Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 33)

Nahal By Fatima Noor 

اس دن وہ مدرسے چلی گئ ، ٹیچرز سے سلام دعا کی بچیوں سے ملی اور کچھ دیر وہیں رہی

” ہم آپ کو یاد کرتی ہیں باجی جان ” منتہیٰ باقاعدہ رونا شروع ہوگئ تھی

” جی باجی جان کیونکہ نئ باجی ڈنڈے سے مارتی ہیں ” زہرہ کی زبان پھسلی تو منتہیٰ گڑبڑا گئ اور وہ ہلکا سا ہنس دی

” جس کی قدر نا ہو وہ چھن جاتا ہے “

پیار سے انہیں تنبیہہ کی

” اب ہوگئ ہے نا قدر ، آپ واپس آجائیں “

وہ شوں شوں کرنے لگی

” باجی جان کی شادی ہوگئ ہے “

اس نے بڑی مشکل سے سب سے جانے کی اجازت لی ، واپسی پر ابوبکر لینے آگیا تھا ، گھر میں داخل ہوتے ہی بیٹھک کے کھلے دروازے سے داخل ہوتے سب سے پہلی نظر ماریہ پر پڑی ، عبایا میں ملبوس اپنی امی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ، اس کے قدموں کی رفتار سست ہوئ ، بیٹھک میں صرف وہی نہیں تھی ، تایا تائ ، چچی ،چچا اور پھپھو بھی تھیں ، نظر گھر کے اندرونی دروازے کی طرف گئ ، دروازے سے ٹیک لگائے جواد بھی وہیں تھا

” السلام علیکم”

اس کے سلام پر سب کی نظریں اٹھیں ، وہ سستی سے چلتی صوفے تک آئ ، کیا چار سال پہلے لگنے والی عدالت ایک بار پھر سجائ گئ تھی ؟

” وعلیکم السلام بیٹا ، بیٹھو ،ماریہ کہہ رہی تھی کہ تم سے کچھ بات کرنی ہے “

اس کی نظر ماریہ پھر جواد پر گئ ، نعمان صاحب کے ساتھ جگہ خالی تھی وہ وہیں بیٹھ گئ ، دل کی رفتار آہستہ ہونے لگی ، کیا پھر وہی سب ؟ اب اس کے اندر ہمت نہیں تھی ، اب کی بار وہ اپنے وجود کے ٹوٹے بکھرے حصے نہیں سنبھال پائے گی

” مجھے تم سے معافی مانگنی تھی قرت “

ماریہ کی آواز پر سوچوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا ، وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ، نم آنکھوں میں بہت سی شرمندگی لئے

” کس چیز کی معافی ؟”

” تم یوں کہو کس کس چیز کی معافی ، میں یوں کہتی ہوں ہر چیز کی معافی ، ہر قصور کی معافی ، تم معاف نا بھی کرو تب بھی میں تم سے معافی مانگتی رہوں گی ، حقوق العباد کا معاملہ ہے تم معاف نہیں کروگی تو اللہ بھی معاف نہیں کرے گا “

” صاف صاف بتائو ماریہ ، کس چیز کی معافی مانگ رہی ہو ؟”

پھپھو کے ماتھے پر بل پڑے ، اچھا خاصہ وہ سارے بہن بھائیوں کو اکٹھا کرکے نعمان صاحب کی خیریت پوچھنے آئ تھیں اور یہ ڈرامہ شروع ہوگیا

” اس قصور کی معافی جو چار سال پہلے مجھ سے ہوا تھا ۔۔۔۔”

” مجھے نا ہی کسی معافی کی ضرورت ہے نا میں معاف کرنا چاہتی ہوں ، یہاں سے چلی جائو ماریہ “

وہ اٹھ گئ ،یہ سب صحیح نہیں تھا ، یہ سب نہیں ہونا چاہئے ، اب نہیں ، اب تو فرق ہی نہیں پڑتا تھا کہ وہ بے گناہ ثابت ہوجائے ، فرق پڑتا تھا تو مزید گناہگار بننے سے

” لیکن مجھے ہے قرت ۔۔۔۔” وہ اٹھ کر اس کے راستے میں آ گئ ، قرت رک گئ ” میرے ضمیر پر بہت بوجھ ہے ، اتنا کہ تم سوچ نہیں سکتیں ، تم معاف کردو تو شاید یہ بوجھ ہلکا ہوجائے “

وہ بس خاموشی سے اسے دیکھے گئ ، اسے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی ، وہ خود اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے جارہی تھی

” ماریہ ، ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے ، تم جائو یہاں سے “

” نہیں ، جو غلطی سب کے سامنے کی تھی اسے تنہائ میں نہیں درست کرنا مجھے ، تم پر بہتان سب کے سامنے لگایا تھا تو معافی بھی سب کے سامنے مانگوں گی “

اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کئے

” کچھ بتا بھی دو اب، کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے یہ ؟”

جواد اکتا گیا

” جو ڈرامہ چار سال پہلے شروع ہوا تھا یہ اس کا اختتام ہے جواد کریم “

، قرت کا سر دھیرے سے نفی میں ہلا

” نہیں قرت ، آج بتانے دو ، آج ہمت کرہی لی ہے تو بتانے دو ، مجھ میں اب مزید ضمیر کی چبھن برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے “

اس کی آنکھوں میں التجا ابھری ، وہ یہ نا کرے ، یہ اس کیلئے کچھ ٹھیک نہیں کرے گا لیکن ماریہ کیلئے سب تباہ کردے گا ،لیکن ماریہ نے اسے نظر انداز کیا ، گہری زکام زدہ سانس لی اور مجمعے پر نظر ڈالی

” چار سال پہلے جو کچھ ہوا اس میں قرت کا قصور نہیں تھا ، تھا بھی تو بس اتنا کہ وہ میرے کہنے پر عیسیٰ سے ملنے گئ تھی “

” کیا مطلب ؟”

اس نے تایا کو دیکھا پھر جواد کو ، آخری سچ اور سب یا تو فنا ہوجاتا یا راکھ ، تیسری صورت نہیں تھی لیکن اسے اس چبھن سے چھٹکارا چاہئے تھا

” قرت بازار عیسیٰ سے ملنے نہیں گئ تھی ، اسے میں اپنے ساتھ لے کر گئ تھی اس بہانے سے کہ مجھے اپنی بھابھی کا عبایا لینا ہے ، یہ میں نے اور عیسیٰ نے طے کیا تھا ، وہ قرت سے آخری بار ملنا چاہتا تھا ، یہ ملاقات میں نے کروائ تھی ، قرت کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے سوچا وہ عیسیٰ کو آخری بار سمجھا دے گی ، وہ اسی لئے اس سے ملی تھی ، “

مجمعے میں سناٹا چھا گیا ، قرت صوفے پر بیٹھ گئ ، تائ جھٹکے سے کھڑی ہوئیں ، جواد کا ذہن سنسنا اٹھا

” یہ کیا بکواس ہے ؟”

” یہ سچ ہے جواد ، میں اس کے ساتھ تھی ، ساتھ والے کیبن میں ، میں نے تمہیں دیکھا تو ڈر گئ ، جب باہر نکلی تو بھائ نے دیکھ لیا ، میں نے خود کو بچانے کیلئے قرت پر الزام لگادیا ، وہ بے قصور تھی “

اس کی آواز بھاری ہونے لگی ، آنسو بولنے میں رکاوٹ تھے ، جواد جھٹکے سے آگے بڑھا اور اسے بازوں سے دبوچا

” اور تمہیں لگتا ہے میں اس خرافات پر یقین کرلوں گا ؟ چار سال بعد کون سا دورہ پڑا تمہیں جو اچانک آکر اس کی گواہ بن گی ہو ؟”

” ضمیر کی ملامت ہے ، وہی ضمیر جو تمہارے اندر سے مر گیا ہے “

اس نے سختی سے بازوں چھڑوایا

” ضمیر ” وہ طیش میں آیا ” یہ تب کہاں مر گیا تھا ؟”

” تب بھی زندہ تھا ، تم سے شادی کے بعد مر گیا تھا ، تم ایک ظالم انسان ہو جواد ، میں تب بھی یہی چاہتی تھی کہ قرت کی شادی تم سے نا ہو ، میں چاہتی تھی کہ عیسیٰ اور قرت مل جائیں ، تم ایک ایسے انسان تھے جسے میں اپنی دوست کیلئے بھی نہیں چاہتی تھی “

جواد کی آنکھوں میں خون اترا ، یہ اس کی تذلیل تھی ، بلقیس پریشانی سے اٹھیں

” اتنا ہی برا تھا تو شادی کیوں کی ؟ “

” نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔” وہ چلائ ، باقی سب پریشانی سے اٹھ کھڑے ہوئے ” میرے باپ اور بھائ نے مجبور کیا تھا ، بھائ کی غیرت اور باپ کی عزت کی پرواہ نا ہوتی تو کبھی تم سے شادی نا کرتی “

جواد کے ماتھے کی رگیں پھٹنے کوہوئیں ، آگے بڑھتے ماریہ کا بازوں دبوچا

” ایسی ہی بات ہے تو ختم کرتے ہیں یہ قصہ ، میں جواد کریم اپنے پورے ہوش وحواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “

دھماکہ پھٹنا شاید اسی ہی کہتے ہیں ، بیٹھک میں موجود ہر شخص کا چہرہ تاریک پڑا

” میں جواد کریم اپنے پورے ہوش وحواس ۔۔۔۔۔۔ “

” جواد۔۔۔۔۔۔ “

نعمان صاحب جھٹ آگے بڑھے اور اسے پیچھے دھکیلا ، اس کے باقی ماندہ الفاظ حلق میں رہ گئے ، ماریہ کی آنکھیں پھٹنے کو ہوئیں

” چھوڑیں چچا ، اس قصے کو ختم کرتے ہیں آج “

وہ غصے سے کھولتے دماغ سے دوبارہ ماریہ کی طرف بڑھا لیکن نعمان صاحب درمیان میں آ گئے

” غصہ مت غالب ہونے دو جواد ،خدا کی پناہ مانگو کہ تم خدا کی حدود توڑدو “

” میں نہیں برداشت کروں گا اسے مزید ، میں تمہیں ۔۔۔۔”

” خبردار ۔۔۔۔۔۔۔

” اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمۡسَاکٌۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِیۡحٌۢ بِاِحۡسَانٍ ؕ

طلاق دو مرتبہ ہے ،پھر یا تو اچھائ کے ساتھ روکنا ہے یا بھلائ کے ساتھ چھوڑ دینا ہے

(سورہ البقرہ: آیت نمبر 229 )”

وہ اسے تھامے بار بار یہی الفاظ دہرانے لگے ، ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ تھے یا کیا لمحہ بھر کو جواد تھم گیا ، ماتھے کی رگیں ہلکی ہوئیں

” وہ مت کرو جس پر پچھتانا پڑے ، اگر طلاق دینی ہی ہے تو شرعی طریقے سے دو “

وہ گہرے گہرے سانس لیتا ماریہ کو دیکھنے لگا جو اس طرح ٹھہری تھی گویا جان باقی نا ہو ، طلاق کی بات کرنا آسان تھا ، طلاق ملنا جان نکالنے جیسا تھا ، اس کے قدم لڑکھڑا گئے ،بلقیس فوراً آگے بڑھیں ، ان کا چہرہ سفید پڑرہا تھا

” بہن آپ جائیں یہاں سے ، بچی کو لے جائیں “

ماریہ سنبھلی ، ایک نظر قرت کو دیکھا ، پھر جواد کو اور انہی لڑکھڑاتے قدموں سے باہر کی طرف بڑھ گئ ، جواد کا غضب سے سرخ پڑتا چہرہ نارمل ہونے لگا ایک کاٹ دار نظر قرت پر ڈالی ، اور باہر کی طرف بڑھ گیا ، اس کی نظروں کی کاٹ تھی کہ وہ لمحے بھر کو منجمد رہ گئ ، حواس پہلے ہی شل ہونے کو تھے ، وہ اسی لئے چاہتی تھی ماریہ خاموش رہے ، اس کے ساتھ جو ہونا تھا ہوگیا لیکن اس کا اعتراف سب تباہ کردیتا اور سب تباہ ہوگیا تھا

” کیا ضرورت تھی یہ سب کہنے کی ؟ اتنے سالوں بعد گڑھے مردے اکھاڑے بھی تو وہ گلے پڑگئے “

قرت کی نظر تائ پر گئ ، وہ یوں پرسکون تھیں گویا کچھ ہوا ہی نا ہو

” گڑھے مردے کس کے گلے پڑے ہیں بھابھی ؟ اچھا ہوا جو سچ سامنے آگیا ، چار سال پہلے اسی جگہ میری بیٹی پر بہتان لگائے تھے آپ سب نے اب کیا کہیں گی ؟”

سعدیہ کسی کونے سے بولی تھیں اس نے مزید نہیں سنا ، شل ہوتے دماغ سے وہ اندر بڑھ گئ ، ماریہ کا اعتراف اس کیلئے کچھ نہیں کرسکتا تھا سوائے اس کے کہ اذیت پھر تازہ ہوگئ تھی ، سوائے اس کے کہ زخم جو بھررہے تھے پھر سے ہرے ہوگئے

معافی مانگنے والے کبھی کبھار بہت دیر کردیتے ہیں ، جب سامنے والے کو نا معافی کی ضرورت رہتی ہے نا معاف کرنے کی خواہش

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اوپن ایئر ریسٹورنٹ میں اس وقت خوب گہما گہمی تھی ، بزنس سے جڑے اہم افراد چند سیاسی شخصیات اور شوبز کے کچھ لوگ یہاں وہاں گھومتے نظر آرہے تھے

ایسے میں عیسیٰ ویٹر کے ہاتھ سے کولڈرنک لیتا نظر آرہا تھا ، بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس اس نے بال جیل سے پیچھے کو جما رکھے تھے ، چہرے پر ہلکی سی مسکان تھی اور وہ سامنے کھڑے عمار کی بات سن رہا تھا

” ہمیں سو فیصد یقین تھا کہ یہ ڈیل تم ہی لوگے عیسیٰ ، لیکن اس ایک مقام پر تم چوک گئے “

” ممکن ہے میں اس ایک مقام کو جان بوجھ کر چکایا ہو ” اس کے لہجے میں کچھ جتلاتا ہوا سا تھا کہ عمار چونک گیا

” تم نے یہ ڈیل خود جانے دی ؟”

” just wait for it Amaar “

اس نے کامران آفندی کو اپنی جانب آتے دیکھ لیا تھا سو بات سمیٹ دی

” عیسیٰ ، مجھے امید نہیں تھی کہ تم آئوگے ” مسکراتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا تو وہ بھی مسکرادیا

” مجھے اچھا لگتا ہے جب مجھ سے کوئ یہ کہے کہ ان کو مجھ سے اس کام کی توقع نہیں تھی حالانکہ میں وہ کام پہلے ہی کرچکا ہوتا ہوں “

کامران آفندی ہنسے ، وہ ساٹھ ستر کے قریب کے شخص تھے سر اور ہلکی داڑھی کے بال سفید تھے

” تم سے بات کرکے اچھا لگتا ہے لیکن افسوس کہ ملاقات بہت کم ہوتی ہے “

” مصروفیت ہی کچھ ایسی ہے ، آپ کی بھی اور میری بھی “

” اوہ تمہاری شادی کی خبر سنی تھی مبارک ہو “

” بہت شکریہ ، میں آپ کی آمد کا منتظر تھا ” اس نے گلاس ٹیبل پر رکھا اور ایک ہاتھ پاکٹ میں ڈالا

” مصروف تھا میں ، لاہور والا پراجیکٹ پر کام ہورہا ہے ، تم تو جانتے ہو کتنا بڑا پراجیکٹ ہے ، اسی میں بزی تھا ” اور وہاں کھڑے تینوں افراد جانتے تھے کہ انہوں نے یہ حوالہ جان بوجھ کر دیا تھا ، یہ وہی پراجیکٹ تھا جو عیسیٰ کی کمپنی نے نہیں لیا تھا

” ،i know , good wishes for you “

” شکریہ بچے ، حیات کہاں ہے آج کل ، نظر ہی نہیں آتا اب “

اب جانے وہ طنز تھا یا سچ میں وہ جاننا چاہ رہے تھے لیکن عیسیٰ کے چہرے پر اب کی بار سنجیدگی پھیلی

” ان کی طبیعت آج کل کچھ ڈائون چل رہی ہے “

” اوہ ، بہتری کی دعا ہے ، ایک وقت تھا جب حیات بزنس کی دنیا میں بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا تھا ، جس کانٹکریکٹ پر وہ ہاتھ رکھ دے سمجھو اس کا ہوا ، سوری عیسیٰ لیکن تم میں اپنے ڈیڈ والی بات نہیں ہے ” لمحہ بھر کو سب خاموش ہوگئے پھر عیسیٰ مسکرایا

” میں متفق ہوں آپ کی بات سے ، میں خود ان سے سیکھنے کی کوشش کررہا ہوں “

” تمہاری یہی بات تو اچھی ہے کہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہو ، اگر چاہو تو مجھ سے گائیڈ لائن لے لیا کرو ، تمہارے باپ کی جگہ پر ہوں ، کیونکہ میرا خیال ہے ابھی بزنس کو مکمل سیکھنے میں تمہیں وقت لگے گا ” مسکرا کر اس کا شانہ تھپتھپایا تو عیسیٰ نے سر اثبات میں ہلایا

” شیور ۔۔۔” وہ چند منٹ وہاں ٹھہرے پھر چلے گئے ان کے جاتے عمار نے گہری سانس لی

” یہ انسان شدید انائنگ ہے “

اس نے جھرجھری لی تھی ، عیسیٰ ہنسا

” میری رائے محفوظ ہے “

اس نے موبائل نکالا اور وقت دیکھا

” جاگ رہی ہیں ؟”

قرت کو میسج کیا لیکن اس کا نیٹ آف تھا سو اس نے موبائل جیب میں رکھ دیا

” زین سے بات ہوتی ہے تمہاری؟”

عمار اس سے پوچھ رہا تھا

” کل ہوئ تھی ، بزی تھا “

” اس کے بارے میں بزی لفظ سننا ہی عجیب لگتا ہے ” وہ بس مسکرادیا ، جوس کا گلاس اٹھاتے ہوئے اسے کن اکھیوں سے نظر آیا کہ کامران آفندی کا سیکرٹری ان کی طرف موبائل اٹھائے بڑھا تھا ، ان سے کچھ کہا اور موبائل ان کو دیا ، انہوں نے فون سنا ، چہرہ پہ پریشانی جھلکی پھر سفیدی ، پھر سر اٹھا کر بے اختیار عیسیٰ کو دیکھا وہ انہیں ہی دیکھ رہا تھا ، کامران صاحب کے دیکھنے پر گلاس ہلکا سا اوپر اٹھایا اور بنا ہونٹ ہلائے ہلکا سا بولا

” چیئرز ۔۔۔”

ان کا چہرہ ہتک کے باعث سرخ پڑا ، گلاس پٹخ کر نیچے رکھا ، عمار غور سے انہیں کی طرف دیکھ رہا تھا

” انہیں کیا ہوا ؟” عیسیٰ نے رخ موڑ کر کر اسے دیکھا

” ممکن ہے ان کے ہاتھ سے کوئ پراجیکٹ نکل گیا ہو “

” مطلب ؟” عمار چونکا

” مطلب تو اب وہی بتاسکتے ہیں “

ان کی نظر کامران آفندی پر گئ وہ موبائل لئے کسی پر غصے سے چلارہے تھے ، بار بار مڑ کر عیسیٰ کو دیکھتے ، عمار کچھ ناسمجھی سے اسے دیکھتا رہا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ جب گھر واپس آیا تو حیات اس کے منتظر تھے ،

” گزرے برسوں میں یہاں ہر بار مام کو اپنا منتظر پایا ہے میں نے ، یہ دن بھی آنا تھا زندگی میں “

کوٹ بازوں پر ڈالے اس نے ابرو اچکائے

” لندن پراجیکٹ ہماری کمپنی کو ملا ہے ؟” انہوں نے عیسیٰ کی بات نظرانداز کی

” بالکل ، آپ کیا مبارکباد دینے کیلئے یہاں کھڑے ہیں ؟”

” تم نے یہ کیسے کیا عیسیٰ ؟”

وہ حیران تھے

” آپ کو مجھ پر شک ہے ؟”

” میں تم سے ہر چیز کی توقع رکھتا ہوں عیسیٰ “

عیسیٰ محظوط سا مسکرایا

” ڈیڈ ، ڈونٹ مائنڈ لیکن آپ کے بزنس کرنے کے طریقے تھوڑے پرانے ہیں ، اور میں ٹھہرا نئ جنریشن کا”

” مجھے میری بات کا جواب دو “

وہ جھنجھلائے

، اوکے اوکے ، تو جس دن لاہور والے پراجیکٹ کی انائوئنسنگ تھی اس سے ایک دن پہلے مجھے لندن پراجیکٹ کا پتا چل گیا تھا “

” اور تم نے اپنا نام لاہور پراجیکٹ سے ہٹوالیا تھا ” اس نے سر ہلایا

” پراجیکٹ کامران صاحب کو مل گیا ، میں ایسا ہی چاہتا تھا “

” لیکن کیوں ؟” وہ اب تک نہیں سمجھے تھے

” یہ پراجیکٹ بہت بڑا تھا ڈیڈ ، ان کی کمپنی اس پراجیکٹ کے ہوتے ہوئے دوسرا پراجیکٹ رن نہیں کرسکتی تھی ، نا ان کے پاس فنڈز تھے نا وقت نا ورکرز ، اگر ہم وہ پراجیکٹ لیتے تو ہمارے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا سو میں نے یہ مسئلہ کامران صاحب کی طرف جانے دیا “

” تمہاری نظر شروع سے لندن پراجیکٹ پر تھی ؟” انہیں جیسے اب سمجھ آیا تھا

” بالکل ، لندن کی جو کمپنی یہ پراجیکٹ انائونس کرنے والی تھی انہیں کامران انڈسٹریز کے مصروف شیڈیول کا معلوم ہوا تو انہوں نے پراجیکٹ کیلئے دوسرے آپشنز پر غور کرنا شروع کردیا “

” اور دوسرا آپشن تم تھے “

” میں پہلا آپشن تھا ڈیڈ ، وہ لوگ پہلے ہی دوڑ سے باہر تھے “

And you got it ?”

” yaa i got it “

“اور تم نے ٹیم کب بھیجی لندن “

” میں کب سے اس سب کیلئے تیار تھا ڈیڈ، ہماری لندن برانچ کو بھی میں نے کہہ رکھا تھا، کامران صاحب انٹرنیشنلی ابھی بزنس شروع کررہے ہیں ، ہماری کمپنی عرصہ ہوا لندن میں ایکٹو ہے، ظاہر ہے بہترین آپشن ہم ہی تھے ،،یہ پراجیکٹ حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں تھا ، میری تیاری مکمل تھی ، انہیں اب سمجھ آگیا ہوگا کون بچہ ہے اور کون نہیں ” وہ کامران صاحب کا چہرہ یاد کرکے محظوظ ہوا تھا

” اوہ عیسیٰ تم نے مجھے حیران کردیا ہے “

” مجھے یہ سننا پسند ہے “

حیات سر جھکا کر ہنسے

” اور مجھے یہ کہنا “

” شکریہ ” جھک کر داد وصول کی پھر انہیں دیکھا

” کیا میں جائوں ؟” انہوں نے سر ہلایا تو وہ اوپر کی طرف بڑھ گیا جبکہ حیات اب بھی وہیں ٹھہرے تھے

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے عیسیٰ نے ایک بار پھر قرت کی چیٹ کھولی ، اس کا میسج ابھی تک سین نہیں ہوا تھا ، وہ ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

رات کو جب وہ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئ تو ابا اس کے کمرے میں آگئے

” کھانا کیوں نہیں کھایا ؟” وہ جائے نماز رکھ کر پلٹی تو وہ بیڈ پر بیٹھے تھے

” تب بھوک نہیں تھی اب کھالوں گی “

اس نے دوپٹے کی گرہ کھولی اور ان کے سامنے بیٹھ گئ ، ابا چند لمحے اسے دیکھتے رہے

” ماریہ کو معاف کردو بیٹا “

اس کے اندر کوئ تکلیف پھر سے ابھری

” میں نے اسے کبھی اس بات کے لئے طعنے نہیں دیئے “

” لیکن تم نے اسے معاف بھی نہیں کیا تھا “

” کیا میں یہ حق نہیں رکھتی ؟”

اس نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا

” رکھتی ہو ۔۔۔لیکن معاف کرنے والا رحم دل ہوتا ہے ، رحم خدا کی صفت ہے “

” وہ میری رسوائ میں حصے دار تھی “

” وہ اس چیز کا ذریعہ بنی جو تمہارے مقدر میں پہلے سے طے تھی “

” پھر میں اسے کیسے معاف کردوں ؟ میں اس اذیت کو کیسے بھول جائوں جو اس کی اور عیسیٰ کی وجہ سے میرے حصے میں آئ “

وہ سر اٹھائے نم آنکھوں سے ان سے پوچھ رہی تھی

اور اس لمحے ان پر انکشاف ہوا کہ وہ اس نے صرف ماریہ کو نہیں بلکہ عیسیٰ کو بھی معاف نہیں کیا تھا

” تم نے اپنے دل میں کیا کیا چھپا رکھا ہے قرت ؟” انہیں دکھ ہوا

” میں نے بہت سی اذیت چھپائ ہے ابا ، آپ سب کو لگتا ہوگا یہ آسان ہے ، جس نے سہا ہو اس سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اپنے مجرموں کو معاف کردے ، کم از کم اتنا حق تو ہر کسی کو ہونا چاہئے کہ خود کو تکلیف دینے والے کو معاف نا کرے ” آنسو پھسل کر گود میں گرا

” وہ مقدر تھا “

” جانتی ہوں ، پھر بھی میں ان دونوں کو معاف نہیں کرسکتی ” نعمان صاحب اسے دیکھ کر رہ گئے

” تم نے عیسیٰ کو معاف نہیں کیا ؟”

” میں نہیں کرسکتی ، یہ شادی صرف آپ کے کہنے پر کی ہے ، ” انہیں صدمہ سا لگا

” قرت۔۔۔”

” وہ مجھ سے وعدہ کرکے گیا تھا ابا کہ وہ واپس نہیں آئے گا ، وہ واپس آیا تو مزید اذیت لے کر آیا ہے ، آپ پر بوجھ بڑھ گیا اس کی وجہ سے “

” یہ بوجھ اس کی نہیں میرے اپنوں کی وجہ سے بڑھا ہے ” انہوں نے وضاحت دینا چاہی ، انہیں اب احساس ہوا تھا کہ وہ غلط سمجھ رہی تھی

” سبب تو وہی تھا ۔۔”

اس کے جھکے سر پر اذیت پھیلی

” وہ نہیں تھا ۔۔۔۔”

” وہی تھا ، وہ واپس نا آتا تو آپ میری شادی اس سے نا کرتے ، نا سب آپ سے تعلق توڑتے ، وہ۔۔۔” انہوں نے اس کی بات بیچ میں کاٹ دی

” اسے میں نے آنے کا کہا تھا “

اس کے آنسو رک گئے ، سر اٹھا کر بے یقینی سے ابا کو دیکھا

” ابا ۔۔۔”

” یہ سچ ہے اسے میں نے کہا تھا کہ رشتہ لے کر آئے ، وہ میرے کہنے پر آیا تھا قرت “

” آپ ۔۔آپ نے رابطہ ۔۔۔”

الفاظ ٹوٹ گئے ، دل دکھ سے بھرگیا ،

” مجھے تمہاری کتاب سے اس کا نمبر اور گھر کا پتہ ملا تھا ، اس کا رشتہ آنے سے پہلے میں اسلام آباد گیا تھا ، میں نے ہی اسے کہا تھا کہ وہ ایک بار پھر تمہارے لئے اپنے ماں باپ کو بھیجے “

اذیت سی اذیت چاروں طرف پھیل گئ

” یہ آپ نے کیا کیا ابا “

” میں ڈر گیا تھا قرت ، بھائ صاحب نے پیغام بھجوایا تھا کہ اگر اس بار تمہارے لئے ناں کی تو وہ سارے تعلق توڑ دیں گے ، میں ڈر گیا تھا کہ کہیں اپنے بھائیوں کے ساتھ جڑنے کیلئے میں تمہیں قربان نا کردوں ، میرے پاس واحد آپشن عیسیٰ تھا ، آخری جواد تھا ، میں نے وہ کیا جو تمہارے لئے صحیح تھا نا کہ وہ جو میرے لئے صحیح تھا ” اس کے پاس الفاظ ختم ہوگئے

” عیسیٰ کا ایک واحد قصور تھا کہ وہ تم سے ملنے گیا ، اس قصور میں تم بھی شریک تھیں قرت ” انہوں نے پہلی بار اس سے کہا تھا کہ وہ قصوروار تھی ” تم اس سے نا ملتیں ، دو نامحرم کے بیچ تیسرا شیطان ہوتا ہے ، تم جانتی تھیں ، جو قصور اس کا تھا وہ تمہارا بھی تھا ، اگر تم خود کو معاف کرچکی ہو تو اسے کیوں نہیں کیا ؟” رک چکے آنسو دوبارہ بہنے لگے

” وہ جب مسجد آیا تھا تو اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کچھ ہے جس کی اسے تلاش ہے ، میں نے کہا وہ خدا سے مانگے ، اس نے مانگا ،، وہ تمہیں مانگ رہا تھا میں نہیں جانتا تھا لیکن جو تمہارے اور اپنے بیچ خدا کو لے آیا تھا میں اسے کیسے تمہارے لئے منع کرتا ؟”

” چار سال پہلے مجھے غصہ تھا ، دکھ تھا ، اعتبار ٹوٹنے کا غم تھا ، ورنہ تب بھی تمہارے لئے میرا انتخاب وہی ہوتا “

” اسے میں نے جانے کے لئے کہا تھا “

بہتے آنسو کے درمیان اس نے بتادیا

” جانتا ہوں “

جواب غیر متوقع تھا

” کیسے ؟”

” جس عزم سے وہ آخری بار میرے سامنے ٹھہرا تھا میں جانتا تھا وہ واپس نہیں جائے گا ، چلا گیا تو جان لیا کہ کس کے کہنے پر گیا ہے ، اس نے تمہاری بات کا مان رکھا تھا قرت “

ابا خاموش ہوگئے ، اس کے پاس کہنے کو کچھ باقی نا رہا ، پھر ابا اٹھے دروازے کے پاس جاکر رکے

” اسے معاف کردو قرت ، انسان کو چاہئے معاف کردیا کرے ، خدا بھی تو کردیتا ہے ، اگر انسان دوسروں کو معاف نہیں کرسکتا تو خدا سے اپنے لئے معافی کی امید کیسے رکھ لیتا ہے ” اور وہ چلے گئے قرت وہیں بیٹھی رہ گئ ، دماغ سن سا تھا ، دل میں اذیت سی بھرنے لگی

پچھلے چند دنوں میں اس نے کتنی ہی بار عیسیٰ کو سنایا تھا کہ اس کے واپس آنے سے اس کیلئے اذیت بڑھ گئ تھی ، اس نے کتنی ہی بار اس سے کہا تھا کہ اس نے وعدہ خلافی کی ہے ، اور وہ چپ چاپ سنتا رہا ، ایک بار بھی نا کہا کہ وہ اس کے ابا کے کہنے ہر اس کی زندگی میں واپس آیا تھا ، اس کا دل اس قدر دکھ کا شکار ہوا کہ اسے لگا وہ پھٹ جائے گا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ناشتے کی ٹیبل پر برتنوں کے ٹکرانے سے شور پیدا ہورہا تھا

سربراہی کرسی کی دائیں طرف بیٹھا عیسیٰ تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے آخری نوالہ لے رہا تھا

” لندن کب جارہے ہو پھر ؟” حیات نے یہ سوال دوسری بار کیا تھا پہلی بار وہ موبائل پر کوئ ضروری کام کررہا تھا سو جواب نا دے سکا

” کل کی ٹکٹ بک کرائ ہے “

اس نے جوس پیتے ہوئے رک کر موبائل پر آتا نوٹیکفیشن دیکھا پھر موبائل اٹھا کر میسج کا جواب دیا

” واپسی کب تک ہوگی ؟”

” دیکھیں ، ٹیم کو سب سمجھانا ہوگا ، اور لیگل ورک ای ٹی سی ۔۔” موبائل رکھ کر نیپکن ہونٹوں پر پھیرا

” قرت سے بات ہوئ تمہاری ، کب واپس آرہی ہے وہ ؟ ” اب کے شہوار نے پوچھا

” جی کل دوپہر میں کال کی تھی ، کہہ رہی تھیں سنڈے کی فلائٹ بک کروادوں ” پھر رک کر شہوار کو دیکھا ” میں تب تک یہاں نہیں ہوں گا، آپ جانتی ہیں وہ ڈرائیور کے ساتھ نہیں آتی جاتیں تو پک کرلیں گی اسے ؟”

” ہاں شیور بے فکر رہو ، اسے لندن جانے کا بتایا تم نے ؟”

” نہیں ، آج بات ہوگی تو بتادوں گا ،”

وہ اب بھی موبائل پر کچھ ٹائپ کررہا تھا

” عیسیٰ ناشتہ تو ریلیکس ہوکر کرلو “

شہوار نے ناگواری سے اسے دیکھا

” ہوگیا ناشتہ ” وہ کوٹ اٹھاتے اٹھ کھڑا ہوا دونوں کو خدا حافظ کہا اور اسی تیزی سے باہر کی طرف بڑھا

وہ کل تک شدید ترین مصروف رہنے والا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

باغ کے آخری کونے پر ٹھہری قرت نے وہ سفید پھول توڑا اور پھر باغ میں نظر دوڑائ ، مہر اندر سے ٹوکری لینے گئ تھی تب تک وہ ہاتھ میں ہی پھول چن لے گی ، موبائل اس نے گھر رکھ دیا تھا ، عیسیٰ کو اس نے سنڈے واپسی کا کہا تھا ، وہ شاید مصروف تھا اس لئے کل سے اس سے زیادہ بات نہیں ہوسکی ، شہوار سے اس نے تھوڑی دیر پہلے ہی بات کی تھی کہیں جارہی تھیں تو بس کھڑے کھڑے اس سے خیریت پوچھی ، وہاں شاید سب ہی مصروف ہوگئے تھے

پھول چنتے ہوئے درخت کے پیچھے سے کھٹکا ہوا تو وہ چونکی ، سر اٹھا کر اردگرد دیکھا لیکن وہاں کوئ نہیں تھا ، سر جھٹکتے ہوئے وہ دوبارہ سے پھول چننے لگی ،شاید اس کا وہم تھا

تبھی پیچھے سے قدموں کی آواز آئ ، بھاری لیکن محتاط قدم، قرت جہاں تھی وہیں رہ گئ پھر ہمت کرتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دل رک گیا

” جواد ۔۔۔” لب آہستہ سے پھڑپھڑائے

وہ جواد ہی تھا ، محتاط قدموں سے اس کی طرف آتا ہوا ، آنکھوں میں تنفر لئے ، قرت نے ہاتھ میں تھامے پھول زور سے بھینچے ، اسے یہاں سے بھاگ جانا چاہئے ، لیکن قدم زنجیر ہوگئے تھے

جواد چلتے ہوئے اس کے سامنے آیا اور اسے دیکھا

” کیسی ہو مسز عیسیٰ ؟”

اس نے تھوک نگلا

” تم یہاں کیا کررہے ہو ؟”

اردگرد نظر دوڑائ وہاں کوئ نہیں تھا

” میرے چچا کا باغ ہے کیا یہاں نہیں آسکتا ؟”

” دیکھو جواد ۔۔۔” انگلی اٹھا کر اسے وارن کرنا چاہا تو وہ ایک قدم آگے کو ہوا ، قرت ڈر کر پیچھے ہٹی ، ہاتھ میں تھامے پھول گرگئے

” تم تو مجھ سے ڈرتی ہو ” تمسخر سے مسکرا کر اسے دیکھا

” تم نے کچھ کہا تو میں سب کو بلالوں گی “

آواز کانپ گئ

” بے فکر رہو ، فلحال میں صرف بات کرنے آیا ہوں ” جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ مطمئن تھا یوں جیسے کسی کے آنے کا ڈر نا ہو

” مجھے نہیں کرنی بات ، ہٹو راستے سے “

وہ اس کی دوسری طرف سے ہوکر جانے لگی ، جواد نے فورا بازوں لمبا کیا قرت جھٹکے سے رکی

” ایسے ہی رک جائو ، تمہیں ہاتھ لگایا تو برا مان جائوگی “

اس کا چہرہ سرخ ہوا

” حد میں رہو اپنی “

” حد میں ہی تھا ، تمہاری وجہ سے حد سے باہر آنا پڑا ، اور اب پچھتائوگی کہ کاش مجھے میری حد سے باہر آنے پر مجبور نا کیا ہوتا “

وہ غرایا

” میرا راستہ چھوڑو جواد ۔۔”

آواز سخت کرنی چاہی لیکن اندر کا خوف غالب آگیا

” اب تمہیں میں ہر راستے پہ ملوں گا قرت العین ، یاد رکھنا مجھے تم نے ٹھکرا کر اچھا نہیں کیا ، اور دوبار ٹھکرا کر تو بالکل اچھا نہیں کیا، میں نے اپنی اور اپنی بیٹی کی زندگی تمہاری وجہ سے برباد کردی ، آباد اب میں تمہیں بھی نہیں رہنے دوں گا “

” تو تم اب مجھ سے بدلہ لوگے؟ “

اسے یہاں سے جانا چاہئے، اسے بھاگ کر جانا چاہئے ،کسی بھی طرح لیکن جانا چاہئے ،لیکن وہ ہاتھ آگے کئے کھڑا تھا

” یقیناً لوں گا اور ایسا بدلہ لوں گا کہ ساری زندگی یاد رکھو گی ، یقین کرو مجھے اتنا سا بھی ” انگوٹھے اور انگلی سے گول دائرہ بنایا ” اتنا سا بھی فرق نہیں پڑتا کہ تم بے گناہ ہو یا گناہگار کیونکہ میری نظر میں تم میری گناہگار ہو ، اور یاد رکھنا قرت العین جواد اپنے گناہگاروں کو ایسی سز ادیتا ہے کہ وہ یاد رکھتے ہیں ، ” پھر وہ الٹے قدم پیچھے کو ہوا

” تم بھی سزا کیلئے تیار رہو مسز عیسیٰ حیات “

چبا چبا کر کہتے وہ پلٹا اور لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے غائب ہوگیا ، قرت کا دل کانپا ، اسے جواد سے پہلی بار شدید ترین خوف محسوس ہوا تھا

یکدم وہ چونکی وہ وہاں اکیلی تھی ، تیزی سے برقع سنبھالتی وہ گھر کی طرف گئ ، سفید پھول پائوں کے نیچے آگئے

مہر دروازے سے باہر آرہی تھی

” سوری ، اماں ٹوکری میں گوبھی کاٹ رہی تھیں ” قرت نے نہیں سنا وہ تیزی سے دروازہ کھول کر اندر کی طرف بڑھی

” آپی ۔۔۔”

مہر پیچھے بلا رہی تھی لیکن وہ بغیر جواب دیئے اپنے کمرے کی طرف آئ ، موبائل بیڈ پر پڑا تھا اس نے جھپٹ کر اٹھایا

عیسیٰ کا نمبر کال لاگ میں پہلے نمبر پر تھا ، کپکپاتے ہوئے اس کا نمبر ملایا

دوسری طرف گھنٹی کی آواز جانے لگی

” ہیلو ۔۔”

” عیسیٰ ، میری ٹکٹ بک کروادیں اسلام آباد کی “

وہ کپکپاتے لہجے میں کہہ رہی تھی

” جی میں نے کروادی ہے سنڈے کی “

” سنڈے نہیں ،کل ، کل کی کروادیں “

” کل ؟”

” جی ۔۔۔۔ پلیز جتنی جلدی ہوسکے “

” قرت سب ٹھیک ہے ؟” وہ دوسری طرف مصروف تھا لیکن لمحہ بھر کو پریشان ہوا

” جی سب سب ٹھیک ہے ، مجھے واپس آنا ہے بس “

” اوکے اوکے ، میں دیکھتا ہوں سب سے پہلی فلائٹ جو مل جائے ، آپ ٹھیک ہیں نا ؟ ” اسے پیچھے سے آوازیں آرہی تھیں وہ آفس میں تھا اور یقینا مصروف ہوگا ، قرت نے چند گہرے گہر سانس لئے

” میں ٹھیک ہوں عیسیٰ ، آپ پریشان نا ہوں ، بس مجھے آنٹی کی یاد آرہی تھی “

” صرف آنٹی کی ؟”

اور لمحے بھر کو ساری پریشانی جیسے کہیں غائب ہوئ، وہ بس ہلکا سا مسکرائ

” اپنے کمرے کی بھی ” وہ ہنس دیا

” ظاہر ہے انہیں کی یاد آرہی ہوگی ، ریلیکس میں فلائٹ بک کرواتا ہوں، اور سنیں میں کل صبح لندن۔۔۔۔ ” آواز کٹ گئ ، اس نے موبائل کان سے ہٹا کر دیکھا ، سگنلز کا مسئلہ آرہا تھا ، لائٹ نہیں تھی تو یہی ہونا تھا ، سر جھٹکتے اس نے موبائل رکھ دیا ،جانے کیا کہہ رہا تھا ، موبائل رکھتے وہ مڑی تو مہر سامنے کھڑی تھی

” آپ واپس جارہی ہیں ؟” اس نے نقاب اتارا ، چہرہ زرد سا ہورہا تھا

” ہفتے سے تو ہوں یہاں پر “

” پانچ دن ، اور اتنی جلدی جارہی ہیں “

” ساری عمر تھوڑی رہ سکتی ہوں ، سسرال والے کیا سوچیں گے “

” سیدھا کہیں عیسیٰ بھائ کی یاد آئ ہے “

” ایسا بھی نہیں ہے اب ۔۔”

نظریں چرائیں ، کیا بتاتی جواد کی آنکھوں سے ایسا خوف محسوس ہوا تھا کہ پل بھر کو حواس ہی شل ہوگئے تھے، جانے اس وقت یہ خیال کیوں آیا کہ وہ عیسیٰ کے ساتھ محفوظ ہوگی

وہ اپنے باپ کے گھر تھی ، اس سے زیادہ محفوظ جگہ دنیا میں کون سی تھی لیکن پھر بھی جب تحفظ کا خیال آیا تو سب سے پہلے عیسیٰ کیوں یاد آیا تھا

مہر اب ناراضگی سے باہر کی طرف جارہی تھی ، اس نے ایک بار آئینے میں دیکھا ، دل اب بھی خوف زدہ تھا ، جواد کیا کرنے والا تھا ؟

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ایئر پورٹ پر اسے شہوار لینے آئ تھیں ، اس کا خیال تھا کہ شاید عیسیٰ خود لینے آئے

” عیسیٰ نہیں آئے آنٹی ؟” اس نے راستے میں یونہی پوچھ لیا

” اس نے تمہیں بتایا نہیں ؟”

” کیا ؟” وہ انہیں دیکھے گئ

” وہ تو کل لندن روانہ ہوگیا تھا “

” اوو ، شاید بھول گئے ہوں “

اس نے رخ موڑ لیا ، اسے برا لگا تھا اور بہت لگا تھا یعنی کیا اب وہ ایک ہفتے میں اتنی ارزاں ہوگئ تھی کہ اسے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا پھر یاد آیا کہ شاید اس دن یہی بات بتا رہا تھا جب کال کٹ گئ تھی

گھر ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گئ تھی لیکن پھر بھی کچھ تھا جو اب بدل گیا تھا ، کمرہ سنسان لگا ، سٹڈی ادھوری ، اور کچن کی وہ جگہ جہاں وہ کھڑے ہوکر اپنے لئے کافی بناتا تھا وہ جگہ بھی خالی سی تھی ، اس کی فلائٹ رات کی تھی تو وہ آتے ہی نماز پڑھ کر بیڈ پر لیٹ گئ ، کچھ دیر جاگتی رہی ، لاشعوری طور پر وہ عیسیٰ کے میسج کا انتظار کرتی رہی ، وہ ہرروز رات کو سونے سے پہلے اسے میسج کرتا تھا لیکن اب شاید مصروف تھا ، اسے پورے دن میں صرف دو میسجز اس کی طرف سے موصول ہوئے تھے ، ایک جب وہ ملتان سے نکل رہی تھی

” اسلام آباد پہنچ کر میسج کیجئے گا ” اور دوسرا اس کے میسج کے جواب میں جب اس نے بتایا تھا کہ وہ پہنچ گئ ہے بس اوکے لکھ دیا تھا ، رات دیر تک اس کا میسج نہیں آیا تو وہ سو گئ

اگلے دن شام تک وہ یونہی گھر میں خالی خولی گھومتی رہی ، عیسیٰ ملک سے باہر تھا تو حیات آفس گئے تھے ، شہوار کمرے میں آرام کررہی تھیں ،وہ گھومتے ہوئے بیک یارڈ کی طرف آگئ ، وہاں آخر میں کھدائ ہورکھی تھی اسے یاد آیا جانے سے پہلے انہوں نے وہاں بوگن ویلیا لگانی تھی

” مام کا تو ٹھیک تھا ، آپ بھی اب گھر کو جنگل بنانا چاہتی ہیں ؟” ملازم سے وہاں نئے پلانٹس رکھواتے ہوئے وہ ناخوش سا لگ رہا تھا

” پودے اچھے ہوتے ہیں “

وہ کچھ مصروف سی تھی سو اسے اگنور کیا

” بالکل بہت اچھے ہوتے ہیں ، ہمیں پھل دیتے ہیں ، آکسیجن دیتے ہیں، سایہ دیتے ہیں پھول بھی دیتے ہیں جنہیں آپ لاپرواہی سے کچن میں بھول آتی ہیں “

” ہاں ؟” وہ ناسمجھی سے گھومی ” کون سے پھول ؟”

” سفید گلاب “

اوہ ! وہ دو دن اس کیلئے سفید گلاب لایا تھا جسے اس نے کچن میں رکھ دیا تھا ، کیوں رکھا تھا یہ وہ عیسیٰ کو نا بتاسکی

” میرے لئے سفید گلاب مت لایا کریں “

” سرخ گلاب لاسکتا ہوں ؟” مسکراہٹ دبائ

” کوئ بھی پھول مت لایا کریں ، میرے لئے پھول خوشی کا نہیں غم کا باعث بنتے ہیں ، مجھے کیبن میں رکھے وہ سفید گلاب یاد آتے ہیں جنہیں جواد نے گرادیا تھا ” وہ سپاٹ سا کہتی آخری کیاری کی طرف بڑھی ، عیسیٰ کے چہرے پر سایہ لہرایا، اس نے تب وہ نظرانداز کردیا تھا

اب یاد آیا تو جانے کیوں دکھ سا ہوا ، واپس کچن کی طرف آئ تو زینت آپا وہاں کام کررہی تھی

” زینت آپا ، میں نے یہاں سفید گلاب رکھے تھے ” نظریں کچن میں گھماتے ہوئے پوچھا

” کب بی بی جی ؟”

” یہی کوئ ہفتہ پہلے “

” وہ تو جی میں نے پھینک دیئے تھے ، باسی ہوگئے تھے “

” پھینک دیئے؟” وہ بس انہیں دیکھ کر رہ گئ، پھر سر جھٹکتے ہوئے واپس کمرے کی طرف آئ ، موبائل اٹھا کر دیکھا عیسیٰ کا میسج آیا ہوا تھا

” کیسی ہیں ؟”

” ٹھیک ہوں ، آپ کیسے ہیں “

جھٹ سے ٹائپ کیا

” فائن ، گھر میں سب کیسے تھے ؟”

” ٹھیک تھے ۔۔”

” گڈ ۔۔۔” دوسری طرف اب خاموش چھاگئ ، قرت نے اس کے اگلے میسج کا انتظار کیا پھر خود ہی ٹائپ کردیا

” آپ نے بتایا نہیں تھا کہ لندن جارہے ہیں “

” بتا رہا تھا لیکن کال کاٹ دی تھی آپ نے ، اس کے بعد بزی تھا ، اس لئے نہیں بتاسکا “

” سگنلز کی وجہ سے کٹ گئ تھی کال “

” اوکے “

اس کے ماتھے پر بل پڑے ، رپلائے پانچ پانچ منٹ کے وقفے سے آرہے تھے

” اوکے ۔۔۔سوری آپ کو ڈسٹرب کیا ” کھٹاک سے فون رکھ دیا ، موڈ پتا نہیں کیوں خراب ہوگیا تھا ، دو منٹ بعد اس کی کال آنے لگی

” آر یو اوکے ؟”

” مجھے کیا ہونا ہے ؟”

” آپ کسی بات پر ناراض ہیں ؟”

محتاط سا پوچھا

” میں کیوں ناراض ہونے لگی “

لہجے میں ناراضگی سمٹ آئ

” کوئ بات بری لگی ہے ؟”

وہ آفس میں تھا ، سامنے میز پر لیپ ٹاپ تھا جس پر کام کرتے ہوئے وہ قرت سے بات کررہا تھا

” نہیں ۔۔” اسے یکدم یاد آیا کہ اس نے ابھی تک عیسیٰ کو معاف نہیں کیا تھا ، آج کل یہ بھی یاد دلانا پڑتا تھا

” اوکے ۔۔۔پھر بات ہوگی ” وہ فون رکھنے لگا جب وہ جلدی سے بولی

” آپ واپس کب آئیں گے ؟”

” معلوم نہیں ۔۔” وہ شاید اس کے پوچھنے پر حیران ہوا تھا

” اچھا ۔۔”

” کچھ کہنا تھا ؟”

” نہیں ، آپ کام کریں خدا حافظ “

فون رکھ دیا ، عیسیٰ نے اچھنبے سے فون کو دیکھا پھر سر جھٹکتے ہوئے توجہ لیپ ٹاپ کی طرف کرلی

°°°°°°°°°°°°°°°°

اس نے کپ میز پر سے اٹھایا ور پھر موبائل پر مصروف حیات کو دیکھا

” انکل “

” ہوووں ” انہوں نے سر اٹھا کر اٹھا کر اسے دیکھا پھر تھینکیو کہتے ہوئے کپ لے لیا، دوسرا کپ شہوار کو تھما کر وہ چیئر پر بیٹھ گئ

” پہلے عیسیٰ اور اب آپ ، یہ آفس کا کام آفس میں ہی رکھ کر آیا کریں “

وہ پچھلے پندرہ منٹ سے موبائل پر مصروف تھے سو شہوار ناگواری سے بولیں

” ہاں جی بس ہوگیا بیگم ، یہ میل سینڈ کردوں عیسیٰ کو “

” عیسیٰ تو لندن جا کر کام کو ہی پیارا ہوگیا ہے ، اس سے اچھا آپ چلے جاتے “

” واہ شہوار واہ ۔۔” انہوں نے سر اٹھا کر داد دی ” یعنی شوہر سے دوری برداشت کرلیتیں لیکن بیٹے سے نہیں کرسکتیں “

وہ مسکراہٹ دبا کر ان دونوں کی نوک جھوک سنے گئ

” آپ اتنے بزی تھوڑی ہوتے تھے ،عیسیٰ تو کام کو لے کر کچھ زیادہ ہی ایمبیشیس واقع ہوا ہے ، یہ نہیں کہ ماں کو ایک کال ہی کرلے چھٹا دن ہے اسے گئے ہوئے اور ایک کال کرتا ہے دن میں بس “

حیات نے موبائل رکھ کر ان دونوں خواتین کو دیکھا ، کچھ پریشان اور غصے میں بیٹھی شہوار اور نرم سے تاثرات والی قرت العین

” دیکھیں خواتین وہ شدید ترین مصروف ہے ، اب کال کرلیتا ہے ایک یہی بہت ہے ورنہ مجھے تو سوائے کام کے آج کل یاد بھی نہیں کررہا ۔۔”

ان کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی عیسیٰ کی کال آنے لگی ، حیات نے شہوار کو دیکھتے گڑبڑا کر موبائل اٹھایا

” ہیلو ۔۔”

” ہاں بھیج دی، اچھا تم نے پڑھ لی ؟” نظر اٹھا کر شہوار کو دیکھا

” اوہ ۔۔تمہاری مام سامنے بیٹھی تھیں ، ان کو دیکھتے کچھ یاد ہی نہیں رہتا ، اس لئے لکھنا بھول گیا “

شہوار نے انہیں گھورا

” اوکے اوکے میں سینڈ کرتا ہوں، اچھا یہ لو اپنی مام سے بات کرو “

موبائل شہوار کی طرف بڑھایا

” عیسیٰ کیسے ہو ؟”

وہ اوپن ایئر کچن میں اپنے لئے کافی بنا رہا تھا کان میں بلیو ٹوتھ لگا رکھا تھا اور پیچھے ٹیبل پر فائلز کا ڈھیر نظر آرہا تھا

” فائن مام آپ کیسی ہیں ؟” کافی کپ میں ڈالی اور پیچھے صوفے پر آ بیٹھا

” میری چھوڑو تم واپس کب آرہے ہو ؟”

” کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن دس پندرہ روز تک آجائوں گا ” اس نے فائل اٹھالی

” دس پندرہ روز ؟ اتنا لیٹ “

” کیا کرسکتے مام ، میرا ہونا یہاں ضروری ہے “

” یہ بھی خوب ہے بیٹا ، اچھا قرت سے بات کروگے ؟”

” کراودیں ۔۔” لبوں پہ مسکراہٹ ابھری ، پرسوں بات ہوئ تھی محترمہ سے، اسپیکر کے پار سے اب مام کی آواز آرہی تھی

” عیسیٰ سے بات کرو ۔۔”

” آپ کریں آنٹی ، میری بات ہوگئ تھی ” اس کی مدھم لیکن بے تاثر سے آواز سنائ دی عیسیٰ کے صفحے پلٹتے ہاتھ رکے ، پھر سر جھٹکا

” میں بعد میں بات کرتا ہوں مام ، ابھی بزی ہوں ذرا ۔۔” شہوار کا جواب سنے بغیر اس نے کال کاٹ دی ، بلیو ٹوتھ کان سے نکالا اور ٹیبل پر رکھا

” تو کیا اس کی دوری بھی قرت کا دل موم نہیں کرسکی تھی ؟”

اس کا دل یکدم ہر شے سے اچاٹ ہوگیا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ شہوار کو عیسیٰ سے بات کرتے چھوڑ اندر کی طرف بڑھی، زینت آپا اندر رات کے کھانے کی تیاری کررہی تھیں

” کیا بنا رہی ہیں زینت آپا ؟”

وہ کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئ ، باہر کا منظر اب چھپ گیا تھا جہاں شہوار اور حیات پھر سے بحث کررہے تھے ، عیسیٰ کی کال نے اسے مضطرب کردیا تھا ، کل سے وہ لاشعوری طور پر اس کی کال کی منتظر تھی لیکن اب اس سے بات کرنا کا دل تک نا چاہا تھا

” قورمہ بنا رہی ہوں اور فرائیڈ رائس ” وہ تیزی سے ہاتھ چلارہی تھی قرت نے توجہ ان کی طرف کرنی چاہی

“صبا کہاں ہے ؟” وہ ان کی چھ سالہ بیٹی تھی

” پڑھ رہی ہے بی بی جی “

” ہممم ۔۔” لمحہ بھر کو وہ خاموش رہی پھر یونہی اس سے پوچھ لیا

” کب سے یہاں پر کام کررہی ہیں آپ ؟”

” ڈیڑھ سال سے جی ، عیسیٰ سر کے آفس میں میرا بھائ کام کرتا ہے اسی نے جاب دلوائ تھی ادھر”

” فیملی میں اور کوئ نہیں ہے آپ کے ، میرا مطلب ساس سسر ، دیور وغیرہ ؟”

” سب ہیں جی ، دیور دیوارنی ، جیٹھ جیٹھانی ، ساس سسر کا انتقال ہوگیا ہے البتہ “

وہ گوشت دھونے لگی ، قرت نے سامنے رکھے گلاس سے پانی اٹھایا اور انہیں دیکھا

” تو وہ سب کہاں ہوتے ہیں ؟ ان کے ساتھ کیوں نہیں رہ رہیں آپ ؟”

وہ اگلے چند لمحے خاموش رہی ، اسے لگا شاید اس نے غلط سوال پوچھ لیا ہے

” آئ ایم سوری میں ۔۔۔”

” انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا تھا ۔۔”

وہ اس کی بات کاٹ کر بولیں تو لمحہ بھر وہ بالکل خاموش ہوگی اور جب بولی تو آواز میں صدمہ تھا

” کیوں ؟”

” میرا شوہر سوتیلا بھائ تھا ان کا ، مرنے پر اس کے حصے کی جائیداد بھی قبضے میں لے لی ، میں نے کیس کرنے کی دھمکی دی تو گھر سے نکال دیا ، بھائ اپنے گھر لے آیا لیکن بھابھی رکھنے پر راضی نا ہوئ ، وہ تو خدا بھلا کرے عیسیٰ صاحب کا جو اپنے گھر ملازمت پر رکھ لیا ورنہ میرا اور میرے بچوں کا کیا ہوتا “

ان کی آواز بھرا گئ ، قرت کو دکھ نے آ گھیرا ، گلاس رکھ کر وہ اٹھی اور کائونٹر تک آئ ، زینت آپا رو رہی تھیں

” آی ایم سوری ۔۔مجھے یہ سب نہیں پتا تھا “

” کوئ بات نہیں بی بی جی ۔۔”

” آپ کیس کیوں نہیں کرتیں سب پر ؟ آپ کے شوہر کی جائیداد ہے آپ کا شرعی اور قانونی حق ہے اس پر “

اسے ان بے حس لوگوں پر غصہ آیا تھا

” اب کیا کروں گی کیس کرکے ؟ انہوں نے تو معافی بھی مان لی ” آنسو پوچھتے ہوئے وہ مطمئن سا مسکرائ

” معافی مانگ لی ؟ ایسے کیسے معافی مانگ لی ، ایک عورت کو اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت گھر سے نکال دیا اس کا حصہ ہڑپ کرلیا اور معافی مانگ لی ؟ آپ معاف مت کیجئے گا انہیں ” زینت نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

” میں نے تو معاف کردیا جی “

” معاف کردیا؟”

وہ جہاں تھی وہیں رہ گئ

” جی خدا کی رضا کیلئے خدا کے بندے کو معاف کردیا ” اسے اس جواب کی توقع نہیں تھی

” ایسے کیسے معاف کردیا ؟”

اس نے زینت آپا کا پرسکون چہرا دیکھا ، کچھ تھا جس نے اندر سے مضطرب کیا تھا ، اتنی آسانی سے کیسے معاف کردیا ؟

” اور کیا کرتی بی بی جی ، دیور نے میرے حق کے جو پیسے لے کر دکان کھولی تھی اس میں آگ لگ گئ ، جیٹھ نے بیٹی کی شادی کی تھی اسے طلاق ہوگئ ،دیر سے ہی صحیح انہیں احساس ہوگیا کہ یتیم کا حق کھایا ہے انہوں نے ، معافی مانگی مجھ سے ، وہ معافی مانگ رہے تھے تو میں نے معاف کردیا “

” آپ معاف نا کرتیں ، اتنا سب کرنے کے بعد وہ لوگ کیسے معافی مانگ سکتے ہیں “

” معاف نا کرکے کیا کرتی ؟” معصومیت سے پوچھا تو وہ لمحہ بھر کو لاجواب ہوئ

” معاف کرکے کیا مل گیا ؟”

” سکون ملا ہے بی بی جی، اس سے بڑھ کر اور کیا شے ہے ؟”

” وہ آپ کے مجرم تھے زینت آپا “

اس نے دلیل دینی چاہی

” اور میں نے ان کا جرم خدا کیلئے معاف کردیا “

دلیل کے پرخچے اڑا دیئے گئے

” معاف نا کرنا آپ کا حق تھا “

” اور معاف کردینا ظرف تھا ، معاف نا کرتی تو کم ظرف کہلاتی “

” ضروری تھوڑی ہے جو معافی مانگے اسے معاف کردیا جائے ، ہم یہ حق رکھتے ہیں کہ خود کو تکلیف دینے والے کو معاف نا کریں “

اس نے جیسے خود کو بھی کوئ جواز دینا چاہا ، زینت نے سبزی بناتے ہاتھ روک کر اسے دیکھا، پھر اردگرد

” ایک بات بتائوں بی بی جی ؟” اس کا سر میکانکی انداز میں ہلا

” جب میرے شوہر کے انتقال کے بعد حالات تنگ تھے ، بچے بھوک سے تڑپتے اور بھابھی کھانا تک نا دیتی تھی تو مجھ سے ایک گناہ ہوا تھا ، آپ برا گمان مت رکھئے گا لیکن میں وہ گناہ نہیں بتا سکتی ، وہ میرے اور اللہ کے بیچ راز ہے ، لیکن جب مجھے احساس ہوا تو میں نے سوچا خدا سے معافی مانگ لیتی ہوں ، انہیں دنوں سسرال والے معافی کیلئے پیغام بھیجنے لگے ، میں نے سوچا اگر میں خدا کے بندے کو معاف نہیں کرسکتی تو خدا سے اپنے لئے کس منہ سے معافی مانگوں ؟ میں نے اس امید پر خدا کے بندوں کو معاف کردیا کہ خدا مجھے معاف کردے گا ” وہ ساکت رہ گئ

” لیکن ۔۔” آواز ٹوٹ گئ ۔۔” جو تکلیف دیں انہیں اتنی آسانی سے کیسے معاف کردیں ؟”

” آسانی سے تھوڑی ہوتا ہے معاف ؟ دل بڑا کرنا پڑتا ہے ، ان لوگوں نے مجھے کہا کہ واپس آجائوں لیکن جس گھر سے دھتکارا گیا تھا وہاں کیسے جاتی ؟ معاف کیا تھا عزت نفس نہیں کچلی تھی ، بس اپنے شوہر کا حق مانگا وہ انہوں نے دے دیا ، اپنے بچوں کیلئے سنبھال کررکھا ہوا ہے ” وہ مطمئن سی تھیں جیسے وہ سب کسی اور پر گزرا ہو ، وہ بس انہیں دیکھے گئ

” اتنی ہمت کہاں سے لائ ہیں زینت آپا ؟” وہ واقعی جاننا چاہتی تھی

” میں زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوں بی بی جی ، لیکن اتنا معلوم ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو معاف کردیا تھا ، وہ بھی جنہوں نے قتل کی دھمکی دی تھی وہ بھی جنہوں نے قتل کی کوشش کی تھی ، ان سے بڑا دل کس کا تھا ؟ ان سے زیادہ ہمت کسے چاہئے تھی ؟ ان کی ہمت دیکھ کر بہت ہمت ملی ، اجر کی امید پر صبر کرلیا ، گناہوں کی معافی کی امید پر جرم معاف کردیئے “

اس کے حلق میں بہت سے آنسو اٹکے، بنا مزید کچھ کہے بنا مزید کچھ سنے وہ اوپر کی طرف بڑھی ، دروازہ لاک کیا اور وہی بیٹھتی چلی گئ

نیچے موجود عورت نے آٹھ سال دین کو نہیں پڑھا تھا ، تین سال دین نہیں پڑھایا تھا ، نا وہ اجر کی اہمت سے واقف تھی نا ثواب کے طریقوں سے ، ایک سادہ سا دل تھا اس کے پاس جس نے اتنی گہری بات سوچ لی ، اور ایک وہ تھی جس نے دن رات گناہ و ثواب کو پڑھا تھا ، یہ بھی کہ معاف کرنے والے عظیم ہوتے ہیں وہ عظمت سے واقف ہوتے ہوئے بھی عظیم نا بن سکی ، اس نے عیسیٰ کے اس قصور پر اس سے نفرت کی جس میں وہ خود بھی شامل تھی ، اس نے ماریہ کے اس جرم پر اسے معافی دینے سے انکار کردیا جس پر ندامت نے اسے بدترین حالت میں پہنچا دیا تھا

وہ صرف خود کا سوچے گئ ، اس کے ساتھ برا ہوا ، جس نے کیا وہ اسے معاف نہیں کرے گی ، وہ خود غرض بنتے بنتے اپنا صاف نرم دل کھو بیٹھی ، اس نے عیسیٰ کو برا بھلا کہا جتنا کہہ سکتی تھی ، عیسیٰ پر طنر کرتی رہی یہ جانے بنا کہ وہ چھوٹے چھوٹے طنز اس کے جرم کی سزا نہیں اس کے خود کیلئے گناہ بن رہے تھے

سب سے بڑا دشمن انسان کیلئے اس کی زبان ہے ، سب سے بڑی قید اس کا ذہن ہے ، سب سے بڑا ناصح اس کا دل ہے ، جس نے دل زبان اور ذہن پر قابو پالیا اس نے کامیابی کو سمجھ لیا

اور اس نے ان تینوں کو بے لگام ہونے دیا ، اس کی زبان کیسے بے قابو ہوتی گئ ، دل کیسے نفرت سے بھرتا گیا ، ذہن نے کیسے لوگوں کے عیب سامنے لا کھڑے کئے جبکہ وہ ان کے احسان اور دوستی بھول گئ اوہ خدایا اس نے یہ کیا کردیا

آنسو قطار کی صورت اس کی آنکھوں سے بہنے لگے ، اس نے ہاتھ گھٹنوں کے گرد باندھ لئے ، ہچکی سی بندھنے لگی

اور اس شام قرۃ العین نے اپنے دل سے عیسیٰ حیات کی نفرت جانے دی ، ماریہ کا ہر جرم معاف کردیا ، اس نے خود کو ہر نفرت کے بوجھ سے آذاد کردیا