Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 22)

Nahal By Fatima Noor 

اس نے کتابیں اٹھا کر شیلف پر رکھیں اور پیچھے ہوکر ان کتابوں کو دیکھا

آٹھ سالہ علم کا نچوڑ ٫ زندگی کے آٹھ سال اس نے ان کتابوں کو دیئے تھے ٫ اور آج وہ آخری پیپر دے کر جب مدرسے سے نکلی تھی تو اپنے دل کا ایک حصہ وہیں مدرسے میں چھوڑ آئ تھی اور اب پچھلے ایک گھنٹے سے ساری کتابیں ٫ سارے رجسٹر نوٹس سب سنبھال کر رکھنے کا کام پوری دلجمعی سے کررہی تھی

” مبارک ہو ! اب آپ آفیشلی عالمہ بن گئیں “

پیچھے سے مہر کی آواز گونجی تو وہ پلٹی

” رزلٹ آنے تک اس مبارک کو سنبھال کر رکھو “

وہ مسکرائ

” تب نئ مبارک دے دوں گی “

قرت کچھ کہے بغیر نیچے رکھے باکسز کی طرف بڑھ گئ ٫اس نے آسمانی رنگ کی شلوار قمیص پر ہم رنگ دوپٹہ لے رکھا تھا ٫ بال جوڑے میں لپیٹ رکھے تھے ٫ دوپٹہ کمر پر باندھ رکھا تھا٫سادہ لیکن نرم سی قرت العین !

” آپی۔۔۔۔۔”

” جی۔۔۔۔”

مہر کچھ کہنے کی بجائے چند لمحے تذبذب سی اسے دیکھتی رہی ٫قرت بالآخر کچھ ٹھیک لگ رہی تھی٫ ٫ اتنے غموں کے بعد کچھ پرسکون ٫ کیا وہ بتادے ؟

” کہو بھی مہر …”

آخری رجسٹر باکس میں رکھتی وہ الماری کے سامنے رکھے سٹول پر کھڑی ہوکر اس باکس کو الماری کے اوپر رکھنے لگی

” آپ جواد بھائ سے شادی کرلیں گی ؟”

اس کا ہاتھ رک گیا ٫ باکس پھسل جاتا اس سے پہلے اس نے بمشکل وہ تھاما ٫سٹول پر کھڑے کھڑے وہ پلٹی

” جواد سے شادی ؟”

” اماں خالہ سے کہہ رہی تھیں یہ بات “

وہ انگلیاں مروڑنے لگی

” کیا کہہ رہی تھیں ؟”

کوئ خدشہ سا اس کے اندر ابھرنے لگا

” یہی کہ تائ نے ان سے کہا ہے کہ وہ آپ دونوں کا نکاح کردیں کیونکہ جواد بھائ انہیں مجبور کررہے ہیں”

” خالہ نے کیا کہا ؟”

” وہ ۔۔۔انہوں نے کہا کہ ابا کو چاہئے کہ ہاں کردیں ٫ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئ راستہ نہیں ہے ٫ اماں پھر خاموش ہوگئیں “

اور خاموش تو قرت العین بھی ہوگئ تھی ٫ اس کا اندازہ مہر کو بات مکمل کرنے کے بعد ہوا ٫ وہ صرف خاموش نہیں ہوئ تھی اس کا چہرہ تاریک پڑا تھا ٫اماں خالہ کی سنتی تھیں اور مانتی تھیں ٫ انہوں نے کہا ہے تو وہ اس بارے بھی سوچیں گی یقیناً ٫ اسے جواد سے اس لمحے ڈھیروں نفرت محسوس ہوئ ٫ وہ شخص اس کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑدیتا تھا ؟ وہ بمشکل سٹول سے نیچے اتری اور نیچے پڑی ڈبوں کو دیکھا

” آپی۔۔۔۔”

” ہوووں ۔۔۔”

” آپ کو برا لگا ؟”

برا ؟ یہ برے سے بھی بدتر تھا ٫ وہ سر جھٹکتے نیچے پڑے ڈبوں کی طرف بڑھی

” انہیں رکھوادو گی مہر ؟”

ساری دلجمعی ہوا ہوگئ ٫ لہجے میں تھکن اتر آئ ٫ مہر سر ہلاتی تیزی سے آگے بڑھی اور سامان رکھوانے لگی ٫ قرت کے وجود پر گہری اداسی چھا گئ ٫ اس کے خاندان والے ابا کو مجبور کررہے ہوں گے ٫شاید وہ ان کے دبائو میں آجائیں ٫ سگے رشتے انسان سے کچھ بھی کروالیتے ہیں ٫ اگر جواد کریم اس صورت اسے برباد کرنا چاہتا تھا تو قرت العین اس سے کہنا چاہتی تھی کہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی تھی٫ وہ یہ کام پہلے ہی کرچکا تھا

” آپ کی تسبیح آپی ۔۔۔۔”

مہر کی آواز پر وہ چونکی ٫ نظر سرخ لکڑی کے ڈبے پر گئ ٫ وہاں ادھوری تسبیح رکھی تھی ٫ ساتھ سفید کاغذ ٫ وہ چند لمحے اس ڈبے کو دیکھتی رہی پھر مہر کے ہاتھ سے اسے لے لیا

عیسیٰ کا خط اس نے وہیں ڈال دیا تھا۔۔۔ کیوں ؟ وہ نہیں جانتی تھی ٫ اس کا ایڈریس والا کارڈ جانے کہاں رکھا تھا ٫ نا وہ تلاش کرنا چاہتی تھی نا اسے ضرورت تھی ٫ وہ اس کے سوکھے پتے آگ کی نذر نہیں کرسکی تھی لیکن اس نے انہیں گم کردیا تھا ٫ اس کی تسبیح سامنے رکھی تھی ٫ ادھوری۔۔۔٫ ٹوٹی۔۔۔۔ نامکمل ٫ وہ اجنبی جو حصہ اپنے ساتھ لے کر گیا تھا وہ بھی ادھورا تھا ٫ یہ ادھورا پن جیسے ان دونوں کے اندر رہ گیا تھا ٫ اس ڈبے کو دیکھتی اس کی آنکھوں میں تلخی ابھری ٫ جواد کریم اور عیسیٰ حیات وہ ان دونوں کو ایک ہی پیرائے میں دیکھتی تھی ٫ دونوں نے اس کی زندگی برباد کرنے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی تھی ٫ ایک یہ کام محبت کے نام پر کرچکا تھا اور دوسرا نفرت

” اس کا دوسرا حصہ کس کے پاس ہوگا ؟”

مہر بڑبڑائ ٫ وہ ناواقف تھی کہ اس کا دوسرا حصہ ایک اجنبی اپنے ساتھ لے گیا تھا ٫ وہ ساری داستاں اسی ایک ٹوٹی تسبیح سے شروع ہوئ تھی ٫ وہ تسبیح جس کے جڑنے کی امید عیسیٰ کو ہر شے سے زیادہ تھی ٫ وہ تسبیح جسے اب قرت العین کبھی نہیں جوڑنا چاہتی تھی ٫ اس کے جڑنے کیلئے اسے عیسیٰ سے ملنا پڑتا اور یہ دنیا کا وہ آخری کام ہوتا جسے وہ کرنا چاہتی

اس نے ٹھک سے وہ ڈبہ بند کردیا

الماری کی طرف بڑھی اور نچلا خانہ کھول کر اسے وہاں رکھ دیا ٫ اور اس نے جیسے صرف ڈبہ بند نہیں کیا تھا ٫ ایک باب بند کردیا تھا ٫ اس کی زندگی کی کہانی کا وہ باب جس میں عیسیٰ حیات کا نام تھا ٫ قرت العین نے اپنی زندگی کا وہ باب بند کردیا تھا

ہمیشہ ہمیشہ کے لئے !

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ جب دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو عیسیٰ میز کے ساتھ ٹھہرا تھا ٫ میز پہ رکھی پینسل کو گھماتا ہوا ٫ نیلی جینز پر سفید شرٹ پہنے ٫ شرٹ جینز کے اندر تھی اور ایک ہاتھ پاکٹ میں ڈال رکھا تھا

” کیا میں آج بھی لیٹ آنے پر معذرت کروں ؟”

اس نے بنا چونکے سر اٹھایا اور انہیں دیکھا

” نہیں ۔۔۔۔میں البتہ بغیر بتائے آنے کیلئے معذرت نہیں کروں گا ٫ دادا کے دوست مجھے اتنا فیور تو دے ہی سکتے ہیں “

” یقینا ۔۔۔۔” وہ ہلکا سا ہنسے پھر کرسی کی طرف بڑھتے اسے اشارہ کیا ” بیٹھو۔۔۔۔۔”

” آپ کے پیشنٹ تو نہیں آئے ہوئے تھے ؟”

وہ کرسی پر بیٹھتا ان سے پوچھنے لگا

” آئے بھی ہوئے تھے تو کوئ بات نہیں ٫ اپنے دوست کے پوتے کو اتنا فیور تو دے ہی سکتا ہوں “

وہ مسکرائے

” میں اس بار دوست کا پوتا نہیں پیشنٹ بن کر آیا ہوں “

کچھ سنجیدگی سے کہتے اس نے طاہر انکل کی مسکراہٹ غائب ہوتے دیکھی تھی ٫ لمحوں میں ان کے چہرے پر پریشانی پھیلی

” تم ٹھیک ہو ؟ سب خیریت ہے نا ؟”

” خیریت ہوتی تو آپ کے پاس کیوں آتا ؟

” اوکے ۔۔۔۔۔مجھے بتائو کیا پرابلم ؟”

وہ کچھ سنبھل کر آگے کو ہوئے ٫ عیسیٰ کچھ لمحے خاموش رہا ٫وہ سوچنے کیلئے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا

” مجھے بہت بے سکونی ہے ٫ میں رات کو سو نہیں پاتا اور اگر سوجائوں تو چند لمحوں کی نیند آتی ہے ٫ یہ چند لمحے بھی بہت بے سکون ہوتے ہیں ٫ میں اذیت میں ہوں یا شاید اذیت بہت چھوٹا لفظ جو میں محسوس کررہا ہوں ۔۔۔۔۔”

” ان سب کی وجہ کیا ہے ؟”

” آپ کو شاید یقین نا آئے “

“پیشنٹ اپنی بیماری کے بارے میں جھوٹ نہیں بولا کرتے ٫ میں تمہارے سچ پر یقین کرلوں گا “

وہ چند لمحے انہیں دیکھتا رہا

” مجھے کسی سے محبت ہوگئ تھی ” وہ رکا ” بنا اس کا چہرہ دیکھے ٫ صرف دو ملاقاتوں کے بعد “

” تم ایسی محبت پہ یقین رکھتے ہو ؟”

وہ حیران ہوئے

” چند مہینے پہلے تک اگر کوئی مجھ سے کہتا کہ اسے کسی سے بنا اس کا چہرہ دیکھے صرف دو ملاقاتوں کے بعد محبت ہوگئ ہے تو میں اس پر قہقہ لگا کر ہسنتا ٫ بہت دیر تک ہنستا ٫ اس شخص کے سامنے میں اسے پاگل کہتا اور اس کے پیچھے بے وقوف ٫ لیکن اب جب میں خود کسی سے دو ملاقاتوں کے بعد بنا اس کا چہرہ دیکھے محبت کر بیٹھا ہوں تو میرے لئے یہ سوال بے معنی ہے کہ میں ایسی محبت پر یقین رکھتا ہوں یا نہیں ٫ یہ اب یقین سے آگے کی بات ہے “

وہ عیسیٰ کو چند لمحے آنکھیں سکیڑے دیکھتے رہے

” اور وہ تمہیں نہیں ملی ؟”

اس نے سر کو خم دیا ٫ گلے میں گلٹی ابھری

” وہ مجھے نہیں ملی “

” اب کیا چاہتے ہو ۔۔۔؟”

” اگر میں پہلے آپ سے ملتا تو میں یہ جاننا چاہتا کہ میں اسے کیسے اپنی زندگی میں لائوں ٫ لیکن اس سوال کا جواب میں جانتا ہوں ٫ اب میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میں اس بے سکونی سے کیسے نکلوں ؟”

” بے سکونی صرف اسی وجہ سے ہے ؟”

” شاید ہاں۔۔۔۔شاید نہیں ۔۔۔۔شاید میں تھک گیا ہوں ۔۔۔اپنے پیاروں کو کھو کھو کر ٫ دل کو ملنے والی اذیت برداشت کرکے ٫ زندگی کے اس مقام پر ہوں جہاں مجھے دوست بنانے سے ٫ محبتیں کرنے سے ٫ اپنائیت سے ڈر لگنے لگا ہے ٫ دوست ساری زندگی ساتھ نہیں رہتے ٫ محبتیں بچھڑ جایا کرتی ہیں ٫ اپنائیت تکلیف دیتی ہے ٫ میں اب اپنے دل کو مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا ” وہ تھک کر کہہ رہا تھا

” تم اسے بھولنا چاہتے ہو؟”

عیسیٰ کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری

” کیا یہ ممکن ہے ؟ “

” اگر یہ پسند تھی تو تم چند دن میں بھول جائوگے اگر محبت تو پھر۔۔۔۔۔”

” یہ محبت سے آگے ہے”

” پھر تم اسے نہیں بھول سکتے “

” میں بھولنا بھی نہیں چاہتا ٫ اگر یہ آسیب ہے تو میں ساری عمر اس آسیب کے ساتھ رہ سکتا ہوں ٫ اگر یہ مرض ہے تو میں اس مرض پر راضی ہوں “

طاہر غزنوی چند لمحے کو خاموش ہوگئے پھر سر جھٹکتے آگے کو ہوئے

” اسے پانے کی کوشش کی تھی ؟ “

” آخری حد تک “

” بچھڑنے کی وجہ ؟ “

وہ خاموش ہوگیا

” it’s too personal “

” اوکے ۔۔۔رائٹ ٫ میں سوال تبدیل کرکے پوچھ لیتا ہوں ٫ جب تم دونوں الگ ہوئے تو وہ تم سے محبت کرتی تھی یا نفرت ؟”

” نفرت ۔۔۔۔۔ “

بہت دقت سے یہ ایک لفظ کہا

” تمہیں بے سکون اس کی نفرت کررہی ہے یا اس کا نا ملنا ؟”

” دونوں ۔۔۔۔”

” اگر وہ مل جاتی پھر ؟”

” پھر اس کی نفرت بے سکون کرتی “

ملازم کھانے پینے کا سامان اندر لارہا تھا تو وہ دونوں خاموش ہوگئے ٫ عیسیٰ کی نظر ملازم کے ہاتھ میں تھامی ٹرے پر گئ ٫ سنیکس ٫ ساتھ کچھ پیسٹریز اور آسمانی رنگ کا کپ ٫ وہ خاموشی سے اس کپ کو دیکھتا رہا ٫ ملازم نے کپ اس کے سامنے رکھا تو اس نے رخ موڑ لیا٫ صحن میں مصنوعی فوارہ چل رہا تھا ٫ وہ پانی کو دیکھے گیا

” بچھڑنے میں غلطی کس کی تھی ؟”

ملازم چلا گیا تو وہ دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوئے

” میری تھی ۔۔۔سراسر میری “

” تمہیں گلٹ ہے ؟”

وہ چند لمحے رخ موڑے خاموشی سے باہر دیکھتا رہا پھر دھیرے سے بولا

” Sometimes! it’s not just guilt، it’s more than a guilt “

” تم تو سریس لگتے ہو لڑکے “

انہوں نے جسے ہارمان کر اسے دیکھا ٫ عیسیٰ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری

” آپ کو یہ سب مذاق لگتا تھا ؟”

” مذاق نہیں لگتا تھا ” انہوں نے سر جھٹکا ” میرے پاس آنے والے محبت کے مریضوں میں تم پہلے نہیں ہو ٫ کئ سال سے کئ آئے ہیں ٫ تمہارے جیسے بھی ٫ جن کو محبوب مل کر بچھڑگیا …..”

” وہ مجھے نہیں ملی تھی۔۔۔۔ “

” آل رائٹ ٫ جن کو محبوب نہیں ملا ٫ یا جن کو مل کر بچھڑ گیا ٫ اور ان سب میں ایک بات مشترک تھی ۔۔۔۔جانتے ہوکیا ؟”

اس نے نفی میں سر ہلایا

” ایسے مریض کبھی بھی مکمل صحتیاب نہیں ہوتے “

سٹڈی میں پل بھر کو خاموشی چھاگئ

” تو کیا یہ ساری زندگی یونہی بے چینی میں گزرے گی ؟”

اس نے رخ موڑ کر انہیں دیکھا

“میں نے کہا مکمل صحتیاب نہیں ہوتے ٫ یہ نہیں کہا کہ صحتیاب نہیں ہوتے ٫ ایسے مریض صرف دو صورتوں میں صحتیاب ہوسکتے ہیں ٫ یا تو ان کا محبوب انہیں مل جائے یا پھر ان کی محبت ہی سچ نہیں تھی ٫ تمہارے لئے کون سی صورت ممکن ہے ؟”

بال پین ہاتھوں میں گھماتے اسے دیکھا ٫ یہ واحد مریض تھا جس کی وہ دل سے مدد کرنا چاہتے تھے

” پہلی صورت فلحال ممکن نہیں ہے اور دوسری صورت کبھی بھی ممکن نہیں “

” پھر تم کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرلو ٫ ایک محبت دوسری محبت کو مٹا دے گی “

” یہ نا ممکن ہے ….”

” دیکھو عیسیٰ ۔۔۔۔۔” وہ گہری سانس لیتے آگے کو ہوئے ” میں نے اپنے پاس کئ ایسے مریض دیکھے ہیں جو کسی کے بچھڑنے پر آیا کرتے ہیں ٫ میں نے ہمیشہ انہیں مشورہ دیا ہے کہ کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرلیں ٫ سو فیصد تو نہیں لیکن پچاس فیصد کیسسز میں وہ اس پہلی محبت کو بھول جایا کرتے ہیں ٫ میں تمہیں بھی یہی مشورہ دوں گا “

” اور آپ کو لگتا ہے اس طرح میرا دل اس بے سکونی سے نکل جائے گا اور اس سے محبت کرنا چھوڑدے گا ؟”

” ممکن ہے ایسا ہی ہو ۔۔۔۔۔میں تمہیں اس طرح کی کئ مثالیں دے سکتا ہوں ٫ میرا ایک دوست ہے ٫اسے جوانی میں کسی سے محبت ہوئ تھی اور وہ اس کے نا ملنے پر خود۔۔کشی تک کرنے پہ تیار تھا ٫ وہ پچیس سال کی عمر سے مجھ سے سیشنز لیتا رہا ہے ٫ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا غم ماند پڑگیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے کسی اور عورت کو اپنی زندگی میں شامل کرلیا ٫ ٫ اس کی بیوی اچھی عورت تھی٫ وہ اس کے ساتھ خوش تھا ٫ اب جبکہ وہ اس دنیا میں نہیں ہے وہ اب بھی اس کا ذکر عزت کے ساتھ کرتا ہے٫اس کے بچے ہیں ٫ پوتے پوتیاں ہیں اور وہ اب ٹھیک ہے “

” ایک بات پوچھوں ؟”

” بالکل۔۔۔۔۔”

” کیا وہ ان کو بھول گئے جن سے محبت کرتے تھے ؟”

طاہر صاحب چند لمحے کو بالکل خاموش ہوگئے

” نہیں ۔۔۔لیکن وہ خوش “

عیسیٰ نے ان کی بات کاٹ دی

” آپ نے کہا انہیں پچیس سال کی عمر میں محبت ہوئ اور 80 سال کے ہیں تب بھی اپنی محبت کو نہیں بھول سکے ٫ آپ نے کہا وہ اپنی بیوی کا ذکر عزت کے ساتھ کرتے ہیں لیکن آپ نے محبت کا نہیں کہا ٫ کیونکہ وہ اپنے حصے کی محبت کرچکے ہیں ٫ میں بھی کرچکا ہوں ٫ پہلی بار ۔۔۔آ۔خری بار ٫ کوئ دوسری عورت شاید میرے لئے اچھی ثابت ہو لیکن وہ میرے لئے میری پسندیدہ عورت جیسی نہیں بن سکتی ٫ ممکن ہے میں اس کے ساتھ خوش رہوں لیکن میں کبھی بھی اپنی محبت کو بھلا نہیں پائوں گا ٫ میں دو دلوں کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا ٫ ایک دل میں اپنی پسندیدہ عورت کے نا ملنے کا غم پالوں اور دوسرے میں کسی دوسری عورت کو اس کا مقام نا دینے کا گلٹ ٫ مرد اپنی محبت نہیں بھولا کرتے انکل ٫ 80 سال کی عمر میں بھی نہیں “

وہ اٹھ کھڑا ہوا ٫ اسے احساس ہوا دنیا کا کوئ تھراپسٹ اس کے دل کو اب پہلے جیسا نہیں بنا پائے گا ٫ وہ قرت العین کا دکھ ساری زندگی اپنے ساتھ رکھے گا

” میں صرف تمہاری بھلائ چاہتا تھا “

وہ اسے اٹھتے دیکھ کھڑے ہوگئے

” جانتا ہوں ۔۔۔۔۔”

وہ مسکرایا

” شاید میں تمہاری مدد نہیں کر پایا “

” آپ نہیں کرسکتے ٫ میں نے جان لیا ہے کہ مجھے اس گلٹ اور بے سکونی کے ساتھ رہنا ہوگا “

وہ میز کی دوسری طرف سے جانے لگا ٫ کافی سے بھرا کپ اسی طرف رکھا ہوا تھا ٫ بے دھیانی تھی یا شاید لاپرواہی اس کا ہاتھ کپ سے ٹکرایا ٫ نیلے رنگ کا وہ کپ لمحے میں زمین بوس ہوگیا

عیسیٰ پیچھے کو ہوا

” تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔؟”

طاہر صاحب تیزی سے اس تک آئے

“جی ۔۔۔ ٹھیک ہوں “

اس نے اپنی شرٹ کو دیکھا جہاں دو چار کافی کے چھینٹے پڑے تھے پھر نیچے گرے کپ کو

” یہ ٹوٹ گیا٫ آئ ایم سوری “

” کوئ بات نہیں ۔۔۔تمہارا تھا ٫ تم سے ٹوٹ گیا “

عیسیٰ نے بس سر ہلادیا ٫ ان سے سلام کرکے وہ دروازہ کھولتا باہر بڑھ گیا ٫ اس کے چہرے پر سنجیدگی کے سوا کچھ نہیں تھا

اس کے جانے کے بعد طاہر صاحب نیچے بیٹھے اور ٹوٹ چکے کپ کے ٹکڑے ہاتھوں میں لئے٫ نظر دروازے پر گئ

اس نے کہا تھا کہ اسے اب لوگوں سے٫ چیزوں سے اٹیچ ہونے سے ڈر لگتا ہے ٫ وہ اب اپنے دل کو مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا ٫ انہوں نے رخ موڑ کر کپ کو دیکھا

عیسیٰ نے وہ کپ جان بوجھ کر توڑا تھا وہ جانتے تھے

گہری سانس لیتے وہ کھڑکی کی طرف بڑھے وہاں سفید فوارہ نظر آرہا تھا ٫ وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتے رہے

” میں دعا کروں گا کہ تمہیں تمہاری محبت مل جائے عیسیٰ ٫ تاکہ 80 سال کی عمر میں اپنے دوست کے سامنے بیٹھ کر کسی کا نام لیتے وقت تمہارے چہرے پر کوئ پرانا غم نا ابھرے “

وہ سفید پانی کو دیکھتے رہے

بے داغ ۔۔۔۔

اجلا ۔۔۔۔

خالص سفید پانی !

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

سیاہ جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے عیسیٰ نے سر کرسی کی پشت سے ٹکایا اور دور کھڑے زین کو دیکھا ٫ وہ سارہ سے بحث کررہا تھا ٫ کس بات پر وہ نہیں جانتا تھا لیکن وہ یہ جانتا تھا کہ جب یہ بحث ختم ہوگی تو وہ اس کے پاس آکر کیا کہے گا ٫ نظریں پھیر کر اس نے اردگرد دیکھا ٫ وہ زین کے کسی دوست کا فارم ہائوس تھا جہاں وہ اس کے دعوت دینے پر آیا تھا ٫ شاید سکون کیلئے ٫ اور اسے یہاں آنے کے دس منٹ بعد ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ غلط جگہ پر آگیا تھا

بے زاری سے اردگرد دیکھتے اس کی نظر سامنے گئ ٫ سامنے والی کرسی پر ساحر بیٹھا تھا ٫ سر اسی کی طرح کرسی کی پشت پر گرا رکھا تھا ٫ فرق صرف اتنا تھا کہ عیسیٰ ہوش میں تھا اور وہ ہوش وخرد سے بیگانہ

اس کے سامنے ٹیبل پر سفید پڑیاں پڑی تھیں ٫ دائیں طرف ممنوع مشروب بھی تھا ٫ ساحر تھوڑی تھوڑی دیر بعد سر اٹھاتا ٫ سفید پڑی ہاتھ میں لیتا اور سونگھتا ٫ یہ کام وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے کررہا تھا٫ اور عیسیٰ اسے بیس منٹ سے دیکھ رہا تھا

” ساحر۔۔۔۔۔ “

وہ جب ایک بار پھر دوبارہ سے وہ سفید شے ناک تک لے جانے لگا تو عیسیٰ بلا اختیار اسے ٹوک بیٹھا

” ہووووں ؟”

اسی مدہوش آواز میں اس نے عیسیٰ کو جواب دیا

” تم کچھ زیادہ لے رہے ہو ٫ اب بس کردو “

ساحر نے بند ہوتی آنکھیں بمشکل کھولیں اور عیسیٰ کو دیکھا

” کچھ ۔۔۔نہیں ہوتا “

عیسیٰ نے ہونٹ بھینچے ٫ یہاں ہر دوسری ٹیبل پر یہی حال تھا ٫ وہ ایلیٹ کلاس کی بگڑی اولادیں تھیں ٫ اکثریت بیوروکریٹس کی تھی

” تم ۔۔۔ تم لوگے ؟”

اس نے ہاتھ میں تھامی سفید پڑی عیسیٰ کی طرف بڑھائ تو اس نے نفی میں سر ہلایا

” اوہ۔۔۔کم آن برو ٫ لو نا ” وہ بمشکل سیدھا ہوتا سفید شے آگے بڑھا رہا تھا ٫ کرسی پر بیٹھے بیٹھے اس نے یوں ہی ہاتھ لمبا کیا اور دھڑام سے اس کا ہاتھ بیچ میں گرا

” اوپسسس۔۔۔۔”

کھسیا کر ہنستے اس نے پھر سے وہ پائوڈر عیسیٰ کے سامنے رکھا

” میں یہ نہیں لیتا۔۔۔۔”

وہ اکتا گیا

” لے لو ٫ یقین کرو۔۔۔۔ سچ میں یقین کرو ٫ سب بھول جاتا ہے ٫ دل کا درد بھی۔۔۔۔ ٫ ذہن کی تکلیف بھی ٫ میں۔۔۔میں بھی بھول گیا ہوں ٫ ڈیڈ کے افیئرز ٫ مام کی شادی ٫ اور وہ ۔۔۔لیزا کا دھوکہ ٫ لیکن ایک منٹ ۔۔۔۔ مجھے تو سب یاد ہے ۔۔۔۔ لیکن مجھے تکلیف نہیں ہورہی ٫ ذہن ہلکا ہے ٫ بہت ہلکا ٫ خالی “

وہ آہستہ سے بڑبڑاتے بیہوش ہونے لگا ٫ عیسیٰ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر نظر سامنے رکھے پائوڈر پر گئ

وہ چند سال پہلے تک ڈرگز لیتا رہا تھا ٫ جب وہ شہوار اور حیات کی وجہ سے ڈسٹرب تھا ٫ دن رات اسی مدہوشی میں رہتے ہوئے وہ اس احساس سے بھی واقف تھا ٫ ہر غم بھول جانے کا احساس ٫ ہر تکلیف سے نجات کا احساس

اس کا ہاتھ میکانکی انداز میں ٹیبل پر پڑے پائوڈر کی طرف بڑھا ٫ سامنے رکھا ایک پیکٹ اٹھایا اور ہاتھ پر تھوڑا سا پائوڈر ڈالا

کیا وہ یہ لے لے ؟ تھوڑی دیر کیلئے ہی صحیح ہر غم سے ٫ ہر گلٹ سے نجات ٫ بہت ڈھیر سارا سکون ٫ اردگرد سے بے نیازی ٫ نا کسی کی یاد ہوگی نا کسی کی نفرت ٫ نا کوئ گلٹ ٫وہ چند لمحے اس پائوڈر کو دیکھتا رہا ٫ اسی لمحے اس کے موبائل پر کال آنے لگی

وہ چونکا ٫ موبائل اٹھایا ٫شہوار کال کررہی تھیں

” جی مام۔۔۔۔۔”

پائوڈر نیچے رکھتے ہوئے اس نے دوبارہ کرسی سے ٹیک لگالی

” کہاں پر ہو عیسیٰ ؟”

” زین کے ساتھ آیا تھا ٫ اس کے دوست کی طرف “

نظر ساحر پر گئ ٫ وہ ہوش خرد سے بیگانہ اونگھ رہا تھا

” سچ میں وہیں ہو ؟”

لمحے بھر کو اس کے اردگرد ہر شے غائب ہوگئ ٫ اگر کچھ باقی رہا تو شہوار کی آواز ٫ ان کی آواز کی تشویش ٫ عیسیٰ کی نظر سفید پائوڈر پر گئ

” ویڈیو کال کرلوں ؟”

” ایسی بھی بات نہیں ہے اب “

وہ ہنسیں

” بے فکر رہیں مام ٫ ٹھیک ہوں ٫ میری ٹینشن مت لیں ٫ نا میں خود کو کوئ نقصان پہنچائوں گا نا آپ کو تکلیف ” اس نے پائوڈر پر سے نظر ہٹا لی

” میں صرف تمہارے لئے فکرمند تھی عیسیٰ”

” مت ہوں ٫ میں ٹھیک ہوں ٫ موبائل رکھتا ہوں۔آجائوں گا تھوڑی دیر تک “

اس نے کال کاٹ دی ٫ چند لمحے میز پر پڑی پڑیوں کو گھورتا رہا پھر جھٹکے سے اٹھا

اس کی زندگی صرف اس کی نہیں تھی ٫ ہوتی تو شاید وہ کئ سال پہلے خود کو برباد کرچکا ہوتا

پارکنگ میں وہ ابھی گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا جب زین اس تک پہنچا

” کہاں جارہے ہو ؟”

وہ بھاگ کر آیا تھا اس لئے شاید سانس ہلکا سا پھول گیا تھا

” واپس گھر۔۔۔۔”

” کیوں ؟ مزا نہیں آرہا کیا ؟”

عیسیٰ نے گاڑی سے ٹیک لگا کر اسے دیکھا

” مجھ سے زیادہ تو شاید تمہیں مزہ آرہا ہے”

زین کا موڈ بگڑا

” طنز نا کرو ٫ تازہ تازہ بریک اپ ہوا ہے میرا ٫ میں اس وقت ڈھیروں ہمدردی کا حقدار ہوں “

” حالانکہ میرا خیال ہے تم اس بریک اپ سے دکھی نہیں ہو “

” میرا دکھ دراصل دل کے بہت اندر تک ہے ٫ اس لئے نظر نہیں آرہا “

” بہت اچھے ٫ پھر میں بھی دل کے بہت اندر سے تم سے ہمدردی رکھتا ہوں ٫ اس لئے میری ہمدردی نظر نہیں آئے گی “

اس نے گاڑی کا دروازہ کھول لیا ٫ وہ اس بریک اپ سے بہت پہلے ہی واقف تھا

” اچھا ٹھیک ہے ٫ میں نے وہ دکھ قبول کیا لیکن فلحال رک جائو یہیں ٫ تھوڑی دیر تک اکٹھے چلیں گے “

دروازہ کھولتا عیسیٰ پلٹا اور اسے دیکھا

” مجھے مزید یہاں نہیں رکنا زین ٫ تم چاہو تو میرے ساتھ چل سکتے ہو ٫ “

” تھینک یو لیکن مجھے ابھی یہیں رہ کر سارہ کو دکھانا ہے کہ مجھے فرق نہیں پڑتا ٫ تم ایسا کرو جائو “

وہ ہاتھ جھلاتا پیچھے کی طرف بڑھ گیا ٫ عیسیٰ شانے اچکاتا گاڑی کا دروازہ کھولتا اندر بیٹھ گیا اور گاڑی سٹارٹ کرلی

فارم ہائوس کسی دیہی علاقے میں تھا ٫ اس لئے گاڑی کچے پکے راستوں سے ہوتی گزرنے لگی ٫ آبادی سنسان تھی ٫ صرف چند گھر تھے ٫ ارگرد دیکھتے اس کے پائوں بے ساختہ بریک پر پڑے ٫ سامنے دائیں طرف مسجد نما چھوٹا سا کمرا تھا ٫ صحن میں چھوٹا سا بلب جل رہا تھا ٫ چار دیواری بھی دے رکھی تھی ٫ وہ چند لمحے اس جگہ کو دیکھتا رہا پھر گاڑی وہیں روکتا باہر نکلا ٫ راستہ کچا پکا سا تھا ٫ سامنے نہر تھی ٫ جس پر تختہ رکھ کر گزرنے کی جگہ بنائ گئ تھی ٫ وہ تختے پر قدم رکھتا مسجد کی طرف بڑھا ٫ عشاء کے بعد کا وقت تھا ٫ مسجد کے اندرونی کمرے کو تالا لگاکر کوئ باہر نکل رہا تھا ٫ پیچھے آتے مسافر کو دیکھ کر ٹھٹکا ٫ پھر پیچھے دروازے کو جالگا

” ریلیکس ۔۔۔میں صرف نماز پڑھنے آیا تھا “

اس نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے ٫ سامنے کھڑا لڑکا جو اسے دیکھ کر ڈر گیا تھا سکون کی سانس لیتے سر ہلایا٫ وہ سمجھا شاید کوئ چور یا ڈاکو ہے

” دروازہ کھول دیتا ہوں میں “

چودہ سالہ پختون لڑکا واپس پلٹنے لگا

” اس کی ضرورت نہیں ہے ٫ میں باہر پڑھ لوں گا “

” ٹھنڈ ہے “

” مجھے نہیں لگے گی ٫ “

اس نے جوتے باہر اتار دیئے ٫ لڑکا چند لمحے تذبذب سے اسے دیکھتا رہا پھر کچے صحن سے ہوتے ہوئے دائیں طرف گیا اور ٹب سیدھا کرکے نل چلانا شروع کیا

” میں کرلیتا ….”

وہ نل تک آیا تو آدھا ٹب بھر چکا تھا ٫ وہ بغیر بجلی کے ہاتھ سے چلنے والا نلکا تھا جسے وہ چھوٹا لڑکا کچھ مشقت سے چلا رہا تھا ٫ لڑکے نے کچھ نہیں کہا ٫ ٹب بھر کر نل کے سامنے سے ہٹایا اور ٹب کے ساتھ باندھا گیا چھوٹا سا برتن اس کے سامنے کیا

” نماز پڑھ کر بلب بند کردینا ٫ میں اب گھر کو جاتا ہوں “

” تمہارا نام کیا ہے ؟”

” خوشحال خان “

” تم یہاں نماز پڑھاتے ہو ؟”

وہ وضو کیلئے پانی بھرتے کہنے لگا ٫ پانی ٹھنڈا تھا لیکن خیر تھی

” نا ٫ میرا داجی پڑھاتا ہے ٫ وہ بیمار ہے تو نماز پڑھا کر جلدی چلا جاتا ہے ٫ میں ادھر سارا سامان اندر رکھ کر تالا لگا کر پھر جاتا ہوں “

عیسیٰ نے سر ہلادیا ٫ وہ لڑکا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر نظر اس کی کار پر گئ

” کیا میں اس میں بیٹھ جائوں ؟”

وہ جب وضو کرکے فارغ ہوا تو سامنے کھڑا لڑکا جھجھک کر پوچھنے لگا ٫ عیسیٰ نے بے اختیار کار کو پھر اسے دیکھا

” چلانی نہیں آتی مجھ کو ٫ بس اندر بیٹھنا ہے “

وہ اسے جیب سے چابی نکالتا دیکھ بولا

” لاکڈ ہے کار ٫ یہ بٹن دبانا دروازہ کھل جائے گا “

چابی اس کے حوالے کرکے وہ اندر کی طرف بڑھ گیا ٫ لڑکے کے چہرے پر خوشی پھوٹ پڑی ٫ جھٹ سے کار کی طرف بڑھا

عیسیٰ بنا اندر گئے باہر رکھی صف اٹھانے لگا ٫ وہ جب سے ملتان سے واپس آیا تھا چند نمازیں ہی پڑھ سکا تھا ٫ اسے نمازوں کی عادت نہیں تھی ٫ اب عادت بنانے میں مشکل ہورہی تھی

صرف فرض ٫ سنت اور وتر پڑھ کر وہ وہیں بیٹھ گیا ٫ ابھی نوافل تک پہنچنے میں دیر لگتی ٫ اس کے فرائض ہی ٹھیک نہیں ہورہے تھے

گھٹنوں کے گرد بازوں کا حلقہ بنا کر اس نے نظر اٹھا کر صاف آسمان کو دیکھا٫ آج سر شام ہی ہلکی ہلکی دھند اتر آئ تھی لیکن وہ دھند صرف نیچے تک رہی تھی ٫ آسمان صاف تھا ٫ اردگرد گھاس وغیرہ تھی ٫ پیچھے نہر ٫ کھلا آسمان ٫ اس لمحے اسے احساس ہوا وہ غلط جگہوں پر سکون ڈھونڈتا پھررہا تھا ٫ شور میں ٫ لوگوں کے پاس ٫ محفلوں میں٫ وہ غلط جگہوں پہ دل کے اطمینان کیلئے جاتا رہا تھا ٫ دنیا میں اگر کہیں سکون تھا تو یہیں تھا ٫ عجیب پرنور فضا ٫ سکون اور اطمینان جیسی ٫ اس نے دعا نہیں مانگی ٫ فلحال وہ اپنے اندر کی بے چینی اور گلٹ کو دور کرنا چاہتا تھا ٫ سکون تو شاید چند لمحوں کیلئے مل گیا تھا لیکن یہ گلٹ ؟ اس کا کیا کرتا ؟ آگے کی زندگی جیسے سراب تھی ٫ پیچھے کی دھوکہ ٫ وہ آگے اور پیچھے کے درمیان اٹک گیا تھا ٫ آسمان سے نظر ہٹاتے اس نے مسجد کے چھوٹے سے سفید گنبد کو دیکھا ٫ چند لمحے خاموشی سے دیکھتا رہا ٫ ذہن میں سفید پڑیاں ابھریں ٫ اگر وہ انہیں لے لیتا تو اب تک وہ ساحر کی طرح کرسی پر بیہوشی کی حالت میں پڑا ہوتا ٫ ہوش وخرد سے بیگانہ ٫ بے ہنگم حالت میں

رب کن کن گناہوں سے کیسے کیسے بچاتا ہے ٫ وہ گناہوں سے کیسے کیسے نیکی کی طرف لاتا ہے ٫ جب ہم ڈوبنے لگے ہوں تب کسی تنکے کا سہارا کیسے ملتا ہے یہ اس لمحے اسے احساس ہوا ٫ گناہ سے بچا کر نیکی کی طرف لانا کیا ہوتا ہے یہ اس لمحے اس نے جانا

گہری سانس لیتے اس نے سر جھکایا ٫ صف صاف ستھری تھی ٫ وہ اس کے اوپر بنے ڈیزائن پر انگلی پھیرنے لگا

دل میں ندامت بھرنے لگی ٫ بوجھل دل مزید بوجھل ہوگیا ٫ اگر وہ ڈرگز لے لیتا ؟ یہ وہ راستہ تھا جس سے واپسی بہت مشکل سے ہوتی ٫ بہت پہلے اس کی بھی مشکل سے ہوئ تھی ٫ اگر وہ دوبارہ اس دلدل میں گرجاتا تو؟ ڈرگز چھوڑنے کے بعد اسے کبھی بھی سگریٹ کے علاوہ کسی اور نشے کی عادت نہیں رہی تھی ٫ دادا کی تربیت تھی کہ وہ ان تمام چیزوں سے دور ہی رہا تھا جن میں ایلیٹ کلاس کے اکثر لڑکے لڑکیاں پڑچکے تھے ٫ وہاں لڑکیوں سے تعلقات عام تھے ٫ اس کے بھی رہے تھے لیکن ایک حد تک ٫ اس کی بہت سی لڑکیوں سے دوستی تھی لیکن وہ صرف دوستی ہی رہی تھی ٫ تعلق نہیں بنی تھی ٫وہاں کلبز میں جانا عام تھا ٫ اس کیلئے بھی عام ہی تھا ٫ جس کلچر سے وہ تھا وہاں مذہب سیکنڈری شے تھا ٫ اس کیلئے بھی رہتا اگر وہ بچپن کا ایک حصہ دادا کے ساتھ نا گزارتا ٫ جو وقت ان کے ساتھ گزرا تھا اس نے اس وقت میں دین کو تھوڑا بہت سیکھا تھا ٫ سیکھا گیا دین وہ ان کے بچھڑنے کے بعد بھلا بیٹھا تھا ٫ اب جب یاد آیا تھا تو گلٹ جاتا ہی نہیں تھا ٫ زندگی میں جو گناہ ہوئے تھے ان کے گناہ ہونے کا احساس بہت دیر سے ہوا تھا ٫ وہ کتنی ہی دیر سر جھکائے صف پر انگلیاں پھیرتا رہا پھر سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا ٫ کئ ساعتیں ۔۔۔کئ لمحے

” آئ ایم سوری اللہ ۔۔۔۔۔”

بہت دل سے ٫ ڈھیر سارے گلٹ سے ٫ پشیمانی کے کئ گنا احساس کے ساتھ اس نے بس چار لفظ کہے ٫ ہر اذیت ہر گلٹ ان چار لفظوں میں سمٹ آیا ٫ آنکھیں بند کرتے اس نے اگلے کئ لمحے کئ بار وہ الفاظ دہرائے ٫ دھیرے سے ٫ بہت گلٹ سے کئ بار ٫ یہاں تکہ پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی زوردار آواز آئ

اس کی آنکھ کھل گئ ٫ رخ موڑ کر یچھے دیکھا ، وہ چھوٹا بچہ باہر نکل کر ٹھہرا ہوا تھا ٫ عیسیٰ گہری سانس لیتا صف رکھتا اٹھ گیا

” تمہارا گاڑی بہت اچھا ہے ۔۔۔۔”

وہ اسے واپس آتے دیکھ جوش سے بولنے لگا

” شکریہ ۔۔۔۔اور تمہاری مسجد بہت زیادہ اچھی ہے “

” اس کا تو کوئ مقابلہ ہی نہیں ہے “

عیسیٰ کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری

” چلوگے ؟ تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں ؟”

” میرا گھر تو ادھر ہی ہے ٫ وہ دیکھو وہ پہلا پہلا گھر ٫ وہ جدھر بلب روشن ہے ” ہاتھ لمبا کرکے اشارہ کیا ٫ عیسیٰ کی نظر اس کے ہاتھ کے تعاقب میں گئ ” وہ میرا مورے ہوگا ٫بلب چلا کر بیٹھا ہوگا ٫ میں نا آئوں تو بند نہیں کرتا تب تک ٫ میرا داجی بیمار ہوتا ہے تو میں مسجد بند کردیتا ہوں ٫ “

تفصیل سے بتایا

” میری مام بھی میرا ایسے ہی انتظار کرتی ہیں “

وہ بڑبڑایا

” ماں تو ساری اچھی ہوتی ہے ٫ دیکھو کتنا محبت کرتی ہے اولاد سے “

وہ نگاہیں اسی طرف رکھے چند لمحے وہیں دیکھتا رہا ٫ شہوار کے آنسو اور حیات کی تکلیف لمحوں میں یاد آئے ٫ اس نے رخ واپس موڑا

” چلو ۔۔۔گھر چھوڑدوں تمہیں “

وہ کار کی طرف بڑھ گیا ٫ لڑکا بتیسی نکالتا پیسنجر سیٹ کی طرف بڑھا،اس کے بیٹھنے پر عیسیٰ نے کار چلادی

” تم بہت اچھا ہے ویسے “

” وہ کیوں ۔۔۔؟”

وہ ہلکا سا مسکرایا ٫ جانتا تھا لڑکا اس کی خوشآمد کرررہا ہے

” ادھر بہت کم مسافر نماز کیلئے رکتا ہے ٫ چند ایک ہی بس ٫ تم رکا اچھا مسلمان ہو ٫ اور ہم کو گاڑی میں بٹھایا ٫ اچھا انسان ہو ۔۔”

عیسیٰ کی مسکراہٹ غائب ہوئ

” راستہ یہی جاتا ہے ؟”

اس نے موضوع بدل دیا ٫ ایک نماز پڑھنے پر وہ اچھا مسلمان نہیں بن سکتا تھا وہ بھی تب جب وہ ابھی ابھی ایک گناہ سے بچ کر آرہا تھا

” ہاں ہاں یہی ہے ٫ “

لڑکا لہک لہک کر راستہ بتانے لگا پھر وہ اپنے گائوں کی تعریف کرنے لگا ٫ عیسیٰ خاموشی سے سنتا رہا ٫ اس رات اس مسجد تلے بیٹھے اس نے اپنی آگے کی زندگی کیلئے کچھ تھا جو طے کیا تھا

آپ کی زندگی صرف آپ کی نہیں ہوتی

سب سے بڑھ کر آپ کے رب کی ہے

پھر جنم دینے والی ماں کی

پالنے والے باپ کی

زندہ رہنے کیلئے بہت سی چیزیں ڈھونڈنی پڑتی ہیں

اس نے بھی ڈھونڈ لیں تھیں

کسی نئے باب کے آغاز کیلیئے

اس سے جڑے لوگوں کیلئے

وہ بلآخر کوشش کرنا چاہتا تھا !