Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 17)

Nahal By Fatima Noor 

خالہ پلیز نا۔۔۔۔۔ “

ماریہ پچھلے پندرہ منٹ سے سعدیہ بیگم کے ساتھ بیٹھ کر انہیں منا رہی تھی

” بیٹا ایسے کیسے جانے دوں اسے تمہارے ساتھ “

” آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے ؟”

وہ خفگی سے بولی

” ایسی بات نہیں ہے ، یہ ہمیشہ میرے ساتھ بازار جاتی ہے ، تم دونوں کو اکیلے کیسے بھیج دوں ؟” وہ متذبذب تھیں

” ہم میرے بھائ کے ساتھ جائیں گی ، بس آدھے گھنٹے کی بات ہے واپس بھی آجائیں گی ، مجھے اپنی بھابھی کیلئے ویسا ہی عبایا لینا ہے جیسا قرت کے پاس ہے، ایڈریس نہیں معلوم ورنہ نا لے جاتی اسے “

وہ دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر سجائے انہیں دیکھ رہی تھی

” ایڈریس میں بتادیتی ہوں ، جانا ضروری ہے ساتھ ؟”

قرت جو سیڑھی کے پاس بیٹھی چاول صاف کر رہی تھی سر اٹھا کر کبھی اماں کو دیکھتی کبھی ماریہ کو ، ماریہ نے اسے گھور کر دیکھا

” تم چپ رہو بس ، خالہ پلیزززز “

اور انہوں نے جسیے ہار کر سر ہلادیا

” ایک گھنٹے میں واپس آجانا تم دونوں “

” اماں لیکن ۔۔۔۔” وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن ماریہ کی گھوریوں پر چپ کر گئ

” چلی جائو بیٹا ۔۔تمہاری دوست اتنے مان سے لینے آئ ہے تمہیں “

اس نے ماریہ کو دیکھا جو غصے سے اسے گھور رہی تھی، بے بسی سے اسے چند لمحے نظروں ہی نظروں میں التجا کی ٫ وہ کہیں نہیں جانا چاہتی تھی کم از کم آج نہیں ٫ لیکن ماریہ جیسے آج پکا ارادہ کرکے آئ تھی کہ اسے لے کر ہی جائے گی ٫ وہ سر جھٹک کر چاول رکھ کر اندر چلی گئ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” تم جائو۔۔۔۔ جب ہم فارغ ہوجائیں گے تو میں کال کردوں گی “

بازار میں داخل ہوتے ہی ماریہ نے اپنے بھائ کو واپس بھیج دیا

” پندرہ منٹ لگتے ، واپس کیوں بھیجا اسے ؟”

” تم بس چلو میرے ساتھ “

وہ قرت کا ہاتھ پکڑتی آگے بڑھ گئ ، کچھ دیر ارگرد کسی کو ڈھونڈا ، کال کی ، ہوں ہاں کرتی رہی اور پھر اس کا ہاتھ دوبارہ سے پکڑے آگے بڑھ گئ

” تمہاری حرکتیں مشکوک لگ رہی ہیں “

وہ ہنس دی لیکن کچھ کہا نہیں

” کدھر ؟ دکان وہاں ہے”

وہ جب عبایا والی دکان سے آگے بڑھ گئیں تو قرت بے اختیار اسے پکار بیٹھی

” عبایا کسے لینا تھا؟ ، ہمیں تو کسی سے ملنا تھا “

” کس سے ۔۔۔؟”

وہ ٹھٹھکی ، ماریہ جواب دینے کی بجائے رک گئ ، یکدم پرسکون سانس لی اور سامنے دیکھا

” ان سے ۔۔۔۔”

قرت نے اس کی نظروں کے تعاقب میں سامنے دیکھا اور ساکت رہ گئ

وہ عیسیٰ تھا ، پی کیپ پہنے سر جھکائے موبائل دیکھ رہا تھا ، کبھی کبھی سر اٹھا کر اردگرد دیکھ لیتا یوں جیسے کسی کو تلاش کررہا تھا ، اور کسے تلاش کررہا تھا یہ جاننے کی ضرورت اسے نہیں رہی تھی

” چلو ۔۔۔۔”

وہ قرت کا ہاتھ پکڑے اسے ساتھ لے جانے لگی ، وہ اس قدر شاک میں تھی کہ کچھ کہہ ہی نا سکی

” لیں عیسیٰ ، لے آئ اپنی دوست کو “

وہ چونکا اور سامنے دیکھا ، ماریہ کے ساتھ قرت کھڑی تھی ، قدرے حیران اور صدمے سے اسے دیکھتی ہوئ

” بہت شکریہ ۔۔”

ہلکا سا مسکرایا

” چلو قرت تم ملو ان سے ، میں ابھی آتی ہوں “

وہ جانے لگی اور قرت جیسے یکدم ہوش میں آئ

” ، چلو یہاں سے “

پلٹتی ماریہ کا ہاتھ پکڑا ٫ ایک سخت نظر عیسیٰ پر ڈال کر اس نے قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ ماریہ نے اسے واپس کھینچا

ہرگز نہیں، یہاں رکو عیسیٰ سے بات کرو اور پھر میں واپس آکر لے جاتی ہوں تمہیں “

تمہارا دماغ ٹھیک ہے ۔ میں ہرگز ادھر نہیں رکوں گی “

” قرت۔۔۔۔ ” ماریہ نے نرمی سے اپنے ہاتھ سے اس کا ہاتھ الگ کیا ” تمہیں میری قسم ہے !”

ماریہ ” اسے اس قسم پر شاک لگا،لیکن فلحال بحث کا وقت نہیں تھا ” میں نہیں مل سکتی ان سے ٫کسی نے دیکھ لیا تو ” اس کی آواز شدید گھبراہٹ کا شکار تھی، عیسیٰ خاموشی سے ان دونوں کو بات کرتے دیکھ رہا تھا

“کوئ نہیں دیکھے گا میں باہر ہی ہوں ۔۔ٹھیک ہے ؟ تم اندر جائو “

اس نے نفی میں سر ہلایا

میں نہیں کرسکتی پلیز چلو “

وہ اس کا ہاتھ تھامے پھر سے چلنے کیلئےتیار تھی جب پیچھے سے عیسیٰ چلتے ہوئے اس کے سامنے آیا

” آپ نے کہا یہاں سے چلے جائو ، میں آپ کی بات مان لوں گا لیکن ایک آخری بار ،صرف آخری ملاقات کرنا چاہتا تھا آپ سے ، میرا یقین کریں میں پھر چلا جائوں گا “

اور اس کے جیسے سارے اعتراضات دم توڑ گئے وہ اس قدر بے بس لہجے میں بول رہا تھا کہ وہ کچھ کہہ ہی نہیں سکی

” تم بھی اندر چلو ۔۔۔۔” اس نے ماریہ کو دیکھ کر حتمی لہجے میں کہا

” مگر ۔۔۔۔۔”

” آپ بھی چلیں ماریہ ۔۔”

عیسیٰ نے ہاتھ سے اندر کی جانب اشارہ کیا اور ان کے آگے چلنے لگا

وہ ایک ڈھابہ نما چھوٹی سی ہوٹل تھی جو بازار کے اندر بنائ گئ تھی ، اندر چھوٹے چھوٹے لکڑیوں کے کیبنز بنے ہوئے تھے ، جن کے آگے کپڑے کے ذریعے پردے لگا رکھے تھے ، ایک کیبن کے سامنے ماریہ رکی

” مجھے کباب میں ہڈی نہیں بننا ، تم اندر جائو ، میں اس کیبن میں ہوں ، خبردار ایک لفظ نہیں ” اس نے قرت کو منہ کھولتے دیکھ سختی سے کہا تو وہ صرف اسے گھور کر رہ گئ ، عیسیٰ جو انہیں بات کرتے دیکھ رک گیا تھا ، دوبارہ سے چلنے لگا

تم یہیں رہو گی۔۔۔۔۔ “

ماریہ کو تنبیہ کرکے وہ عیسیٰ کے پیچھے بڑھ گئ ایک کیبن کے سامنے جاکر وہ رکا ٫ پردہ ہٹاکر اسے اندر جانے کا اشارہ کیا وہ اندر گئ تو اس کیلئے کرسی کھینچی، وہ متذبذب سے بیٹھ گئ ٫عیسیٰ نے اس کے سامنے والی کرسی سنبھال لی

“آپ کمفرٹیبل ہیں؟ “

اس نے کچھ نہیں کہا بس خاموشی سے سامنے رکھے گلدان کو دیکھے گئے جس کے اندر سفید مصنوعی گلاب رکھے تھے ٫ سفید رنگ پاکیزگی کا رنگ ، حیا کا رنگ ،عفت کا رنگ اس کا دل یکدم گھبرایا وہ زندگی میں پہلی اس طرح کسی نامحرم کے ساتھ تنہا بیٹھی تھی اور وہ یوں تھا جیسے کوئ اس کا دل چیر رہا ہو ،بار باربار دروازے کو دیکھتی ،دستانے میں چھپے اپنے ہاتھوں کو مروڑتی وہ وہاں غائب دماغی کی حالت میں بیٹھی تھی جب چیئر کھینچنے کی آواز پر چونکی، عیسیٰ اٹھ کر پردے برابر کر رہا تھا ،وہ واپس پلٹا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی

“احتیاطاً بند کیا ہے تاکہ کوئ ہمیں دیکھ نا لے ” اس نے وضاحت دی

“لیکن خدا کا کیا ؟ وہ تو دیکھ رہا ہے نا اس سے چھپنے کیلئے کونسا دروازہ ہے جسے آپ بند کریں گے؟ ” ایک سخت نظر اس پر ڈال کر وہ دوبارہ میز کی طرف دیکھنے لگی

عیسیٰ کچھ بول نا سکا

“میں صرف ایک آخری بار آپ سے بات کرنا چاہتا تھا ” وہ واپس کرسی پر بیٹھا

خدا کرے یہ آخری بار ہی ہو “

اسے کو اس جواب سے اذیت ہوئ

آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہوسکتی قرت؟”

نہیں”

کیوں ۔۔۔۔؟”

اللہ نے میرا دل آپ کیلئے بند کردیا ہے “

اللہ سے کہیں وہ اسے میرے لئے کھول دے “

میں خدا سے اپنے لئے یہ دعا نہیں کرسکتی “

آپ میرے لئے کرلیں ، دیکھیں آپ کی محبت نے میرا کیا حال کردیا ہے ؟ میں کسی مزار پر بیٹھا فقیر بن گیا ہوں جو محبوب کی خاطر جوگ لے لیتا ہے “

وہ خاموشی سے اسے دیکھے گئ ،وہ جب پہلی بار ملا تھا تو ایسا نہیں تھا اور اب آخری بار مل رہا تھا تو پہلی بار جیسا نہیں رہا تھا قرت نے گہری سانس لی

میں وہ نہیں ہوں عیسیٰ جس کیلئے جوگ لیا جائے “

“میرے لئے آپ وہی ہیں ۔۔۔”

“آپ کو لگتا ہوگا میں خوبصورت ہوں ” وہ اداس سا مسکرائ ” میں نہیں ہوں ٫میں نہ ہیر ہوں نہ کوئ سسی، میرا چہرہ دنیا کے عام چہروں جیسا ہے ،جن پر کوئ ایک کے بعد دوسری نظر بھی نہیں ڈالتا “

اسے دیکھتا وہ ذرا سا آگے ہوا

“میں نے آپ کا چہرہ نہیں دیکھا ، لیکن یہ مجھے کئ دیکھے گئے چہروں سے زیادہ خوبصورت محسوس ہوتا ہے ، میں نے آپ کا چہرہ نہیں دیکھا لیکن جب سے میں نے” آپ “کو دیکھا ہے میں کسی اور کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہا، میں نے فقط آپ کی آنکھیں دیکھی ہیں ” وہ اس کی آنکھوں پر نگاہیں جمائے کہہ رہا تھا ” اور ان آنکھوں نے مجھے ہر دوسری آنکھ بھلا دی ہے ، میں نے آپ کے چہرے کو نہیں دیکھا لیکن میں آپ کو اس روپ میں بھی ایک بار دیکھنے کے بعد ہزار بار پلٹ کر دیکھ سکتا ہوں ، اور آپ کہتی ہیں مجھے آپ سے محبت اس لئے ہے کیونکہ میں نے آپ کا چہرہ نہیں دیکھا؟؟ ” وہ خاموش ہوا اور وہ خاک ہوئ

ایسے مت کہیں “

اگر یہ آخری ملاقات ہے تو مجھے ایسے کہنے دیں ” اس کا دل گہرے غم میں ڈوبا ، وہ اس کیلئے جوگ لے لیتا تو وہ ہر جوگی کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھتی ،وہ فقیر بن جاتا تو وہ ہر فقیر کو دعا کا کہتی ،وہ کسی دربار پر جابستا تو وہ ہر روز اس دربار پر چادر ڈالنے جاتی ، پر نہ وہ یہ کرسکتی تھی نہ یہ کرنا چاہتی تھی، اپنے آنسو ضبط کرتے اس نے کچھ سوچنا چاہا کچھ ایسا جو اس کے دل کی دھڑکن نارمل کردے اسے کچھ یاد آیا اور اس نے کہہ دیا

“مجھ سے کسی نے کہا تھا کہ میں اسے شدید نا پسند ہوں “

مجھ اس زبان پر ندامت ہے “

“اسے میری آواز ذہر کی مانند سنائ دیتی ہے “

مجھے اس سماعت پر افسوس ہے “

“اور وہ مجھے دوبارہ کبھی نہیں دیکھنا چاہتا “

“وہ اب ہجوم میں فقط آپ کو ڈھونڈتا ہے “

وہ بے بس ہوئ وہ الفاظ کہتی تھی وہ جذبات سناتا تھا

میں اب چلتی ہوں دیر ہورہی ہے”

بہانہ مل گیا ،وہ خاک تھی راکھ ہونے سے پہلے چلی جاتی تو بچ جاتی

“صرف تھوڑی دیر مزید بیٹھ جائیں اگر یہ آخری ملاقات ہے تو مجھے اس ملاقات کا ہر لمحہ حفظ کرلینے دیں ” وہ ملتجی ہوا

میں اس آخری ملاقات کا کفارہ ساری عمر ادا کروں گی ، میرا ضمیر اب چین کی نیند نہیں سو سکے گا ” وہ اٹھ کھڑی ہوئ، عیسیٰ نے اسے روکنا چاہا لیکن اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کوئ پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوا ٫ اور جو آیا تھا اسے دیکھ کر قرت کی روح فنا ہوئ

” جواد۔۔۔”

اس کے لب پھڑپھڑائے

” تو تم یہاں آوارہ لڑکیوں کی طرح نا محرم مردوں سے ملاقاتیں کرتی پھر رہی ہو ۔۔۔۔۔ہاں ؟” وہ سرخ آنکھوں سے غراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا

” نہیں جواد میں آہ ۔۔۔”

آواز دب گئ، جواد ایک دم آگے بڑھا اور قرت کو منہ سے دبوچا

” بدچلن عورت بولو کیا میں ؟”

وہ دھاڑا جبکہ عیسیٰ کا پارہ چڑھا وہ فورا آگے ہوا

” یہ کیا کررہے ہو تم پیچھے ہٹو ،” اس نے جواد کو پیچھے دھکیلا اور قرت کی طرف متوجہ ہوا ” آپ ٹھیک ہیں ؟”

وہ اس کی طرف مڑ کر پریشان سا پوچھنے لگا٫ قرت نے بمشکل سر ہلایا ٫ جبکہ جواد کا اس کے دھکے پر دماغ گھوم گیا ، وہ لڑکھڑا کر سیدھا ہوا اور عیسیٰ کو پیچھے سے پکڑا

” اس کو تو میں بعد میں دیکھوں گا پہلے تم بتائو تم اس کے ساتھ کیا کررہے تھے ؟”

وہ گھوم کر سامنے آیا اور عیسیٰ کے منہ پر مکا جڑا وہ منہ پر ہاتھ رکھے نیچے کو جھک گیا ، جھکے جھکے نیچے تھوکا ٫ حلق میں خون کا ذائقہ گھل گیا اور پھر فورا اٹھ کر جواد کو جوابی مکا مارا

قرت منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اٹھی

” چھوڑو۔۔۔۔ “

وہ گتھم گتھا ہوتے عیسیٰ اور جواد کو چھڑوانے لگی اور تبھی جواد نے اس کے چہرے پر الٹے ہاتھ سے تھپڑ مارا، وہ لڑکھڑا کر پیچھے کو ہٹی اس کا سر میز کو کونے سے ٹکرایا اور سر سے خون کا فوارا ابل پڑا

” جاھل انسان ۔۔۔”

عیسیٰ کا دماغ کھول اٹھا یہ جیسے اس کی برداشت کی انتہا تھی ، میز پر پڑا واز اٹھا کر اس نے جواد کو مارنا چاہا تو چکراتے سر کو سنبھالتی قرت پر نظر پڑی

” قرت ۔۔۔”

وہ واز وہیں پھینکتا اس کی طرف بڑھا ، چند لوگ اردگرد اکٹھے ہوگئے تھے اور اب تماشہ دیکھ رہے تھے

” آپ ٹھیک ہیں ؟”

وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا اس سے پہلے ہی کسی نے اسے گریبان سے پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا

” تم آج میرے ہاتھوں زندہ بچ کر دکھائو “

عیسیٰ نے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کیا شئے تھی لیکن وہ جیسے ہی اس کے سر سے ٹکرائ تکلیف کا ایک شدید احساس تھا جو اس کے سر میں اٹھا تھا ، دماغ پھٹنے کی قریب ہوگیا خود کو سنبھالتے سنبھالتے وہ میز سے ٹکرایا اور زمین پر گرگیا

نیم بے ہوشی کی حالت میں اس نے بند ہوتی آنکھوں سے اگلے چند مناظر دیکھے ، قرت کی طرف بڑھتا وہ لڑکا ، چند گڈ مڈ ہوتی آوازیں ، اس کی طرف بڑھتے لوگ اور وہ آنکھیں ۔۔۔۔ ڈوبتے ذہن کے ساتھ بھی اسے وہ آنسو سے بھری آنکھیں یاد رہ گئیں

” ایمبولینس کو کال کریں پلیز”

بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھول کر اس نے اپنے پاس بیٹھی اس لڑکی کو دیکھنا چاہا جسے کوئ کھینچ رہا تھا ، لیکن وہ ناکام رہا

” قرت۔۔۔ ” لبوں سے ہلکی سے سرگوشی نکلی اور ذہن تاریکی میں ڈوب گیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ذہن تاریکی میں تھا اور آوازیں ارگرد مسلسل گونج رہی تھیں

(” جانتے ہو تمہارا نام عیسیٰ کیوں رکھا میں نے ؟” بوڑھا شخص گیارہ سالہ عیسیٰ کے پاس بیٹھا پوچھ رہا تھا

” کیوں ؟”

” یہ بنی اسرائیل کے ایک نبی کا نام تھا ، انہوں نے بہت مصیبتیں دیکھی تھیں ، تہمتیں برداشت کی تھیں ، ان کی قوم نے ان پر جھوٹ باندھے ، ان کے لوگ انہیں چھوڑ گئے ، وہ تنہا ہوگئے اور آخر کار انہیں سولی پر چڑھادیا گیا ، لیکن جانتے ہو وہ پھر بھی دین پر قائم رہے ، انہوں نے خدا کو نہیں چھوڑا ،یہانتکہ وہ خدا کے پاس چلے گئے تاکہ دوبارہ آ سکیں ، میں چاہتا ہوں میرا عیسیٰ بھی خدا کو نا چھوڑے ، جب تمہیں لگے تمہارا سفر ختم ہوگیا ہے تب خدا تمہارے لئے نئے راستے بنادے گا بس تم خدا کو نا چھوڑنا “

وہ سامنے موجود جھیل میں پتھر پھینکے گیا

” ٹھیک ہے دادا ، میں خدا کو نہیں چھوڑوں گا لیکن ” سر اٹھا کر تشویش سے انہیں دیکھا ” اگر اس نے مجھے چھوڑدیا تو ؟”

” وہ کبھی نہیں چھوڑتا ، وہ کسی عیسیٰ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا ” )

آوازیں مدھم ہوتی گئیں ، منظر تاریکی میں بدلتے گئے ، پھر یکدم ڈھیر ساری روشنی آئ اور اس نے آنکھیں کھول دیں ، چند لمحے چھت کو دیکھے گیا ، یونہی بے دھیانی میں، مائوف دماغ کے ساتھ ، وہ سفید رنگ کی تھی یا شاید سیاہ تھی

نظریں بائیں طرف مڑیں ، وہاں سیاہ سوٹ والا لڑکا اور سفید اوورآل پہنے ایک مرد کھڑا تھا ، لڑکے کو وہ پہنچانتا تھا

نظریں ارگرد گھومیں ، دیواریں سفید تھیں ، اس نے آنکھیں جھپکیں ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھارہا تھا ٫ اسے ہر چیز سفید اور سیاہ کیوں نظر آرہی تھی ؟

پھر ان سب میں ایک اور رنگ شامل ہوا ، سرخ رنگ ، سامنے سے گزرتی سرخ لباس پہنے کوئ لڑکی ، سرخ فائل اٹھائے ڈاکٹر ، فرش پہ پھیلتا سرخ خون

کیا زندگی میں یہی تین رنگ رہ گئے تھے ۔۔۔۔سفید ۔۔۔سیاہ ۔۔۔۔سرخ

اس کا مائوف دماغ جاگا

وہ نیچے گرا تھا اور سفید ٹائلز پر سرخ خون پھیل رہا تھا

سب کچھ لمحوں میں ذہن میں گھوم گیا

” عیسیٰ ۔۔” زین اسے ہوش میں دیکھ کر فورا آگے بڑھا ” تم ٹھیک ہو؟ درد تو نہیں ہورہا “

” قرت ۔۔۔۔قرت کہاں ہے ؟”

اس نے دکھتے سر میں اٹھتے درد کو برداشت کرتے بمشکل پوچھا

” تو ٹھیک ہے ؟ ڈاکٹر کو بلائوں ؟”

” زین قرت کہاں ہے ؟” زین ٹھٹھکا، وہ قرت کا کیوں پوچھ رہا تھا ؟

” مجھے نہیں معلوم “

” میں یہاں کیا کررہا ہوں ؟”

” مجھے کال آئ تھی کسی کی کہ تم زخمی ہو اور تمہیں ہوسپٹل لے جارہے ہیں ، میں سیدھا یہیں آیا ہوں ، قرت تمہارے ساتھ تھی ؟”

” وہ میرے ساتھ تھیں ، پھر کوئ لڑکا آیا ، اس سے ہاتھا پائ ہوئ تھی “

وہ سر کو تھامے اٹھ بیٹھا

” کون لڑکا ؟”

” میں نہیں جانتا ” پائوں نیچے اتارے ، اس کا سر جیسے پھٹنے کو تھا ، ڈاکٹر فورا آگے بڑھا

” مسٹر ، آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، آرام کریں فی الحال “

وہ نہیں سن رہا تھا ، ہاتھ میں لگی ڈرپ کھینچ کر اتاری ، سر پہ پٹی بندھی تھی

” آپ سن نہیں رہے، بلیڈنگ ہوگئ ہے کافی آپ کی ” عیسیٰ اٹھ کھڑا ہوا ، سر کو چکر آئے وہ لمحے بھر کو ڈگمگا گیا ، زین فورا آگے بڑھا اور اسے تھاما

” کہاں جارہے ہو ؟”

” قرت ۔۔مجھے ان سے ملنا ہے “

” تمہیں چوٹ لگی ہے “

زین جھنجھلایا

” بھاڑ میں گئ چوٹ۔۔۔ “

” دیکھو مسٹر یہ ایکشن ۔۔۔” ڈاکٹر تپ کر کچھ کہنے لگا جب عیسیٰ نے اس کی بات کاٹی دی

” اپنا منہ بند رکھو ڈاکٹر ، سر مت کھائو میرا “

” مجھے بھی کوئ شوق نہیں ہے ، حالت دیکھی ہے اپنی کھڑا تک نہیں ہوا جارہا “

ڈاکٹر بھی غصے سے جھنجلا گیا ، عجیب بددماغ انسان تھا

زین نے اس کو سہارا دے کر کھڑا کیا، کوٹ اٹھا کر دیا اور پیچھے کھڑے ڈاکٹر کو دیکھا جو انہیں گھور رہا تھا

” دیکھیں ڈاکٹر اس انسان سے بحث فضول ہے ، نا اس نے آپ کی سننی ہے نا ماننی ہے ، اس لئے اپنے الفاظ ضائع مت کریں ٫ آپ کی سروسز کا بہت شکریہ ” ہاتھ کو سینے پر رکھ کر جھکا اور پھر سیدھا ہوتے عیسیٰ کے پیچھے چلا گیا جو چکراتے سر کو تھامتا بمشکل چل رہا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بیٹھک میں خاموشی چھائ ہوئ تھی ، قرت سر جھکائے دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی تھی ، آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے ، سامنے رکھے صوفوں پر تائ جی اور تایا جی بیٹھے تھے ، دائیں طرف سعدیہ بیگم اور نعمان صاحب اور اس کے ساتھ رکھے سنگل صوفے پر زاہد چچا بیٹھے تھے ، چچی قرت کے ساتھ کھڑی تھیں

جبکہ جواد غصے سے یہاں وہاں چلتا قرت کو گھور رہا تھا

” وہ تو شکر ہے میں دوستوں کے ساتھ گیا ہوا تھا تو اسے دیکھ لیا ، ورنہ آپ کی بیٹی جانے کیا کرگزرتی چچا “

اس کے لبوں سے سسکی نکلی ، اسے بھری محفل میں لاکھڑا کردیا گیا تھا اور سنگسار کیا جارہا تھا ،

” اور بھیجیں اسلام آباد اکیلے ، منع کیا تھا میں نے لیکن نہیں ، ابھی تو مدرسے میں پڑھتی ہے آپ کہ لڑکی تو یہ گل کھلائے ہیں ، توبہ توبہ ” تائ نے کانوں کو ہاتھ لگائے

وہ خاموشی سے روتی رہی ، اس میں اتنی ہمت نہیں تھی سر اٹھا کر کسی کو دیکھ لیتی

” آپ اپنے بیٹے سے کیوں نہیں پوچھتیں بھابھی ، وہ میری بیٹی کو یوں پکڑ کر لایا ہے جیسے وہ کوئ مجرم ہو ، کس نے اسے یہ حق دیا ہے ؟” اسے اماں کی آواز سنائ دی ، آنسو مزید تیز ہوگئے

” جرم نہیں گناہ کہیں ، اس کا باپ ہر جمعے گناہ وثواب پر بڑے لیکچر دیتا ہے کاش اپنی بیٹی کو بھی سمجھادیتے گناہ کیا ہوتا ہے ” تائ کی زبان زہر اگلنے لگی

” میری بیٹی کے بارے میں ایسی بات مت کریں بھابھی ” سعدیہ کی آواز بھرا گئ

” بس بہت ہوگیا ، میں نے فیصلہ کرلیا ہے ، آج اسی وقت میرا اور قرت کا نکاح ہوگا ، ابا نکاح خواں کو بلائیں ” اس نے خود ہی فیصلہ کیا اور صادر کردیا ، قرت کے آنسو مزید تیزی سے رواں ہوئے

” کیسا نکاح ؟ مجھے اس بدچلن کو اپنی بہو نہیں بنانا جو غیر مردوں سے اکیلے میں ملتی پھررہی ہو ” تائ جی غصے سے کھڑی ہوئیں

” اماں آپ چپ کریں ، میں نے کہہ دیا ہے نا تو بس نکاح ہوگا اور آج ہی ہوگا “

” جواد ٹھیک کہہ رہا ہے ، زاہد نکاح خواں کو بلائو ،رخصتی کچھ دن تک کردیں گے تاکہ لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع نا ملے ، گھر کی بات ہے بدنامی ہونے سے بچ جائے گی، کیوں نعمان ؟ “

اور تب اس نے پہلی مرتبہ سر اٹھا کر ابا کو دیکھا ، وہ جھکے سر کے ساتھ زمین کو دیکھ رہے تھے ، جانے اس میں کہاں سے ہمت آئ ، خود کو گھسیٹ کر ابا کے سامنے آئ ، ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان کا ہاتھ تھاما

” ابا۔۔۔۔۔۔” نعمان صاحب نے سر اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھی قرت کو دیکھا

” ابا ، آپ کو مجھ پر یقین ہے ؟” بہت آس سے ،بہت امید سے ان سے پوچھا ، نعمان صاحب اسے دیکھتے رہے نظروں کے سامنے کئ سال پہلے کا منظر گھوما

(“وہ قضائے حاجت سے واپس آئیں تو سب جا چکے تھے ، ایک صحابی تھے جو پیچھے سے چکر لگایا کرتے تھے تاکہ اگر کوئ سامان رہ جائے تو وہ لیتے آئیں ، انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو دیکھا اور اپنے اونٹ پر سوار کرکے مدینہ لے آئے”

” پھر کیا ہوا ؟”

” پھر یہ ہوا کہ سب نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر بہتان لگانے شروع کردیئے ، وہ بہت غمگین ہوئیں ، کیونکہ اس وقت بہت سے لوگ ان کے خلاف ہوگئےتھے اور ان پر الزامات لگارہے تھے ، کچھ وقت بعد اللہ تعالی نے وحی نازل کی اور بتایا کہ سیدہ عائشہ سچی اور پاک باز ہیں “

” تو کیا سب نے حضرت عائشہ کا اعتبار نہیں کیا ؟”

” بہت سوں نے نہیں کیا “

” اور حضرت ابوبکر ؟ انہوں نے بھی نہیں کیا ؟ وہ تو ان کے والد تھے “

” ان کو تو تھا یقین اپنی بیٹی پر “

” کیا ہر باپ کو اپنی بیٹی یقین ہوتا ہے ؟”

” بالکل ۔۔ہر باپ کو ” پندرہ سالہ قرت نے کتاب بند کرتے نعمان صاحب کو دیکھا اور سر اٹھایا

” آپ کو مجھ پر یقین ہے ابا ؟” نعمان صاحب مسکرائے

” بالکل ہے ” )

وہ آج پھر ان کے سامنے سر اٹھائے پوچھ رہی تھی

“ابا۔ آپ کو مجھ پر یقین ہے؟” نعمان صاحب کا کپکپاتا ہاتھ اٹھا اور دھیرے سے اس کے سر پر آ ٹھہرا وہ ان کا دوسرا ہاتھ آنکھوں سے لگائے پھپھک پھپھک کر رودی

” میں بدکردار نہیں ہوں ابا ۔۔۔۔۔میں نہیں ہوں “

جواد کے ماتھے پر بل پڑے

” بند کرو یہ ڈرامے تم لڑکی ، چچا آپ نکاح کا انتظام کریں “

نعمان صاحب نے اسے جواب نہیں دیا ، ان کے نظریں اپنے ہاتھوں پر تھیں جن پر خون لگا ہوا تھا، وہ ساکت ہوئے ، نظر قرت کے سیاہ دوپٹے پر گئ ، اس کا حجاب سر پر ویسے ہی تھا ، نقاب بھی ویسے ہی تھا ، اس نے دستانے تک پہن رکھے تھے لیکن ماتھے سے اوپر سے ذرا سا دوپٹہ کھسکا ہوا تھا ، وہاں خون کی چند بوندیں تھیں ، وہ کتنی ہی دیر ان بوندوں کے دیکھے گئے ، پھر ہاتھ بڑھا کر کہنی سے تھامے اسے اٹھایا اور جواد کی طرف دیکھا

” تم نے میری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا تھا ؟”

” آپ ابا کی بات کا جواب دیں ، نکاح آج ہی ہوگا ، بلکہ رخصتی بھی کردیں “

” تم نے میری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا تھا؟”

ان کی آواز غصے سے کانپی ، جواد کے ماتھے پر بل پڑے، ایک نظر کانپتی قرت کو دیکھا جو نعمان صاحب کے پیچھے کھڑی تھی

” لگ گیا ہوگا ایک ہاتھ ہاتھا پھائ میں، آپ ۔۔۔” اس کی بات منہ میں رہ گئ ، نعمان صاحب کا ہاتھ اٹھا اور اس کے گال پر پڑا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اس نے گاڑی روکی اور پھر ساتھ بیٹھے عیسیٰ کو دیکھا

” سوچ لو۔۔۔ ” وہ جو بے خیالی میں باہر دیکھ رہا تھا چونکا

“کیا ؟”

” میں کہہ رہا تھا کہ ایک بار پھر سوچ لو، تمہارا یوں اس طرح جانا سچویشن مزید خراب کرسکتا ہے ” عیسیٰ نے گہری سانس لی

” سچویشن پہلے ہی بہت خراب ہوچکی ہے ، معلوم نہیں اس خبطی انسان نے کیا کیا ہوگا قرت کے ساتھ ” آواز میں تشویش کے ساتھ کڑواہٹ بھی تھی

” حالانکہ تمہیں اپنی فکر ہونی چاہئے ، سر پھٹا ہے تمہارا ، میری مانو پولیس میں رپورٹ درج کروادو “

” ان کے سر سے خون بہہ رہا تھا “

وہ ہلکا سا بڑبڑایا زین کی بات اس نے نظرانداز کی گویا سنی ہی نا ہو

” کیا کرو گے اندر جاکر ؟”

اسے عیسیٰ کی فکر ہوئ

” معلوم نہیں ۔۔۔بس مجھے سب کچھ بتانا ہے کہ قرت وہاں اپنی مرضی سے نہیں آئ تھیں “

“اور وہ سب تمہارا یقین کرلیں گے؟ “

” انہیں یقین دلانے کیلئے مجھے جو کچھ کرنا پڑا کروں گا “

وہ سپاٹ انداز میں کہتا باہر نکلا ، مڑ کر دوبارہ زین کو دیکھا تک نہیں ، سیاہ دروازے کے سامنے کھڑے ہوکر چند گہرے سانس لئے اور پھر دروازہ کھٹھکا دیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

جواد نے گال پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے نعمان صاحب کو دیکھا ، تائی صدمے سے اٹھیں

” ہمت کیسے ہوئ میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی تمہاری ؟ “

وہ طیش سے دھاڑتے ہوئے پوچھ رہے تھے

” آپ کی بیٹی پوری دنیا میں گل کھلاتی پھرے اور ابھی آپ میرے بیٹے سے پوچھ رہے ہیں کہ اس نے ہاتھ کیوں اٹھایا “

” بس بھابھی ، میں نے بہت سن لیا ، اب مزید ایک لفظ نہیں ، کس حق سے اس نے میری بیٹی کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے “

” منگیتر ہے وہ میری “

جواد سیخ پا ہوا

” وہ میری بیٹی ہے ، میں کسی کو حق نہیں دوں گا کہ وہ اسے ہاتھ بھی لگائے ، تم کس منگنی یا نکاح کی بات کررہے ہو ،”

” ہمارا رشتہ بچپن سے طے ہے چچا “

وہ طیش سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ کہہ رہا تھا ، قرت کا دل کانپنے لگا ، اس نے پہلی بار ابا کو اس قدر غصے میں دیکھا تھا

” کسی غلط فہمی میں ہو تم ۔۔۔۔۔” وہ مزید کچھ کہتے جب زاہد چچا کا بیٹا ذوہیب اندر آیا

” ابا ، باہر کوئ آیا ہے “

” کون ؟” زاہد چچا آگے بڑھے

” پتا نہیں، کہہ رہا ہے قاری صاحب سے ملنا ہے “

” واپس بھیج دو ” زاہد چچا نے نعمان صاحب کے سرخ چہرے کو دیکھا

” وہ کہہ رہا تھا ، وہ ملے بغیر نہیں جائے گا “

” کہا نا بھیج دو ، دماغ میں بات نہیں گھستی ” چچی نے ناگواری سے جواد کو دیکھا

” تمیز سے جواد “

” اس کی کھوپڑی میں بات نہیں گھستی “

ذوہیب قدرے سہما

” ابا کیا کروں؟ “

” بھیج دو بیٹے بھیج دو “

وہ سر ہلاکر چلا گیا ،ابا کہہ رہے تھے تو بھیج دیتا ہوں

ذوہیب چلا گیا تو تایا نعمان صاحب کی طرف متوجہ ہوئے

” دیکھو نعمان ، ہم تمہاری ہی بیٹی کا بھلا سوچ رہے ہیں ، تمہیں تو میرے بیٹے کا شکر گزار ہونا چاہئے جو اب بھی اسے اپنانا چاہتا ہے ، الٹا تم اسے بعزت کررہے ہو، “

” مجھے ایسا احسان نہیں چاہئے ، بھاری نہیں ہے قرت مجھ پر “

تبھی دروازہ کھلنے کی آواز آئ ، سب کی نظریں بے ساختہ اٹھیں ، وہ عیسیٰ تھا ، سر پر سفید پٹی باندھے اندر داخل ہورہا تھا ، قرت کا دل رک گیا ,اسے یہاں نہیں آنا چاہئے تھا، کم از کم اس وقت نہیں آنا چاہئے تھا

” اےےے تم ؟ کیا کررہے ہو یہاں ؟”

جواد غصے سے کھولتا آگے بڑھا اور عیسیٰ کا گریبان پکڑا ، وہ جو اندر داخل ہوکر قرت کو دیکھ رہا تھا دماغ جو پہلے ہی گھوما ہوا تھا مزید سنسا اٹھا جواد کے ہاتھ جھٹکے اور رکھ کر ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا

” آئندہ میرے گریبان تک پہنچنے سے پہلے سو بار سوچنا ٫ ” وہ انگلی اٹھائے اسے وارن کرتا بولا ، جواد سیخ پا ہوتا پھر سے آگے بڑھنے لگا لیکن زاہد چچا نے اسے پکڑ لیا

” کون ہیں آپ ، اور اندر کیسے آئے ؟” کریم تایا کے چہرے پر ناگواری ابھری

” میرا نام عیسیٰ حیات ہے اور قاری صاحب مجھے جانتے ہیں ” اس کی نظر نعمان صاحب اور پھر بے ساختہ قرت پر گئ

” آپ یہاں کیا کررہے ہیں عیسیٰ ؟”

” آپ سے بات کرنی تھی “

” مسجد جائیں وہاں آکر بات ہوگی “

” واہ چچا آپ کی غیرت ، اپنی بیٹی کے عاشق کی مہمان نوازی کررہے ہیں “

قرت نے نعمان صاحب کا بازوں زور سے دبوچا

” کیا بکواس کررہے ہو جواد ؟”

” بکواس ؟ میں بتاتا ہوں آپ سب کو یہ یہاں کیا کررہا ہے ، چھوڑیں چچا ” وہ بدتمیزی کی انتہا پر اترتا زاہد چچا سے اپنا آپ چھڑواتا قرت کی طرف بڑھا ، وہ ڈر کر نعمان صاحب کے پیچھے ہوئ

” آپ کی یہ پاک باز بیٹی قرت العین جو ہر وقت خود کو دو گز کے پردے میں چھپا کر رہتی ہے اسی مرد سے ہوٹل میں ملتی پھررہی ہے ، میں نے خود اپنی آنکھوں سے انہیں ساتھ دیکھا ہے “

عیسیٰ نے ضبط سے آنکھیں بند کیں، قرت کا دل مزید وحشت میں گرا ، جبکہ نعمان صاحب کا دل بے یقینی کا شکار ہوا

” یہ وہی لڑکا ہے ؟” تائ کی آواز میں محسوس کیا جانے والا طنز تھا

” عیسیٰ ؟” اس نے نعمان صاحب کی بے یقینی بھری آواز پر انہیں دیکھا

” میں وضاحت دے سکتا ہوں “

” یہ سچ ہے ؟”

وہ چند لمحے انہیں دیکھتا رہا پھر سر ہلایا

” یہ آدھا سچ ہے ۔۔۔”

اور ان کا ہاتھ قرت کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ، اس کی نظریں پتھر ہوئیں

” آپ مجھے اتنے عرصے دھوکا دیتے رہے ؟”

” ایسا نہیں ہے ، اور ایسا بھی نہیں ہے جیسا یہ لڑکا کہہ رہا ہے ، مجھے وضاحت کرنے دیں ” اس نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے

” کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔دفع ہوجائو یہاں سے تم لڑکے “

عیسیٰ نے قہر بار نظروں سے جواد کو گھورا

” تم ۔۔۔۔ میری بات سنو ، اگر ایک بار مزید تم نے مجھ سے ایسی بکواس کی بخدا تمہاری زبان کھینچ لوں گا “

” بس ۔۔” نعمان صاحب کی سخت آواز ابھری ” ۔آپ جائیں یہاں سے ، مجھے نہیں سننی کوئ بات “

” سر یقین کریں قرت کا اس میں کوئ قصور نہیں ہے ” ۔

” بار بار اس کا نام مت لو ، بیوی ہے وہ میری “

” بیوی ؟” عیسیٰ کے لب بے یقینی سے پھڑپھڑائے

” ہاں ، شام کو نکاح ہے ہمارا ” جواد کے سینے میں جیسے ٹھنڈ سی اتری

” نو نو ۔۔۔قاری صاحب ۔۔میری بات سنیں ۔۔۔ایسا مت کریں ، یہ شخص قرت کے لائق نہیں ہے “

” اب تم بتائو گے کہ کون اس کے لائق ہے اور کون نہیں ؟” وہ ایک بار پھر بپھر کر آگے بڑھا

” جواد ، منہ بند رکھو اپنا ، اور عیسیٰ کہیں آپ جو بھی کہنا ہے “

” چچا آپ ۔۔”

” عیسیٰ ، میں سن رہا ہوں “

جواد کھول کر رہ گیا

” سر ! قرت وہاں آئ ضرور تھیں لیکن وہ اپنی مرضی سے نہیں آئ تھیں ، میں نے قرت کی دوست کو کہا تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر آئے ، آئ سویر یہ سب میری غلطی ہے لیکن میرا مقصد غلط نہیں تھا ، میں بس آخری بار قرت سے ملنا چاہتا تھا ، آپ چاہیں تو ان کی دوست سے کال کرکے پوچھ لیں “

” کون سی دوست ؟”

” ماریہ ۔۔۔۔وہ ماریہ تھی ٫ وہی میرے ساتھ تھی ” پتھر بنی قرت میں پہلی بار حرکت ہوئ کسی نے جیسے اس میں نئ روح پھونک دی تھی

” ماریہ کون ؟”

” ماریہ ابراھیم ۔۔۔۔”

” میں جانتا ہوں ، ابراھیم صاحب کی بیٹی ہے ، میری جان پہچان ہے ان سے “

” کال ملائیں بھائ صاحب ، مجھے سچ سننا ہے “

اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ٫ ماریہ سچ بتادے تو وہ اس جرم سے بری ہوجائے گی ، وہ بے چین نظروں سے تایا کو کال ملاتے دیکھنے لگی ، اور عیسیٰ اسے

” اے نظریں نیچی رکھو ، کیا گھو ررہے ہو اسے “

زیر لب جواد کو دوچار گالیوں سے نوازتے ہوئے عیسیٰ نے رخ پھیر لیا ، باقی سب نے جواد کو سرے سے نظرانداز کیا

تیسری گھنٹی پہ کال اٹھالی گئ

” السلام علیکم کریم اسماعیل بات کررہا ہوں ….جی خیریت ہے سب …..، دراصل ماریہ بیٹی سے بات ہوسکتی ہے ؟ جی جی ، قرت کے سلسلے میں کچھ بات کرنی تھی،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا “

انہوں نے کال اسپیکر پہ ڈال دی

” السلام علیکم انکل “

” وعلیکم السلام بیٹا ، کیسی ہیں ؟”

” ٹھیک ہوں ، خیریت مجھ سے کیا بات کرنی تھی آپ کو ” اسپیکر پر ماریہ کی حیران آواز ابھری

عیسیٰ ایک ہاتھ پاکٹ میں ڈالے دوسرے ہاتھ کی مٹھی کو اضطراری انداز میں کبھی کھولتا کبھی بند کرتا

” جی جی بچے سب خیریت ہے ، دراصل آپ سے پوچھنا تھا کہ آپ آج دوپہر میں قرت کے ساتھ بازار گئ تھیں ؟”

” جی گئ تھی ۔۔۔۔”

” وہاں آپ دونوں کسی عیسیٰ حیات نام کے لڑکے سے ملنے گئی تھیں ؟”

قرت کا دل زور سے دھڑکنے لگا ، تھوڑی دیر اسپیکر پر خاموشی چھائ رہی پھر اس کی آواز ابھری

” کون عیسیٰ حیات؟ “

اس کے دل کی دھڑکن رک گئ ، عیسیٰ کا ہاتھ بھی

” آپ عیسیٰ کو نہیں جانتیں ؟”

” نہیں “

” جھوٹ مت بولو ماریہ خدارا جھوٹ مت بولو ، تم میرے ساتھ تھیں ، تم ہی مجھے لے کر گئ تھیں “

اس نے جھپٹ کر فون تایا کے ہاتھ سے لیا

” میں جھوٹ بول رہی ہوں ؟ تم نے سب کو کیا کہانی سنائ ہے قرت ؟ ہاں ٹھیک ہے ہم دونوں بازار گئ تھیں لیکن تم نے خود کہا تھا کہ میں واپس چلی جائوں تم خود آجائو گی “

” ماریہ ۔۔۔” اس کی آواز صدمے سے اندر دب گئ

” مس ماریہ جھوٹ مت بولیں ، میرے پاس آپ کی انسٹا چیٹ محفوظ ہے ” وہ فاصلے پر ٹھہر کر اونچی آواز میں بولا

” میں نہیں جانتی آپ کس چیٹ کی بات کررہے ہیں ، آپ وہی تو نہیں جو قرت سے ملنے آتے تھے ؟”

وہ نفی میں سر ہلانے لگی

” فائن ۔۔۔۔”

وہ جیسے فیصلہ کن انداز میں کہتا انسٹا کھولنے لگا ، آئ ڈی لاگ ان کی ، سب سے پہلے چیٹ کھولی اور دماغ بھک سے اڑا، وہاں ماریہ کی چیٹ نہیں تھی ، اس کی جانب سے چیٹ ڈلیٹ کردی گئ تھی ، اس نے اپنی آئ ڈی بھی ڈلیٹ کردی تھی ٫ سو اس کا نام بھی شو نہیں ہورہا تھا ٫ وہاں کھڑے کھڑے عیسیٰ کے دماغ میں دھماکے ہونے لگے ٫ وہ صرف اپنی چیٹ سے کسی کو یقین نہیں دلا سکتا تھا کہ اس کی بات چیت ماریہ سے ہی ہوئ تھی

” تم نے ڈلیٹ کردی چیٹ ؟”

صدمہ شدید تھا

” میں نہیں جانتی کون سی چیٹ ، میری کوئ انسٹا کی آئ ڈی نہیں ہے ، قرت کو بچانے کیلئے مجھ ہر الزام مت لگائیں “

اس نے شاید فون اپنے باپ کے حوالے کردیا تھا ، تایا ان کو وضاحت دیتے ہوئے باہر نکل گئے

” ہوگیا ڈرامہ ختم ؟ ، اب بس کریں ، تم نکلو یہاں سے ، اور چچا آپ نکاح کی تیاری کریں “

” جواد کریم کیا تم نے سنا نہیں ، مجھے اپنی بیٹی کی شادی تم سے نہیں کرنی ، اور عیسیٰ آپ چلے جائیں یہاں سے،”

” ہمیں بھی کوئ شوق نہیں تھا آپ کی بدکردار بیٹی کو اپنے متھے مارنے کا ، چلو یہاں سے جواد ” تائ جواد کو ساتھ کھینچنے لگیں تو وہ عیسیٰ پر ایک کڑی نظر ڈال کر آگے بڑھا پھر ایک نظر قرت کو دیکھا

” میں دیکھتا ہوں چچا کہ آپ اپنی بیٹی کی شادی اب کس سے کرتے ہیں ، بخدا بڑی بھاری قیمت چکائیں گی مجھے انکار کرنے کی “

وہ پھنکار کر کہتے بیٹھک سے نکل گیا ٫ اس کے پیچھے تائ بھی چلی گئیں ٫ خاموش کھڑی سعدیہ دھپ سے صوفے پر بیٹھیں اور سر ہاتھوں میں تھام لیا

” بھائ ، اس طرح منع مت کرتے ، کس سے بیاہیں گے اپنی بیٹی ، بات پھیل گئ تو سب سے زیادہ نقصان آپ کا ہوگا “

نعمان صاحب نے کچھ نہیں کہا ، تب خاموش کھڑے عیسیٰ نے کوئ فیصلہ کرتے ہوئے نعمان صاحب کو دیکھا

” ، اگر آپ اجازت دیں تو میں قرت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں “

قرت کا ہچکیاں کھاتا وجود رکا ، نعمان صاحب نے نظر گھما کر عیسیٰ کو دیکھا ، اس کی آنکھوں میں چٹان جیسی سختی تھی

” اس سب کے بعد آپ کو لگتا ہے میں ہاں کردوں گا ؟”

” اگر اس سب کی وجہ میں ہوں تو مجھے یہ سب ٹھیک کرنے دیں “

” یہ لڑکا ٹھیک کہہ رہا ہے بھائ صاحب ، سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ ان دونوں کا نکاح کردیں “

” مجھے یہ منظور نہیں ہے “

” بھائ صاحب ۔۔۔”

” نہیں زاہد ، بوجھ نہیں ہے قرت مجھ پر ، میں اس شخص سے کبھی اپنی بیٹی نہیں بیاہوں گا جس کی وجہ سے اس کے حصے میں بدنامی آئ ہو ، یہاں سے چلے جائیں عیسیٰ “

” سر ۔۔۔ “

” یہاں سے جائیں اس سے پہلے کہ میں دھکے دے کر نکالوں آپ کو “

اس نے ایک آخری نظر قرت پر ڈالی اور الٹے قدموں واپس پلٹ گیا

تیز قدموں سے چلتے جب وہ واپس آیا تو زین بے چینی سے اس کا منتظر تھا

” کیا ہوا ؟”

” لعنت ہو مجھ پر ۔۔۔۔ لعنت ہو “

اس نے زور سے ہاتھ گاڑی کے بونٹ پر مارا

” عیسیٰ ۔۔کیا ہوا ” وہ گہرے گہرے سانس لیتا وہیں رکا رہا پھر اسی غصے میں پائوں ٹائر پر مارا ، دماغ پھٹنے کو تھا ، سر سے پھر خون بہہ رہا تھا لیکن اسے پرواہ نہیں تھی

” عیسیٰ ۔۔” زین فورا آگے بڑھا

” لعنت ہو مجھ پر زین ۔۔۔، میں نے اسے رسوا کردیا ، “

” اس میں تمہارا کیا قصور ؟”

” میرا ہی قصور ہے ، سب میرا قصور ہے ، نا میں آخری ملاقات کا کہتا نا یہ سب ہوتا ، وہ جاھل لوگ ، ان سب نے میری نظروں کے سامنے کیسے کیسے الزامات لگائے قرت پر ، میں نے زبان کیوں نہیں کھینچی جواد کی ” اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آرہا تھا

” اچھا اچھا ۔۔ٹھیک ہے ۔۔فلحال ہوسپٹل چلو خون بہہ رہا ہے تمہارا”

” کہیں نہیں جانا مجھے “

” یہاں کھڑے ہوکر کون سے جھنڈے گاڑھ لوگے ؟سوائے اس کے مزید معاملہ خراب ہوگا ، یہاں سے چلو ، پھر سوچتے ہیں کیا کرنا ہے ” عیسیٰ نے ایک گہری سانس لے کر سیاہ دروازے پر آخری نظر ڈالی اور کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا