Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 4)

Nahal By Fatima Noor 

” بندہ اسلام آباد آئے اور گھومے پھرے نا یہ تو سزا دینے والی بات ہوگئ “

ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے ماریہ کھڑکی سے ہٹی اور بیڈ پہ کتابیں پھیلاکر بیٹھی قرۃ العین کو دیکھا

” تم کیا صبح سے کتابیں اٹھا کر بیٹھ گئ ہو “

” ڈیئر ماریہ ابراھیم ! ہم یہاں یہی کام کرنے آئے ہیں “

” ڈیئر قرۃ العین ! پڑھائ کل سے بھی شروع کی جاسکتی ہے “

” میرا کل آج سے شروع ہوچکا ہے “

” آہ کتابی کیڑے ۔۔۔”

وہ واپس پلٹ گئ اور قرت مسکرا کر سر جھٹکتے دوبارہ کتاب پر جھک گئ ، وہ اس کی ہم جماعت تھی اور اس سے جو تھوڑی بہت بے تکلفی تھی وہ یہاں آکر دوستی میں بدل گئ ، ان کے ساتھ باقی دو لڑکیاں ، زویا اور سحر بھی تھیں لیکن وہ فلوقت باہر مدرسہ گھومنے گئ ہوئ تھیں ،وہ دونوں صبح صبح ہی جا کر پورا مدرسہ چھان آئ تھیں ، ماریہ کو گھومنے پھرنے کا بہت شوق تھا اسے اندازہ ہورہا تھا ، تھوڑی دیر خاموشی چھائ رہی اور پھر ماریہ فیصلہ کن انداز میں پلٹی

” ہم کل شاپنگ پر جارہے ہیں “

” بہت اچھے ، کس کے ساتھ جائیں گی ؟، “

” ہم کا مطلب تم بھی ہو “

” اور کس کے ساتھ جائیں گی کا مطلب ہے میں نہیں جارہی “

” کیوں ؟”

وہ کمر پر ہاتھ رکھے لڑاکا عورتوں کی طرح اس کے سامنے آئ

” پہلی بات تو یہ ہم پڑھنے کیلئے آئے ہیں “

” اگلے ایک ہفتے تک وہی کریں گے ۔۔۔۔اور دوسری بات؟”

” کسی نے جانے نہیں دینا “

” باجی جان کے ساتھ جائیں گے نا ، اکیلی تھوڑی جانا ہے “

” اور اجازت تو جیسے فورا مل جائے گی “

” بس یہی نقصان ہوتا ہے کتابوں میں گھسے رہنے کا ، کل باجی جان خود کہہ رہے تھے کہ کہیں گھومنے جانا ہو تو مل کر پلین بنا لیں گے ، ویسے تمہیں پتا ہے واپسی سے ایک روز پہلے ہم مارگلہ ہلز بھی جائیں گے “

قرت نے کتاب بند کردی اور اسے کو دیکھا

” یہ بھی خود پلین بنایا ہوگا ؟”

” جی نہیں ، یہ مدرسے والوں کی طرف سے ساری لڑکیوں کا ٹرپ ہوگا ” اس کے لب اوہ میں سکڑے ،

” کیا ہی اچھا ہوتا نا اگر موبائل لانے کی اجازت بھی ہوتی ، اتنا افسوس ہے مجھے کہ میں پکس نہیں بنا سکوں گی “

اور یہ افسوس سب کا مشترکہ تھا ، وہ گھر سے موبائل لے کر آئ تھی جو گھر میں سب کا مشترکہ موبائل تھا ، لیکن پھر ابا کو واپس کردیا تھا ، اسے اندازہ تھا کہ اجازت نہیں ہوگی موبائل لانے کی ، اسے خاص ضرورت بھی نہیں تھی موبائل کی البتہ ماریہ کا دکھ کل سے کم ہی نہیں ہورہا تھا اسی بات کو لے کر

” پکس بناتی ، کزنز کو بھیجتی ، انسٹا پر واٹسپ پر لگاتی ، کیا کیا سوچا تھا میں نے “

” اس سوچ پر افسوس کا اب کوئ فائدہ نہیں “

” اس سوچ پر عمل کا تو تھا نا “

وہ اس کے سامنے بیڈ پر دھپ سے بیٹھی

” جو فائدہ حاصل نہیں ہوا اسے سوچو ہی مت “

اس سے پہلے کہ ماریہ کچھ کہتی سحر اور زویا دروازہ کھول کر اندر آئیں اور ” پتا ہے آپ دونوں کو ” کہہ کر مدرسے کی عمارت کے بارے میں قلابے ملانے لگیں ، اس نے سرجھٹکتے کتاب دوبارہ سے کھول لی صبح ماریہ کے ساتھ مل کر وہ مدرسے کے بارے میں دو گھنٹے گفتگو کرچکی تھی اب وہ زویا اور سحر کے ساتھ دوبارہ سے وہ گفتگو نہیں دہرانا چاہتی تھی جبکہ ماریہ ایک بار پھر اس بارے میں بات کرنے کیلئے پوری طرح تیار تھی

☆☆☆☆☆☆

عمار نے ٹھک سے گلاس ٹیبل پر رکھا اور سامنے بیٹھے عیسیٰ کو دیکھا

” یہ اچانک انگلینڈ جانے کا پروگرام کیسے بن گیا؟ “

” جیسے اچانک پاکستان آنے کا بن گیا تھا “

” وہ تو پڑھائ ۔۔۔”

“پڑھائ کیلئے گیا تھا وہ پوری ہوگئ ، تو واپس آنا پڑا ، معلوم ہے ” بیزاری سے اس کی بات کاٹی

” پھر کیوں جارہے ہو “

” میں پاکستان میں رہ رہ کر بور ہوگیا ہوں “

” انگلینڈ میں رہ کر نہیں ہوئے تھے کیا ؟”

” ہوگیا تھا تبھی تو ادھر آیا تھا “

عمار نے گھور کر اسے دیکھا جو ایک ٹانگ گھٹنے پہ رکھے پیر جھلاتے آرام سے بیٹھا ہوا

” یہ ایک احمقانہ فیصلہ ہے “

” بہت شکریہ “

” اور یہ صرف تم ہی کرسکتے ہو “

خاموش بیٹھا زین پہلی مرتبہ بولا عیسیٰ نے سر گھما کر اسے دیکھا

” تمہارا بھی شکریہ ” زین منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا کر رہ گیا

” اچھا یہ بتائو کتنے وقت کیلئے جارہے ہو ؟ “

” اٹ ڈیپینڈز آن مائ موڈ ، ہوسکتا ہے اگلے ہی دن واپس آجائوں ، ہوسکتا ہے ساری زندگی نا آؤں ، تم لوگ چلو گے ؟”

وہ تینوں ایک ساتھ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھے تھے ،پڑھائ مکمل ہونے کے بعد زین اور عمار واپس آگئے تھے جبکہ عیسیٰ کچھ عرصہ وہیں رہا تھا ، پھر ایک دن اچانک ہی بنا اطلاع دیئے واپس آگیا ، اب اسی طرح اچانک واپس جارہا تھا

“انگلینڈ جانا میرے پلینز میں فلحال شامل نہیں ہے میں سی ایس ایس کیلئے تیاری کررہا ہوں ، دوسری صورت میں ڈیڈ کا بزنس جوائن کرنے کا سوچ رہا ہوں” زین ہاتھ کھڑے کرتا پیچھے کو ہوا

” اور میں بزنس جوائن کرچکا ہوں ، ” عمار نے شانے اچکائے

” اوکے ۔۔۔۔”

وہ پھر بھی یونہی لاپرواہ سا بیٹھا رہا، اسے ان دونوں کے جانے یا نا جانے سے فرق نہیں پڑتا تھا ،وہ لوگوں کے بغیر رہنا سیکھ چکا تھا

☆☆☆☆☆☆☆

” ماشاء اللہ ، رب تعالی زبان کی تاثیر مزید بڑھائے ” اس نے مسکراتے ہوئے تھوڑی دیر پہلے تقریر کرکے آنے والی زویا کو مخاطب کیا ،وہ جوابا قدرے پرجوش اور شرمائے انداز میں مسکرا کر رہ گئ ، آج باقاعدہ پہلا دن تھا اور اس کا آغاذ تقریری مقابلے سے کیا گیا تھا ، ان کی طرف سے زویا نے اس میں حصہ لیا تھا ، مقابلہ کیا تھا بس میلاد تھا ، نعت اور چند خطابات تھے تاکہ ایک دوسرے سے اچھے مقرر ہونے کا طریقہ سیکھا جائے ، پروگرام دو گھنٹے چلا اور دو گھنٹے بعد ماریہ اور سحر کے اصرار پر باجی جان انہیں مال لے گئے ، خریداری سے زیادہ تفریح تھی جو ان لوگوں نے کرنی تھی ، چیزوں کی قیمتیں دیکھ کر قرت کا موڈ خراب ہوگیا ، اس قدر مہنگی چیزیں نا وہ لے سکتی تھی نا لینے کا سوچ سکتی تھی ، سو وہ خاموشی سے ان تینوں کے ساتھ چلتی رہی ، ماریہ نے تھوڑی بہت شاپنگ کی تھی ورنہ ان تینوں نے تو بس دیکھنے پر ہی اکتفاء کیا تھا

” آپ کی تسبیح کہاں ہے قرت ؟ “

” ماریہ کو دی تھی “

کچھ دیر پہلے کیفے میں جب اس نے وہ نکالی تھی تو ماریہ نے دیکھنے کیلئے لی تھی اور پھر اپنے پاس رکھ لی کہ تھوڑی دیر بعد واپس کردے گی

” اچھا ، وہ ہر وقت آپ کے پاس ہوتی ہے نا اس لئے پوچھا “

” ہاں وہ میرے دل کے بہت قریب ہے “

وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھنے لگی اور تبھی اسے احساس ہوا کہ ماریہ ان کے ساتھ نہیں تھی ، رک کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ پیچھے ہی کھڑی تھی

” کیا ہوا ؟”

” تمہاری تسبیح ۔۔۔”

” میری تسبیح کیا ؟”

” وہ میں کیفے میں بھول آئ “

اس کی آواز شدید شرمندگی سے بھرپور تھی قرت کا دل دھک سے رہ گیا

” یا اللہ ۔۔۔ماریہ “

” سوری ۔۔۔”

” افف ، چلو میرے ساتھ ، باجی جان ہم ابھی آتے ہیں “

اختتام پر باجی جان کو مخاطب کیا اور ان کے ہلتے سر کو دیکھ کر دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھی، ماریہ پر ایک کٹیلی نگاہ ڈالی

” سوری۔۔۔۔۔ “

اس نے جواب نہیں دیا ، دل رک رہا تھا ، وہ تسبیح اسے عزیز ترین تھی ، ان کے مدرسے کے بڑے باجی جان جو اب لاہور شفٹ ہوگئے تھے یہ ان کا تحفہ تھی ، سعودی عرب سے واپسی پر وہ اس کیلئے لائ تھیں

” یہ تسبیح جدہ کی جامع مسجد کے امام صاحب کی ہے ، وہ اپنے وقت کے ولی اور بہت بڑے عالم تھے ، یہ سمندر سے نکلنے والے اصلی موتی ہیں جن کو جوڑ کر انہوں نے اپنے لئے تسبیح بنائ تھی ، ان کے پاس یہ تسبیح پچھلے بیس سال سے تھی ، اپنے انتقال کے وقت انہوں نے یہ ہمارے شوہر کو دی تھی اور ہمارے شوہر نے ہمیں اور ہم یہ آپ کو دے رہے ہیں ، اپنی قابل ترین سٹوڈنٹ کو ، “

وہ سفید رنگ کے موتیوں کی تسبیح تھی ، وہ موتی اس قدر سفید تھے کہ آنکھیں خیرہ کررہے تھے ، لیکن وہ اسے لینے میں متذبذب تھی

” یہ آپ کے شوہر کا تحفہ ہے باجی جان ، میں کیسے رکھ سکتی ہوں “

” رکھ لیں قرت ، یہ ہم آپ کے درس نظامی مکمل ہونے پر دینا چاہتے تھے لیکن تب ہم یہاں نہیں ہوں گے ، یہ ہمیں ہمارے عزیز نے دی اور ہم اپنے عزیز کو دے رہے ہیں “

اور اب وہ تسبیح پچھلے تین سال سے اس کے پاس تھی ، ان کے باجی لاہور شفٹ ہوگئے ان سے رابطہ ختم ہوگیا اور یہ تسبیح اس کے پاس رہ گئ ، وہ صرف چند دانے نہیں تھے ، اپنے مشکل ترین دنوں میں اس نے وہ تسبیح اپنے سینے سے لگا کر پڑھی تھی ، وہ سفید رنگ کے موتی کبھی میلے نہیں ہوئے تھے ، جانے کیا طلسم سا تھا ان میں ، ابا سے کہہ کر اس نے اس تسبیح کے اختتام پر ایک چوکور سرے پر اپنا نام لکھوایا تھا ، دل سے قریب دل سے عزیز ۔۔۔

اور اب ماریہ اسے کینٹین میں چھوڑ آئ تھی ، اس کا دل بار بار ڈوب رہا تھا ، قدم اس قدر تیز تھے کہ وہ ماریہ سے بھی کئ قدم آگے نکل گئ تھی اور یہ اسی تیز رفتاری کا نتیجہ تھا کا وہ سامنے سے آتے لڑکے سے زور سے ٹکرائ اور لڑھکڑا کر نیچے گری، کہنی پر زور کی ضرب آئ تھی

” اللہ ۔۔۔۔”

سامنے کھڑا عیسیٰ بس ہلکا سا لڑکھڑایا تھا اور پھر فوراً سنبھل گیا

” آنکھیں گھر رکھ کر آئ ہیں کیا “

ناگواری سے کہتے اس نے جھک کر اپنا فون اٹھا کر سامنے نیچے بیٹھی لڑکی کو دیکھا ، مکمل سیاہ برقعے میں ملبوس سیاہ دستانے پہنے جس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں ، جن پر سامنے دکان سے آتی روشنی پڑ رہی تھی اور وہ اس روشنی میں چمک رہی تھیں

وہ چمکتی آنکھیں، طلسماتی آنکھیں، عیسیٰ حیات کو چند سیکنڈ لگے اپنی نظریں ان آنکھوں پر سے ہٹانے میں، وہ اب اپنی کہنی مسل رہی تھی یقیناً اسے چوٹ لگی تھی ، وہ بے اختیار آگے بڑھا

” آر یو اوکے ؟”

بادل نخواستہ اس سے پوچھا اور ہاتھ ہلکا سا جھکا کر اس کے بازوں کو تھاما تاکہ اسے اٹھنے میں مدد دے سکے ، قرت کو جیسے کرنٹ لگا

” ہاتھ مت لگائیں “

اس کا ہاتھ جھٹکتے وہ اٹھنے لگی لیکن پائوں میں درد کی شدید لہر اٹھی وہ نیچے بیٹھ گئ ،عیسیٰ کا چہرہ سرخ ہوا

“میں صرف آپ کی مدد کرنا چاہ رہا تھا ، حالانکہ غلطی بھی آپ کی ہی تھی ، دیکھ کر چلنا چاہئے تھا محترمہ ” آواز میں شدید ناگواری سمٹ آئ ، سب کے سامنے اپنا ہاتھ جھٹکے جانے پر اسے شدید ہتک کا احساس ہوا تھا

” ضرورت نہیں ہے ” آواز ہلکی سی بھرا گئ ، اتنے لوگ اور وہ یوں نیچے بیٹھی ہوئ تھی ،ماریہ کہاں رہ گئ تھی ؟

” فائن ، بیٹھی رہو یہیں پر ۔۔”

شانے اچکاتے عیسیٰ واپس پلٹ گیا ، اسے کونسا ہمدردی کا دورہ پڑا تھا جو وہاں کھڑے ہوکر اس کی مدد کرنے لگ جاتا ،اس کی بلا سے وہیں بیٹھی رہے وہ ، غلطی خود کی تھی اور اس کا ہاتھ یوں جھٹکا تھا جیسے ۔۔۔ سر جھٹکتے اس نے اپنے اندر پنپتے غصے کو کم کرنا چاہا اور ایک نظر پیچھے ڈالی ، اس لڑکی کو کوئ دوسری لڑکی سہارا دے کر اٹھارہی تھی

” یا اللہ ، قرت دھیان۔۔۔”

اس نے چہرہ واپس موڑ لیا ، زین پتا نہیں کہاں مرگیا تھا ، اسے بلا کر خود کہیں غائب تھا

” تم ٹھیک ہو ؟” اسے سہارا دے کر اٹھاتی ماریہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی

” ٹھیک ہوں ، بس پائوں ہلکا سا مڑ گیا ہے ، تم پلیز اندر جا کر دیکھو میری تسبیح ۔۔”

” ریلیکس ، تم بیٹھو یہاں ، میں دیکھتی ہوں وہیں کہیں پڑی ہوگی “

قرت کو کینٹین کی پہلی ٹیبل پر بٹھا کر وہ آگے بڑھ گئ ، اس نے کہنی کو تھاما اور اس جگہ کی طرف دیکھا جہاں اس لڑکے سے ٹکر ہوئ تھی ، پتا نہیں کون تھا ، چہرہ ہلکا سا سرخ ہوا ، بے اختیار اپنی کلائ کو مسلا جہاں اس لڑکے نے ہاتھ لگایا تھا یوں جیسے اس کے لمس کو مٹانا چاہتی ہو

” یہ لو ، خواہ مخواہ پریشان ہورہی تھیں ، وہیں پڑی تھی “

ماریہ نے تسبیح اس کی طرف بڑھائ اور اس نے جھٹ سے تھام لی ، دل کو جیسے سکون سا نصیب ہوا تھا

” شکر اللہ ،”

” یا اللہ واقعی شکر ورنہ اس نے تو میری جان لے لینی تھی ” ماریہ نے ہاتھ چہرے پر پھیرا ، وہ ہلکا سا ہنس دی

” تمہارا شکر ادا کرنا بنتا بھی ہے ، “

وہ پائوں پر دبائو ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئ ، درد اب بھی تھا لیکن خیر تھی

” چل لو گی نا ؟”

” چل لو گی ، زیادہ چوٹ نہیں لگی ” ماریہ نے سر ہلادیا اور آہستہ آہستہ قدموں سے اس کے ساتھ چلنے لگی

” ویسے وہ لڑکا کون تھا جس سے ٹکر ہوئ ؟ لگ تو بہت ہینڈسم رہا تھا “

” پتا نہیں ، میں نے غور سے نہیں دیکھا ،”

” یا ربی ، میری ٹکر ہوتی اس سے کاش ، کیا سین ہوتا نا ، پتا ہے جب وہ جارہا تھا تو کتنی لڑکیاں گھو رہی تھیں اسے “

ماریہ اس لڑکے کے بارے میں کچھ اور بھی کہہ رہی تھی لیکن اس کا دھیان کہیں اور تھا سو وہ غور سے نہیں سن رہی تھی