Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 1)
Nahal By Fatima Noor
وہ شہر اقتدار سے تھا
وہ شہر اولیاء سے تھی
وہ نظریں جھکانا نہیں جانتا تھا
وہ جھکی نظریں اٹھانے سے ڈرتی تھی
وہ دنیا میں گم
وہ دنیا میں اجنبی
وہ دین سے بے زار لڑکا
وہ پردے میں رہنے والی
وہ عیسیٰ حیات تھا
وہ قرت العین تھی !
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اسلام آباد کی اس مصروف ترین شاہراہ پر تیزی سے گزرتی تین بائکس میں سے سبز رنگ کی سپورٹس بائیک سب سے آگے تھی ، اس پر سوار لڑکے کا چہرہ ہیلمٹ پہننے کے باعث نظر نہیں آتا تھا ، وہ دائیں بائیں دیکھے بغیر خطرناک حد تک بائیک کی سپیڈ بڑھائے ہوئے تھا ، دفعتا وہ اسی طرح بائیک چلاتے ہوئے ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہوا ، پائوں مضبوطی سے جمائے اپنے دونوں ہاتھ فضا میں کھولے اور اگلے چند سیکنڈز تک اسی پوز میں کھڑا رہا ، پھر دھم سے نیچے واپس بیٹھا ، رفتار پہلے سے بڑھا دی ، اس کے بہت پیچھے موجود لڑکے اسے آوازیں دینے لگے لیکن وہ جیسے ان کو نہیں سن رہا تھا
سڑک پر موڑ کاٹتے ہوئے اسی نے اسی رفتار کے ساتھ گردن ہلکی سی موڑی ، ہیلمنٹ کے پار سے سیاہ آنکھوں نے سکڑ کر دور موجود لڑکوں کو دیکھا ، وہ اسے ہاتھ ہلا رہے تھے ، چند لمحے یونہی دیکھنے کے بعد اس نے رخ واپس موڑا اور شومئ قسمت سامنے سے آتی کار کو دیکھ کر بائیک کا رخ موڑا ہی تھا کہ تیز رفتار بائیک کا بیلنس بگڑا اور وہ بائیک سمیت گھسیٹتا ہوا سڑک پر گرا ، بائیک کا بوجھ جسم پر آگرا ، کراہتے ہوئے اس نے اوپر دیکھا ، سارا آسمان گھوم رہا تھا ، پیچھے موجود لڑکے اب اس تک پہنچ چکے تھے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی اس کی آنکھیں بندہوگئیں
☆☆☆☆☆☆☆
لے جائو یہاں سے ” بے زاری سے ہاتھ جھلاتے ہوئے انہوں نے پاس کھڑے ملازم کو حکم دیا وہ تابعداری سے سامنے رکھا ناشتے کا سامان لے گیا ، شہوار نے سر کرسی کی پشت سے ٹکایا اور آنکھیں موند لیں گھر سائیں سائیں کررہا تھا
” اوہ عیسیٰ کہاں ہو تم “
پہلے پہل وہ لاپرواہ رہی تھیں پھر وہ لاپرواہی غصے میں بدلی اور اب شدید پریشانی میں ، عیسیٰ دو دن سے گھر سے غائب تھا اور جانے کہاں تھا انہوں نے ہرجگہ پتہ کروالیا تھا، اس کے دوستوں سے ، دوستوں کے گھر سے ،گھر والوں سے ، لیکن سوائے اس کے کہ اس کے دو دوست بھی غائب تھے انہیں کچھ پتا نہیں چلا تھا اور انہیں یقین تھا وہ تینوں ساتھ ہوں گے ، اس کا فون بند تھا ورنہ وہ لوکیشن ہی پتا کروالیتیں ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھیں جب میز پہ رکھا موبائل بجا
” ہیلو ” فون کان سے لگائے وہ اٹھ کر لائونج میں آ گئیں
” السلام علیکم میم فائز افتخار بات کررہا ہوں بینک مینیجر، کیسی ہیں؟ “
” جی مسٹر فائز کہئے ” بے زاری سے بات کاٹی مینیجر یکدم خاموش ہوا اور پھر کھنکارا
” میم مجھے آپ کو بتانا تھا کہ سر عیسیٰ کے اکائونٹ سے دو گھنٹے پہلے چار لاکھ ایک دوسرے اکائونٹ میں ٹرانسفر ہوئے ہیں ” شہوار یکدم سیدھی ہوئیں
” کس کے اکائونٹ میں ؟”
” ایک ہوسپٹل کو ڈائریکٹ ٹرانسفر کئے گئے ہیں میم “
” ہوسپٹل ” دل زور سے دھڑکا ” کونسا ہوسپٹل “؟ مینیجر نے ہاسپٹل کا نام بتا کر موبائل بند کردیا جبکہ وہ وہیں بیٹھی رہ گئیں، دل سکڑ گیا تھا
ہوسپٹل ؟ !!!!
☆☆☆☆☆☆☆
دروازے کھولتے ہی ناگوار سی بو ان کی ناک سے ٹکرائ لیکن اس سے زیادہ ناگوار سامنے کا منظر تھا جسے دیکھ کر ان کے ماتھے پر لاتعداد بل پڑے عیسیٰ سامنے بیڈ پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھا تھا ایک ہاتھ پہ پٹی بندھی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ میں سگریٹ تھامی ہوئ تھی دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونکا سامنے مسز شہوار کو دیکھ کر سگریٹ والا ہاتھ نامحسوس انداز میں ایش ٹرے کی طرف بڑھا جبکہ زین اور عمار بھی یکدم الرٹ سے ہوئے ان تینوں کو ان کے یہاں آنے کی ہرگز توقع نہیں تھی
” تو تم پچھلے دو دن سے یہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہو؟ “
انہوں نے ضبط سے کمرے کی حالت کو دیکھتے عیسیٰ کو مخاطب کیا
” ایک دن سولہ گھنٹے ” تصحیح کی
” مزید کتنے دن ٹھہرنا تھا ؟”
” ہم دوگھنٹوں بعد یہاں سے جانے والے تھے ” اس نے کاندھے اچکائے
” اور کہاں جانے والے تھے ؟”
” عمار کے فارم ہائوس “
” جانے والے تھے آنٹی ، ظاہر ہے اب نہیں جائیں گے “
عمار گڑبڑایا
” یقیناً ” انہوں نے سر کو خم دیا اور چلتے ہوئے عیسیٰ کے قریب آئیں
” ہاتھ کو کیا ہوا ہے “
” ون ویلنگ کرتے ہوئے ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا “
عام سے انداز میں اطلاع دی، ہاں ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جیسے بچپن میں ہوجاتا تھا سائیکل چلاتے ہوئے گھاس پر گرجاتا تھا ویسا ہی ایکسیڈنٹ !
” تم ون ویلنگ کررہے تھے ؟” انہیں شاک لگا
” پہلی بار نہیں کررہا تھا “
” پہلے کتنی بار کرچکے ہو ؟ “
” یاار مام کتنے سوال کرتی ہیں آپ ” وہ بے زار ہوا مسز شہوار نے اس کا فریکچر زدہ ہاتھ تھاما
” آئوچ ” وہ کراہا
” درد ہورہا ہے ہاں ؟”
” انسان ہو یارر مام ، ظاہر ہے درد ہوتا ہے “
حرکتیں بھی انسانوں والی کرلیا کرو اور یہ سب کیا ہے یہ ؟ ہاسپٹل میں سموکنگ کی اجازت کس نے دی ” انہیں شدید غصہ آرہا تھا
” چند پیسے دے دیئے تھے ڈاکٹر کو سموکنگ کیا پارٹی تک کی اجازت دے دیتا ” وہ اپنے ہاتھ کو دبا رہا تھا
” اور تم لوگوں کا بس چلتا تو یہاں پارٹی بھی کرلیتے ، باپ کا ہاسپٹل ہے نہ تمہارے ” بیگ میز پر پٹخا اور اس میں سے موبائل نکالا
” کس کو کال کررہی ہیں اب ؟” وہ شدید بے زاریت کا شکار ہورہا تھا ,اچھا خاصا پلین مام نے آکر خراب کردیا تھا اوپر سے ہاتھ بھی زور سے دبا دیا تھا
” تمہارے باپ کو کررہی ہوں، اب وہی آ کر تمہیں درست کرے گا ” عمار اور زین نے گھبرا کر عیسیٰ کو دیکھا بات اس کے باپ تک جاتی تو پھر وہ دونوں بھی پھس جاتے
” اچھا “
وہ پرسکون ہو کرلیٹ گیا
مسز شہوار اسے گھورتے ہوئے موبائل نکال کر باہر چلی گئیں انہیں ڈاکٹر سے اس کے زخم کا پوچھنا تھا ااف یہ لڑکا !!
ان کے جانے کے بعد زین نے اٹھ کر دروازہ بند کیا سگریٹ کا دھواں باہر نکل رہا تھا
” کیا اچھا اچھا کررہا تھا ہاں ” عمار سیخ پا ہوکر اٹھا ” اگر تیرے ڈیڈ تک بات پہنچی تو پھر ہم دونوں کے باپوں تک بھی جائے گی، تو اکلوتا ہے لیکن ہمارے اور بھی بہن بھائ ہیں ایک منٹ میں باہر نکال دیں گے گھر والے “
” ریلیکس بوائز ” وہ اسی پرسکون انداز میں بولا ڈیڈ کینیڈا میں ہیں پندرہ دن سے پہلے نہیں آئیں گے اور جب آئیں گے تب تک ان کو یہ بات بھول چکی ہوگی “
” کیونکہ انہیں تب تک تمہارے کئ اور کارناموں کی خبر مل چکی ہوگی ” صوفے پہ بیٹھا زین عمار نسبت پرسکون تھا، عیسیٰ نے سر کو خم دیا ،گویا داد وصول کی
” اور یہ کیا تو سارے پول کھول رہا تھا ؟ون ویلنگ کی وجہ سے ایکسیڈنٹ ہوگیا ، میرے فارم ہائوس جانا تھا, ایک دن پندرہ گھنٹے “
” ایک دن سولہ گھنٹے “
” کوئ بات راز ہی رکھ لیتا بے حیا انسان ! “
اس نے گویا ملامت کی
” کیسا راز ؟ ، مام کو پہلے سے ہی پتہ ہوگا، میں نے تم دونوں کو کہا تھا کہ میرے اکائونٹ سے پیسے مت نکلوانا مام کو پتہ چل جائے گا اوپر سے ڈائریکٹ ہاسپٹل پیمنٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی ، ان کو ایڈریس بھی تمہاری وجہ سے ملا ہوگا “
” ہم دونوں کے اکائونٹ خالی تھے بھائ، اور میرے فارم ہائوس کا کہنا ضروری تھا ؟” عمار نے اس کی بات نظر انداز کی وہ دونوں جانتے تھے وہ صحیح کہہ رہا تھا
” مائ ڈیئر عمار مام نے سب سے پہلے تمہاری مدر کو کال کرکے فارم ہائوس کا ہی پوچھا ہوگا پچھلی مرتبہ ہم تینوں وہیں سے برآمد ہوئے تھے ” اس کی آواز شدید بے زار تھی ، چڑچڑا پن عود کر آیا تھا ، زین نے اٹھ کر اس کے زخمے کاندھے کو زور سے تھپکا
“تمہارا شیطانی دماغ کیسے سب جان لیتا ہے ؟”
ہاتھ دور رکھ گھٹیا آدمی “
وہ چلایا پہلے مام اور اب زین، اس کا کاندھا فریکچر تھا ان دونوں کو مذاق لگ رہا تھا
” تو اسی لائق ہے ” عمار پیچھے جا بیٹھا اسی پل مسز شہوار دوبارہ اندر داخل ہوئیں
” چلو یہاں سے ڈاکٹر سے بات کرلی ہے میں نے ” ان کے ماتھے پر لاتعداد بل تھے ،بیگ اٹھایا اور عیسیٰ کو سہارا دینےکیلئے اسے کاندھےسے تھاما “
آئ کین ہینڈل اٹ مام ، بچہ نہیں ہوں ” اس نے بدتمیزی سے اپنا کاندھا چھڑایا اور بے زاری سے کہتے ہوئے بیڈ سے اتر گیا عمار اور زین نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اٹھ کھڑے ہوئے
” ہم چلتے ہیں آنٹی ، اپنا خیال رکھئے گا ” مسز شہوار نے سر ہلادیا اور آنکھوں میں نمی کو چھپانے کیلئے چشمہ آنکھوں پر چڑھا لیا
☆☆☆☆☆☆☆
اس نے سامنے پڑی کتاب بند کی اور دور سے آتی حریم کو دیکھا جو اس کی طرف آرہی تھی
” قرت العین قرت العین ، تم نے سنا ؟” اس کے پاس آکر وہ ایک دم پرجوش سی گویا ہوئ ، قرت نے ہاتھ ماتھے پر لے جاکر رکھا اور اسے دیکھا
” نہیں ! میں نے نہیں سنا ، اس لئے پہلے بیٹھ جائو اور پھر سنائو ” حریم نے بیگ پٹخنے کے انداز میں رکھا اور دھم سے اس کے سامنے بیٹھ گئ ، قرت نے اس کے انداز کو تنبیہی نظروں سے دیکھا
” کتنی مرتبہ کہا ہے کتابوں کو تمیز سے رکھا کرو “
” تمیز اور ادب کو چھوڑو ، تم نے سنا کہ ہمارے مدرسے سے کچھ لڑکیاں تعلیمی تبادلے کے لئے اسلام آباد جارہی ہیں ؟”
” کس نے کہا ؟”
” میں نے خود سنا ہے ابھی کینٹین گئ تھی تو فوزیہ آنٹی لڑکیوں سے ذکر کررہی تھیں “
” جب تک باجی جان نہیں کہیں گے تب تک یقین کرنا مشکل ہے “
” چلو پھر ، کلاس میں چلتے ہیں ، باجی جان یقینا آج یا کل اس بارے میں بتائیں گی ، مجھے یقین ہے اگر ایسا کچھ ہوا تو تم پکا جائو گی ، “
” اس یقین کہ وجہ ؟”
” بھئ ہماری کلاس کی ٹاپر ہو ، لکھ کے رکھ لو تمہارا نام ضرور ہوگا “
” لکھ لیا ، لیکن خیال کرنا شیخ چلی کے انڈے ٹوٹ نا جائیں “
” نہیں ٹوٹیں گے بلکہ ان کا آملیٹ بنے گا ، چلو جلدی چلو کلاس میں ، اٹھو بھی ” وہ اپنا بیگ اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئ اور قرت کو دیکھنے لگی جو تحمل سے اپنی کتابیں بیگ میں ڈال رہی تھی، کتابیں رکھ کر اس نے مسکراہٹ دبا کر اس کی عجلت کو دیکھا اور اٹھ کھڑی ہوئ
” سوچو اگر ہم دونوں جائیں تو یا اللہ یا اللہ ” وہ اب جوش سے اس سے کچھ کہہ رہی تھی اور قرت نفی میں سر ہلا کر مسکراتے ہوئے سن رہی تھی
” ممکن ہے یہ سچ نا ہو “
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یہ سچ ہی تھا ، کلاس کے اختتام پر باجی جان نے اس بارے میں انہیں بتایا ، اسلام آباد کے کسی مدرسے میں درس نظامی کے آخری سال کی لڑکیوں کیلئے اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا ، ملک کے مختلف مدارس سے چند لڑکیاں وہاں اکٹھی ہوتیں ، مختلف تقریری بحث مباحثے ، ہر مدرسے کے تعلیمی انداز کا جائزہ ، مختلف اختلافی مسائل پر موقف، غرض ایک ہفتے تک کا پروگرام تھا ، آنے جانے کے اخراجات اور رہائش مدرسے کے جانب سے تھے ، آخری دو سال کی چار لڑکیوں کا انتخاب ہونا تھا
” ہماری جماعت میں سے ایک قرت العین کا انتخاب کیا گیا ہے ، دوسری لڑکی کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں ہوا اس بارے میں کل بڑے باجی ہمیں بتائیں گے البتہ جس جس کو جانا ہے وہ اپنا نام جمع کروادے ، قرت آپ کے والد سے بات کرلی ہے ، انہوں نے کہا ہے وہ آپ کی والدہ سے مشورہ کرکے بتائیں گے ، لہذا یاد سے کل پرسوں تک ہمیں اپنا فیصلہ بتادیجئے گا “
کلاس کو مخاطب کرتے ہوئے اختتام پر انہوں نے قرت کو مخاطب کیا تو وہ بمشکل تمام سر ہلاگئ ، اور پھر حریم کو دیکھا جو اسے فاتحانہ انداز سے دیکھ رہی تھی قرت سر جھٹک کر رہ گئ
