Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 13)

Nahal By Fatima Noor 

بہت ہمت سے اس نے آنکھیں کھولیں، پلکیں جھپکیں ، پھر بند کیں ، پھر جھپکیں٫ دھندلا منظر واضح ہوا ، بالکل سامنے بلب تھا ، دائیں طرف کچھ آوازیں آرہی تھیں ٫موسم ٹھنڈا تھا لیکن پھر بھی اس کے ماتھے پر پسینہ تھا

اس نے تکیے پر رکھا سر کچھ اونچا کیا ، زین ساتھ بیٹھا موبائل دیکھ رہا تھا ، اسے اٹھتا دیکھ موبائل رکھا

” ٹھیک ہو ؟”

اس نے بدقت سر ہلایا

” ٹائم کیا ہورہا ہے؟”

” دس بج رہے ہیں “

اس نے سر دوبارہ تکیے پر رکھ دیا ، اس قدر نقاہت ہورہی تھی کہ بولنا بھی مشکل لگ رہا تھا ٫تبھی ذہن میں خیال آیا کہ وہ جب سویا تھا تب مغرب کا وقت تھا

” کیا ٹائم ہے ؟”

دوبارہ سے پوچھا

” دس بج رہے ہیں ۔۔۔”

عیسیٰ نے پلک جھپکی ، اس کا ذہن پھر سے غنودگی میں جارہا تھا

” میں اتنی دیر سوتا رہا ؟”

” سوتا رہا ؟ بیہوش رہا بھائ، پورا ایک دن ، یہ اگلے دن کے دس نہیں اس سے اگلے دن کے دس بج رہے ہیں “

” جھوٹ نا بولو ۔۔۔۔”

وہ بے زار ہوا ، آنکھیں بمشکل کھول رکھی تھیں ، اسے اتنی نیند کیوں آرہی تھی ؟

” جھوٹ ؟ یہ دیکھو ” زین نے موبائل اٹھا کر سکرین سامنے کی ” سولہ تاریخ ہے آج”

لمحے بھر کو عیسیٰ کا سر چکرا گیا ، وہ تیرہ تاریخ کی رات مسجد آئے تھے ، اگلے دن صبح اسے بخار ہوا ، شام کو انجیکشن لگوایا تھا٫ اس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں تھا سوائے چند دھندلے مناظر کے

” مجھے کیا ہوا تھا ؟”

” مرتے مرتے بچے ہو ، دو دن سے بیہوش تھے ، وومیٹنگ ، تیز بخار ، فوڈ پوائزنگ ، ہر بیماری لاحق تھی گویا ، ایک تو یہاں کوئ ڈھنگ کا ہوسپٹل نہیں ہے ٫ایک معمولی سے ڈاکٹر کے بھروسے تمہیں رکھنا پڑا ” وہ اس کے پوچھنے پر شروع ہوگیا تھا

عیسیٰ چونکا

” ڈاکٹر ؟”

اور ڈاکٹر سے اسے انجیکشن کا خیال آیا تھا ٫شدید غصے کا طوفان تھا جو اندر اٹھا

” وہ ڈاکٹر ۔۔۔۔۔۔ کہا بھی تھا میں انجیکشن نہیں لگواتا “

وہ بہت ساری گالیاں ضبط کرکے رہ گیا

” رئیکشن ہوگیا تھا یقینا، میرا تو دل ڈوب رہا تھا بھائ ، نکاح کی بجائے اسی علاقے سے جنازہ اٹھتا تمہارا “

” بکواس مت کرو اور ہٹو ادھر سے ، سر چکرا رہا ہے میرا ” جھڑک کر کہتے وہ دوبارہ سیدھا لیٹ گیا

” سچ ہی کہہ رہا تھا ، خود تو مزے سے بیہوش ہوگئے ادھر میری حالت خراب تھی ، امام صاحب نا ہوتے تو تم زندہ نا بچتے “

” مزے سے کیسے بیہوش ہوتے ہیں ؟” وہ بڑبڑایا

“دو دن سے میں اکیلا یہاں ۔۔۔۔۔۔”

اس نے سننا چاہا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا لیکن زین کی آواز مدھم ہوتی گئ

وہ آنکھوں پر بازو رکھے اسی طرح لیٹا رہا ، آنکھیں بند ہورہی تھیں ، وہ بیہوش رہا تھا لیکن بیہوشی میں بھی اسے یاد تھا کوئ اس کے سرہانے بیٹھ کر دعائیں پڑھ رہا تھا ، کسی نے اسے کچھ نرم غذا کھلائ تھی ، آخری خیال قاری صاحب کا آیا اور ذہن غنودگی میں ڈوب گیا ، غصہ فرسٹریشن ، بے چینی ، اس سب کے باوجود بھی اسے نیند آگئ

☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دوبارہ اس کی آنکھ کال کی آواز پر کھلی ، موبائل ساتھ ہی پڑا تھا اور شہوار کی کال آرہی تھی ، اس نے سستی سے اٹھ کر موبائل اٹھایا ، یقینا زین نے آن کیا ہوگا ورنہ اس نے دو دن سے بند کر رکھا تھا

” ہیلو “

” عیسیٰ ، کہاں ہو ، کال کیوں نہیں اٹھارہے تھے ؟”

وہ اس کی آواز سنتے بے چینی سے بولیں

” ٹھیک ہوں مام ، بس طبیعت خراب تھی ،”

” طبیعت خراب تھی ؟ کیا ہوا تھا ؟”

” زیادہ کچھ نہیں، ہلکا سا بخار تھا “

” کیسے ہو اب ؟ “

ان کی آواز میں شدید بے قراری تھی

” ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔”

” ٹھیک ہو ؟ آواز سے بالکل نہیں لگ رہا کہ ٹھیک ہو ، “

” کچھ کمزوری ہے مام ، فکر مت کریں ٹھیک ہوں ” اس نے ارگرد دیکھا، کمرہ خالی تھا ، اسے خالی کمرے سے وحشت ہوئ

” جھوٹ مت بولو “

“کہا نا ٹھیک ہوں مام ، ڈاکٹر کو چیک کروایا تھا ، دوائ بھی لے ہے “

وہ کچھ بے زاری سے اٹھ کر بیٹھا

” اس چھوٹے سے علاقے میں کس ڈاکٹر کو چیک کروایا ہوگا ؟ دیہی علاقے میں ہوسپٹل تک نہیں ہوتے ، تم ایسا کرو واپس آجائو ، جب طبیعت ٹھیک ہو جائے تب واپس چلے جانا اسے ڈھونڈنے “

کمبل ہٹاتاعیسیٰ کا ہاتھ رک گیا

” آپ کو کس نے بتایا میں کسی دیہی علاقے میں ہوں اور کسی کو ڈھونڈنے کیلئے ہوں ؟”اس نے قرت کا نام نہیں لیا ٫دوسری طرف خاموشی چھا گئ

” ہم نے تمہارا موبائل ٹریک کیا تھا ، اور ظاہر ہے ملتان کے کسی دیہی علاقے میں تم گھومنے تھوڑی گئے ہوگے” بالآخر وہ سنبھل کر بولیں

” جھوٹ مت بولیں مام ، میں نے موبائل آف کررکھا تھا “

” عیسیٰ۔۔”

وہ جھنجھلائیں

” نونو مام ، زین نے بتایا ہے نا آپ کو ؟ سچ بتائیں “

شہوار نے گہری سانس لی

” تمہارے ڈید نے پوچھا تھا اس لئے ۔۔۔۔”

اس نے کال کاٹ دی ، دماغ سنسنا اٹھا ، اس نے زین کو صاف صاف الفاظ میں منع کیا تھا کہ وہ کسی سے ذکر نہیں کرے گا ،لیکن یہ انسان !!

” ذلیل انسان ۔۔۔۔۔”

وہ غصے سے بڑبڑاتا جھٹکے سے اٹھا ، سر چکرا رہا تھا لیکن اس وقت اسے صرف زین کو دیکھنا تھا ، بنا سردی اور اپنی طبیعت کی پروا کئے وہ باہر نکلا ، صحن میں قدم رکھا تو یکدم رک گیا، آنکھوں میں شدید حیرت ابھری ، سامنے زین چند نمازیوں کے ساتھ مسجد میں صفیں درست کروارہا تھا ، جینز کو ٹخنوں سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، سر پر سفید رنگ کی ٹوپی تھی اور چہرے پر اس قدر نور تھا کہ اس کی جگہ کوئ اور ہوتا تو ماشاء اللہ کہہ اٹھتا

سر جھٹکتے وہ صحن عبور کرکے پکے صحن کی طرف بڑھا تو زین پلٹ رہا تھا ، اسے دیکھتے اس کی طرف آگیا

” طبیعت پہلے ہی خراب ہے اوپر سے ٹھنڈے فرش پر کھڑے ہو وہ بھی بنا سویٹر کے ، مرنے کا ارادہ ہے ؟” عیسیٰ خاموشی سے اسے دیکھے گیا

” ڈاکٹر سے دوسرا انجیکشن لگوانا پڑے گا ، تبھی عقل پر چڑھا بخار نیچے اترے گا “

وہ خاموش رہا

ایسے کیا دیکھ رہے ہو ؟ ، مانا کہ میں بہت ہینڈسم ہوں اور اس وقت میرے چہرے پر بہت نور بھی آرہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم نظر لگادو ” وہ عیسیٰ کو اپنی طرف غور سے دیکھتا پاکر بولا

عیسیٰ چند قدم آگے آیا

” کون سے سن بلاک کی آدھی ڈبی خالی کی ہے ؟ “

زین کی مسکراہٹ غائب ہوئ ، گھور کر اسے دیکھا

” یہ مسجد کی صفائ کرنے کا نور ہے “

” پہلے دل صاف کرلو، جس میں تین چار نور رہتی ہیں “

وہ بے زاری سے کہتے مسجد کے اندر چلا گیا

آسمان گو صاف تھا لیکن باہر پھر بھی ڈھنڈ لگ رہی ، مغرب کی نماز پڑھی جاچکی تھی سو شاید قاری صاحب گھر گئے تھے

” جل رہے ہو تم ۔۔۔۔۔” وہ عیسیٰ کے ساتھ آکر بیٹھ گیا جس نے دیوار سے ٹیک لگا رکھی تھی

” کس بات سے ؟”

” میرے نیک ہونے سے “

” اوہ ۔۔۔ نیک ؟ میرے ماں باپ کے سامنے میرے راز فاش کرنا کون سی نیکی ہے ؟” وہ سختی سے کہتے اس کی طرف دیکھنے لگا ، زین نے کان کھجایا

” انکل نے مجبور کیا تھا “

” کبھی مام مجبور کرتی ہیں کبھی ڈیڈ ، اور تم ان کے سامنے سب بک دیتے ہو “

” بس کیا کروں جھوٹ نہیں بولا جاتا مجھ سے “

” اتنے تم سچائ کے علمبردار۔۔۔۔۔ “

زین جواب دیتا اس سے قبل ہی اس کے موبائل پر کال آنے لگی

” ہیلو ۔۔۔ہاں سارہ ۔۔۔ایکچولی میں ناردرن ایریاز میں تھا ۔۔۔ہاں بس کال مس ہوگئ تمہاری “

وہ ٹوپی وہیں رکھتا اٹھ گیا ،عیسیٰ نے سر جھٹکتے ہاتھ آپس میں ملائے اسے سردی لگ رہی تھی ، تبھی نعمان صاحب اس کی طرف آئے ، ہاتھوں میں ٹفن اٹھا رکھا تھا

” طبیعت کیسی ہے اب عیسیٰ حیات ؟”

” ٹھیک ہوں قاری صاحب “

وہ ہلکا سا مسکرایا

” ماشاء اللہ ۔۔رب کریم مکمل صحت عطا فرمائیں ، ورنہ آپ نے تو ہمیں ڈراہی دیا تھا “

” شکریہ ، زین نے بتایا تھا آپ نے میرا بہت خیال رکھا تھا “

” اور انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنا پریشان تھے ؟ اچھے دوست خدا کا فضل ہوتے ہیں ، آپ کو اس فضل پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے “

اس نے رخ موڑ کر زین کو دیکھا ، ایک دم جیسے اس سے سارے شکوے دور ہوگئے ٫لبوں پہ مسکراہٹ ابھری

ایک نمبر کا بدتمیز انسان تھا !

” جانتا ہوں قاری صاحب، شکر کرتا ہوں یا نہیں لیکن یہ جانتا ہوں کہ وہ خدا کی نعمت ہی ہے “

وہ مسکرا کر جانے لگے لیکن رک گئے ، عیسیٰ صرف جینز اور سفید رنگ کی شرٹ میں ملبوس تھا اور ہاتھوں کو آپس میں مل رہا تھا ، انہوں نے اوڑھی ہوئ سفید چادر اتاری اور اس کی طرف بڑھائ

وہ ٹھٹھکا

” بہت شکریہ ۔۔لیکن اس کی ضرورت نہیں ہے “

” لے لیں ، آپ کی طبیعت خراب ہے ،”

” نہیں ، میں ٹھیک ہوں “

گو اسے سردی لگ رہی تھی

” آپ ٹھیک ہوں گے لیکن اسے لینے میں کوئ قباحت بھی نہیں ہے “

اس بار وہ منع نہیں کرسکا ، شکریہ کہہ کر چادر لے کر اپنے اردرگرد پھیلالی ، چادر گرم تھی اور اسے اس وقت گرمائش کی شدید ضرورت تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆

دیوار سے ٹیک لگائے نیم دراز لیٹے عیسیٰ نے مسجد کی کھڑکی سے تیسری بار زین پر نظر ڈالی جو سارہ سے بات کررہا تھا ، وہ ایک مرتبہ اسے بلانے بھی گیا تھا لیکن زین نے ہاتھوں سے دو منٹ کا اشارہ کیا تو وہ واپس آ گیا ، کھانا سامنے رکھا تھا اور اب ٹھنڈا ہورہا تھا

” آپ کے دوست نہیں آئے ؟” نعمان صاحب اس کے پاس سے گزرے تو کھانا یونہی پڑا تھا

” آآا ۔۔نہیں ۔۔وہ کال پر بزی ہے “

وہ دونوں جانتے تھے کہ زین کال پر کس سے بات کررہا تھا ، نعمان صاحب اسے منع کرنا چاہتے تھے یہ بات مسجد کے تقدس کے خلاف تھی لیکن نہیں کرسکے

“آپ دونوں کھانا کھالیں پھر نماز کیلئے آجائے گا میں وضو کرلوں ” وہ جانے لگے جب نظر عیسیٰ کے چہرے پر گئی

کچھ کہنا ہے آپ نے ؟” عیسیٰ نے گہری سانس لی

” ایکچولی ۔۔مجھے دراصل نماز پڑھنی نہیں آتی صحیح طرح سے تو میں نہیں پڑھ پائوں گا “

وہ کہہ کر نعمان صاحب کو دیکھنے لگا جو اس کی بات سن کر خاموش ہوگئے تھے وہ جانتا تھا وہ اب کیا کہیں گے ٫لعنت ملامت، نماز نہ آنے کے طعنے ، دین سے دوری کے طنز ، وہ ان سے یہی سب سننے کی توقع کررہا تھا لیکن جو اس نے سنا اس کی اسے توقع نہیں تھی

“ٹھیک ہے ٫ آپ آرام کرلیں ٫ جب اللہ توفیق دے گا تو پڑھ لیجئے گا نماز ، کھانا کھالیجئے گا کھانے کو انتظار نہیں کرواتے “

عیسیٰ نے بس سر ہلادیا نعمان صاحب وضو کرنے چلے گئے ٫

وہ چاہتے تو زبردستی نماز پڑھنے کا کہتے ٫وہ دنوں شاید مروت میں پڑھ بھی لیتے لیکن اس طرح وہ انہیں متنفر نہیں کرنا چاہتے تھے٫ زبردستی کرنے پر وہ اگلی مرتبہ شاید کسی مسجد بھی نہ جاتے

وہ تھوڑی دیر بعد وضو کرکے واپس آئے تو زین ابھی تک فون پر بات کررہا تھا البتہ عیسیٰ اب کہ درست پوزیشن میں بیٹھا چھت پر موجود پنکھے کو دیکھ رہا تھا٫ وہ اپنے باذوں کو نیچے کرتے ہوئے اس کے پاس سے گزرنے لگے ,عیسیٰ کی نگاہ چھت سے ہوکر نعمان صاحب پر گئی جانے اس کے دل میں کیا آیا کہ وہ انہیں پکار بیٹھا

“قاری صاحب “

جی برخوردار !”

وہ باذوئوں فولڈ کرتے اس تک آئے

” کچھ ہے جو میں کافی دن سے تلاش کررہا ہوں ۔میں نے ہر جگہ اسے ڈھونڈا ٫ہر کسی سے اس کا پوچھا لیکن وہ مجھے نہیں مل رہی٫ ہزار کوشش کے باجود بھی٫ مجھے بتائیں میں کیسے اسے ڈھونڈوں ؟”

انہوں نے صف باندھتے مقتدیوں کو دیکھا اور پھر بے بس سے بیٹھے عیسیٰ کو

“مالک کون ہے اس شیئے کا؟”

“جی ؟”

” مالک کون ہے اس شیئے کا؟”

نرمی سے سوال دوبارہ دہرایا

“مالک ؟”

“ہاں بچے ہر شیئے کا ایک مالک ہوتا ہے ۔آپ جو ڈھونڈ رہے ہیں اس کا مالک کون ہے؟”

“اس کا کوئ مالک نہیں ہے ” وہ رکا٫ گلے میں یک دم کچھ اٹکا ” سوائے اللہ کے ۔۔۔”

“تو اللہ سے مانگا اس شیئے کو ؟”

وہ اسی نرمی سے پوچھ رہے تھے٫ عیسیٰ نے کچھ نہیں کہا بس دھیرے سے نفی میں سر ہلادیا٫ وہ کچھ کہنے کے قابل نہیں رہا تھا

” تو پھر وہ شے آپ کو کیسے ملے گی ؟ جس کی شے ہے اس کے علاوہ اور کون دے سکتا ہے ؟ جو اس کا مالک ہے اس سے مانگیں “

” اور اگر۔۔۔۔۔ ” الفاظ گلے میں اٹک گئے ” میرے مانگنے پر اس نے نا دی تو ؟”

” آپ نے ہر کسی سے مانگ کر دیکھ لیا، کسی نے دیا وہ جو آپ کوچاہئے تھا ؟ایک بار اللہ سے مانگ کر دیکھیں، “

” اگر اس نے نا دی تو ؟”

اس کا خوف اب بھی وہیں تھا

“وہ دے گا اگر آپ یہاں سے مانگیں گے تو ” قدرے جھک کر اس کے سینے پر انگلی رکھی ” وہ ضرور دے گا٫ صرف وہی دے سکتا ہے اس کے علاوہ کون ہے جو دے ؟”

وہ سیدھے ہوئے اور ایک نظر ساکت بیٹھے عیسیٰ پر ڈالی٫ ہلکا سا مسکرائے

” آخری در اگر یہی بچا ہے تو اسی پر جاکر دیکھ لیجئے “

وہ چلے گئے ، زین نے کال ختم کی اور واپس آگیا اسے دیکھ کر رکا

” کیا ہوا ؟”

وہ چونکا اور پھر سر جھٹکا

” کچھ نہیں ۔۔”

قاری صاحب بھی عجیب عجیب باتیں کرتے تھے ، وہ قرت کو خدا سے کیسے مانگتا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رات کو وہ دیر سے سویا تو پھر آنکھ دوپہر کے قریب ہی کھلی ، زین ابھی تک سو رہا تھا ، ان چار دنوں میں یہ واحد کام تھا جو وہ کررہا تھا ، قدرے سستی سے اٹھ کر اس نے اردگرد دیکھا ، کمرہ بکھرا بکھرا سا تھا ، ان دونوں کو صفائ کرنے کی عادت ہوتی تو کر بھی لیتے لیکن وہ اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جہاں آپ کے ہر کام کیلئے سینکڑوں ملازم موجود ہوتے ہیں

” زین ۔۔۔” جھنجھوڑ کر اسے اٹھایا

” کیا ہے ؟” وہ مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا

” اٹھ جاؤ، “

” کیوں ؟”

” کیوں مطلب ؟ ساری عمر یہیں رہنا ہے ؟”

” تمہیں یاد ہو تو ہم تمہاری بیماری کی وجہ سے یہاں رکے ہوئے تھے ” وہ جمائ لیتا اٹھ بیٹھا

” ٹھیک ہوں اب ، ہمیں آگے جانا ہے ، سامان پیک کرو اپنا ” وہ خود بھی اپنی ادھر ادھر بکھری چیزیں سمیٹنے لگا

” آگے کہاں جائیں گے ؟”

” یہاں سے تھوڑا آگے آبادی شروع ہورہی ہے ، قدرے دیہی علاقہ ہے ، وہیں چل کر پتا کرتے ہیں “

سامان پیک کرکے وہ لوگ مارے باندھے کمرے کی حالت درست کررہے تھے جب کوئ لڑکا ناشتہ لے کر اندر آیا

” قاری صاحب کہاں ہیں ؟”

وہ ناشتہ لیتے ہوئے پوچھنے لگا

” وہ تو گھر چلے گئے ہیں٫ آپ دونوں کو ناشتہ دینے کا کہہ کر گئے تھے “

” کب تک واپس آئیں گے ؟”

” معلوم نہیں ۔۔”

لڑکا واپس چلا گیا تو وہ بھی ناشتہ کرنے لگے

” ابھی جانا ہے ؟”

” ہاں ، میں مزید یہاں نہیں رک سکتا “

ناشتہ کرکے فارغ ہوئے تو اس کی نظر سفید شال پر پڑی ، یہ واپس کئے بغیر جانا بد اخلاقی تھی ، انہیں مہمان نوازی پر قاری صاحب کا کم از کم شکریہ ہی ادا کرنا چاہئے تھا ، لیکن وہ مزید یہاں نہیں رک سکتا تھا، بیگ کاندھے پر ڈال کر اس نے شال اٹھالی ، باہر آیا تو وہی لڑکا ٹھہرا ہوا تھا

” سنو ۔۔”

” جی “

” قاری صاحب کا گھر کہاں ہے ؟ “

” یہاں سے آگے جو راستہ ہے ، پھر آگے راستہ ہے ، پھر دائیں طرف راستہ ہے ، پھر باغ ہے ، پھر گھر ہیں ، پہلا گھر ان کا ہے “

” بچے چین جانے کا راستہ نہیں پوچھا “

زین کی بات پر لڑکا کھی کھی کرکے ہنسنے لگا

” بہت شکریہ ۔۔” عیسیٰ آگے بڑھ گیا

” گھر کیوں جانا ہے ان کے ؟”

” ان کی شال واپس کرنی تھی “

وہ کار کا دروازہ کھول رہا تھا

” یہیں کسی کو دے دو جو انہیں واپس کردے ، گھر جانا ضروری ہے ؟”

” اوہوووں ، یہ بد اخلاقی ہوگی ، ان سے مل کر شکریہ بھی کہنا تھا “

” ماشاء اللہ، میرا دوست کتنا با اخلاق ہوگیا ہے “

” بہت شکریہ ۔۔”

، تھوڑی دیر بعد وہ سڑک سے بائیں مڑنے لگے تو زین کی زبان میں پھر سے کھجلی ہوئ

” تو اب یہ پہلے بائیں پھر دائیں پھر آئیں بائیں شائیں کرکے جائیں گے ان کے گھر ؟” عیسیٰ سر جھٹک کر ہنسا

” پوچھ لیں گے کسی سے راستے میں “

انہیں گھر ڈھونڈنے میں زیادہ دقت نہیں ہوئ کیونکہ علاقے میں تقریبا سبھی قاری صاحب کو جانتے تھے

” یہ راستہ سیدھا لے لیں ، آگے ایک باغ آئے گا ، اس کے اختتام پر سب سے پہلا گھر امام صاحب کا ہے “

” بہت شکریہ ۔۔”

وہ گاڑی کا موڑ کاٹنے لگا ،سڑک کے بعد باغ تک راستہ قدرے کچا تھا ، اور باغ کے درمیان گزرنے کیلئے کچی روش تھی ، جگہ تھوڑی سی تھی اس لئے گاڑی آگے نہیں جاسکتی تھی ٫ وہ گاڑی وہیں روک کر زین کو رکنے کا کہہ کر آگے بڑھ گیا ، گھر کا گیٹ سیاہ رنگ کا تھا ، قدرے ہچکچاتے ہوئے عیسیٰ نے دروازہ کھٹکٹایا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

برآمدے میں بیٹھے اس نے دروازہ بجنے کی آواز سنی ، اماں اور ابا گھر پہ نہیں تھے ، اماں پھپھو کے گھر تھیں اور ابا جانے کہاں تھے

ابوبکر سکول اور مہر کالج گئ تھی ، اسے مدرسے سے فلحال چھٹیاں تھیں سو وہ گھر میں اکیلی تھی ، کتاب بند کرکے دروازے تک گئ اور چھوٹے سے سوراخ سے باہر جھانکا ، جینز اور جیکٹ پہنے کوئ لڑکا تھا جس کی دروازے کی طرف پشت تھی ، کیونکہ وہ گھر میں اکیلی تھی سو اس وقت دروازہ کھولنا مناسب نہیں لگا اس لئے واپس آکر دوبارہ سے کتاب کھول لی ، دروازہ پھر سے بجایا جانے لگا پہلے پہل اس نے دستک نظر انداز کی لیکن جب دروازہ چوتھی بار بجایا جانے لگا تو وہ جھنجھلاتے ہوئے اٹھی

” بھئ جب تیسری بار بھی کوئ دروازہ نہیں کھول رہا تھا تو چلے جانا چاہئے ۔۔”

دروازے کو ہلکا سا کھول کر اس نے گلا کھنکارا