Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 28)

Nahal By Fatima Noor 

منور صاحب دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوئے تو عیسیٰ کسی فائل کو چیک کررہا تھا ، وہ دروازہ بند کرتے میز تک آئے

” آپ نے فائلز منگوائ تھیں سر “

” رکھ دیں “

اسی طرح فائل دیکھتے مصروف سا جواب دیا

” ذیشان حیدر صاحب سے میٹنگ فائنل ہوگی ہے سر ، وہ ویک اینڈ سے پہلے بزی تھے لیکن آپ کے کہنے پر انہوں نے میٹنگ شیڈول کردی “

” ٹھیک ہے ، آپ تیاری کرلیں میٹنگ کی “

منور صاحب چند لمحے اسے دیکھتے رہے

” آپ بہت خوش لگ رہے ہیں سر “

اس نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا

” یہ سوال ہے ؟”

” کمپلیمنٹ ، عرصے بعد آپ کو خوش دیکھا ہے “

عیسیٰ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری

” اور آپ کو یہ کیوں لگا کہ میں خوش ہوں ؟”

” آپ صبح سے بغیر کسی وجہ کے مسلسل مسکرا رہے ہیں ، ایک دو سٹاف ممبرز کی لیو بھی اپروو کردی بنا وجہ پوچھے ، صبح مس افشاں آپ کیلئے غلطی سے کافی کی جگہ چائے لے آئیں اور آپ نے انہیں کچھ نہیں کہا ، وہ تب سے حیران ہیں، آپ خاصی فراخدلی کا مظاہرہ کررہے ہیں اس حوالے سے آج”

پورا آفس جانتا تھا کہ وہ چائے کس قدر ناپسند کرتا تھا ، عیسیٰ ہونٹوں پہ انگلیاں رکھے انہیں سنے گیا ، وہ چہرے کی مسکراہٹ چھپا سکتا تھا آنکھوں کی نہیں ، وہ خوش تھا اور کوئ بھی یہ بات بتا سکتا تھا

” میں خوش ہی ہوں منور صاحب ، اتنا کہ اگر میں کسی ملک کا بادشاہ ہوتا تو آج ملک میں عام تعطیل کا علان کردیتا “

وہ سر جھٹک کر مسکراتے سیدھا ہوا

” آپ کے خوش ہونے کا سن کر اچھا لگا “

” بہت شکریہ ۔ “

مسکرا کر سر کو خم دیا

وہ چلے گئے تو وہ دوبارہ فائل کی طرف متوجہ ہوگیا ، دل کی حالت بیان سے باہر تھی ، بیک وقت خوشی ، سکون ، بے چینی ، بے قراری ، ہر جذبہ محسوس ہورہا تھا ، اس کا بس چلتا تو وقت کو آگے گھمادیتا ، ویک اینڈ میں ابھی چار دن باقی تھے

صبر عیسیٰ حیات صبر !

گہری سانس خارج کرتے اس نے فائل دوبارہ کھول لی ، ذہن کو اردگرد سے ہٹا کر کام پر لگایا ہی تھا جب سامنے رکھا موبائل بجنے لگا ، اس نے وہ اٹھایا ، زین کی کال آرہی تھی

” ہیلو ۔۔۔۔۔۔”

” عیسیٰ ۔۔۔”

اس کی آواز قدرے بھاری تھی

” آگے بھی بول دو “

ایک تو سب کو آفس ٹائم ہی کال کرنا یاد آتا تھا ، وہ آفس میں ہوتا تو بال کھجانے تک فرصت نہیں ہوتی تھی

” آج میرا رزلٹ تھا “

اوہ !

کل تک اسے یاد تھا لیکن پھر ذہن میں کل سے اتنا سب چل رہا تھا کہ وہ بھول گیا ، دوسری طرف زین اب خاموش تھا ، اسے کو پریشانی نے آن گھیرا

” کیا رزلٹ آیا ؟”

اس نے جواب نہیں دیا

” تم پاس ہوگئے ؟”

خاموشی ۔۔۔۔

” زین۔۔۔”

تو کیا وہ اس بار بھی ناکام ہوگیا تھا ؟ عیسیٰ کو یکدم شدید ترین دکھ نے آن گھیرا

” دیکھو زین ، اٹس اوکے ، زندگی میں ایک سی ایس ایس ہی تو نہیں بچا نا ، اور بھی بہت کچھ ہے “

اسے سمجھ نہیں آئ مزید کیا کہے ، موٹیویشن دینے والے سارے الفاظ کہیں گم ہوگئے

” میں مارگلہ کی طرف جارہا ہوں ۔۔۔”

وہ یکدم کھڑا ہوا

” تم ایسا کچھ سوچنا بھی مت “

” آدھے راستے میں ہوں ۔۔۔”

اس کی آواز دھیمی تھی

” شٹ اپ ، تم کچھ ایسا ویسا نہیں کروگے ، سمجھے ؟”

وہ غرایا ، فائلز سمیٹیں ، پیچھے کوٹ تھا اسے لینے کا وقت نہیں تھا ، گاڑی کی چابی اٹھائ اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھا

” اگر تم وہاں آگئے تو ٹھیک ورنہ ۔۔۔”

” ورنہ کچھ نہیں ۔۔سمجھے تم ؟ “

اس کا چہرہ سفید پڑرہا تھا ، لفٹ کا بٹن دبایا ، وہ نیچے تھی ، اوہ خدایا، وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا ، اب تو سب ٹھیک ہونے جارہا تھا ، وہ بلآخر خوش تھا ، ابھی نہیں

” تمہارے پاس دس منٹ ہیں عیسیٰ ۔۔”

” زین نہیں ۔۔۔”

وہ چلایا ، اردگرد سب رک کر اسے دیکھنے لگے

” دس منٹ تک اگر تم نا آئے ۔۔۔”

” تم کچھ نہیں کروگے ۔۔۔”

وہ تیزی سے زینے پھلانگتے ہوئے باہر کی طرف جارہا تھا ، کسی کو ٹکر لگی ، کسی کے ہاتھ سے فائلز گریں ، کوئ لڑکھڑایا ، لیکن اسے اس وقت کسی کی پرواہ نہیں تھی

” اگر تم نا آئے ۔۔”

” زین پلیززز ۔۔۔”

” تو میں سب کو ٹریٹ دے دوں گا اور تم مس کردو گے “

اس کے قدم رک گئے ، اردگرد چلتے لوگ ، اس کی سانس بھی

” زین۔۔۔” اس کی آواز بے یقین ہوئ

” تمہیں کیا لگا میں خود کشی کرنے جارہا ہوں ؟ ایوں ای ، اتنی محنت سے اگزیمز دیئے ، پاس ہوا اور اب خود کشی کرلوں ؟ ” وہ چمک کر بول رہا تھا

” تم ۔۔؟”

” میں پاس ہوگیا “

” تم ۔۔۔۔تم واقعی پاس ہوگئے ؟”

” بالکل ، دوسری مرتبہ ہی “

وہ فخر سے بول رہا تھا عیسیٰ کا دماغ کھول اٹھا ، ساری ٹینشن غصے میں تبدیل ہوئ

” تم گھٹیا انسان ۔۔۔۔”

اور وہاں کھڑے کھڑے اسے جو گالی آتی تھی پھولی سانسوں کے درمیان اس نے زین کو وہ گالی دے دی ، وہ خاموش ہوا تو زین کی آواز ابھری

” ہوگیا ؟ بہت شکریہ ان تعریفوں کا ، اب ریسٹورنٹ آجائو ، سب دوست یہیں آرہے ہیں “

” میں نہیں آرہا ، جہنم میں جائو تم میری طرف سے ” موبائل کانوں سے ہٹا کر کال کاٹی اور اردگرد دیکھا سب اسے ہی دیکھ رہے تھے

” کیا مسئلہ ہے ؟” اس کی چنگھاڑ پر سب فورا رفو چکر ہوئے

اس نے ماتھے کو ہاتھ لگایا وہاں پسینے کی بوندیں تھیں ، اس کی پوری ہستی چند لمحوں کیلئے ہل کر رہ گئ تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ تقریبا ڈنر کے وقت وہاں پر پہنچا تھا ، ہوٹل میں گویا رنگ وبو کا سیلاب آیا ہوا تھا ، زین نے اسے میسج کرکے لوکیشن سینڈ کردی تھی اور یہ بھی بتادیا تھا کہ وہ اوپر ہوں گے سو وہ سیدھا اوپر ہی گیا تھا

ٹیرس پر سب سے پہلی نظر اس کی زین پر پڑی تھی ، وہ عمار کے ساتھ کھڑا ہنستے ہوئے کچھ کہہ رہا تھا ، عیسیٰ کو دیکھا تو گلاس رکھ کر اس کی طرف آیا اور زور سے اسے گلے لگا کر بھینچا

” پیچھے ہٹ ۔۔”

اس نے غصے سے اسے پیچھے دھکیلا

” اصولاً تمہیں مبارک دینی چاہئے مجھے “

زین نے الگ ہو کر اسے گھورا

” کال پر جو دی تھی کافی نہیں تھی ؟”

” سب سے بیسٹ تھی ، کسی ایک نے بھی ایسے مبارک نہیں دی تھی “

اس نے رخ موڑ کر اردگرد دیکھا ، وہاں سب جمع تھے جن جن کو زین جانتا تھا اور ان سب میں اسے صوفیہ بھی نظر آئ جس نے اسے دیکھ کر یوں نظر انداز کیا تھا جیسے وہ وہاں موجود ہی نا ہو ، عیسیٰ نے بالوں میں ہاتھ پھیرا، اسے اچھا خاصا ناراض کردیا تھا

” چینج تو کرلیتے۔۔۔۔”

زین کی آواز پر اس نے اپنے لباس کو دیکھا ، سیاہ پینٹ پر سیاہ شرٹ پہنی ہوئ تھی ، کوٹ اور ٹائ گاڑی میں رکھ دیا تھا

” میٹنگ سے سیدھا یہیں آیا ہوں “

زین نے قدرے غور سے گھور کر اسے دیکھا

” بہت خوش لگ رہے ہو ؟”

” نہیں ہونا چاہئے ؟”

اس نے منہ کے زاویے درست کئے ، کل سے بلاوجہ ہی چہرے پر مسکراہٹ آرہی تھی

” ہوسکتے ہو لیکن وجہ کیا ہے ؟”

” تمہارا سی ایس ایس کلیئر کرنا کیا خوش ہونے کیلئے کافی نہیں ہے ؟”

” یہ تو مت ہی کہو کہ تم میرے سی ایس ایس کلیئر کرنے پر خوش ہورہے ہو ۔۔” زین نے منہ بنایا ” کم از کم یہ وجہ تو ہرگز نہیں ہے “

” تو پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟”

ابرو اچکائے

” میں نہیں جانتا لیکن آخری بار ایسی چمک تمہارے چہرے پر تب دیکھی تھی جب تم نے ملتان میں بتایا تھا کہ قرت العین امام صاحب کی بیٹی ہیں “

اور پچھلے چار سالوں میں یہ پہلی بار تھا جب قرت کے ذکر پر زین نے عیسیٰ کے چہرے پر تکلیف نہیں دیکھی تھی

” اس بار وجہ اس سے بھی زیادہ بڑی ہے “

وہ سر جھٹک کر ہنسا

” بتا دو بھئ کیا وجہ ہے ؟”

” صبر کرو ، کچھ دن تک بتاتا ہوں “

” مجھ سے نہیں ہوتا صبر “

” اب تو مجھ سے بھی نہیں ہورہا “

بالوں میں ہاتھوں پھیرتے وہ بے بسی سے بڑبڑایا

” کیا بڑبڑارہے ہو ؟”

زین مشکوک ہوا

” کچھ نہیں ، یہ بتائو انکل کا کیا رئیکشن تھا ؟”

اب کے زین کے چہرے پر مسکراہٹ آئ

” بہت خوش تھے وہ ،جب انہوں نے میرا رزلٹ سنا تو مجھے گلے لگایا ، انہوں نے کہا انہیں مجھ پر فخر ہے ، “

سر جھٹکتے اس کے چہرے پر صاف محسوس کی جانے والی خوشی تھی ، عیسیٰ اسے چند لمحے مسکرا کر دیکھتا رہا پھر آگے بڑھتے زور سے بھینچ کر گلے لگایا

” میں تمہارے لئے بہت خوش ہوں زین “

اس کی پشت تھپکی ، زین الگ ہوا اور پھر آنکھوں کا نم گوشہ صاف کیا

” ایموشنل کردیا “

” زیادہ خوش مت ہو ، بھولا نہیں ہوں میں کہ تم نے میری جان نکال لی تھی تقریباً “

زین ہنس دیا

” تمہیں لگا تھا میں واقعی خود کشی کرلوں گا ؟”

” نا کرتے تو میں خود تمہیں مارگلہ سے دھکا دیتا “

وہ کچھ اور کہتا اس سے پہلے زین کو کسی نے آواز دی ، وہ عیسیٰ کو انجوائے کرنے کا کہہ کر اس طرف چلا گیا

عیسیٰ صوفیہ کی طرف بڑھ گیا

” can we talk ?”

صوفیہ کے ساتھ کھڑی لڑکیاں معنی خیزی سے اسے دیکھتی ہوئ وہاں سے ہٹ گئیں

” میں سن رہی ہوں ” اس نے ہاتھ سینے پر باندھ لئے

“اس دن جو کچھ فنکشن پر میں نے کہا اس کیلئے سوری “

” تو تمہیں احساس بھی ہوتا ہے کہ تم نے کسی کا دل دکھایا ہے “

” میں اس وقت ڈسٹرب تھا صوفیہ “

” تو اگر تم ڈسٹرب ہو تو جو چاہو گے کہہ دوگے ؟ اور دوسروں کا دل دکھائوگے ؟ “

عیسیٰ کے ماتھے پر شکنیں ابھریں ، اس نے ایسا بھی کچھ نہیں کہا تھا جو وہ اس طرح رئیکٹ کررہی تھی

” میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا جو تم ناراض ہو جائو “

” وائو ! جب تمہیں احساس ہی نہیں ہے تو سوری کیوں بول رہے ہو ؟”

” کیونکہ مجھے معلوم ہے میں نے تمہیں ہرٹ کیا ہے اور کم از کم میں تمہیں سوری بول رہا ہوں اگر تمہیں قبول نہیں کرنا تو ٹھیک ہے ، لیکن مجھے یہ ایٹیٹیوڈ مت دکھائو ، کیونکہ میں کسی کا ایٹیٹوڈ برداشت نہیں کرتا “

وہ درشتی سے کہتے مڑ گیا ، اس کی بلا سے ناراض رہے وہ ، اسے جیسے پروا تھی، وہ پھر صرف پندرہ بیس منٹ وہاں رکا تھا ، وہ اس وقت شدید تھک چکا تھا اور مزید اسے یہاں نہیں رہنا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

قرت العین نے پچھلے ایک ہفتے میں جو اطمینان ابا کے چہرے پر دیکھا تھا وہ آج پریشانی میں بدلا تھا ، وہ صبح سے گھر پر تھے اور صرف نماز کیلئے مسجد گئے تھے ، مغرب کی نماز پڑھ کر وہ واپس آئے تو ان کے ساتھ کوئ اور بھی تھا

وہ ان کوئ اور کے بارے میں جانتی تھی ، اماں نے کل ہی بتایا تھا کہ اس کے رشتے کیلئے کچھ لوگ آرہے ہیں ، کون لوگ یہ نہیں بتایا تھا ، اسے دلچسپی بھی نہیں تھی ، وہ بس خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی ، اس وقت بھی وہ رجسٹر اٹھائے بچیوں کے ٹیسٹ چیک کررہی تھی جب اماں اسے بلانے لائیں

” باہر آئو اور حلیہ درست کرو اپنا ، خاصی مہذب خاتون ہیں کیا سوچیں گی “

وہ قدرے سستی سی اٹھی، مہر نے اس کا سوٹ استری کرکے رکھ دیا تھا وہ پہنا، منہ ہاتھ دھوئے ،بال کیچر میں باندھے اور دوپٹہ سر پر رکھ کر باہر آئ ، چھوٹا سا لائونج نما کمرا تھا جس کے سرے پر کمرے تھے اور سامنے برآمدا ، آواز برآمدے سے آرہی تھی وہ برآمدے کی طرف بڑھی

سامنے کاٹن کا سیاہ سوٹ پہنے طرح دار سی خاتون بیٹھی تھیں ، دوپٹہ کاندھے پر تھا اور بال جوڑے میں باندھ رکھے تھے ، مسکرا کر اماں کی بات سن رہی تھیں جب قرت پر نظر پڑی ، وہ چند لمحے اسے دیکھ کر رہ گئیں

وہ عام سی شکل و صورت کی لڑکی تھی ، رنگت گندمی لیکن صاف تھی ، چہرے پر نرم سا تاثر تھا ، مناسب قد اور با وقار چال ۔۔۔۔قرت العین !

، تو وہ تھی قرت العین جس کیلئے عیسیٰ حیات جوگ لینے تک کو تیار تھا ، جس کیلئے وہ چار سال سے ایک مقام پر رک گیا تھا ، جس کیلئے اس نے ہر خوبصورت چہرہ ٹھکرادیا تھا ، اس نے اس عام سی لڑکی میں ایسا کیا دیکھا تھا ؟

دیکھا ؟ عیسیٰ نے تو اسے دیکھا تک نہیں تھا سوائے اس کی آنکھوں کے ، وہ قریب آئ تو شہوار نے اس کی آنکھوں کو دیکھا بھوری آنکھیں ، ایسی آنکھیں تو اس کے اردگرد ہزاروں تھیں یا ان آنکھوں میں کچھ اور تھا جو عیسیٰ حیات کا دل لے ڈوبا تھا

” السلام علیکم “

اس نے سلام کیا تو شہوار چونکیں ، بے اختیار کھڑے ہوکر اسے گلے سے لگایا

” وعلیکم السلام آئو میرے ساتھ بیٹھو ۔۔”

وہ ساتھ رکھی کرسی پر ان کے ساتھ بیٹھ گئ

” بہت اشتیاق تھا مجھے قرت سے ملنے کا ، بلآخر مل ہی لیا ، بہت پیاری بچی ہے آپ کی “

وہ بس سر اٹھائے اور نظریں جھکائے بیٹھی رہی ، وہ اسے کیسے جانتی تھیں ؟ زہن میں خیال آیا ، اماں ان کے بارے میں پوچھتی رہیں اور وہ بتاتی رہیں

اپنا کاروبار تھا ، ملک بھر میں پھیلا ہوا تھا ، اکلوتا بیٹا تھا سب اسی کا تھا ، سلجھا ہوا ، با اخلاق ، باادب ، ہینڈسم ، انگلینڈ سے پڑھ کر آیا تھا ، لاکھوں میں ایک تھا ، کرڑوں میں بھی ایک ، اسلام آباد میں گھر بھی اپنا تھا ، وہ بتاتی رہیں ، اماں متاثر ہوتی رہیں ، تین دن پہلے ہی نعمان صاحب نے اس رشتے کا بتایا تھا ، ان کے کوئ جاننے والے تھے ، کون سے جاننے والے یہ نہیں بتایا تھا

” ماشاء اللہ، آپ کے بیٹے کا کیا نام ہے ؟”اماں کی آواز بھی متاثر لگ رہی تھی

” عیسیٰ حیات “

اور اس نام پر قرت نے بے اختیار نظر اٹھا کر انہیں دیکھا ، کیا اس نے غلط سنا تھا ؟ مہر کی نظر اس پر گئ ، مسکراہٹ سمٹی

” آپ نے کیا نام بتایا ؟”

اس نے خود کو کہتے سنا ، شہوار کی نظریں اس کے زرد پڑتے چہرے پر گئیں

” عیسیٰ حیات ۔۔”

وہ اس کا نام نہیں تھا وہ شہوار کا چہرہ تھا جس نے قرت العین کو بتایا تھا کہ وہ کس عیسیٰ حیات کی بات کررہی تھیں ، اس کے اردگرد دھماکے پھٹے ، آنکھیں جلنے لگیں، چار سال پہلے کا ہر احساس پھر سے جاگ گیا ، سفید بکھرتے پھول ، کانچ کے ٹکرے ، فرش پر پھیلتا خون ، بیٹھک کا منظر ، چنار کا درخت ، بجھتے دیئے اور وہ سفید خط ، وہ وعدہ کرکے گیا تھا کہ واپس نہیں آئے گا ، پھر کیوں ؟ پھر کیوں ؟

” میں آتی ہوں “

وہ جھٹکے سے اٹھی اور اندر کی طرف بڑھی اس نے پیچھے کسی کا چہرہ نہیں دیکھا ، کمرے میں آ کر دروازہ بند کیا اور بیڈ پر بیٹھی

عیسیٰ حیات ۔۔۔۔ عیسیٰ حیات ۔۔۔۔وہ عیسیٰ حیات کی ماں تھیں ؟ وہ اس شخص کی ماں تھیں جس سے اس نے پچھلے چار سال میں صرف نفرت کا رشتہ رکھا تھا ، وہ شخص جو کہہ کر گیا تھا کہ وہ ہر نشان مٹا کر جارہا ہے ، وہ نئے نشان بنانے کیوں آیا تھا ؟ ، وہ اس کے شہر کو چھوڑ کر جانے والا اجنبی پھر کیوں واپس پلٹا تھا ؟

، اس کا سر درد کرنے لگا ، وہ دوبارہ باہر نہیں گئ ، مہر ایک دو بار اسے بلانے بھی آئ لیکن اس نے سردرد کا بہانہ کردیا

جانے وہ لوگ کب واپس گئے ، کب مہر نے آکر مٹھائ کمرے میں رکھی ، وہ کمبل میں منہ دیئے سوئ رہی ، ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب باہر سے بہت سی آوازیں آنے لگیں ، ان سب میں واحد آواز جسے اس نے پہنچانا تھا وہ تایا کی تھی ، وہ جھٹکے سے اٹھی ، چپل ڈھونڈ کر پہنی اور برآمدے کی چوکھٹ تک آئ ، باہر تایا تائ ، چچا اور پھپھو آئے تھے ، مٹھائ ، سوٹ اور پھل اٹھائے ، اس کا دل زور سے دھڑکا

” آپ یہ سب واپس لے جائیں بھائ صاحب اس سب کی ضرورت نہیں ہے “

نعمان صاحب برآمدے میں رکھی چارپائ پر بیٹھے تھے ، باقی سب بھی وہیں تھے

” کیوں بھئ نعمان ، رشتہ طے کرنے آئے ہیں ، اتنا اہتمام تو ہر کوئ کرتا ہے “

تائ کی نظریں اٹھ کر میز تک گئیں ، وہاں مٹھائ کے بڑے سے ٹوکرے رکھے تھے ، پھلوں کو بھی ٹوکرے میں پیک کرکے اچھے سے رکھا تھا ، سوٹ اور جانے کیا کیا ، ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو ان کی پڑوسن نے بتایا تھا کہ امام صاحب کے گھر سے بڑی سی گاڑی گئ ہے تو وہ سب کو سامان سمیت یہاں لے کر آگئیں

” یہ سب کس نے دیا ہے ؟”

نعمان صاحب نے رخ موڑ کر ان چیزوں کو دیکھا پھر اپنے بڑے بھائ کو

” قرت کے رشتے کیلئے کچھ لوگ آئے تھے ، وہی لائے ہیں یہ سب “

لمحہ بھر کو سب خاموش ہوگئے اسے صرف اپنے دل کی بڑھتی دھڑکن سنائ دینے لگی

” تم نے کیا جواب دیا ؟ “

اس بار خاموشی کا وقفہ زیادہ طویل تھا ، اس کی ہتھیلیاں پسینے میں بھیگ گئیں ، اس جواب کے منتظر صرف سامنے بیٹھے لوگ نہیں وہ بھی تھی

” میں نے ہاں کردی ۔۔۔”

جواب تھا یا صور ، چارپائ پہ بیٹھے سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے

” ہاں کردی ؟ وہ میرے جواد کی منگیتر ہے “

سب سے پہلے ہوش تائ کو آیا ، سب سے پہلے حواس قرت کے سن ہوئے، ہاں کردی ؟

” کون سی منگنی بھابھی ؟ قرت اور جواد کی کوئ منگنی نہیں ہوئ تھی ، “

” وہ بچپن سے ایک دوسرے کے نام پہ بیٹھے ہیں “

” پھر جواد نے شادی کیوں کی تھی ؟”

تائ گڑبڑائیں

” تم نے ہی تب منع کیا تھا “

” اب بھی میں ہی منع کررہا ہوں ، قرت کیلئے میں نے عیسیٰ کو ہاں کردی ہے ، اس جمعے کو ان کا نکاح اور رخصتی ہے ، آپ لوگ آئیں گے تو مجھے خوشی ہو گی نہیں آئیں گے تو دکھ نہیں ہوگا “

یہ دھماکہ پہلے دھماکے سے بڑا تھا ، اس نے لڑکھڑا کر دروازہ تھاما

” کون عیسیٰ ہاں ؟ کون لے کر جائے گا تمہاری بیٹی کو ؟ پورے علاقے میں بدنام ہے وہ “

تایا کو یہ تک بھول گیا کہ وہ خود بیٹیوں کے باپ ہیں

” وہی عیسیٰ بھائ جس کے ساتھ آپ کے بیٹے نے اسے بدنام کیا تھا ، میں نے قرت کا رشتہ عیسیٰ حیات کے ساتھ طے کردیا ہے “

کوئ قیامت سی تھی جو ان سب نفوس پر ٹوٹی تھی

” وہ ۔۔وہ لڑکا ؟” زاہد چچا کی شکل یکدم ہونق سی ہوئ

” اس جمعے کو نکاح ہے اور جیسا کہ میں پہلے بھی کہا کہ آپ سب آئیں گے تو مجھے خوشی ہوگی “

” ایسے کیسے بھائ ؟ گھر کے بچے پر اس پرائے لڑکے کو فوقیت دے رہے ہیں آپ ؟”

” کیوں شازیہ تم نے خود ہی تو مشورہ دیا تھا کہ اسی لڑکے سے بیاہ دوں جس کے ساتھ باتیں بنی تھیں ، بیاہ رہا ہوں اسی کے ساتھ اب ” شازیہ گڑبڑائیں ، انہوں نے تو یونہی بول دیا تھا

” تم غلطی کررہے ہو نعمان ، خاندان سے کٹ جائوگے ، اررے ہم تو احسان کررہے تھے کہ گھر کی بچی گھر میں رہ جائے گی ، باہر کرتے تو کٹ جاتے سب سے ، تم نے تو ہر تعلق خود ہی کاٹ دیا “

” مجھے نہیں چاہئے کوئ احسان بھائ صاحب ، آپ سب تب کہاں تھے جب میں آپ کی ہی دی گئ بدنامی کا بوجھ اکیلے اٹھا رہا تھا ؟ آپ سب تب کہاں تھے جب میری بچی موت کے منہ میں تھی اور کوئ ایک بھی میری مدد کو نا آیا ، آپ سب تب کہاں تھے جب میں چار سالوں میں اکیلا ہوگیا تھا ، آپ کو اب یاد آیا جب آپ کے بیٹے کی دوسری شادی کرنی تھی ، میں مر بھی جاتا تب بھی اس شخص کے ساتھ اپنی بیٹی نا بیاہتا جس نے بھرے بازار میں اس پر ہاتھ اٹھایا تھا ، اس کے چہرے پر پڑنے والا تھپڑ میرے دل پر پڑا تھا ، اس تھپڑ نے ہمارے رشتے بھی نگل لئے ، ” ان کی آواز غصے سے کانپی، باقی سب خاموش تھے

” جا سکتے ہیں آپ سب یہاں سے ، شادی میں آنا ہو تو آجائیے گا ورنہ تعلق تو آپ سب پہلے ہی ختم کرچکے ہیں ،چلو سعدیہ “

انہوں نے سب پر آخری نظر ڈالی اور اندر بڑھ گئے ، سعدیہ ان کے پیچھے ہی چلی گئیں ، ان کے جانے کے بعد تائ نے ایک نظر اپنے چھوٹے چھوٹے ڈبوں کے سامنے ان بڑے پیک شدہ تحفوں کو دیکھا اور نفرت بھری ایک نگاہ ڈال کر وہاں سے چلی گئیں ، تایا ان کے پیچھے ہی گئے تھے، پھپھو نے ایک رنجیدہ نظر بند دروازے پر ڈالی اور زاہد چچا کا ہاتھ تھام کر مغموم سی وہاں سے روانہ ہوگئیں

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ اگلے دن دیر سے اٹھی ، مدرسے جانے کا دل نہیں تھا سو نماز پڑھ کر دوبارہ سے کمبل میں منہ دیئے سو گئ ، مہر یونیورسٹی اور ابوبکر کالج چلا گیا ، اماں اسے ایک بار ناشتے کیلئے بلانے آئیں لیکن وہ لیٹی رہی ، ذہن منجمد سا تھا

ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب ہلکی سی دستک سنائ دی ، پھر ہلکے قدموں کی چاپ ، وہ اس دستک کو پہنچانتی تھی ، وہ اس چاپ کو بھی پہچانتی تھی

نعمان صاحب اندر آئے ، بیڈ پر قرت کے ساتھ تھوڑی سی جگہ بنائ اور پھر وہیں بیٹھے

” قرت ۔۔” وہ خاموش لیٹی رہی

” جواب بھی نہیں دو گی ؟”

خاموشی ۔۔۔۔۔۔

” ناراض ہو ؟۔۔”

” السلام علیکم قرت العین ۔۔۔”

دوسری طرف اب بھی خاموشی تھی پھر اس کی آواز ابھری

” وعلیکم السلام ۔۔”

نعمان صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری، وہ فرض سے واقف تھی ، واجب سے انجان نا تھی

” اب بات بھی سن لو میری ۔۔۔”

اس نے دھیرے سے کمبل ہٹایا ، اٹھ کر بیٹھی ، دوپٹہ اب بھی نماز سٹائل میں پہنا ہوا تھا ، چہرہ زرد سا تھا

” ناراض ہو ؟”

” آپ سے ہوسکتی ہوں ناراض ؟”

” ناشتہ کیوں نہیں کیا ؟”

” دل نہیں تھا “

وہ چند لمحے اسے دیکھتے رہے

” تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے قرت العین؟”

” ہر انسان سے زیادہ “

” تمہیں لگتا ہے کہ میں نے تمہارے لئے عیسیٰ کا انتخاب کرکے غلط کیا ہے ؟”

” آپ نے غلط نہیں کیا لیکن آپ کا انتخاب غلط ہے “

” تم اسے پسند نہیں کرتیں ؟”

” میں اس سے نفرت کرتی ہوں ۔۔”

” میں خدا سے دعا کروں گا وہ اس نفرت کو ختم کردے ۔۔”

چند برس قبل لکڑی کی بنی ٹیبل کے پار بیٹھے شخص نے اس سے کہا تھا کہ تھا کہ وہ دعا کرے ” خدا اس کا دل اس کے لئے کھول دے “

عرصہ ہوا قرت العین دعاؤں سے ڈر گئ تھی

” یہ دعا مت کیجئے گا ابا “

نفرت ختم ہوجاتی تو پیچھے محبت بچتی، عرصہ ہوا قرت العین محبت سے بھی ڈر گئ تھی

” تم میری دعائوں کے بیچ مت آئو ۔۔۔”

وہ اپنی ہتھیلی پر نظر جما کر بیٹھ گئ

” میں اس سے شادی نہیں کرسکتی ، وہ میری بربادی کا ذمہ دار ہے “

” جو شخص تمہاری بربادی کا ذمہ دار ہے میں اس سے تمہاری شادی کر بھی نہیں رہا ، ۔۔” انہوں نے رخ پھیر کر سامنے رکھے سفید گلدان کو دیکھا ” میں اس شخص سے تمہاری شادی کررہا ہوں جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری آنکھوں میں آنسو لانے والا آخری مرد ہوگا “

” پہلا مرد بھی وہی تھا “

” وہ نا محرم تھا تب ۔۔”

” آپ چاہتے ہیں وہ محرم بن کر رلائے ؟”

” میں ایسا کیوں چاہوں گا ؟”

” پھر ایسا کیوں کررہے ہیں ؟”

نعمان صاحب نے واپس اسے دیکھا

” کیونکہ میں تمہارے لئے ڈر گیا ہوں قرت ، میرے سامنے دو لوگ تھے ، جواد اور عیسیٰ ، میں نے اس شخص کا انتخاب کیا جو تمہارے لئے بہتر لگا ، میرے اپنے مجھے اب گدھ لگنے لگے ہیں ، سچ کہوں تو جواد سے ڈر لگنے لگا ہے ، عیسی نا ہوتا تو میں کمزور پڑ کر جواد کو چن لیتا ہے ، میں اب خود سے بھی ڈر گیا ہوں قرت ۔۔”

” ابا ۔۔۔” اسے صدمہ لگا

” میں نے خدا پر بھروسہ کرکے اسے تمہارے لئے چنا ہے ، تم بھی اسی خدا پر بھروسہ کرکے اسے چن لو ، وہ خدا کا پیارا ہے ۔نا ہوتا تو وہ اسے اندھیرے سے روشنی کی طرف نا لاتا ۔۔”

” میں اس کیلئے اپنا دل تبدیل نہیں کرپائوں گی “

” دلوں کو تبدیل تو خدا کرتا ہے یہ کام وہی کرے گا ۔” وہ اٹھ کھڑے ہوئے

” تم چاہو تو منع کردو ، چاہو تو ہاں کردو ، جو کروگی میں تمہارے فیصلے کا احترام کروں گا ، لیکن ایک بار سوچ لو بیٹا ، میرا دل عرصے بعد جاکر مطمئن ہوا ہے “

وہ چلے گئے قرت وہیں بیٹھی رہ گئ ، اس کا باپ عرصہ اس کی وجہ سے پریشان رہا تھا ، اس کی وجہ سے خاندان سے کٹ گیا تھا، اپنے باپ کی اذیت کی ذمہ دار وہ تھی اور اب وہ کہہ رہے تھے کہ وہ مطمئن تھے ، تو یعنی طے ہوا قرت العین کیلئے عیسیٰ حیات کو چنا گیا تھا

اور بیٹیاں تو مان جایا کرتی ہیں ، عزت کے ڈر سے ، محبت کے بھرم سے ، باپ کے الفاظ سے ، ماں کی نظروں سے بیٹیاں تو مان جایا کرتی ہیں

تو قرت العین بھی مان گئ تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” کیسی ہیں وہ ؟”

وہ ان کے سامنے بیٹھا اشتیاق سے پوچھ رہا تھا

” مجھے تو اچھی لگی ۔۔”

” اوووہوں ، آپ کو کیسی لگی یہ نہیں پوچھ رہا ” وہ کیسی تھی” یہ پوچھ رہا ہوں “

” ٹھیک تھی بھئ ۔۔۔” شہوار نے غور سے اسے دیکھا ، عرصے بعد اس کے چہرے پر سکون تھا ” تم جاننا چاہوگے وہ کیسی دکھتی ہے ؟”

” نہیں ، میں انہیں آپ کی آنکھوں سے نہیں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہوں گا “

” اس کی آنکھیں پیاری ہیں ۔۔۔”

وہ ہلکا سا ہنسا

” ان میں میرا عکس تھا ؟”

” وہ تمہارا نام سنتے ہی چلی گئ تھی “

ان کی زبان سے پھسلا ، عیسیٰ کی مسکراہٹ غائب ہوئ

” ان کا چہرہ سفید ہوا ہوگا “

” زرد ۔۔۔”

” یعنی نفرت ابھی باقی ہے ۔۔” لبوں پہ سوگوار سے مسکراہٹ ابھری ، شہوار کچھ کہنا چاہتی تھیں لیکن حیات کمرے سے باہر آرہے تھے ، وہ کسی سے کال پر الوادعی کلمات کہہ رہے تھے ، عیسیٰ اور شہوار انہیں دیکھے گئے

” نعمان صاحب کی کال تھی “

اس نے سوالیہ ابرو اچکائے

” تمہارے پرپوزل کا جواب دینے کیلئے کال کی تھی “

وہ صوفے پر بیٹھ گئے

” اوکے ؟ ۔۔۔۔پھر ؟”

بظاہر وہ پرسکون لگ رہا تھا لیکن اندر کی بے چینی ، اگر قرت العین نے منع کردیا ؟

” پندرہ منٹ بات ہوئ میری ان سے اچھے انسان ہیں “

انہوں نے اخبار سامنے پھیلا لیا، شہوار کی نظر عیسیٰ پر گئ ، اس کے چہرے کو دیکھ کر وہ بمشکل اپنی ہنسی ضبط کرسکیں

” ڈیڈ ۔۔۔۔۔”

” جی بیٹا “

” کیا کہا انہوں نے ؟”

” ہاں ۔۔۔کیا کہا ؟، شہوار یہ کل والا اخبار ہے نا ؟”

” یہ صبح کا اخبار ہے ڈیڈ اور آپ اسے پڑھ چکے ہیں “

” اوہ ، مجھے بھول گیا تھا “

” یقیناً ۔۔۔.۔”

سر کو خم دیا ، یعنی اب اس کا صبر آزمایا جائے گا ، بہت اچھے

” آج ڈنر میں کیا ہے ؟”

” یہ لنچ ٹائم ہے ڈیڈ “

” میں لنچ ٹائم ڈنر کا پوچھ رہا ہوں، تمہیں کوئ مسئلہ ہے ؟”

” مجھے جو مسئلہ ہے وہ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے “

” نہیں مجھے نہیں معلوم لیکن ” انہوں نے اخبار سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا ” تم کیا پوچھ رہے تھے ؟”

” نعمان صاحب نے کیا جواب دیا ہے ڈیڈ ؟”

ضبط سے انہیں دیکھا

” وہی ڈھونڈ رہا ہوں اخبار میں یہ خبر کہیں نہیں شائع ہوئ کہ عیسیٰ حیات عنقریب قرت العین سے نکاح کرنے والا ہے”

وہ سنجیدگی سے اخبار پر نظر دوڑاتے کہہ رہے تھے ، لمحے بھر کو عیسیٰ انہیں دیکھتا رہ گیا پھر جب ان کی بات سمجھ آئ تو بے اختیار پیچھے کو ٹیک لگائ

” سریسلی ڈیڈ ؟”

شہوار ضبط چھوڑے قہقہ لگا کر ہنس دیں ، عیسیٰ نے رخ موڑ کر خفا انداز سے انہیں دیکھا

” آپ دونوں پہلے سے جانتے تھے ؟”

” نہیں بھئ ، ابھی کال آئ ہے ان کی ” انہوں نے اخبار رکھ دیا”وہ لوگ اس جمعے رخصتی کا کہہ رہے ہیں “

” مجھے کوئ اعتراض نہیں ہے “

” مجھے ہے ، اتنی رسمیں ہوں گی سب کیسے کریں گے عیسیٰ ” وہ جھنجھلائیں

” سب کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ، جو ضروری ہے وہ کریں “

” تم اکلوتے بیٹے ہو میرے ، سارے ارمان نکالوں گی میں ، اور اتنے کم دن ناکافی ہیں ارمان نکالنے کیلئے “

” جب بہو آجائے تب نکال لیجئے گا ، فلحال جمعے کو نکاح ہے اینڈ دیٹس فائنل ۔۔۔” وہ اٹھ کھڑا ہوا

” تمہیں بہت جلدی ہے ؟” انہوں نے اپنی مسکراہٹ دبائ

” اس جلدی کی بھی ایک وجہ ہے مام ، میں چلتا ہوں ” ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ باہر کی طرف بڑھ گیا ، اسے کہیں جانا تھا ، باہر جاتے ہوئے وہ خوشی ، وہ مسکراہٹ جو اس نے چھپا رکھی تھی چہرے پر ظاہر ہو گئ،گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے وہ لان میں رکا ، سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا

” میں آپ کا شکر کیسے اداکروں گا اللہ ؟”

اس کا دل یوں تھا جیسے وہ ہر دھڑکن کے ساتھ کلمہ تشکر ادا کررہا ہو ، آنکھیں یوں تھیں کہ ہر چمک نعمتوں پر راضی ہو ، نظریں نیچی کرتے وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا اسے زین سے ملنا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اگر اسے اندازہ ہوتا کہ وہاں صوفیہ بھی ہوگی تو وہ کبھی نا آتا ، لیکن اب ان دونوں کی نظر اس پر پڑ چکی تھی سو واپس پلٹنا بد تہذیبی تھی ، ایک گہری سانس لیتے وہ ان کی طرف بڑھا

” کس لئے بلایا تھا ؟”

زین سے مل کر صوفیہ کو ہیلو ہائے کرکے وہ ڈائریکٹ مدعے پر آیا

” تم دونوں کی ناراضگی دور کرنے کیلئے ۔۔۔۔”

عیسیٰ کی نظر بے اختیار صوفیہ پر گئ ، وہ نک سک سے تیار آج پرسکون لگ رہی تھی

” ہم ناراض نہیں ہیں ۔۔”

صوفیہ نے شانے اچکائے

” ہمارے درمیان ایسا کوئ تعلق نہیں ہے جو ناراض ہونے کی وجہ بنے، “

وہ صاف گو تھا اور منہ پھٹ بھی صوفیہ کو اندازہ تھا ، لیکن اس حد تک یہ وہ نہیں جانتی تھی

” تعلق بنتے دیر ہی کب لگتی ہے ۔ “

زین کی باچھیں کھلیں

” اگزیکلی ۔۔۔”

اس نے سٹارٹر اپنے آگے کیا اور باری باری دونوں کو دیکھا ” مجھے تم لوگوں کو اسی حوالے سے کچھ بتانا تھا “

وہ دونوں ہمہ تن گوش ہوئے ، عیسیٰ نے سلاد کا ٹکڑا منہ میں رکھا اور زین کو دیکھا

” میں اس فرائیڈے شادی کررہا ہوں ۔۔۔”

زین نے ابرو اچکائے اور صوفیہ کا چہرہ سفید ہوا

” مزاق ؟”

” ہینڈرڈ پرسنٹ سریس ” وہ سریس ہی لگ رہا تھا ، زین نے محتاط نظروں سے صوفیہ کو دیھا ،وہ ساکت تھی

” آل رائٹ ، یہ اچانک کیسے لیکن ؟”

” میرے لئے اچانک نہیں ہے “

وہ جتنا صوفیہ کو نظر انداز کرسکتا تھا کررہا تھا

” لڑکی ۔۔۔لڑکی کا کیا نام ہے ؟”

اور یہ وہ سوال تھا جس پر عیسیٰ کو صرف زین کے تاثرات دیکھنے تھے سو وہ قدرے محظوظ انداز میں پیچھے کو ہوا اور اسے دیکھا

” قرت العین ۔۔”

” کون قرت العین ؟”

وہ رکا ، ٹھٹکا پھر آنکھوں میں شاک ابھرا ، پھر حیرت ، پھر صدمہ اور پھر اس کا منہ کھلا

” قرت ؟ تمہاری قرت ؟”

” ہاں ۔۔۔عنقریب میری قرت ۔۔۔”

نظریں صوفیہ تک گئیں اس کا چہرہ سرخ پڑرہا تھا ، عیسیٰ کو اپنی طرف دیکھتی پا کر وہ جھٹکے سے اٹھی، میز کے کنارے پڑا گلاس نیچے گرا

” میں چلتی ہوں ۔۔۔”

اور بنا کچھ پوچھے ٹھک ٹھک کرتی چلی گئ

” یہ سچ تھا ؟”

زین ابھی تک شاکڈ تھا

” جھوٹ لگ رہا ہے ؟”

اس نے بازوں سینے پر باندھے اور اسے گھورا

” نہیں ۔۔آئ مین ۔۔۔کیسے ؟ ۔۔۔کیوں ۔۔۔کب ؟”

اور اسے اس کیسے ؟ کیوں ؟ اور کب ؟ کا جواب اگلے پندرہ منٹ میں ملا تو وہ کچھ سنبھلا

” سو ہیپی فار یو ۔۔۔” وہ واقعی خوش تھا عیسیٰ مسکرایا

” جانتا ہوں ۔۔”

” سو تمہاری شادی ہورہی ہے ؟”

” بالکل “

” یقین نہیں آرہا ۔۔”

” مت کرو ۔۔”

” یعنی واقعی شادی ہورہی ہے ؟”

وہ بے زار ہوا ، ویٹر کو بلا کرکچھ آرڈر کیا اور زین کو دیکھا ، وہ یوں صدمے میں تھا جیسے قیامت آنے لگی ہو ، اب اگلے دو دن تک اسے واقعی یقین نا آتا ، وہ جانتا تھا