Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 2)

Nahal By Fatima Noor 

صبح ہونے میں اور صبح کی آذانیں آنے میں ابھی تھوڑاسا وقت تھا شہروں میں سے چند محلے ، محلوں میں سے چند گھر تھے جہاں تہجد کی نمازیں پڑھنے والے تھے ، انہیں شہروں میں سے شہر ملتان کے نواحی گائوں میں ایک گھر نعمان صاحب کا بھی تھا، جہاں برآمدے کا چھوٹا بلب روشن تھا اور نعمان صاحب جائے نماز پر بیٹھے دعا مانگ رہے تھے ، ان سے قدرے فاصلے پر ایک اور جائے نماز بچھی تھی جس پر بیٹھی قرۃ العین جائے نماز تہہ کرتی اٹھ رہی تھی اس کی دعائیں ابا کی نسبت چھوٹی ہوتی تھیں ، جائے نماز تخت پر رکھ کر وہ آہستہ قدموں سے نعمان صاحب کی جائے نماز کے پاس بیٹھ گئ ، انہوں نے دعا مانگ کر منہ پر ہاتھ پھیرا اور قرت کو دیکھا وہ روز روز نہیں اٹھا کرتی تھی لیکن کبھی کبھی تہجد کے وقت وہ بھی نماز ادا کرلیا کرتی تھی ، اسے دیکھتے نعمان صاحب مسکرائے وہ ان کی سب سے پہلی اولاد تھی ، اس لئے باقی سب سے تھوڑی سی زیادہ عزیز تھی

” کچھ کہنا ہے ؟”

گود میں دھرے ہاتھوں کو دیکھتی قرت نے سر نفی میں ہلایا اور پھر سر اٹھاکر انہیں دیکھا

” امی سے بات کی آپ نے ؟”

نعمان صاحب جو نماز پڑھ کر اٹھ رہے تھے واپس بیٹھ گئے

” ابھی نہیں کی “

” وہ مان جائیں گی نا ؟”

” سچ کہوں یا رہنے دوں ؟”

” سچ کہیں ابا ، بالکل سچ “اس نے دل کو مضبوط کرلیا، وہ چند لمحے اسے دیکھتے رہے اور پھر ان کے شفیق چہرے پہ مسکراہٹ ابھری

” وہ مان جائیں گی ” اس کے چہرے پہ کوئ خوشی نظر نہ آئ

” آپ مجھے تسلی دے رہے ہیں نا صرف؟”

” تمہیں لگتا ہے میں تمہیں تسلی دینے کو جھوٹ بولوں گا ؟” اس نے گہری سانس لی اور گود میں دھرے اپنے ہاتھوں کو دیکھا ، اسے یقین تھا کہ اماں نہیں مانیں گی جبکہ ابا کا خیال تھا کچھ پس وپیش کے بعد وہ مان جائیں گی ،قرت ان سے کہنا چاہتی تھی کہ وہ اپنی ماں کو جانتی ہے شاید وہ اس پر یقین نہیں کرتیں لیکن نہ کہہ سکی، حیا آڑے آتی تھی

” قرت ۔۔۔۔۔” اس نے دھیرے سے سر اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھے ابا کو دیکھا

“تم تسبیح ساتھ لے کر جائو گی ؟” اور وہ جی جان سے مسکرادی

” بالکل “

” تم گم کردو گی وہاں پر ” وہ جائے نماز سے اٹھ کھڑے ہوئے

” وہ تسبیح میرے دل سے جڑی ہے ابا ، جس دن تسبیح گم کردی یوں سمجھئے گا اپنے دل کا ایک حصہ گم کردیا ” نعمان صاحب کا جائے نماز تہہ کرتا ہاتھ تھما

” کسی شیئے کو اتنا عزیز نہیں رکھتے ، عزیز چیزوں کے بچھڑنے کا غم زیادہ ہوتا ہے ان پر صبر بھی زیادہ کرنا پڑتا ہے”

” میں اسے گم ہی نہیں ہونے دوں گی ” وہ سادگی سے کہتی اٹھی اور ان کے ہاتھ سے جائے نماز لے لی، ابا صبح چائے ضرور پیتے تھے، اکثراوقات وہ خود بنالیتے لیکن جب کبھی وہ تہجد پڑھا کرتی تو وہ چائے بنا دیا کرتی تھی ،سو ابھی انہیں چائے بناکردینی تھی اس کے جانے کے بعد نعمان صاحب ساتھ رکھی چارپائی پر بیٹھ گئے اور اس پر رکھی تسبیح کو دیکھے گئے

☆☆☆☆☆☆☆

اس نے مٹی کے چھوٹے سے کٹورے میں پانی بھر کر رکھا اور ہاتھ میں تھامے گندم کے دانے چھت پہ پھینکے ، چار پانچ دن سے بلا کی گرمی پڑ رہی تھی سو آس پاس کا علاقہ تقریبا خالی تھا ، دانے پھینکنے کی دیر تھی کہ ڈھیروں کبوتر چھت پر آبیٹھے وہ ایک آخری نظر ان پر ڈال کر نیچے آگئ ، ابا آ گئے تھے اور اماں ان کو کھانا دے رہی تھیں

قرت العین بیٹا، پانی لے آئو ” اماں کی آواز پر برآمدے میں رکھے کولر تک گئ اور گلاس میں پانی ڈالا ابا فریج کا ٹھنڈا پانی نہیں پیتے تھے

” کس دن جانا ہے اسلام آباد؟ “

نعمان صاحب کے استفسار پر اس نے ایک نظر اسی طرف آتی اماں پر ڈالی اور پانی رکھتے سیدھی ہوئ

” ایک ہفتے بعد ، سوموار کو ، اماں مان جائیں گی؟” نعمان صاحب اس کے اندیشے پر مسکرا دیئے

” مان جائیں گی ” اسے یقین دلایا تو وہ سر ہلاتی برآمدے کی اوٹ میں ہوگئ، اسے اماں کا ماننا مشکل لگ رہا تھا

” نیک بخت یہاں بیٹھو ” وہ جو کھانا رکھ کر جارہی تھیں نعمان صاحب کے پکارنے پر وہیں بیٹھ گئیں

” کچھ کہنا ہے ؟”

” قرت کے مدرسے سے فون آیا تھا ، ان کی بچیاں کچھ دن کیلئے اسلام آباد کے کسی مدرسے میں جارہی ہیں ، قرت کے جانے کی اجازت مانگ رہے تھے ” نوالہ لیتے ہوئے ان کو دیکھا

” تو ؟”

” تو یہ کہ میں نے ہاں کردی “

” ایسے کیسے ہاں کردی ، ہم نہیں بھیج رہے بچی کو اتنا دور ” نعمان صاحب نے تحمل سے ان کے غصے سے بھرے چہرے کو دیکھا اور گلاس اٹھایا

” اکیلی نہیں ہوگی قرت اور بھی بچیاں ہوں گی “

” پھر بھی آپ منع کردیں ” وہ حتمی انداز میں بولیں ٫اس کا دل ڈوبا اسے یہی امید تھی

” نیک بخت کیوں بچی کا دل خراب کرنا چاہتی ہو “

” اس کا دل خراب کرنا اس کی عزت خراب کرنے سے بہتر ہے ، جانتے بھی ہیں خاندان والے کیا کیا نہیں کہیں گے “

” آپ چاہتی ہیں میں لوگوں سے ڈر جائوں ؟”

” آپ ڈر جائیں ، تھوڑا سا ہی ڈر جائیں “

” میں اللہ سے ڈرتا ہوں یہ ڈر کافی ہے ، وہ اکیلی جانے کا کہتی تو میں ہرگز اجازت نہ دیتا ، وہ دیگر بچیوں کے ساتھ جارہی ہے تو میں ہرگز منع نہیں کروں گا ، وہ گھومنے کیلئے جاتی تو بھی میں شاید منع کردیتا وہ وہاں تعلیمی تبادلے کیلئے جارہی ہے ، اور اس کام کیلئے میں نہیں روکوں گا ” وہ کھانا ختم کرتے اٹھ کھڑے ہوئے

” آپ پہلے ہی فیصلہ کرچکے ہیں تو مجھ سے کیوں پوچھا ” وہ شکوہ کناں ہوئیں

” میں نے مدرسے ہاں کی تھی قرت کو اجازت نہیں دی تھی اس کی ذمہ داری آپ پر ہے، آپ کی مرضی ہے اس کا دل رکھیں یا نہ رکھیں ” وہ نرمی سے کہتے ہوئے ہاتھ دھونے چلے گئے ،قرت برآمدے کی اوٹ سے باہر آئ

” اماں ۔۔”

” اب تم بھی مجھے سنانے لگ جائو ، میں تو پتھردل ہوں نا جسے تمہاری خوشی کا احساس نہیں ہے ” وہ ناراض سی تھیں قرت ان کے ساتھ بیٹھی اور ان کے ہاتھ کو تھاما

” آپ منع کردیں گی تو میں نہیں جائوں گی ” سعدیہ دھمیں پڑیں

” قرت بچہ یہ مناسب نہیں ہے تم جانتی ہو یہاں سب کیا کیا باتیں بنائیں گے “

” اماں میں نے کہا نا آپ منع کردیں گی تو میں نہیں جائوں گی ، آپ کا حکم سر آنکھوں پہ ” وہ اٹھ کھڑی ہوئ ، سعدیہ نے اس کی آنکھوں کی بجھتی جوت سے نظریں چرائیں

” میں دروازہ بند کر آئوں ” سر پہ دوپٹہ درست کرکے وہ دروازے کی طرف بڑھی جہاں ابا کھڑے تھے

” وہ مان جائیں گی بیٹا میں نے کہا نا “

وہ ہلکا سا مسکرائ

” وہ میری اماں ہے ابا ، میں جانتی ہوں وہ نہیں مانیں گی “

” اور میری بیوی ہے وہ میں نے کہا نا وہ مان جائیں گی ” وہ بس مسکرادی ، ابا چلے گئے اور اس نے دروازہ بند کردیا

☆☆☆☆☆☆☆

” یہ کلالہ نے تو سر گھمادیا ہے میرا ” حریم نے کتاب ڈیسک پر زور سے رکھی اور ساتھ بیٹھی قرت کو دیکھا جو رجسٹر پہ کچھ لکھ رہی تھی ” تمہیں کیا ہوا ہے ؟

” مجھے کیا ہونا ہے ؟ “

” اداس لگ رہی ہو “

” حالانکہ میں پریشان زیادہ ہوں “

” وہ کیوں بھلا ؟”

” پیپر صدیقی پیپر، ڈھائ مہینے رہ گئے ہیں صرف اور تیاری ہماری یہ ہے کہ کلالہ کے مسائل ہی یاد نہیں ہورہے “

” چھوڑو کلالہ کو ، ہوجائے گا ” اس نے گویا ناک سے مکھی اڑائ ” تم یہ بتائو ، خالہ نے اجازت دی جانے کی ؟ “

قرت نے رجسٹر بند کرکے اسے دیکھا

” ابا نے کہا ہے دے دیں گی ، تم نے بات کی ؟”

دوسری لڑکی کا انتخاب ہوگیا تھا ، وہ ماریہ ابراھیم تھی منتظم صاحب کی رشتے دار ، اور اس پر ان میں سے ہر ایک کو اعتراض تھا اس کے باوجود کسی نے کچھ نہیں کہا تھا ، جبکہ قرت کے نا جانے کی صورت میں دوسرا آپشن حریم تھی

” نہیں ” وہ جو رجسٹر دوبارہ کھول رہی تھی رک گئ

” کیوں ؟”

” میں متبادل کا سوچ ہی نہیں رہی کیونکہ مجھے یقین ہے کہ تم ہی جائو گی ” وہ مسکرادی

” تمہیں کیسے معلوم؟ “

” میرا دل کہتا ہے ” اس کا اطمینان قابل دید تھا

” اپنے دل سے کہو وہ دعا کرے کہ اس کا کہا سچ ہوجائے، دوسری صورت میں اپنی زبان سے کہو وہ الفاظ سوچ لے جن سے تمہارے سسرال والوں سے اجازت لینی ہے “

” نا میری زباں کے پاس وہ الفاظ ہیں اور نا مجھے کسی نے اجازت دینی ہے “

” اچھا گمان رکھو “

” گمان اچھا ہے ، لیکن تمہارے لئے “

وہ ہنس دی

” بہت شکریہ محترمہ “

حریم کورنش بجالائ تو اس نے بھی سر جھٹکتے ہوئے رجسٹر پھر سے کھول لیا

☆☆☆☆☆☆☆

ہونٹوں پہ کوئ مدھم سا ساز گنگناتے وہ ابھی زینوں کے درمیان میں ہی تھا جب پائوں اور زبان دونوں کو بریک لگی، ہال میں حیات اور مسز شہوار براجمان تھے، شہوار برے موڈ کے ساتھ حیات صاحب سے کچھ کہہ رہیں تھیں اور وہ چائے کے گھونٹ بھرتے سر ہلاتے ہوئے سن رہے تھے ( یقینا میری شکایتیں لگا رہی ہوں گی ) اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا ،

وہ اس کے ایکسیڈنٹ کے ایک ہفتے بعد کا ذکر تھا اس ایک ہفتے میں اس نے خاموشی کے ساتھ شہوار کی ہر بات مانی تھی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ تابعدار ہوگیا تھا وجہ اس کا بینک اکائونٹ تھا جسے کسی بھی ایسی دوبارہ کی جانے والی حرکت کے نتیجے میں شہوار بند کرانے کی دھمکی دے چکی تھیں ، وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا آخری زینے پہ رکا

” ہیلو ڈیڈ ، آپ کب آئے ؟”

” آج صبح ” انہوں نے کپ میز پر رکھ دیا

” آئ سی ، اتنی جلدی ” ابرو اٹھائے تعجب سے اسفسار کیا

” کیا تمہیں میرے آنے کی خوشی نہیں ہوئ “

” مجھے آپ کے جانے کا دکھ بھی نہیں ہوا تھا ” وہ زینے اترتا ٹیبل کے سامنے آیا ایک کیک کا پیس اٹھایا ” میں اب بچہ نہیں رہا جو آپ دونوں کے باہر جانے پر دروازے کے ساتھ لگ کر رویا کرتا تھا میں اب بڑا ہوچکا ہوں ” ہال میں چند لمحے خاموشی چھا گئ پھر حیات صاحب کھنکارے

” کچھ زیادہ ہی بڑے ہوگئے ہو، چوٹ کیسے لگی ؟ “

” مام نے بتا تو دیا ہوگا آپ کو ” اس نے کاندھے اچکائے

“بتایا ہے ، لیکن میں تم سے سننا چاہوں گا “

” زیادہ کچھ نہیں ،ون ویلنگ کرتے ہوئے بائیک کسی گاڑی سے ٹکرا گئ تو کاندھا ہلکا سا فریکچر ہوگیا ” وہ پیسٹری ختم کرتے اٹھ کھڑا ہوا

” تمہارے دوستوں کو کیوں نہیں لگتیں ایسی چوٹیں ؟”

” وہ بزدل ہیں اس لئے، ون ویلنگ کے نام پر بائیک تیز چلانا آتی ہے بس ” اس نے گویا ناک سے مکھی اڑائ

” تم اسے بہادری کہتے ہو ؟” اس کے فریکچر زدہ ہاتھ کی طرف اشارہ کیا

” میں اسے ایڈونچر کہتا ہوں “

” اور میں بیوقوفی “

” میرے اور آپ کے نظریات ہمیشہ سے مختلف رہے ہیں ڈیڈ اینی ہائو میں چلتا ہوں، سی یو ” بنا کوئ جواب سنے وہ گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر نکل گیا حیات صاحب پیچھے سے گہری سانس لیتے صوفے پر واپس بیٹھے

” آپ اسے کچھ کہتے کیوں نہیں ہیں ” خاموش بیٹھی شہوار پہلی مرتبہ بولیں

” اب کچھ کہنے کا وقت گزرچکا شہوار ہم نے اس کی چوٹوں کے بارے میں پوچھنے میں دیر کردی ” ان کے لہجے میں تھکن اتری

” یہ آپ کے بابا کی غلطی ہے انہوں نے ہی اسے بگاڑا ہے “

” ہاں انہوں نے ” یہ سب سے آسان طریقہ تھا اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے منہ موڑنے کا ان کے والد زندہ نہیں تھے سو وہ عیسیٰ کے بگڑنے کا سارا الزام ان پر لگا دیا کرتے تھے اور حیات صاحب سوچا کرتے تھے کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو وہ کس کو الزام دیتے

☆☆☆☆☆☆☆

” آپی “

” ہوووں “

” میرے لئے اسلام آباد سے کیا لائیں گی ؟” آلو چھیلتا اس کا ہاتھ رک گیا ، سر اٹھا ساتھ بیٹھی مہرالنساء کو دیکھا جو کتابیں پھیلائے کام کررہی تھی

” تم سے کس نے کہا میں اسلام آباد جارہی ہوں ؟”

” ابا اماں سے بات کررہے تھے ، تو میں نے سن لیا ” وہ خاموش رہی

” بتائیں نا ۔۔۔”

” کیا بتاؤں بھئ “

” یہی کہ کیا لائیں گی میرے لئے “

” جاؤں گی تو کچھ لائوں گی نا ، میں جاہی نہیں رہی “

” کیووں ؟”

” ویسے ہی ، تم سبق یاد کرو اپنا “

وہ جھنجھلا گئ مہر خاموش ہوگئ

” اماں نے منع کیا ہے نا ؟ ، وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ یہی کرتی ہیں ، پچھلی مرتبہ صدف باجی لوگ جب مری جارہے تھے تو اماں نے منع کردیا تھا اب اسلام آباد کیلئے بھی منع کردیا ، اماں آپ کو ہمیشہ تکلیف دے جاتی ہیں ۔۔”

” مہر ۔۔” اس کی آواز سخت ہوئ ” خاموش ہوجائو ، ایسی کوئ بات نہیں ہے ، “

” ایسا ہی ہے ، آپ مانیں یا مانیں ” وہ غصے سے وہاں سے واک آؤٹ کرگئ ، قرت جیسے صدمہ زدہ سی وہیں بیٹھی رہ گئ ، اور صدمہ تو اماں کو بھی لگا تھا جو کچن سے آرہی تھیں اور ان کی آواز سن کر رک گئ تھیں

☆☆☆☆☆☆☆

” کل بازار چلنا میرے ساتھ تمہارے دو چار سوٹ لینے ہیں “

عبایا پہنتے ہوئے اس نے اپنے پیچھے اماں کی آواز سنی

” کچھ دن پہلے ہی تو لئے تھے “

” وہ گھر کیلئے لئے تھے اسلام آباد وہی گھر والے کپڑے لے کر جائو گی ؟ ” قرت جھٹکے سے پیچھے مڑی

” اسلام آباد؟”

” کیوں؟ نہیں جانا کیا ؟”

” نہیں ۔۔۔میرا مطلب آپ اجازت دے رہی ہیں ؟” قدرے جھجک کر پوچھا

” ہاں اجازت دے رہی ہوں ” وہ قدرے خوشی اور بے یقینی سے آگے بڑھی اور اماں کو گلے لگا لیا

” بہت بہت شکریہ اماں “

” اچھا اچھا ، زیادہ خوش مت ہو ، نظر لگ جاتی ہے “

” نہیں لگتی ، میں دعائیں پڑھتی ہوتی ہوں ” وہ ہنس کر کہتے پیچھے ہٹی ، اماں کچھ دیر خاموش رہیں ، اور وہ اپنی تیاری کرتی رہی

” قرت “

” جی “

” میں نے تمہیں مری اس لئے جانے سے منع کیا تھا کہ صدف وغیرہ کے ساتھ ان کے بھائ بھی جارہے تھے ، تم یہ مت سمجھنا کہ تمہاری ماں تمہارا دل، دکھانا چاہتی تھی ” وہ دستانے پہنتے ہوئے رک گئ اماں کو دیکھا اور آہستہ سے ان کے سامنے آئ

” جانتی ہوں اماں ، آپ منع نا کرتیں تو میں خود کردیتی ، ” سہولت سے کہتے ہوئے ان کے ہاتھوں کو تھاما تو وہ مسکرادیں

اس صبح جب وہ مدرسے آئ تو حریم وہیں گیٹ کے پاس اس کا انتظار کررہی تھی

” کیا بنا ؟” وہ اسے دیکھتی بے تابی سے بولی

” واصبر واصبر ” وہ ہنسی

” نہیں ہوتا صبر تم بتائو مان گئیں خالہ ؟”

” مان گئیں “

” اللہ تیرا شکر ” اس نے جیسی اطمینان کی سانس لی

” اور تم ؟ ” وہ ساتھ چلتے ہوئے اپنی جماعت کی طرف جارہی تھیں ، اردگرد سیاہ برقعے میں ملبوس لڑکیوں کا ہجوم تھا

” میں کیا ؟” حریم کا منہ بگڑا ” والدم محترم کو منانے کی نوبت ہی نہیں ائ ، امی نے صاف جواب دے دیا کہ تمہارے سسرال والے نہیں مانیں گے ” اس کا نکاح دوسال پہلے ہی اس کے ماموں کے بیٹے سے ہوچکا تھا اور اب بات بات پہ حریم کو ان سے شکوے رہتے تھے

” اوہ ،۔۔۔”

” مجھے پتہ تھا وہ نہیں مانیں گے اس لئے چھوڑو اور ہاں زیادہ دوستی نبھانے کی ضرورت نہیں ہے ، خاموشی سے جاکر نام درج کرائو ، مجھے وہاں جاکر تصویریں بھجوادینا ” وہ جھڑک کر بولی تو قرت العین مسکرادی، وہ مخلص تھی اور بے ریا تھی ، کم از کم قرت کے ساتھ اس کے خلوص پر کوئ شک نہیں تھا

” اچھا مدینہ اچھا چلیں اب ، باجی جان نے دیکھ لیا تو ڈانٹ دیں گی ، آپ دونوں کا بس چلے تو یہیں کھڑے ہو کر سارے دن باتیں کرلیں ” ان کے پیچھے سے حنا نے آکر دونوں کو ڈانٹا تو وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے آگے بڑھ گئیں ، یہ سچ تھا کہ وہ واقعی وہاں کافی دیر سے کھڑی تھیں اور کافی دیر تک کھڑی رہ سکتی تھیں