Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 20)
Nahal By Fatima Noor
زین نے کوئ چالیس بار اس کا نمبر ملایا تھا ، صبح سے دوپہر اور دوپہر سے رات کے ایک بج چکے تھے لیکن عیسیٰ ابھی تک نہیں آیا تھا ، اسے اب ٹینشن ہورہی تھی اور شدید ہورہی تھی ، تھوڑی دیر پہلے اس نے حیات کو فون کرکے عیسیٰ کے غائب ہونے کا بتادیا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ وہ ملتان آرہے ہیں ، زین نے جس مشکل سے انہیں ٹالا تھا وہی جانتا تھا ، اب اگر عیسیٰ واپس نا آتا تو وہ نہیں جانتا تھا وہ کیا کرے گا ، اس نے آخری بار عیسیٰ کا نمبر ملایا، نمبر بند تھا ، وہ فیصلہ کن انداز میں اٹھ کھڑا ہوا ، اسے پولیس کے پاس جانا تھا
جیکٹ پہن کر وہ جیسے دروازہ کھولنے لگا اسی پل عیسیٰ دروازہ کھولتا اندر آیا ، صبح والے حلیے میں بال بکھرے ہوئے تھے ،چہرہ سپاٹ اور آنکھیں سرخ تھیں ، اسے دیکھتے زین کے اندر ابال سا اٹھا ، فورا آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ایک مکا مارا
” بے غیرت انسان کہاں مرگیا تھا ؟ “
عیسیٰ منہ پر ہاتھ رکھے نیچے کو جھکا اور پھر منہ سے نکلتا خون نیچے جھٹکا ، سر اٹھا کر زین کو دیکھا اور پھر اسی خاموشی سے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ کر جوگر اتارنے لگا ، خون کے ایک دو دھبے اس کی شرٹ پر بھی پڑے تھے
” بولے گا کچھ یا ایک اور مکا ماروں ؟”
” گاڑی باہر کھڑی ہے ، بونٹ پر ہلکا سا ڈینٹ پڑ گیا ہے ، مکینک کو چیک کرادینا “
وہ بے تاثر لہجے میں کہتا اب جرابیں اتار رہا تھا
” نوکر ہوں تیرا ؟ باپ کا ملازم سمجھ رکھا ہے ؟ صبح سے میری جان پر بنی ہوئ ہے اور اب آکر آرڈر یوں دے رہا ہے جیسے ۔۔۔”وہ رکا پھر چونک کر عیسیٰ کو دیکھا ” گاڑی پر ڈینٹ کیسے لگا ؟ تم نے کہیں ماری ہے گاڑی ؟”
عیسیٰ نے کچھ نہیں کہا ، وہ اپنے بیگ کی طرف بڑھ رہا تھا ، جب زین سیخ پا ہوکر آگے بڑھا اور اسے گریبان سے پکڑا
” کچھ پوچھ رہا ہوں میں “
عیسیٰ نے آنکھیں بند کیں اور جب کھولیں تو ان میں صرف سرد پن تھا
” ہاں ایکسیڈنٹ ہوا تھا میرا ، لیکن زندہ کھڑا ہوں ، اور کچھ ؟”
زین نے اس کا گریبان چھوڑ دیا ، چند گہرے سانس لئے اور دوبارہ عیسیٰ کو دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
” کیا کہا ہے قرت نے ؟”
اس کی آنکھوں میں زخمی پن اترا ، بنا کوئ جواب دیئے اس نے بیگ کھولا ،زین چند لمحے اس کے جواب کا منتظر رہا پھر آگے بڑھ کر اس کے بازوں کو تھاما
” کیا کہا ہے انہوں نے۔۔۔۔؟”
” مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی “
” کیا کہا ہے؟”
” بول دیا نا ۔۔۔”
” انہوں نے کیا کہا ہے عیسیٰ۔۔۔ ؟”
وہ اپنے الفاظ پر زور دے کر بولا تو عیسیٰ رک گیا چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس کی آنکھوں میں ڈھیروں کرب اترا
” انہوں نے کہا میں ان کے علاقے سے چلا جائوں ، ان کے شہر سے ان کی زندگی سے “
زین کچھ دیر بول نا سکا
” دیکھ عیسیٰ ” اسے سمجھ نہیں آئ کیا کہے ” ریلیکس “
” ریلیکس ؟ میرے اندر آگ لگی ہوئ ہے، اور تم کہہ رہے ہو ریلیکس ؟”
میں سمجھ سکتا ہوں “
“سمجھ سکتے ہو۔۔۔۔ محسوس نہیں کرسکتے “
” دنیا اسی ایک لڑکی پر تو ختم نہیں ہوجاتی “
وہ جھنجھلایا
” میرے لئے ہوجاتی ہے ۔۔” وہ تھکے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا ” مجھے لگا تھا میں اس سے شادی کیلئے کہوں گا تو وہ مان جائے گی ، میں نے اوقات سے بڑھ کر خواہش کی ، مجھے وہ کیسے مل سکتا ہے جو مجھے عزیز ہو ؟، مجھے میرے عزیز لوگ کبھی میسر نہیں رہے”
زین کو اس پر ترس آیا
” عیسیٰ ، ہم دوبارہ ان سے بات کریں گے ، وہ مان جائیں گی “
” وہ نہیں مانے گی زین ، میں نے اسے پایا بھی نہیں اور کھودیا ” اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا
” میں بات کروں گا ۔۔”
اس نے سر نفی میں ہلایا
” اس نے کہا تمہیں تمہاری اس محبت کا واسطہ جس کے سچ ہونے کا تم دعویٰ کرتے ہو، کیا اب اس واسطے کے بعد بھی میں رک سکتا ہوں ؟رک جاتا تو وہ سمجھتی محبت نہیں کرتا صرف وقت گزاررہا تھا “
زین لاجواب ہوا
” معلوم نہیں میں نے دیر کردی یا خدا نے اس کا نصیب مجھ سے الگ لکھ دیا ، لیکن میں اب کیا کروں گا زین، مجھے بتا اب میں کیا کروں گا ؟”
وہ سر ہاتھوں پہ گرائے وہیں بیٹھ گیا ، آواز بھرا گئ ، زین نے زندگی میں پہلی بار اسے روتے دیکھا تھا، اس کی خود کی آنکھوں نم ہورہی تھیں ٫ وہ آہستہ سے اس کے ساتھ بیٹھا اور اپنا ہاتھ اس کے گھٹنے پر رکھا
” ٹھیک ہوجائے گا سب ۔۔۔۔”
وہ اس سے زیادہ کچھ نا کہہ سکا
جب آپ کا دوست آپ کے سامنے بیٹھا رو رہا ہو ، جب آپ جانتے ہوں اس کا دل اذیت سے پھٹ رہا ہے اور آپ اس کی اذیت دور نہیں کرسکتے ، اس سے زیادہ بے بسی کی بات کوئ نہیں ہوتی
دوست کو روتے ہوئے دیکھنا بڑی اذیت ہے، اور زین نے یہ اذیت پہلی بار محسوس کی تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اس نے نیند میں موبائل بجنے کی آواز سنی ، آنکھیں بمشکل کھولیں ،کچھ دیر حواس معطل رہے پھر اٹھ کر اردگرد دیکھا ،کھڑکی کے بلائنڈز کھلے ہوئے تھے، باہر روشنی پھیلی تھی، اس نے کل رات نیند کی گولی کھائی تھی ، اس کے باوجود بھی وہ صرف چند گھنٹے سو سکا تھا ، موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا تو صبح کے سات بج رہے تھے ، کچھ دیر وہ یونہی لیٹا چھت کو گھورتا رہا ، بعض نیندیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن سے آپ کبھی بیدار نہیں ہونا چاہتے
موبائل دوبارہ سے بجنے لگا تو اس نے اٹھالیا ، شہوار کی کال تھی
” جی مام “
” تم نے قسم کھا رکھی ہے کہ کس دن مجھے اپنی پریشانی سے ماردوگے ؟”
وہ اس کی آواز سنتے ہی غصہ ہوئیں
” آئ ایم سوری۔۔۔ “
” تمہیں یہ آسان لگتا ہے ؟ ایم سوری کہہ دینا ہربار ؟ معلوم ہے کس قدر اذیت میں گزرا ہے کل کا دن ؟ ہم لوگ ملتان آجاتے اگر زین نے تمہیں ڈھونڈنے کی تسلی نا دی ہوتی ، وہ بچہ پورا دن تمہیں ڈھونڈنے کیلئے خوار ہوتا رہا ہے اور تم آکر ایک سوری سے سب ٹھیک کرنا چاہتے ہو “
اس نے بے اختیار دروازے سے ٹرے میں ناشتہ لے کر داخل ہوتے زین کو دیکھا
پورا دن خوار ؟ وہ جب واپس آیا تھا تو وہ اندر آرام سے بیٹھا تھا بلکہ اسے مارنے کی تیاری کررہا تھا
” ایم سوری ۔۔”
” عیسیٰ ۔۔۔”
” میں واپس آرہا ہوں مام “
شہوار کے ساتھ ساتھ زین بھی چونکا
” واپس ؟”
” جی ۔۔۔۔۔۔ “
” مگر ۔۔۔وہ لڑکی “
” آپ سے بعد میں بات ہوگی ، فکر مت کریں اب آپ کو کبھی پریشان نہیں کروں گا “
اس نے کال کاٹ دی
” واپس ؟، آر یو شیور ؟”
زین نے ناشتہ اس کے سامنے رکھ کر ابرو چکائے
” یہاں رہنا اب بے مقصد ہے ،”
اس نے ٹرے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا اور باہر چلا گیا کچھ دیر بعد واپس آیا تو اپنا چارجر اور باقی کا سامان بھی بیگ میں پٹخا
” تم ٹھیک ہو؟”
” ہاں “
زین خاموشی سے اسے دیکھے گیا عیسیٰ ٹھیک نہیں تھا وہ جانتا تھا
” فلائٹ بک کرائوں ؟”
“وقت لگے گا ، ہم ابھی نکلیں گے “
” بائے روڈ ؟”
” ہاں “
” ارجنٹ فلائٹ بھی بک کروائ جاسکتی ہے “
زین کو اتنے لمبے سفر کے خیال سے ہی اکتاہٹ نے آ گھیرا تھا
” مجھے یہ سفر ایسے ہی کرنا ہے تم چاہو تو فلائٹ سے جاسکتے ہو “
زین کچھ بڑبڑاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا اسے پیکنگ کرنی تھی٫ وہ لوگ سامان لے کر نیچے پہنچے ٫بلز پے کئے اور گاڑی میں بیٹھ گئے ، گاڑی عیسیٰ ڈرائیو کررہا تھا اور زین کو جیسے عجیب سی بے چینی ہورہی تھی ، کبھی وہ عیسیٰ کو دیکھتا جس کا چہرہ سپاٹ تھا اور کبھی باہر دیکھنے لگ جاتا دفعتا وہ چونکا
” یہ واپسی کا راستہ تو نہیں ہے ، کہاں جارہے ہو؟” حالانکہ وہ اس راستے سے واقف تھا
” کچھ ہے جو ادھورا رہ گیا تھا اسے مکمل کرنا ہے “
وہ بڑبڑایا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اس نے سلام پھیر کر دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور پھر چند لمحے خالی ہاتھوں کو دیکھے گئ
کیا مانگے ؟ دماغ خالی سا تھا یوں جیسے ساری دعائیں بھول گئ ہوں ، الفاظ کسی نے چرا لئے ہوں ، خواہشات مر گئ ہوں ، اس نے ہاتھ نیچے گرا دیئے ، کچھ دیر وہ یونہی بیٹھی رہی پھر جائے نماز سمیٹنے لگی تو مہر اندر آئ اس کے ہاتھ میں کچھ تھا ، قرت کے ہاتھ رکے
” آپی ۔۔” وہ ہچکچا رہی تھی ” یہ صبح کالج جاتے ہوئے مجھے انہوں نے دیا تھا “
اس نے جواب نہیں دیا اس کی نظریں اس خاکی لفافے پر تھیں ، ہاتھ بے ساختہ مہر کی طرف بڑھا
” کس نے دیا ہے ؟”
” وہ جو اس دن باغ میں ملے تھے “
” عیسیٰ ” اس کے لب دھیرے سے پھڑپھڑائے
” انہوں نے کہا یہ آپ کو دے دوں “
وہ انگلیاں مروڑتی مضطرب لگ رہی تھی
” ٹھیک ہے جائو تم اور سنو اس کا ذکر کسی سے مت کرنا “
مہر سر ہلا کر چلی گئ تو وہ جانے کتنی ہی دیر اس لفافے کو دیکھتی رہی ، پھر دھیرے سے لفافہ چاک کیا ، چند موتیے کے پھول اس کی گود میں آ گرے ، اس نے وہ پھول اکٹھے کرکے سجدے کے مقام پر رکھے اور کانپتے ہاتھوں سے اندر موجود سفید کاغذ نکالا
” قرت العین ! سلامتی قبول کریں
اسے میری طرف سے آخری پیغام سمجھیں ، ایسا پیغام جس کے جواب کا منتظر ہونے کے باوجود میں جانتا ہوں کہ جواب نہیں آئے گا
لیکن شاید بعض خط ادھورے ہی اچھے لگتے ہیں ، بعض لوگ بھی اور بعض محبتیں بھی ، میری زندگی میں یہ تینوں چیزیں موجود ہیں
آپ نے کہا میری زندگی سے چلے جائیں ، میں جارہا ہوں ، آپ نے کہا اپنے قدموں کے نشان مٹا کر جائیے گا میں نے وہ بھی مٹا دیئے ہیں٫ ہر نشان مٹانے کے باوجود چند سوکھے پتے ہیں جو میں رکھ کر جارہا ہوں، آپ جب بھی ان پر قدم رکھیں گی میں آپ کی آہٹ پہچان لوں گا ، آپ کی ہر خواہش آنکھوں پر لیکن ان سوکھے پتوں کو آگ کی نذر مت کیجئے گا
میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ کو دکھ پہنچے لیکن میں نے تو صرف محبت کی تھی قرت العین ! ، جانے کیسے میری محبت آپ کیلئے آزمائش بن گئ، اس کے باوجود میں معذرت خواہ ہوں میری طرف سے آپ کو ملنے والے ہر دکھ کیلئے ،ہر تکلیف کیلئے ، آپ چاہیں تو معاف کردیجئے گا ورنہ عیسیٰ حیات آپ کو ہر سزا کا حق دیتا ہے ، میں نفرت کی صورت ہی صحیح لیکن آپ کی یاد میں رہنا چاہتا ہوں ، نفرت کی سزا بھول جانے کی سزا سے زیادہ سخت نہیں ہے
آپ اسے خود غرضی کہیں یا جو بھی لیکن میں آپ کی ادھوری تسبیح اپنے ساتھ لے کر جارہا ہوں ، اس تسبیح میں میرے دل کا آدھا حصہ قید ہے ، قیدی اب رہائ کا خواہش مند نہیں رہا ، لیکن میں منتظر رہوں گا کہ شاید کسی دن اس تسبیح کے دونوں حصے جڑ جائیں یہ خواہش سے زیادہ دعا ہے اور اب مجھے دعاؤں پر یقین آ گیا ہے
خدا آپ پر مہربان رہے
الوداع !
فقط ایک اجنبی مسافر !
اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور الوداع کے لفظ پر گرگیا ، اسے احساس نہیں ہوا لیکن وہ کب سے رو رہی تھی ،کس بات پر وہ نہیں جانتی تھی ، ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کئے اور خط کو دیکھا، خط گیلا ہوچکا تھا اس نے وہ دوبارہ پڑھا دو بار، تین بار ،کئ بار اور پھر طے کرکے لفافے میں ڈال دیا اور یہ تبھی تھا جب اسے لفافے میں کچھ اور بھی نظر آیا ، اس نے وہ باہر نکالا
وہ سفید رنگ کا موٹا گتے جیسا کاغذ تھا جس پر عیسیٰ کا موبائل نمبر اور ایڈریس لکھا تھا ، کیا وہ ان سوکھے پتوں کی بات کررہا تھا ؟ اس نے اپنی گیلی آنکھیں پونچھیں ، سفید پھول اٹھا کر لفافے میں ڈالے خط پہلے ہی اندر تھا لفافہ چھوٹا سا تھا اور الٹا سیدھا ڈالنے کی وجہ سے پھول گیا تھا ،دوسرے کارڈ کی جگہ نہیں بچی تھی اس نے دوسرا کارڈ اٹھایا اردگرد نظر دوڑائ اور پھر بستر پر پڑی کتاب کو دیکھا ، کاغذ کتاب میں ڈال کر کتاب بند کردی ، خاکی لفافہ اس نے الماری میں رکھ دیا کتاب اوپر شیلف پر
اسے اجنبی مسافر سے رابطے کا کوئ شوق نہیں رہا تھا ، لیکن کوئ تھا جو دل کے کسی چھپے ہوئے کونے سے کہہ رہا تھا کہ اس نے وہ لفافہ کیوں سنبھال لیا تھا ؟
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” عیسیٰ سے بات ہوئ تمہاری ؟”
شہوار نے چائے کا کپ نیچے رکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
” کل رات کو ہوئ تھی کہہ رہا تھا واپس آرہا ہے “
” اس لڑکی کا کیا ؟”
” اب یہ تو جب وہ واپس آئے گا تب ہی پتا چلے گا “
حیات نے صرف ہنکار بھرنے پر اکتفا کیا ، وہ دونوں شام کی چائے پر لان میں بیٹھے تھے ، سورج غروب ہوچکا تھا اور اب اندھیرا پھیلنے لگا تھا
” عیسیٰ کے بغیر گھر سنسان لگتا ہے نا حیات ؟”
وہ اداس سا مسکرائے
” زندگی بھی ۔۔”
چند لمحے کی خاموش چھا گئ وہ دونوں جیسے ماضی میں پہنچ گئے تھے ، عیسیٰ کی اور اپنی زندگی کے بہترین سال ضائع کرنے کا افسوس جاتا ہی نہیں تھا
ہارن بجا تو وہ دونوں چونکے ، گیٹ سے سیاہ رنگ کی گاڑی اندر آرہی تھی ، شہوار کے اندر سرشاری کی لہر دوڑ گئ
” عیسیٰ ۔۔”
وہ بے اختیار کھڑی ہوئیں ، عیسیٰ گاڑی پارک کر کے نیچے اتر رہا تھا وہ کسی ٹرانس میں چلتے ہوئے اس تک آئیں
” عیسیٰ ۔۔” وہ ٹھٹھک کر رکا اور شہوار کو دیکھا نظر بے ساختہ پیچھے کی طرف گئ ، حیات اٹھ رہے تھے
” ہیلو ۔۔۔۔مام “
شہوار آگے بڑھیں اور اسے گلے سے لگایا
” کیسے ہو ؟ ، اوہ میں نے تمہیں بہت مس کیا “
وہ کچھ مضطرب سے انداز میں پیچھے ہوا
” ٹھیک ہوں ،۔۔۔۔۔ میں آرام کرنا چاہتا ہوں ” اس نے حیات کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تھا لیکن وہ نہیں رکا ، لمبے لمبے قدم اٹھاتے وہ فورا اندر بڑھ گیا
” اسے کیا ہوا ہے ؟”
حیات ٹھٹھکے ، پریشان تو شہوار بھی ہوئ تھیں
” معلوم نہیں ، میں پوچھتی ہوں ” وہ پریشانی سے اندر جانے لگیں جب حیات کی آواز پر رکیں
” اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ؟”
وہ گاڑی کے بونٹ کو دیکھ رہے تھے شہوار کی نظروں نے ان کے تعاقب میں دیکھا اور دل دھک سے رہ گیا
” اسے چوٹ تو نہیں لگی ؟ “
ان کی نظریں بے چینی سے اندرونی دروازے تک گئیں ، حیات شاید کچھ کہہ رہے تھے، شاید کسی ملازم کو بلا رہے تھے لیکن شہوار اندر کی طرف بڑھ گئیں ابھی وہ لائونج میں ہی پہنچی تھیں جب ان کے کانوں میں وہ آواز آئ ، شیشہ ٹونٹنے کی زوردار آواز ، شہوار کا چہرہ سفید پڑا وہ آواز عیسیٰ کے کمرے سے آئ تھی
” عیسیٰ ۔۔”
ہلکا سا لبوں سے نکلا اور وہ لڑکھڑاتے قدموں سے عیسیٰ کے کمرے کی طرف بڑھیں ، دروازہ کھلا ہوا تھا وہ اندر گئیں تو نظر سب سے پہلے فرش پر پڑی
اردگرد ڈھیرو کرچیاں بکھری تھیں ، گلدان کے ٹکڑے اور پھول اور عیسیٰ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا تھا ٫ چہرہ جھکا رکھا تھا دونوں ہاتھ گردن پر تھے اور وہ گہرے گہرے سانس لے رہا تھا
” عیسیٰ ۔۔۔”
شہوار بے یقینی سے آگے بڑھیں ، عیسیٰ نے چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھا ، اس کی آنکھیں سرخ تھیں
” جائیں یہاں سے مام “
وہ بے زاری سے کہتے اٹھنے لگا ، شہوار نہیں گئیں انہوں نے جیسے عیسیٰ کو سنا ہی نہیں تھا ، وہ گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھیں اور اس کا ہاتھ تھاما ، وہ اٹھتے اٹھتے واپس بیٹھ گیا
” کیا ہوا ہے تمہیں “
” کچھ نہیں ۔۔”
وہ ضبط کررہا تھا
” مجھے بتائو عیسیٰ “
” میں نے کہا نا کچھ نہیں “
” عیسیٰ ۔۔”
” میں ٹھیک ۔۔۔” اس کے الفاظ منہ میں رہ گئے شہوار نے اسے گلے سے لگایا
” کیا ہوا ہے بچے؟”
اور وہ لمحوں میں بکھر گیا
” سب ختم ہوگیا مام سب ، میری زندگی میں سب کیوں چھن جاتے ہیں مجھ سے ؟ میرے پاس لوگ کیوں نہیں ٹھہرتے ؟ ” اس کی آواز کانپی
” مجھے بتائو کیا ہوا ہے ؟”
” اس نے کہا میری زندگی سے چلے جائو ، اس نے مجھے محبت کا واسطہ دیا مام ٫اسے کیوں لگتا ہے اس کی زندگی میں نے برباد کردی ہے ؟ میں نے تو صرف محبت کی تھی مام ” وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا ٫ الفاظ کپکپا رہے تھے٫ آنکھیں سرخ تھیں ،شاید آنسو بھی بہہ رہے تھے
” سب ٹھیک ہوجائے گا “
” کچھ نہیں ہوگا ٹھیک اب کچھ بھی نہیں ہوگا “
وہ اٹھا اور ڈریسنگ ٹیبل تک گیا وہاں رکھے سامان کو ہاتھ مار کر نیچے گرایا ، شہوار کے لبوں سے ہلکی سی چیخ نکلی
” عیسیٰ ۔۔”
اس نے وہی کھڑے کھڑے چند گہرے سانس لئے وہ جیسے اپنے اندر کی آگ بجھا رہا تھا
” آپ جائیں یہاں سے “
وہ بے زار تھا۔۔۔۔ دکھی تھا۔۔۔۔ تکلیف میں تھا اور اس وقت کم از کم اس وقت اسے کسی کی ضرورت نہیں تھی ، اسی پل اس کی نظر دروازے میں کھڑے حیات پر پڑی وہ شاکڈ تھے
” تمہیں کیا ہوا ہے “
اس نے جواب نہیں دیا ، بیڈ پر پڑی جیکٹ اٹھائ اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گیا ، شہوار اسے روکتی رہ گئیں لیکن اسے اس وقت صرف تنہائ چاہئے تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ تقریبا آدھی رات کو واپس آیا ، سفید ٹی شرٹ میلی سی ہورہی تھی ، بال بکھرے جیکٹ غائب تھی ، شہوار تب بھی اس کی منتظر تھیں اسے دیکھتے بے چینی سے اٹھ کھڑی ہوئیں
” عیسیٰ مجھے کچھ بتائو تو صحیح “
وہ تھکے انداز میں صوفے پر گرا ، پائوں لمبے کرکے رکھ دیئے بازوں آنکھوں پر رکھ لئے
” مجھے اکیلا چھوڑ دیں مام “
انہوں نے ایک بار یہ غلطی کی تھی ،وہ بچپن میں اسے اکیلا چھوڑ گئ تھیں ،وہ دوسری بار وہی غلطی نہیں دہرانا چاہتی تھیں ، آگے بڑھتے ہوئے وہ عیسیٰ کے سرہانے بیٹھیں اس کا سر اپنی گود میں رکھا
” ایسے مت کرو بچے “
وہ خاموش رہا ، شہوار نے ہاتھ اس کے گال پر رکھا ٫ اگلے کئ لمحے وہ کچھ نا بولا یہانتکہ شہوار کو لگا کہ وہ سوگیا ہے
” میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے مام ؟”
بند آنکھوں سے وہ بہت دھیرے سے بولا تھا اتنا دھیرے کہ اگر وہ اس کے سرہانے نا بیٹھی ہوتیں تو شاید سن بھی نا پاتیں ” مجھے وہ لوگ کیوں چھوڑ جاتے ہیں جو میرے پسندیدہ ہوتے ہیں ؟ آپ ،ڈیڈ ، دادا ، قرت ، مجھ سے لوگ کیوں چھن جاتے ہیں؟” شہوار کا دل شدید دکھی ہوا
” آئ ایم سوری عیسیٰ “
” آپ لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ مجھے بھی فرق پڑتا ہے ، آپ لوگوں کی اپنی مصروفیات تھیں ، اس کی اپنی مجبوریاں تھیں اور میرا کیا مام ؟ میرے احساسات کا کیا ؟”
” آئ ایم سوری ۔۔۔”
” آپ سب میرا کیوں نہیں سوچتے ؟٫ میں آپ سب کی زندگی میں کیوں نہیں آتا ؟ پہلے مقام پر نا صحیح آخری پر ہی رکھ کر آپ لوگ میرا کیوں نہیں سوچتے ؟ ، میری اتنی بڑی غلطی بھی نہیں تھی جتنی بڑی سزا مل گئ “
” آئ ایم سوری عیسیٰ”
” ایک سوری سب ٹھیک کردے گا مام ؟”
” نہیں ۔۔۔لیکن تمہاری معافی ٹھیک کردے گی ، ہم سب شروع سے شروع کرتے ہیں نا عیسیٰ ، تم بس ہمیں معاف کردو ” انہوں نے جھک کر عیسیٰ کا ماتھا چوما ” سب ٹھیک ہوجائے گا ، ہم سب ٹھیک کرلیں گے “
اسے احساس ہوا شہوار رو رہیں تھیں اسے احساس ہوا شاید اس کی بھی آنکھیں نم تھیں
” میں ٹھیک ہوجائوں گا مام٫ ہمیشہ ہوجاتا ہوں ، سب چلے جاتے ہیں ، میرے غم اور میں وہیں رہ جائیں گے ، لیکن میں ٹھیک ہوجائوں گا “
اس کی آواز دھیمی ہوئ شاید اسے نیند آرہی تھی ، شاید وہ سونا چاہتا تھا ، شاید وہ جاگنا چاہتا تھا ، شہوار نے آنسو صاف کرتے ہوئے سر اٹھایا، لائونج کے سرے پر حیات ٹھہرے تھے ، چہرے پر بہت دکھ اور آنکھوں میں نمی لئے انہوں نے شہوار کو دیکھتے سر کو خم دیا اور دھیمے قدموں سے آگے بڑھے ، شہوار کے مقابل صوفے پر بیٹھے اور عیسیٰ کو دیکھے گئے
” آپ کہیں نہیں جائیں گی نا اب ؟”
وہ نیم غنودگی میں تھا ، شہوار نے سر ہلایا
” کہیں نہیں عیسیٰ ۔۔کہیں نہیں “
اس کا دماغ مکمل غنودگی میں چلا گیا سونے سے پہلے اسے احساس ہوا شاید وہاں کوئ اور بھی موجود تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ صوفے پر اکیلا تھا ، سستی سے اٹھتے ہوئے اردگرد دیکھا ، ایک پل کو لگا وہ سب خواب تھا لیکن رات کے مناظر دھیرے سے ذہن میں آنے لگے اس نے تھکے سے انداز میں سر صوفے کے پشت پر گرادیا ، ایک بار پھر اذیت تازہ ہوگئ تھی
” تم جاگ گئے ؟” اس نے سر دھیرے سے موڑا، شہوار سیڑھیوں سے اتررہی تھیں ، تروتازہ مسکراتی ہوئی
” جی ۔۔”
” ناشتہ لگوائوں ؟”
” نہیں “
آنکھوں کو مسلتے ہوئے اس نے سر اٹھایا تو نظر حیات پر پڑی ، وہ سیاہ پینٹ کوٹ پہنے مکمل تیار لگ رہے تھے
” آپ دونوں اتنی صبح کہاں جارہے ہیں ؟”
” دوپہر کے دو بج رہے ہیں عیسیٰ ” وہ ٹھٹکا پھر کسلمندی سے اٹھتے ہوئے اس نے سر جھٹکا
” مجھے کوئ ڈسٹرب نا کرے ” جینز میں ہاتھ ڈالے وہ اوپر کی طرف بڑھ گیا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زین نے شیشے کے دروازے کے پار بیٹھے حیات اور شہوار کو دیکھا تھا ، بے اختیار اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور پھر شرٹ پر ، تھوک نگلتے ہوئے وہ آگے بڑھا
” السلام علیکم انکل آنٹی “
” وعلیکم ۔۔۔بیٹھو ” وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا
” خیریت تھی ؟”
” نہیں ، اس لئے ہی بلایا تھا “
اس نے شہوار اور پھر حیات کو دیکھا دونوں کے تاثرات ایک جیسے تھے ، سنجیدہ اور مشکوک
” میں سن رہا ہوں ۔۔۔”
” عیسیٰ کو کیا ہوا ہے زین ؟”
” کیا ہوا ہے ؟” اس نے ابرو اچکائے
” دیکھو لڑکے ! ” حیات آگے کو ہوئے ” میرے ساتھ فضول کی باتیں مت کرنا کیونکہ مجھے یہ پسند نہیں ہے، صاف صاف بتائو ملتان میں کیا کیا ہوا تھا “
زین نے پہلو بدلا
” یہ عیسیٰ کا راز ہے انکل “
” اور تم اس وقت اس کے باپ کے سامنے بیٹھے ہو “
” وہ مجھ سے ناراض ہوجائے گا “
” مجھے پرواہ نہیں ہے ، تم جواب دے رہے ہو یا میں کسی اور سے پتا کروائوں ؟”
زین نے گہری سانس لی ، وہ ان دو بزرگوں کی بیچ بہت برا پھسنا تھا
اور پھر اس نے سب بتا دیا، الف سے لے کر یا تک ، بنا کوئ بات چھپائے ، جب سب بتا کر اس نے ان دونوں کے چہرے دیکھے تو دونوں کے تاثرات مختلف تھے ، حیات کا چہرہ سپاٹ اور شہوار کا بے چین تھا
” وہ ایسے کیسے عیسیٰ کو چھوڑ سکتی ہے ؟”
شہوار بے یقینی سے آگے کو ہوئیں
” یہ سب یک طرفہ تھا آنٹی ٫ صرف عیسیٰ کی طرف سے ٫ وہ عیسیٰ سے محبت نہیں کرتی تھی “
” ہاں لیکن وہ ان سب کا الزام عیسیٰ پر کیسے ڈال سکتی ہے ؟ “
” وہ بہت ریزروڈ سے لوگ ہیں ٫ بہت مذہبی قسم کے ٫ جو کچھ ہوا وہ شاید آپ کیلئے معنی نا رکھتا ہو لیکن ان کیلئے بہت اہم ہے “
” تم مجھے اس لڑکی کے گھر کا ایڈریس دے سکتے ہو ؟”
” نہیں۔۔۔ عیسی کو اچھا نہیں لگے گا “
” تم اس کی پرواہ مت کرو ، میں ہینڈل کرلوں گی اسے”
” آنٹی وہ سب ختم کرکے آیا تھا وہاں سے “
اس نے سمجھانا چاہا
” میں کہیں اور سے بھی پتا کرواسکتی تھی زین ٫ تم بتادوگے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا “
اس نے کان کھجائے
” اوکےکےےے ۔۔۔لیکن ۔۔۔”
” مجھے صرف ایڈریس بتائو “
” آپ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟”
” مجھے اس سے ملنا ہے، صرف ایک کوشش کرنی ہے شاید میں کچھ کرسکوں “
” میرا نہیں خیال اس کا اب کوئ فائدہ ہے “
” تم صرف ایڈریس دو ٫ فائدہ یا نقصان کی فکر ہمیں نہیں ہے ویسے بھی ہم نے ٹکٹ بک کروالئے ہیں “
اس کا منہ ہلکا سا کھلا پھر فورا بند کرلیا
” انکل ، عیسی کو اچھا نہیں لگے گا “
” زین۔۔۔۔۔”
” اوکے اوکے ” اس نے فورا دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے ” نوٹ کرلیں “
اس دن پہلی بار اسے احساس ہوا کہ عیسیٰ صحیح کہتا تھا وہ اس کے ماں باپ کے سامنے سب بک دیا کرتا تھا
