Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 34)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 34)
Nahal By Fatima Noor
جب تک وہ کمرے میں پہنچی تب تک بیڈ پر موجود موبائل بج بج کر خاموش ہوگیا تھا ، سفید شلوار قمیص پر ہم رنگ لمبا سا دوپٹہ لے رکھا تھا ، چہرے پر صرف نرمی اور سادگی تھی
موبائل پھر سے بجنے لگا تو اس نے اٹھالیا ، نمبر انجان تھا ، کال آن کرکے کان سے لگایا اور دوسری جانب سے بولنے کا انتظار کرنے لگی
” کون ؟”
جب تھوڑی دیر تک کوئ نا بولا تو اسے خودہی بولنا پڑا لیکن اس کا ہیلو سنتے ہی کال کٹ گئ ، قدرے اچھنبے سے اس نے موبائل کو دیکھا اور پھر وہیں رکھ کر شہوار کے کمرے کی طرف بڑھی
وہ لیپ ٹاپ سامنے کئے عیسیٰ سے بات کررہی تھیں ، وہ وہیں دروازے میں ٹھٹک کر رک گئ ، اس سے پہلے کے واپس جاتی شہوار کی نظر اس پر پڑی
” آئو قرت ،دیدار کرلو اپنے شوہر کا ، بڑی مشکل سے ہاتھ لگا ہے “
وہ دھیمے قدموں سے چلتے ان کی چیئر کے پیچھے آ کھڑی ہوئ ، سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر عیسیٰ نظر آرہا تھا ، بلیک جینز پر وائٹ شرٹ پہنے ، بال پیچھے کو جما رکھے تھے اور ہلکا سا مسکرا رہا تھا ، شہوار کی بات پر مسکراہٹ ہنسی میں تبدیل ہوئ
” بزی ہوں مام ، کھانے تک کا ہوش نہیں ہے ، آئ ایم سوری آپ لوگوں سے بھی بات نہیں ہوپاتی “
” بس بس بہانے ہیں سارے ، تم کیوں وہاں ٹھہری ہو آگے آئو ۔۔”
اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تو وہ آگے ہوئ
” کیسی ہیں ؟”
اسے دیکھتے اس کی مسکراہٹ میں نرمی گھل گئ
” ٹھیک ہوں ۔۔”
” مجھ سے بھی پوچھ لیں کہ آپ کے بغیر کیسا ہوں ؟ ” اس نے گڑبڑا کر شہوار کو دیکھا ، افف یہ منہ پھٹ انسان
” کیسے ہیں ؟”
بدقت حلق سے آواز نکلی
” فائن ، آپ کے بغیر ۔۔”
” میں کھانے کا پوچھنے آئ تھی آنٹی ، زینت آپا پوچھ رہی ہیں کہ کیا بنانا ہے آج ؟”
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور ایسا بولتا کہ وہ شرمندہ ہوجاتی جلدی سے اس کی بات کاٹ دی ، عیسیٰ نے بدقت اپنی مسکراہٹ دبائ
” دیکھ لو جو بھی بنانا ہو ، حیات تو ڈنر باہر ہی کریں گے “
وہ بس سر ہلا کر چلی گئ ، عیسیٰ کو دوبارہ دیکھنے کی غلطی اس نے نہیں کی تھی
” تمہیں مس کررہی ہے ” اس کے جاتے ہی شہوار مسکرا کر عیسیٰ سے کہنے لگیں
” کرہی نا لیں مس ۔۔”
اس نے مسکرا کر سر جھٹکا
” کررہی ہے بیٹا جی ۔۔۔کل اس نے چائے کی جگہ غلطی سے کافی بنا لی ، سٹڈی کے تین چار چکر لگالئے ، آج صبح گارڈننگ کررہی تھی تو وہ اورنج بوگن ویلیا صحن سے ہٹوادی جو تمہیں ناپسند تھی “
وہ کچھ حیران ہوا لیکن پھر شانے اچکائے
” میرے خیال سے وہ بور ہورہی ہیں ، آپ لوگ کہیں آئوٹنگ پر چلے جائیں “
” میں بھی سوچ رہی ہوں لیکن تم واپس آجائو پھر پلین بنائیں گے “
” شیور ، فلحال میں چلو ؟ ضروری کام کرنا تھا “
شہوار نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے کال کاٹ دی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کچن سے روم کی طرف جاتے ہوئے وہ لمحہ بھر کو رکی موبائل پر کال آرہی تھی، یہ تیسرا دن تھا جب اسے اسی نمبر سے کال آرہی تھی ،وہ ہیلو کہتی اور کال کٹ جاتی ، اب کی بار نمبر دیکھ کر اسے فورا تپ چڑھی
” ہیلو ؟۔۔”
دوسری طرف خاموشی تھی
” کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ ؟ کون ہیں ؟ اور مجھے کیوں کال کررہے ہیں ؟ “
وہاں اب بھی خاموشی تھی
” دیکھیں آپ جو بھی ہیں ، میں بلاک کرنے لگی ہوں آپ کو ، حد ہوتی ہے فارغ سمجھ رکھا ہے ؟”
وہ کال کاٹنے ہی لگی دوسری طرف سے آواز ابھری
” کیسی ہو کزن ؟”
وہ رک گئ ، وہ یہ آواز نہیں نا بھی پہچانتی لہجہ پہچانتی تھی
” جواد ۔۔۔۔”
” جواد کریم ، تمہارے تایا کا بیٹا ، یاد ہوں نا ؟”
” مجھے کیوں کال ہے ؟”
ایک پل کو وہ ساکت رہ گئ پھر دبی دبی آواز میں چلائ
” کال بھی نہیں کرسکتا اب ؟”
” نہیں ، دوبارہ مت کرنا “
وہ کال کاٹنے ہی لگی جب وہ بولا
” یاد دہانی کروانی تھی کہ میں تمہارے پیچھے ہی ہوں ۔۔”
اس نے فورا کال کاٹی ، اس کا نمبر بلاک کیا اور وہیں سیڑھیوں پر کھڑے کھڑے چند گہرے سانس لئے
یا اللہ ! یہ اب کیوں اس کے پیچھے پڑ گیا تھا ؟ ، اسے لگا تھا ملتان میں یونہی خالی دھمکی دے رہا تھا لیکن اب یہ کالز ؟ وہ سیڑھیوں پہ بیٹھتی چلی گئ
پہلا خیال ابا کا آیا کہ انہیں بتائے لیکن پھر رک گئ ، مہر کل بتارہی تھی کہ چچا اور تایا ابا کے پاس آئے تھے، تعلقات پھر سے بحال ہوگئے تھے ، ابا خوش تھے ، وہ ایک بار پھر اپنی وجہ سے ان کے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتی تھی
دوسرا خیال عیسیٰ کا آیا لیکن وہ ملک سے باہر تھا اور شدید ترین مصروف تھا ، کم از کم جب تک وہ پاکستان نہیں آجاتا تھا وہ اسے کچھ نہیں بتاسکتی تھی
تبھی حیات سیڑھیوں کے پاس سے گزرے تو اسے دیکھا
” سب ٹھیک ہے بیٹا ؟”
وہ چونکی پھر بے اختیار کھڑی ہوئ
” جی جی انکل سب ٹھیک ہے “
” کوئ مسئلہ ہے تو شیئر کرسکتی ہو “
وہ چند لمحے انہیں دیکھتی رہی پھر سر نفی میں ہلایا
” نہیں انکل کوئ مسئلہ نہیں ہے “
” آر یو شیور؟”
وہ مطمئن نہیں ہوئے تھے
” جی ۔۔۔۔۔”
اب کے ہلکا سا مسکرائ تو وہ مطمئن ہوئے اور سر ہلا کر چلے گئے قرت نے گہری سانس لی
کم از کم وہ حیات کو جواد کے بارے میں نہیں بتانا چاہتی تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مشال بھابھی بزی تھیں تو اس سے کال کرکے پوچھا کہ کیا وہ حمنہ کو اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جاسکتی ہے ؟ اس کے سکول میں کوئ پروگرام ہورہا تھا جس کے لئے اسے مخصوص طرح کا لباس چاہئے تھا ، پچھلے چند دنوں میں اس کی حمنہ سے کافی دوستی ہوگئ تھی تو اس نے فورا ہاں کردی کہ خود بھی وہ گھر پہ بور ہورہی تھی
شہوار سے اجازت لے کر وہ حمنہ کے ساتھ شاپنگ مال آ گئ اور آکر شدید پچھتائ
وہ شاپنگ کے معاملے میں بہت نخریلی تھی
وہ والا لینا ہے لیکن اس رنگ میں نہیں
وہ والا لینا ہی نہیں ہے
وہ تو بالکل بھی نہیں
اس نے کوئ دس بارہ شاپس گھمائیں اور اسے پھر بھی ڈریس پسند نا آیا
” حمنہ کیسا ڈریس چاہئے آپ کو ؟”
وہ بالآخر تھک کر اس سے پوچھنے لگی
” جیسا کسی کا نا ہو “
گردن اکڑائ اور وہ اس چھٹانک بھر کی سات سالہ بچی کو دیکھ کر رہ گئ
” ایسا تو کوئ ڈریس نہیں ہوتا “
” ہوگا ہوگا ، چلیں نا ڈھونڈتے ہیں “
اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور پورا مال گھما ڈالا ، بلاخر ایک شاپ کے سامنے وہ رکی
” مجھے یہ والا لینا ہے “
قرت نے سامنے لگے ڈریس کو دیکھا پھر واپس اسے
” یہ تو ویڈنگ ڈریس ہے “
” مجھے یہی چاہئے “
” لیکن یہ تو دلہنیں پہنتی ہیں “
وہ اس کے سامنے بیٹھی
” تو میں بھی دلہن بن جائوں گی “
وہ ضد کرنے لگی
” یہ آپ کے سائز کا نہیں ہے “
” تو میرے سائز کا لے لیتے ہیں”
” جب آپ بڑی ہوں گی اور آپ کی شادی ہوگی تب ہم یہ لے لیں گے “
اسے روکنے کو وہ یہہ کہہ سکی حمنہ نے رک کر اس ڈریس کو دیکھا پھر قرت کو
” ہم ابھی لے لیتے ہیں پھر جب میں بڑی ہوں گی تب یہی پہن لوں گی ” اور وہ گہری سانس لے کر رہ گئ پھر بڑی مشکل سے اسے وہاں سے ہٹایا
خدا خدا کرکے محترمہ کو ایک ڈریس پسند آیا تو جوتوں پر وہ اس سے زیادہ نخرے دکھانے لگی ، اپنے سائز کے اسے پسند نہیں آرہے تھے اور وہ بڑی ہیلز پسند کئے جارہی تھی
” یہ آپ کے سائز کا نہیں ہے “
” یہاں ہر چیز میرے سائز کی نہیں ہے “
وہ سینے پر ہاتھ باندھے نروٹھے پن سے بولی
” یہ ہیل ہے حمنہ آپ گرجائیں گی “
وہ اب تھک گئ تھی
” میں نہیں گروں گی “
” گرجائیں گی “
” آپ کو پتا ہے یا مجھے ؟”
غصے سے اسے دیکھا ،قرت کو صدمہ لگا ، دانت پیس کر سامنے رکھی ہیل کر دیکھا پھر اسے اور پھر اس نے سامنے رکھا کینوس شوز اٹھایا اور شاپ کیپر کی طرف بڑھایا
” اسے پیک کردیں “
” مجھے یہ نہیں لینا ۔۔۔”
وہ کانوں پر ہاتھ رکھے چلائ
افف افف ، قرت نے گڑبڑا کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا
” آہستہ چیخو “
” آہستہ کیسے چیختے ہیں ؟”
ساتھ کھڑی ملازمہ کی زبان پھسلی اور پھر قرت کی گھوری پر وہ گڑبڑا کر اِدھر ادھر دیکھنے لگی
پھر جو اس نے شور مچایا تو وہ اسے لے کر بمشکل مال سے باہر نکلی لیکن محترمہ اب منہ موڑے شدید ناراض تھیں ، وہ منانے کی کوشش کرتی رہی اور وہ ہنہہ کرتی رہی ، پھر آئس کریم کا لالچ دیا تو راضی ہوئ
آئسکریم کھلا کر اسے چند کھلونے دلائے اور گھر چھوڑ کر جب وہ واپس آئ تو شدید تھک چکی تھی اتنا کہ چلنا محال لگتا تھا
لائونج خالی تھا ،شہوار اور حیات شاید کمرے میں تھے سو وہ سیدھا اوپر کی طرف بڑھ گئ، تھکن اتنی شدید تھی کہ سیڑھیاں چڑھنا بھی مشکل لگ رہا تھا
کمرے تک پہنچ کر اس نے دروازہ کھولا، بیگ بیڈ پر رکھا اور وہیں بیٹھ گئ ، سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ، سر میں شدید ترین درد محسوس ہورہا تھا ،اس کی توبہ جو آئندہ حمنہ کے ساتھ جانے کی غلطی کی ، اتنی سی عمر میں اتنے نخرے جب بڑی ہوگی تب کیا حال ہوگا ؟
ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے جب واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئ اس نے چونک کر سر اٹھایا اور پھر جہاں تھی وہیں رہ گئ
وہ عیسیٰ تھا !
واش روم کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکل رہا تھا ، بلیک جینز پر بلیک ہی ڈھیلی شرٹ پہنے گیلے بالوں کو تولیے سے پونچھتا ہوا وہ ابھی نہا کر نکلا تھا ، قرت کو دیکھ کر لمحہ بھر کو رکا ، چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر ٹاول صوفے کی پشت پر رکھا اور دھیمے قدموں سے اس کی طرف بڑھا وہ اتنی حیران تھی کہ اسے دیکھ کر کچھ کہنا یاد ہی نہیں رہا ،
اس کے پاس آکر وہ رکا ، ہاتھ اس کی طرف بڑھایا قرت کا ہاتھ میکانکی انداز میں اس کی طرف بڑھا ، عیسیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر کھڑا کیا اور پھر اپنے سامنے لایا
” آپ کب آئے ؟”
بلآخر وہ کچھ بولنے کے قابل ہوئ
” قریب ایک گھنٹہ پہلے “
ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامے وہ دوسرے ہاتھ سے اس کا نقاب کھول رہا تھا چہرے پر تھکن لیکن نرمی تھی ، نقاب اترا تو اس نے وہ بیڈ پر رکھا پھر اسے دیکھا اس کا چہرہ حیران لگتا تھا
” بتایا کیوں نہیں آنے سے پہلے ؟”
” مجھے سرپرائز دینا اچھا لگتا ہے “
وہ اب اس کے چہرے کے گرد بندھے سیاہ حجاب کو کھول رہا تھا ، سیاہ اسکارف گول گول کرکے بندھا ہوا تھا اس نے وہ اتارا
” کیسے ہیں ؟”
ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامے دوسرا ہاتھ اس نے کیچر میں بندھے اس کے بالوں کی طرف بڑھایا
” اب ٹھیک ہوں “
سیاہ بال لہرا کر اس کی پشت پر گرے چند لٹیں چہرے پر آئیں ، عیسیٰ نے انگلی سے انہیں پیچھے کیا
” کھلے بال اچھے لگتے ہیں آپ پر “
وہ دھیرے سے ہنس دی اسے ہنستا دیکھ وہ ہلکا سا مسکرادیا
” سنبھالنے پڑتے ہیں بار بار “
” میں سنبھال لوں گا “
عیسیٰ نے سر آگے کرکے دھیرے سے اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکایا وہ جو کچھ کہنے لگی تھی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے
” میں نے آپ کو یاد کیا “
” کتنا ؟”
” اتنا کہ میں خود کو بھول گیا “
اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے لگائے بہت دھیرے سے بولا ،قرت کی ہتھیلیاں نم ہوئیں ، اس کے گیلے بالوں کی ٹھنڈک اندر تک اترنے لگی ، کس قدر ہمت کرکے اس نے پیچھے ہٹنا چاہا جب اس کا ہاتھ تھامے عیسیٰ نے سرگوشی کی
” چند لمحے ٹھہری رہیں قرت ۔۔۔۔صرف چند لمحے ” اس کے دل کی دھڑکن اتنی بڑھ گئ کہ وہ عیسیٰ کو بھی سنائ دینے لگی، وہ چند لمحوں کا کہتا تھا اور اسے صدیاں لگنے لگیں
” میں تھک گئ ہوں “
” میں بھی ۔۔۔۔” یا اللہ ، اس کا دل ہتھیلیوں میں دھڑکنے لگا
” مجھے چینج کرنا ہے “
کوئ عذر تلاشنا چاہا
” برقعے میں زیادہ اچھی لگتی ہیں “
عذر رد کردیا گیا
” آپ تھک گئے ہوں گے ، آرام کرلیں “
اس کا چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا
” واقعی تھک گیا ہوں ، مسافر اب پڑائو چاہتا ہے “
وہ گہری سانس لیتا پیچھے کو ہوا ، چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس کا دستانے میں چھپا ہاتھ اوپر اٹھایا اور دوسرے ہاتھ سے اس پر انگلی پھیری
” آپ نے مجھے یاد کیا ؟” نظریں نیچی تھیں
” میں نے ؟”
سر اٹھا کر اسے دیکھا
” آپ نے ۔۔۔مجھے ۔۔۔یاد کیا ؟”
وہ چند لمحے یونہی ٹھہری رہی ، پندرہ دن بعد اسے اس کمرے میں دیکھا تھا ، ان پندرہ دنوں میں جانے کتنی ہی بار اس نے موبائل اٹھا کر اس کے ساتھ پرانی چیٹ پڑھی تھی ، میسج کرنے کی ہمت نہیں تھی ، بات کرنے کا دل نہیں تھا اور وہ پھر بھی اس کے میسجز کی منتظر رہتی ، یاد کیا تھا یا نہیں اس سوال کا کیا جواب دیتی ؟
” پتا نہیں ۔۔”
سب سے بہتر جواب یہی تھا ، عیسیٰ نظریں جھکائے دھیرے سے ہنسا
” اور مجھے بس یہی معلوم ہے کہ میں نے آپ کو یاد کیا ، اتنا کہ آپ کی یاد آپ کے خیال سے بڑھ گئ ، محبت آسیب ہے ،کیا نہیں ہے ؟”
” آپ محبت نا کرتے اگر یہ آسیب تھی “
اس کا سر درد کہیں غائب ہوگیا تھا سامنے کھڑے شخص کی تھکن بھی
” اپنی مرضی سے کہاں کی تھی ، خوبخود ہوگئ ، “
” اور آپ کا اختیار ہوتا تو مجھ سے محبت نا کرتے ؟” اور یہ سوال پوچھتے ہوئے اسے جانے کیوں جواب اپنی مرضی کا چاہئے تھا، عیسیٰ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ، نگاہیں اس کی آنکھوں پر گئیں ، وہ چند لمحے ان آنکھوں کو دیکھتا رہا
” عیسیٰ حیات کو دس زندگیاں دی جائیں وہ تب بھی محبت کیلئے قرت العین کو منتخب کرے گا “
وہ معتبر ہوئ ، آنکھوں میں کچھ چمکا ، عیسیٰ ان کی آنکھوں کی چمک میں خاک ہوا ، اس کا ہاتھ چھوڑتا وہ پیچھے ہٹا اور گہری سانس لیتے اردگرد دیکھا
” آپ واقعی بہت ظالم ہیں “
نفی میں سر ہلاتا وہ بیگ کی طرف بڑھا ، اس نے قرت کے لبوں پر موجود مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی ، بیگ اٹھا کر جب تک وہ واپس آیا اس نے برقع اتار لیا تھا ، پیچھے موجود اسٹالر سامنے پھیلا لیا تھا
” اس میں کیا ہے ؟”
” میں دیار غیر سے آپ کیلئے محبتیں لایا ہوں ” سیاہ رنگ کا بیگ اٹھا کر بیڈ پر رکھا
” یعنی تحفے لائے ہیں ؟”
وہ قدرے اشتیاق سے کہتی بیگ کی طرف بڑھی
” میں تو محبتیں ہی لایا ہوں آپ تحفے کہہ سکتی ہیں “
” محبتیں تحفوں کی محتاج نہیں ہوتیں اور جو ہوں وہ محبتیں نہیں ہوتیں ” قدرے رسان سے اس کی تصحیح کی
” پھر کیا کہتے ہیں اسے ؟” وہ بیگ وہیں رکھتا بیڈ پر جاکر نیم دراز ہوگیا تھا
” خود غرضی ، لالچ یا کچھ بھی لیکن وہ محبت نہیں ہوتی ” اس نے شانے اچکائے اور بیگ اٹھا کر میز پر رکھا
” دیکھ تو لیں “
” واپس آکر دیکھتی ہوں ابھی آپ کیلئے کافی بنا کر لائوں ،آپ تھک گئے ہوں گے “
دوپٹہ اٹھا کر سر پر رکھا اور بنا اسے دیکھتے دروازے کی طرف بڑھ گئ دیکھتی تو جان لیتی کہ وہ شخص کتنا حیران سا تھا اس کے بدلے انداز کو دیکھ کر
وہ جب تک کافی بنا کر واپس آئ عیسیٰ بازوں آنکھوں پر رکھے ہوئے تھا
” عیسیٰ……”
جواب نہیں آیا ، وہ سو چکا تھا ، قرت نے کپ آہستہ سے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور اسے دیکھا
جانے اس کی آمد اتنی اچھی کیوں لگ رہی تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اسے معاف کیا تو دل میں سکون سا ٹھہر گیا ، نفرت کم ہوئ تو اس کی خوبیاں نظر آنے لگیں
وہ عجیب سا شخص تھا، ان چند دنوں میں اس نے اتنا تو جان لیا تھا کہ وہ بہت زیادہ نا سہی لیکن مذہبی تھا ، جب گھر پر ہوتا تو نمازیں پڑھ لیتا، سکون سے آرام سے ، ٹھہر ٹھہر کر ، اس کی دعائیں بہت لمبی ہوتی تھیں
” اتنا کیا مانگتے ہیں دعائوں میں ؟”
ایک دن اس سے پوچھ ہی لیا
” جب آپ نہیں تھیں تو آپ کو مانگتا تھا جب آپ ہیں تو آپ کو ہمیشہ کیلئے مانگتا ہوں “
” اپنے لئے کچھ مانگ لیا کریں “
” اپنے لئے ہی تو مانگتا ہوں “
وہ اسے دیکھ کر رہ جاتی
” آپ کیا مانگتی ہیں دعا میں ؟”
وہ جائے نماز رکھ کر صوفے کی طرف بڑھا
” میں اتنی دعا نہیں مانگتی “
” کیوں ؟”
” میری دعائیں کھو گئی ہیں “
وہ رکا اور پلٹ کر اسے دیکھا ، ہاتھوں کو گھورتے ہوئے اس کے چہرے پر تکلیف تھی
” کیسے کھو گئیں ؟”
” چار سال پہلے مجھ سے کھو گئی تھیں ، ہاتھ اٹھاتی تو بھول جاتا کیا مانگنا ہے ، ہر خواہش ختم ہوگئ ، ہر دعا زہن سے مٹ گئ ، ذہن خالی اور دل ویران سا ہوگیا ، ایک حادثے نے مجھ سے میری دعائیں لے لیں عیسیٰ ” اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا ، عیسیٰ کے اندر کئ دکھ ابھرے
” وہ کھوئ نہیں تھیں “
” وہ کھو گئ تھیں ۔۔۔۔”
عیسیٰ نے اس کی بات کاٹ دی
” وہ میرے پاس آگئ تھیں ۔۔” اس نے بے ساختہ سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا ” آپ نے اپنے لئے دعا مانگنا چھوڑی تو میں نے آپ کیلئے مانگنا شروع کردی ، آپ ہاتھ اٹھا کر مانگنا بھول جاتیں اور مجھے ہاتھ اٹھا کر صرف مانگنا یاد رہ جاتا ، آپ کی ہر خواہش ختم ہوگئ اور میری ہر خواہش آپ سے جڑ گئ ، پچھلے چار سالوں میں ، میں نے آپ سے زیادہ آپ کیلئے دعا کی ہے ” وہ خاموش ہوا اور وہ خاک ہوئ
” آپ غلط کررہے ہیں “
” کیا غلط کررہا ہوں؟”
وہ کہنا چاہتی تھی کہ وہ اسے مسحور کررہا تھا ، اور وہ مسحور نہیں ہونا چاہتی تھی ، نفرت باقی نہیں رہی تھی اور نفرت کے بعد جو تھا قرت العین کو اس سے ڈر لگتا تھا
” اتنی محبت کیوں کرتے ہیں مجھ سے عیسیٰ ؟”
وہ بیڈ کی پائنتی پر بیٹھی تھی ، عیسیٰ میز پر جائے نماز رکھتا اس کے سامنے آیا
” اس سوال کا جواب میں نہیں جانتا ، آپ دنیا کی واحد عورت ہیں جن کا نظر انداز کرنا میں برداشت کرلیتا ہوں ، آپ واحد عورت ہیں جن کی نفرت میں سہہ لیتا ہوں،آپ واحد عورت ہیں جن کے سامنے میں بے بس ہو جاتا ہوں “
وہ نظر جھکا کر اسے دیکھ رہا تھا ، وہ سر اٹھا کر اسے دیکھ رہی تھی
” اتنی محبت مت کیا کریں “
” یہ میرے اختیار میں نہیں ہے “
” محبت میں آزمایا جاتا ہے عیسیٰ “
” ہر آزمائش قبول ، سوائے اس کے کہ آپ سے جدا کردیا جائے “
” محبوب کا موجود ہونا بھی آزمائش ہے “
” محبوب کی نفرت کا ہونا اس سے زیادہ بڑی آزمائش ہے ” وہ جانتی تھی وہ آگے کیا کہے گا ” آپ مجھے معاف نہیں کرسکتیں ؟ میں اس سفر سے تھک گیا ہوں ، مجھے لگا تھا آپ ساتھ ہوں گی تو آپ کی نفرت بھی قبول ہے لیکن میں اس نفرت سے تھک گیا ہوں قرت، پسندیدہ انسان کی آنکھوں میں نفرت عذاب جیسی ہے اور میں اس عذاب سے روز گزرتا ہوں ، آپ ماضی کا زکر کرتی ہیں تو میں خود کو قصوروار سمجھتا ہوں ، آپ وہ قصور معاف نہیں کرسکتیں ؟”
” میں نے کبھی معافی کا تعلق نہیں رکھا آپ کے ساتھ “
وہ جانتا تھا وہ آگے کیا کہے گی
” نفرت ہی صحیح”
قرت اسے دیکھتی اٹھی ، وہ اس کے کاندھوں تک آتی تھی
” آپ کس نفرت کی بات کررہے ہیں ؟”
” وہی جو آپ کو مجھ سے ہے “
یہ جملہ تکلیف دیتا تھا
” ہر نفرت ختم ہوئ عیسیٰ “
یہ جملہ ناقابل یقین تھا
” قرت ۔۔۔۔۔”
” ہر قصور معاف عیسیٰ “
” آپ ۔۔۔۔۔۔”
” ہر الزام سے برأت “
وہ اگلے کئ لمحے اسے دیکھتا رہا ، وہ چاہتا تھا وہ آگے کچھ کہے ، وہ چاہتی تھی وہ آگے کچھ پوچھے ، وہ جواب چاہتا تھا ، وہ سوال کی منتظر تھی
” یہ معجزہ ہے “
نا اس نے سوال پوچھا نا جواب مانگا ، قرت کے گلے میں آنسو اٹکے ، اس شخص کے سامنے اسے رونا آجاتا تھا ، اپنے باپ کے بعد اس شخص کے سامنے آنسو بہہ جاتے تھے
” میں نے آپ کے ساتھ کبھی معافی والا تعلق نہیں رکھا عیسیٰ ، نفرت کا تھا لیکن وہ بھی ختم ہوا ، آپ نفرت سہتے سہتے تھک گئے ہیں ، میں نبھاتے نبھاتے ، اس نفرت نے مجھ سے میرا معصوم دل چھین لیا تھا ، میں اپنا پرانا دل واپس چاہتی ہوں “
وہ اس کے سامنے کھڑی تھی ، بھوری آنکھیں نم تھیں ، اگر اس وقت کوئ اس سے پوچھتا کہ روئے زمین پر کوئ خوشی باقی تھی تو وہ کہتا
” قرت العین کا عیسیٰ حیات کو معاف کرنا “
” میں اس معافی پر آپ کا شکر گزار ہوں قرت “
مسافر کو منزل مل گئ تھی ، اس کی تھکن اترنے لگی
” یہ معافی نہیں تھی عیسیٰ ، جس جرم میں ، میں خود شریک تھی اس پر معافی کا تعلق میں نے نہیں رکھا تھا ، وہ نفرت تھی پھر وہ غصہ بن گیا ، اب ہر شے ختم ہوئ ، وہ نفرت میرا دل سیاہ کررہی تھی ، میں خود کو مزید سیاہ نہیں کرنا چاہتی “
اس نے عیسیٰ کا ہاتھ تھام لیا ، وہ اس کے جھکے سر کو دیکھتا رہا ، اس کے دل کی کیفیت الفاظ میں بیان کرنا مشکل تھا
” آپ سیاہ نہیں ہیں ، قرت العین عیسیٰ حیات کا سفید پھول ہے “
وہ نم آنکھوں سے مسکرائی ، عیسیٰ کی نظر اس کی آنکھوں پر گئ ، کیا کوئ منظر اس سے زیادہ خوبصورت ہو سکتا تھا ؟
” ابا کہتے تھے میں ان کی نحل ہوں ، شہد کی مکھی ، وہ شہد بانٹتی ہے ، میں بھی شہد بانٹنے والی ہوا کرتی تھی ، لیکن وہ بھول گئے شہد کی مکھی میں زہر بھی ہوتا ہے ، اس زہر نے کسی اور کو نہیں مجھے خود کو نیل کیا تھا ، چار سال پہلے جو ہوا وہ ہم دونوں نے نہیں چاہا تھا لیکن قصور وار ہم دونوں تھے ، آپ نے بند پردے کے پیچھے ملنے کی خواہش کی ، میں بند پردے کے پیچھے آپ سے ملی ، لڑکیوں کو محتاط رہنا پڑتا ہے ، میں بھول گئ ، اس بھول نے میرے اندر کا زہر مجھ میں بھر دیا ، اس زہر کو میں نے آپ تک پھیلنے دیا ، جانے غلطی کس کی زیادہ تھی لیکن سزا دونوں کو مل گئ “
” ہر سزا ختم قرت ، ہر قصور معاف “
اس نے دھیرے سے اس کے آنسو صاف کئے ، وہ سر ہلا گئ
” ہر سزا ختم ، شاید مجھے عرصہ لگے دوبارہ سب کچھ صحیح کرنے میں ، شاید میں دل آپ کے لئے موم نا کرپائوں لیکن ہر نفرت ختم عیسیٰ ، ہر سزا ختم ، میں اللہ کی رضا کے لئے اپنے دل سے ہر نفرت مٹاتی ہوں ، “
” میں جانتا ہوں یہ آپ کے لئے مشکل ہوگا ۔۔۔۔ “
اس نے عیسیٰ کی بات کاٹ دی
” بہت ۔۔۔ شاید بہت ، میں نے جانا یہ آسان نہیں ہوتا ، نفرت کے ذرات باقی رہ جاتے ہیں ، ان ذرات کا اثر نظر بھی آتا ہے ، میں شاید اپنا دل آپ کے لئے مکمل صاف نا کرپائوں ، شاید میں کبھی آپ کو دوبارہ الزام دے جائوں ، اگر ایسا ہو تو مجھے معاف کردیجئے گا “
سر اٹھا کر بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا
” قرت العین کو ہر قصور معاف “
وہ ان بھیگی آنکھوں پر دنیا وار سکتا تھا
” عیسیٰ حیات کے لئے ہر نفرت ختم !”
عیسیٰ کا ہاتھ تھامے اس نے دوسرے ہاتھ سے اپنے آنسو صاف کئے ، اس نے بلآخر اسے معاف کردیا ، نفرت ختم کردی ، خدا کی رضا کے لئے ، خدا کی خاطر ، وہ اب اس نفرت کو اپنے اندر نہیں رکھنا چاہتی تھی ، اور عیسیٰ اسے وہاں کھڑے لگا اس پر ایک اور سجدہ شکر واجب تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
دروازے میں بنے سٹیپس پر بیٹھ کر وہ دلچسپی سے سامنے دیکھ رہی تھی ، عیسیٰ حمنہ اور زینت آپا کی بیٹی اور بیٹے کے ساتھ فٹ بال کھیل رہا تھا ، وہ دو لڑکیاں تھیں ، اور وہ زینت آپا کے چار سالہ بیٹے کے ساتھ تھا ، جسے عیسیٰ نے گویا صرف سپورٹ کیلئے رکھا ہوا تھا کیونکہ وہ صرف ادھر ادھر اچھل کود کررہا تھا ، اور وہ اکیلا ان پر بھاری پڑرہا تھا ، ان دونوں کا ایک بھی گول نہیں تھا اور اس نے لگاتار تیسرا گول کیا تھا
” یہ چیٹنگ ہے عیسیٰ انکل ” حمنہ کمر پر ہاتھ رکھے اس کے سامنے کھڑی ہوگئ
” کیسی چیٹنگ ؟” وہ پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا
” آپ گول ہی کئے جارہے ہیں ہمیں بھی کرنے دیں “
” کریں۔۔۔۔۔ روکا کس نے ہے ؟”
اس نے بال ہاتھوں میں گھمائ
” آپ اتنے بڑے ہیں اور ہم اتنے چھوٹے ہیں کیسے کریں”
” آپ دو ہیں اور میں ایک ہوں “پیچھے کھڑے حارث کی آنکھوں میں خفگی ابھری وہ بھی تو تھا
” لیکن آپ بڑے ہیں “
” تو آپ بھی کسی بڑے کو لے آئیں ” کن اکھیوں سے سیڑھیوں پر بیٹھی قرت کو دیکھا
” کون سا بڑا ؟”
گال پر انگلی رکھے وہ دونوں سوچ میں پڑ گئیں
” دیکھیں یہیں کہیں “
بے نیازی سے شانے اچکاتا وہ اٹھ گیا ، حمنہ نے یہیں کہیں دیکھا اور اسے سیڑھیوں پر بیٹھی قرت نظر آگئ ، وہ بھاگ کر اس تک گئ
” چلیں قرت ہمارے ساتھ کھیلیں ” اس کا ہاتھ کھینچا تو وہ گڑبڑا گئ
” مجھے کھیلنی نہیں آتی “
” عیسیٰ انکل سکھا دیں گے ” اس کا ہاتھ کھینچا تو کھڑی ہوئ ، وہ عیسیٰ کو انکل کہتی تھی لیکن اسے بس قرت ، گرلز تھنگز !
” مجھے نہیں آتا کھیلنا حمنہ “
حمنہ بنا سنے اسے صحن میں لے کر آئ
” میں لے آئ بڑے کھلاڑی کو “
فخر سے عیسیٰ کو دیکھا
” بڑے کھلاڑی کو کھیلنا آتا ہے ؟”
عیسیٰ نے اسے دیکھا انداز صاف چڑانے والا تھا وہ ایک بار پھر گڑبڑائ
” نہیں آتا اور میں کھیل بھی نہیں رہی “
ہاتھ چڑھا کر وہ اندر کی طرف جانے لگی جب حمنہ بھاگ کر اس کے سامنے آئ
” رک جائیں نا ، دیکھیں لڑکیوں کی ریسپکٹ کا سوال ہے ، لڑکے جیت رہے ہیں ” اس نے سامنے کھڑی ان چھٹانک بھر کی لڑکیوں کو دیکھا پھر پیچھے کھڑے ایک لڑکے اور دوسرے آدھے لڑکے کو
” حمنہ لیکن مجھے کھیلنا نہیں آتا “
جھک کر بیچارگی سے سرگوشی کی ، اللہ اللہ ، عیسیٰ کے ساتھ کھیلنا صاف صاف ہارنا تھا وہ جانتی تھی کہ وہ فٹبال کھیلنے میں کتنا ماہر ہے
” میں سکھاتی ہوں “
سینے پر ہاتھ رکھا اور اسے بتاتے لگی ، ایسے کک مارتے ہیں ایسے گول ہوتا ہے ایسے فائول ہوتا ہے ، وہ قدرے بیزاری سے سنے گئ ، اندر ہی اندر حیرت بھی تھی کہ کیسے وہ ٹڈی سی لڑکی اتنا جانتی تھی
” لگتا ہے آپ لوگوں کا بڑا کھلاڑی ڈر گیا ہے “
وہ تیورا کر گھومی اور عیسیٰ کو دیکھا
” جی نہیں ، ہم گرلز ڈسکشن کررہی ہیں بوائز دور رہیں ” عیسیٰ نے ابرو اچکا کر ان ” گرلز ” کو دیکھا
تھوڑی دیر بعد وہ میدان کی ایک طرف حمنہ اور صبا کے ساتھ تھی جبکہ عیسیٰ اور حارث دوسری طرف تھے ، تماشیوں میں اب شہوار ، حیات اور زینت آپا شامل تھے
” سوچ لیں قرت ہار جائیں گی “
” سوچ لیں عیسیٰ ہرا دیئے جائیں گے “
گردن سیدھی کرکے اسے دیکھا تو وہ اس شان بے نیازی کو دیکھتا ہلکا سا مسکرایا
میچ شروع ہوا تو وہ ایک اکیلا بڑا لڑکا ان دو چھوٹی اور ایک بڑی لڑکی پر بھاری پڑنے لگا ، وہ رفتار تیز رکھتا اور اس قدر تیزی سے ان کے ہاتھوں سے بال اچک لیتا کہ وہ دیکھتی رہ جاتیں ، ایک بار تو اس نے حد ہی کردی وہ گول کرنے کے قریب تھی جب وہ اس کے ساتھ سے تیزی سے گزرا اسے دیکھ کر ایک آنکھ ماری اس کا منہ کھلا اور عیسیٰ نے بال اچک لی
” یہ چیٹنگ کررہے ہیں آنٹی “
وہ تینوں شکایت ایمپائر کے پاس لے آئیں
” کیسی چیٹنگ ؟”
وہ بھی حیات کے سامنے آکھڑا ہوا
” یہ ۔۔۔۔” اس کی بات منہ میں رہ گئ ، اس کی چیٹنگ یاد آئ تو چہرہ سرخ ہوا
” بتائیں بھی کیسی چیٹنگ ؟”
محظوظ سا اسے دیکھا
” بس چیٹنگ کرتے ہیں ، ہم نہیں کھیل رہے “
وہ اپنی دونوں کھلاڑیوں کو لے کر ناراض ہوکر جانے لگی جب حیات نے انہیں روک لیا
” مسٹر عیسیٰ ، چیٹنگ بند کریں اور ایمانداری سے کھیلیں “
اسے گھورا تو وہ تابعداری سے سر ہلاگیا
رک چکی گیم ایک بار پھر شروع ہوگئ ، اور کیونکہ اس بار وہ زیادہ ہمت اور جذبے سے آئ تھیں تو بہت کوشش کرکے اپنے گول چار کرلئے ، میچ پانچ گولز کا تھا
آخری گول پر یا تو وہ جیتتی یا عیسیٰ ، اور بال اس کے ہاتھ میں تھی جب عیسیٰ تیز رفتاری سے اس کے پاس سے گزرا اور بال تھامنی چاہی ، قرت نے لمحہ لیا سوچنے میں ، اتنے لوگوں کے سامنے سبکی نامنظور تھی
” آج کل دل کو بہت اچھے اچھے لگ رہے ہیں عیسی ” اس کے ساتھ رکتے ہلکی سی سرگوشی کی
عیسیٰ حیات پورا کا پورا تھم گیا ، وہ بال لے کر فورا دور ہٹی ، لمحوں کا کھیل تھا اور وہ لوگ جیت گئے ، ان کے شور پر عیسیٰ چونکا، سر گھما کر اسے دیکھا لبوں پہ مسکراہٹ ابھری پھر سر جھٹکا ، پاکٹ میں ہاتھ ڈالے ان کی طرف آیا
” کہا تھا نا ہرادیئے جائیں گے “
وہ اترائ
“جس طرح ہرایا گیا ہوں اس ہار پر سو جیتیں قربان ” وہ مسلسل مسکرا رہا تھا
” آپ ہار گئے ” حمنہ نے چڑایا
” مجھے اپنا ہارنا عزیز ہے “
ایک ہاتھ پاکٹ سے نکال کر سینے پر رکھا اور قرت کو دیکھا ، اس نے گڑبڑا کر نظریں چرائیں
حمنہ اور باقی سب گیند اٹھائے دوسری طرف چلے گئے جبکہ وہ حیات اور شہوار کی طرف بڑھے
” جیتنے کا اچھا طریقہ ہے”
” ہارنے کا عام تھا “
” محترمہ ! چیٹنگ کرکے ہرایا گیا ہوں میں “
“کِخ عیسیٰ کِخ ( چھوڑیں عیسیٰ چھوڑیں ) جو ہارجاتا ہے وہ ایسے ہی بہانے پیش کرتا ہے”
بے نیازی سے شانے اچکائے ، عیسیٰ رکا
” چلیں بہانے ہی صحیح لیکن یہ بتائیں کتنا اچھا اچھا لگ رہا ہوں آج کل “
مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھا
” میں نے ویسے ہی کہا تھا “
وہ گڑبڑائ ، قدم دوبارہ سے آگے بڑھالئے
” یعنی ویسے ہی سچ بولا تھا “
” جی نہیں ، سچ نہیں تھا وہ “
” میں سمجھ گیا وہ اعتراف تھا “
سر ہلایا
” کیسا اعتراف ؟”
وہ رک گئ، وہ بھی رکا ، اسے دیکھا اور پھر ہلکا سا جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکا
” اعتراف محبت……. “
وہ وہیں رہ گئ جبکہ عیسیٰ اب لبوں پہ کوئ دھن بجاتا حیات کی طرف جارہا تھا ۔
اعتراف محبت؟ محبت ؟ وہ کیا کہہ گیا تھا ؟ یہ محبت کہاں سے آگئ ؟ ابھی تو نفرت کو گئے عرصہ بھی نہیں گزرا تھا ، محبت کو آنے میں بھی عرصہ لگتا ، یہ کون سی محبت تھی جس کا وہ ذکر کرگیا تھا ، شہوار کے بلانے پر وہ چونکی پھر سر جھٹکتے ان کی طرف بڑھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ لوگ حمنہ کو واپس چھوڑنے گئے تو وہ ایک بار پھر رونے لگی
” آپ یہاں رک جائیں “
” لیکن یہ ہمارا گھر نہیں ہے “
وہ اسے نرمی سے سمجھانے لگی ، عیسیٰ نے کہا بھی تھا کہ وہ واپسی پر تنگ کرے گی لیکن اسے لگا کہ شاید یونہی کہہ رہا ہے
” آپ لوگ پھر مجھے اپنے گھر لے جائیں “
وہ اسے دیکھ کر رہ گئ ، بڑی مشکل سے اسے ملازمہ کے ساتھ اندر بھیجا ، مشال بھابھی کہیں گئ ہوئ تھیں ، عیسیٰ اس دوران خاموش رہا تھا ، وہ واپس آئ تو وہ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اس کے بیٹھنے پر گاڑی سٹارٹ کردی ، تھوڑی دیر خاموشی چھائ رہی اور پھر اسے عیسیٰ کی آواز سنائ دی
” آپ کو بچے اچھے لگتے ہیں ؟”
” بچے کسے اچھے نہیں لگتے ؟”
وہ تھوڑی دیر خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا پھر جب بولا تو آواز آہستہ تھی
” بہت سے ماں باپ کو اپنے بچے اچھے نہیں لگتے قرت “
اس نے رخ موڑ کر عیسیٰ کو دیکھا ، اس کے چہرے پر کچھ ایسا تھا کہ وہ اسے دیکھے گئ
” ہر ماں باپ کو اپنے بچے اچھے لگتے ہیں عیسیٰ “
” اوہوں ۔۔” اس نے نفی میں سر ہلایا ” ہر بچہ اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا ، بہت سے ماں باپ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اپنے بچے پسند نہیں ہوتے ، وہ انہیں بوجھ سمجھتے ہیں ، جنہیں انہوں نے پیدا کرکے احسان کردیا ہو ، نا وہ انہیں اپنا وقت دے پاتے ہیں نا ان کے حصے کی محبت “
” میں نے اب تک ایسا کوئ بچہ نہیں دیکھا “
” کیونکہ آپ ایلیٹ کلاس سے نہیں ہیں ، یہاں ہر گھر میں ایسی کہانی موجود ہے ، یہاں ہر دوسرا بچہ ماں باپ کی محبت کے بغیر بڑا ہوتا ہے کیونکہ ماں باپ کو صرف پیسے کی دوڑ پسند ہے ، آپ جانتی ہیں حمنہ آپ سے اتنی اٹیچ کیوں ہوگئ ؟ کیونکہ اس کے پاس ماں کی محبت سرے سے موجود نہیں ہے ، مشال بھابھی ڈیزائنر ہیں ، اپنا بوتیک ہے چلاتی ہیں ، ان کا ایک مصروف سا شیڈول ہے جس میں اپنی بیٹی کو محبت دینا شامل نہیں ہے ،سہیل بھائ بزنس میں گھر سے زیادہ انٹرسٹڈ ہیں ، اس لئے وہ ہر دوسری عورت سے اٹیچ ہوجاتی ہے “
وہ تلخی سے کہہ رہا تھا قرت اسے دیکھ کر رہ گئ
” یہ ناقابل یقین ہے میرے لئے “
اس نے جھرجھری سی لی
” میں نے کہا نا یہاں ہر گھر میں ایسی کہانی موجود ہے، میں نہیں جانتا اگر ماں باپ بچے کو وقت نہیں دے سکتے تو اسے دنیا میں لاتے ہی کیوں ہیں “
اس کی آواز کی تلخی مزید بڑھ گئ ، اپنا بچپن نظروں کے سامنے گھوم گیا ، اسے حمنہ میں اپنا آپ نظر آتا تھا ، وہ جب چھوٹا تھا تو ہر کسی سے یونہیں اٹیچ ہوجاتا تھا ، ان کے چھوڑ کے جانے پر یونہی دکھی ، اب جبکہ اس کے اور شہوار اور حیات کے تعلقات بہتر تھے تب بھی بچپن کی محرومیاں ساتھ تھیں ، بچپن کے ضائع ہونے کا دکھ جوانی کو ضائع کرنے کی کوشش ، ہر زخم جیسے تازہ ہوگیا تھا ، اسٹیئرنگ پر گرفت مضبوط ہوئ ، دل میں کوئ سویا درد پھر سے جاگا ، کوئ گم ہوچکی اذیت پھر سے واپس آگئ ، تبھی اسے کھڑکی سے باہر دیکھتی قرت کی آواز سنائ دی
” ہم اپنے بچوں کیلئے ایسے ماں باپ نہیں بنیں گے ” وہ باہر دیکھتے ہوئے جانے کس خیال کے تحت بولی ، عیسیٰ کی ساری تلخی عنقا ہوئ ، سارے درد غائب ہوئے ، لبوں پہ مسکراہٹ بکھر گئ
” بالکل، ہم اپنے بچوں کیلئے ایسے ماں باپ نہیں بنیں گے “
اس کی بات دہرائ تو قرت کو احساس ہوا کہ وہ بے دھیانی میں کیا کہہ گئ تھی ، چہرہ شدید ترین سرخ پڑا
” میں نے بس یونہی ۔۔۔” اففف ، کیا ضرورت تھی منہ کھولنے کی وضاحت تک نا دی گئ، عیسیٰ ہنسا
” ایک بات کہوں ؟” اس نے جواب نہیں دیا ، چہرہ مکمل شیشے کی طرف کرلیا
” چہرہ تب سرخ کیا کریں جب نقاب نا کررکھا ہو ، آپ کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھنا میرا پسندیدہ منظر ہے “
محظوظ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا لیکن اس نے جواب نہیں دیا ، چہرہ مزید سرخ ہوا ، اف لکم قرت ، خود کو ڈھیروں کوسا ، اففف اففف
جبکہ عیسیٰ اب مسکراتے ہوئے ڈرائیور کررہا تھا
