Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 39)

Nahal By Fatima Noor 

ہاسپٹل کے سرد کاریڈور میں رکھے بینچوں میں سے ایک پر وہ بیٹھی تھی ، جس کا عبایا سفید تھا ، جس پر سرخ رنگ کے دھبے نظر آتے تھے ، جس کے ہاتھے میں سفید ننھے پھول تھے ، جن پھولوں پر کسی کا خون گرا تھا،جس کی بھوری آنکھیں رو رہی تھیں…….. وہ جو قرۃ العین تھی !

آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کے پار کسی کا لہو میں لپٹا وجود پڑا تھا ، جس کی سفید شرٹ سرخ رنگ سے رنگین تھی ، جس نے کسی کا دل مٹھی میں لے رکھا تھا ، جس کی بند سیاہ آنکھیں بھوری آنکھوں کو رلا رہی تھیں…..وہ جو عیسیٰ حیات تھا !

ہاتھ ہونٹوں پر جمائے ، سسکیاں بھرتے ، بار بار نفی میں سر ہلاتے ، اردگرد تیزی سے آتے جاتے لوگوں کو دیکھتے وہ بس ساکت ذہن کے ساتھ رو رہی تھی

اردگرد بھاگتے لوگوں میں سے ایک بھورے بالوں والا لڑکا بھی تھا جو ہوسپٹل میں اردگرد بھاگ رہا تھا ، کبھی ڈاکٹر کو پکڑتا کبھی کسی سے فون پر بات کرتا ، اس کے ساتھ والی چیئر پر کوئ بیٹھا رو رہا تھا ، سامنے والی چیئر پر بیٹھے عمر رسیدہ شخص کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے ، وہ بس سن دماغ کے ساتھ روتی رہی ، ذہن میں ایک ہی منظر تھا

اس سے فاصلے پر سفید شرٹ میں بند آنکھوں سے گرتا وجود

قرت العین کو اس وقت صرف عیسیٰ حیات یاد تھا ، ذہن میں کوئ خوف تھا تو اس سے بچھڑنے کا خوف تھا ، دل میں کوئ درد تھا تو اس سے دور ہونے کا درد تھا ، باقی ہر خیال ہر درد پیچھے جا سویا تھا

جانے کتنے لمحے اس نے ساتھ والی چیئر سے خاتون کو اٹھتے دیکھا ، سامنے والی شخص کو آتے جاتے دیکھا ، کتنے لوگ سامنے سے گزرے یاد نہیں ، کتنے لمحے بیتے بھول گیا، مٹھی میں تھامے پھول باسی ہونے لگے ، آج نا وہ انہیں مسلنا چاہتی تھی نا پھینکنا ، ان پر کسی کا خون تھا ، وہ خون جو اس کے کپڑوں پر لگا تھا ، وہ کسی کے درد کے گواہ تھے ،وہ درد جو اس کے اندر تک تھا ، ان پھولوں میں اس کا دل دھڑک رہا تھا ، ان پھولوں میں کسی کی گونج بستی تھی

سفید پھول۔۔۔۔ سفید لباس والی ملکہ

سفید پھول…..کسی کی محبت کی خوشبو

سفید پھول….. عیسیٰ حیات کے پھول

چند لمحے مزید سرکے اور اس کے کانوں میں کوئ آواز گونجی ، اس کے سامنے سے گزرتے بھورے بالوں والے لڑکے نے کچھ کہا تھا ، اس کا سر اٹھا ، الفاظ ذہن میں جذب ہوئے ، ساکت ذہن جاگا ، آنکھوں میں اذیت کے علاوہ کچھ اور بھی نظر آیا ، وہ لڑکا کارویڈور میں آگے بڑھ گیا تھا ، وہ رخ موڑ کر کارویڈور کے سرے کو دیکھتی رہی دیکھتی رہی یہانتکہ وہ لڑکا اس کے سامنے سے گزرنے لگا ، وہ جھٹکے سے اٹھی

” مجھے پولیس اسٹیسن جانا ہے زین بھائ “

اس نے خود کو کہتے سنا ، وہ رکا اور اسے دیکھا

” پولیس اسٹیسن ؟”

” جی “

آنسو بہہ نکلے ، آواز کانپ گئ ،ہاتھ پہلے ہی کانپ رہے تھے ، کانپتے ہاتھوں سے اس نے روتی آنکھوں کو صاف کیا ، پھٹتے زہن سے اس نے بند ہوتے دل کو مضبوط کیا

” کس لئے ؟”

وہ متذبذب تھا ، لہجے میں تھکن تھی ، آنکھوں میں اذیت تھی ، چہرے پر خوف تھا

” آپ لے کر جارہے ہیں یا نہیں ؟”

اس آواز دو ٹوک تھی ، لہجے میں کپکپاہٹ تھی ، آنکھوں میں درد تھا ،چہرے پر خوف سے کچھ زیادہ تھا

زین کی نظر آپریشن تھیٹر پر گئ

” اس وقت ؟”

” مجھے اسی وقت جانا ہے “

اس نے ایک بار بھی آپریشن تھیٹر کو نہیں دیکھا تھا ، وہ دیکھ ہی نہیں سکتی تھی

” آپ ٹھیک نہیں لگ رہیں ، ہم بعد میں چلیں گے ” اسے سمجھانا چاہا ، اس کا سر نفی میں ہلا، آنکھوں سے آنسو پھسلنے لگے

” مجھے۔۔۔ابھی۔۔۔جانا۔۔۔۔ہے ، اگر آپ نا لے کر گئے تو میں اکیلی چلی جائوں گی”

زین نے اب کے بے بسی سے اسے دیکھا ، یہ وہ عورت تھی جس کے سامنے عیسیٰ حیات ہار جاتا تھا ، عیسیٰ حیات واحد انسان تھا جس کے لئے زین فیاض دنیا ہلا دیتا ، اس نے گہری سانس لیتے ہاں میں سر ہلایا ،ساتھ کھڑی ملازمہ کو اشارہ کیا وہ جانتا تھا وہ اس کے ساتھ اکیلی نہیں جائے گی ، قرت آگے بڑھ گئ اسے اس وقت کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

پولیس اسٹیسن میں شور تھا لیکن وہ شور ڈرائیوے پر اس کے اردگرد کھڑے لوگوں کی آوازوں سے کم تھا ، وہ بس سامنے رکھی ٹیبل پر پڑے سفید گلاس کو دیکھے گئ ، آنسو رک چکے تھے ، اذیت اب بھی وہیں تھی ، ہاتھ میں تھامے ننھے پھول مرجھا رہے تھے

” چھوڑو مجھے ۔۔۔”

تبھی پیچھے سے آواز آئ ، اس نے آنکھیں بند کیں ، ہاتھ میز پر مضبوطی سے جمایا ، زین کی نظر پیچھے گئ ، پھر وہ اٹھا ، وہ ویسے ہی بیٹھی رہی

” کیوں پکڑ کر لائے ہو مجھے ، چھوڑو ۔۔۔”

وہ ہتھکڑیوں میں لپٹا ہوا تھا بار بار تلملاتا اس کے پیچھے آرکا

” دیکھ لوں گا تم سب کو ، کس جرم میں لے کر آئے ہو یہاں ؟”

اس کی مٹھی اس قدر ضرور سے بھینچ گئ کہ انگلیاں ہتھلی میں پیوست ہونے لگیں پھر وہ دھیرے سے اٹھی اور رخ موڑا

سامنے کھڑے شخص کی آنکھوں میں حیرت ابھری پھر امید

” قرت ۔۔۔شکر تم یہاں آگئیں ، یہ لوگ ۔۔۔”

آواز منہ میں رہ گئ ، قرت کا دستانے میں چھپا ہاتھ پوری قوت سے اس کے منہ پر آپڑا تھا ، جواد نے بے یقینی سے منہ پر ہاتھ رکھے اسے دیکھا ، اس کی آنکھوں میں آگ تھی، نفرت تھی

” تمہاری ہمت کیسے ہوئ ۔۔۔”

وہ بپھر کر آگے بڑھا جب زین اس کے سامنے آیا

” خبردار ۔۔”

اس کے سینے پر ہاتھ رکھے پیچھے دھکیلا ، جواد دو قدم پیچھے ہوا پھر قرت کو دیکھا

” میں نے کچھ نہیں کیا “

اب کے آواز میں درشتی تھی، وہ کرسی کے پیچھے سے ہٹتی اس تک آئ

” لعنت ہو تم پر جواد، لعنت ہو “

” میں نے کچھ نہیں کیا ،کہا نا “

” عیسیٰ پر گولی چلائ ہے تم نے ” وہ پوری قوت سے چلائ ” وہ ہوسپٹل میں پڑا ہے ، ابھی بھی کہہ رہے ہو کہ تم نے کچھ نہیں کیا “

” میں نے گولی نہیں ماری اسے ،سمجھی تم ؟”

” مجھ سے جھوٹ مت بولو ، تم سے اور تمہاری غلیظ زبان سے نفرت ہے مجھے “

اس نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان تھاما ، زین بے اختیار آگے کو ہوا لیکن پھر رک گیا ، ساتھ کھڑی ملازمہ کو ابرو سے اشارہ کیا وہ آگے بڑھی اور اسے تھام کر پیچھے کیا

” میں جھوٹ نہیں بول رہا “

اس کی آواز میں سختی ابھری

” کیا بگاڑا تھا اس نے تمہارا ؟ دشمنی مجھ سے تھی تو مجھ پر گولی چلاتے ؟ اس پر کیوں ؟”

اس نے تہیہ کیا تھا کہ وہ نہیں روئے گی لیکن آنسو روانی سے گرنے لگے ” وہ میرے سامنے نیچے گرا تھا ، اس کے چیرہ سفید پڑرہا تھا جواد ، وہ میرے سامنے مر رہا تھا ، عیسیٰ حیات قرۃ العین کے سامنے مر رہا تھا ” وہ تھک کر کرسی پر بیٹھی ، زین کے گلے میں گلٹی ابھری

” میں نے اسے نہیں مارا ۔۔۔”

وہ نہیں سن رہی تھی

” اس نے کہا تھا کہ وہ مر کر دکھا سکتا ہے ، اب تو سب ٹھیک تھا تو وہ برسوں پرانا قول اب کیوں پورا کرنے لگا ؟، یہ کیسا بدلہ لیا تم نے جواد ، قرت العین کی روح تک جھلس گئ ہے “

” میں نے اسے نہیں مارا قرت “

” میرا نام مت لو اپنی زبان سے ” سر اٹھا کر سخت نگاہوں سے اسے گھورا ” مرگئ قرت العین ، مر گئ میں اور اب تم دیکھو گے میں تمہارے ساتھ کیا کرتی ہوں ” وہ آنسو پونچھتی اٹھی اور اس تک آئ ” اگر عیسیٰ کو کچھ ہوا واللہ جواد میں تہاری جان اپنے ہاتھوں سے لوں گی “

” میں نے۔۔۔کہا ۔۔۔میں ۔۔نے ۔۔۔اسے ۔۔۔نہیں ۔۔۔مارا “

وہ آنکھوں میں سختی لئے چبا چبا کر کہہ رہا تھا

” لیکن تم نے مجھے مار دیا ” اس کے سینے پر ہاتھ مارا جواد ہلا تک نہیں ” تم نے مجھے کئ بار مارا ہے جواد ، بازار کے اس کیبن میں پہلی بار مارا تھا ،بیٹھک میں مجھ پر الزام لگاتے ہوئے دوسری بار مارا تھا ، میرا راستہ روک کر تیسری بار مارا تھا ، آخری بار آج مار دیا ہے ، اب تو مجھ میں زندگی بھی نہیں بچی جواد “

آواز ٹوٹنے لگی

” جو میں نے کیا اس کا میں ذمہ دار ہوں لیکن جو نہیں کیا اس کا الزام مجھ پر مت ڈالو “

ہتھکری میں جکڑے وجود کو اس نے چھڑانے کی کوشش کی ، زین پیچھے کھڑا کینہ توز نظروں سے اسے گھور رہا تھا

” ایسا ہی الزام تم نے بھی مجھ پر لگایا تھا یاد ہے کچھ ؟ بیچ بازار میں کھڑے ہوکر ، بیٹھک میں کھڑے ہوکر ، تم کیوں خدا سے کیوں نا ڈرے جواد ، تمہاری خود کی بھی ایک بیٹی ہے ” جواد کا خود کو چھڑاتے وجود تھم گیا وہ بالکل رک کر قرت کو دیکھے گیا ” کبھی سوچا ہے اگر کوئ بازار میں کھڑے ہوکر اس کے چہرے پر تھپڑ مارے ، کوئ بیچ چوراہے میں اس پر الزام لگائے ، بھرے خاندان میں اسے بدکردار کہے ؟ تم اپنی بیٹی کے بارے میں سوچو جواد ، اسے قرۃ العین سمجھ کر دیکھو “

اس کا سر نفی میں ہلا

” میری بیٹی کو لے کر مجھے بد دعا مت دو “

وہ باپ تھا ، اچھا یا برا لیکن وہ ایک باپ تھا ، بات بیٹی کی آئ تو ڈر گیا ، اندر تک ہل گیا ، قرت نے آنسو پونچھنے

” بددعا دینی ہوتی تو کب کی دے چکی ہوتی ، میں تمہیں صرف یاد دلا رہی ہوں ، تمہاری بھی ایک بیٹی ہے ، اس کے معاملے میں خدا سے ڈرو کہ کوئ اس کے ساتھ ویسا نا کرے جیسا تم نے میرے ساتھ کیا “

وہ آگے بڑھی جواد اسے ہی دیکھ رہا تھا گلے میں بار بار گلٹی ابھرتی ، اس کے ساتھ آکر وہ رکی

” اگر عیسیٰ کو کچھ ہوا تو میں تمہاری شکایت اپنے خدا سے کروں گی ، میرے خدا کے انصاف سے ڈرو ” اور وہ چلی گئ، جواد کا وجود ریزہ ہوا ، وہ اس کی بیٹی کے نام سے اسے ڈرا کر گئ تھی، اس کے جانے کے بعد زین جواد تک آیا اور اس کے گریبان کو تھاما

” جو آپریشن تھیٹر میں پڑا ہے وہ میرا دوست نہیں بھائ ہے ، اسے کچھ ہوا تو میں تمہارا معاملہ صرف خدا پر نہیں چھوڑوں گا ، میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے “

جھٹکے سے اسے چھوڑا اور باہر کی طرف بڑھا ، جواد نے جواب نہیں دیا وہ سفید چہرہ لیے وہیں کھڑا رہ گیا

بات اپنی بیٹی کی آئ تھی تو وہ اندر تک ہل گیا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ جب باہر آیا قرت پولیس اسٹیسن کے صحن میں رکھے بینچ پر بیٹھی تھی ، چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ رو رہی تھی

وہ گہری سانس لیتا اس کی طرف بڑھا

” آپ کو کس نے بتایا کہ گولی جواد نے چلائ تھی؟”

” آپ کو فون پر کہتے سنا تھا “

اس نے سر اٹھا کر زین کو دیکھا ، آنکھیں مسلسل رونے سے سوج گئ تھیں

” اسے گارڈ نے وہاں سے فرار کی کوشش پر پکڑا تھا “

اس نے کچھ نہیں کہا بس خاموشی سے زمین کو گھورتی رہی

” وہ ٹھیک ہوجائے گا “

اسے خاموش دیکھ وہ بولا

” اگر اسے کچھ ہوا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پائوں گی ” زین چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس نے ساتھ رکھی دوسری کرسی کھینچی اور اس سے قدرے فاصلے پر سامنے بیٹھا

” اسے کچھ نہیں ہو گا “

قرت کا سر نفی میں ہلا

” میں خوفزدہ ہوں زین بھائ ، میں انہیں کھونے سے خوفزدہ ہوں ، میرا دل پھٹ رہا ہے ، میں پل پل اذیت میں ہوں ، میری روح جھلس رہی ہے “

اس کا دل ڈر رہا تھا ، وہ خوفزدہ تھی ، وہ جو عیسیٰ حیات تھا وہ قرۃ العین کو بہت عزیز تھا ، عیسیٰ حیات کا نا ہونا قرۃ العین کے دل کو مار دیتا

زین بس اسے دیکھے گیا، دل میں موجود اذیت بڑھ گئ

” وہ ٹھیک ہوجائے گا ، وہ ہم سب کو چھوڑ کر یوں نہیں جاسکتا “

” وہ میرے سامنے نیچے گرا تھا، انکی شرٹ پر خون لگا تھا ، انہیں کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گی ، عیسیٰ حیات کو کچھ ہوگیا تو قرۃ العین کیا کرے گی ؟ وہ مرگیا تو زندہ میں بھی نہیں رہوں گی “

وہ سر ہاتھوں میں تھامے روتی گئ ، زین کی آنکھیں نم ہونے لگیں پھر اس نے سر جھٹکا

” چار سال پہلے ہم لوگ ملتان میں ہوسپٹل کے سامنے بیٹھے تھے اور وہ مجھے کہہ رہا تھا کہ آپ کو کچھ ہوگیا تو وہ خود کو معاف نہیں کرپائے گا ، آپ دونوں کا معافی کا تعلق کبھی ختم نہیں ہوتا ، “

“ان کی طرف سے کبھی یہ تعلق رہا ہی نہیں ، میری طرف سے کبھی ختم ہی نہیں ہوا ، میں نے اپنی ہر ذلت کا الزام ان پر ڈالا ، ہر قصور پر انہیں الزام دیا ، میں نے ان کے دل پر کتنا ظلم کیا ہے ، اور اب جب سب ٹھیک ہورہا تھا تو وہ مجھے ایسے سزا نہیں دے سکتے ، عیسیٰ حیات قرت العین کو ایسی سزا نہیں دے سکتا ” اس کی ہچکی بندھنے لگی ، دل میں اس قدر اذیت تھی کہ لگتا تھا وہ اس اذیت سے پھٹ جائے گا

” آپ اس کیلئے دعا کیوں نہیں کرتیں ؟”

اس کا روتا وجود ساکت ہوا ، نظریں اٹھا کر زین کو دیکھا

” دعا ؟”

” جی ۔۔۔دعا “

” میں کیسے دعا کروں ؟”

وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس نے رخ پھیرا

” عیسیٰ نے بھی کی تھیں ، جب ہم ملتان میں تھے ، جب ہم واپس آئے ، وہ عرصہ آپ کیلئے دعا کرتا رہا ، اسے لگتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ ملتان میں سویرے اٹھ کر خدا سے کیا مانگتا تھا ، اسے لگتا ہے میں اس کی دعائوں سے ناواقف رہا ہوں ، سچ پوچھیں تو اس کی دعائوں نے مجھے یقین بخشا ہے ، اسے دیکھ کر لگتا تھا وہ جو مانگ رہ ہے اسے مل جائے گا ، وہ آپ کو مانگتا تھا اور آپ اسے مل گئیں ، جو رب عیسیٰ حیات کو قرۃ العین دے سکتا ہے وہ رب قرۃ العین کو عیسیٰ حیات نہیں لوٹا سکتا ؟”

وہ بنا سانس لئے اسے دیکھے گئ ، دعا؟ اسے دعا کیوں بھول گئ ، یہ تو سب سے پہلا کام تھا جو اسے کرنا چاہئے تھا ، وہ سب سے پہلا کام آخر میں کرتی ؟ اس نے آنسو صاف کئے اور کھڑی ہوگئ

” ہوسپٹل چلیں زین بھائ “

وہ سر ہلاتے اٹھا ،اسی لمحے اس کا موبائل بجنے لگا ، فون جیب سے نکال کر وہ لمحے بھر کو رک گیا ، وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی

” کس ۔۔کس کی کال ہے ؟”

” ہوسپٹل سے ہے ۔۔۔۔۔”

اس نے بے اختیار ساتھ موجود درخت کو تھاما ، اسے ڈر تھا وہ گرجائے گی ، زین نے کانپتے ہاتھوں سے کال ریسیو کی

” جی ؟”

” آرہا ہوں بس “

وہ سفید چہرہ لیے اسی دیکھتی رہی ، وہ ابھی کچھ کہے گا ، کچھ ایسا جو اس پر بھاری ہوگا ، اس کا دل کیا وہ غائب ہوجائے ، اسے اگلی سانس نا آئے ، وہ زین سے کہے وہ بہری ہوچکی ہے اسے کچھ نا سنایا جائے ، اس کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں وہ کوئ نیا منظر نہیں دیکھنا چاہتی ، اس کا دل دھڑکنا چھوڑ رہا تھا ، اگر وہ کچھ برا کہنے لگا تھا تو وہ چاہتی تھی قافلے روک دیئے جائیں ،شہر میں اعلان کروادیا جائے ، وہ جو عیسیٰ حیات ہے قرۃ العین اس سے پہلے فنا ہوچکی

زین نے کال بند کی اور اسے کو دیکھا ، اسے احساس ہوا زندہ لوگوں کے اندر سے روح کیسے کھینچی جاتی ہے

” ریلیکس ۔۔۔اس کا ابھی آپریشن ہورہا ہے “

سماعت واپس آئ ، اسے اب خیر کا کلام سننا تھا ، آنکھوں کی بینائی آباد تھی ، اسے اب من چاہا منظر دیکھنا تھا، شہر کے قافلے رواں رہیں ، اس کا عزیز شخص سلامت تھا ، گہری سانس لیتے درخت سے ہاتھ اٹھاتے وہ سیدھی ہوئ اور بنا کچھ کہے گاڑی کی طرف بڑھی ، اسے عیسیٰ کیلئے دعا کرنی تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ہوسپٹل میں مسجد تھی لیکن وہاں ہر وقت کوئ نا کوئ موجود ہوتا ، وہ ہوسپٹل آنے کے بعد آپریشن تھیٹر کی طرف نہیں گئ ، اس نے کوئ کونہ تلاش کیا جہاں وہ بیٹھ کر دعا کرسکے ، جہاں بیٹھ کر روسکے ، کوئ تنہا گوشہ جہاں کوئ نا ہو ،

” سنیں ۔۔۔۔”

جب کافی تلاش کے بعد بھی کوئ جگہ نا ملی تو اس نے نرس کو روک لیا

” جی ۔۔۔”

” یہاں کوئ ایسی جگہ ہوگی جہاں کوئ نا جاتا ہو ؟ مجھے نوافل پڑھنے ہیں ” آنکھ مسلسل نم تھی ، دل مسلسل اذیت میں تھا

” آپ مسجد چلی جائیں نا “

نرس کچھ مصروف تھی

” وہاں نہیں۔۔۔کوئ اکیلی جگہ “

” ایسی تو کوئ جگہ نہیں ہے ” وہ کچھ بے زاری سے کہتی آگے بڑھنے لگی پھر رکی ” بیک یارڈ میں چلی جائیں ، وہاں کوئ نہیں آتا”

اس نے بس سر ہلادیا ، آواز اندر دب گئ ، شکریہ کہنا تھا لیکن وہ حلق میں رک گیا ، وہ تیزی سے بیک یارڈ کی طرف بڑھی، وہ خالی نہیں تھا ، وہاں وحشت تھی ، جیسے برسوں سے کسی نے وہ جگہ صاف نا کی ہو ، جیسے برسوں سے وہاں درختوں کو پانی نا دیا گیا ہو ، اسے اس وقت وہاں کی وحشت سے مطلب نہیں تھا اس کے خود کے اندر بہت وحشت تھی ، اس کے درختوں کے سوکھنے کی پرواہ نہیں تھی، اس کا خود کا دل ویران ہورہا تھا

جائے نماز نہیں تھی وہ ویسے ہی کچی زمین پر نماز پڑھنے لگی ، نقاب اتار کر بائیں طرف رکھ دیا ، بمشکل دو رکعات پوری کیں ، حلق میں آنسو اٹکے، ذہن بار بار آپریشن تھیٹر میں پڑے وجود پر جاتا ، الفاظ کچھ بھولنے لگتے ، وہ سورت شروع کرتی اور پھر بھول جاتی ، نئے سرے سے پڑھنے لگتی پھر بھولنے لگتا ، دو نوافل پڑھنے میں دس منٹ لگ گئے ،

سلام پھیر کر اس نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھایا تو آواز سے پہلے آنسو نکلنے لگے

” اللہ ! ، میں خود غرض ہوں جانتی ہوں، نا شکری ہوں علم ہے ، گناہگار ہوں واقف ہوں ، پچھلے چند سالوں سے دعا مانگنا چھوڑ دی ہیں ، لوگوں پر دکھ آتے ہیں تو سب سے پہلے دعا مانگنا سیکھتے ہیں ، مجھ پر آئے تو سب سے پہلے دعا مانگنا چھوڑدی ، لیکن یہ ناراضگی نہیں تھی اللہ ، یہ کبھی بھی ناراضگی نہیں تھی ، میری موت کا خیال اس خیال سے زیادہ اچھا ہے میں آپ سے ناراض ہوجائوں ، ، مجھے لگا یہ صبر ہے، میں نے سب آپ کے حوالے کردیا ، جو اللہ کرے گا میں راضی ہوں ، خواہشات مر گئیں ، آرزوئیں ختم ہوگئیں ، دعائیں بھول گئیں اور مجھے لگا یہ صبر ہے ، غلط لگا تھا ، صبر ہوتا تو بہتری کی دعا کرتی ، یہ خاموشی تھی اللہ ، وہ خاموشی تھی “

اس کی ہچکی نکلی ، برسوں کی اذیت تازہ ہونے لگی

” قرۃ العین خاموش ہوگئ ، قرۃ العین خود غرض ہوگئ ، آج بھی میری خود غرضی آپ تک لے آئ ہے یا اللہ ، ایک شخص ہے جو بہت عزیز ہوگیا ہے ، میرے عزیز شخص کے ذریعے مجھے مت آزمائیں ،مجھے ایسی آزمائش میں مبتلا مت کریں جو میرے دل کو زخمی کردے ، مجھے وہ غم مت دیں جو مجھے تھکا دے ، مجھ پر ایسی مصیبت مت لائیں جو مجھے شکوے کی طرف لے جائے ” آنسو مسلسل بہنے لگے ، وہ اردگرد سے بے نیاز وہیں ہاتھ چہرے پر رکھے روتی گئ

” میں نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا ، میں اعتراف کرتی ہوں ، میں نے ہر الزام اس پر لگایا اور خود کو بری کردیا ، وہ تو صرف محبت کرتا تھا لیکن میں اس کی محبت سے ڈرگئ تھی اللہ ، اب جبکہ وہ محبت مجھے خوفزدہ نہیں کررہی تو وہ یوں نہیں جاسکتا ، وہ یہ جانے بغیر نہیں جاسکتا کہ قرت العین عیسیٰ حیات سے محبت کرتی ہے ، مجھے اس کے سامنے اعتراف تو کرنے دیں کہ وہ میرے لئے وہ شخص بن گیا ہے جسے کھونے سے میں ڈرتی ہوں ، آہ قرت العین تمہیں تو محبت نبھانی بھی نا آئ “

اس کا سانس گھٹنے لگا

” اسے مجھ سے مت لیں اللہ جبکہ وہ مجھے ملا بھی ابھی ہے ، مجھے اس کے ساتھ مل کر شکر ادا کرنا ہے، وہ شکر جو عیسیٰ حیات پر واجب تھا اب قرت العین پر بھی واجب ہے ، مجھے اس کے ساتھ وہ زندگی گزارنی ہے اللہ جو آپ نے دی ہے ، اسے آپ نے مجھے عطا کیا اسے مجھ سے مت لیں ، وہ مرگیا تو میرا اندر بھی مرجائے گا ، عیسیٰ حیات کو مجھے لوٹادیں ، مجھ پر ایسا امتحان مت ڈالیں جسے میں کامیاب نا کرسکوں ، عیسیٰ کی زندگی لوٹادیں اللہ “

جانے کتنے آنسو مزید نکلے جانے کتنی اذیت مزید پھیلی ، وہ وہیں بیٹھی روتی رہی ، اندھیرا بڑھتا رہا اس کی آواز سناٹے میں گونجتی رہی ، پھر دھیرے دھیرے دل کو سکون ملنے لگا ، آنسو تھمنے لگے ، ہچکیاں کھاتا وجود ساکت ہونے لگا ، وہ چہرے سے ہاتھ ہٹاتی اٹھی ، آنسو صاف کئے اور کھڑی ہوگئ، نقاب اٹھایا ، کپڑوں پر مٹی لگ گئ تھی اسے بغیر جھاڑے اندر کی طرف بڑھی ، اندھیرے سے روشنی کی طرف آئ تو آنکھیں چندھیا سی گئیں ، وہ لمحے بھر کو رکی ، سر چکرا سا گیا ،بے اختیار دیوار کا سہارا لیا ، حلق الگ سوکھ رہا تھا ، سیدھے کھڑے ہوتے ہوئے آگے بڑھی ، کارویڈور کے سرے پر چند نئے چہرے موجود تھے ، وہ تیزی سے آگے بڑھنے لگی جب کوئ اس کے سامنے آیا

” تم کہاں تھی قرت ؟”

اس نے دیکھا صوفیہ کی آنکھیں سرخ تھیں، اس کی نظر آپریشن تھیٹر پر گئ

” میں عیسیٰ کیلئے شفا لانے گئ تھی “

وہ بڑبڑائ ، صوفیہ یکدم آگے بڑھی اور اسے گلے لگایا، اس کا دل دھک سے رہ گیا

” عیسیٰ ۔۔۔”

لبوں سے بے ساختہ نکلا کیا اس نے دعا میں دیر کردی تھی ؟

” وہ ٹھیک ہوجائے نا قرت ؟ مجھے بتائو وہ ٹھیک ہوجائے نا ؟” وہ اس کے گلے لگ کر کہہ رہی تھی ، اس کی نظر آپریشن تھیٹر پر تھی

” وہ ٹھیک ہوجائے گا ۔۔اسے ٹھیک ہونا ہوگا، میں نے دعا کی ہے ، اسے میری دعا شفا کی صورت لگے گی ، وہ ٹھیک ہوجائے گا “

وہ اس سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی تھی، صوفیہ دھیرے سے اس سے الگ ہوئ

” ہاں وہ ٹھیک ہوجائے گا “اس سے الگ ہوتے کہا ، اس کی نظر شہوار پر گئ ، وہ بینچ پر بیٹھی تھیں ، وہ صوفیہ کو وہیں چھوڑتی ان کی طرف آئ ، ساتھ والی کرسی خالی تھی وہ اس پر بیٹھ گئ

” آنٹی ۔۔۔”

شہوار نے چونک کر سر اٹھایا، پھر اس پر نظر پڑی تو چہرے پر تکلیف ابھری

” وہ ٹھیک ہوجائے نا قرت؟ اس سے جا کر کہو وہ ٹھیک ہوجائے “

وہ پھپھک پھپھک کر رو دیں

” وہ ٹھیک ہوجائے گا آنٹی “

جانے کہاں سے وہ اتنی ہمت لاپائ تھی کہ سب کو تسلی دیتی ،خود کا دل یوں تھا جیسے کوئ آری سے چیر رہا ہو

” اوہ عیسیٰ ۔۔تم کب ہمیں تنگ کرنا چھوڑوگے ؟ ایک غلطی کی سزا اتنی بڑی تو مت دو ، ہم تمہیں بچپن میں چھوڑ گئے تھے تم بڑھاپے میں مت چھوڑ جانا ، لوٹ آئو عیسیٰ خدارا لوٹ آئو “

اس نے سر اٹھا کر حیات کو دیکھا ، وہ رو رہے تھے ، وہاں کسی ایک کی آنکھ بھی خشک نہیں تھی ، وہ ایک شخص اتنے لوگوں کو رلا رہا تھا

اسی لمحے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا ، سب کی نظر اندر سے آتے ڈاکٹر پر گئ ، زین جھٹکے سے ان تک پہنچا ، حیات اور شہوار بھی کھڑے ہوئے ، وہ بیٹھی رہی ، دل رکنے لگا

” ڈاکٹر وہ کیسا ہے ؟”

اس نے دیکھا ڈاکٹر کے لب ہلے تھے ، انہوں نے کچھ کہا تھا جسے سنتے حیات کے آنسو رکے ، شہوار کرسی پر گریں ، صوفیہ وہیں رک گی ، وہ بس ساکت سی بیٹھی رہ گئ ، اسے آواز کیوں نہیں آرہی تھی ؟کیا اس کی دعائیں رد ہوگئیں ؟

” قرت ۔۔۔”

آواز کہیں پاس سے آئ لیکن وہ بس ساکت سی آپریشن تھیٹر کو دیکھے گئ ، کیا وہ چلا گیا تھا ؟

” قرت ۔۔۔”

کسی نے اس کا کاندھا جھنجھوڑا تو وہ چونکی

” وہ ٹھیک ہے قرت ۔۔۔۔ عیسیٰ ٹھیک ہے “

صوفیہ جھک کر اسے گلے لگارہی تھی ، وہ بس بیٹھی رہ گئ ، عیسیٰ ٹھیک تھا ؟

” وہ زندہ ہے ۔۔۔قرۃ العین کا عیسیٰ زندہ ہے ” بلآخر وہ مان رہی تھی کہ عیسیٰ قرۃ العین کا تھا ، ہاں وہ مان رہی تھی ، قرت نے بے یقینی سے اسے پیچھے کیا

” عیسیٰ ۔۔۔۔”

” وہ ٹھیک ہے “

” وہ زندہ ہے ؟”

اس کے لب پھڑپھڑائے

” وہ زندہ ہے قرت ۔۔ عیسیٰ زندہ ہے “

صوفیہ کی آواز میں خوشی ابھری ، قرت کی آنکھوں میں بے یقینی اتری

” وہ زندہ تھا ؟

وہ زندہ تھا؟

عیسیٰ زندہ تھا

اسے یقین آنے لگا ، ہاں عیسیٰ زندہ تھا ، وہ اسے چھوڑ کر نہیں گیا تھا ، وہ جھٹکے سے اٹھی ، شہوار حیات کے ساتھ لگی رو رہی تھیں ، زین کسی کو کال کررہا تھا ، صوفیہ کرسی پر بیٹھی آنسو صاف کررہی تھی وہ مسکرا بھی رہی تھی ، وہ ان سب کو نظر انداز کئے باہر کی طرف بڑھ گئ

اسے اس وقت اللہ کا شکر ادا کرنا تھا ، پھر کسی پرسکون گوشے میں بیٹھ کر رونا تھا ۔۔۔ بہت ڈھیر سارا رونا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ذہن تاریک تھا ، دل رک گیا تھا ، آوازیں کسی تیز سیٹی کی مانند سنائ دیتیں ، آنکھ بھاری تھی ، پھر بہت کوشش سے اس نے آنکھوں پر پڑا بوجھ ہٹایا ، پلکیں دھیرے سے کھولیں ، پھر جھپکیں ، پھر بند کیں ، سامنے دھندلا سا کوئ منظر نظر آرہا تھا ، اس کے دماغ نے کچھ سمجھنا چاہا لیکن تاریکی ہر طرف سے حملہ آور ہوئ، کا دماغ اندھیرے میں ڈوب گیا

دوسری مرتبہ ہوش آیا تو آنکھیں پہلے سی ہلکی تھیں ، اذیت کم تھی ، درد پہلے سے زیادہ تھا ، اس بار بہت کوشش سے اس نے وہ بوجھ ہٹایا ، آنکھیں مکمل کھلیں

سامنے کوئ کھڑا تھا ، کوئ عورت ایک مرد ، ایک لڑکی

” عیسیٰ ۔۔۔”

عورت نے جھک کر اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا

” تم ٹھیک ہو بیٹا؟” اس نے پلکیں جھپکیں ، چہرہ پہچانا ، ایک عورت ، ایک مرد ،ایک لڑکی

” مام۔۔۔۔”

لبوں سے دھیرے سے نکلا ، سب سے پہلا چہرہ ماں کا یاد آیا ، انسان خوشی میں غم میں ، درد میں تکلیف میں سب سے پہلے ماں کو پکارتا ہے ، بچپن سے ایک نام ذہن میں حفظ ہوتا ہے ، ہر چہرہ مٹ جاتا ہے ، ہر نام محو ہوجاتا ہے ماں کا نام یاد رہ جاتا ہے ، تکلیف آنے پر سب سے پہلے وہی نام یاد آتا ہے ۔۔۔ماں !

شہوار نے جھک کر اس کا ماتھا چوما

” میں یہیں ہوں بیٹا ۔۔۔مام یہیں ہے “

اس کی نظر حیات پر گئ ، اس کا ذہن درد کے باعث سب مکس کررہا تھا ، لیکن اسے چہرے یاد تھے ، وہ باپ کو بھی پہچانتا تھا ، وہ اپنے وجود سے جڑے ان دونوں حصوں کو پہچانتا تھا ، تیسرے وجود کی طرف نظر جانے سے پہلے اس کا ذہن پھر سے تاریکی میں ڈوبنے لگا ، وہ اس تیسرے وجود کو بھی پہچانتا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اگلی بار ہوش آیا تو ہر شے واضح تھی ، ہر پہچان یاد تھی ، ہر چیز ذہن میں تھی ، کس قدر کوشش سے وہ سیدھا ہوا ، سینے کے نیچے تکلیف اٹھی ، ناقابل برداشت تکلیف ، اس نے لب بھینچے ، کمرے کے موجود نرس فورا آگے ہوئ

” آپ ٹھیک ہیں سر ؟”

اس نے سرہلایا

” درد ہے کہیں ؟ پین کلر دوں ؟”

اس نے سر نفی میں ہلایا، تیکے پر سر رکھا ، کمرہ خالی تھا

” گڈ ۔۔” نرس پروفیشنل انداز میں مسکرائ ، اس کی نظر دروازے پر گئ

” میرے گھر والے کہاں ہیں ؟ “

” باہر ہیں ۔۔۔بلائوں انہیں ؟”

اس نے بس سر ہلایا

نرس باہر کی طرف بڑھ گئ تھوڑی دیر واپس آئ تو شہوار ساتھ تھیں

” تم ٹھیک ہو بیٹا ؟”

” جی ۔۔۔”

وہ آگے بڑھیں اور نرمی سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا ، ذہن میں برسوں پرانا منظر جاگا جب وہ اسی طرح ہوسپٹل میں زخمی پڑا تھا

” درد ہورہا ہے کہیں ؟”

” ٹھیک ہوں مام ۔۔۔” ان کا ہاتھ تھاما ” آپ ٹھیک ہیں ؟”

شہوار کی آنکھیں نم ہوئیں

” اب ٹھیک ہوں “

وہ ہلکا سا مسکرایا

” ڈیڈ کہاں ہیں ؟”

” گھر گئے ہیں تھوڑی دیر پہلے “

” قرت ؟”

” وہ باہر ہی ہے ” اس نے سر ہلایا ، وہ اندر کیوں نہیں آئ تھی؟

” تم نے ہمیں ڈرا دیا تھا عیسیٰ “

آنسو پھسلنے لگے

” آئ ایم سوری “

معذرت کی

” سوری ؟ اوہ عیسیٰ ۔۔میری روح باہر نکلنے کو تھی ، ایسا کیوں کرتے ہو ؟”

” میں نے خود کو گولی تھوڑی ماری تھی مام ” پھر وہ چونکا ” گولی کس نے چلائ تھی؟”

” زین دیکھ رہا ہے یہ سب معاملات ، مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ پوچھوں ۔۔تمہاری تکلیف نے سب بھلادیا “

وہ خاموش رہا پھر شہوار نے آنسو صاف کئے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا

” میں قرت کو بھیجتی ہوں ” اس نے پیچھے کو ہوتے سر ہلادیا ، ذیادہ بولنے سے اذیت ہورہی تھی، شہوار چلی گئیں تو وہ چھت کو دیکھتا قرت کا انتظار کرنے لگا ، گولی کس نے چلائ تھی؟ اس کا کون سا دشمن تھا جو اسے مارنا چاہتا تھا ؟ سوچتے سوچتے اس کا ذہن پھر سے غنودگی میں ڈوبنے لگا ، شاید دوائیوں میں نشہ آور دوا تھی ، وہ جاگنا چاہتا کیا، اسے ہوش میں رہنا تھا لیکن ذہن پھر سے غنودگی میں چلا گیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

فارمیسی سے دوائیاں لینے کے بعد وہ بمشکل قدم اٹھاتی اس کے کمرے تک پہنچی ، باہر کھڑے ہوکر خود کو ہمت دلائ ، گہرے سانس لئے اور بہت آہستہ سے دروازہ کھولا ، اندر اندھیرا سا تھا ، عیسیٰ سورہا تھا ، آنکھیں بند تھیں اور اس کی سانس لینے کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی

وہ دروازہ بند کرتی انہی آہستہ قدموں سے بیڈ کی سائڈ ٹیبل کی طرف بڑھی ، دوائیاں وہاں رکھیں ، ایک نظر عیسیٰ کو دیکھا

ہلکی ہلکی روشنی میں اس کا زرد چہرہ نظر آرہا تھا، سینے پر جگہ پھولی ہوئ تھی نیچے پٹیاں وغیرہ کی گئ تھیں یقینا ، جانے اس کی قسمت اچھی تھی یا گولی چلانے والے کا نشانہ برا تھا کہ گولی اس کے دل پر لگنی کی بجائے دل کے نیچے لگی تھی ورنہ شاید وہ ۔۔۔

اس نے سر جھٹکا، اس خیال سے ہی اذیت ہوتی تھی آہستہ سے اس کے بیڈ کے کنارے آئ اور اس کا ہاتھ تھاما

اسے کچھ ہوجاتا تو جانے وہ کیا کرتی ، وہ کہتا تھا وہ اسے نا ملتی تو وہ جوگ لے لیتا ، وہ اب سمجھی تھی وہ ایسا کیوں کہتا تھا ، دو دن ہوچکے تھے اسے ہوش میں آئے ، وہ دو دن سے شکر ادا کررہی تھی ، وہ اب ساری زندگی شکر ادا کرتی ، دو سے اسے سنا نہیں تھا ، وہ اب اس کے سامنے بیٹھ جاتا تو وہ اسے ساری زندگی سنتی رہتی ، دو دن سے اس نے اسے نہیں دیکھا تھا اور اب اسے خود پر پڑنے والی ہر دوسرے شخص کی نظر اعتراض تھا ، دو دن سے کسی نے اسے محترمہ کہہ کر نہیں پکارا تھا ، وہ چاہتی تھی اب اسے اس نام سے ایک ہی شخص پکارے ، دو دن سے وہ اس کے سامنے بیٹھ کر مسکرایا نہیں تھا اور اسے لگتا تھا وہ اس کی مسکراہٹ بھی لے گیا ہے ، وہ صحیح کہتا تھا محبت آسیب ہی ہوتی ہے

” میں نے اپنا دل نکال کر آپ کے دل کے ساتھ رکھ دیا تھا عیسیٰ ، آپ کے دل کا دھڑکنا میرے جینے کی وجہ بن گیا ، آپ کے دل کا رکنا میری دھڑکن روک دیتا ، آپ کے بغیر آپ کے سفید پھولوں کی خوشبو بھی باسی ہونے لگی تھی ، ایک عزیز شخص کا موجود ہونا ،لاکھوں لوگوں کے موجود ہونے سے زیادہ اہم ہے ، میں نے یہ جان لیا ہے “

، دھیرے سے اس کا ہاتھ چھوڑا ، ایک آخری نظر اس کے سوتے چہرے پر ڈالی اور دبے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھی ابھی دروازے تک پہنچی ہی تھی جب پیچھے سے آواز آئ

” قرۃ العین ۔۔۔۔”

وہ رک گئ ، آنکھیں بند کرتے وہ آہستہ سے پلٹی ، عیسیٰ پلکیں جھپکیتے اندھیرے میں اسے دیکھنے کی کوشش کررہا تھا

” یہاں آئیں۔۔۔۔”

وہ مرے مرے قدموں سے اس کی طرف بڑھی ، اس کے آنے تک وہ تکیوں کے سہارے سیدھا بیٹھ چکا تھا ، اس کے پاس آنے پر اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا، اس نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا

” کیسی ہیں؟”

” میں ہوں یہ کافی ہے “

اسے کچھ ہوجاتا تو وہ مر جاتی

” آپ ہیں میرے لئے بھی یہی کافی ہے “

اسے کچھ نہیں ہوا تھا…زندگی یہی تھی

اس کے حلق میں نمکین پانی گھلا ،پھر اسے احساس ہوا کہ یہ سوال اسے پوچھنا چاہئے ” آپ کیسے ہیں ؟”

” شکر آپ کو خیال آ گیا ” وہ شکوہ کررہا تھا اسے بے پناہ شرمندگی ہوئ ، اسے ہوش میں آئے دوسرا دن تھا اور وہ مسلسل اس کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی

” ایم سوری ۔۔۔۔۔”

” کس لئے؟” نرمی سے اسے تھوڑا سا اپنی طرف کھینچا

” آپ کی طبیعت کا نہیں پوچھا “

وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی ، نظریں نیچی تھیں

” اٹس اوکے ۔۔میں ٹھیک ہوں ویسے ” ہاتھ میں تھامے اس کے ہاتھ پر نظریں تھیں پھر نظر اٹھا کر اسے دیکھا

” اچھا۔۔۔” وہ خاموش ہوگئ اور کیا کہتی ، دل البتہ بہت آہستہ آہستہ دھڑک رہا تھا، عیسیٰ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر تکیے کے سہارے زرا سا اوپر ہوا

” نیچے جھکیں قرت”

” جی ؟”

نظریں اٹھا کر حیرانی سے اسے دیکھا

” نیچے جھکیں پلیز ۔۔۔مجھے آپ کا نقاب کھولنا ہے ” نظریں اس کی آنکھوں پر جمائے نرمی سے کہا تو وہ جہاں تھی وہیں رہ گئ ، وہ اوپر کو نہیں ہوسکتا تھا اس کے سینے پر گولی لگی تھی یقیناً اسے تکلیف ہوتی ، اس کے حلق میں آنسو اٹکے

” آپ ۔۔۔” کچھ کہنا چاہا لیکن آواز نا نکلی

” میں ؟”

وہ بمشکل ضبط کرتی رہی پھر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا

” آپ آرام کریں عیسیٰ ” بنا اس پر دوسری نظر ڈالے وہ دروازہ کھول کر باہر بڑھ گی ، اس نے عیسیٰ کی آنکھوں میں آتی حیرانی نہیں دیکھی تھی ، دیکھ لیتی تو شاید رک جاتی ، رک جاتی تو آنسو پر ضبط کرنا مشکل ہوجاتا

باہر آکر وہ بینچ پر بیٹھی اور ضبط کئے آنسو بہنے دیئے

ہر وہ منظر ذہن میں گھوم گیا جب وہ اس سے کہہ رہا تھا کہ وہ اس کا نقاب کھول لے ؟ ہر پرانی یاد تازہ ہوگئ ، اس شخص کو کچھ ہوجاتا تو قرۃ العین کا بڑا نقصان ہوتا ، وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے روئے گئ