Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 38)

Nahal By Fatima Noor 

عیسیٰ کے سارے دوست مری میں اکٹھے ہورہے تھے ، گو پروگرام چند دن پہلے کا تھا لیکن کسی وجہ سے ملتوی ہوگیا ، وہ قرت کو اسلام آباد میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا ،کم از کم اب نہیں جبکہ شہوار اور حیات بھی شہر سے باہر تھے اور جواد فلوقت اسلام آباد میں ہی تھا ، اس نے کہا بھی کہ وہ رک جائے گی اکیلی ،صرف ایک رات کی ہی بات تھی لیکن عیسیٰ نہیں مانا

” میں کوئ رسک نہیں لے سکتا ،کم از کم اب نہیں ،یا تو آپ میرے ساتھ چل رہی ہیں یا میں بھی نہیں جارہا “

” میں وہاں کیا کروں گی ؟”

” وہی جو باقی سب کریں گے ، نازش بھابھی بھی ہوں گی ،میرے دوسرے دوستوں کی وائف بھی ہوں گی ، آپ بور نہیں ہوں گی یقیناً “

اسے بات منوانی آتی تھی اور وہ اس کی آج کل ہر بات مان لیتی تھی ، سو اب بھی مان گئ

وہ لوگ جب تک پی سی پہنے تقریبا سبھی آ چکے تھے ، مری میں موسم سرد تھا اس لئے اس نے عبایا کے اوپر سیاہ شال لے رکھی تھی ، عیسیٰ نے سیاہ جینز پر سرمئ ہائ نیک اور جیکٹ پہنی ہوئ تھی، مری میں گذشتہ روز برفباری ہوئ تھی اس لئے موسم سرد تھا

وہ آتے ساتھ ہی دوستوں کے ساتھ مصروف ہوگیا جبکہ وہ عمار بھائ کی بیوی نازش کے ساتھ ان کی دوستوں کی طرف بڑھ گئ ، عجیب بے چینی سی تھی جو ہر طرف پھیلی تھی یا شاید وہ خود ہی بے چین تھی

وہاں ہر طرح کی خواتین تھیں ، سٹائلش طرح دار ، تیز تیز بولنے والی اور پراعتماد ، ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی لباس پہنے ہوئے ، اس سردی میں بھی کسی نے سلیولیس ساڑھی تو کسی نے ٹخنوں سے اوپر تک کی میکسی پہن رکھی تھی ، ایک وہی تھی جو برقع ایونجر بنی ہوئ تھی ، نازش بھابھی اپنی دوستوں کے ساتھ مصروف ہوگئیں تو وہ ذرا سائیڈ پر ہوگئ

بار بار اداسی طاری ہورہی تھی ، یوں جیسے کسی دوسروں کی دوستوں بھری محفل میں جانے کے بعد انسان اپنے دوستوں کو یاد کرتا ہے تو وہ بھی کررہی تھی ، حریم وہ اور ماریہ کیسے سبز گھاس پر بیٹھ کر ڈھیروں باتیں کرتے ، بزمِ ادب کی تیاریاں ، ایک دوسرے کو چٹکلے سنائے جاتے ، کینٹین میں جاکر عربی میں سموسے منگوانا ، انسان زندگی کا بہترین وقت دوستوں کے ساتھ گزارتا ہے ، وہاں کھڑے کھڑے اسے شدت سے وہ سب پرانے دن یاد آنے لگے ، آنکھیں بھرنے لگیں تو وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھی ، باہر موسم سرد تھا ، لیکن اندر کی گھٹن سے بہتر تھا ، بینچ پر بیٹھ کر وہ یکدم رو دی ، دوست بچھڑے تھے تو اذیت اب تک تازہ تھی ، درد اب تک باقی تھا ، کاش وہ سب نا ہوتا اور اب وہ ماریہ اور حریم کے ساتھ ہوتی ، کاش پرانا وقت لوٹ آئے ،جانے کتنی دیر گزری تھی جب اسے اپنے پاس سے قدموں کی آہٹ سنائ دی ، اس نے سر اٹھا کر دیکھا ،عیسیٰ ہاتھ مسلتا اس کی طرف آرہا تھا ، تیزی سے آنسو صاف کئے

” یہاں کیوں آگئیں ؟”

اس کے ساتھ رکتے پوچھا

” ویسے ہی ۔۔۔”

اس نے نظریں چرائیں

” ویسے ہی مطلب؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟ “

وہ اس کے ساتھ بیٹھتا پوچھنے لگا

” نہیں ۔۔۔”

” پھر ۔۔؟”

” پھر کیا ؟”

” کچھ ہوا ہے ؟”

” کچھ نہیں ہوا عیسیٰ “

وہ چڑ گئ ، عیسیٰ خاموش ہوا ، نظر اس پر گئ ، برقعے کے اوپر صرف شال لے رکھی تھی

” واپس چلیں ؟”

” آپ جائیں میں آتی ہوں تھوڑی دیر تک “

” میں گھر جانے کا پوچھ رہا ہوں “

وہ جو نظریں چراتی اردگرد دیکھ رہی تھی ٹھہر گئ ، چہرہ عیسیٰ کی طرف موڑا

” گھر کیوں ؟”

” آپ یہاں ان کمفرٹیبل فیل کررہی ہیں اس لئے “

اس کے چہرے پر سوائے فکر کے کچھ نہیں تھا ، قرت کے گلے میں کچھ اٹکا

” میں ٹھیک ہوں “

” آپ اداس ہیں قرت “

” اس وجہ سے نہیں ہوں کہ ہم یہاں ہیں “

” پھر کیوں ہیں ؟” وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی ، ہونٹوں کا کنارہ کاٹا

” مجھے اپنی دوستیں یاد آرہی تھیں ، دوست کیوں بچھڑ جاتے ہیں عیسیٰ ؟ ” قدرے دکھ سے قدرے بے بسی سے اس سے پوچھا ، حریم چند دن پہلے ہی گئ تھی ، اس کا آنا جتنا خوش کرگیا تھا جانا اتنا ہی اداس

” بچھڑتے کہاں ہیں ؟”

” مجھ سے تو بچھڑ گئ ایک دوست “

وہ جس دوست کا کہہ رہی تھی وہ شاید اس کی وجہ سے بچھڑی تھی ، عیسیٰ کے اندر اذیت ابھری

” وہ دوبارہ مل جائے شاید “

تسلی دینی چاہی،اس کا سر نفی میں ہلا

” بچھڑ چکے دوست مل جاتے ہیں بچھڑ چکی دوستی واپس نہیں ملتی ، پرانے دوستوں کے ساتھ کچھ پرانے جیسا نہیں رہتا “

اگلے کتنے ہی پل وہ خاموشی سے اسے دیکھے گیا پھر وہ جھٹکے سے اٹھا

” ہم واپس جارہے ہیں “

ہاتھ اس کی طرف بڑھایا، قرت سر اٹھا کر اسے دیکھے گئ ، دل میں افسوس ہوا ، اس نے عیسیٰ کی شام برباد کردی تھی ، سر نفی میں ہلاتے وہ اٹھی اور اس کا ہاتھ تھاما

” کل جائیں گے “

” آپ اداس ہیں “

” آپ خوش ہیں “

” اب نہیں ہوں “

” میں بھی نہیں ہوں “

” قرت ۔۔۔”

بے بسی سے اسے پکارا ، اس کا اداس ہونا رنگین شام کو بھی اداس کردیتا تھا

” جی عیسیٰ “

لہجے میں زبردستی بشاشت بھری

” یوں مت ظاہر کریں جیسے آپ ٹھیک ہیں “

وہ خفا ہوا

” اور یوں مت کریں کہ آپ کے دوست آپ کو بیوی کا غلام کہیں ” وہ ہلکا سا ہنسا

” کچھ قابل اعتراض بھی نہیں”

وہ بس مسکرائ ، اپنے دل کی اداسی کی وجہ سے وہ عیسیٰ کا دن برباد نہیں کرسکتی تھی

” چلیں ۔۔؟” اس کا ہاتھ چھوڑتے پوچھا تو وہ سر ہلاگیا

” ایک منٹ رکیں “

وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنی لگی ، عیسیٰ اپنی جیکٹ اتار رہا تھا ، اتار کر اس کی طرف بڑھا اور اس کے کاندھے پر رکھی ، پھر جھک کر اس کا حیران چہرہ دیکھا

” میں نے دو چار ناول نہیں پڑھ رکھے لیکن دو چار موویز دیکھی ہوئ ہیں “

اور وہ پورے دل سے ہنس دی ، عیسیٰ پیچھے کو ہوکر مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا

” اس دن پھر کیوں جیکٹ نہیں دی تھی ؟ “

” کیونکہ اس دن آپ کو تنگ کرنا چاہتا تھا “

مسکرا کر سر جھٹکا

” اوہ اللہ ، عیسیٰ “

وہ حیران تھی وہ خوش تھی اور وہ ہنس رہی تھی ، دل کی اداسی لمحوں میں زائل ہوئ

” مجھے ویسے اتنی بھی سردی نہیں لگ رہی تھی ” اس کی جیکٹ کاندھوں پر درست کی

” اندر جاکر واپس کردیجئے گا پھر “

وہ ایک بار پھر ہنس دی

” یہ اب میری ہے “

” اور یہ جس کی ہے وہ بھی آپ کا ہے “

اس کے ہنستے چہرے پر سرخی دوڑی

” اندر چلیں ؟”

” ضرور ۔۔۔”

اس کا ہاتھ تھاما اور اندر کی طرف بڑھا ، قرت نے ہاتھ نہیں جھٹکا ، نا اندر جاکر اس کی جیکٹ واپس کی ، تحفظ کا کوئ احساس سا تھا جو اسے ہورہا تھا ، باہر جاتے ہوئے جو موڈ خراب تھا اندر جاکر ہشاش ہوگیا

” کہاں چلی گئ تھیں ؟” نازش بھابھی اسے واپس آتا دیکھ پوچھنے لگیں

” باہر گئ تھی ۔۔۔” مسکرا کر کہا اور تبھی نظر صوفیہ پر گئ ، مسکراہٹ سمٹی ، جیکٹ مزید درست کی

” کیسی ہو قرت ؟” کیونکہ وہ سب کے سامنے پوچھ رہی تھی تو نظر انداز کرنا مناسب نہیں تھا

” ٹھیک ہوں صوفیہ ۔۔آپ کیسی ہیں ؟”

” بالکل ٹھیک ۔۔” وہ کچھ زیادہ ہی ٹھیک لگ رہی تھی ، مسکراتی ہوئ، اس نے بس سر ہلادیا ، یہ عورت اسے بہت بری لگنے لگی تھی

کچھ دیر بعد سب نیچے رکھے کشنز پر بیٹھنے لگے کہ کسی نے گیم کھیلنے کے لئے بلایا تھا تو وہ سب بھی اسی طرف بڑھ گئیں ، وہ عیسیٰ کے ساتھ بیٹھ گئ ، جیکٹ اب بھی پہن رکھی تھی

” آپ کو سردی تو نہیں لگ رہی، جیکٹ واپس کردوں ؟”

عیسیٰ نے اس کے کاندھے پر جیکٹ درست کی

” بالکل نہیں لگ رہی “

وہ سر ہلا کر سامنے دیکھنے لگی ، گیم ٹرتھ اینڈ ڈیئر تھی ، ویٹر سب کو ڈرنکس سرو کررہا تھا ان کی طرف آیا تو عیسیٰ کو کافی اور اسے چائے دی ، وہ منع کرتی اس سے پہلے ہی وہ آگے بڑھ گیا

گیم سٹارٹ ہوگئ ، عمار نے بوٹل گھمائ اور رول کرتے ہوئے وہ ساحر کی طرف بڑھی

” ٹرتھ یا ڈیئر ؟”

” ٹرتھ “

” سوال میں پوچھوں گی ” ساحر کی منگیتر نے فورا ہاتھ کھڑا کیا، ساحر نے کان کھجائے

” تو ساحر ، یہ منزہ کون ہے ؟”

” کون منزہ ؟”

وہ گڑبڑا گیا

” وہی جو تمہیں کال کرتی ہے “

مشکوک انداز سے اسے گھورا

” یاررر وہ جسٹ فرینڈ ہے ، تم خواہمخواہ بچاری پر شک کرتی ہو “

” مجھے اس پر نہیں تم پر شک ہے “

ہال میں قہقہہ گونجا

” ساحر سب سچ سچ بتائو ، کوئ جھوٹ نہیں بولے گا “

” اوکے اوکے ۔۔” اس نے ہاتھ کھڑے کئے پھر محتاط نظروں سے شزا کو دیکھا

” وہ میری ایکس گرل فرینڈ ہے ، لیکن اب ہم صرف دوست ہیں ” شزا کا منہ صدمے سے کھلا

” یوچیٹر ۔۔۔” وہ اس پر جھپٹی اس سے پہلے سب نے بیچ بچائو کرالیا

” آپ چائے کیوں نہیں پی رہیں ؟ ” اسے یونہی بیٹھے دیکھ عیسیٰ نے پوچھا

” کیسے پیوں ، میں ان کمفرٹیبل فیل کروں گی ” بے نیازی سے شانے اچکائے، عیسیٰ نے اس کے کپ پھر اسے دیکھا

” آل رائٹ ، مجھے دے دیں “

” آپ پئیں گے ؟”

وہ کچھ حیران سی ہوئ

” نہیں ویٹر کو دے دیتا ہوں ” اس نے کپ ابھی عیسیٰ کے ہاتھ پر رکھا ہی تھا جب انہیں صوفیہ کی آواز سنائ دی

” عیسیٰ چائے نہیں پیتا ، تم جانتی نہیں ہو قرت ؟”

وہ مسکرا کر کچھ جتاتے لہجے میں کہہ رہی تھی ، شاید وہ سمجھی تھی کہ وہ عیسیٰ کو چائے پینے کیلئے دے رہی ہے، لمحہ بھر کو وہاں سناٹا چھا گیا ، قرت کا چہرہ سرخ ہوا، صوفیہ کی آواز اس قدر بلند تھی کہ سب نے سنی تھی ، عیسیٰ نے نظر اٹھا کر تادیبی نظروں سے اسے گھورا

” میں تو صرف اسے بتارہی تھی ، کیا وہ نہیں جانتی ؟”

لاپرواہی سے شانے اچکائے

” اوہ صوفیہ کیا ہو اگر وہ چائے پی لے ، اتنی بڑی بات بھی نہیں ہے؟”

کسی کونے سے آواز ابھری ، عیسیٰ نے گہری سانس لیتے کپ اپنے سامنے رکھا ، یہ شے اسے زہر سے زیادہ ناپسند تھی ، وہ مر کر بھی یہ نا پیتا

” وہ نہیں پیتا فخر “

صوفیہ اب بھی عیسیٰ کو دیکھ رہی تھی ، انداز صاف چیلیجنگ تھا ، وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ عیسیٰ کو چائے کتنی ناپسند تھی ، قرت نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا، اس کی نظروں میں جانے کیا تھا کہ عیسیٰ نے رخ موڑ کر صوفیہ کو دیکھا پھر اپنے سامنے پڑی چائے کی پیالی اٹھائ ، ہونٹوں پر لگائ اور بمشکل ایک گھونٹ اتارا ، چہرہ البتہ نارمل ہی رہا ، عمار نے ابرو اچکائے

” زندہ رہ جائوگے اس زہر کو پی کر ؟”

وہ ہنسا

” کئ سال ۔۔۔”

کسی نے پیچھے سے ہوٹنگ کی ، قرت نے اسے دیکھتے رخ پھیر لیا ، اس کے حلق میں آنسو اٹکے، بظاہر بات صرف چائے کی تھی، ہاں بس چائے ہی تو تھی لیکن کوئ مان سا تھا جو اسے عیسیٰ پر تھا کہ وہ اس کی دی چائے پی لے گا ، وہ سب کے سامنے اسے شرمندہ نہیں ہونے دے گا ، بات بظاہر بس چائے کی ہی تھی لیکن اس کیلئے وہ صرف چائے کی بات نہیں رہی تھی ، اس نے ایک نظر اٹھا کر صوفیہ کو دیکھا ، گردن اونچی کرکے ، صوفیہ اسے ہی دیکھ رہی تھی آنکھوں میں شعلے سے تھے

قرت کا ہاتھ عیسیٰ کی کہنی پر گیا ، وہ چند لمحوں بعد چائے کا گھونٹ بھرلیتا ، کافی اس نے چھوئ تک نہیں تھی ، قرت کا ہاتھ کہنی پر محسوس ہوا تو اسے دیکھا ، وہ ہلکا سا مسکرائ تو وہ بھی مسکرادیا , اس نے دوبادہ صوفیہ کو دیکھا

بڑی آئ تھی اس کی انسلٹ کرنے ہنہہہ ، دل میں ٹھنڈک سے اتری

” عیسیٰ ۔۔۔”

بوٹل اس کی طرف آئ تو اس نے بے زاری سے آنکھیں گھمائیں

“Just a fool game “

” but you have to choose “

” ok, truth “

” کیا میں پوچھ سکتی ہوں ؟”

اس نے بمشکل اپنے اندر کا غصہ دبایا آواز صوفیہ کی تھی ، عیسیٰ نے شانے اچکائے گویا اجازت تھی

” سچ بولوگے ؟”

” میں سچ بولنے سے نہیں ڈرتا “

صوفیہ پراسرار سا مسکرائ ، پھر آگے کو ہوئ اور اس کی آنکھوں میں دیکھا

” قرت العین سے پہلے تمہیں کتنی لڑکیوں سے محبت ہوئ تھی ؟ “

سوال تھا یا کیا وہاں سناٹا چھا گیا ، عیسیٰ نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا

” یہ کیسا سوال ہے ؟”

” جیسا بھی ہے جواب دو “

” محبت صرف ایک بار ہوتی ہے صوفیہ ، باربار انسان صرف لوگ پسند کرتا ہے ان سے محبت نہیں کرتا ، تو تمہارا جواب یہ ہے کہ مجھے پہلی اور آخری محبت قرت العین سے ہی ہوئ ہے “

جتاکر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

” میں نے قرت سے پہلے کا پوچھا ہے ، ایٹ لیسٹ اپنی بیوی کو اپنے لندن والی گرل فرینڈز کے قصے تو سناہی سکتے تھے اگر ہمت تھی تو “

وہ طنز سے مسکراتی گویا اسے چیلنج دے گئ ، مزاق میں شروع ہونے والی بات اتنی سریس ہوجائے گی کسی کو اندازہ نا تھا ، عمار نے تادیبی نظروں سے صوفیہ کو دیکھا لیکن وہ صرف عیسیٰ کو دیکھ رہی تھی ، عیسیٰ کچھ کہتا اس سے پہلے اسے قرت کی آواز سنائ دی

” مجھے کوئ دلچسپی نہیں ہے صوفیہ ، کیونکہ میں جانتی ہوں عیسیٰ سچ کہہ رہے ہیں ” اس بار لاجواب ہونے کی باری صوفیہ کی تھی ، عیسیٰ نے بے اختیار قرت کو دیکھا، وہ سامنے دیکھتی کہہ رہی تھی ” برسوں پہلے جب انہوں نے میرے سامنے کھڑے ہوکر کہا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں میں اسی پل جان گئ تھی کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں ، وہ سچ میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا تھا ، ہمارا تعلق آنکھوں کا ہے، زبان سے نکلنے والی باتوں کا ہوتا تو جھوٹ مان بھی لیتی آنکھوں کو کیسے جھٹلائوں؟ “

آواز دھیمی لیکن مضبوط تھی ، صوفیہ کے پاس کچھ کہنے کو باقی نا رہا تو اس نے شانے اچکا دیئے ، گیم دوبارہ سے شروع ہوگی ، البتہ دو لوگ چند لمحے پہلے والے وقت میں ہی رک گئے تھے ، عیسیٰ تھوڑا سا اس کی طرف جھکا

” آپ کو تب واقعی میری محبت پر یقین تھا؟”

” قرت العین جھوٹ نہیں بولتی “

” اور عیسی حیات کا ہر سچ قرت العین ہے “

وہ سیدھا ہوگیا ، اس نے جھکی نظریں نہیں اٹھائیں ، اٹھاتی تو وہ اس کی نم آنکھیں دیکھ لیتا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

سر شام ہی اسلام آباد کے پہاڑوں پر دھند اتر آئ تھی ، رات کے پھیلے سناٹے میں سفید دھوئیں جیسی دھند پہاڑوں سے ہوتی شہر میں داخل ہونے لگی ، سفید گھر سفید دھند میں چھپنے لگے

انہیں گھروں میں سے ایک کی سیڑھیاں چڑھتا عیسیٰ دکھائ دے رہا تھا ، اس کے ہاتھ میں دو کپ تھے جن سے دھواں نکلتا فضا میں پھیل رہا تھا ، اپنے کمرے کے سامنے وہ رکا ، پیر سے دروازے کو ہلکی سی ٹھوکر ماری اور وہ کھلتا چلا گیا

اندر کا منظر واضح ہوا ، قرت نیچے کارپٹ پر بیٹھی تھی ، سیاہ لمبی قمیص پر سفید سوئیٹر پہنے بالوں کا گول گول جوڑا بنا رکھا تھا ، کچھ لٹیں چہرے پر نکل رہی تھیں ، دوپٹہ پیچھے بیڈ پر پڑا تھا ،، سوئیٹر کی آستین لمبی تھیں تو اس نے وہ کلائیوں تک اکٹھی کررکھیں تھیں ، سامنے ڈھیروں کارڈز ، گفٹ ریپرز اور پھول بکھرے تھے

عیسیٰ دروازہ بند کرتا اندر آیا اور کپ اس کی طرف بڑھایا

” آپ کا کام ابھی تک مکمل نہیں ہوا ؟”

وہ نیچے نظر دوڑاتا ہوا کہنے لگا

” تھوڑا سا رہتا ہے “

اس نے کپ نیچے رکھ دیا ، وہ صوفے تک گیا ، ایک کشن اٹھا کر نیچے کارپٹ پر رکھا اور اس پر بیٹھا

” ملازم کرلیتے یہ سب “

” میں خود کرنا چاہتی تھی” بنا سر اٹھائے پیکنگ کرتے مصروف سے انداز میں جواب دیا

” گفٹ تو آپ نے ہی لیا ہے “

” پیک بھی میں ہی کرنا چاہتی تھی “

عیسیٰ کچھ دیر اسے ریپر سے الجھتا دیکھتا رہا ، صاف ظاہر تھا کہ اسے پیکنگ کرنی نہیں آتی لیکن وہ پھر بھی کوشش کررہی تھی

” چائے تو پی لیں ۔۔”

اپنا کپ لبوں سے لگائے اس کا دھیان چائے کی طرف دیا تو اس نے کپ اٹھالیا

” آپ نے کیا لیا گفٹ ؟”

کل شہوار اور حیات کی شادی کی سالگرہ تھی، عیسیٰ نے اسے کل ہی بتایا تھا

” آپ لوگ ویسے بہت فضول خرچ واقع ہوئے ہیں “

وہ اس کے ساتھ بیٹھ کر ساری تیاریوں کے بارے میں بتارہا تھا

” کون لوگ ؟”

” ایلیٹ کلاس کے لوگ ، آپ لوگوں کو پارٹیز ، گیدرنگز رکھنے کا بہانہ چاہئے بس ، اور لاکھوں ان چیزوں پر خرچ کردیتے ہیں، سالگرہ منانا کوئ پسندیدہ کام نہیں ہے “

” خوشی منانا بھی پسندیدہ نہیں ہے ؟”

” خوشی منانے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں ، اس کی بجائے اگر یہی سب پیسے چیریٹی میں دے دیتے تو کتنا اچھا ہوتا ؟”

” اب تو سب کو انوائٹ کردیا میں نے لیکن ۔۔۔۔” رک کر اسے دیکھا پھر مسکراہٹ دبائ ” ہم اپنی شادی کی سالگرہ آپ کے کہے طریقے سے منالیں گے “

اس نے مزید کچھ نہیں کہا ، وہ سب کو پہلے ہی دعوت دے چکا تھا ، کیونکہ شہوار اور حیات اس سرپرائز سے لاعلم تھے تو وہ دونوں رازداری سے سارا کام کررہے تھے ،وہ اپنے گفٹس لے آئ تھی جبکہ عیسیٰ نے ابھی تک اپنا گفٹ نہیں بتایا تھا

” مجھے سرپرائز دینا اچھا لگتا ہے “

شانے اچکائے اور غور سے اسے دیکھا جو کپ ہونٹوں سے لگا رہی تھی ، ایک ہاتھ اب بھی گفٹ کو چیک کررہا تھا ، وہ اپنے کام سے خود ہی مطمئن نہیں تھی ، چائے کا دوسرا گھونٹ بھرا تو رکی ، سر اٹھا کر عیسیٰ کو دیکھا پھر کپ کو

” چائے کس نے بنائ ہے ؟”

” پہلے کون بناتا ہے ؟”

” یہ زینت آپا کے ہاتھ کا ذائقہ نہیں ہے “

کپ نیچے رکھ کر اسے دیکھا

” کیونکہ یہ انہوں نے بنائ بھی نہیں ہے “

” پھر کس نے ۔۔” وہ رکی ، آنکھوں میں حیرت ابھری ” یہ مت کہئے گا کہ آپ نے بنائ ہے “

” نہیں کہتا ، آپ نے پہلے ہی گیس کرلیا ” وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر ہنس دی، عیسیٰ مسکرایا ، وہ ہنستی تھی تو اسے لگتا تھا کہ اس پر مسکرانا واجب ہے

” یعنی آپ نے چائے بنالی ، واقعی؟”

وہ حیران تھی

” یقیناً ۔۔۔اس دن چائے پینے پر اندازہ ہوا کہ یہ اتنی بری شے بھی نہیں ہے جتنی مجھے لگتی تھی “

” اچھا ۔۔۔” قرت نے ہتھیلی تھوڑی کے نیچے رکھی اور دلچسپی سے اسے دیکھا ” پھر چائے پینے کے فورا بعد آپ نے تین گلاس نبو پانی کیوں پیا تھا ؟” وہ کچھ دیر بول نا سکا ، پھر ہنستے ہوئے سر جھٹکا

“Guilty as charged “

اس نے بنا کچھ کہے مسکراتے ہوئے دوسرا گھونٹ بھرا ، چائے ٹھنڈی ہوگئ تھی لیکن خیر تھی

” چائے اچھی بناتے ہیں “

” تشکر مادام !” سر جھکا کر داد وصول کی پھر اردگرد پھیلے سامان کو دیکھا ” یہ رہنے دیں اب ملازم کرلیں گے “

” اوہوووں ، تھوڑا سا ہی رہتا ہے ” وہ دوبارہ پیکنگ کرنے لگی

” ڈیڈ ریسٹ واچ نہیں پہنتے”

وہ ڈبے میں پیک ریسٹ واچ کو دیکھ کر بولا تو قرت کی نظر گھڑی پر گئ ، پھر تھوک نگلا ، یہ انکل کیلئے تھوڑی لی تھی

” ان کیلئے نہیں لی “

نظریں چراتے جواب دیا

” پھر کس کیلئے ؟” گھونٹ بھرتے وہ یونہی پوچھنے لگا پھر جیسے اسے احساس ہوا کہ وہ کس کیلئے لی گئ تھی تو رکا ، وہ جواب دینے کی بجائے اردگرد دیکھ رہی تھی ، عیسیٰ نے مسکراہٹ دبائ

” اگر ڈیڈ ریسٹ واچ نہیں پہنتے تو پھر کس کیلئے لی ہے آپ نے ؟ہمارے گھر میں کون ریسٹ واچ پہنتا ہے ؟ “

مصنوعی انداز میں سوچتے دوبارہ سے اپنا سوال دہرایا ، البتہ اب کے لہجے میں مسکراہٹ تھی ، قرت نے کچھ جھنجھلا کر اسے دیکھا ، معلوم تھا کس کیلئے لی ہے پھر بھی ۔۔۔

” اپنے لئے لی ہے “

” یہ لیڈیز واچ نہیں ہے ” اللہ !

” میں یہی پہنوں گی “

تڑخ کر خفگی سے کہا

عیسیٰ ہنس دیا ، پھر کپ نیچے رکھا اور اسے دیکھا

” اگر آپ کی اجازت ہو تو کیا یہ میں پہن سکتا ہوں ؟ میرا خیال ہے یہ مجھ پر زیادہ اچھی لگے گی “

اس نے ریسٹ واچ کو دیکھا پھر اسے اور واچ اٹھا کر اس کی طرف بڑھائ ، عیسیٰ نے وہ اس کے ہاتھ سے لی ڈبہ کھولا اور واچ باہر نکالی، سلور کلر کی واچ تھی

” یعنی میری پسند کا اندازہ ہے آپ کو “

اسے واچ پسند آئ تھی ، قرت کو اچھا لگا

” بالکل ۔۔۔”

” ٹیسٹ لے لوں ؟”

” کس چیز کا ؟”

” اس چیز کا کہ آپ کو میری پسند کا کتنا علم ہے ” وہ گڑبڑائ ، اب نا کہتی تو وہ سوچتا جھوٹ بول رہی تھی اس لئے سر ہلادیا ، تکے تو مار ہی سکتی تھی

” ٹھیک ۔۔۔تو میری فیورٹ ڈش کون سی ہے ؟ ۔” اس نے چند لمحے سوچا

” چائنیز رائس ۔۔”

” بیف کباب “

وہ سٹپٹائ

” میرا پسندیدہ رنگ ؟”

” آا ۔۔سفید “

” سیاہ ۔۔”

” لیکن آپ کی بہت سی شرٹس سفید ہیں “

اس نے جرح کی

” اور بہت سی بلیک ہیں “

” آپ کے آفس کا رنگ سفید ہے “

” اور کمرے کا سیاہ ہے “

اب کے اسے چپ لگی

“اوکے نیکسٹ ۔۔۔ فیورٹ فٹ بال پلیئر ؟” وہ کرکٹ نہیں دیکھتا تھا اور فٹ بال میں اسے صرف ایک پلیئر کا نام آتا تھا

” رونالڈو “

” نیمار ۔۔۔” وہ گڑبڑائ، اللہ اللہ !

” اوکے ۔۔۔فیورٹ پرفیوم؟”

عیسیٰ نے پیچھے کو ہوتے صوفے سے ٹیک لگائ

” اتنے عجیب نام ہیں ، مجھ سے نہیں پڑھے جاتے ” جھنجھلاہٹ چہرے پر نموادار ہوئ ، اللہ جی ایک بھی جواب صحیح نہیں تھا ، بعزتی الگ اففف اففف

” پسندیدہ منظر ؟”

وہ رکی ، پسندیدہ منظر ؟

(آپ کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھنا میرا پسندیدہ منظر ہے )

” میرا بلش کرتا چہرہ دیکھنا “

عیسیٰ کے اگلے الفاظ رک گئے ، نظر قرت پر گئ جسے شاید کہنے کا بعد احساس ہوا تھا کہ وہ کیا بول گئ ہے ، چہرہ سرخ ہوا ، عیسیٰ نے اس بار مسکراہٹ دبانے کا تکلف نہیں کیا

” یہ سچ ہے “

اس کا چہرہ اففف ، وہ بنا آئینہ دیکھے بتاسکتی تھی وہ سرخ ہورہی تھی ، یا خدایا یہ زبان کیوں پھسل جاتی تھی اس کے سامنے ؟ قدرے جھنجھلاتے ہوئے اب کہ اس نے سامان سمیٹا شروع کیا

” میرا فیورٹ پھول ؟”

” مجھے نہیں معلوم ۔۔”

جھنجھلا کر کہتے سامان سمیٹا

” قرت العین۔۔۔ “

اس کا چہرہ پھر سے سرخ ہوا، عیسیٰ گویا اب اسے مزید تنگ کرنے کے موڈ میں تھا ،ھَوِن قرت العین ھَوِن ( پر سکون قرت العین پر سکون )

” سب سے زیادہ کیا اچھا لگتا ہے ؟”

اس نے جواب نہیں دیا، سامان سمیٹا ، وارڈروب میں ٹھونسا

” آپ کا ساتھ ہونا ” پیچھے کو ٹیک لگائے وہ اب فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا ، ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا ہی نہیں ہورہی تھی ، قرت مزید سٹپٹائ

” چلیں ناپسندیدہ کی بارے میں بتادیں ، مجھے کیا ناپسند ہے ؟”

وہ اٹھ کر اس تک آیا

” نہیں معلوم “

وارڈروب بند کرتے وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف جانے لگی جب عیسیٰ نے اس کا ہاتھ تھاما

” آپ کا دور جانا ” دھیرے سے اس سے کہا، وہ رک گئ

” اور اگر میں کبھی دور چلی گئ تو ؟”

آنکھیں اٹھائے اس کی آنکھوں میں دیکھا ، عیسیٰ کے چہرے پر سایہ سا گزرا

” میں زندہ رہنا بھول جائوں گا “

” استغفرُللہ ، کتنا فضول بولتے ہیں آپ “

“ماشاءاللہ ،کتنے بہترین سوال پوچھتی ہیں آپ “

” آپ پوچھیں تو ٹھیک ہم پوچھیں تو مزاق ؟”

وہ ہلکاسا مسکرایا پھر نرمی سے اس کے کیچر میں بندھے بالوں کو کھول دیا ، وہ کچھ اور جھنجھلائ

” کبھی باندھا بھی ہے پھر بالوں کو ؟”

عیسیٰ سر جھکائے ہلکا سا ہنسا

” باندھ دوں ؟”

” جی نہیں “

نروٹھے پن سے کہتے اس کے ہاتھ سے کیچر واپس لیا اور دوبادہ سے گول مول کرکے باندھ دیا

” آپ پھر ایسی باتوں پر سرخ پڑجاتی ہیں ” وارڈروب سے ٹیک لگائے سینے پر بازوں باندھے اسے دیکھا

” آپ ایسی باتیں نا کیا کریں “

” پھر کیسی باتیں کیا کروں “

” باتیں ہی نا کیا کریں “

وہ بیڈ پر بیٹھ گئ

” پھر آپ میرے سامنے بیٹھی رہا کریں “

تھک جائیں گے دیکھ دیکھ کر “

” میں آپ کو صدیوں مسلسل دیکھ سکتا ہوں “

وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر کمبل اپنے اوپر اوڑھ لیا ، عیسیٰ ہنس دیا، وہ جانتا تھا وہ ایک بار پھر سرخ ہوئ تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ صبح کہر آلود ہونے کے ساتھ بھاری بھی تھی ، یوں جیسے فضا میں کوئ نا محسوس سی بدبو پھیل گئ ہو ، جیسے دور جنگلوں میں کسی مادہ نے مردہ بچہ پیدا کیا ہو اور اس کی بو اس کے سوگ کے ساتھ ساتھ شہر تک آرہی ہو ، ٹھنڈک جگر میں گھسنے والی ہو لیکن پھر بھی کسی جہنم سی گرم شے کا احساس اردگرد ہو

اپنے کمرے کی کھڑی سے باہر دیکھتی قرت نے گہری سانس لی کھڑکی بند کی اور پیچھے کھڑے عیسیٰ کو دیکھا

” ہم کتنے بجے آئیں ؟”

” چار بجے تک ۔۔۔۔ایوننگ کا پروگرام ہے “

” تیاریاں ہوگئیں ساری ؟”

” تھوڑی بہت رہتی ہیں ، وہ زین کرلے گا “

وہ کل ہی لاہور سے چند دن کی چھٹی پر واپس آیا تھا اور عیسیٰ نے اسے اپنے ساتھ لگالیا تھا

” آنٹی اور انکل کو شک نہیں ہوگا ؟”

وہ متذبذب تھی

” نہیں ۔۔۔میں نے کہہ دیا ہے کہ کسی فرینڈ کی طرف جانا ہے” اس کے ماتھے پر بل پڑے

” جھوٹ بولنا بری بات ہے “

” اور میں نے کب کہا میں اچھا انسان ہوں ؟”

ابرو اچکائے، اس نے رخ موڑ لیا ، وہ برا انسان بھی آج کل اچھا لگ رہا تھا

” آپ کا گفٹ کہاں ہے ؟”

” وہ میں وہیں دوں گا “

وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے ہٹا اور اس تک آیا ، جیب میں ہاتھ ڈالا اور اندر سے پھول نکال کر اس کے سامنے کیا

” میں نے انہیں پھول پیش کیے تاکہ پھول خود پر رشک کرسکیں “

وہ ہلکا سا ہنسی پھر سرخ گلاب اس کے ہاتھ سے لے لیا ، عیسیٰ کا ہاتھ اس کے بالوں کی طرف بڑھا، وہ فورا دو قدم پیچھے ہوئ

” خبردار ! ” انگلی اٹھائ

” میں صرف پھول لگا رہا تھا “

مسکراہٹ دبائے ہاتھ میں تھاما پھول دکھایا

” میں خود لگالوں گی “

” میرے لگانے سے یہ مرجھائے گا نہیں “

” اچھی منطق ہے ، ادھر دیں “

اس نے کان کھجاتے پھول اس کے ہاتھ میں رکھ دیا

” شام تک آجائیے گا ، اوکے ؟”

اس نے سر ہلادیا، عیسیٰ بیڈ پر کوٹ اٹھاتا پلٹا ، وہ دروازے کی طرف جارہا تھا ، وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر پکارا

” عیسیٰ ۔۔۔”

“جی “

پلٹا ، وہ اسے بس دیکھتی رہی دیکھتی رہی پھر نفی میں سر ہلایا

” کچھ نہیں ۔۔”

” آر یو شیور؟”

اب کے صرف سر ہلادیا، وہ مسکراتے ہوئے باہر چلا گیا اور وہ وہیں کھڑی رہی ، دل پتا نہیں کیوں خالی سا ہوگیا تھا، عجیب سی بے چینی اداسی اندر تک گھرتی جارہی تھی ، کسی شے کے غلط ہونے کا احساس فضا میں ٹھہر گیا تھا ، سر جھٹکتے الماری کا دروازہ کھولا ، ایک گفٹ ابھی پیک کرنا تھا تو وہ اسے اٹھانے لگی جب احساس ہوا کہ کچھ غائب تھا، گفٹ ادھر ادھر گھمائے تو اسے احساس ہوا کہ آج صبح جو تازہ گلاب وہ توڑ کر لائ تھی اور ان کا اپنے ہاتھوں سے گلدستہ بنایا تھا وہ غائب تھا ، نظر ہاتھ میں پکڑے دو گلابوں پر گئ

” عیسیٰ ۔۔۔” گہرے سانس لیتے اس نے سر جھٹکا ، وہ اس کا بکٹ اٹھا کر لے گیا تھا اور اسی کے توڑے گئے گلاب اسے تھما رہا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

شام کے چار بجے ان کی گاڑی فارم ہائوس کے باہر رکتی دکھائ دی ، شہوار اور حیات قدرے حیران سے اترے

” یہ ہمارا فارم ہائوس ہے قرت “

شہوار نے اچھنبے سے اسے دیکھا کہ شاید وہ انہیں غلط ایڈریس پر لے آئ تھی

” جانتی ہوں آنٹی ” سفید عبایا میں ملبوس قرت العین پچھلا دروازہ کھولتی باہر نکلی ،اس کے ہاتھ میں سرخ گلاب تھے

” پھر یہاں کیوں لے کر آئ ہو ؟”

” اندر چلیں پتا چل جائے گا “

شہوار آگے بڑھنے لگیں جب حیات کی آواز سنائ دی

” آج ہماری ویڈنگ اینورسری ہے شہوار “

وہ مسکرارہے تھے جیسے وہ جان گئے تھے کہ انہیں یہاں کیوں لایا گیا تھا، شہوار کے چہرے پر حیرانی ابھری پھر خوشگوار مسکراہٹ ، رک کر قرت کو دیکھا جو جھینپی سی مسکراہٹ لئے انہیں دیکھ رہی تھی

” this is not fair uncal ! “

” تم مجھے چکما نہیں دے سکتیں بیٹا جی “

گہری ہوتی مسکراہٹ لئے وہ شہوار تک آئے اور ان کا ہاتھ تھاما

” عیسیٰ کہاں ہے ؟”

شہوار کو اب سمجھ آئ تھی وہ دو دن سے کیا کھسر پھسر کررہے تھے

” اندر ہیں ۔۔۔چلیں ؟” سارا پلین خراب ہوگیا تھا ، انکل بھی عیسیٰ کی طرح چالاک نکلے

شہوار اور حیات سر ہلاتے آگے بڑھنے لگے اور وہ ان کے پیچھے ، گاڑی نیچے پارک تھی ، اوپر دس سیڑھیاں تھیں ، آگے صحن

پہلے سوچا کہ گفٹس لیتی چلے پھر اوپر کی طرف جانے لگی کہ ملازم لے جائیں گے اسے شہوار اور حیات کے ساتھ اندر جانا تھا ، مہمان آ چکے تھے ، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ ابھی آخری سیڑھی پر تھی جب رک گئ

سینے میں اچانک ہی کوئ تکلیف اٹھی تھی ، یوں جیسے کسی نے برچھی سے دل کو کاٹ دیا ہو ، ناقابل برداشت سی تکلیف ،وہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے ہلکی سی جھکی ، ہاتھ سینے پر گیا ، گو بس دو سیکنڈ کی بات تھی لیکن یوں لگا جیسے روح اندر تک ہل گئ ہو ، اسی لمحے نظر عیسیٰ پر گئ وہ اسی طرف آرہا تھا، شہوار اور حیات آگے تھے، وہ ہاتھوں میں وہی بوکٹ اٹھائے ہوئے تھا جو اس نے صبح بنایا تھا ، آڑے ترچھے سرخ گلاب ، گلدستہ تھامے ہاتھوں میں کچھ اور بھی تھا ، سفید رنگ کے ، چھوٹے چھوٹے موتیے کے پھول ، وہ مسکراتے ہوئے ان کی طرف آرہا تھا

وہ بالکل رک کر اسے دیکھے گئے ، بنا سانس لئے ، بنا پلک جھپکے، دل میں ایک بار پھر تکلیف کی لہر اٹھی ، اذیت آنکھوں میں جھلکی لیکن اس نے پلک نہیں جھپکی ، وہ اسی طرح عیسیٰ کو دیکھے گئ ایک ہاتھ سینے پر تھا دوسرے ہاتھ میں سرخ گلاب تھے سرخ گلابوں والا ہاتھ ہلکا سا کپکپا رہا تھا

محبت میں الہام ہوا کرتے ہیں سو اس لمحے اس پر بھی ہوا تھا، اس کا دل کیا عیسیٰ وہیں رک جائے وہ آگے مت بڑھے ،وہ اس سے کہنا چاہتی تھی کہ وہ رک جائے لیکن آواز پھنس گئ

اور پھر لمحوں کا کھیل تھا جب اس نے دیکھا کہ عیسیٰ کا ہاتھ اپنے سینے پر گیا تھا ، اس کی نظر نے ہاتھ میں تھامے گلاب سے اس کے چہرے کا سفر کیا وہاں اذیت تھی ، پھر نظر اس کے سینے پر گئ ، وہاں سرخ رنگ نظر آرہا تھا ، پانی کی صورت بہتا ہوا ، سفید شرٹ کو سرخ کرتا ہوا ، وہ سینے ہر ہاتھ رکھے نیچے کو جھکا وہ سرخ رنگ کیسا تھا؟

” عیسیٰ ۔۔۔”

اسے شہوار کی چیخ سنائ دی ، وہ بس ساکت سی اسے دیکھے گئ ، آنکھوں کی پتلیاں تھم گئیں ، وہ سرخ رنگ کیسا تھا ؟

حیات اور شہوار اس سے آگے تھے وہ اس تک پہلے پہنچ گئے وہ پیچھے تھی اسے جانے میں دیر لگتی ، قرت العین دیر کردیا کرتی تھی، وہ نیچے گرنے کو تھا جب کسی نے اسے تھاما وہ بس وہیں کھڑی رہ گئ ، وہ سرخ رنگ کیسا تھا؟

عیسیٰ سینے پر ہاتھ رکھے نیچے گرا ، اس کا چہرہ سفید پڑرہا تھا ، ہاتھ میں تھامے گلاب پھسل گئے، بائیں ہاتھ میں تھامے سفید ننھے پھول گر کر کسی کے قدموں تلے آگئے ، اور اس لمحے اس پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ سرخ رنگ خون تھا

عیسیٰ کو گولی لگی تھی ، قرت کا ریلنگ پر رکھا ہاتھ ہٹا ، وہ جیسے اسی کے سہارے پر کھڑی تھی یکدم نیچے بیٹھی ، ہاتھ میں تھامے گلاب نیچے گرے،

” عیسیٰ ۔۔”

لبوں سے آہستہ سے نکلا ، زین اس کا چہرہ تھپتھایا رہا تھا ، اس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں ، کبھی کھل رہی تھیں ، چہرہ سفید تھا، آنکھیں سرخ تھیں، وہ اذیت میں تھا اس کے چہرے کی اذیت قرت کی آنکھوں میں بسی

” عیسیٰ ۔۔۔”

اس کی آواز اتنی آہستہ تھی کہ خود کو سنائ نا دیتی ، عیسیٰ کے پاس اتنا شور تھا کہ اس تک نا پہنچ پاتی ،زین چلا چلا کر کسی کو ایمبولینس کو کال کرنے کا کہہ رہا تھا ، شہوار رو رہی تھیں ، حیات سب پر چلا رہے تھے

” عیسیٰ ۔۔۔”

آواز اب بھی آہستہ تھی ، لیکن جانے کون سا تعلق تھا کہ بند ہوتی آنکھوں سے عیسیٰ نے نظر موڑی ، سیڑھیوں کے پاس سفید مجسمے کی صورت بیٹھی قرت نے اس کی آنکھوں کا رخ خود پر دیکھا ، عیسیٰ کے لب ہلے

” قرت ۔۔۔”

اس کا ہاتھ سینے پر تھا ، قرت کا ہاتھ اپنے سینے پر گیا ، وہاں ایک بار پھر اذیت ابھری ، روح کو ہلاتی اذیت ، آنکھوں سے پانی نکلا ، اس نے اٹھنے کی کوشش کی ، ہمت ختم ہوگئ ،اذیت باقی رہ گئ ، اور پھر اس کے اٹھنے سے پہلے اس نے دیکھا کہ عیسیٰ کی اس پر ٹکی آنکھیں بند ہونے لگیں

” پلیز نہیں ۔۔۔۔ ۔”

آواز لبوں تک رہ گئ ، اذیت دل تک پہنچ گئ، عیسیٰ تک اس کی آواز نہیں گئ تھی ، اس کی آنکھیں کھلی رکھنے کی التجا مسترد ہوئ ، عیسیٰ کی آنکھوں نے قرت العین کی آنکھوں کی اذیت کو دیکھا لیکن آج وہ اس اذیت کو دور کرنے سے قاصر تھا ، اس کے سینے پر دل کے قریب درد تھا ، یوں جیسے کسی نے سرخ انگارہ رکھ دیا ہو ، یوں جیسے کسی نے چھرا گھونپ دیا ہو ، جیسے کسی نے دل نکال لیا ہو ، اردگرد کسی کی آواز اس تک نہیں پہنچ رہی تھیں ، اردگرد کسی کی اذیت نہیں پہنچ رہی تھی ، فلوقت اسے اپنی اذیت کافی تھی ، اس نے اس کا سر گود میں رکھی مام کو دیکھا ، وہ رو رہی تھیں ، آنسو اس کے چہرے پر گررہے تھے ، اس کی پلکیں اذیت سے متعارف ہوئیں

” مام۔۔۔۔۔۔”

اس کے ہونٹ بے آواز ہلے ،درد ہونے پر پکارا جانے والا پہلا نام ، اذیت کے وقت یاد آنے والی پہلی ہستی

نظر حیات پر گئ ، وہ اس کے کاندھوں کو پکڑ کر اٹھارہے تھے ، پلکیں بوجھ سے گرنے لگیں ، پھر اس نے رخ موڑا ، نظر سیڑھیوں کے پاس بیٹھی سفید لباس والی لڑکی پر گئ ، جس کا ہاتھ سینے پر تھا ، آنکھیں بند ہوگئیں آخری منظر اس کے ذہن میں سیڑھیوں کے پاس سفید لباس میں بیٹھی لڑکی کا تھا اور پھر اردگرد ہر شے اندھیر ہوگئ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

چند روز قبل !

” اور کیا ہے عیسیٰ حیات کی عزیز ترین شے ؟”

کامران آفندی کے سامنے کھڑا شخص ان سے پوچھ رہا تھا

” کسی انسان کے لئے اس کی عزیز ترین شے کیا ہوتی ہے ؟”

” کیا ؟”

” اس کی زندگی…… عیسیٰ حیات کو ختم کردو “

لمحے بھر کو وہاں سناٹا چھا گیا

” آپ عیسیٰ کو سمجھنے میں غلطی کررہے ہیں”

” میں اسے تم سے بہتر جانتا ہوں “

” شاید ، لیکن …” وہ رک گیا پھر سر جھٹکا اسی کی بلا سے ، سر اٹھا کر کامران صاحب کو دیکھا” ” آپ کو میں شکل سے کوئ قاتل لگتا ہوں کامران آفندی صاحب ؟”

وہ قہقہ لگا کر ہنس دیئے

” دشمنی قاتل بھی بنا دیا کرتی ہے “

اس کا چہرہ لمحے میں بے تاثر ہوا

” صحیح کہہ رہے ہیں ، میں یہ کام کرواسکتا ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کیسے ہوگا ؟”

” یہ سب تمہیں بتادیتا ہوں میں “

ان کی آواز مدھم ہوتی گئ ، پراسرار ، سرد اور آگ کی مانند

کچھ دیر بعد وہ باہر نکلے تو پیچھے موجود شخص کی آنکھوں میں سرد آگ ابھری

تمہارا وقت ختم ہوا عیسیٰ حیات !