Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 23)
Nahal By Fatima Noor
چار سال بعد !
دروازے کی طرف بار بار دیکھتے وہ اپنے خشک حلق کو تر کرنے کی کوشش میں مصروف تھا ٫ چہرہ زرد پڑ چکا تھا ٫ سامنے کھڑے مینیجر اور اردگرد کام کرتے سٹاف کی طنزیہ اور کھاجانے والی نظروں سے بے نیاز اسے اس وقت فکر کمپنی کے مالک کی طرف سے آنے والے رئیکشن کی تھی ٫ جرم چھوٹا نہیں تھا ٫ سزا بھی چھوٹی نا ملتی ٫وہ واقف تھا
دفعتاً دروازہ کھلا اور سیاہ پینٹ پر سفید شرٹ پہنے اس کا باس میٹنگ روم سے باہر نکلا ٫ دائیں ہاتھ میں برینڈڈ واچ پہنے موبائل اٹھا رکھا تھا جس پر وہ کچھ ٹائپ کررہا تھا سر جھکا ہوا تھا ٫ بایاں ہاتھ جیب میں تھا ٫ اس کے ساتھ چلتا مینیجر ناگواری سے کچھ کہہ رہا تھا ٫ وہ قریب آئے تو بظاہر کام میں مصروف سارے سٹاف نے نظر اٹھائ
” سر ۔۔۔۔” وہ بجلی کی سی تیزی سے اس تک پہنچا اور ہاتھ جوڑے ” مجھے معاف کردیں ٫ بخدا میں بہک گیا تھا ٫ لالچ میں آگیا تھا مجھے معاف کردیں “
جیب میں ہاتھ ڈالے عیسیٰ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ٫ پھر مینجر کو
” یہ ہاشم ہے سر ٫ فائنانس ڈیپارٹمنٹ سے ٫ جس کے بارے میں ابھی میں بتارہا تھا “
وہ جلدی جلدی وضاحت دینے لگا ٫ عیسیٰ نے ابرو اچکاتے موبائل جیب میں ڈالا
” سات کروڑ ؟ رائٹ؟”
” سر معاف کردیں ٫ میں آئندہ ایسی حرکت نہیں کروں گا “
” آئندہ افس میں رہو گے تو کروگے نا “
مینجر غرایا ٫ جبکہ سامنے کھڑے ہاشم نے ڈھیروں تھوک نگلتے عیسیٰ کو دیکھا وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے ہی دیکھ رہا تھا
” آپ مجھے جاب سے نکالنا چاہتے ہیں تو نکال دیں سر ٫ آپ برحق ہیں لیکن پلیز مجھے معاف کردیں “
عیسیٰ نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ایک نظر مینیجر پر ڈالی
” اس کا ٹرمنیشن لیٹر اسے تھمادیں ٫ اور پولیس کو کال کرکے گرفتاری کرنے کا کہیں اسے ٫ آئندہ مجھے اپنے آفس کے آس پاس بھی یہ نظر نہیں آنا چاہئے “
وہ سختی سے کہتا اپنے آفس کی طرف بڑھ گیا ٫ پیچھے ہاشم زور زور سے چلا کر اپنی صفائ پیش کرنے لگا لیکن اس کی آواز ہال میں دب گئ
عیسیٰ دروازہ بند کرتا اپنے آفس میں آیا اور موبائل ٹیبل پر پٹخا
” مجھے ایک ایک روپے کی تفصیل چاہئے منور صاحب ٫ اس سے زیادہ اس سے یہ اگلوائیں کہ اس نے کون کون سی معلومات آفندیز کو دی ہیں “
دروازے سے اندر داخل ہوتے منور صاحب نے سر ہلاکر عیسیٰ کو دیکھا ٫ وہ کرسی پر بیٹھتا لیپ ٹاپ کھول رہا تھا
” میرا نہیں خیال اس نے کچھ ایسی معلومات دی ہوں گی جو ہمارے لئے نقصان دہ ہوں سر ٫ اس کی پہنچ صرف فائنانس تک تھی اور اس نے اسی بات کا فائدہ اٹھایا ہے”
” اس قدر لاپرواہی پر آپ کو بھی ٹرمینیٹ کردیتا میں اگر آپ پر اعتماد نا ہوتا مجھے ” کڑی نظر ان پر ڈالی ” بہر حال اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ سب کچھ اگل دے ٫ اور کم ازکم اسے باقی سب کیلئے عبرت بننا چاہئے “
وہ لیپ ٹاپ کھول چکا تھا ٫ منور صاحب سر ہلاکر کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہے
” مزید کچھ کہنا ہے آپ نے ؟”
وہ لیپ ٹاپ پر مصروف تھا اسی طرح نظر جھکائے پوچھا
” آپ نے لاہور پراجیکٹ سے نام واپس لے لیا ہے ؟”
” کوئ اعتراض ؟”
” نو سر ٫ لیکن میں صرف وجہ جاننا چاہتا تھا ٫ کیونکہ مجھے امید تھی کہ یہ پراجیکٹ ہمیں ہی ملے گا اور آپ خود بہت پر امید تھے پھر اچانک یہ فیصلہ ؟”
” بعض فیصلے وقتی طور پر نقصان دہ لگتے ہیں منور صاحب لیکن ان کی افادیت دیر سے پتا چلتی ہے ٫ آپ انتظار کریں “
منور صاحب تذبذب سے اسے دیکھنے لگے ٫ پچھلے چار سال سے جب سے عیسیٰ نے بزنس جوائن کیا تھا اور پچھلے ڈیڑھ سال سے جب سے اس نے سارا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لیا تھا وہ اس کی ذہانت اور سمجھ بوجھ کے قائل ہوگئے تھے ٫ وہ حیات صاحب کا بیٹا تھا اور بزنس میں ان سے زیادہ بہتر ثابت ہوا تھا ٫ لیکن کل جب انہیں لاہور پراجیکٹ سے کمپنی کے نام ہٹائے جانے کی اطلاع ملی تھی وہ ٹھٹھک گئے تھے ٫ یہ پراجیکٹ بزنس حلقوں میں اہم ترین پراجیکٹ تصور کیا جارہا تھا اور انہیں عیسیٰ سے یہ توقع نہیں تھی ٫ وہ بھی اس صورت میں جب انہیں امید تھی کہ یہ پراجیکٹ ان کو ہی ملے گا
” وہ بہت اہم پراجیکٹ تھا سر “
” جانتا ہوں …” اس نے بنا سر اٹھائے جواب دیا ” کم ازکم بھی ہمیں اپنا آدھے سے زیادہ بجٹ دینا پڑتا اس پراجیکٹ کیلئے ٫ پرافٹ اس سے کئ گنا زیادہ تھا ٫ لیکن بہرحال اب کیا کرسکتے ہیں”
وہ بے نیاز تھا ٫ اور یہ چیز منور صاحب سے ہضم نہیں ہوئ وہ بزنس کو لے کر اتنا لاپرواہ کبھی نہیں رہا تھا ٫ باہر سے کسی نے دروازہ ناک کیا تو عیسیٰ کے ” یس ” کہنے پر ان کی نظر دروازے پر گئ
” سر ٫ پولیس آچکی ہے “
ملازم اندر آتا مئودب سا گویا ہوا
” آپ دیکھ لیں منور صاحب ٫ اس بات کو یقینی بنایئے گا کہ یہ شخص جتنی سزا کا حقدار ہے وہ اسے ضرور ملے “
منور صاحب سر ہلاتے باہر کی طرف بڑھ گئے انہیں ابھی ہاشم کی سب کے سامنے اچھی خاصی بعزتی کرنی تھی اور پھر اسے پولیس کے حوالے کرنا تھا ٫ پیچھے بیٹھے عیسیٰ کے چہرے پر اب بھی سنجیدگی سے سوا کوئ تاثر نہیں تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°
نیچے آئو تو شیشے کا دروازہ دھکیل کر زین اندر داخل ہورہا تھا ٫ لابی سے گزرتے ہوئے اس کی نظر پولیس پر پڑی ٫ حیرانی سے ابرو اچکاتے وہ ریسپشن تک آیا ، سامنے ریسیپشنسٹ کمپیوٹر پر مصروف تھی
” ہیلو مس افشاں کیسی ہیں ؟”
ریسیپشنسٹ چونکی پھر زین کو دیکھ کر پروفیشنل سا مسکرائ
” فائن سر ، آپ کیسے ہیں ؟”
” ٹھیک ٹھاک ” وہ دونوں کہنیاں میز پر رکھے آگے کو ہوا “پولیس کیوں آئ تھی ؟”
” فائنانس ڈیپارٹمنٹ سے ہاشم صاحب فراڈ کررہے تھے ٫ تقریبا سات آٹھ کروڑ کا گھپلہ کیا ہے انہوں نے اور کمپنی کی اہم معلومات بھی ادھر اُدھر کی ہیں ٫ انہیں اریسٹ کرنے آئ تھی “
اسے جتنا کچھ معلوم تھا بتادیا ٫ زین نے سر ہلایا
” تمہارا باس آفس میں ہے ؟”
” جی سر ! “
” اوکے ۔۔” وہ آگے بڑھنے لگا
” سر ، بات سنیں “
” سنائیں ” زین رکا
” عیسیٰ سر نے منع کیا تھا کہ کوئ انہیں ڈسٹرب نا کرے “
” اس کوئ میں ،” میں” نہیں آتا ” وہ پھر آگے بڑھنے لگا
” سر پلیز وہ ڈانٹیں گے ” اس کے لہجے میں منت ابھری
” کیا ہے بھئ ،” وہ جھنجھلایا ” تم ایسا کرو اسے کال کرکے پوچھ لو ” وہ جیسے بادل نخواستہ رکا ہوا تھا
” یہ ٹھیک ہے ” وہ فورا کریڈل کی طرف بڑھی اور کال ملائی ایک نظر سامنے کھڑے زین پر ڈالی
” گڈ آفٹر نون سر !” کال اٹینڈ کرلی گئ تھی
” سر زین فیاض آئے ہیں ، آپ سے ملنا چاہ رہے تھے “
” آر یو شیور سر ؟ “
” آاا۔۔۔۔۔جی جی ” اس نے گڑبڑا کر کریڈل رکھا اور پھر زین کو دیکھا
” ہوگئ تسلی اب میں جائوں ؟” اس نے قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ پیچھے سے آواز آئ
” سر کہہ رہے تھے کہ آپ کو واپس بھیج دوں “
وہ رکا ، گھوما اور افشاں کو دیکھا
” اس نے یہ کہا ہے ؟”
” جی جی “
” اس نے واقعی یہی کہا ہے ؟”
افشاں نے تھوک نگلا
” وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کو دھکے دے کر باہر نکال دوں “
زین کا منہ کھلا ، پھر چہرے پر سرخی دوڑی
” اس کی تو ۔۔۔”
دانت چبا کر افشاں کو گھورا ، پھر اردگرد دیکھا ، سامنے لفٹ کھلی تھی اور کوئ باہر آیا تھا زین تیر کی تیزی سے آگے بڑھا اور لفٹ میں داخل ہوا
” سر !” افشاں پیچھے ہکا بکا سی رہ گئ
لفٹ آخری فلور پہ رکی تو وہ باہر نکلا ،، تیزی سے آگے بڑھتے زور سے عیسیٰ کے آفس کا دروازہ کھولا اور ٹھا کرکے بند کیا
کرسی پہ بیٹھے لیپ ٹاپ پہ کچھ ٹائپ کرتے عیسیٰ نے چونک کر سر اٹھایا ، سامنے زین کھڑا تھا سرخ چہرہ لئے اسے گھورتا ہوا ، اس کے پیچھے افشاں ہانپتی کانپتی ہوئ آئ
” سوری سر ، میں نے روکا بھی تھا انہیں “
” اٹس اوکے افشاں جائیں آپ ” اس نے سکون سے کہتے ہوئے اسے جانے کا کہا اور پیچھے کو ہو کر ٹیک لگالی
” کیسے ہو زین ؟”
” یہ کیا بکواس کی ہے اس سے ؟”
افشاں واپس چلی گئ تو وہ آگے کو ہوکر دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے جھکا
” یہی کہ تمہیں دھکے دے کر باہر نکال دے “
زین کے چہرے پہ سرخی دوڑی
” میں ناراض بھی ہوسکتا ہوں اس بات پر “
” شوق سے ہوجائو ۔۔مجھے کوئ اعتراض نہیں ہے ” وہ ہنوز پر سکون تھا ، سفید شرٹ کے بازوں فولڈ کر رکھے تھے ، شیو ہلکی سی بڑھی ہوئ تھی چہرہ سنجیدہ مگر پرسکون لگتا تھا ٫ زین چند لمحے اسے گھورے گیا پھر ہنہہ کرتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھا
” اتنی سی بات پر ناراض ہوجایا کرتا تو ہماری دوستی اب تک ٹوٹ چکی ہوتی “
” یہاں آنے کی وجہ ؟”
” یہ بکواس کرنے کی وجہ ؟”
” گو سوال پہلے میرا تھا لیکن جواب بھی میں ہی دے دیتا ہوں ، مام سے میرے اور صوفیہ کے متعلق کیا کہا ہے تم نے ؟” زین نے کان کھجایا
” میں نے تو کچھ نہیں کہا “
” واللہ یہ معصومیت ” وہ سر جھٹکتے ہوئے اٹھا اور کافی مشین کی طرف بڑھا
” اچھا نا یار ، وہ مجھ سے ہر دوسرے دن پوچھتی ہیں کہ عیسیٰ اور صوفیہ کے بیچ کوئ ریلیشن ہے کیا ، میں نے کہہ دیا کہ وہ دوست ہیں، انہوں نے کچھ غلط سمجھ لیا تو میرا تو کوئ قصور نہیں ہے “
” یہ کہنے کی بھی کیا ضرورت تھی ؟”
وہ پیچھے مڑے بغیر بولا ، کافی نکالی واپس اپنی چیئر کی طرف آیا اور اسے گھورا ” اب وہ مجھ پر زور ڈال رہی ہیں کہ صوفیہ کے بارے میں سریس ہو کر سوچوں “
” ہاں تو سوچ لو ، شکریہ ” اس نے کافی لینے کیلئے ہاتھ بڑھایا ، عیسیٰ نے فورا کپ پیچھے کیا
” خود جاکر نکال لو ، نوکر نہیں ہوں تمہارا “
” بے مروت آدمی ” وہ بڑبڑاتے ہوئے اٹھا ،کپ اٹھایا اور بٹن پریس کیا
” چائے نہیں منگواسکتے ؟ زہر لگتی ہے مجھے یہ کڑوی کسیلی کافی “
” کم از کم میرے آفس میں تمہیں چائے کا نہیں پوچھنا چاہئے ، میں حیران ہوں کہ دودھ اور پتی سے بنے ایک کپ میں ایسا کیا ہے کہ اسے پیا جائے ، ” عیسیٰ حیات کی دنیا میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ شے چائے تھی
“میں تمہیں دودھ اور پتی سے بنے اس ایک کپ کے کئ فائدے بتا سکتا ہوں ، جن میں سر فہرست یہ ہے کہ چائے پینے والوں کی زبان کافی پینے والوں کی نسبت زیادہ میٹھی ہوتی ہے ٫ خود کو دیکھ لو کس قدر کڑوی زبان ہے تمہاری “
” واٹ ایور ” اس نے سر جھٹکا ” اب تمہارے یہاں آنے کی وجہ بھی بک چکو ، مجھے بہت کام کرنے ہیں “
زین واپس آیا تو وہ لیپ ٹاپ دوبارہ کھول چکا تھا
” ایک وقت تھا جب تم ہمارے ساتھ اسلام آباد کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے تھے “
” ایک وقت وہ بھی تھا جب تم سی ایس ایس کے اگزیم کی تیاری کررہے تھے “
” نا چھیڑو ہمیں ہم ستائے ہوئے ہیں ” وہ کراہا ” کچھ دن بعد رزلٹ ہے اور میری سانسیں آہستہ آہستہ چل رہی ہیں ، اگر میں اس بار بھی فیل ہوا تو میں اس غم سے موو آن کیسے کروں گا ؟” عیسیٰ نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا پھر دوبارہ سے سکرین کی طرف متوجہ ہوگیا
” لیکن اب سوچ رہا ہوں کہ مووآن کی تیاری پہلے سے ہی کرلوں ، جب دومرتبہ کوئ چیز نہیں مل رہی تو تیسری مرتبہ اسے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے “
” بالکل “
” اس لئے میں اگلی مرتبہ امتحان نہیں دوں گا “
” بہت اچھے “
” اور ناکام ہونے کی صورت میں ، میں ڈیڈ کا بزنس جوائن کرنا چاہتا ہوں “
” گڈ “
زین آگے کو ہوا اور کھنکارا
” تو کیا تم ان سے بات کرسکتے ہو ؟” عیسیٰ کا سر بے اختیار اٹھا
” کس سلسلے میں؟”
” دیکھو بھائ تم تو جانتے ہو میرے دو بھائ اور بھی ہیں ، اکلوتا ہوتا تو تمہاری طرح باس کی کرسی پہ بیٹھا ہوتا لیکن مسئلہ ہی یہی ہے میرے بھائ پہلے ہی بزنس سنبھال رہے ہیں ، اور ان دو بھائیوں اور ڈیڈ کو لگتا ہے کہ میرے جیسا “ان کی نظر میں ٫” میرے جیسا لاپرواہ انسان بزنس نہیں سنبھال سکتا “
” صحیح لگتا ہے “
” تو میں چاہتا ہوں کہ تم انہیں یقین دلائو کہ ایسا نہیں ہے اور بتائو کہ میں کس قدر ذمہ دار انسان ہوں ، کیونکہ میرے ڈیڈ مجھ سے زیادہ تمہیں پسند کرتے ہیں ” اس نے جیسے عیسیٰ کا طنز نظر انداز کیا تھا ” اتنا تو تم اتنا تو کرہی سکتے ہو ،آخر دوست ہوں تمہارا” عیسیٰ کے لبوں پہ محظوظ کن مسکراہٹ ابھری
” تو تم یہاں اس لئے آئے ہو تا کہ میں تمہارے ڈیڈ سے تمہاری سفارش کروں ؟” وہ کرسی پہ پیچھے کو ٹیک لگائے محظوظ سا مسکرارہا تھا
” بالکل “
“اور میں ایسا کیوں کروں گا جبکہ تم میرے ماں باپ کے جاسوس بنے پھرتے ہو ؟”
” افسوس ہے تم پر عیسیٰ ، میں نے کب تمہاری جاسوسی کی ؟” اس نے تاسف سے سرہلایا
” یاد کروائوں ؟”
” ماضی میں جینے کا کوئ فائدہ نہیں “
” یہ کل کی ہی بات ہے “
” کل کا دن بھی ماضی میں ہی آتا ہے “
” میں ماضی میں جینے کو برا نہیں سمجھتا “
” کیونکہ تم ابھی تک ماضی میں ہی ہو ” لمحے بھر کو آفس میں خاموشی چھا گئ ، عیسیٰ کی مسکراہٹ غائب ہوئ، پھر وہ آگے کو ہوا اور لیپ ٹاپ سامنے کیا
” میرا خیال ہے تم ناکام ہونے پر ایک بار پھر ٹرائے کرلینا سی ایس ایس کے لئے ، اگلی بار ناکام ہوگئے تو پھر آگے کا سوچنا “
” میرا باپ مجھے گھر سے نکال دے گا ایک بار مزید فیل ہونے پر “
” تب میں سفارش کرنے کیلئے تیار ہوں ، لیکن تمہیں میرے کہنے پر ایک بار مزید کوشش کرنی ہوگی ، اور ویسے بھی ابھی رزلٹ نہیں آیا ، جب آئے گا تب سوچ لینا “
” کیوں بے گھر کرنا چاہتے ہو مجھے، ڈیڈ نے اس بار کچھ کہا تو میں خود کشی کرلوں گا “
وہ جھنجھلایا
” زین فیاض جانتے ہو تم ناکام کیوں ہوتے ہو ؟” وہ آگے کو ہوا اور سنجیدگی سے اسے دیکھا ” کیونکہ تم جو کوشش کرتے ہو وہ کافی نہیں ہے ، تم چند دن پڑھتے ہو اور پھر آوارہ گردی کرتے ہو ، چند دن مزید پڑھتے ہو پھر وہی روٹین ، اس طرح تمہیں لگتا ہے تم سی ایس ایس کلیئر کرلوگے ؟”
” میں محنت کرتا ہوں ” وہ خفا ہوا
” اسے محنت نہیں کہتے “
” اسے ذلالت کہتے ہیں ، اور میں مزید ذلیل نہیں ہونا چاہتا ” وہ اٹھ کھڑا ہوا ، ٹیبل پر رکھا کپ اٹھایا اور دروازے تک گیا
” تم دوبارہ اگزیم دے رہے ہو زین “
” جائو یارر ” اسے نے بے زاری سے ہاتھ جھلایا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا ، عیسیٰ نے سر جھٹکتے ہوئے توجہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف کرلی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
جواد کریم نے اس سے اس لئے شادی نہیں کی تھی کیونکہ وہ اس سے محبت کرتا تھا ٫ اس لئے بھی نہیں کہ وہ خوبصورت تھی٫ کم از کم یہ زعم اسے نہیں تھا ٫ ٫ گزرے برسوں میں وہ اس ایک سوال کا جواب نہیں جان پائ تھی کہ جواد نے اس سے شادی کیوں کی تھی ؟ اگر اسے اذیت دینے کیلئے تو وہ اس مقصد میں کامیاب ٹھہرا تھا ٫ اسے تکلیف دینے کیلئے ٫ تو اس کے پاس کچھ باقی نہیں رہا تھا ٫ اگر وہ اس کی ماں کی خواہش تھی تو وہ ان کے گھر کی نوکرانی بن کر رہی تھی ٫ گزرے برسوں میں اس نے ہر ایک امکان پر غور کیا تھا جو اسے یہ بتاسکتا کہ وہ جواد کی زندگی میں کیوں آئ تھی ؟
جواد نے اسے جس حال میں بھی رکھا وہ راضی رہی ٫ وہ سارا دن اپنی ساس سے بیٹی پیدا کرنے کے طعنے سنتی ٫ شوہر سے نالائق پن کے اور نندوں سے غربت کے ٫ اس نے کبھی احتجاج نہیں کیا
شادی کے چار سال بعد اس نے پہلی بار تب احتجاج کیا جب اس نے اپنے شوہر کی دوسری شادی کی بات سنی
” اگر دوسری شادی کرنی تھی تو مجھ سے کیوں شادی کی؟”
کئ دن پریشان رہنے ٫ رونے دھونے کے بالآخر وہ ٹوٹی ہمت کے ساتھ اپنی ڈھائ سالہ بیٹی کو اٹھائے اس کے سامنے آکھڑی ہوئ
” جب تم سے شادی کی تب دوسری شادی کا خیال نہیں آیا تھا “
وہ آئینے میں دیکھ کر بال بناتا اپنے ازلی بے نیاز انداز میں کہنے لگا
” اب کیوں آگیا ہے پھر ؟”
” مجھے بیٹا چاہئے “
یہ چیز اس کے منہ پر تازیانہ بن کے لگی تھی
” کم از کم یہ تاویل مت دو ٫تم بھی جانتے اور میں بھی کہ یہ جھوٹ ہے “
” اور سچ کیا ہے ؟”
وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا ٫ چہرہ سپاٹ تھا
” ساری دنیا میں اگر اس ایک عورت کے علاوہ کسی کا بھی نام لیتے تو میں کچھ نا کہتی ٫ لیکن اس ایک عورت کی وجہ سے تم دوسری شادی کرنا چاہتے ہو اس کی وجہ بیٹا نہیں ہے “
جواد کے لبوں پہ تمسخر بھری مسکراہٹ ابھری
” میں تو تمہیں بیوقوف سمجھتا تھا “
” غلط سمجھتے تھے ٫ میری بات یاد رکھنا میں تمہیں اتنی آسانی سے دوسری شادی نہیں کرنے دوں گی “
جانے اتنی ہمت وہ کہاں سے لے آئ
” کیا کروگی ؟”
چیلنجنگ انداز
” میں۔۔۔۔میں خلع کا کیس دائر کردوں گی ٫ ساری زندگی تم اپنی بیٹی کی شکل دیکھنے کو ترسو گے “
دھمکی بہت بڑی تھی لیکن اس نے دے دی ٫ مقابل کو جیسے فرق ہی نہیں پڑا تھا ٫ اس کے قہقہے پر اس کا چہرہ دھواں دھواں ہوا
” بخدا بہت اچھا مذاق ہے ۔۔۔تم اور خلع لوگی ؟ ڈیئر زوجہ محترمہ میں تمہارا یہ شوق بھی پورا کردیتا ہوں ٫ اپنا سامان باندھو اور دفعہ ہوجائو میرے گھر سے ٫ چاہو تو اپنی بیٹی کو بھی ساتھ لے جائو ٫ تمہیں طلاق تمہارے گھر بھجوادوں گا ٫ یا خود آکر تمہارے باپ کے سامنے دوں گا “
چبا چبا کرکہتے وہ کمرے سے نکل گیا ٫ اور پیچھے کھڑی وہ تو اس کے قدموں سے اس لمحے زمین سرک گئ تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تھکے تھکے انداز سے وہ لائونج میں داخل ہوا تو شہوار سامنے ہی بیٹھی تھیں ، کسی میگزین کی ورق گردانی کرتے ہوئے وہ یقینا اسی کا انتظار کررہی تھیں ، اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اٹھیں
” تھک گئے ہو ؟ “
” جی ۔۔” اس نے کوٹ ٹیبل پر پھینکا اور دھڑام سے صوفے پر گرا
” ریسٹ کرلو جاکر “
” ٹھیک ہوں مام ، ڈیڈ کہاں ہیں ؟”
” سٹڈی میں “
” آفس نہیں آئے آج ؟”
” طبیعت خراب تھی ” اس نے اٹھ کر ملازمہ سے گلاس لیا اور شہوار کو دیکھا
” آپ کو کچھ کہنا ہے ؟” وہ پانی پیتے ہوئے پوچھ رہا تھا ، شہوار نے غور سے اسے دیکھا ، پچھلے چار سالوں میں انہوں نے اسے حیران کن طور پر تبدیل ہوتا دیکھا تھا ، لا ابالی پن کی جگہ اب سنجیدگی نے لے لی تھی ، اس نے حیات کے ساتھ بزنس سنبھالنا شروع کردیا اور پھر آہستہ آہستہ مکمل بزنس اپنے ہاتھ میں لے لیا ، حیات اب کبھی کبھی آفس جاتے تھے ، اس نے دوستوں کے ساتھ ملنا تقریباً بند کردیا تھا ، ظاہری طور پر بھی کافی بدل گیا تھا ، ماتھے پر بکھرے رہنے والے بال اب پیچھے کی طرف سیٹ کررکھے تھے ، چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی آگئ تھی جو اس پہ بہت اچھی لگتی تھی ، ہر طرح کا لباس پہن لینے والا عیسیٰ اب سوٹس پینے لگا تھا ، وہ تبدیلیاں اچھی ہونے کے باوجود شہوار کو ان کے پیچھے کی وجہ سوگوار کردیتی تھی
” صوفیہ آئ تھی آج “
اس نے گلاس دھیرے سے ٹیبل پر رکھ دیا
” اوکے ؟”
” تم دونوں نے ڈنر پر جانا تھا “
” یہ اس کا پلین تھا مام “
” عیسیٰ تم کب تک ایسے رہو گے ؟”
” ایسے مطلب ؟”
” ایسے مطلب اکیلے، انتیس کے ہوچکے ہو ٫شادی کب کروگے ؟”
” میرا نہیں خیال انتیس سالہ شخص بوڑھا ہوتا ہے ” وہ ہلکا سا مسکرایا
” یہی حال رہا تھا تو تم بوڑھے ہو کر بھی کنوارے رہو گے ، آخر کب تم قرت کی یاد کو سینے سے لگا کر رہو گے ؟”
انہیں اس کا ذکر نہیں کرنا چاہئے تھا ، اس کے اندر تک تکلیف اٹھی
” میں مووآن کرچکا ہوں “
” تم خود سے بھی جھوٹ بول رہے ہو اور مجھ سے بھی “
وہ خاموش رہا پھر کوٹ اٹھاتے ہوئے دھیرے سے اٹھا
” میں چینج کرلوں ” شہوار نے دکھ سے اسے دیکھا
” عیسیٰ ۔۔”
” ہم بعد میں بات کریں گے مام “
وہ نظریں چرائے اوپر کی طرف بڑھ گیا اور شہوار اسے صرف دیکھ کررہ گئیں
اوپر آکر اس نے چینج نہیں کیا ٫کوٹ بیڈ پر رکھا اور بالکونی کی طرف بڑھ گیا ٫ کچھ دیر ریلنگ پر ہاتھ رکھے باہر دیکھتا رہا
اندر باہر پھر سے کچھ بھر گیا تھا ، مام ہر بار اس ذکر کو چھیڑ کر اسے جانے انجانے میں اذیت دے دیتی تھیں ، گہری سانس لے کر وہ واپس کمرے میں آیا، وارڈروب کی طرف گیا ، اندر کا لاکر کھولا ، سامنے سفید ادھوری تسبیح پڑی تھی ، عیسیٰ نے اسے اٹھایا
قرت کی یاد آج بھی اس کے ساتھ تھی ، اس ادھوری تسبیح کی مانند ٫ وہ آج بھی اسے نہیں بھول پایا تھا ٫ زندگی مکمل بدل گئ تھی اگر کچھ نہیں بدلا تھا تو اس کا دل جو آج بھی قرۃ العین سے محبت کرتا تھا ٫ جو آج بھی اس کا خیال آنے پر بے چین ہوجاتا تھا ٫ سر اٹھا کر اس نے خالی کمرے کو دیکھا ٫ وحشت اور تنہائ۔ یہ دو چیزیں اس کی زندگی میں ٹھہر گئ تھیں اور ان میں اضافہ اس کی کے ذہن میں آنے والا ایک خیال کرتا تھا
اگر قرت اسے بھول گئ ہوئ تو ؟ اگر اس نے کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرلیا ہوا تو ؟ وہ جس امید کے ساتھ اب تک اس ٹوٹی تسبیح کو سنبھالے ہوئے تھا اگر وہ امید ختم ہوچکی ہو ؟
اس نے تسبیح واپس رکھ دی ٫ یہ سوال اس کے دل کیلئے موت سے کم تھا ، اس کا سچ ہونا موت سے زیادہ تھا
