Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 41) Last Episode (Part - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 41) Last Episode (Part - 1)
Nahal By Fatima Noor
سردی کے باعث سرشام ہی اندھیرا اتر آیا تھا ، جیل میں کونے میں بیٹھے جواد کو نا اندھیرے سے غرض تھی نا سردی سے، پچھلے پندرہ دن سے وہ ہر موسم سے بے نیاز ہوگیا تھا
پندرہ دن پہلے وہ عیسیٰ کو مارنے کے رادے سے ہی گیا تھا ، مارنا نا صحیح کم از کم وہ اسے زخمی ضرور کرنا چاہتا تھا ، لیکن جب اسے گولی لگی تو اس کے جسم سے بہتے خون کو دیکھ کر احساس ہوا کہ جواد کریم سب کچھ کرسکتا تھا لیکن کسی کا قتل نہیں ، پسٹل اس کے پاس تھی دماغ نے فورا کام کیا اور اس نے فرار ہونے کی کوشش کی ، شومئ قسمت کسی گارڈ نے اسے دیکھ کر پکڑ لیا ، وہ چیختا رہا کہ وہ قاتل نہیں ہے لیکن اس کی نہیں سنی گئ ، قرت کو بھی یہی لگتا تھا کہ گولی اس نے چلائ تھی
دیوار سے ٹیک لگائے اس کی آنکھوں میں اذیت ابھری، وہ لڑکی اسے اس کی بیٹی کے نام سے ڈرا کر گئ تھی، اور وہ بیٹی کے نام سے ڈر گیا ، مرد کو کوئ شے نہیں ڈرا سکتی ، نا ماں کے آہیں ، نا بیوی کی سسکیاں ، نا بہن کی تکلیف ، مرد کو کوئ شے ویسے نہیں ڈرا سکتی جیسے اس کی بیٹی کا نصیب ڈراتا ہے ، پچھلے پندرہ دنوں میں یہ خوف رگ رگ میں سرایت کرگیا کہ اگر کسی دن کوئ شخص اس کی بیٹی کو بھرے بازار میں تھپڑ مارے ، کوئ بھرے خاندان میں اسے بدکردار کہے، کوئ اس کا پیچھا کرے ؟
اس سے زیادہ وہ نہیں سوچ سکتا تھا ، اذیت ہی اذیت ہرجگہ بھر جاتی ، پچھلے سارے حساب یاد آجاتے ، قرت کو اس نے کیا کیا نہیں کہا تھا اور وہ خاموش رہی ، جو لوگ خاموش رہیں ان سے زیادہ کسی سے نہیں ڈرنا چاہئے ، خاموش لوگ اپنا حساب اللہ کے حوالے کردیتے ہیں ، قرت نے بھی کردیا تھا اور اس کا رب انصاف کرنے والا تھا
اس کے انصاف نے جواد کریم کو وہ رخ دکھایا تھا جس نے اس کا چین چھین لیا ، اب وہ ساری زندگی معافی مانگے تب بھی وہ اپنے اعمال نا مٹا پاتا
دفعتاً اس کی جیل کا دروازہ کھلا اور باوردی پولیس افسر اس تک آیا
” چلو ، ضمانت ہوگئ ہے تمہاری ” اس نے سر اٹھا کر پولیس والے کو دیکھا
” میری ؟”
” ہاں بھئ تیری ” وہ کچھ حیران سا اٹھا ، ابا کل آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ضمانت نہیں ہوسکتی ، پھر اب کیسے ؟
پولیس والا اسے لے کر اے ایس آئ کے دفتر میں آیا ، کھلے دروازے سے جب وہ اندر داخل ہوا تو پہلی نظر ابا پر گئ ، دوسری جھک کر کوئ کاغذ سائن کرتے عیسیٰ پر، وہ وہیں رک گیا
” ہم جاسکتے ہیں اب ؟”
” شیور مسٹر عیسیٰ ، آپ کی طرف سے کیس خارج ہے “
اے ایس آئ نے فائل اپنی طرف کھینچی ، عیسیٰ شکریہ کہتا اٹھا ان سے ہاتھ ملایا اور پیچھے مڑا ، جواد دروازے میں کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا، وہ ہاتھ پاکٹ میں ڈالے اس تک آیا ، وہ قد میں جواد سے تھوڑا سا لمبا تھا
” بیل کرادی ہے تمہاری ، کیس خارج ہے ، اب تم آزاد ہو لیکن۔۔۔” دو قدم آگے ہوا چہرے پر سختی ابھری ” قرت سے اور مجھ سے دور رہنا “
” تم ۔۔تم نے کیس خارج کردیا ؟” وہ بے یقین تھا ، کریم تایا ان کے درمیان آکھڑے ہوئے تھے
” جس کیلئے کیا ہے اس پر کوئ آنچ بھی آئ تو تمہیں قبر میں اپنے ہاتھوں سے پہنچائوں گا ” اس کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی تھی
” آپ کا بہت شکریہ عیسیٰ بیٹے ” تایا کی آواز پر اس نے رخ موڑ کر انہیں دیکھا
” آپ کی زبان پر اعتبار کیا ہے ، اگر یہ دوبارہ مجھے اس شہر میں یا میری بیوی کے اردگرد نظر آیا تو میں اس بار برداشت نہیں کروں گا “
” بے فکر رہو ۔۔۔میں تم لوگوں کو پریشان نہیں کروں گا اب ” جواب جواد کی طرف سے آیا تھا ، عیسیٰ نے ایک کاٹ دار نظر اس پر ڈالی اور جانے لگا
” کیا میں ایک بار قرت سے مل سکتا ہوں ؟ ۔۔۔۔”
” خبردار ۔۔۔۔” وہ رکا اور انگلی اٹھاکر سختی سے اسے دیکھا ” میری بیوی کا نام بھی اپنی زبان سے مت لینا “
” میں صرف اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں ” اس کے چہرے پر دکھ اذیت شرمندگی افسوس سب تھا
” وہ تمہیں پہلے ہی معاف کرچکی ہیں ، تمہارا ان کی طرف کوئ حساب باقی نہیں ، جو باقی ہے مجھ سے باقی ہے “
” کیا تم مجھے معاف کرسکتے ہو ؟”
سوال غیر متوقع تھا ، عیسی چند لمحے اسے دیکھے گیا ، گلے میں گلٹی سی ابھری ،کیا معاف کرنا اتنا آسان ہوتا ہے ؟ وہ اسے جیل سے چھڑوارہا تھا کیا یہ کافی نہیں تھا ؟کیا معاف کرنا ضروری تھا ؟
” تم شرمندہ نہیں جواد ، تم خوفزدہ ہو ، میں جانتا ہوں کس چیز سے خوفزدہ ہو ، بات تمہاری بیٹی کی نا ہوتی تو تم کبھی نا ڈرتے ، بات بیٹی کی ہے تو ڈر گئے ہو ، تم شرمندہ نہیں خوفزدہ ہو ،لیکن ٹھیک ہے میں بھی تمہیں معاف کرتا ہوں، کسی نے مجھے بھی اللہ کی رضا کے لئے معاف کیا تھا ، میں بھی تمہیں اللہ کی رضا کے لئے معاف کرتا ہوں “
بنا مزید ایک لمحہ رکے وہ باہر کی طرف بڑھ گیا ،قرت اسے ان کی ملاقات کی ہر ایک بات بتا چکی تھی ،اور وہ جانتا تھا کہ جواد شرمندہ نہیں خوفزدہ تھا ،شاید وہ ڈر گیا تھا کہ اس کے کئے کا بدلہ اس کی بیٹی کو نا چکانا پڑے ، وہ اس کا خوف تھا کہ وہ معافی مانگ رہا تھا ، اور رہا معاف کرنا تو معاف کرنا آسان نہیں ہوتا ، ہوتا تو ایک معافی دینے سے پہلے سو بار نا سوچنا پڑتا ، ہزار دلیلیں نا دینی پڑتیں ، آسان نہیں ہے تبھی تو اجر ہے ، عیسیٰ آگے بڑھتا چلا گیا ، پیچھے موجود شخص کو معاف کرنا الگ بات تھی اس کیلئے نفرت ختم کرنا الگ بات تھی اور اسے جواد سے اب بھی نفرت تھی
دروازے کے پاس وہ لمحہ بھر کو رکا ، پولیس ہاشم اور کامران صاحب لارہی تھی ، اس کا چہرہ بے تاثر ہوا
” تمہیں میں چھوڑوں گا نہیں عیسیٰ”
اس کے پاس رکتے وہ پھنکارے
” میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا کہ میں بچانے والے رب کو جانتا ہوں ، مارنے والا انسان نا تب اہم لگا تھا نا اب “
” تم پچھتائوگے عیسیٰ حیات “
اس کی نظر ہاشم پر گئ
” تم ایک نمک حرام ہو ہاشم ، افسوس ہے کہ ہم تمہیں پہچان نا سکے “
” میں نمک حرام ہوں ؟ میں ؟ تم نے میرا مستقبل تباہ کردیا ، میں جیل چلا گیا تو میرا خاندان بدنام ہوگیا ، میرے بچے رل گئے ،ماں بستر پر آگئ ،میرا باپ نظریں جھکا کر چلتا ہے صرف تمہاری وجہ سے “
وہ غیض و غضب لئے اسے گھور رہا تھا ، عیسیٰ جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے سامنے آرکا
” مجھ پر اپنے کئے گئے برے اعمال کا الزام مت ڈالو ہاشم سرور ، تمہارا عمل تمہاری تباہی کی وجہ تھا میری دی گئ سزا نہیں “
وہ تپش بھرے لہجے میں کہتا مڑ گیا، کچھ لوگ کبھی نہیں بدلتے ، اس کے یہ تینوں دشمن بھی کبھی نا بدلتے وہ جانتا تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مسز شائستہ سیڑھییاں اترتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھیں اور دائیں طرف کی کرسی سنبھالی ، سامنے ناشتہ کرتے حمزہ اور اس کی بائیں طرف بیٹھی ہانیہ کو دیکھا ، بچے سکول جاچکے تھے ،کامران صاحب جیل میں تھے ،اور اب وہاں صرف تین لوگ بچے تھے ،ان کے گھر کی رونق ختم ہوگئ تھی ، جب سے کامران جیل گئے تھے وہ سربراہی کرسی پر بیٹھتا تھا ، ان کی جگہ تبدیل ہوگئ تھی لیکن مقام نہیں، انہوں نے اپنی گردن سیدھی رکھنی چاہی
” وکیل کیا کہہ رہا تھا حمزہ ؟”
” تسلیاں دے رہا تھا کہ چھوٹ جائیں گے پاپا ” وہ ناشتہ کرتے ہوئے ساتھ ساتھ موبائل بھی دیکھ رہا تھا چہرے پر ناگواری تھی
” کب سے صرف تسلیاں ہی دے رہا ہے “
” تو اور کیا کرے ممی جی ، پاپا نے ماشاء اللہ کام بھی قابل فخر انجام دیا ہے ” ہانیہ نے لقمہ دیا تو انہوں نے ناگواری سے اسے دیکھا، اس کی زبان آج کل کچھ زیادہ ہی چل رہی تھی
” میں دیکھ رہی ہوں حمزہ کہ تم اپنے باپ کا چھڑانے کی کوئ خاص کوشش نہیں کررہے “
اس نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا
” کیسے کوشش کی جاتی ہے پھر ممی ؟ “
” تم بزنس میں ایسے غرق ہوئے ہو کہ اپنے باپ کو بھول گئے ہو ” ان کے لہجے میں دکھ تھا ،اس نے موبائل میز پر رکھا اور آگے کو ہوکر انہیں دیکھا
” ممی ، پاپا کی اس غیر ضروری حرکت کی وجہ سے جانتی ہیں بزنس میں کتنا لاس ہوا ہے ؟ ہمارے شیئرز گررہے ہیں ، انویسٹرز چھوڑ رہے ہیں، میں دن رات معاملات ٹھیک کرنے کی کوشش میں لگا ہوں تاکہ کم از کم بزنس کو ہی سنبھال سکوں، اور آپ مجھے ٹونٹ مار رہی ہیں کہ میں ڈیڈ کو چھڑانے کی کوشش نہیں کررہا ؟” مسز شائستہ دھیمی پڑیں
” تم اپنے ڈیڈ کے کیس کو بھی تو فالو نہیں کررہے ؟”
” دن رات وکیل سے رابطے میں ہوں ممی ، عدالتوں کے چکر لگا لگا کر تھک گیا ہوں، بزنس کو دیکھو ، ڈیڈ کو یا میڈیا کو ؟” وہ طیش میں آتا جھنجھلا گیا
” میڈیا کو ؟” وہ چونکیں
” جی میڈیا کو ، جانے کس نے خبر دے دیتی انہیں کہ کامران آفندی نے عیسیٰ حیات پر قاتلانہ حملہ کروایا ہے ، دماغ خراب کررکھا ہے ان لوگوں نے میرا “
” لیکن انہیں کیسے پتا چلا ؟” انہیں جیسے صدمہ لگ گیا تھا ، ہانیہ سکون سے ناشتہ کررہی تھی نظریں کبھی حمزہ پر جاتیں کبھی شائستہ پر
” کیسے پتا چلا مطلب؟ جس پر ڈیڈ نے حملہ کروایا ہے وہ کوئ عام انسان نہیں تھا ممی ، وہ عیسیٰ حیات ہے ، ملک کا معروف بزنس مین ، اسے اس سال پاکستان میں بہترین بزنس مین کا خطاب دیا گیا ہے ، اس کا انٹرنیشلی ایک نام ہے ، اب بھی میڈیا اس خبر کو نا اٹھاتا تو معجزہ تھا ” اس کی آواز میں کڑواہٹ گھلی
” تو تو کیا کامران اب ۔۔۔” وہ الفاظ پورے نا کرسکیں
” میں کچھ نہیں کہہ سکتا ، کوشش کررہا ہوں لیکن امید نہیں ہے ، عیسیٰ سے بات کی تھی وکیل نے اس نے کیس خارج کرنے سے صاف انکار کردیا ہے ، میں پرامید نہیں ہوں ” وہ کوٹ اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا ، ماں پر دوسری نظر نہیں ڈالی تھی ، شائستہ پیچھے گم صم سی بیٹھی تھیں جبکہ ہانیہ اب اطمینان سے جوس پی رہی تھی ، اور جب کوئ کہے کہ برا عمل تم پر پلٹ آتا ہے تو یقین کرلینا !
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ پہلی سیڑھی پر تھا جب زین کی کال آئ
” السلام علیکم “
” یہ کیا حرکت کی ہے تم نے ؟”
” میں اپنی بھیجی گئ سلامتی واپس لیتا ہوں تم اس کے قابل نہیں تھے ” ایک ہاتھ سے موبائل کان پر لگا رکھا تھا ، دوسرا ہاتھ پاکٹ میں تھا
” وعلیکم ۔۔۔اب میرے سوال کا جواب دو “
وہ غصے میں تھا
” سوال کیا ہے ؟”
” جواد کے خلاف کیس واپس لے لیا ہے تم ؟”
” تمہیں بالکل صحیح خبر ملی ہے “
وہ دروازہ کھولتا کمرے میں داخل ہوا
” مجھے ملنے والی خبر صحیح ہے لیکن تمہارا عمل سراسر غلط ہے ، کیس خارج کرنا ایک بیوقوفانہ حرکت ہے “
” میں اس حرکت کی ذمہ داری لیتا ہوں “
وہ مطمئن تھا
” تم پچھتائوگے عیسیٰ ، وہ دوبارہ تم پر حملہ کرواسکتا ہے “
” پہلی بات تو یہ کہ پہلی بار بھی حملہ اس نے نہیں کروایا تھا “
” قابل فخر ۔۔۔؟”
” دوسری بات وہ اب میرے پیچھے نہیں آئے گا “
” قابل یقین ؟” عیسیٰ نے دراز کھولی اسے کوئ فائل لینی تھی
” میں کرنا چاہتا ہوں یقین “
” تم پچھتائوگے ۔۔۔”
وہ جھنجھلا گیا
” میں نہیں پچھتائوں گا ، اور ویسے بھی وہ ظاہر کررہا تھا کہ وہ شرمندہ ہے “
” اور تم نے یقین کرلیا ؟”
” میں نے کسی اور کے یقین پر یقین کرلیا “
فائل دراز میں نہیں تھی
” وہ تمہیں مارنا چاہتا تھا عیسیٰ “
” میرا نہیں خیال اس کا اب ایسا کوئ ارادہ ہے ، اس کی آنکھوں میں شرمندگی تھی ” اس نے موبائل کاندھے اور کان پر درمیان رکھا اور وارڈروب کھولی
” تمہیں کیسے یقین ہے ؟ بھولو مت اس نے تمہارے اور قرت کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا “
” میں نہیں بھولا اور میں محتاط بھی ہوں لیکن اس کے والد یہاں آئے تھے ” سامان ادھر ادھر کیا
” اور تم نے اس کے باپ کے کہنے پر اسے رہا کروادیا ؟” اسے صدمہ ہوا
” میرے باپ کی عمر کا شخص میرے سامنے ہاتھ باندھ کر کہے کہ میں اس کے بیٹے کو معاف کردوں تو تمہارا کیا خیال مجھے کیا کرنا چاہئے تھا ؟” زین کچھ خاموش ہوگیا
” میں صرف تمہارے لئے فکر مند تھا جو ایک بار قتل کی کوشش کرسکتا ہے وہ بار بار بھی کرسکتا ہے ” وہ کچھ ٹھنڈا ہوا ، عیسیٰ نے قرت کی وارڈروب کھولی ، اسے کچھ ڈاکیومنٹس چاہئے تھے
” اس نے پہلی بار بھی صرف ارادہ کیا تھا ، نہیں میں اسے ڈیفینڈ نہیں کررہا لیکن جلد یا بدیر وہ رہا ہوجاتا ، اگر میرا احسان لے کر رہا ہورہا ہے تو مجھے کوئ مسئلہ نہیں ہے اگر مجھے یقین نا ہوتا کہ اب وہ ایسی حرکت دوبارہ نہیں کرے گا تو میں کبھی کیس خارج نا کرتا ، تم بتائو کامران آفندی کے وکیل کی کالز آئ تھیں مفاہمت کیلئے مجھے “
” ان کا وکیل کوشش کررہا ہے لیکن تم بے فکر رہو میں اگر زین فیاض ہوں تو انہیں باہر نہیں آنے دوں گا “
” میں فکر کربھی نہیں رہا ” اس نے گویا ناک سے مکھی اڑائ ” وہ کم از کم بھی اگلے کئ سال تک جیل سے واپس نہیں آئے گا اور اگر آ بھی گیا تو اس پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ ایسی حرکت دوبارہ کرے “
” اس کا بیٹا باہر ہے عیسیٰ ” زین نے تنبیہہ کی
” اور اس کے بیٹے کو میں اچھی طرح جانتا ہوں وہ اپنے باپ سے محبت کرتا ہوگا لیکن اتنی نہیں کہ خود کو ملنے والے کروڑوں کی پراپرٹی اور پاور پر لات ماردے ، وہ ایک لالچی انسان ہے ایسا لالچی انسان جسے اپنا لالچ اپنے باپ سے زیادہ عزیز ہے ” چیزیں ادھر ادھر کرتے ہوئے اس کی نظر ایک ڈبے پر گئ ، اس نے ایک ہاتھ سے موبائل تھاما اور ڈبہ اٹھایا ،
” خیر یہ تو مجھے بھی اندازہ ہے ، وہ اتنی کوئ خاص کوشش نہیں کررہا اپنے باپ کو چھڑانے کی ، لیکن تم یہ بتائو کہ میڈیا پر خبر تم نے چلائ ہے کامران آفندی کے بارے میں ؟” وہ مشکوک ہوا ، ڈبہ کھولتے ہوئے عیسیٰ رکا ، ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری
” کیا یہ میرے علاوہ کوئ کرسکتا ہے کہ میری اجازت کے بغیر میری پرسنل لائف کی اپڈیٹ کسی کو دے ؟”
” لیکن کیوں ؟ آئ مین جب تمہیں گولی لگی تھی تب بھی تم نے منع کردیا تھا کہ یہ خبر کسی کو نا پتا چلے اور اب۔۔۔” عیسیٰ نے اس کی بات کاٹ دی
” اب یہ کہ زین فیاض ، کامران صاحب کی غلطی یہ ہے کہ انہیں لگتا ہے میں یہ بات صرف پولیس تک محدود رکھوں گا ، انہیں غلط لگتا ہے ، ملک کے معروف بزنس مین کامران آفندی کی عیسیٰ حیات کو مارنے کی کوشش وہ بھی صرف اس وجہ سے کیونکہ وہ ان سے بزنس میں آگے نکل گیا ، جب یہ خبر میڈیا پر چلے گی تو گیس واٹ آفندیز کی عزت اور ان کا بزنس لمحوں میں تباہ ہوجائے گا ، اس صورت میں کامران آفندی جیل سے باہر آگیا بھی تو میں نے کہا نا وہ کچھ نہیں کرپائیں گے ” اس نے وہ سرخ لکڑی سے بنا وہ ڈبہ کھولا
” تم اس معاملے کو کہاں لے جارہے ہو عیسیٰ ؟” زین کو افسوس ہوا
” میں یہ معاملہ ختم کررہا ہوں زین ، شروع ان کی طرف سے کیا گیا تھا ، تم نہیں جانتے کہ کامران صاحب کی وجہ سے میں نے کیا کیا نہیں برداشت کیا ، انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ ہماری کمپنی کی ڈیلز کی انفارمیشن چرا سکیں ، ہمارے ہاتھ سے کئ پراجیکٹ صرف ان کی وجہ سے نکل گئے ، اب جبکہ میری باری تھی تو وہ لمحوں میں کھیل ختم نہیں کرسکتے، حمزہ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوگا کہ وہ بزنس کے جھمیلے اور اپنے باپ کی پھیلائ گئ بدنامی بیک وقت برداشت کرسکے ، اس کی توجہ بٹ جائے گی اور یہی میں چاہتا ہوں ” اس نے سرخ ڈبے میں پڑا لفافہ اٹھایا یہ کیا تھا ؟
” تم واقعی بزنس مین بن گئے ہو پورے ۔۔۔خیر یہ تمہارا مسئلہ ہے جو کرو ، قانونی معاملات میں دیکھ لوں گا اس حوالے سے بے فکر رہو، اور بزنس مین آف دی ایئر کا ایوارڈ ملنے پر بھی مبارک ہو “
” شکریہ ، تم یہ بتائو صوفیہ کہاں ہے ؟”
” وہ ملک سے باہر جارہی ہے ،کل بات ہوئ تھی “
” باہر کیوں ؟” وہ ٹھٹکا
” اسے اپنی الگ دنیا بسانی ہے ،وہ یہاں رہتی تو اذیت میں رہتی ،اچھا ہے وہ دور چلی جائے “
عیسیٰ چند لمحے خاموش رہا پھر زین کو اس کی آواز سنائ دی
” شادی کرلو زین “
” اچھا مشورہ ہے لیکن جلدی ملا ہے ، ابھی مجھے اپنے خواب پورے کرنے ہیں ” وہ اس مشورے کا پس منظر جانتا تھا ،وہ پوچھے گئے دونوں سوال کا پس منظر جانتا تھا
” اس مشورے پر عمل میں دیر ہوجائے گی “
” نہیں ہوگی ، ہر کہانی اپنے وقت پر مکمل ہوتی ہے ،ہر کردار کی ہیپی اینڈنگ کہانی کے اختتام پر کسی کا مل جانا نہیں ہوتا ، بعض کرداروں کی ہیپی اینڈنگ ان کے خوابوں کا پورا ہونا ہوتا ہے ،میں وہی کردار ہوں، اچھا بعد میں بات کرتا ہوں تم سے ،پیکنگ کرلوں ” اس نے عیسیٰ کا خدا حافظ سنتے کال کاٹ دی ، موبائل بیڈ پر رکھا ، اس کے سامنے ڈھیروں سامان بکھرا تھا ،ڈھیروں خواب بکھرے تھے ، اس کی کہانی کا خوشگوار اختتام اس کا منتظر تھا ، ایک طاقتور عہدہ اس کے انتظار میں تھا ، برسوں بعد شاید جب وہ محبت سے پناہ مانگنا چھوڑ دے تو شاید وہ کسی اور ہیپی اینڈنگ کے بارے میں سوچے ،فلوقت اس کی ہیپی اینڈنگ اس کی کامیابی تھی ، زین فیاض کی ہیپی اینڈنگ !
۔دوسری جانب موجود عیسیٰ نے موبائل رکھتے ہوئے اچھنبے سے وہ لفافہ کھولا ، سفید مرجھا چکے سیاہ پڑتے موتیے کے پھول نیچے گرے ، سفید کاغذ اس کے ہاتھ میں آگیا ، اس نے وہ کاغذ کھولا ، گلے میں گلٹی سی ابھری
چار سال پرانا اس کا خط سامنے تھا ، وہ خط جو اس نے قرت کو تب دیا تھا جب وہ ملتان سے جارہا تھا ، جب اس نے ہر نشان مٹا کر چند سوکھے پتے ان راستوں پر رکھ دیئے تھے ، اس کی نظر لفافے کے نیچے پڑی تسبیح پر گئ ، اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ ادھوری ٹوٹی تسبیح اٹھائ ، اس کے نیچے لٹکتا قرت کا ادھورا نام ، سفید چمکتے موتی ، جانے کیا کیا لمحوں میں ذہن میں آیا تھا
تو وہ اب بھی وہ سب سنبھال کر رکھے ہوئے تھی ؟اب بھی ؟ اور پچھلے چار سالوں میں وہ صرف یہی سوچتا رہا کہ اس کا خیال قرت العین کے کسی خیال کا حصہ نہیں ہوگا ، وہ جب کوئ نام سوچے گی تو ان ناموں میں کوئ بھی نام عیسیٰ حیات کا نہیں ہوگا ، وہ ہر شے یاد رکھے گی صرف اسے بھول جائے گی ، یہ خیال اذیت سے زیادہ تھا ، موت سے کم تھا، اس کے دل پر بھاری تھا ،ذہن پر ہر شے سے زیادہ غالب تھا
وہ دھیرے سے نیچے بیٹھا اور سوکھ چکے موتیے کے پھول اٹھائے ، وہ زرد ہورہے تھے یا شاید سیاہ ہورہے تھے
وہ پھول اٹھائے لاکر کی سمت گیا ، لاک کھولا اور اندر پڑی ادھوری تسبیح اٹھائ ، اس کے نام کا دوسرا حصہ اس کے پاس تھا ، وہ دونوں تسبیح کے حصے لئے بالکنی کی طرف گیا ، بالکنی لان کی طرف کھلتی
تھی ، سامنے کرسیوں پر شہوار حیات کے سامنے قرت بیٹھی تھی ، پائوں اوپر کئے ، سر پر دوپٹہ اوڑھے سرخ لباس میں، وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا ، یہ خیال کہ وہ ان چار سالوں میں اسے نہیں بھولی تھی جیسے ہر احساس سے زیادہ خوش کن تھا ، ہر خوشی سے زیادہ عزیز تھا ، شہوار اور حیات کی نوک جھونک سنتے وہ ایک ہاتھ تھوڑی تلے رکھے ہوئے تھی ، آنکھیں پرسکون اور خوش تھیں چہرے پر مسکراہٹ تھی ، عرصے بعد وہ اس کے کسی غم کا سبب نہیں بنا تھا ، عرصے بعد سب ٹھیک تھا ، اب ہر غم اور تکلیف مٹ گئ تھی ، وہ بلآخر خوش تھی
حیات کی کسی بات پر ہنستے ہوئے اس نے لبوں پر ہاتھ رکھا ، بے ریا خالص ہنسی ، عرصے بعد ہی صحیح وہ اس کے ساتھ تھی اور خوش تھی
، شاید اس کی نظروں کا احساس تھا کہ یونہی ہنستے ہوئے اس کی نظر اوپر گئ ، عیسیٰ بالکنی میں کھڑا تھا ، دور سے نظر نہیں آتا تھا لیکن اس کے ہاتھ میں کچھ تھا ، اس نے ایک ہاتھ سے اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا ، اس نے بس ہلکا سا سر کو خم دیا ، وہ دوبارہ سے حیات اور شہوار کی طرف متوجہ ہوگئ تو وہ پیچھے ہٹا ، اس کا سرخ ڈبہ واپس رکھا، تسبیح واپس رکھی اور نیچے کی طرف بڑھا
بلآخر سب ٹھیک تھا !
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ ہمیشہ وہاں سر اٹھا کر آیا تھا ، پہلی بار جھکے سر کے ساتھ بیٹھا تھا ، وہ ہمیشہ وہاں فخر سے آیا تھا پہلی بار ڈھیروں شرمندگی کے ساتھ آیا تھا
دروازے پر آہٹ ہوئ تو وہ چونکا ، ماریہ اندر داخل ہورہی تھی ، سیاہ لباس میں ملبوس ، دوپٹہ سر پر رکھے ،جواد کی نظر اس کے پیچھے گئ ، ابراھیم صاحب ساتھ تھے
” کیا بات کرنی ہے میری بیٹی سے ؟”
ماریہ سے پہلے وہ بیٹھک میں آئے لہجہ اجنبی تھا
” میں آپ کی بیٹی سے نہیں اپنی بیوی سے بات کرنے کرنے آیا ہوں ” نرمی سے کہتے ماریہ کو دیکھا
” طلاق دے چکے ہو اسے تم “
” دو طلاقیں ۔۔۔۔”
” آخری بھی دس دن تک پہنچ ہی جائے گی “
ان کے لہجے میں کوئ لچک نہیں تھی ، سخت اور بے تاثر
” ماریہ ،کیا تم ایک بار میری بات سن سکتی ہو ؟”
” یہاں سے چلے جائو جواد ، اب کچھ باقی نہیں رہا جس پر بات کی جائے ” وہ جانے لگی
” ہمارے درمیان ہماری بیٹی کا تعلق باقی ہے ” وہ رک گئ ، پلٹ کر اسے دیکھا پھر ابراھیم صاحب کو
” اس کا بھی تم سے کوئ تعلق نہیں رہا “
” اس سے جو تعلق ہے وہ تم الفاظ میں ختم نہیں کرسکتیں ، ایک بار اسی کے لئے مجھے سن لو “
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر ابراھیم صاحب کی طرف رخ موڑا
” آپ جائیں ابا ، مجھے اس کی بات سننے دیں “
” ماریہ۔۔۔۔۔”
” پلیز ابا “
وہ خاموش ہوگئے پھر سر اٹھا کر دھیرے سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
” میری بات یاد رکھنا ماریہ ، اس سے ڈرنے یا اس کے دبائو میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ،تمہارا باپ تمہارے ساتھ ہے “
ماریہ کے گلے میں بہت سے آنسو اٹکے ، سر ہلا دیا ،وہ اس شفقت کی سالوں سے منتظر تھی ،ابراھیم صاحب چلے گئے تو وہ جواد کی طرف مڑی ،ساتھ رکھےصوفے پر بیٹھی اور اسے دیکھا
” میں سن رہی ہوں “
” زینب کیسی ہے ؟”
” ٹھیک ہے “
” اور تم ؟”
” تم اب یہ جاننے کا حق نہیں رکھتے “
وہ اگلے کئ لمحے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا
” اگر میں یہ حق واپس لینا چاہوں تو ؟”
اس کا وجود اندر تک ساکن ہوا
” کیا مطلب ؟”
” میں رجوع کرنا چاہتا ہوں ماریہ “
اگلے کئ لمحے خاموشی سے سرک گئے ،پھر ماریہ جھٹکے سے اٹھی
” ہرگز نہیں”
” کیوں نہیں ؟”
” تمہیں یہ سب مزاق لگتا ہے ؟”
” پہلے لگتا تھا اب نہیں “
” وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا
” اب بھی لگتا ہے ، طلاق مزاق نہیں ہے ، جب چاہا دے دی جائے جب چاہا رجوع کرلیا جائے “
” پہلے مزاق ہی لگتا تھا اب نہیں لگ رہا تو صرف ایک موقع مانگ رہا ہوں ،میں تمہارے ساتھ زندگی ایک بار پھر شروع کرنا چاہتا ہوں “
، میری ایسی کوئ خواہش نہیں ہے اب ” وہ غصے سے کہتی جانے لگی جب جواد اس کے سامنے آیا
” زینب کے لئے بھی نہیں ؟”
” مجھے میری بیٹی کا نام لے کر جذباتی کرنے کی کوشش مت کرو “
” جذباتی نہیں کررہا ،سچ کہہ رہا ہوں ، وہ ہم دونوں کی بیٹی ہے ماریہ ، اپنے لئے نا صحیح اس کے لئے ہی صحیح”
” ہم دونوں کو اب تمہاری ضرورت نہیں رہی “
” مجھے ہے “
” تم تب بھی خود غرض تھے اب بھی ہو جواد “
” ٹھیک کہہ رہی ہو ، آج بھی خود غرض ہوگیا ہوں ، بیٹی کی محبت ، بیٹی کا مستقبل ، میں کسی سے نا ہارنے والا شخص اپنی بیٹی سے ہار گیا ہوں “
وہ غصے سے اسی دیکھتی رہی ، گلا آنسو کے باعث درد کرنے لگا
” وہ باپ کے بغیر رہ لے گی “
” کیسے ؟ ساری زندگی دوسروں کے احسان پر ؟ میں اپنی بیٹی کو کسی دوسرے کے احسان تلے نہیں دبا سکتا “
” وہ اس کے اپنے ہیں “
” مجھ سے زیادہ نہیں ہوں گے “
” تمہاری یہ محبت تب کہاں تھی جب مجھے طلاق دی تھی، تب بیٹی کا خیال کیوں نہیں آیا تھا ؟ تب کیوں نہیں سوچا کہ وہ کیسے رہے گی تمہارے بغیر ، وہ تمہاری بیٹی ہے جواد ،تب یہ محبت کہاں تھی ؟ ” اس کی آواز بھرا گئ
” ہمیشہ سے تھی “
” نہیں تھی ، تم اپنی بیٹی کے بھی سگے نہیں بن سکے ، وہ ہر آواز پر تمہیں ڈھونڈتی رہی ، تم نہیں آئے ، تم نے ایک بار بھی فون کرکے اس کا نہیں پوچھا ، یہ محبت تب کہاں تھی ؟”
جواد اس کے بالکل سامنے آیا
” تب بھی تھی ،احساس اب ہوا ہے ، عیسیٰ صحیح کہتا ہے میں زینب کے لئے ڈر گیا ہوں ، مرد بیٹی کے لئے ڈر جاتا ہے ، میرے کئے کی سزا میں اسے نہیں دینا چاہتا “
” وہ تمہارے اعمال کی سزا نہیں بھگتے گی “
اس کا دل ڈرنے لگا ، اسے کمزور نہیں پڑنا تھا ،آج نہیں ، مزید نہیں
” میں اپنے عمل کی سزا بھگت رہا ہوں ماریہ ، غلطیاں ہم دونوں سے ہوئیں ، مجھے نبھانا نا آیا اور تمہیں خود کو بدلنا ، ہم دونوں ایک دوسرے پر طنز کرتے رہے ، سمجھوتہ کرنے کا خیال بہت دیر سے آیا ہے لیکن آ گیا ہے ، غلطی ہم دونوں کی تھی ، اپنی غلطیوں کی سزا زینب کو مت دو ، نا میں دینا چاہتا ہوں”
اس کے آنسو بہہ نکلے ، زندگی میں پہلی بار جواد کریم کو اس کے آنسو سے تکلیف ہوئ
” میں نے آخری حد تک کوشش کی تھی جواد “
” اب مجھے کرنے دو ، ایک موقع دے دو ماریہ ، آخری موقع ، مجھے جو بگڑ چکا وہ درست کرنے دو “
وہ اسے موقع نہیں دینا چاہتی تھی ،وہ عورت تھی ،اس میں عزت نفس تھی ، وہ اسے کہنا چاہتی تھی کہ وہ چلا جائے ، تبھی کھلے دروازے سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی زینب اندر آئ
” بابا ۔۔۔۔۔” وہ چیخ مارتی جواد سے لپٹ گئ ،ماریہ کے آنسو مزید تیز ہوئے ، وہ اپنی بیٹی کو بے چینی سے خود سے لپٹائے ہوئے تھا ،وہ باپ تھا ، صرف ایک لڑکی سے خالص تھا ،اس کی بیٹی ، وہ آنسو صاف کرتی آگے بڑھی اور زینب کو کھینچا
” چلو یہاں سے “
وہ نہیں گئ ،وہ اپنے باپ سے یوں چمٹ کر کھڑی تھی جیسے دنیا کی کوئ طاقت اس کو اپنے باپ سے الگ نہیں کرسکتی
” زینب چلو ” اس کا ضبط ٹوٹنے لگا ، اس کا بازو زور سے کھینچا ، زینب رونے لگی
” ماریہ ، مت تکلیف دو اسے ” کچھ سخت لہجے میں کہتے اس نے ماریہ کا ہاتھ زینب کے بازوں سے ہٹایا
” وہ میری بیٹی ہے ،مجھے مت سکھائو “
زینب اس سے ڈر کر جواد کے پیچھے چھپی ،اس کے چہرے پر تکلیف کے ساتھ بے بسی پھیلی
” زینب کے لئے ہی صحیح ماریہ “
کچھ شکست خوردہ لہجے میں کہتے اس نے بے بسی سے ماریہ کو دیکھا
” زینب چلو “
” مجھے بابا کے ساتھ جانا ہے ” وہ باپ کے پیچھے چھپ گئ ،ماریہ اندر تک ساکن ہوگئ ، وہ ماں کو چھوڑ کر باپ کو چن رہی تھی ،وہ بیٹی تھی وہ باپ کو ہی منتخب کرتی، وہ باپ تھا وہ اسے لے جاتا تب بھی وہ کچھ نا کرپاتی ، شدید ترین بے بسی میں آتے اس نے زینب کو جواد کے پیچھے سے پکڑ کر کھینچا
” میرا اور میری بیٹی کا پیچھا چھوڑ دو جواد کریم ، یوں سمجھو مر گئ ہم دونوں “
وہ روتی زینب کو کھینچتے وہاں سے چلی گئ ، پیچھے جواد کے وجود میں گہری اذیت اترنے لگی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
صحن میں پودوں کی کانٹ چھانٹ کرتے اس کی نظر دروازے پر گئ تو ٹھہر گئ ، صوفیہ سیاہ جینز پر سیاہ ہی ٹی شرٹ پہنے اندر داخل ہورہی تھی ، کچھ تذبذب سے اردگرد دیکھتے ، وہ دوپٹہ کاندھے پہ درست کرتی اس تک آئ
” السلام علیکم صوفیہ “
وہ ٹھٹھکی پھر مسکرائ
” وعلیکم السلام قرت العین”
” کیسی ہیں ؟ اندر چلتے ہیں”
” ٹھیک ہوں ” وہ اس کے ساتھ ہی اندر کی طرف بڑھ گئ ، گھر اس وقت خالی تھا ، سوائے اس کے سب ہی کہیں نا کہیں گئے ہوئے تھے ،وہ صوفیہ کو لائونج میں بٹھاتی کچن میں گئ ، زینت آپا کو کچھ لانے کا کہا اور جب تک واپس آئ وہ وہیں بیٹھی تھی
” گھر پہ کوئ نہیں ہے ؟”
” نہیں ، عیسیٰ اور انکل آفس گئے ہیں ،آنٹی اپنی دوست کی طرف “
صوفیہ نے سر ہلاتے غور سے اسے دیکھا ، گرے کلر کا سادہ سا سوٹ پہنے ،بال کیچر میں باندھے نرم تاثرات والی قرت العین ،اس کے اندر پہلی بار کسی حسد نے سر نہیں اٹھایا
” تمہیں میرا آنا برا تو نہیں لگا ؟”
” مجھے برا کیوں لگے گا ؟” وہ حیران ہوئ
” مجھے لگا تم مجھے ناپسند کرتی ہو “
” نہیں کرتی “
” صوفیہ کچھ خاموش ہوگئ ،وہ نرمی جو اس کے چہرے پر تھی وہ آنکھوں میں بھی نظر آتی تھی
” میں معافی مانگنے آئ تھی “
” کس لئے ؟”
” میں نے تمہیں کافی تنگ کیا “
” آپ نے تنگ نہیں کیا تھا ، آپ نے صرف وہ کیا جو آپ کا دل کہتا تھا “
” اور میرا دل کہتا تھا کہ قرۃ العین عیسیٰ کو چھوڑ دے ” وہ سوگوار سا مسکرائ ، قرت لمحے بھر کو خاموش ہوگئ
” آپ نے صرف چاہا تھا صوفیہ”
” کوشش بھی کی تھی، تمہیں نفرت ہوگی نا مجھ سے ؟ “
” جو کوشش کی تھی وہ کافی نہیں تھی ، اور میں نے آپ کیلئے دل میں کوئ نفرت نہیں رکھی ہوئ ، پہلے ناپسندیدگی تھی اب وہ بھی نہیں ہے ،میں آپ کو سمجھ سکتی ہوں صوفیہ “
” تم نہیں سمجھ سکتیں قرت ، تم میرے دل کو نہیں سمجھ سکتیں “
اس کا دل دکھا ، وہ دونوں ایک ہی مرد کو چاہتی تھیں ، بھلے ہی وہ صوفیہ کی عیسیٰ کے لئے پسندیدگی سے واقف تھی لیکن پھر بھی اسے دکھ ہوا
” ٹھیک کہتی ہیں ، ہم ہر کسی کے دل کو نہیں سمجھ سکتے ،میں بھی آپ کے دل کو نہیں سمجھ ، لیکن میں اس دل کو پسند کرتی ہوں “
” تسلی دے رہی ہو ؟”
” نہیں ، آپ کا دل خالص ہے صوفیہ ، آپ نے جو کیا اس پر پشیمان ہیں، آپ وہ سب دہرانا نہیں چاہتیں ،یہ دل کا خالص ہونا ہی تو ہے ، میرا رویہ بھی آپ کے ساتھ اچھا نہیں رہا ،میں اس کے لئے معافی چاہتی ہوں “
” تم حق بجانب تھیں کہ تم مجھے ناپسند کرو “
” نہیں تھی ، جانے کیسے دل میں آپ کو لے کر ناپسندیدگی آگئ ، جیسے آپ کے دل میں آگئ میرے لئے ،لیکن شاید ہم کسی کے پسندیدہ نہیں بن سکتے ، ہر شخص ہمیں اپنی نظر سے دیکھتا ہے ،میں نے آپ کو اپنی نظر سے دیکھا ،آپ نے مجھے اپنی نظر سے ،ہم نے ایک دوسرے کی خامیاں دیکھیں اور خوبیاں بھلا دیں “
صوفیہ اسے دیکھتی رہی ،اسے پہلی بار احساس ہوا عیسیٰ خوش نصیب تھا
” میں انگلینڈ جارہی ہوں “
وہ چونکی
” کس لئے ؟”
” میرا ایک خواب تھا قرت کہ میں دنیا گھوموں ،پھر اس خواب کو ایک اور خواب نے دھندلا دیا ، ایک خواب ٹوٹا تو دوسرا یاد آگیا ، اب وہی پورا کرنا چاہتی ہوں “
وہ جس خواب کا کہہ رہہ تھی وہ اسے جانتی تھی
” آپ کو نہیں جانا چاہئے ” اسے دکھ ہوا
” اب نا گئ تو کبھی نہیں جاسکوں گی ، دل کو مضبوط کرلیا ہے اب ” وہ ہلکا سامسکراتی اٹھی تو قرت کو بھی اٹھنا پڑا
” آئ ایم سوری صوفیہ اگر کبھی میں نے آپ کو ہرٹ کیا ہو تو “
” تم بھی معاف کردینا قرت ، اور عیسیٰ سے بھی کہنا کہ وہ مجھے معاف کردے ” اس نے سر ہلادیا پھر آگے بڑھی اور دھیرے سے اسے گلے لگالیا ،صوفیہ ساکت ہوئ
” آپ کا دل سبز رہے ہمیشہ “
وہ دعا دے رہی تھی ، صوفیہ کا گلا رندھ گیا ، اس کا دل اب صدا بنجر رہتا ،وہ غلط دعا دے رہی تھی ، قرت کو گلے لگا کر ہٹتے وہ ہلکا سا مسکرائ
” میں تمہیں اپنے سفر کی کہانی سنائوں گی واپسی پر “
” میں منتظر رہوں گی ” وہ مسکرائ ، دل صاف ہو گیا ، جو تھا سب دور کردیا ،ہر نفرت ہر ازیت ، صوفیہ نے ہلکا سا اس کا ہاتھ تھپتھایا
” تم دونوں کو تم دونوں کا ساتھ مبارک ہو !” قرت بس ہلکا سا مسکرائ ، وہ وہاں مزید نہیں رکی ، اسے وہاں سے جانا تھا ، وہ جو قرت سے معافی مانگنے آئ تھی جاتے وقت اسے احساس ہوا وہ لاشعوری طور پر عیسیٰ کو آخری بار دیکھنے آئ تھی ،آخری ملاقات ،شام کو اس کی فلائٹ تھی ، لیکن شاید یہ آخری ملاقات ہونی لکھی ہی نہیں تھی ، اس کے قدم گھر سے دور ہوتے گئے ،کسی کی زندگی سے بھی دور ہوتے گئے ، اسے نئ زندگی شروع کرنی تھی ،نئ شروعات !
