Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 29)

Nahal By Fatima Noor 

” انہوں نے کہا اور آپ نے مان لیا ؟ ایسے کیسے وہ کسی اور سے اس کی شادی کرسکتے ہیں “

جواد بپھرے شیر کی مانند یہاں سے وہاں چکر لگارہا تھا ، چہرہ غصے اور غضب سے سرخ پڑچکا تھا

” بیٹی ہے اس کی ، جہاں مرضی چاہے کرے “

” وہ میری منگیتر ہے اماں “

وہ دبا دبا چیخا

” منگیتر تھی ، وہ بھی بس تمہارے خیالوں کی حد تک ، انہوں نے کبھی یہ رشتہ طے نہیں کیا تھا “

۔تائ نے پائوں دباتے ہاتھ جھلایا ، وہ جب سے وہاں سے واپس آئ تھیں جلتے توے پر بیٹھی تھیں ، ذہن سے وہ بڑے بڑے ڈبے نہیں نکل رہے تھے

” میں دیکھتا ہوں کیسے کرتے ہیں وہ اس عیسیٰ سے قرت کی شادی “

” اگر تم نے کچھ کیا تو میرا مرا منہ دیکھوگے “

فرزانہ کے پائوں دباتے ہاتھ اور جواد کی چلتی زبان دونوں رک گئے ، دروازے میں کریم صاحب ٹھہرے تھے ، چہرے پر سختی لئے جواد کو گھورتے ہوئے

” بہت محبت جاگ رہی ہے بھتیجی کی آپ کے اندر ابا ، اور بیٹے کا کیا ؟”

” کون سی بھتیجی؟ کون سا بھائ ؟ ہر تعلق ختم ہوگیا نعمان سے “

لمحے بھر کو جواد خاموش ہوگیا ، ابا کی آواز دو ٹوک تھی

” اسی وقت چچا کو مجبور کرلیتے تو میرا نکاح ہورہا ہوتا قرت سے، نا تعلق ٹوٹتا نا غم ہوتا “

” نہیں ہورہا نا نکاح ؟ بات ختم ، آئندہ قرت کا زکر بھی مت کرنا اپنی زبان سے ، اس گھر سے وہاں کوئ شادی میں نہیں جائے گا ، ہر تعلق ختم سمجھو تم لوگ “

آخر پر لمحہ بھر کو ان کی آواز کانپی ، ٹوٹی پھر وہ اسی سخت چہرے سے آگے بڑھ گئے ، جواد کی نظر چارپائ پر بیٹھی ماں پر پڑی

” ان کو کیا ہوا ہے ؟”

” کیا ہونا ہے ؟ بھائ نے مان توڑا ہے اور کیا ، اور ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں تمہارے ابا ، قصہ ختم سمجھو قرت العین کا ، بہت لڑکیاں ہیں علاقے میں اور بھی “

وہ بڑبڑاتے ہوئے اٹھیں اور اندر کمرے کی طرف بڑھ گئ ،جواد کی نظر دروازے پر گئ

” اتنی آسانی سے نہیں اماں “

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اس نے نیل پینٹ نکالتی لڑکی کو دیکھا اور ہاتھ پیچھے کرلئے

” میں یہ نہیں لگائوں گی “

” کیوں ؟”

” نماز پڑھنی ہوتی ہے “

” تو آپ اتار لیجئے گا “

” پھر فائدہ لگانے کا ؟”

نرمی سے پوچھا ، لڑکی چند لمحے رک کر اسے دیکھتی رہی پھر نیل پینٹ رکھ دیا ، پچھلے ایک گھنٹے سے اس دلہن نے اسے زچ کرکے رکھ دیا تھا

” میں مصنوعی پلکیں نہیں لگائوں گی “

شروع شروع میں جب اس نے قرت کے چہرے پر ہلکا میک اپ کرنے کے بعد مصنوعی پلکیں لگانی چاہئیں تو اس نے منع دیا

” یہ نقصان دہ نہیں ہیں “

اسے لگا شاید اسے الرجی ہوتی ہو اس لئے منع کیا ہے

” آنکھوں کیلئے نہیں ہیں ، ایمان کیلئے ہیں “

” جی ؟”

” مصنوعی بال لگانا اسلام میں جائز نہیں ہے ، چاہے آنکھوں پر چاہے سر پر”

” دلہن تو لگاسکتی ہیں “

” دلہن کیلئے احکام تبدیل نہیں ہوتے “

اس نے بحث نہیں کی ، اگر دلہن خود منع کررہی تھی تو وہ کیا کہتی ، کچھ دیر بعد وہ اس کی آنکھوں کا میک اپ کرنے لگی تو اس نے ایک بار پھر ٹوک دیا

” اتنا گہرا میک اپ نہیں کرنا مجھے ، آپ صرف کاجل لگادیں “

” آپ دلہن ہیں یارر “

وہ جھنھھلاگئ

” دلہن ہوں ، پردہ نہیں چھوڑا “

” آج کے دن تو چھوڑدیں ، اتنا تو چلتا ہے “

” آج کے دن پردہ نا چھوڑنا ہی تو امتحان ہے ، شادی ہوجائے گی ان سب کے بغیر بھی ، “

اور وہ لڑکی کچھ بے بسی سے اسے دیکھ کر رہ گئ

اور اب ان کو نیل پینٹ نہیں لگانا تھا ، میک اپ بھی اس قدر ہلکا کروایا تھا کہ اسے یقین تھا دلہن سے زیادہ تو دوسری لڑکیاں تیار ہوں گی ، ناں بالوں کا جوڑا بنوایا تھا ، نا کچھ اور ، عجیب دلہن تھی اور اسے شہوار اسپیشلی اسلام آباد سے اپنے ساتھ لائ تھیں ، ایسا میک اپ تو گھر پر خود ہوجاتا ، وہ میک اپ کا سامنا سمیٹتی سوچ رہی تھی

” میرا عبایا کہاں رکھا ہے آپ نے ؟”

پیچھے پڑے ڈھیروں سامان میں سے عبایا ڈھونڈتی قرت نے رک کر اس لڑکی سے پوچھا

” اتنے مہنگے ڈریس پر عبایا پہنیں گی ؟ چادر لے لیں “

” مجھے اپنی زینت ہر کسی کو نہیں دکھانی ، عبایا ؟ “

وہ دونوں ہی شاید ایک دوسرے سے تنگ آگئ تھیں ، لڑکی آگے بڑھی ، سائیڈ میں رکھا بیگ اٹھایا اور عبایا نکال کر قرت کو دیا ، وہ شکریہ کہتی آئینے کی طرف پلٹی

نکاح کا جوڑا سفید تھا ، لمبی مڈ کلر کی میکسی ، گھیردار ، زیادہ بھاری نہیں تھی لیکن اسے لگ رہی تھی ، چہرے پر نقاب تھا سو جو تھوڑا بہت میک اپ کیا تھا وہ چھپ گیا تھا ، آنکھوں پر اس نے کاجل ہی لگایا تھا ، بھوری آنکھیں بے تاثر تھیں

اسی لمحے کمرے کا دروازہ کھول کر مہر اندر داخل ہوئ

” تیار ہیں آپی ؟”

” ہاں ، عبایا پہن لوں “

میک اپ آرٹسٹ رک کر اسے دیکھنے لگی

” آپ کا میک اپ خراب ہو جائے گا ایسے ، سوچ لیں” اسے اپنی محنت کے ضائع ہونے کا ڈر اور افسوس بیک وقت ہوا

” میں اگلی نماز کیلئے ویسے بھی میک اپ صاف کردیتی ، آپ کا بہت شکریہ ، ہاتھ سلامت رہیں “

وہ عبایا پہننے لگی ،انہیں مسجد کیلئے نکلنا تھا ، عیسیٰ کی خواہش تھی کہ ان کا نکاح مسجد میں ہو ، رخصتی بھی وہیں سے ہونی تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ صحن کے آخری کونے میں بیٹھا تھا ، قعدے میں بیٹھ کر سلام پھیرتا ہوا ، سلام پھیر کر نظر سفید گنبد پر گئ ، چار سال پہلے جو داستان یہاں شروع ہوئ تھی وہ اسی جگہ مکمل ہورہی تھی ، وہ شکر کرتا بھی تو کیسے ؟ سجدے کرتا بھی تو کتنے ؟ جو نعمت اسے ملی تھی اس کا شکر وہ کر بھی کیسے سکتا تھا ؟

گہری سانس لیتے وہ اٹھ کھڑا ہوا ، سر پہ پہنی ٹوپی اتاری اور صحن کی طرف بڑھا ، وہاں زین ابوبکر کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا

” فوٹو شوٹ ختم ہوگیا ہو تو چلیں اندر ؟”

ساتھ مل کر پکس بناتے وہ دونوں رکے اور عیسیٰ کو دیکھا

” تم بھی آجائو ، نکاح سے پہلے ایک سیلفی ، سنگل لائف کی آخری سیلفی “

” میری سنگل لائف کی پہلے ہی بہت ہیں پکس ، تم بنالو ، تم نے تو کافی عرصہ سنگل رہنا ہے “

” ٹونٹ نا مارو ، میں اپنی سنگل لائف سے خوش ہوں “

” صبح سے بار بار آہیں تو کوئ اور بھررہا تھا نا “

عیسیٰ نے بازوؤں سینے پر باندھے سکون سے اسے دیکھا

” وہ تو میں تمہاری شادی پر بھررہا تھا ، عمار شادی کے بعد بیوی کو پیارا ہوگیا ہے اور تمہاری تو خیر سے لو میرج ہورہی ہے ، تم تو نظر ہی نہیں آئوگے “

” وہی لو میرج جو تمہاری زندگی میں نہیں لکھی “

وہ تپانے والی مسکراہٹ سے کہتا آگے بڑھ گیا

زین کو تپ چڑھی

” یہ طنز مارا ہے ؟”

ابوبکر کھی کھی کرکے ہنسنے لگا تو وہ اسے گھورتا اندر کی طرف بڑھا ، ہنہہ کرلے گا وہ بھی لو میرج ،مل جائے گی اسے بھی کوئ

عیسیٰ اب اندر جارہا تھا ، اس نے سفید شلوار قمیص پہنے اوپر سفید کوٹ پہن رکھا تھا ، مسجد میں پردہ ڈال کر دو حصے بنادیئے گئے تھے ، وہ مردوں والے حصے کی طرف بڑھا ، دوسری طرف خواتین تھیں

اندر داخل ہوتے سب سے پہلی نگاہ پردے کے پار گئ ، کچھ نظر نہیں آتا تھا

اس نے نگاہ پھیر لی ، حیات نعمان صاحب کے ساتھ کھڑے تھے وہ ان کی طرف بڑھ گیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

شہوار اسے لے کر پردے کی طرف آئیں ، نیچے رکھے گائو تکیے پر بٹھایا ، اس کی نظریں جھکی ہوئ تھیں ، ہاتھ پسینہ پسینہ ہورہے تھے ، دل کی دھڑکن مدھم مدھم سی تھی

دوسری طرف سے ایجاب کے الفاظ ادا ہورہے تھے

” قرۃ العین بنت نعمان اسماعیل آپ کا نکاح عیسیٰ حیات ولد حیات شاہنواز کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں حق مہر دو لاکھ روپے سکہ رائج الوقت میں طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟”

اس نے پردے کے پار دیکھا ، سفید حیولے نظر آتے تھے ، ان میں کہیں وہ بھی تھا

( مجھے آپ سے محبت ہوگئ ہے قرۃ العین )

” قبول ہے “

” قرۃ العین بنت نعمان اسماعیل آپ کا نکاح عیسیٰ حیات ولد حیات شاہنواز کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں حق مہر دو لاکھ روپے سکہ رائج الوقت میں طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟”

(قرت وہاں آئ ضرور تھیں لیکن وہ اپنی مرضی سے نہیں آئ تھیں )

” قبول ہے “

” قرۃ العین بنت نعمان اسماعیل آپ کا نکاح عیسیٰ حیات ولد حیات شاہنواز کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں حق مہر دو لاکھ روپے سکہ رائج الوقت میں طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟”

( میں منتظر رہوں گا کہ کسی دن اس تسبیح کے دونوں حصے جڑ جائیں یہ خواہش سے زیادہ دعا ہے )

” قبول ہے “

اس نے آنکھیں بند کیں

قرۃ العین نے خود کو عیسیٰ حیات کے نام کیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اس وقت سماعت میں کوئ رس گھولتا کلام تھا تو وہ اس کا اقرار تھا ، کوئ الہام تھا تو وہ اگلا لمحہ تھا ، احساس تھا تو اگلی ساعت تھی ، اس نے توجہ نکاح خواں کی طرف کی

” عیسیٰ حیات ولد حیات شاہنواز آپ کا نکاح قرۃ العین بنت نعمان اسماعیل کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں دو لاکھ روپے سکہ رائج الوقت میں طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟ “

( جس چیز کی آپ خواہش لئے پھررہے ہیں وہ آپ کیلئے نہیں لکھا گیا )

” قبول ہے ۔۔”

” عیسیٰ حیات ولد حیات شاہنواز آپ کا نکاح قرۃ العین بنت نعمان اسماعیل کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں دو لاکھ روپے سکہ رائج الوقت میں طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟ “

( اللہ نے میرا دل آپ کیلئے بند کردیا ہے )

” قبول ہے “

” ” عیسیٰ حیات ولد حیات شاہنواز آپ کا نکاح قرۃ العین بنت نعمان اسماعیل کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں دو لاکھ روپے سکہ رائج الوقت میں طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟ “

( میری زندگی سے چلے جائیں عیسیٰ حیات )

” قبول ہے ۔۔”

عیسیٰ حیات نے قرۃ العین کو اپنے نام قبول کیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ گاڑی کے قریب نعمان صاحب کے ساتھ کھڑا تھا ، ڈیڈ ان سے کوئ بات کررہے تھے اور وہ بس خاموشی سے کبھی گھڑی کو دیکھتا اور کبھی دروازے کی طرف ، دو گھنٹے بعد ان کی فلائٹ تھی اور انہیں دیر ہورہی تھی

بلآخر وہ آتی دکھائ دی ، سیاہ عبایا اور سیاہ نقاب سیاہ دستانے پہنے ، عبائے کے نیچے سے اس کا سفید فراک جھانک رہا تھا ، کبھی عبائے کو درست کرتی اور کبھی ساتھ چلتی مہر کو سنتی وہ جھنجھلائ سی، تھکی ہوئ ، نروس سی لگ رہی تھی ، وہ اسے دیکھتا رہا ، گلے میں کچھ اٹکا ، چار سال گزرے تھے یا چار صدیاں ؟ پہلی ملاقات کا منظر زہن میں گزرا ، آخری ملاقات کبھی بھولی ہی نہیں تھی ، وہ سامنے تھی ، وہ اس کے ساتھ تھی ، امتحان ختم ہوگیا تھا ،راحت مل گئ تھی

یہاں ان دونوں کے علاؤہ کوئ اور نا ہوتا تو وہ اس کے پاس جاتا ، اس کا ہاتھ تھامتا ، اس سے کہتا وہ اگلے کئے لمحے کسی مجسمے کی مانند ٹھہری رہے ، وہ کسی پتھر کی طرح اس کی آنکھوں کو دیکھتا ، وہ روتی تو وہ ان آنکھوں کی نمی میں ڈوب جاتا ، وہ ہنستی تو وہ اس مسکراہٹ کا صدقہ اتارتا ، چار سال گزرے تھے یا چار عمریں ؟

مسجد کی مرکزی سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کی نظر پل بھر کو عیسیٰ پر گئ، وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ، مسکراہٹوں میں خوبصورت ترین مسکراہٹ لئے ، نگاہوں میں چار سال کا انتظار لئے اردگرد سے بے نیاز ، اس نے رخ موڑ لیا

چار سال پہلے جب وہ آخری بار برگد کے پیڑ تلے اس سے ملی تھی تو اس نے سوچا تھا وہ آخری بار تھا ، آخری ملاقات تھی ، اس کے بعد اس شخص کا نام بھی اس کی زندگی سے مٹ جائے گا ، چار سال بعد داستاں اسی شخص سے قرت العین کا نام جڑنے سے شروع ہوئ تھی ،قسمت جانے کیا کیا کیسے کیسے کرتی تھی ، مہر کے بلانے پر وہ آگے بڑھ گئ ، شہوار پیچھے تھیں ، سعدیہ ان کے ساتھ ، ان کی گاڑیوں کے پاس آکر وہ رک گئے

، اگلا لمحہ ایموشنل سا تھا ، نم آنکھوں کے ساتھ سب سے گلے مل کر وہ ڈھیر ساری دعائیں لیتی رہی اور عیسیٰ اسے دیکھتا رہا پورے حق سے ، بنا خوف کے ، یہانتکہ وہ شہوار کی طرف بڑھی

” بیٹا تم عیسیٰ کے ساتھ چلو ہم لوگ پیچھے والی گاڑی میں ہوں گے ” وہ پل بھر کو ٹھٹھکی ، پھر رک کر عیسیٰ کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا

” آپ لوگ ۔۔۔”

” ہم پیچھے ہی ہوں گے ۔۔۔”

وہ اسے ساتھ لئے گاڑی کی طرف بڑھیں ، احتیاط سے پیسنجر سیٹ پر بٹھایا ، عیسیٰ سعدیہ کے سامنے سر نیچے کرتا جھکا ، انہوں نے ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں تو وہ نعمان صاحب کی طرف بڑھا

” وہ میرے پاس خدا کی امانت تھی عیسیٰ ، میں نے وہ امانت آپ کے سپرد کی ، میری بیٹی کا خیال رکھئے گا “

وہ رنجیدہ تھے ،عیسیٰ ان سے گلے ملتا الگ ہوا

” وہ میری دعا کی قبولیت ہیں ،میں اس قبولیت کی ناقدری نہیں کروں گا ، بے فکر رہیں “

نعمان صاحب مسکرادیئے ، ان کا انتخاب صحیح تھا, عیسیٰ ان کو تسلی دیتا گاڑی کی طرف بڑھا پھر رک کر لمحہ بھر کو سفید مسجد کو دیکھا اور دروازہ کھولتا گاڑی میں بیٹھ گیا

جہاں سے سب شروع ہوا تھا وہیں مکمل ہوا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

جواد کریم نے شعلہ اگلتی نگاہوں سے مسجد سے باہر جاتی ان کی گاڑی دیکھی

” تم نے مجھے دو بار ٹھکرایا ہے قرت العین، ایک بار کا انتقام تمہیں یاد ہوگا، دوسری بار کا تمہیں ساری زندگی یاد رہے گا “

اس نے ہاتھ میں پکڑی سگریٹ نیچی پٹخی اور اس پر پیر رکھ دیا

ٹمٹاتا شعلہ بجھ گیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

نکاح جمعے کے بعد ہوا تھا رخصتی عصر تک اور انہیں اسلام آباد پہنچتے پہنتے رات ہوگئ ، راستے میں عیسیٰ اور اس کی کوئ بات نہیں ہوئ تھی، وہ خاموشی سے باہر دیکھتی رہی اور وہ ڈرائیو کرتا رہا ، ایئرپورٹ سے سیدھا وہ گھر آئے ، ان کی جانب سے نکاح پہ زیادہ لوگ شامل نہیں ہوئے تھے ، چند بہت قریبی لوگ تھے ، دو دن بعد اتوار کو ولیمہ تھا سو سب کو ولیمے پر ہی مدعو کیا جانا تھا

” تم دونوں آرام کرلو ، عیسیٰ قرت کو روم میں لے کر جائو ۔۔” وہ جو وہیں صوفے ہر بیٹھ گیا تھا ، شہوار کی آواز پر سنبھل کر سیدھا ہوا اور قرت کو دیکھا وہ اب تک وہیں کھڑی تھی

” شیور ، چلیں ؟”

پہلی بار براہ راست اسے مخاطب کیا ، وہ پیچھے رکھا اپنا بیگ کھینچتے ہوئے اس کے ساتھ جانے لگی جب عیسیٰ نے بیگ پکڑا ، قرت لمحہ بھر کو رکی اور اسے دیکھا ، وہ بیگ کے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا

” میں لے جاتا ہوں ۔۔”

اس نے بیگ چھوڑ دیا ، ایک دوسرا چھوٹا سا سیاہ رنگ کا بیگ اس نے خود اٹھا رکھا تھا وہ اس نے نہیں دیا ، عیسیٰ اوپر کی جانب بڑھ گیا ، سیڑھیوں کے اختتام پر چھوٹا سا لائونج تھا ، اور پھر عیسیٰ کا کمرہ ، اس نے دروازہ کھول کر قرت کو جانے کا اشارہ کیا ، وہ جھجھکتی ہوئ اندر داخل ہوئ

کمرہ سیاہ رنگ کا تھا ، فرنیچر سے لے کر دیواروں تک ہر چیز سیاہ، دروازے کی دائیں طرف بیڈ تھا ،بیڈ کے سامنے صوفے پڑے تھے ، وارڈروب بائیں طرف تھی ، کمرے کی ہلکی ہلکی سجاوٹ بھی کی گئ تھی

عیسیٰ اس کا بیگ اٹھائے وارڈروب کی طرف بڑھ گیا تھا ، دوسرا بیگ بیڈ پر رکھ کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی اور خود کو دیکھا ، نیچے میکسی بہت بھاری تھی اور وہ شدید غیر آرام دہ محسوس کررہی تھی ، ہاتھوں میں پہنے دستانے اتارتے اس نے ابھی نقاب کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب عیسیٰ باہر آیا

، وہ کنکھیوں سے دیکھ سکتی تھی کہ وہ اسے دیکھ کر رکا ، پھر آہستہ سے اس کی طرف بڑھا ، اس کا نقاب ڈھیلا کرتا ہاتھ تھما یہانتکہ وہ بالکل اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا، اتنا پیچھے کہ اگر وہ مڑتی تو اس کے سینے سے ٹکراتی ، دل کی دھڑکن بڑھ گئ

” may i ?”

وہ اس کے نقاب کی طرف اشارہ کرتا پوچھ رہا تھا اس کا ہاتھ دھیرے سے نیچے گرگیا گویا اجازت دی ، عیسیٰ گھوم کر اس کے سامنے آیا ، ڈریسنگ ٹیبل چھپ گئ ، اس نے ہتھیلیاں ایک دوسرے میں پیوست کردیں ، نگاہیں نیچے کرلیں ، نظر اپنے پائوں میں پہنے جوتے اور عیسیٰ کے جوتے پر گئ ، چند انچ کا فاصلہ تھا ، اس کے پرفیوم کی خوشبو نتھوں میں گھس رہی تھی، عیسیٰ چند لمحے اس کی جھکی آنکھوں کو دیکھتا رہا ، چار برس سے وہ اس کے ایک لمحے کی امید پر جی رہا تھا ، وہ لمحہ سامنے تھا

یہ منظر اس نے کئ بار سوچا تھا کہ وہ اس کے سامنے ہوگی ، وہ سوچ حقیقت بن گئی تھی

یہ امید کہ کسی دن ہر سوچا گیا منظر سچ ہوگا ، بلآخر وہ امید بھی پوری ہوگئ تھی

گہری سانس لیتے اس نے ہاتھ اس کے نقاب کی طرف بڑھایا ، نقاب پٹی پیچھے سے باندھی گئ تھی

وہ ہاتھ پیچھے لے جا کر اس کا نقاب کھولنے لگا ، نظریں اس کی آنکھوں پر ٹکی تھیں ، ایک گرہ کھولتے وہ رکا پھر سر جھٹکا

” میں اپنی کیفیت سمجھ نہیں پارہا ۔۔”

وہ خاموش رہی ، گہری سانس لیتے اس نے دوسری گرہ کھولی ، نقاب پٹی پھسل کر اس کے ہاتھ میں آگئ

جس چہرے کو بنا دیکھے اس نے محبت کی تھی اور شدید کی تھی ، چاہا تھا اور بے انتہا چاہا تھا ، چار سال اس کے انتظار میں گزارے تھے ، وہ چہرہ اس کے سامنے تھا

وہ اسے دیکھے گیا بنا پلک جھپکے ، بنا اگلا سانس لئے ، پھر اس کا ہاتھ بے اختیار اس کے گال کی طرف بڑھا ، دو انگلیوں سے اس کے دائیں گال کو چھوا ، وہ جیسے چھو کر یقین کرنا چاہتا تھا کہ وہ خواب نہیں تھا ، وہ حقیقت تھی ، ہاں وہ حقیقت تھی ! قرت العین اس کیلئے سوچ سے حقیقت بنا دی گئ تھی ، چار سال سے مانگی جانے والی دعا قبول ہوگئ تھی ، وہ اس کے سامنے تھی ، اس کی بیوی کے روپ میں ، یہ خواب نہیں تھا یہ سچ تھا ، اس نے بنا مڑے نقاب پٹی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ، قرت نے آنکھیں سختی سے میچ لیں ، وہ لمحے اس پر بہت بھاری تھے ، اندر بھڑکتے الائو اور اتھل پھتل ہوتی سانسوں کے ساتھ وہ کسی مجسمے کی مانند ٹھہری رہی ، کسی نے اس پر طلسم پھونک کر ساکت کردیا تھا ، عیسیٰ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے ، نرم ، لمبی انگلیوں والے سفید ہاتھ ، اس کی انگلیاں ان ہاتھوں پر بنے مہندی کے ڈیزائن پر پھرنے لگیں ، نہ صرف چہرہ بلکہ وہ اپنی بیوی کے ہاتھ بھی پہلی بار دیکھ رہا تھا

بیوی ۔۔۔۔ یہ لفظ لمحے بھر کو عجیب احساس سے دوچار کرگیا ، وہ اس کے نکاح میں تھی ، بلآخر وہ سب سچ تھا

” مجھ پر شکر واجب ہے “

انگلی اس کے ہاتھ پر پھیرتے وہ دھیرے سے بڑبڑایا ، پھر نظر اٹھا کر اسے دیکھا ،سختی سے آنکھیں بند کئے وہ سرخ چہرے کے ساتھ کھڑی تھی ، چہرے پر میک اپ کے مٹے مٹے نشانات تھے ، اس کے دل کی تیز دھڑکن وہ سن سکتا تھا

” میرے شہر میں ،میرے گھر میں ، میری زندگی میں ، میرے کمرے میں خوش آمدید مسز عیسیٰ حیات ، آپ کا آنا میرے لئے مبارک ٹھہرا “

اس کے ہاتھوں کو تھامے نرمی سے اس سے کہا ،قرت نے آنکھیں کھول دیں ، نظریں اٹھا کر اسے دیکھا وہ نظریں اسی پر جمائے ہوئے تھا اور پھر وہ دو قدم پیچھے ہوئ ، ہاتھ عیسیٰ کے ہاتھوں سے نکل گئے ، عیسی کا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا

” مجھے چینج کرنا ہے ۔۔” اس کی آواز کپکا رہی تھی ، عیسیٰ نے بے اختیار گہری سانس لی ، وہ فسوں خیز لمحہ ٹوٹ گیا ، بالوں میں ہاتھ پھیرتے وارڈروب کی طرف اشارہ کیا ، وہ بنا کچھ کہے اندر کی طرف بڑھ گئ

دروازہ ٹھک سے بند کیا اور آئینے کے سامنے آکر خود کو دیکھا ، سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ لرزتی پلکیں ، وہ واش بیسن پر ہاتھ رکھے نیچے کو جھک گئ ، گہرے گہرے سانس لے کر خود کو کمپوز کیا، سانسیں اتھل پتھل تھیں، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ،

” مجھ پر شکر واجب ہے ۔۔”

اس کی آواز کانوں میں گونجنے لگی ، نل کھول کر اس نے ہاتھوں میں پانی لیا اور چہرے پر پھینکا ، ایک بار دو بار کئ بار ، یہانتکہ چہرے کی سرخی ہٹ گئ، دھڑکن نارمل ہوئ

وہ چینج کرکے جب وہ کمرے میں واپس آئ تو عیسیٰ وہاں نہیں تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

“کچھ چاہئے تھا تمہیں “

فریزر سے پانی نکالتا عیسیٰ چونکا پھر سامنے کھڑی مام کو دیکھ کر مسکرایا

“کافی بنانی تھی “

“میں بنادوں ؟”

“بنالوں گا “

وہ سر ہلاتے ہوئے کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئیں عیسی کافی میکر میں دودھ ڈال کر مسز شہوار کی طرف متوجہ ہوا

“آپ اب تک کس وجہ سے جاگ رہی ہیں ؟”

” قرت کو دیکھنے گئ تھی کہ شاید اسے کسی چیز کی ضرورت ہو ” عیسیٰ نے سر ہلادیا

کیسی لگی وہ آپ کو ؟”

“اچھی ہے ” وہ رکیں ” ایک بات کہوں ؟”

میں سن رہا ہوں “

مجھے وہ بالکل عام سی لگی، نہ زیادہ خوبصورت نہ گرومڈ ، وہ دنیا کی ہزاروں عام سی لڑکیوں میں سے ایک ہے ” وہ مسکرایا

“ایک بات کہوں مام ؟”

“کہو “

“مجھے وہ عام سا چہرہ دنیا کے لاکھوں خاص چہروں سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے “

شہوار لاجواب ہوئیں وہ محبت تھی جس نے وہ چہرہ ان کے بیٹے کیلئے خاص بنادیا تھا وہ اب لاکھوں خوبصورت چہروں کو لے آتیں عیسیٰ کو وہ عام سے لگتے ، وہ کافی کپ میں ڈالتا ہوا ان کے پاس آیا ان کی ساتھ والی کرسی کھینچتے وہاں بیٹھا اور ان کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھاما

“آپ کو کیا پریشان کررہا ہے “

وہ نرمی سے ان سے پوچھ رہا تھا

” مجھے لگتا ہے وہ ہمارے سرکل میں گھل نہیں پائے گی “

“میں نہیں چاہتا مام کہ وہ ہمارے سرکل میں گھل جائے ” اس نے کپ اٹھا لیا

” کیوں “

“وہ بہت اچھی لڑکی ہے مام ، میں نہیں چاہتا وہ ایلیٹ کلاس کی اس گندگی میں پڑے ,میں اسے ویسے ہی رکھنا چاہتا ہوں جیسی وہ ہے پاک صاف نیک ” وہ گھونٹ لیتا سادگی سے کہہ رہا تھا

مسز شہوار کی آنکھیں نم ہوئیں وہ اتنا کب بدل گیا تھا وہ اتنا کیسے بدل گیا تھا ؟، کبھی وہ خود ان سب کا حصہ ہوا کرتا تھا جسے وہ آج گندگی کہہ رہا تھا

“تم اتنا کیسے بدل گئے عیسیٰ ؟”

“میں نے ہجر کا مزہ چکھا ہے مام ، میں نے دعائوں کی قبولیت دیکھی ہے ، میں اس کی تلاش میں ہر در پہ بھٹکا ہوں اور میں نے اسے وہیں پایا جہاں اس کے ملنے کی دعا کی ، آپ نے پوچھا تھا نا کہ وہ مجھے اتنی خاص کیوں لگتی ہے ؟، تو اس لئے کیونکہ اس کی محبت خدا نے مجھے عطا کی ہے میں اس کی عطا کی ناشکری کیسے کرسکتا ہوں ؟میرا دل اس کیلئے خود بخود نرم ہوجاتا ہے ، میں اس کے احترام پہ خود کو مجبور پاتا ہوں مام ، میرا اب خود پر بس نہیں رہا ” وہ بے بس سی مسکراہٹ سے کہہ رہا تھا مسز شہوار نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا

“تم اب خوش ہو نا ؟

“میں اب پرسکون ہوں “

وہ مسکرائیں

“اور خوش کب ہوگے ؟”

” جب خدا چاہے گا “

تم عاشق ہوگئے ہو “

“میں جوگی ہوگیا ہوں ” شہوار مسکراتے ہوئے اٹھ گئیں

“کافی پی کر کمرے میں چلے جانا , تھک گئے ہوگے تم دونوں ” عیسی نے بس سر ہلادیا ، شہوار چلی گئیں تو گھونٹ گھونٹ بھرتا کافی پینے لگا ، کچھ دیر پہلے کا منظر ذہن میں گھوم رہا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں ؟”

وہ کمرے میں واپس آیا تو قرت گھٹنوں کے گرد باذوئوں باندھے کائوچ پر بیٹھی تھی اس کے آنے پر سیدھے ہوئ اور دونوں ہاتھ گود میں رکھ کر انہیں دیکھنے لگی

نیند نہیں آرہی “

وہ چلتے ہوئے تھوڑا سا آگے آیا لیکن پھر رک گیا

کیا میں یہاں بیٹھ جائوں ؟”

انگلی سے کائوچ کی دوسری جانب اشارہ کیا قرت نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر کائوچ کی دوسری سمٹ گئ گویا وہ یہاں بیٹھ سکتا تھا

شکریہ “

وہ قدرے فاصلے پر بیٹھ گیا تھوڑی دیر خاموشی چھائ رہی ، عیسیٰ اپنے قدموں کو گھور رہا تھا اور وہ اپنے ہاتھوں کو پھر اس نے عیسیٰ کو گہری سانس لیتے سنا

” آپ مجھ سے ناراض ہیں ؟”

“میرا آپ سے ایسا تعلق نہیں ہے کہ میں آپ سے ناراض ہوں”

” تعلق تو ہے ہمارا “

اس نے نظریں قرت کی جانب پھیریں وہ نیلے رنگ کے سادہ سے سوٹ میں ملبوس تھی ، دوپٹہ سر پہ تھا ، چہرہ کسی بھی میک اپ سے پاک ، ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئ تھی ، اس کی نظریں ان ہاتھوں میں الجھیں ، زندگی میں پہلی بار اس نے جانا تھا کہ مہندی کسی کے ہاتھوں میں اتنی خوبصورت لگ سکتی ہے

“اس تعلق نے میرا سب کچھ مجھ سے چھین لیا ” قرت کی بھرائ آواز پر اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ، وہ اب اپنی نظریں اٹھائے اسے دیکھ رہی تھی دکھ سے اذیت سے

” میں نے ایسا نہیں چاہا تھا قرت “

وہ بے چین ہوا

” آپ نے ایسا ہی چاہا تھا “

اس کی انکھ سے آنسو پھسلے

“اس طرح نہیں چاہا تھا “

“کیا فرق پڑتا ہے ، دیکھیں میں یہاں ہوں آپ کے نکاح میں ہوں ،زندہ یا مردہ دل کے ساتھ کیا فرق پڑتاہے، آپ نے یہ سب چاہا تھا عیسیٰ آپ کی چاہت نے مجھ سے میری سب چاہتیں چھین لیں ” آنسو مزید تیز ہوئے

” مجھے نہیں معلوم تھا وہ سب ہوجائے گا معلوم ہوتا تو میں کبھی آپ سے آخری ملاقات کا نا کہتا “

” آپ نے کہا نہیں تھا آپ نے اپنی مرضی کی تھی ، جانتے ہیں میں ہر روز اس دن کے آنے پر افسوس کروں گی جس دن میں آپ سے ملی تھی “

“میں ہر روز اس دن کے آنے پر شکر ادا کروں گا جس دن اپ مجھے ملی تھیں ” اس کے آنسو مزید تیز ہوئے

” میرے لئے بہت سی باتیں اب بے معنی ہیں ، آپ کی یہ باتیں بھی “

” جانتا ہوں۔۔۔” وہ سوگوار سا مسکرایا ” آپ مجھ سے نفرت کرنے میں حق بجانب ہیں ، میں آپ سے محبت کرنے میں ، آپ اپنے حصے کی نفرت جاری رکھیں ، میں اپنے حصے کی محبت نبھاتا ہوں ، “

وہ اسے دیکھ کر رہ گئ پھر ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کئے اور پائوں نیچے رکھے ، فرش ٹھنڈا تھا ، اس کے جسم میں سرد سی لہر دوڑ گئ

” مجھے نیند آرہی ہے ” نظریں چراتے ہوئے وہ بیڈ کی جانب بڑھ گئ ، عیسیٰ جانے کتنی ہی دیر وہیں بیٹھا رہا

°°°°°°°°°′°°°°°°°°°°°°°°°

صبح اس کی آنکھ کسی مدھم آواز سے کھلی ، یوں جیسے کوئ آہستہ آہستہ کچھ پڑھ رہا تھا ، نرمی سے لیکن ٹھہر ٹھہر کر ، کسلمندی سے آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھے موبائل سے ٹائم دیکھا ، صبح کے پانچ بج رہے تھے ، فجر کی اذان کی آوازیں آرہی تھیں ، اس کی نظر بیڈ کی دوسری طرف گئ ، وہ خالی تھی ، نظریں سامنے گئیں ، قرت سرخ لباس میں دوپٹہ نماز کے اسٹائل میں باندھے قرآن پڑھ رہی تھی ، گود میں کشن رکھا ہوا تھا جس پر قرآن رکھا تھا ، عیسی سیدھا لیٹ گیا اور اسے دیکھے گیا

اس کے کمرے میں قرآن نہیں تھا ، نا ہی اسے صبح قرآن پڑھنے کی عادت تھی ، کبھی پڑھنا بھی ہوتا تو وہ موبائل سے پڑھ لیتا، پھر قرت کے پاس قرآن کہاں سے آیا ؟ وہ تلاوت میں اتنی مگن تھی کہ عیسی کے جاگنے کا احساس نہیں ہوا ، وہ کتنی دیر اسے دیکھے گیا ، وہ بہت مدھم پڑھ رہی تھی جانے وہ اتنا ہی مدھم پڑھتی تھی یا اس کی نیند کے خیال سے آواز آہستہ تھی

تبھی کسی خیال کے تحت اس نے نگاہ اٹھائ ، عیسیٰ سر بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ،

” میں نے اس سے زیادہ خوبصورت صبح اپنی زندگی میں آج تک نہیں دیکھی ” وہ اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر مسکرا کر بولا

وہ کچھ کہے بغیر قرآن بند کرنے لگی

” اوہوووں ، پڑھتی رہیں ، اچھا لگ رہا ہے “

وہ رک گئ ، پھر قرآن کو دیکھا

” آپ کی نیند ڈسٹرب ہوگی “

” نہیں ہوگی کم از کم اس وجہ سے نہیں ہوگی ، اور اگر ہوگی تو میں چاہوں گا کہ میری نیند ہر صبح ایسے ہی ڈسٹرب ہو “

وہ اس کے سامنے بیٹھا تھا اور اسے دیکھ رہا تھا تو اسے یہ مشکل لگنے لگا کہ تلاوت کرے لیکن پھر بھی وہ پڑھتی رہی ، اور وہ خاموشی سے اسے سنتا رہا ، وہ پیارا پڑھتی تھی ،مدھم سا ، آہستہ ،تجوید اور ترتیل کے ساتھ ، چند لمحے سرکے اور وہ اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گیا

تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا تو سفید شلوار قمیص پہنے ہوئے تھا ، کہنیاں فولڈ کررکھی تھیں ، قرت تب تک قرآن بند کررہی تھی ، وہ باہر آیا تو ایک ہاتھ میں جائے نماز تھی ، وہ قرت کی طرف بڑھائ ، اس نے تھامنے کیلئے ہاتھ بڑھایا لیکن عیسیٰ اب بھی جائے نماز پکڑے ہوئے تھا

” آپ دو منٹ میرا انتظار کرسکتی ہیں ؟ ۔۔”

اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا لیکن پھر سر ہلادیا ، وہ جائے نماز اسے پکڑاتا باہر کی طرف بڑھ گیا ، ۔تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو ہاتھ میں ایک دوسری جائے نماز تھی ، اسے بیڈ کے سامنے بچھایا پھر قرت سے جائے نماز لے کر اپنی والی کے ساتھ رکھی ، اور اس کا ہاتھ تھام کر اسے جائے نماز پر کھڑا کیا

” ممکن ہے آپ یہ نا چاہیں لیکن اسے میری خواہش سمجھ لیں یا درخواست میں چاہوں گا کہ ہم اپنی زندگی کی نئ شروعات میں پہلی نماز ایک ساتھ پڑھیں ۔۔۔۔کیا آپ میری یہ خواہش پوری کرسکتی ہیں قرۃ العین عیسیٰ ؟ کیا ہم ایک ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں ؟

وہ اس کا ہاتھ تھامے نظریں اس کی آنکھوں پر رکھے پوچھ رہا تھا ، اس کے گلے میں کچھ اٹکا ، وہ عجیب خواہش رکھتا تھا ، عجیب باتیں کرتا تھا ، سوال ایسے کرتا کہ وہ جواب نا دے پاتی ، جواب ایسے دیتا کہ اس کے پاس کوئ سوال باقی نا رہتا ، وہ یوں پوچھتا کہ وہ منع کرنے کا صرف سوچ کر رہ جاتی ، سو اب بھی سوچ کر رہ گئ ، دھیرے سے سر ہلاتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ چھڑوالیا

اس صبح اپنی نئ زندگی کی شروعات ان دونوں نے ایک ساتھ نماز پڑھ کر کی تھی ، عیسی حیات پر شکر واجب تھا اور یہ شکر اس نے قرۃ العین کے ساتھ ادا کیا تھا