوں پر تھیں ، وہ کار قدرے فاصلے پر رکھے ان کا پیچھا کئے گیا ، دل تھا کہ رک رہا تھا ، دل تھا کہ زور سے دھڑک رہا تھا، وہ لوگ بمشکل دس منٹ چلے ہوں گے جب کسی ٹریک پر سگنل سرخ ہوا ، شاید سامنے سے ریل گاڑی کو گزرنا تھا ، ان کی کار رکشے سے پیچھے تھی ، لمحوں کا کھیل تھا ، چند بائیکس آگے آئیں، کسی کی کار آگے بڑھی اور اس نے وہ رکشہ کھودیا ، سگنل سرخ ہونے سے قبل رکشہ آگے بڑھ گیا، عیسی نے جانے دیکھا تھا یا نہیں لیکن اس نے کار چلادی ، پولیس کے آفسر فورا آگے بڑھے ، وہ چلاتے ہوئے اسے کار روکنے کا کہہ رہے تھے لیکن وہ نہیں سن رہا تھا
” عیسیٰ گاڑی روک ۔۔۔”
زین گڑبڑایا
” نہیں ، میں دوبارہ سے اسے نہیں کھوسکتا “
پولیس کی گاڑی ان کے پیچھے تھی
” Eesa i said stop the car “
زین چلایا
اس نے گاڑی کی رفتار خطرناک حد تک بڑھادی تھی
” and i said i will not stop the car”
وہ اس سے زیادہ اونچا چلایا تھا
گاڑی کی رفتار تیز رکھے وہ بنا پولیس کا ہارن سنے بنا زین کا احتجاج سنے سامنے دیکھ رہا تھا ، ایک دوبار ان کی کار کسی گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی لیکن اس نے رفتار آہستہ نہیں کی
” تم پاگل ہو عیسیٰ ” زین اب کے جتنا اونچا چلا سکتا تھا چلایا ، عیسیٰ نے سنا تک نہیں
پولیس موبائل کی رفتار تیز تھی یا اس کی کم ہوئ ، لیکن وہ موبائل فورا سے اس کے آگے آئ تھی ، اسے بریک لگانی پڑی
” لعنت ہو ۔۔”
وہ پولیس والوں کو دیکھتا غصے سے غرایا
” تم پر بھی اور مجھ پر بھی ، جس نے تمہیں ایڈریس دینے کی غلطی کی ۔۔”
زین سیخ پا ہوا، اس کا سانس اتھل پتھل ہورہا تھا ، پولیس کے آفیسر آگے بڑھے ٫دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے عیسیٰ کو گریبان سے پکڑ کر نکالا
” زیادہ جوش چڑھا ہے تم لوگوں پر ؟” وہ اسے جھنجھورتے کر دھاڑتے ہوئے پوچھ رہا تھا ، عیسیٰ نے اپنا کالر چھڑوایا
” چھوڑو مجھے ۔۔” وہ بپھرا ، زین فورا آگے بڑھا اور عیسیٰ کو پکڑا
” سوری سر ، غلطی ہوگئ “
” غلطی نہیں جرم کہو ، جس سپیڈ سے یہ لڑکا گاڑی چلا رہا تھا کسی کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا پھر ؟ پولیس اسٹیشن چلو ، وہیں دیکھتا ہوں تمہیں ۔۔” زین کا دماغ سنسنا اٹھا ، جبکہ عیسیٰ مزید سیخ پا ہوا
” کس لئے ہولیس اسٹیشن چلیں ؟ ہاں ؟، تم لوگ مجھے ہاتھ لگا کر دکھائو اور میں بتائوں گا میں ہوں کون “
وہ جیسے شدید طیش میں آگے بڑھا ، زین فورا اسے قابو نا کرتا تو شاید وہ پولیس والوں سے گتھم گتھا ہوجاتا
“خاموش عیسیٰ ۔۔مجھے بات کرنے دو ” وہ اسے سختی سے کہتے پولیس آفیسر کی طرف متوجہ ہوا
” سر ، بات سنیں ، آئ ایم سوری ، آپ پلیز یہیں بات ختم کرلیں ۔۔”
” یہاں نہیں بلکہ اب پولیس اسٹیشن بات ہوگی ، لے کر چلو انہیں ” آفیسر کے چہرے پر طیش تھا ، اسے عیسیٰ کی تنک مزاجی نے مزید غصہ دلایا تھا
” ایک منٹ صرف ایک منٹ ، مجھے ایک کال کرنے دیں ” اس کی آواز میں دنیا جہاں کی التجا سمٹ آئ ، پولیس والا چند لمحے انہیں دیکھتا رہا پھر گہری سانس لی
” صرف ایک منٹ ہے تمہارے پاس “
وہ شاید ان کی گاڑی اور ان کے حلیے سے سمجھ گیا تھا کہ وہ دونوں کسی امیر گھرانے سے ہیں
” بہت شکریہ سر !”
زین پلٹا ،اس کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا ، عیسیٰ کی طرف مڑا جو پولیس والوں کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا
” ، انکل کو کال کرو جلدی “
” میں نہیں کروں گا “
وہ غرایا
” مرو پھر یہاں پہ ۔۔” زین چلایا اور آگے بڑھ کر اسے کالر سے پکڑا ” یہ پکڑ کر لے گئے تو دو دن سے پہلے نہیں چھوڑیں گے ، تب بھی کسی نا کسی کو بلانا پڑے گا ، بہتری اسی میں ہے انکل کو کال کرو اور انہیں سچویشن بتائو “
عیسیٰ نے وہاں کھڑے کھڑے چند گہرے سانس لئے اور سر ہلایا ، زین نے اس کا کالر چھوڑ دیا ، اس نے لمبی سانس لیتے موبائل نکالا اور آن کیا ، شہوار کی کئ مس کالز اور میسجز کو نظرنداز کرتے حیات کا نمبر ملایا
تیسری بیل پر کال اٹھا لی گئ
” یاد آگئ باپ کی ، خیریت سے کال ۔۔۔”
عیسیٰ نے ان کی بات کاٹی
” لسن ٹو می ڈیڈ ، ہم یہاں پر ایک مسئلے میں پھنس گئے ہیں ، کچھ پولیس والوں نے ہمیں روک رکھا ہے اور گرفتار کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں “
” واٹ ۔۔” فون اسپیکر پہ حیات کی بے یقینی بھری آواز گونجی ” کہاں ہو تم ؟ کون سے شہر میں؟”
” ملتان ۔۔”
” وہاں کیا کررہے ہو ؟”
” ابھی ٹائم نہیں ہے بتانے کا ، کچھ کریں پلیز “
وہ جھجھلایا
” مصیبت کے وقت باپ یاد آجاتا ہے٫ بات کروائو میری آفیسر سے ۔۔” اس نے موبائل سامنے کھڑے آفیسر کی طرف بڑھادیا ، وہ چند منٹ ان کی بات سنتا رہا کچھ کہتا رہا ، پھر کال کٹ ہوئ پانچ منٹ بعد کوئ اور کال آگئ ، افسر بس یس سر ٫جی سر٫ نو سر کی گردان گاتا رہا اور وہ دونوں خاموشی سے دیکھتے رہے ، کچھ دیر بعد اس نے موبائل عیسیٰ کی طرف بڑھادیا
” جائیں آپ دونوں، اور آئندہ دھیان رکھئے گا ، “
عیسیٰ بیزاری سے سر جھٹکتے گاڑی میں بیٹھ گیا اور زین ان کی بات پر انہیں یقین دہانی کروانے لگا کہ اب وہ محتاط رہیں گے ، چند منٹ بعد وہ گاڑی میں واپس بیٹھا تو عیسیٰ نے گاڑی دوبارہ چلا دی ،
“تمہاری وجہ سے آج یا تو ہم دونوں مر جاتے یا جیل جاتے، کدھر جارہے ہو اب ؟” وہ جو اس پر غصہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا گاڑی کسی دوسری سمت جاتے دیکھ ٹھٹکا
” ان کا رکشہ اسی طرف گیا تھا “
” یا خدایا ، تمہیں اب بھی اسے ڈھونڈنا ہے ؟” اسے جیسے عیسیٰ کی دماغی حالت پر شک ہوا تھا
” زین فیاض ، میرا دماغ پہلے ہی گھوما ہوا ہے ٫بخدا تم کچھ اور بولو اور میں تمہیں یہیں اتار دوں گا ،” زین اس کے طیش بھرے انداز پر چپ کرکے رہ گیا ، اس سے بحث فضول تھی ، سڑک مرکزی تھی اور آگے سے قدرے دیہی علاقہ شروع ہورہا تھا ، اس نے گاڑی مرکزی سڑک کے اختتام پر روک دی ، دروازہ کھول کر باہر نکلا اور اس کچی پکی سڑک کو دیکھا پھر سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا ٫چہرے پر اذیت ٫دکھ اور مایوسی چھا گئ
” میں نے اسے پھر سے کھودیا زین “
اس کی آواز کا دکھ زین کا دل اداس کرگیا
” واپس چلتے ہیں یار ، کل دوبارہ ان کے مدرسے چلیں گے “
عیسیٰ نے نفی میں سر ہلایا
” ہم واپس جارہے ہیں “
” اسلام آباد ؟ “
” نہیں ، اپنا سامان لینے ہوٹل ، اس سے آگے ان کا رکشہ گیا تھا ، میں اب یہیں سے انہیں ڈھونڈوں گا ” اس کا لہجہ اٹل تھا ، پھر رک کر زین کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ” تم اگر چاہو تو واپس جاسکتے ہو ، اب تک میرے ساتھ رہے اس کیلئے بہت شکریہ “
” لگتا ہے دماغ خراب ہوگیا ہے دکھ سے تمہارا ، واپس چلو ، مجھے سامان لینے میں ٹائم لگ جائے گا ” وہ گہری سانس لیتے آگے بڑھنے لگا ، عیسیٰ ہلکا سا مسکرایا
” زین۔۔۔۔۔”
” اب کیا ہے ؟”
عیسیٰ چند قدم آگے بڑھا اور اسے گلے لگالیا٫ پل بھر کو زین سن رہ گیا
” بہت شکریہ ۔۔” وہ اسے گلے سے لگائے کہہ رہا تھا، زین نے گہری سانس لیتے اسے الگ کیا
” تمہارا دماغ واقعی خراب ہوگیا ہے ” وہ سر ہلاکر کہتے گاڑی کی طرف بڑھا اور ڈرائیونگ سنبھالی
” بیٹھ بھی جائو اب ” وہ عیسیٰ کو وہیں کھڑے دیکھ کر بولا
” گاڑی میں چلا رہا تھا “
” چلا رہے تھے، اب نہیں چلائو گے ، میں اپنی زندگی پر کوئ رسک نہیں لے سکتا ” سینے پہ بازو باندھے عیسیٰ نے ابرو اچکائے
” سریسلی؟”
زین خاموشی سے اسے دیکھے گیا تو وہ سر جھٹکتے دوسری طرف آکر بیٹھ گیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” اگر تمہارے منہ سے جھوٹ نکلا تو اگلی صبح میں خود تمہیں پولیس کے حوالے کروں گا “
زین نے تھوک نگل کر حیات کی بات سنی اور دروازے کو دیکھا ، عیسیٰ نیچے جاچکا تھا اور وہ ابھی سامان پیک کررہا تھا ، یہ اگلا دن تھا ، واپسی پر ان دونوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایک دن مزید مدرسے کے باہر قرت کا انتظار کریں گے اگر وہ نا ملی تو وہ اسی علاقے سے اس کی تلاش کا آغاذ کریں گے ، سو اب وہ سامان پیک کررہے تھے ، یہاں سے مدرسے پھر آگے جانا تھا
” انکل ، یقین کریں یہ آپ کی اولاد کے کارنامے ہیں گاڑی وہی ڈرائیو کررہا تھا “
” مجھے صرف یہ بتائو ملتان کیا کرنے گئے ہو تم دونوں ؟” وہ گڑبڑایا ، اب کیا انہیں سب بتادے ؟
” آپ آنٹی سے پوچھ لیں ، وہ جانتی ہوں گی “
” وہ نہیں جانتی ” اس نے چند لمحے سوچا اور پھر فیصلہ کرلیا
” آپ آنٹی سے بات کرواسکتے ہیں میری ؟”
” ایسی کیا بات ہے جو مجھ سے نہیں ہوسکتی ؟”
” آنٹی آدھی بات جانتی ہیں ، میں پوری بات انہیں بتادیتا ہوں ، آپ ان سے پوچھ لیجئے گا “
حیات نے گہری سانس لیتے موبائل شہوار کی طرف بڑھادیا جو ان کے ساتھ ہی بیٹھی تھیں
” ہیلو ۔۔”
” وہ لڑکی ملتان میں رہتی ہے آنٹی “
” ملتان ؟”
شہوار کو شدید حیرت نے آن گھیرا
” جی ، ہم دونوں اسی لئے یہاں پر ہیں”
” کیسے۔۔۔۔کیسے ڈھونڈا اسے ؟”
وہ دم بخود رہ گئیں ، جس کا وہ نام تک نہیں جانتا تھا اس کا شہر تک ڈھونڈلیا تھا اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ یہ عیسیٰ کا محض چند دن کا ایڈونچر ہوگا
“عیسیٰ کو قرت العین کے مدرسے کا کارڈ یاد تھا ، ہم نے اسلام آباد کا ہر مدرسہ دیکھا لیکن یہاں کسی مدرسے کا ایسا کارڈ نہیں تھا ، انہی دنوں مجھے اسلام آباد میں ہونے والے ایک مقابلے کا پتا چلا ۔۔۔۔۔” وہ انہیں سب بتاتا گیا ، اب تک جو کچھ ہوا تھا ہر شے ، اور جب وہ خاموش ہوا تو شہوار جیسے کسی ٹرانس سے باہر نکلیں
” اوہ عیسیٰ “
” آپ چاہیں تو انکل کو بتادیں ، میں نے اپنی ذمہ داری پوری کردی “
اس نے خدا حافظ کہہ کر کال کاٹ دی ، عیسیٰ نیچے اس کا انتظار کررہا تھا
کال کٹ ہونے پر شہوار نے موبائل کان سے ہٹا کر حیات کو دیکھا
” جھوٹ مت بولنا شہوار “
” آپ سچ پر یقین کرلیں گے ؟”
” یہ سچ پر منحصر ہے “
” ہمارے بیٹے کو محبت ہوگئ ہے حیات”
” اور اب تم کہو گی کہ یہ اسی محبت کا چکر ہے جو وہ یوں ملتان چلا گیا ہے “
” اگر میں کہوں ایسا ہی ہے “
” تو میں کہوں گا کہ مجھے یقین نہیں ہے “
” مجھے بھی نہیں تھا لیکن اب آگیا ہے “
اور پھر انہوں نے حیات کو سب بتادیا جو جو وہ جانتی تھیں
” یہ کیا کہانی سنارہی ہو شہوار ؟”
انہیں اکتاہٹ ہوئ ، عجیب افسانوی داستاں !
” یہ وہ سچ ہے جس پر آپ یقین نہیں کرنا چاہتے “
” تم کہہ رہی ہو کہ عیسیٰ کو کسی لڑکی سے ایک ملاقات کے بعد محبت ہوگئ حالانکہ اس نے اسے دیکھا تک نہیں تھا اور اب وہ اسی لڑکی کی وجہ سے ملتان میں ہے ” ان کی آواز میں تمسخر امڈ آیا
” بالکل۔۔۔۔”
” اور پھر تم مجھ سے اس افسانوی داستان پر یقین کرنے کا کہہ رہی ہو ؟ ناسینس ” انہوں نے سر جھٹکا
” عیسیٰ کا ملتان جانا کیا اس پر یقین کرنے کیلئے کافی نہیں ہے ؟” وہ لمحے بھر کو خاموش ہوگئے
” اوکے ٹھیک ہے ، میں کرلیتا ہوں یقین ، لیکن اب کیا ؟ اس لڑکی کو ڈھوندنے کے بعد کیا ؟ “
” وہ اس سے شادی کرنا چاہے گا “
” اور یہ اتنا آسان ہے ؟ کسی گائوں دیہات کی مدرسے میں پڑھنے والی لڑکی کو ہم اپنے اکلوتے بیٹے کیلئے قبول کرلیں ؟”
” اگر عیسیٰ کی خوشی اسی میں ہے تو اس میں کوئ حرج نہیں ” وہ پرسکون تھیں
” اس کی خوشی کے علاوہ سٹیٹس نام کی بھی کوئ چیز ہے ، ایسے کیسے ہم اس کی بات مان لیں گے “
وہ جھنجھلا گئے ، شہوار موبائل ٹیبل پر رکھتی اٹھیں
” چند دن پہلے وہ میری گود میں سر رکھے مجھے بتارہا تھا کہ اس کی ملاقات اس لڑکی سے کیسے ہوئ ، میں نے زندگی میں پہلی بار اس کی آنکھوں میں بیک وقت خوشی ، اداسی ، مایوسی اور امید دیکھی تھی ، وہ پہلی بار مجھے ایک ماں کے حق سے اپنے دل کا حال بتارہا تھا ، میں اس کی خوشی کیلئے ہر شے قبول کرلوں گی ، وہ زندگی میں پہلی بار آپ کو باپ کا حق دے کر آپ سے کچھ مانگے گا تو اس کی خوشی دیکھئے گا ، ہم نے اس کے بچپن میں جو غلطیاں کیں وہ اب مت دہرائیے گا ، میرے اندر اپنے بیٹے کو دوبارہ کھونے کا حوصلہ نہیں ہے “
وہ دکھ سے کہتے وہاں سے چلی گئیں اور حیات ساکت بیٹھے رہ گئے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گیٹ کے باہر کھڑا عیسیٰ بے چین تھا ٫مضطرب تھا ، پریشان تھا ، غرض ہر وہ لفظ جو اس وقت کسی منفی جذبے کا ہوسکتا تھا وہ اس پر صادق آرہا تھا ، آخری چند لڑکیاں گیٹ سے باہر نکلیں اور اس کی امید دم توڑ گئ
” چلو ۔۔۔۔” زین کو اشارہ کرتا وہ ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھ گیا
” تمہاری قرت کچھ زیادہ ہی چھٹیاں نہیں کرتی ۔۔”
” مدارس میں امتحانات کا سیزن چل رہا ہے ، ایسے موقعے پر چھٹیاں ہی دے دی جاتی ہیں ” وہ گاڑی کا موڑ کاٹ رہا تھا
” اب ؟”
” اب وہیں اسی علاقے سے شروعات کریں گے ، تم چاہو تو واپس جاسکتے ہو ” رک کر اسے دیکھا
” زیادہ بولو مت اور ڈرائیونگ پر دھیان دو ، موسم خراب ہورہا ہے اوپر سے سردیاں ہیں ، رات کہاں رکیں گے ؟”
عیسیٰ نے سر جھٹک کر توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کردی ، موسم صبح سے ہی خراب ہورہا تھا ، ہلکی ہلکی سی بارش موسم کی شدت میں مزید اضافہ کررہی تھی ، گو وہ ایسے موسم کے عادی تھے کہ اسلام آباد میں سردیاں ملتان سے زیادہ ہی سخت ہوتی تھیں لیکن اس وقت وہ دونوں کم ازکم کوئ ایسی جگہ ڈھونڈنا چاہتے تھے جہاں وہ رہ سکیں ، عصر کے قریب وہ اس علاقے میں پہنچے جہاں عیسیٰ کو قرت کے متعلق شک تھا کہ وہ وہیں کہیں کی رہنے والی ہوگی
اس سے پیچھے ایک مرکزی شاہراہ تھی جو آگے جاکر شہر سے مل جاتی تھی ، انہوں نے رکشہ اس سے پیچھے کھویا تھا ، سو ممکن تھا وہ اسی علاقے کی رہنی والی ہو کیونکہ شہر یہاں سے فاصلے پر تھا، کم از کم وہ رکشے پر ہر روز اس قدر فاصلہ طے کرکے اتنی دور مدرسے نہیں آتی ہوگی٫ جبکہ شہر میں کئ مدارس تھے
علاقہ نا مکمل دیہی تھا نا شہری ، مکانات پکے تھے اور راستے کچے ، کہیں درخت شروع ہوجاتے اور کہیں آبادی شروع ہوجاتی ، گو عصر کا وقت تھا لیکن موسم کی خرابی کے باعث مغرب کا گمان ہورہا تھا ، بارش تیز ہورہی تھی اور ان کی گاڑی بھی اب جواب دینے لگی تھی ، راستے میں کوئ پٹرول پمپ بھی نہیں ملا تھا جو وہ پیٹرول ڈلوالیتا ، جب بہت دیر تلاش کے بعد بھی انہیں رہنے کیلئے کوئ ہوٹل نا ملا تو وہ ایک چوک نما جگہ پہ رک گئے ، وہاں پٹرول پمپ کے نام پر کسی نے ایک پمپ لگا رکھا تھا ، گاڑی میں پٹرول ڈلواکر اس نے تھوڑا سا آگے جاکر کار روک دی جہاں چند لوگ بیٹھے نظر آرہے تھے
” میں پتا کرتا ہوں تم یہیں بیٹھو “
اس نے زین سے کہتے ہوئے چھاتا نکالا جو وہ راستے سے لے چکے تھے اور سامنے دکان پر بیٹھے لوگوں کی طرف بڑھنے لگا
وہاں چند دکانیں تھیں جن میں سے دو کے آگے چھجا سا بنا رکھا تھا٫ مقامی لوگوں کے علاوہ چند راہگیر بھی تھے جو یقینا بارش سے بچنے کیلئے وہاں پناہ لئے ہوئے تھے
” ایکسکیوزمی۔۔۔۔۔ “
باتوں میں محو بزرگ اور نوجوان خاموش ہوئے اور سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا جس نے بلیو جینز پر وائٹ شرٹ اور بلیک جیکٹ پہن رکھی تھی بارش سے بچنے کیلئے چھاتا بھی تان رکھا تھا
” جی ” بخش چاچا فورا آگے آئے کہ شاید ان کی دکان سے کچھ چاہئے تھا
” یہاں کوئ ہوٹل ہوگا ؟ “
“ہوٹل تو نہیں ہے جی یہاں “
” کوئ اور جگہ جہاں آج رات رک سکیں ” بارش کی بوچھاڑ کے باعث اسے ذرا اونچا بولنا پڑ رہا تھا
” نہیں جناب ، چھوٹا سا علاقہ ہے ٫یہاں آپ کو کوئ ایسی جگہ نہیں ملے گی ” اب کے مجمعے سے کسی اور کی آواز گونجی٫ عیسیٰ تھوڑا مایوس ہوا کہ بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور ایسے موسم میں وہ دونوں آگے نہیں جاسکتے تھے
” اوکے ۔۔۔۔”
وہ مزید کچھ پوچھنے کا ارادہ ترک کرتا پلٹنے لگا جب پیچھے سے کسی کی آواز آئ
” ایک جگہ ہے جہاں آپ رک سکتے ہیں “
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” مسجد ؟”
” جی۔۔۔۔۔۔مسجد “
” مسجد میں کیسے رہ سکتے ہیں ہم ؟”
” چھوٹا سا علاقہ ہے یہ ٫یہاں آپ کو کوئ ہوٹل یا کوئ اور جگہ نہیں ملے گی رکنے کیلئے سوائے مسجد کے ، میں امام صاحب سے بات کرکے آتا ہوں ” جابر نامی وہ شخص گویا خود ہی قیاس لگا گیا تھا کہ وہ دونوں یہیں رکیں گے
” عیسیٰ “
زین تھوڑا قریب کھسکا
” ہاں ؟؟”
” ہم یہاں رکیں گے ؟”
اس نے سامنے نظر آتے سفید گنبد کو دیکھا
” کوئ اور آپشن نہیں ہے “
” پھر بھی ۔۔”
” کیا پھر بھی؟، مسجد ہی ہے ،، صبح چلے جائیں گے ” وہ اب کے بے زار ہوا زین بڑبڑاتے ہوئے پیچھے ہوگیا
” یہاں تو کوئ سونے کا انتظام بھی نہیں ہوگا “
” دیکھتے ہیں ، ورنہ کہیں اور چلیں گے “
اسے جواب دے کر وہ سامنے دیکھنے لگا جہاں سے اس آدمی کے ساتھ سفید کپڑوں میں ملبوس کوئ بزرگ آرہے تھے ، وہ آدمی ان سے بات کرکے ان کی طرف آ گیا
” امام صاحب سے بات کرلی ہے میں نے ، آپ لوگ یہاں رک جائیں ، وہ ویسے بھی رات میں مسجد کو تالا نہیں لگاتے “
” بہت شکریہ آپ کا “
جابر سر ہلا کر چلا گیا تو وہ کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہے ٫جانے وہ سفید کپڑوں والے بزرگ کہاں گئے تھے
بارش کچھ ہلکی تھی لیکن آثار بتارہے تھے کہ کسی بھی وقت تیز بارش شروع ہوسکتی ہے ، بمشکل پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب وہ ان کی طرف آتے دکھائے دیئے
” معذرت خواہ ہوں تھوڑا سا وقت لگ گیا ، بجلی کی تاریں ننگی تھیں ، بارش کی وجہ سے کسی کو کرنٹ نا لگے اس لئے انہیں سمیٹ رہا تھا ، میرا نام نعمان اسماعیل ہے یہاں کا امام مسجد ہوں ” وہ وضاحت دیتے ہوئے گویا ہوئے تو ان دونوں نے سر ہلادیا
وہ پچاس کی عمر کے پروقار سے شخص تھے چہرے پر داڑھی اور سر پر ٹوپی تھی ٫تاثرات نرم تھے اور اتنی ہی نرم مسکراہٹ تھی
” میں عیسیٰ ہوں اور یہ زین “
وہ قدرے جھجکا کہ کسی مذہبی شخصیت سے یہ پہلی بار براہ راست گفتگو تھی
” اپنے والد کا حوالہ ساتھ دیا کریں برخوردار، والد آپ کی پہچان ہوا کرتے ہیں ، بہرحال آئے اندر چلتے ہیں ، موسم کے حالات خراب ہیں ” وہ ہلکا سا مسکراتے ہوئے ان سے آ گے چل پڑے اور عیسیٰ گہری سانس لیتا ان کے پیچھے ہولیا زین کچھ متذبذب تھا لیکن اسے بھی جانا پڑا
وہ مسجد کے صحن سے ہوتے ہوئے ایک کمرے میں لے کر آگئے ، کمرہ چھوٹا سا تھا لیکن صاف ستھرا تھا ، نیچے قالین بچھا ہوا تھا ، ایک بستر نما گدا بھی بچھا رکھا تھا ، بائیں طرف بڑا سا ریک تھا جس پر ڈھیروں کتابیں رکھی ہوئ تھیں
” آپ لوگ سامان یہاں رکھ دیں ، میں اپنے گھر سے دوسرا بستر منگوا لیتا ہوں ” انہوں نے بیگ نیچے رکھ دیئے
” آئ ایم سوری سر ، آپ کو زحمت ہوگی ہم لوگ صبح ہی چلے جائیں گے ” نعمان صاحب عیسیٰ کی بات پر مسکرائے
” معذرت کس بات کی ، آپ خدا کے گھر میں خدا کے مہمان ہیں ، مجھ پر آپ کی میزبانی فرض ہے اس میں زحمت کیسی ” وہ بہت نرم سا بولتے تھے ، الفاظ الگ الگ اور مختصر ہوتے
” ہیٹر نہیں ہے یہاں ؟” زین سردی کی شدت سے کپکا رہا تھا
” میں لکڑیاں لے کر آتا ہوں ٫آپ ان سے آگ جلا لیجئے گا “
” قاری صاحب۔۔۔۔ ” لبوں سے بے ساختہ نکلا اور انہوں نے پلٹ کر عیسیٰ کو دیکھا
” ایکچولی ہماری کار باہر کھڑی ہے ، کیا یہ علاقہ محفوظ ہے ؟”
” محفوظ رکھنے والا خدا ہے یہاں ، بے فکر رہیں خدا کے گھر میں آپ کی چیزوں کی حفاظت وہ خود کرلے گا ۔۔” وہ اسی نرم لہجے میں کہتے وہاں سے چلے گئے ،عیسیٰ سر جھٹک کر رہ گیا، وہ مذہبی لوگوں سے تھوڑا دور رہتا تھا ، عجیب سی بے چینی ہونے لگتی ، اگر کوئ اور ٹھکانا ہوتا تو وہ یہاں کبھی نا آتا لیکن اب مجبوری تھی ، نعمان صاحب کچھ دیر بعد واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں سوکھی لکڑیاں تھیں ، کمرے میں بستر کے ساتھ چھوٹا سا آتش دان بنایا گیا تھا انہوں نے لکڑیاں جلائیں ، پھر واپس چلے گئے ، کچھ دیر بعد مغرب کی آذان کی آواز آنے لگی ، وہ دونوں وہیں بیٹھے رہے ، نماز کے بعد نعمان صاحب واپس آئے
” میں گھر جارہا ہوں ، آپ دونوں کھانے کیلئے فکرمند مت ہوئیے گا ، میں گھر سے لیتا آؤں گا “
” اس کی ضرورت نہیں ہے ، ہم یہیں سے کچھ منگوالیں گے “
” آپ کی مرضی ہے لیکن میں اپنے گھر سے ضرور لے کر آؤں گا ” وہ مزید کچھ نا کہہ سکے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس نے دروازہ کھولا اور سامنے کھڑے ابا کو سلام کرکے ان کے ہاتھ سے شاپر لے لئے
” کھانے میں ذرا اہتمام کرلینا ٫دو مہمان ہیں آج مسجد میں ” اس نے سر ہلاتے ہوئے گلاس میں پانی ڈال کر ان کے سامنے کیا
” کون سے مہمان ؟” اماں روٹی اور سالن سامنے رکھ کر پوچھنے لگیں
” کوئ مسافر ہیں ، بارش کی وجہ سے آگے نہیں جاسکتے اس لئے مسجد میں رک گئے ، بستر بھی دے دیجئے گا ایک ٫ دوسرا ہے پڑا مسجد میں”
اماں سر ہلا کر قرت کو بستر نکالنے کا کہنے لگیں لیکن وہ جانے کی بجائے انگلیاں چٹخاتے وہیں کھڑی ہوگئ
” کچھ کہنا تھا ؟”
اسے وہیں کھڑے دیکھ وہ پوچھ بیٹھے
” جی ۔۔۔”
” کہو ۔۔۔”
اس نے چند لمحے کو سوچا ، ابا کو بتادے جواد نے آج راستہ روکا تھا ؟ کیا یہ صحیح ہوگا بتانا ؟ جھجھک تھی یا کوئ خوف اس نے نفی میں سر ہلایا
” کوئ خاص بات نہیں تھی ابا “
” تمہیں یقین ہے ؟”
” جی ۔۔۔”
نعمان صاحب نے مسکراتے ہوئے سر ہلادیا
” نئے کمبل نکال دینا ، جانے موسم کی صورتحال کیا ہوتی ہے “
” مسافر ہیں ؟”
” لگتے تو مسافر ہی ہیں ، بیگ اٹھا رکھے ہیں ، شاید آگے جائیں گے “
وہ سر ہلا کر چلی گئ ، اگر اگلی بار جواد نے کچھ کہا تو وہ ابا کو بتادے گی ، لیکن ابھی نہیں
اماں اسے پچھلے سال لئے گئے نئے کمبل نکالنے کا کہہ رہی تھیں ، وہ الماری کی طرف بڑھ گئ
جانے کون سے اجنبی مہمان تھے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” اللہ اکبر ، اللہ اکبر”
وہ گہری نیند میں تھا جب کانوں میں وہ آواز پڑی ، نیند سے بھری آنکھیں کھولیں تو ذہن کو چند لمحے لگے سمجھنے میں
وہ لوگ مسجد میں تھے اور یہ آواز اذان کی تھی ، اذان مکمل ہوگئ تو اس نے پھر سے سونے کی کوشش کی لیکن نیند نا آئ ، کمبل ہٹا کر اس نے کوٹ پہنا اور باہر کی طرف بڑھا ، سر میں شدید درد ہورہا تھا اور ہلکا ہلکا سا بخار بھی تھا ، وہ جس کمرے میں سوئے تھے وہ مسجد کے سامنے بنا ہوا تھا ، کمرے کے آگے تھوڑی سی پکی جگہ تھی پھر چھوٹا سا صحن ،صحن کی بائیں طرف باتھ رومز اور نل وغیرہ لگے ہوئے تھے ، دائیں طرف مسجد کا مرکزی دروازہ تھا اور سامنے وہ سفید اینٹوں والی عمارت ، عیسیٰ صحن کے سرے پر رک گیا ، ہاتھ پاکٹ میں ڈالے وہ کتنی ہی دیر سر اٹھائے اس عمارت کو دیکھے گیا
” آپ نے نماز پڑھنی ہے ؟” وہ چونکا اور مڑ کر نعمان صاحب کو دیکھا ، انہوں نے وضو کررکھا تھا
” نہیں ، میں بس یونہی ۔۔۔۔ “
” مسجد کے اندر چلے جائیں برخودار ، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے “
وہ سر ہلاتا کسی ٹرانس کی کیفیت میں ان کے ہمراہ اندر بڑھ گیا ، نعمان صاحب صفیں درست کرنے لگے تو وہ کونے میں بیٹھ گیا
” آپ لوگ نماز سے پہلے صفیں کیوں درست کرتے ہیں؟”
وہ صفیں درست کرچکے تو وہ بے اختیار پوچھ بیٹھا
“حدیث میں آتا ہے کہ صفیں درست رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرمادے گا ، ہم وہ جگہ کیوں درست نا کریں جہاں ہم سجدہ کرتے ہیں؟”
نرمی سے کہتے وہ ہیٹر کی طرف بڑھ گئے ، عیسیٰ بس خاموشی سے انہیں دیکھے گیا
تھوڑی دیر گزری اور چند نمازی مزید آنے لگے ، وہ بازؤں دونوں گھٹنوں پر رکھے خاموشی سے ان چند لوگوں کو دیکھے گیا ، سردی سے کپکپاتے وجود قیامت کے دن کسی ڈر کی کپکپاہٹ کے خوف سے وہاں کھڑے تھے ، وہ ان کپکپاتے وجوددوں کو دیکھے گیا ، اس نے سفید شرٹ پر سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی ، پائوں میں جرابیں ، کل راستے میں اس نے اور زین نے کوٹ خریدے تھے٫ وہ گلوز بھی لے کر آئے تھے٫ ان سب کے بعد اس کی طبیعت بے چین نا ہوتی تو وہ کبھی گرم بستر چھوڑ کر یوں باہر نا آتا ، آگیا تھا تو وضو کرنے کی ہمت نہیں تھی ، پھر یہ کون چند لوگ تھے جو سردی سے بے نیاز یوں سر جھکائے کھڑے تھے ؟ صبح صبح نیند کی قربانی دے کر وہاں آنے والی قلیل سی جماعت ، اس کا سر مزید درد کرتا گیا ، طبیعت مزید عجیب ہوگئ تو وہ آہستہ سے اٹھتا وہاں سے چلا گیا ٫ کمرے میں آیا تو زین سو رہا تھا ٫ وہ بھی بستر میں گھس گیا ٫ کچھ سر کا درد تھا اور کچھ بخار کہ اسے چند لمحوں بعد ہی نیند آگئ
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
دوبارہ اس کی آنکھ کھلی تو اس نے زین کو اپنے پاس بیٹھے دیکھا ، سر درد سے پھٹنے کو تھا
” عیسیٰ۔۔۔۔”
” ہوووں “
” طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟”
” ٹھیک ہوں ۔۔”
” لگ تو نہیں رہے ۔۔”
وہ زین کی بات سنتے دوبارہ سو گیا ، آنکھیں کھولنے کی کوشش بھی کی لیکن نہیں کھول سکا ، تیسری بار آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں اکیلا تھا ، قدرے ہمت کرتے وہ اٹھ بیٹھا ، شدید نقاہت ہورہی تھی ، اس نے سر اردگرد گھمایا تو کمرہ بکھرہ بکھرہ سا ہورہا تھا ، وہ اٹھنا چاہتا تھا لیکن ہمت نہیں ہورہی تھی ، تبھی زین اندر داخل ہوا
” شکر تمہیں ہوش تو آیا ” وہ تکیے پر نیم دراز ہوگیا ٫ زین ابھی بھی بول رہا تھا ” 102 پر بخار تھا ، ڈاکٹر آیا تھا ابھی ، چیک اپ کرکے گیا ہے ، یہ کچھ پھل کھالو پھر دوبارہ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں “
” ٹھیک ہوں میں، ہم نے آگے جانا تھا ” آواز میں شدید کمزوری تھی
” بولا تم سے جا نہیں رہا ، آگے جانا ہے موصوف کو ، دیکھ بھائ زندہ رہے تو ڈھونڈ لیں گے قرت کو ، فلحال آرام کرو کہیں نہیں جارہے ہم “
” میری ماں مت بنو”
” بیٹا تمہاری مام کو بھی میں نے ہی سنبھال رکھا ہے ، پانچ بار کال کرچکی ہیں مجھے آنٹی ” وہ سیب کے ٹکڑے کاٹ کر اسے دینے لگا ” اب کھالو گے یا میں اپے ہاتھوں سے کھلاؤں ؟” عیسیٰ نے بڑبڑاتے ہوئے اس کے ہاتھ سے سیب لے لیا
” السلام علیکم ، طبیعت کیسی ہے آپ کی ؟ “
وہ دروازے پر قاری صاحب کو دیکھتا سیدھا ہوا ، جانے کل کیا نام بتایا تھا انہوں نے
” وعلیکم السلام ، ٹھیک ہوں اب “
” میں قادر صاحب کو لایا تھا وہ آپ کا چیک اپ کرلیں گے “
عیسیٰ کی نظر ان کے ساتھ کھڑے ڈاکٹر پر پڑی ، وہ آگے بڑھے اس کا بخار چیک کیا ، دو تین گولیاں زین کو دیں اور انجیکشن نکال لیا
” میں انجیکشن نہیں لگوایا کرتا “
وہ بے ساختہ بولا ، وہ بچپن سے اب تک اپنا بخار یوں ہی برداشت کرلیتا تھا لیکن کبھی انجیکشن نہیں لگوایا تھا
” اس سے طبیعت بہتر ہوجائے گی آپ کی ” ڈاکٹر سپاٹ انداز میں بولتا اس کی شرٹ کا بازوں اوپر کرنے لگا ، عیسیٰ احتجاج کرنا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے ہی انہوں نے انجیکشن لگادیا ، وہ بہت سی گالیاں ضبط کرکے رہ گیا اگر قاری صاحب نا کھڑے ہوتے تو وہ دے بھی ڈالتا
” آپ آرام کرلیں ، جب طبیعت بہتر ہو گی تب چلے جائیے گا “
اس نے بس سر ہلادیا ، ڈاکٹر چل گیا تو وہ باوجود کوشش کے جاگ نا سکا ، شاید انجیکشن کا اثر تھا کہ وہ پھر سے سو گیا ، نیند میں مخلتف باتیں ذہن میں چلتی رہیں ، قرت کی تسبیح ، ڈاکٹر کا انجیکشن ، (اس کی فیس جانے کس نے دی ہوگی ،) شہوار کی کالز ، زین کے لائے گے پھل ، ( پتا نہیں دھوئے بھی تھے یا نہیں ) اور نماز کیلئے کھڑے ہوتے سفید مجسمے ، ذہن تاریکی اور روشنی کے بیچ بھٹکنے لگا ، کیفیت عجیب متلی سی ہونے لگی ، سوتی جاگتی کیفیت میں اس نے اگلے کئ مناظر دیکھے ، اس کے گال تھپتاتا زین ، نقاہت زدہ جسم کے ساتھ قے کرتا وہ ، اس پر کمبل درست کرتے قاری صاحب ، کھلتا دروازہ ، اندر آتی تیز روشنی ،بند دروازہ ٫ رات کا اندھیرا ، سفید مجسمے ، سفید تسبیح ، سیاہ برقع ، تاریکی ۔۔۔۔روشنی ۔۔۔۔گہری تاریکی ۔۔۔۔اور سب اندھیر ہوگیا
