Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 16)
Nahal By Fatima Noor
تھکے قدموں سے گھر میں داخل ہوتے ہی اسے سب سے پہلے ابا کے چیخنے کی آواز آئ تھی ٫ لائونج میں داخل ہوتے اس کے قدم وہیں رک گئے
” میں جیسے جانتا ہی نہیں ہوں تمہارے بھائ کو ٫ ایک نمبر کا دھوکے باز ہے وہ ٫ کس کی اجازت سے پیسے دیئے ہیں تم نے اسے “
وہ سامنے مجرموں کی طرح سر جھکا کر کھڑی اماں سے کہہ رہے تھے
” اسے ضرورت تھی۔۔۔۔”
” جھوٹ بولتا ہے ٫ کیسی ضرورت ؟ اپنی بیوی کا زیور بیچ کر بھی شروع کرسکتا تھا وہ کاروبار ٫ میرے مال پر کیوں نظر رکھی ہوئ تھی “
” آپ کو ان کی فی الحال ضرورت نہیں تھی ۔۔۔” بلقیس منمنائیں
” تو کیا تم کسی کو بھی اٹھا کر دےدو گی؟….”
امی خاموشی سے آنسو بہائے گئیں ٫ ابو لڑتے رہے ٫ گالیاں ٫ طعنے ٫ طنز ہر شے اس کے ماموں کو دے ڈالی اور وہ وہیں لائونج کے سرے پر کھڑی سب دیکھے گئ
“دو دن ہیں بلقیس بیگم ٫ دو دن ٫ مجھے میرے پیسے واپس چاہئیں ٫ ورنہ اپنے اسی بھائ کے گھر چلی جانا تم “
وہ وہاں سے چلے گئے تو آنسو ضبط کرتی بلقیس کی نظر دروازے میں ٹھہری ماریہ پر پڑی
” اب کیا ہوا ہے ؟”اس کے لہجے میں تھکن تھی
” تمہارے ماموں کو پیسے دیئے تھے کاروبار شروع کرنے کیلئے ٫ اسی پر خفا ہورہے تھے”
وہ چند لمحے دروازے میں کھڑی آنسو پونچھتی اپنی ماں کو دیکھتی رہی پھر اندر کی طرف بڑھ گئ ٫ اندر آکر بیگ بیڈ پر رکھا اور خود چت لیٹ گئ ٫
یہ جیسے روز کا منظر تھا ٫ اس کے باپ کو اس کی ماں کو ذلیل کرنے کا موقع چاہئے ہوتا بس ٫ چاہے وہ سالن میں مرچیں کم ڈالنے یا زیادہ ڈالنے پر ہی کیوں نا ہو ٫ بچپن سے اپنے گھر کا یہ منظر دیکھنے کی عادت تھی ٫ عادت اگر نہیں تھی تو اس تکلیف کی نہیں تھی جو اسے ہربار ہوتی ٫ اس کا بس چلتا تو اس گھر سے غائب ہوجاتی ٫ اپنے گھر کی اکلوتی بیٹی ہونے کا اگر اسے کوئ فائدہ ہوا تھا تو بس اتنا کہ اسے ہر سہولت میسر تھی ٫ ابا کو لگتا وہ اس کی خواہشیں پوری کرکے اس سے محبت کا حق ادا کررہے ہیں ٫ اسے وہ بہت سی آذادیاں حاصل تھیں جو اس کی ماں کو حاصل نا تھیں ٫ جو خواہش ہوتی وہ ایک حد کے اندر پوری کردی جاتی ٫ جو غلطی ہوتی حد سے باہر سزا دی جاتی ٫ انہوں نے بہت خوبصورتی کے ساتھ اسے آذادی دے کر قید کر رکھا تھا
اس سب کے باوجود وہ اپنے باپ سے محبت تو کرتی تھی لیکن ان کی عزت سے زیادہ ان کا ڈر اس کے اندر تھا ٫ وہ کچھ غلط کرے گی اور وہ اسے سزا دیں گے ٫ جانے غصے میں ماردیں یا کسی ایرے غیرے سے بیاہ دیں گے ٫ یہ خوف بچپن سے اس کے اندر بیٹھ گیا تھا ٫ وہ باپ تھے اس کے باوجود بھی وہ ان سے ڈرتی تھی ٫ وجہ وہ زلالت تھی جو اس نے آئے روز اپنے باپ کے ہاتھوں اپنی ماں کی دیکھی تھی ٫ اسے اپنے باپ جیسا بڑا بھائ ملا تھا ٫ غیرت مند ٫ غصے کا تیز اور شکی مزاج ٫ وہ اور اس کا چھوٹا بھائ جانے کیسے ماں پر چلے گئے
٫ ماری۔۔۔۔۔” سوچوں کا سلسہ ٹوٹ گیا ٫ کمرے کے دروازے میں کھڑا حاشر اسے پکاررہا تھا
” کیا ؟”
وہ سستی سے اٹھ کر بیٹھ گئ
” میری وہ پرانی انسٹا آئ ڈی تمہارے پاس ہے نا ؟”
” ہاں۔۔۔۔تو ؟”
” اس کا پاسورڈ مجھے دے دینا کل ٫ فیصل کو دینی ہے “
حجاب اتارتا اس کا ہاتھ تھم گیا
” اسے کیوں دینی ہے ؟”
” اس نے مانگی تھی ٫ کافی پرانی آئ ڈی ہے تو کسی کام آتی ہے اس کی ” وہ لاپرواہی سے کہہ رہا تھا ٫ ماریہ کو یاد آیا اس ںے عیسیٰ کو میسج کیا تھا
” اور میرا کیا ؟”
” تم میری لاگ آن کرلینا اپنے پاس ٫ دیکھتی تو بس ریلز ہی ہو ..”
” اچھا ٹھیک ہے ٫ کل پرسوں تک دے دوں گی ٫ مجھے اس کا سارا ڈیٹا چیک کرنے دو “
حاشر چلا گیا تو اس نے میز پر پڑا موبائل اٹھایا ٫ عیسیٰ کا میسج آیا ٹھہرا تھا وہ کچھ دیر اس کا میسج دیکھتی رہی
آہ قرۃ العین ! اسے احساس تک نہیں تھا قسمت اس پر کتنی مہربان ہوئ تھی ٫ اگر اسے ایسا موقع ملتا تو وہ پہلی فرصت میں اس جہنم سے چھٹکارا حاصل کرتی ٫ اور ایک وہ تھی جو جانے کیوں ڈر رہی تھی ٫
” آپ کو قرت کے سلسلے میں میری کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتائیے گا “
میسج سینڈ کرکے وہ عبایا اتارنے لگی ٫ اگر قرت اپنے پیر پر کلہاڑی مار رہی تھی تو وہ اسے کم از کم روکنے کیلئے اتنا تو کرہی سکتی تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ اگلے دن پھر وہیں ٹھہرا تھا ، اس نے اپنے ساتھ موجود مہرالنساء کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور اس تک آئ
” کیا آپ تب تک میرا پیچھا کرتے رہیں گے جب تک کسی کو علم نہیں ہوجاتا “
اس کا لہجہ سپاٹ تھا
” میں آپ کو تنگ نہیں کرنا چاہتا “
وہ سرجھکائے مدھم سا بولا
” لیکن آپ کررہے ہیں “
” ایم سوری ۔۔”
” دیکھیں مسٹر آپ کا اس طرح روز یہاں ٹھہرنا سب کو شک میں مبتلا کردے گا، کیوں مجھے رسوا کرنا چاہتے ہیں ۔۔”
وہ بے بسی سے کہہ رہی تھی
” آئ سویر میرا ایسا کوئ ارادہ نہیں ہے “
” یہاں کیوں کھڑے ہیں پھر ؟”
” میں یہاں آپ کیلئے آیا تھا “
” مت آیا کریں۔۔۔۔۔ “
” میں یہاں ملتان آپ کیلئے آیا تھا ، اسلام آباد سے اتنی دور ” اس نے جیسے قرت کی بات سنی ہی نہیں تھی ” آپ سے ہوئ ان دو ملاقاتوں نے میرے دل کے ساتھ کیا کیا آپ نہیں جانتیں ، میں ہر روز کسی مدرسے کے باہر جاکر آپ کو ڈھونڈنے لگا، ہر بھوری آنکھ مجھے آپ کی آنکھ لگنے لگی ، ہر روتی ہوئ آنکھ میں موجود آنسو آپ کی یاد دلانے لگے ، میں نے آپ کی تسبیح اب تک اپنے پاس رکھی ہوئ ہے ، کیونکہ اس کے ساتھ میرے دل کا ایک حصہ جڑا ہے ، “
” میری تسبیح واپس کردیں “
” جس دن آپ کا جواب مل گیا اس دن واپس کردوں گا تب تک اسے امید کی صورت میرے پاس رہنے دیں “
” کس چیز کا جواب چاہئے آپ کو ؟”
” میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں قرت العین “
وہ اس کی بات کاٹ کر بولا تو وہ رک گئ ، اردگرد سب ساکن ہوگیا ، جبکہ اپنی بات کہہ کر عیسیٰ کی نظر بے ساختہ قرت کے ہاتھوں کی طرف گئ
( اس طرح سڑک پر کھڑے ہوکر پرپوز کروگے تو وہ رکھ کر ایک تھپڑ لگائے گی تمہیں )
وہ اسے چند لمحے دیکھتی رہی پھر اس نے فیصلہ کن گہری سانس لی
” میرا رشتہ طے ہوچکا ہے “
عیسیٰ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا
” یہ مذاق ہے ؟”
” وہ میرے تایا کا بیٹا ہے ، ہماری نسبت بچپن سے طے ہے “
عیسیٰ اسے دیکھے گیا بنا پلک جھپکے ، بنا اگلا سانس لئے ، یہانتکہ قرت کو لگا اس میں جان باقی نہیں رہی ، وہ اس کے دل میں جھانکتی تو جان جاتی کہ اس میں واقعی جان باقی نہیں رہی تھی
” عیسیٰ ۔۔۔”
وہ بے ساختہ اسے پکار بیٹھی ، عیسیٰ نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے
” یہ مذاق ہے ۔۔۔کہہ دیں یہ مذاق ہے “
وہ یوں کہہ رہا تھا جیسے اگر اس نے جواب میں ” ہاں یہ مذاق ہے ” نا کہا تو وہ مر جائے گا
” یہ مذاق نہیں ہے ” قرت العین نے عیسیٰ حیات کو مرنے دیا ۔۔۔۔” میں آج آخری بار اس راستے سے گزری ہوں ، میں چاہوں گی آپ بھی آخری بار مجھے اس راستے پر ملیں ، میں کسی اور کی امانت ہوں عیسیٰ ، بہتر ہوگا واپس چلے جائیں ” وہ پلٹنے لگی لیکن رک گئ ” میں خدا سے دعا کروں گی کہ آپ کا دل مجھے بھلادے ٫ جس چیز کی آپ خواہش لئے پھر رہے ہیں وہ آپ کے لئے نہیں لکھا گیا “
وہ بنا اس پر دوسری نظر ڈالے آگے بڑھ گئ ، بعض نظریں پتھر کردیتی ہیں، وہ پتھر نہیں ہونا چاہتی تھی ، لیکن وہ کسی اور کو پتھر کا کر گئ تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زین نے اسے دور سے آتے دیکھا تھا ، وہ یوں چل رہا تھا جیسے صدیوں کا فاصلہ طے کرکے آرہا ہو، جیسے صدیوں کا فاصلہ رہتا ہو اور وہ تھک گیا ہو ، اس کے چہرے پر کچھ تھا کہ وہ ٹھٹھک کر آگے بڑھا
” کیا ہوا ؟”
” چابی ۔۔”
عیسیٰ نے اپنا ہاتھ آگے کیا
” عیسیٰ ۔۔سب ٹھیک ہے ؟ کیا ۔۔”
” چابی زین”
وہ ضبط کررہا تھا
” عیسیٰ ۔۔”
اس نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے چابی پکڑی اور گاڑی میں بیٹھا ۔۔بنا کچھ دیکھے گاڑی چلادی ۔۔زین پیچھے سے اسے پکارتا رہ گیا لیکن اس نے نہیں سنا ، گاڑی کی سپیڈ خطرناک حد تک بڑھا کر وہ انجان راستے پر چلا گیا ، بنا کسی راستے کا علم ہوئے بنا کسی منزل کا تعین کئے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” قرت کہاں ہے ماریہ ؟”
رجسٹر پر کچھ لکھتی ماریہ نے سر اٹھا کر حریم کو دیکھا
” وہ تو نہیں آئ آج “
” آئ تھی ، میں نے خود دیکھا تھا ، وہ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی “
وہ گیٹ سے سیدھا کلاس میں آئ تھی ، راستے میں اس نے قرت کو دیکھا تھا، وہ نظریں نیچے کئے دھیمے قدموں سے چل رہی تھی، اس کا خیال تھا وہ سیدھا کلاس میں آئ ہوگی لیکن وہ یہاں نہیں تھی ، ان کا آج آخری دن تھا ، آمین کی رسم ہونی تھی تو وہ کتابیں لے کر نہیں آئے تھے
” اچھا چلو ہم ڈھونڈتے ہیں، ہال میں ہوگی شاید ۔۔تیاریاں کروارہی ہوگی ” وہ اسے تسلی دیتی اس کے ساتھ چلنے لگی
ہال میں دیکھا لیکن وہ وہاں نہیں تھی ، چند لڑکیوں سے پوچھا بھی لیکن کسی کو علم نہیں تھا ، مدرسہ چار منزلہ تھا ، تیسری منزل پر بھی قرت انہیں نا ملی، انہوں نے لائبریری تک چھان ماری تھی لیکن وہ کہیں نہیں تھی
حریم کو اب فکر ہونے لگی تھی
” چھت پر دیکھ لیتے ہیں “
وہ سر ہلاتی ماریہ کے ساتھ چھت کی طرف بڑھ گئ ، چھت خالی تھی ، سوائے کچھ سامان کے وہاں کچھ نہیں تھا ، وہ پلٹنے لگیں جب دائیں جانب سے کسی کھٹکے کی آواز آئ ، چھت مستطیل تھی لیکن دائیں طرف تھوڑی سی مڑ جاتی تھی ، وہ تیزی سے اس طرف گئیں تو قرت سر گھٹنوں پر رکھے خاموشی سے سامنے دیکھ رہی تھی ، حریم نے گہری سانس لے کر اسے دیکھا
” کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تمہیں ، اور تم یہاں بیٹھی ہو ؟”
وہ چونکی اور پھر سیدھی ہوگئ
” کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتی تھی “
” کس خوشی میں؟”
وہ دونوں اس کے سامنے بیٹھ گئیں
” ویسے ہی۔۔۔۔ “
” کچھ ہوا ہے ؟”
حریم مشکوک ہوئ
” نہیں ۔۔” وہ دونوں کچھ دیر اسے گھورتی رہیں ، قرت نے نظریں چرائیں
” کیا ہے بھئ ؟”
” تمہیں پتا ہے تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا “
وہ کچھ کہے بغیر اپنے ہاتھوں کو اور حریم اور ماریہ اسے دیکھتی رہیں ، وہ منتظر تھیں کہ وہ کچھ کہے گی
” کیا مجھے واقعی جھوٹ بولنا نہیں آتا؟”
کچھ دیر خاموشی رہنے کے بعد اس نے بہت دھیرے سے پوچھا
” نہیں ” وہ بیک زبان بولیں ، قرت خاموش رہی
” تم بتارہی ہو یا ہم ناراض ہوکر جائیں یہاں سے ؟”
وہ ہاتھوں کو دیکھتی رہی پھر چہرہ اٹھا کر ان دونوں کو دیکھا
” وہ آج کہہ رہا تھا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے “
” کون ؟ عیسیٰ ؟” ماریہ قدرے شاک سے کہتی آگے کو ہوئی
” ہاں۔۔۔ “
” تم نے کیا کہا ؟”
” منع کردیا “
” کیا ؟” ماریہ چیخی
” ہاں ۔”
” اففف ، قرت ، یہ کیا کیا ؟”
” اور کیا کرتی ؟”
” ہاں کرتی اور کیا کرتی ” اسے غصہ چڑھا ، حریم البتہ خاموشی سے قرت کو دیکھ رہی تھی
“نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔۔ وہ غلط سوال غلط انسان سے کررہا تھا ،”
” سوال صحیح تھا ، انسان واقعی غلط تھا “
” ٹھیک ۔۔۔پھر جب انسان غلط تھا تو وہ صحیح جواب کی توقع کیسے کرسکتا تھا ؟”
” اف لکم قرت اف لکم ( افسوس ہے تم پر قرت افسوس ہے ) ، تم بھول گئ وہ تمہارے لئے یہاں آیا تھا ، اسلام آباد سے یہاں صرف تم سے ملنے ” قرت نے آنکھیں بند کیں اور پھر کھول کر اسے دیکھا
” میری بات سنو ، وہ یہاں اپنی مرضی سے آیا تھا ، میں نے اسے اپنے پیچھے آنے کیلئے نہیں کہا تھا ، میں نے آج تک ضرورت کے علاوہ اپنے کزنز سے بھی بات نہیں کی ، تم مجھ سے یہ توقع کیسے کرسکتی ہو کہ میں ایک نامحرم کی حوصلہ افزائ کروں ؟”
ماریہ خاموش ہوگئ پھر جب بولی تو اس کی آواز دفاعی تھی
” حوصلہ افزائ کا تھوڑی کہا ہے ، صرف شادی کیلئے ہاں کردیتیں “
” یہ ناممکن ہے ، میں نے پہلے بھی کہا تھا تم ہمارے خاندان کو نہیں جانتیں ، وہ مجھ پر ایسے الزامات لگائیں گے کہ میں اپنی صفائی بھی پیش نہیں کرسکوں گی ، میرے باپ کی داڑھی اور ماں کے سر کے بال سفید ہورہے ہیں ، تم چاہتی ہو میں ان کے بالوں کی سفیدی کو ذلت کی سیاہی سے بدل دوں؟ ، اس کا رشتہ آیا تو مجھ پر سو سوال اٹھیں گے ، میرا باپ لوگوں کو نماز پڑھاتا ہے ، میں اس کو شرمندہ نہیں کرسکتی “
اس کی آواز سخت تھی
” مگر قرت ۔۔”
” بس ، اب اس بارے میں کوئ بات نہیں ہوگی ” وہ ہاتھ اٹھا کر سختی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئ ” نیچے چلنا ہے یا میں اکیلی جائوں ؟”
” جائو تم لوگ ، میں یہیں ہوں ” وہ خفگی سے کہتی چہرہ پھیر گئ
قرت اس کی خفگی کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھ گئ حریم البتہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئ تھی ،وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے نیچے بڑھ گئیں
” اوپر اکیلی کیوں بیٹھی تھیں ؟”
” ویسے ہی ، کچھ وقت خود کو دینا چاہتی تھی ” وہ آگے بڑھنے لگی لیکن حریم کے سوال پر رک گئ
” تمہارے انکار پر اس کا کیا رئیکشن تھا ؟”
قرت نے رخ موڑ کر اسے دیکھا ، نظروں کے سامنے اس کا زرد پڑتا چہرہ گھوم گیا
” میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں کو تاریک پڑتے دیکھا ہے حریم “
اس کا لہجہ مدھم تھا ، وہ غصہ اور سختی غائب تھی
” اور اب وہ آنکھیں تم اپنے ذہن سے نہیں نکال پارہیں ؟” اس نے جھکا سر ہلایا
” میں خود کو معاف نہیں کرپارہی ، “
” نہیں قرت العین ۔۔” قرت نے سر اٹھا کر خود سے دو سیڑھی اوپر کھڑی حریم کو دیکھا ” وہ آنکھیں تم ذہن نہیں دل سے نہیں نکال پارہیں ، “
وہ ساکت رہ گئ
” ایسا ۔۔ایسا نہیں ہے جو تم سوچ رہی ہو “
” جانتی ہو تم اوپر کیوں بیٹھی تھیں ؟ اس لئے نہیں کہ تم نے اسے انکار کیا ، بلکہ اس لئے تمہارے انکار نے تمہاری آنکھوں کی روشنی بھی بجھادی ہے ، “
” حریم تم غلط سوچ رہی ہو “
” تم دعا کرو قرت کہ میں غلط سوچ رہی ہوں ، ورنہ پھر دعا کرو کہ تم پر اس کی محبت کوئ آزمائش نا لائے ، کیونکہ تمہاری آنسو ضبط کرتی آنکھیں مجھے بتارہی ہیں کہ آنکھیں صرف اس کی ہی تاریک نہیں پڑیں “
وہ اس کی سائیڈ سے ہوکر نکل گئ اور قرت وہیں کھڑی رہ گئ ، ساکت۔۔جامد
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ حریم کے ساتھ باہر نکلتے ہوئے نظریں اردگرد دوڑا رہی تھی ، کبھی کبھی ابا اسے لینے آجاتے تھے اور کبھی کبھی وہ رکشے پر چلی جاتی ، ابا آج نہیں آئے تھے سو اسے رکشے پر ہی جانا تھا
یہ تبھی تھا جب اس کی نظروں نے اسے دیکھا تھا ، گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑے ہاتھ پاکٹ میں تھے اور وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ، قرت کا سانس رکا ، بے اختیار حریم کا ہاتھ زور سے تھاما
” کیا ہوا ؟”
وہ جواب دینے کی بجائے سامنے دیکھے گئ ، حریم کی نظریں اس کے تعاقب میں گئیں ، سامنے سیاہ سوئیٹر اور جینز میں ملبوس لڑکا قرت کو دیکھ رہا تھا ، چہرہ بے تاثر تھا
” عیسیٰ ؟”
اس نے سر ہلادیا ، چند گہرے سانس لئے اور آگے بڑھ گئ ،حریم اس کے ساتھ ہی تھی ، دل ڈر رہا تھا اگر اس نے روک لیا تو ، وہاں سب اس کے مدرسے کی لڑکیاں تھیں ، اردرگرد رکشہ کچھ گاڑیاں اور موٹر سائیکلز کا ہجوم تھا ، وہ بمشکل عیسیٰ کی گاڑی کے قریب پہنچی تھیں جب وہ ایک جھٹکے سے اس کے سامنے آیا ،قرت رک گئ
” بات کرنی یے آپ سے “
اس نے ایک نظر حریم کو دیکھا اور دوسری اردگرد ڈالی کوئ ان کی طرف متوجہ نہیں تھا
” کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں ؟ “
آواز غصے سے کانپی
” میں ساری عمر آپ کے پیچھے رہوں گا قرت اگر آپ نے میری بات نا سنی تو “
اس کا لہجہ اٹل تھا ، وہ کچھ دیر اسے بے بسی سے دیکھتی رہی پھر حریم کو وہیں رکنے کا اشارہ کرتی بائیں طرف بڑھ گئ ، وہاں ایک چنار کا موٹا درخت تھا
” کہیں۔۔۔۔۔ ” وہ درخت کے سائے میں کھڑی ہوکر اس سے پوچھنے لگی
” آپ اپنے کزن کے رشتے سے منع کردیں “
اس کا دماغ بھک سے اڑا
” دماغ ٹھیک یے آپ کا ؟”
” نہیں ، اور بخدا جب میرا دماغ خراب ہو تو میں کیا کرتا ہوں آپ کو اس کا اندازہ نہیں ہے “
” مجھے دھمکیاں مت دیں “
” میں کر کے دکھا سکتا ہوں “
” کیا کریں گے ہاں ؟” وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر دو قدم آگے ہوا
” مر کر بھی دکھا سکتا ہوں اور مار کر بھی “
” تو پھر مر جائیں یا مجھے مار دیں ” اس کی آواز بلند ہوئ ” لیکن میرا پیچھا چھوڑدیں ، یہ اذیت مجھے ایک دن ویسے ہی مار دے گی “
” ایک بار صرف ایک بار میری تسلی سے بیٹھ کر بات سن لیں ، “
” ہرگز نہیں۔۔۔۔ “
عیسیٰ کے چہرے پر ضد اتری
” اپنی مرضی سے یا زبردستی لیکن آپ کو میری بات سننی ہوگی قرت ، میں اس کے بغیر یہاں سے نہیں جائوں گا ، بخدا آپ واقف نہیں ہیں کہ میں کس قدر ضدی انسان ہوں ” وہ سخت لہجے میں کہتا وہاں سے چلا گیا ، اس کے دل میں ڈر سا ابھرا ، اتنے عرصے میں پہلی بار تھا جب اسے عیسیٰ سے خوف محسوس ہوا تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” یعنی تمہاری کہانی میں ولن کی اینٹری بھی ہوگئ ” زین نے پوری رواداد سن کر بس اتنا ہی کہا
” اس ولن کو تو میں دیکھ لوں گا ، پتا نہیں کہاں سے آگیا ہے یہ منگیتر “
” شکر کر شوہر نہیں ہے “
عیسیٰ نے گھور کر اسے دیکھا
” کوئ مشورہ نہیں دے سکتے تو چپ رہو “
” مشورہ کیا دینا ہے ، تم بس حکم کرو میں چند گھنٹے میں یہ مسئلہ حل کردوں گا “
” کیا کرو گے ؟”
عیسیٰ نے آنکھیں سکیڑ کر مشکوک انداز سے اسے دیکھا
” ویری سمپل دو چار بندے بلا کر اٹھوالیتے ہیں اس منگیتر کو “
” غنڈہ سمجھ رکھا ہے مجھے؟ “
” نہیں۔۔۔۔۔لیکن تم مجھے سمجھ سکتے ہو “
” جائو یارر ، دیکھ لوں گا میں “
اس نے بدمزہ ہوکر ہاتھ جھلایا تو زین کاندھے اچکا کر موبائل میں گھس گیا
عیسیٰ اٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گیا ٫ موسم کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا یوں لگتا تھا جیسے ٹھنڈک ہڈیوں تک اتر گئ ہو ٫ وہ اس ٹھنڈک سے بے نیاز مسجد کی سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر آگیا ٫ ٹھنڈک کے ساتھ اور بہت کچھ تھا جو اندر تک اتر گیا تھا ٫ چھت کے اختتام پر ٹھہر کر اس نے سامنے دیکھا وہاں سے سارا علاقہ نظر آتا تھا ٫ کچے پکے راستے ٫ ڈھیروں درخت ٫ سبزے میں بسا ملتان ٫
ان کچے راستوں میں سے ایک راستہ قرت کے گھر تک جاتا تھا ٫ اس رستے نے کئ دن عیسیٰ کو خود پر چکر لگاتے دیکھا تھا ٫ کئ بے چینیوں میں اسے گھرا دیکھا تھا اور جو بے چینی آج اس کے اندر تھی وہ ؟
گہری سانس لے کر اس نے آسمان کو دیکھا ٫ دل میں جو کچھ چل رہا تھا وہ دل تک رہ گیا تھا ٫ یوں جیسے کوئ دھیرے دھیرے دل کاٹ رہا تھا ٫ یہ خیال کہ وہ کسی اور کے نام سے منسوب تھی ٫ ہر شے پر بھاری تھا ٫ ہر تکلیف سے زیادہ تھا
موبائل نکال کر اس نے ماریہ کے ساتھ چیٹ کھولی٫ لڑکے کے نام سے بنی آئ ڈی ٫ اسے شک سا تھا کہ جانے وہ قرت کی دوست تھی بھی یا نہیں ٫
اس کا میسج آیا ٹھہرا تھا
” آپ کو قرت کے سلسلے میں میری کوئ مدد چاہئے ہو تو بتائیے گا “
اس کے ہاتھ جوابی ٹیکسٹ ٹائپ کرنے لگے
” میں کیسے بھروسہ کروں آپ پر ؟”
” بھروسہ ؟ کس چیز کا بھروسہ “
وہ آنلائن تھی
” میرا مطلب ہے ۔۔” اسے سمجھ نہیں آئ آگے کیا کہے ، اسے بس کسی تیسرے انسان کو بیچ میں گھسانا مناسب نہیں لگ رہا تھا
” یہ آئ ڈی کس کی ہے ؟”
” میرے بھائ کی ۔۔۔۔۔آپ کو شک ہے کہ میں قرت کی دوست ہوں یا کوئ اور ؟”
عیسیٰ چند لمحے اس کا میسج دیکھتا رہا ٫ اسے اندازہ نہیں تھا وہ سمجھ جائے گی
” کال کرسکتا ہوں آپ کو ؟”
” میں نمبر نہیں دوں گی “
اس نے ابرو اچکا کر اس میسج کو پڑھا ، نمبر مانگا کس نے تھا ؟
” میں نے انسٹا پر کال کرنے کا کہا ہے “
“اچھا رکیں دو منٹ… “
وہ دو منٹ تک رک گیا ، لیکن جب دو سے اوپر ہوگئے تو اس نے چیٹ کھولی ، تیسرا منٹ شروع ہونے سے پہلے ماریہ کی کال آگئ
” معذرت میں چھت پر آگئ تھی “
وہ ہانپ رہی تھی شاید بھاگ کر آئ تھی
” ریلیکس ۔۔۔ سانس لیں گہری ” اس نے چند لمحے خود کو پرسکون کیا پھر بولی
کس بھروسے کی بات کررہے ہیں آپ ؟ ، آپ کو بھروسہ کرنا ہے تو کریں ورنہ میں مزید وضاحت نہیں دوں گی ٫ ایک تو میں رسک اور گناہ لے کر آپ سے بات کررہی ہوں اور آپ کو ابھی بھی مجھ پہ شک ہے ؟ ” وہ خفگی سے کہہ رہی تھی
” اوکے اوکے لیڈی ، میں نے ویسے ہی کہہ دیا تھا لیو دس ٹاپک ، آپ میری مدد کیوں کرنا چاہتی ہیں ؟”
” ” دیکھیں عیسیٰ میں صرف قرت کا بھلا چاہتی ہوں ، اس کا کزن جواد جس کے ساتھ اس کے رشتے کی بات چل رہی ہے ایک نمبر کا فالتو انسان ہے، قرت کی زندگی برباد ہوجائے گی اس کے ساتھ ،میں صرف اپنی دوست کی خیر چاہتی ہوں اور کچھ نہیں “
” بات چل رہی ہے ؟ قرت کہ رہی تھیں کہ ان کا رشتہ ہوچکا ہے “
وہ چونکا تھا
” آااں ۔۔میں نہیں جانتی اس بارے میں، شاید ایسا ہی ہو ” وہ رکی۔۔۔ ” اگر ایسا ہے تو ۔۔۔۔۔”
” تو میں پھر بھی ایک کوشش کرنا چاہوں گا ” وہ اس کی بات کاٹ کر بولا
” کیسی کوشش ؟”
” مجھے قرت سے ملنا ہے ، آپ میری مدد کرسکتی ہیں اس سلسلے میں “
” اس مدد کی توقع مت رکھیں ، یہ ناممکن کے قریب ہے ، میں کال وغیرہ پر بات کرواسکتی ہوں آپ دونوں کی اس سے زیادہ نہیں “
” بات سنیں مس “نرمی سے اسے ٹوکا ” آپ نے مدد کا کہا میں نے بتا دیا ، آپ کرسکتی ہیں تو بتادیں ورنہ میں کوئ اور راستہ ڈھونڈ لوں گا “
دوسری طرف چند لمحے کی خاموشی چھا گئ
” یہ بہت مشکل ہے” وہ نیم رضامند تھی
” ناممکن نہیں ہے “
” اچھا میں بتاتی ہوں آپ کو ، انتظار کریں “
” اوکے “
” اور کال مت کیجئے گا میں میسج کروں گی “
” اچھا “
” خدا حافظ، “
” بائے ” کال کٹ گئ تو اس نے موبائل جیب میں رکھ دیا ، اسے بس ایک بار قرت سے ملنا تھا ٫ بس ایک بار جاننا تھا کہ کیا وہ اسے ایک موقع دے سکتی تھی؟ یا پھر وہ اپنے کزن سے…..؟
اس نے سر جھٹکا ٫ جس سے محبت کرتے ہوں اس کیلئے یہ سوچنا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے آسان نا تھا
وہ سر اٹھائے آسمان کو دیکھے گیا
ایک آخری ملاقات !!!
