Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 21)
Nahal By Fatima Noor
ساتھ رکھی کٹوری میں گندم ڈال کر صحن میں پھرتی مرغیوں کو دانہ ڈالنے کی بجائے وہ اسی ایک مرغی پر نظریں جمائے بیٹھی تھی جو کیاری میں آخری کونے پر پھولوں کے ڈھیر کے بیچ جگہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی ٫ پھول بہت زیادہ تھے، ان کے ساتھ ڈھیروں پتے اور ٹہنیاں بھی تھیں ٫ اور وہ کب سے اسی کوشش میں مصروف تھی
” اماں کہاں ہیں تمہاری ؟”
نعمان صاحب اس کے ساتھ آ رکے تو اس نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا
” خالہ کی طرف گئ ہیں “
انہوں نے سر ہلایا پھر جاتے جاتے یونہی رک گئے
” پیپر پرسوں ہے نا تمہارا ؟”
قرت نے سر ہلایا
” کیا یہ وقت بھی آنا تھا کہ قرت العین کے پیپر ہوں اور وہ پڑھے نا ؟”
مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا
” میں پیپر نہیں دوں گی ابا “
نعمان صاحب کی مسکراہٹ سمٹی
” کیوں ؟”
وہ رخ موڑے اس مرغی کو دیکھنے لگی ٫ اس سے اب تک جگہ صاف نہیں ہوپائ تھی
” جو پڑھا اس پر عمل ہی نا کرسکوں تو کیا فائدہ ؟”
نعمان صاحب چند لمحے وہیں ٹھہرے رہے پھر گہری سانس لیتے اس کے ساتھ بیٹھے
” فائدے کیلئے پڑھا تھا ؟”
” نہیں٫ لیکن جو پڑھا اس پر عمل نا کرسکی “
” ایک عمل رہ گیا ٫ باقی عمل کرنے کی کوشش کی ٫ جو رہ گیا اس کا غم بھول جائو ٫ جن کو کرنے کی کوشش کی اس پر استقامت مانگو “
” جو رہ گیا وہ میرے دل پر بہت بھاری ہے “
اس کی آواز بھرا گئی
” گناہ کسی مٹی کے بھاری پتھر کی مانند ہے اور توبہ بارش کی طرح ٫ تم توبہ کرو ٫ مٹی کا پتھر پگھل جائے گا “
اس نے مرغی پر جمی نظریں ہٹا کر انہیں دیکھا
” اور اگر توبہ قبول نا ہوئ تو ؟”
” یہ تم اللہ پر رہنے دو ۔۔۔سچے دل سے کروگی تو ایسی توبہ پر شک نہیں بنتا “
” لیکن اس کے بعد کا کیا ابا ؟ میں ساری زندگی اس گناہ کے غم سے کیسے نکلوں گی ؟ یہ ساری زندگی مجھ پر بوجھ رہے گا “
نظریں واپس پلٹ گئیں ٫ مرغی کا جسم کسی کانٹوں بھری ٹہنی میں پھنس گیا تھا وہ اسے چھڑا رہی تھی ٫ شاید وہ زخمی بھی ہوگئ تھی
” جس گناہ پر توبہ کرلی ہو اور خدا سے معافی کی امید ہو ٫اس توبہ پر شک کرکے گناہ بار بار یاد کرنا نا شکری ہے ٫ “
” میں یاد نا بھی کروں لیکن لوگ نہیں بھلا نے دیتے “
حلق میں اٹکے آنسو باہر نکل گئے
” لوگ خدا نہیں ہوتے قرت العین٫ معافی خدا سے مانگی جاتی ہے ٫ معاف بھی وہی کرتا ہے٫ جو معاف کرتا ہے وہی گناہ مٹاتا ہے ٫ لوگ مٹاتے تو یہ شکوہ بنتا تھا “
” شکوہ نہیں کررہی ابا لیکن لوگ کیوں نہیں بھولنے دیتے ؟ وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم پہلے ہی گلٹ کا شکار ہیں ٫ ہم پہلے ہی اس غلطی پر شرمندہ ہیں ٫ وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جو ہم قطرہ قطرہ خود کو جوڑ رہے ہیں وہ اس پر ضرب لگا کر ہمیں پھر سے بکھیر دیتے ہیں “
نعمان صاحب نے اس کے پھسلتے آنسو کو دیکھا پھر ہاتھ بڑھا کر دھیرے سے اس کے آنسو صاف کئے
” جو عمل خدا کیلئے کیا جائے اس پر لوگوں سے ستائش نہیں مانگنی چاہئے ٫ جس گناہ پر خدا سے توبہ کی جائے اس پر لوگوں کے طعنوں کی فکر نہیں کرنی چاہئے ٫ جو چیز خدا اور تمہارے درمیان ہے اس پر لوگوں کی ملامت کی فکر مت کرو “
وہ رخ موڑ کر مرغی کو دیکھنے لگی ٫ وہ کانٹا پھینک کر دوبارہ سے اپنے کام میں مشغول ہوچکی تھی ٫ زخموں سے بے نیاز ہوکر
” آپ کو مجھ سے نفرت نہیں ہوتی ؟”
وہ تھم سے گئے
” مجھے کیوں نفرت ہوگی تم سے ؟”
” جو کچھ مجھ سے ہوگیا اس نے آپ کو بدنام کردیا “
وہ چند لمحے اسے دکھ سے دیکھتے رہے ٫ ان کی مضبوط بیٹی خود کو واقعی تنکا تنکا جوڑ رہی تھی ٫ اس کو جو چیزیں سکھائ تھیں وہ سب اس نے بھلادی تھیں
” مجھے تم سے کبھی نفرت نہیں ہوگی قرت العین ۔۔۔میں باپ ہوں ٫ باپ بیٹیوں سے کبھی نفرت نہیں کرتے ٫ باپ بیٹیوں سے زیادہ محبت کسی سے نہیں کرتے”
اس کی آنکھیں پھر سے بھر گئیں
” آپ میرے لئے خدا کا فضل ہیں ابا ٫ میں شکرگزار ہوں کہ میں آپ کی بیٹی ہوں “
وہ بس ہلکا سا مسکرائے پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے
” چلو شاباش اٹھ کر امتحانات کی تیاری کرو ٫ جو ہوچکا اس پر مایوس ہوکر جو ہونے والا ہے اسے برباد مت کرو ٫ اور کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ٫ کوئ طعنہ نہیں دے گا ٫ اب کوئ تمہارا راستہ نہیں روکے گا ٫ جو روکتا تھا وہ شاید شہر چھوڑ کر چلا گیا ہے “
اس کے آنسو صاف کرتے ہاتھ تھم گئے
” آپ کو ۔۔۔۔کس نے کہا ؟”
” وہ نظر نہیں آرہا دو تین دن سے ٫ شاید چلا گیا ہوگا “
وہ اسی دھیمے انداز میں کہتے وہاں سے چلے گئے ٫ وہ وہیں بیٹھی رہی ٫ کیا وہ ابا کو بتائے کہ وہ اس کے کہنے پر گیا تھا ؟ اور اگر وہ اس بات پر ناراض ہوگئے کہ وہ اس سے ملنے کیوں گئ تھی ؟ اگر انہیں برا لگا ؟
اس رخ موڑ کر مرغی کو دیکھا
اس نے بالآخر جگہ صاف کرلی تھی اور وہاں بیٹھ چکی تھی !
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” سر ! “
کار کا دروازہ کھولتا عیسیٰ آواز پر رکا اور پیچھے دیکھا ، سیاہ پینٹ پر بلیو شرٹ پہنے پچیس چھبیس برس کا لڑکا ٹھہرا تھا ، ہاتھ میں کچھ لفافے تھے
” سر میں حمدان ہوں ، حیات سر کا سیکرٹری “
” اچھا ۔۔۔۔۔”
اس نے بے زاری سے ابرو اچکائے کہ آگے بولو
” سر یہ ٹکٹس حیات سر نے منگوائے تھے “
” تو ان کو دو نا جا کر میرا کیوں سر کھا رہے ہو “
وہ بے زاری سے ہاتھ جھلاتا جانے لگا اس کا موڈ ویسے بھی آج کل ہر وقت خراب رہتا تھا
” سوری سر انہوں نے بتایا نہیں تھا کہ ٹکٹس کہاں دینے ہیں ،وہ آج آفس نہیں آئے اس لئے میں گھر چلا آیا لیکن ملازم نے کہا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں اس لئے آپ کو دے رہا تھا “
لڑکا گڑبڑایا ، عیسیٰ رکا اور اس کے ہاتھ میں پکڑے ٹکٹس دیکھے
” ادھر دو ۔۔۔”
سیکرٹری نےٹکٹ آگے بڑھائے تو اس نے جھپٹ کر انہیں لیا اور پھر اسے دفع ہونے کا اشارہ کرتے گاڑی کی طرف بڑھ گیا
٫ایک ہاتھ سے گاڑی کا دروازہ کھولتے دوسرے ہاتھ سے اس نے لفافہ کھولتے یونہی بے دھیانی میں وہ ٹکٹس دیکھے اور وہ وہیں رک گیا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
شہوار اور حیات جب گھر میں واپس پہنچے تو عیسیٰ لائونج میں بیٹھا تھا ، کہنیاں گھٹنوں پر ٹکائے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند تھیں وہ سامنے میز پر دیکھ رہا تھا ، آہٹ پر بھی اس نے نظریں نہیں اٹھائیں یہانتکہ شہوار اس کے پاس پہنچیں ، حیات سٹڈی کی طرف جارہے تھے
” کھانا کھایا تھا تم نے ؟”
اس نے جواب نہیں دیا
” آج ڈنر میں کیا بنائوں تمہارے لئے ؟”
وہ پیار سے پوچھتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھیں ، عیسیٰ خاموش رہا
” یا پھر ڈنر باہر کریں ؟ ایک فیملی کی طرح؟”
شہوار کی مسکراہٹ مدھم ہوئ وہ چپ کیوں تھا ؟ خاموشی سے سامنے دیکھتا ہوا ، انہوں نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور مسکراہٹ غائب ہوئ ، سامنے ملتان کے ٹکٹس پڑے تھے
” کب جارہے ہیں پھر آپ دونوں ؟”
سٹڈی کا دروازہ کھولتا حیات کا ہاتھ تھم گیا مڑ کر پیچھے دیکھا تو عیسیٰ شہوار کو دیکھ رہا تھا ، ان کی نظر ٹیبل پر گئ ٫بے اختیار گہری سانس لی
” میری بات سنو عیسیٰ ۔۔۔۔۔”
وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا
” کیا سنوں ؟ یہی کہ مجھے بغیر بتائے بغیر پوچھے ٫ ایک بار پھر آپ دونوں میری زندگی میں دخل اندازی کررہے ہیں ؟
” ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔۔”
وہ گھبرا گئیں
” تو پھر کیسی بات ہے ؟٫کہہ دیں یہ ٹکٹس جھوٹ ہیں ٫کیا میں نے آپ دونوں کو منع نہیں کیا تھا مام ؟”
اس کی آواز بلند ہوئ
” ہم صرف اس لڑکی سے ملنا چاہتے تھے “
شہوار کھڑی ہوگئیں
” اور پھر؟ پھر کیا مام ؟ اس کے بعد کیا ہوتا ؟ “
” وہ مان جاتی عیسیٰ “
” وہ نہیں مانتی ۔۔لیکن جانتی ہیں کیا ہوتا ؟ میری زبان کا بھرم ٹوٹ جاتا ، میری عزت نفس ٫ میری انا٫ میرا وقار ٫ان سب کا کیا ؟ میں اس سے کہہ کر آیا تھا کہ میں اس کی زندگی سے جارہا ہوں ، آپ کو مجھ سے زیادہ میری فکر نہیں ہوگی ، اگر میں نے کہا کہ آپ اس سے رابطہ نہیں کریں گی تو اس کا مطلب تھا کہ نہیں کریں گی “
” عیسیٰ ۔۔۔” حیات کی آواز سخت ہوئ ” یہ کس طرح بات کررہے ہو تم اپنی مام سے ؟”
” مجھے تمیز مت سکھائیں ، آپ نے کل خود کہا تھا کہ ہم نئ شروعات کرتے ہیں ، اگر یہ شروعات ہے٫ تو مجھے نہیں کرنا اسے شروع “
وہ بدتمیزی سے کہتا آگے بڑھنے لگا جب حیات نے اس کے بازو کو تھاما اور پیچھے دھکیلا
” کون سی شروعات کی بات کررہے ہو تم ہاں ؟ حالت دیکھی ہے اپنی تم نے ؟ اپنی ماں کی حالت دیکھی ہے ؟ وہ پچھلے تین دن سے روز رات کو اٹھ کر تمہارے کمرے میں جاتی ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ تم خود کے ساتھ کچھ کر نا دو ٫ تم گاڑی لے کر باہر نکلتے ہو تو وہ دس مرتبہ مجھے کال کرکے پوچھتی ہے کہ عیسیٰ کی لوکیشن بتائوں،تمہاری مام نے سلیپنگ پلز تک تمہارے کمرے سے اٹھوا لی تھیں ،ایک لڑکی تمہارے لئے تمہارے ماں باپ سے زیادہ اہم ہوگئ ہے ؟”
وہ اونچی آواز میں غصے سے اس کے بازوؤں کو تھامے پوچھ رہے تھے ،عیسیٰ تھم گیا
” حیات ۔۔۔”
” بس شہوار ۔۔۔۔بہت برداشت کرلیا ہم دونوں نے ، تمہیں بہت دکھ ہے نا کہ ہم نے تمہارا بچپن ضائع کردیا ، کیا تمہیں یہ احساس ہے عیسیٰ کہ تم اپنی جوانی اور ہمارا بڑھاپا ضائع کررہے ہو ؟ کیا یہ ہے تمہارا ظرف کہ اپنے ماں باپ کو بھی معاف نہیں کرسکتے ؟ “
” آپ لوگ میرے لئے کبھی موجود نہیں رہے تھے ڈیڈ ” اس کی آواز کانپی
” کس موجودگی کی بات کررہے ہو تم ؟ تمہیں ہم سے شکوہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں مصروف ہوکر تمہیں بھول گئے ٫ہاں ہوگئ غلطی ہم سے ٫ تمہیں شکوہ ہے میں نے تمہیں اپنے باپ کے ساتھ گائوں جانے دیا یہ بھی تھی ہماری غلطی ، تمہیں انگلینڈ بھیج دیا یہ بھی تھی ہماری غلطی، لیکن عیسیٰ حیات میں تم سے کبھی بے خبر نہیں رہا ، میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ تم دو مہینے ری ہیبلیٹیشن سنٹر میں رہے ہو ، میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ تمہارے گریڈز کیسے آتے ہیں، میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ تم کن دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو ، میں تمہارے ساتھ نہیں تھا لیکن تم سے بے خبر بھی نہیں تھا “
” ان سب کا وقت گزر چکا اب ڈیڈ ۔۔۔۔”
” وقت گزر چکا لیکن ہم سب وہیں ہیں عیسٰی ٫ کسی نا کسی ایک مقام پر ہم سب ٹھہر گئے ہیں ٫ کسی نا کسی ایک غلطی کی سزا ہم سب بھگت رہے ہیں ٫ تم کسی سے معافی مانگ رہے ہو لیکن خود ہمیں معاف نہیں کررہے٫ تم اس اذیت سے واقف ہوکر بھی ہمیں وہی اذیت دے رہے ہو ٫ کب تک ایسے ہمیں سزا دوگے ؟ کب تک ہمیں اس پچھتاوے کے ساتھ زندہ رہنا پڑے گا “
وہ جیسے تھک گئے تھے ٫ عیسیٰ چند لمحے انہیں دیکھتا رہا پھر وہ دھیرے سے اپنا ہاتھ چھڑا کر صوفے پر بیٹھا
” آپ لوگ ملتان نہیں جائیں گے “
اس نے حتمی لہجے میں کہا
” ہم نہیں جائیں گے ،ہم جانے کا سوچتے بھی نا اگر ہمیں تمہاری فکر نا ہوتی ، جو حال تم نے خود کا کررکھا ہے ہم صرف تمہیں پہلے جیسا دیکھنا چاہتے تھے اس کیلئے اگر ہمیں اس لڑکی کے گھر بھی جانا پڑتا تو ہم چلے جاتے، تم ہمیں پرانا عیسیٰ لوٹا دو ہم کہیں نہیں جائیں گے “
شہوار رو پڑیں ، عیسیٰ سر ہاتھوں میں تھامے کتنے ہی لمحے بیٹھا رہا پھر وہ جھٹکے سے اٹھتا اوپر کی طرف بڑھ گیا ٫ پیچھے شہوار اور حیات ایک بار پھر خالی دل کے ساتھ بیٹھے رہ گئے
°°°°°°′°°°°°°°°°°°°°
” میں جارہی ہوں اماں۔۔۔۔۔۔ “
اس نے لمحہ بھر کو رک کر اپنا سر آگے کیا ، سعدیہ نے ہلکا سا سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھا لیا ، وہ اب تک ناراض تھیں
” آجائو بیٹا دیر ہورہی ہے۔۔۔۔ “
ابا باہر بلا رہے تھے سو وہ باہر کی طرف بڑھ گئ ورنہ اماں سے کہتی کہ اس کیلئے دعا کریں وہ کرتیں یا نہیں لیکن وہ پھر بھی کہنا چاہتی تھی
اس نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی باغ کے سرے پر ابا بائیک پر ٹھہرے تھے وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی لیکن قدم رک گئے ، دائیں طرف سے سے جواد آرہا تھا ، اس کا رخ باغ کی طرف تھا اس سب کے بعد یہ پہلی بار تھا جب اس نے جواد کو دیکھا تھا ، ابا فاصلے پر تھے ، جواد نزدیک تھا ، اس نے ایک لمحے کیلئے ابا کو دیکھا پھر جواد کو اور جیسے کوئ ہمت سی اٹھی تھی ، گردن سیدھی کرتے ہوئے اس نے قدم آگے بڑھا دیئے ، جواد کے قدم تیز ہوئے ، وہ لمبے قدموں سے آگے بڑھا اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے یہ جان بوجھ کر کیا تھا یا غلطی سے لیکن وہ چلتے ہوئے ہلکا سا اس سے ٹکرایا ، پھر ٹھٹھک کر رکا اور اسے دیکھا
” تمہیں دیکھ کر چلنا نہیں آتا ؟ یا ہر کسی سے ٹکرانے کا بہت شوق ہے ؟”
وہ تمسخر سے اسے دیکھ رہا تھا قرت کے سینے میں بھانبھڑ سے جلے ، بس ایک لمحہ لگتا ہے ہر چیز بدلنے میں ایک لمحہ لگتا ہے ہمت پیدا ہونے میں ،اس کا باپ اس کے ساتھ تھا ٫ جواد اس سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا ٫ وہ دو قدم دور ہوئ اور اسے دیکھا
” میں اپنی آنکھیں نیچی رکھ کر چلتی ہوں جواد ، اس لئے میری ٹھوکر معاف ہے ، تم اپنی آنکھیں اٹھا کر رکھتے ہو اس لئے اپنی ٹھوکر پر معافی کی امید مت رکھنا ، اور ہاں میں دیکھ کر چلنا سیکھ رہی ہوں بہتر ہے تم بھی سیکھ لو ورنہ کسی دن منہ کے بل گروگے “
وہ سختی سے چبا چبا کر کہتی آگے بڑھ گئ ، ہر خوف پیچھے پھینک دیا جس چیز کا ڈر تھا وہ رہی نہیں تو خوف کیسا ؟ جواد کا چہرہ غضب سے سرخ ہوا
” دیکھ لوں گا تمہیں قرت العین “
اس نے سنا لیکن نظرانداز کیا ، اسے اب کسی کی پرواہ نہیں رہی تھی
°°°°°°°°′′°°°°°°°°°°°
گیٹ پر اس کی سب سے پہلی نظر ماریہ پر پڑی جو اسے دیکھتے تیر کی تیزی سے اس تک پہنچی تھی
” قرت میری بات سن لو “
وہ یکدم رکی اور اسے دیکھا ماریہ کے قدم رک گئے
” سن رہی ہوں “
اس نے تھوک نگلا
” آئ ایم سوری “
” میں معاف نہیں کروں گی اور کچھ ؟”
ماریہ کے چہرے پر سایہ لہرایا
” میری غلطی نہیں ہے عیسیٰ نے ملاقات کا کہا تھا “
” تمہیں لگتا ہے میں اس قصور پر معاف نا کرنے کا کہہ رہی ہوں ؟”
” پھر ؟” وہ سمجھی نہیں تھی
” اوہ ماریہ ، عیسیٰ سے ملنا میرا خود کا گناہ تھا ، تم نے زبردستی تو نہیں کی تھی ، صرف قسم ہی دی تھی٫ اس قسم کے لغو ہونے سے تم بھی واقف تھیں میں بھی ٫ وہ تمہاری لغو قسم نہیں تھی وہ میرا خود کا بدنامی کا خوف تھا جو مجھے عیسیٰ سے ملنے پر مجبور کرگیا، جانتی ہو میں تمہیں کیوں معاف نہیں کروں گی ؟ جب میرے گھر پر سب عدالت لگا کر بیٹھے تھے تو تمہاری ایک گواہی مجھ پر سے وہ الزام ہٹا سکتی تھی ، تم نے صرف سب کو بتانا تھا کہ میں وہاں اکیلی نہیں تھی ٫ تم مجھے لے کر گئ تھیں ، تم ساتھ والے کیبن میں تھیں ٫ صرف اتنا سا ماریہ اور تم یہ بھی نا کر سکیں “
“میرے ابو ساتھ بیٹھے تھے قرت ، تمہیں بے گناہ ثابت کرنے کے چکر میں میں خود گناہگار بن جاتی ، تم میرے باپ کو نہیں جانتیں وہ مجھے مار ڈالتے ” وہ روہانسی ہوئ
” اس لئے تم نے مجھے مارڈالا ؟ تمہارے صرف ابو وہاں تھے میرا پورا خاندان تھا ، میرا کیا ماریہ ؟ میری بے گناہی کا کیا ؟ تم نے مجھ پر الزام لگایا اور مجھے سب کے سامنے سنگسار کردیا ٫ تم بہتان اور جھوٹ کے گناہ سے واقف تھیں ٫ پڑھا گیا علم اگر میرا ضائع ہوا ہے تو افسوس تم بھی کرو کیونکہ اپنے پڑھے گئے پر تم بھی عمل نہیں کرسکیں “
” آئ ایم سوری ، تم کہو تو میں تمہارے ساتھ چل کر سب کو سچ بتادیتی ہوں لیکن پلیز مجھے معاف کردو ، میں ڈر گئ تھی “
اس نے آنسو اندر اتار لئے
” اس سب کی اب ضرورت نہیں رہی اب سب ختم ہوچکا ہے ” وہ آگے بڑھ گئ
” قرت ، تم مجھے معاف نہیں کرسکتیں ؟ اپنی دوست کو ؟”
اس کے قدم رک گئے ٫ حلق میں آنسو اٹکنے کے باعث درد سا ہوا ٫ پھر وہ پلٹی اور ماریہ کو دیکھا ٫ وہ دکھ سے اسے ہی دیکھ رہی تھی
” دوست ؟ میں نے یہ دوستی اسی لمحے ختم کردی تھی جب تم نے کہا تھا کہ میں وہاں اکیلی تھی ، تم میری دوست نہیں ہو ماریہ “
ماریہ وہیں ساکت رہ گئ ، اس نے قرت کو دوبارہ نہیں روکا تھا ٫ وہ آگے بڑھ گئ
” کیا کہہ رہی تھی ؟ “
حریم نے ان دونوں کو بات کرتے دیکھ لیا تھا سو وہ پوچھے بغیر نا رہ سکی
” معافی مانگ رہی تھی “
وہ امتحان گاہ میں کھڑی تھیں اس لئے آواز آہستہ رکھی
” معاف کردیا ؟”
” کردوں ؟”
” عیسیٰ کو معاف کردیا تھا ؟”
” میں نے اسے بھلادیا ہے ” حریم کو اس جواب کی توقع نہیں تھی
“یعنی معاف نہیں کیا ؟”
” میں نے کہا نا بھلادیا ہے اسے ، اس شخص کا کوئ حق یا قرض خود پر نہیں رکھنا چاہتی ، اس نے کہا تھا کہ بھول جانے کی سزا نفرت کی سزا سے زیادہ ہوتی ہے ، اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ مجھے ہر سزا کا حق دیتا ہے، سو یہ سزا میں نے اس کیلئے چن لی ہے “
” پھر ماریہ کو معاف کردو “
قرت نے رخ موڑا
” میں نے معافی اور نفرت کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا ، نفرت عیسیٰ کے حصے میں چلی گی اور معاف نا کرنا ماریہ کے حصے میں، جس کا جو حصہ ہے اسی کے پاس رہنے دو “
حریم اسے دیکھ کر رہ گئ ٫وہ قرت العین جو خود کو اذیت دینے والوں کو معاف کردیا کرتی تھی وہاں کہیں نہیں تھی
” اچھا چھوڑو یہ سب پیپر دینے کیلئے کیسے مان گئیں تم ؟”
اس نے موضوع تبدیل کردیا ،وہ جب آخری بار قرت سے ملی تھی تو اس نے کہا تھا کہ وہ پیپر نہیں دے گی
” آگے کی زندگی تو ضائع ہوچکی حریم ٫سوچا جو پیچھے گزر چکی ہے اسے ضائع ہونے سے بچا لوں “
وہ سوگوار سا مسکرائ
” بہت اچھا سوچا ، اور آگے کی زندگی بھی ضائع نہیں ہو گی بے فکر رہو “
ممتحن بلا رہی تھی سو وہ آگے بڑھ گئیں
” بے فکر ہی ہوں ، کم از کم اب شاید بے فکر ہی ہوں “
آگے بڑھنے سے پہلے حریم نے اس کی آواز سنی تھی ، وہ صحیح کہہ رہی تھی
بلآخر قرت العین نے خود کو ہر بدنامی کے خوف سے آذاد کردیا تھا ۔۔۔کم از کم اب کردیا تھا !
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” میں نے ٹکٹ کینسل کروا دیئے ہیں “
وہ کچھ تھکن سے کہتے بیڈ پر بیٹھے٫ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑی کتاب خاموش تھی٫ آج شہوار ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے نہیں تھیں وہ صوفے پر بیٹھی تھیں ٫ پائوں اوپر کو کئے کمفرٹر اوڑھے وہ کسی غیر مرئ نقطے کو گھور رہی تھیں ٫ حیات کی آواز پر انہیں دیکھا
” اگر ہم اسے بتائے بغیر چلے جائیں ؟”
” اور جب اسے علم ہوگا تب ؟ کیا تمہارے اندر اتنا حوصلہ ہے کہ اس کی مزید ناراضگی سہہ سکو؟ میرے اندر تو نہیں ہے “
وہ خاموش رہیں
” اسے اس طرح دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا ہے “
آواز کرب سے دھیمی ہوگئ
” یہ دکھ سے زیادہ ہے شہوار ٫ دنیا کا سارا پیسہ ہونے کے باوجود بھی ہم اپنے بیٹے کیلئے اس کی خوشیاں نہیں خرید سکتے ٫ بہت طاقت رکھنے کے باوجود بھی ہم اس کیلئے ایک عورت کے دل میں محبت نہیں ڈال سکتے “
انہوں نے بیڈ کرائون سے ٹیک لگالی ٫ چہرے پر اذیت پھیل گئ ٫ شہوار نے مزید کچھ نہیں کہا ٫ ہر درد قابل برداشت تھا ایک اولاد کا درد قابل برداشت نہیں رہا تھا
ان کی سوچوں میں خلل دروازے پر ہونے والی دستک نے ڈالا تھا
” کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟”
دروازے کے پیچھے اس کی آواز ابھری ٫ شہوار کچھ حیرانی سے آگے کو ہوئیں
” آجائو ۔۔۔۔۔۔”
دروازہ کھلا اور سیاہ جینز پر سفید ہاف بازوں والی ٹی شرٹ پہنے عیسیٰ اندر داخل ہوا
” تم ٹھیک ہو ؟”
اس نے بس سر ہلادیا ٫ کچھ دیر وہیں ٹھہرا رہا پھر آہستہ قدموں سے صوفے پر بیٹھی شہوار کی طرف آیا
” کیا میں آپ کی گود میں سر رکھ کر سو سکتا ہوں مام؟”
ایک لمحے کو شہوار تھم سی گئیں ٫ نظر حیات پر گئ جو خود حیران تھے ٫ گزرے برسوں میں یہ عیسیٰ کی طرف سے پہلی پیش قدمی تھی
” ہاں ضرور ۔۔۔۔”
انہوں نے کمفرٹر ہٹا لیا ٫ وہ کچھ متذبذب سا صوفے پر بیٹھا اور پھر سیدھا لیٹتے سر ان کی گود میں رکھ لیا
” مجھے دراصل نیند نہیں آرہی تھی “
وضاحت دی
” ہمیں بھی نہیں آرہی تھی “
وہ کچھ لمحے خاموش رہا ٫ آنکھیں چھت پر تھیں ٫ پائوں لمبے کرکے رکھے ہوئے تھے٫ کمرے میں خاموشی کا ایک طویل وقفہ آیا ٫ عیسیٰ چھت کو دیکھتا رہا ٫ شہوار اور حیات کچھ فکرمند سے ہوکر کبھی ایک دوسرے کو اور کبھی عیسیٰ کو دیکھتے
” مام ۔۔۔۔۔”
بالآخر وہ کچھ بولا
” جی بیٹے ۔۔۔۔”
” آپ دونوں کبھی مجھ سے ناراض ہوئے ہیں ؟”
” تمہاری ناراضگی ختم ہوتی تو ہم ناراض ہوتے نا بیٹا “
وہ اگلے کئ لمحے پھر خاموش رہا
” میں جب مسجد میں تھا تو قاری صاحب نے کہا تھا کہ جب آپ کے والدین آپ کی غلطیوں پر آپ کو معاف کردیا کرتے ہیں تو آپ اللہ سے یہ امید کیوں نہیں رکھتے کہ وہ آپ کو معاف کردے گا ٫ مجھے احساس ہوا کہ ہمارے درمیان ایسا کوئ تعلق ہی نہیں رہا کہ ہم ایک دوسرے سے ناراض ہوتے “
” تم نے وہ تعلق رکھنے ہی نہیں دیا “
شہوار کی آواز بھرا گئ ٫ آواز میں شکوہ سا در آیا ٫ عیسیٰ کچھ دیر خاموش رہا پھر وہ سر ان کی گود سے ہٹاتا اٹھا اور سیدھا بیٹھ گیا٫ شہوار کو لگا شاید اسے برا لگا تھا
” میں نے آپ دونوں کو بہت تکلیف دی ہے نا ؟”
وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتا بہت دھیرے سے بولا
” نہیں عیسیٰ ۔۔۔۔”
شہوار تڑپ کر آگے ہوئیں ٫ عیسیٰ نے نفی میں سر ہلایا
” ایسا ہی ہے ٫ مجھے پچھلے چند دنوں میں احساس ہوا میں اپنی تکلیف کو یاد رکھتے رکھتے یہ بھول گیا کہ میں نے آپ کو وہ تکلیف کئ گنا زیادہ لوٹائ ہے “
” تمہارا حق تھا وہ عیسیٰ ۔۔۔۔”
ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
” نہیں تھا ۔۔۔۔یہ کرنے کا حق نہیں تھا٫ آپ دونوں نے جو کیا وہ آپ کی مرضی تھی لیکن مجھے یہ حق نہیں تھا کہ میں اپنے ماں باپ سے اس طرح پیش آتا “
” تم حق بجانب تھے ٫ ہم نے تمہارے ساتھ غلط کیا تھا ٫ تم نے جو کیا صحیح تھا لیکن اب بس کردو ٫ ہمیں معاف کردو عیسیٰ”
” میں نے آپ دونوں کو بہت تکلیف دی ہے ٫ آپ کو معاف کرنے یا نا کرنے کی بات تو کب کی ختم ہوگئ اب میں خود کو بہت سی باتوں کیلئے معاف نہیں پائوں گا “
اس کے چہرے پر اذیت پھیلی
“تم بھول جائو سب عیسیٰ ٫ ہر وہ چیز جو تم نے کی ٫ ہر وہ چیز جو ہم نے کی ٫ تم سب بھول جائو “
اس نے دیکھا کسی کے قدم اس کے سامنے آرکے تھے ٫ دھیرے سے سر اٹھا کر اس نے حیات کو دیکھا وہ بہت دکھ سے اسے دیکھ رہے تھے ٫ اس کے گلے میں گلٹی ابھری ٫ چند لمحے وہ سر اٹھا کر حیات کو دیکھتا رہا پھر جھٹکے سے اٹھا اور انہیں گلے لگالیا
” آئ ایم سوری ڈیڈ ۔۔۔آئ ایم سوری “
حیات نے اسے زور سے بھینچا ٫ ان کے چہرے پر آنسو بہے
” آئ ایم سوری بیٹا ٫ ہر شے کیلئے ٫ ہر تکلیف کیلئے “
وہ کپکپاتے لبوں سے کہے گئے
” میں نے آپ کو بہت مس کیا ڈیڈ٫ہر دن ٫ہر لمحے “
وہ بھرائ آواز میں کہہ رہا تھا
” میں نے بھی ۔۔۔۔۔”
شہوار نے چہرے پہ پھسلتے آنسو صاف کئے ان کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری ٫ عیسیٰ کچھ دیر بعد ان سے الگ ہوا تو نظر شہوار پر گئ ٫ وہ وہیں صوفے پر بیٹھی تھیں ٫ وہ دھیرے سے ان کے قدموں میں بیٹھا
” آئ ایم سوری مام ۔۔۔۔”
میری طرف سے سوری بیٹا ۔۔۔۔”
انہوں نے جھک کر اس کا ماتھا چوما اور گلے سے لگالیا ٫ عیسیٰ نے آنسو بہہ جانے دیئے ٫ اس لمحے اسے احساس ہوا وہ ان دونوں کو کب کا معاف کرچکا تھا ٫ وہ نفرت اور ناراضگی ایک عادت تھی جسے وہ نبھا رہا تھا
بعض نفرتیں آپ عادت کے طور پر نبھاتے ہیں ٫ بعض معافیاں آپ پہلے ہی دے چکے ہوتے ہیں ٫ بعض تعلقات کو آپ ہمیشہ دوسرا موقع دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں
وہ بھی دینا چاہتا تھا ٫ شاید وہ اب تھک گیا تھا
٫ شہوار کے گلے لگے وہ اٹھا اور ایک بار پھر چت لیٹ کر سر ان کی گود میں رکھ لیا
” مام ۔۔۔۔۔”
” ہاں۔۔۔۔”
وہ آنسو پونچھتے اس کے ماتھے پر گرے بال جوڑنے لگیں
” آپ بچپن میں میرے بالوں میں انگلیاں چلایا کرتی تھیں ؟”
وہ بند آنکھوں سے بولا
” ہاں۔۔۔۔”
” ابھی چلاسکتی ہیں انگلیاں ؟ مجھے ایسے نیند آجاتی ہے اور میں سونا چاہتا ہوں ٫ سکون کے ساتھ کسی کی یاد کے بغیر کسی گلٹ کے بغیر “
شہوار نے سر ہلایا ٫ انگلیاں اس کے بالوں میں چلاتے انہوں نے سر اٹھا کر حیات کو دیکھا ٫ وہ بیڈ کی پائنتی پر بیٹھے عیسیٰ کو دیکھ رہے تھے
” تم چاہو تو ہم اس لڑکی کے گھر رشتہ لے کر جاسکتے ہیں “
اس نے آنکھیں نہیں کھولیں ٫ وہ حیات کو کہہ نا سکا کہ اس کا ذکر نا کریں ٫ وہ فلوقت سکون سے سونا چاہتا تھا اور قرت کا زکر یہ ناممکن بنا دیتا
” عیسیٰ ۔۔۔۔۔”
” نہیں ڈیڈ ۔۔۔۔میں اب وہ سب یاد نہیں کرنا چاہتا ٫ مجھے اب بھولنے دیں ٫ اس کی یاد بھی اس کا خیال بھی “
آواز بھاری ہوگئ ٫ اسے واقعی نیند آرہی تھی ٫ اس نے دوبارہ حیات یا شہوار کی آواز نہیں سنی ٫ شاید وہ سمجھ گئے تھے کہ اس کا زکر عیسیٰ کو تکلیف دیتا تھا ٫ اگر وہ اس کا زکر نہیں کریں گے تو اسے تکلیف نہیں ہوگی
بند ہوتی آنکھوں سے عیسیٰ نے سوچا کیا اسے یاد کرنے کیلئے بھی ضروری تھا کہ اس کا ذکر کیا جائے ؟ وہ یاد آتی تھی اور بغیر کسی وجہ کے آتی تھی ٫ اب بھی آئ تھی ٫ کئ دن سے آرہی تھی
اگر وہ کہتا تھا کہ وہ اسے بھول جائے گا تو وہ جھوٹ کہتا تھا اور یہ بات وہ تینوں جانتے تھے
