Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 37)

Nahal By Fatima Noor 

گروسری کی شاپنگ کا اسے کوئ خاص تجربہ نہیں تھا لیکن شہوار شہر سے باہر تھیں ، اپنی کسی رشتےدار سے ملنے گئ تھیں ،تو مجبوراً اسے آنا پڑا ، ٹرالی گھسیٹتے ہوئے وہ لائن میں پڑی اشیاء دیکھ رہی تھی ، لسٹ ہاتھ میں تھی ، ملازمہ کہیں پیچھے تھی ، کچھ سامان کی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی تو وہ لسٹ اس نے ملازمہ کو دے دی

دفعتاً وہ رکی ، سامنے چائے کے پیکٹ پڑے تھے ، لبوں پہ مسکراہٹ ابھری، تین پیکٹ ایک ساتھ اٹھا لئے ، عیسیٰ نے پچھلی بار اسے کتنا سنایا تھا کہ وہ چائے کم پیا کرے ، اب اس کا چہرہ یاد کرتے ہوئے وہ محظوظ ہورہی تھی

سیکنڈ رو میں تھوڑا رش تھا ، اسے جلدی سامان لینا تھا اس لئے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگی ، وہاں چند جیم کے ڈبے پڑے تھے جو اسے لینے تھے ، تین لوگ ایک ساتھ اسی جگہ رک گئے تھے ، قدرے کوفت سے اس نے سامنے پڑے پیکڈ بریڈ اٹھائے اور دوبارہ وہاں دیکھا ، دو مرد تھے تو وہ آگے نہیں جاسکتی تھی ،تبھی ساتھ کھڑے کسی نے اس کی طرف جیم بڑھایا

” جزاک اللہ ۔۔۔”

بنا ان کی طرف دیکھے اس نے مصروف سے انداز میں جیم پکڑا اور ٹرالی میں رکھا ، تبھی اسے کچھ احساس ہوا ، رک کر اس نے پیچھے دیکھا اور اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا

سامنے جواد کھڑا تھا ، بلیو جینز پر ہلکی پنک شرٹ پہنے ، سر پر پی کیپ تھی

” تم ،۔۔۔یہاں ؟” آواز کانپ گئ

” میں ۔۔۔۔” بریڈ رکھتا وہ اس کے سامنے آیا قرت بے اختیار پیچھے ہوئ ” یہاں ۔۔۔”

” یہاں کیا کررہے ہو ؟”

اس کی آواز بلند ہوئ پھر فورا اردگرد دیکھا ، دو چار لوگ ادھر دیکھنے لگے تھے البتہ جواد مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا

” کیا تمہیں یاد نہیں میں نے ایک سرپرائز کا زکر کیا تھا ؟ دیکھ لو وہ سرپرائز دینے میں خود یہاں آیا ہوں “

” دیکھو جواد ۔۔۔”

انگلی اٹھائے اسے وارن کرنا چاہا جب جواد ایک قدم مزید آگے ہوا ، وہ فورا پیچھے ہوئ ، سر پیچھے رکھے سامان سے ٹکرایا

” مجھے دھمکی دینے سے پہلے سوچ لینا قرت، سر پھرا انسان ہوں جو دھمکی دو گی کرگزروں گا “

اس کی آنکھیں سخت ہوئیں

” یہاں سے چلے جائو ۔۔۔”

اب کی بار آواز دبی دبی سی تھی

” اوہوووں ۔۔۔ایسے کیسے ؟ جو کرنے آیا ہوں وہ تو کروں گا “

” کیا کرنے آئے ہو ؟”

وہ خوفزدہ ہوئ

” اپنی ریجیکشن کا بدلہ لینے ، عیسیٰ کیلئے ریجیکٹ کیا تھا نا مجھے ؟ کیا ہو اگر وہ تمہیں چھوڑ دے ؟”

اس کا دل کانپنے لگا

” تم۔۔۔”

” میں ؟”

” ایسا کچھ سوچنا بھی مت ، عیسیٰ تمہیں جان سے مار دیں گے “

جانے کہاں سے اتنی ہمت اور یقین آگیا تھا ، پچھلی رو میں کھڑے افراد آگے بڑھ گئے ، وہ وہاں اکیلے رہ گئے

” ہااا ۔۔۔وہ عیسیٰ ؟ اس سے پہلے میں اسے اس قابل چھوڑوں گا ہی نہیں کہ وہ مجھے مار سکے “

” خبردار ، ۔۔۔” انگلی اٹھائے اسے وارن کیا ” عیسیٰ کے بارے میں کچھ برا سوچنا بھی مت ، اس کے ساتھ قرت العین کی دعائیں ہیں “

” دیکھتے ہیں پھر تمہاری دعائوں کو ۔۔۔”

وہ مزید آگے ہوا ، وہ لڑکھڑا کر سائیڈ پر ہوئ ، اس کا توازن بگڑا اور وہ گرنے کو تھی جب ساتھ رکھئ ٹرالی کو تھاما، جواد کا ہاتھ بے ساختہ اسے تھامنے کیلئے بڑھا

” ہاتھ مت لگانا مجھے ۔۔” وہ غرائ ، جواد نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا دیئے ، قرت سیدھی ہوتی بنا پیچھے دیکھے آگے بڑھ گئ، قدم اٹھ کہیں رہے تھے ، وہ رکھ کہیں رہی تھی ، ملازمہ پیچھے کہیں اسے پکار رہی تھی لیکن وہ آگے بڑھتی گئ ، گاڑی کے پاس جا کر دروازہ کھولا اور دھپ سے اندر بیٹھی

دل میں کوئ خوف سا پیدا ہورہا تھا، اس لمحے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ عیسیٰ کو جواد کا بتادے گی ، اس کے علاوہ اب کوئ حل نہیں تھا ، تبھی اس کے موبائل پر حیات کی کال آنے لگی ، خود کو سنبھالتے اس نے کال اٹھائ

” السلام علیکم انکل “

وہ دوسری طرف سے کچھ کہہ رہے تھے ، عیسیٰ کے آفس جاکر اسے ساتھ لیتے کسی ریسٹورنٹ میں آنا تھا، فیملی ڈنر کا پروگرام ، اس نے انہیں جواب دیتے عیسیٰ کو کال ملائ لیکن نمبر بند تھا

” شاکر چچا گاڑی عیسیٰ کے آفس لے چلیں ،مجھے وہیں اتار کر آپ لوگ گھر چلے جائیے گا “

ملازمہ آچکی تو شاکر چچا گاڑی میں بیٹھنے لگے، قرت کی بات سنتے سر ہلادیا ، وہ باہر دیکھنے لگی

اسے عیسیٰ سے بات کرنی تھی ، اب بہت ہوگیا ، اس کا خیال تھا کہ جواد بس یوں ہی تنگ کررہا تھا ، لیکن اس کا اسلام آباد آنا جیسے ہر وسوسے کو سچ ثابت کرریا تھا ، وہ مزید یہ ٹینشن نہیں برداشت کرسکتی تھی ، وہ عیسیٰ کو بتادے گی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اپنے آفس میں کرسی پر بیٹھے عیسیٰ نے بازوں موڑرے سامنے رکھی فائل اٹھائ اور پھر لیپ ٹاپ پر کوئ کمانڈ دی ، اسے ایک دو گھنٹوں میں میٹنگ کے لئے نکلنا تھا اور وہ مصروف تھا

چند منٹ گزرے تھے جبکہ انٹر کام بجا ، اس نے مصروف سے انداز میں کریڈل کان سے لگایا

” سر ، کوئ خاتون آپ سے ملنے آئ ہیں “

” کون خاتون ؟”

” میں نہیں جانتی انہیں “

” نام ؟”

لمحہ بھر کو صوفیہ کا خیال آیا تھا

” سر وہ نہیں بتا رہیں “

” آپ منور صاحب سے کہیں مل لیں “

وہ کریڈل رکھنے لگا

” سر وہ کہہ رہی ہیں کہ ذاتی سلسے میں ملنا ہے “

اس سے کون ذاتی سلسے میں ملنے آگیا ؟

” واپس بھیج دیں “

اس نے کریڈل واپس رکھ دیا ، تھوڑی دیر بعد دوبارہ سے موبائل بجا

” سر وہ خاتون ضد کررہی ہیں ۔۔۔”

” کیا مسئلہ ہے مس افشاں ؟ آپ ایک خاتون کو ہینڈل نہیں کرپارہیں ؟”

وہ کچھ غصہ ہوا

” سوری سر۔۔۔” اس نے ماتھا مسلا

” بھیج دیں “

کریڈل پٹخ کر رکھا ، اگلے دو چار گھنٹے تک کم از کم اسے کسی سے نہیں ملنا تھا ، اور اب یہ خاتون پتا نہیں کون تھیں

دوبارہ سے فائل آگے کرتے ہوئے اس نے توجہ وہیں مرکوز کرلی ، پانچ منٹ بعد اس کے آفس کے دروازے پر دستک ہوئ

” آجائیں ۔۔۔”

دروازہ کھلا ، پھر بند ہوا ، کوئ دھیرے سے چلتے ہوئے اس کی میز کے سامنے آرکا ، عیسیٰ نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا ، آنکھوں میں حیرت ابھری پھر وہ مسکرادیا اور سر جھٹکا

” give me five minutes to believe “

سامنے کھڑی قرت العین مسکرائ

” لے لیں پانچ منٹ ۔۔۔”

” آپ سامنے بیٹھ جائیں مجھے یقین آجائے گا ۔۔۔” کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے پیچھے ٹیک لگالی اور فرصت سے اسے دیکھا ، وہ ہمیشہ کی طرح سیاہ عبایا اور نقاب میں ملبوس تھی ، ہاتھ دستانے میں چھپے تھے ، قرت کرسی کھینچ کر سامنے بیٹھی

” میرے آنے کی توقع نہیں تھی ؟”

” بالکل نہیں تھی ۔۔۔”

وہ مسکراتے ہوئے پیچھے کو ٹیک لگائے اسے دیکھ رہا تھا ، کہاں کی مصروفیت ؟کہاں کا بزی شیڈیول ؟ سب گیا بھاڑ میں

” مجھے خوشی ہوئ جان کر ۔۔۔”

” آپ کی خوشی کا سن کر مجھے خوشی ہوئ ، خیر بتائیں خیریت سے ہمارے آفس کو رونق بخشی ؟”

” آااا۔۔۔یونہی ، “

اسے پہلے وہ الفاظ سوچنے تھے جن سے وہ اسے بتاسکے ، جواد کا نام سن کر عیسیٰ کیا رئیکٹ کرے گا وہ نہیں جانتی تھی

” وجہ تو کوئ ہے ۔۔۔لیکن آپ جب بتانا چاہیں ، لیکن پہلے یہ بتائیں کیا لیں گی ؟”

وہ آگے کو ہوا اور کریڈل اٹھایا

” چائے ۔۔۔۔”

عیسیٰ نے رک کر اسے دیکھا ، پھر سر ہلاتے ہوئے کال ملائ

” مس افشاں ایک کپ چائے بھجوادیں میرے آفس “

نیچے ریسپیشن پہ بیٹھی افشاں نے اوکے سر کہہ کر کریڈل رکھا اور ساتھ بیٹھی کولیگ کر دیکھا ، اس کا منہ حیرت سے کھلا ہوا تھا

” عیسیٰ سر نے چائے منگوائ ہے “

” تو ؟”

” وہ اپنے آفس میں چائے نہیں منگواتے “

” کیوں ؟”

” کیوں کہ عیسیٰ حیات کو دنیا میں سب سے زیادہ نا پسند چائے ہے “

تڑخ کر کہتی وہ اٹھی اور خود چائے بنانے چلی گئ ، دیکھے تو صحیح یہ خاتون کون تھیں جس کیلئے چائے منگوائ جارہی تھی

واپس آفس آئو تو قرت اب اٹھ کر اس کا آفس دیکھ رہی تھی

” آپ کے آفس کا رنگ سفید کیوں ہے ؟”

پورے آفس میں ہر شے سفید تھی

” کیونکہ میرے کمرے کا رنگ سیاہ ہے “

” جی ؟” اسے اس جواب کی سمجھ نہیں آئ تھی ، عیسیٰ نے سر جھٹکا

” چھوڑیں ۔۔پھر کبھی بتائوں گا ، آپ یہاں آئیں “

ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی طرف بلایا تو وہ اس کی طرف آئ ، عیسیٰ پاور چیئر پر بیٹھا تھا ، اس کی طرف ہاتھ بڑھایا

” آپ نے نیچے بتایا کیوں نہیں کہ آپ کون ہیں ؟”

” اور میں کون ہوں ؟”

” مسز عیسیٰ حیات ۔۔”

یہ حوالہ اسے کتنا معتبر لگتا تھا ، کتنا اچھا لگتا تھا اس کے منہ سے سننا ، اسے پہلی بار احساس ہوا

” میں نہیں جانتی تھی کہ مجھے یہ حوالہ دینا چاہئے یا نہیں “

وہ جواب دیتا اس سے پہلے دروازے پر دستک ہوئ ، قرت اس کا ہاتھ چھوڑتی واپس چیئر تک آئ

” آجائیں ۔۔۔”

افشاں دو کپ لئے آفس میں داخل ہوئ عیسیٰ نے بدقت چائے کی خوشبو حلق میں اتاری

” سر چائے ۔۔۔”

پوری بتیسی نکالتے ہوئے کپ سامنے رکھے

” میں نے ایک کپ کہا تھا “

اس نے ابرو اچکائے

” میں آپ کے لئے بھی لے کر آئ ہوں “

وہ پورے دانت نکالے مسکرا رہی تھی ، اس نے بمشکل ضبط کیا ، قرت یہاں نا ہوتی تو وہ اسے اچھا خاصا جھڑک دیتا ، وہ اور چائے پئے ؟ ناممکن !

” شکریہ مس افشاں ۔۔۔”

” ویلکم سر ۔۔” اس کی نظر قرت پر گئ جو موبائل آن کررہی تھی

” اگر آپ کو برا نا لگے تو میں ایک بات پوچھ لوں سر ؟”

” جی ؟”

” یہ کون ہیں ؟” اشتیاق سے قرت کو دیکھا جس نے اس سوال پر بے ساختہ عیسیٰ کو دیکھا تھا

” آپ کو کون لگ رہی ہیں ؟”

اس نے مسکراہٹ دبانے کیلئے انگلیاں ہونٹوں پر رکھ لیں

” آااا۔۔۔معلوم نہیں “

وہ گڑبڑا گئ ، کیا کہتی ؟

” مسز عیسیٰ حیات “

افشاں کا منہ کھلا ، وہ جانتی تھی کہ عیسیٰ کی شادی ہوگئ تھی وہ تب چھٹی پر تھی لیکن اسے خبر مل گئ تھی لیکن وہ یہ تھیں جن سے شادی ہوئ تھی؟

” مسسز عیسیٰ مطلب ؟” ہونق نظروں سے انہیں دیکھا

” مسز عیسیٰ مطلب میری بیوی “

اب کے اس کیلئے مسکراہٹ چھپانا مشکل ہوگیا ، قرت کی آنکھوں میں عجیب سے تاثرات تھے

” آاا۔۔۔اوکے ۔۔ ۔۔”

پھر وہ سنبھلی اور دوبارہ قرت کو دیکھا ، لبوں پہ زبردستی مسکراہٹ آئ ” ہیلوو میم “

” السلام علیکم کہتے ہیں ۔۔۔”

شائستگی سے درستگی کی تو اس کے چہرے پر سرخی دوڑی

” وعلیکم السلام میرا مطلب السلام علیکم “

وہ گڑبڑا کر درستگی کرتی فورا غائب ہوئ ، اس کے جانے کے بعد عیسیٰ ہنس دیا

” بچاری کو شرمندہ کردیا آپ نے “

اس نے سر جھٹکا

” وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی “

” کیونکہ وہ مسز عیسیٰ حیات کو دیکھ رہی تھی ” اس کا کپ آگے رکھا ، وہ اس کا چہرہ دیکھتی مسکرائ

” نہیں عیسیٰ ، وہ مجھے مسسز عیسیٰ کے طور پر دیکھ رہی تھی “

” دونوں باتوں میں کیا فرق ہے ؟”

” یہاں میری جگہ کوئ اور ہوتی تو شاید وہ اتنی حیران نا ہوتی ، یہاں میں تھی تو وہ حیران تھی ، ایسے ہی تاثرات ان خواتین کے بھی ہوتے ہیں جنہیں آنٹی یہ بتاتی ہیں کہ میں عیسیٰ حیات کی بیوی ہوں ، وہ سر سے پیر تک مجھے گھورتی ہیں اور پھر نائس کہتے ہوئے مڑ جاتی ہیں ، وہ اس طرح اس لئے کرتی ہیں کیونکہ وہ قرت العین کے پردے کو عیسیٰ حیات کے اسٹینڈرڈ سے میچ کرنے کی کوشش کرتی ہیں ، میں ایسی نظروں کو پہچان لیتی ہوں ” سادگی سے شانے اچکائے ، عیسیٰ لمحہ بھر کو خاموش ہوگیا پھر وہ کھنکار کر آگے کو ہوا

” میرے لئے آپ کا پردہ کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا “

” جانتی ہوں ، ہوتا تو میں کبھی آپ سے شادی نا کرتی “

وہ جو کچھ کہنے لگا تھا رک گیا

” اگر مجھے آپ کے پردے سے مسئلہ ہوتا تو آپ مجھ سے شادی نا کرتیں ؟”

تصدیق چاہی ، وہ اسے دیکھتی آگے کو ہوئ

” بالکل نا کرتی ۔۔۔آپ سے شادی کی ایک وجہ یہ بھی تھی عیسیٰ کہ آپ کو میرے پردے سے مسئلہ نہیں تھا ، ہوتا تو قرت العین کبھی عیسیٰ حیات کا انتخاب نا کرتی، میرے لئے میرا پردہ ہر شے سے بڑھ کر ہے، میں انسان کیلئے خدا کو نہیں چھوڑ سکتی ، “

وہ خاموش ہوئ ، عیسیٰ کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری، اسے جواب برا نہیں لگا تھا ، اسے جواب پر فخر ہوا تھا

” اور مجھے جب بھی انتخاب کا موقع دیا گیا میں قرت العین کو منتخب کروں گا ” اب کہ اس کے لبوں پہ قفل پڑا ، عیسیٰ نے اپنا کپ نہیں اٹھایا تھا وہ پیچھے کو ٹیک لگائے قرت کو دیکھ رہا تھا ” آپ کو مشکل نہیں ہوتی قرت ؟”

” کس حوالے سے ؟”

” پردے کو لے کر ، صرف سوال پوچھ رہا ہوں “

وہ گہری سانس لیتی اگے کو ہوئ

” سچ پوچھیں تو ہوتی ہے ، یہ آسان نہیں ہے ، سو لوگوں میں آپ کا اجنبی بن کر بیٹھنا، سات شوخ رنگوں کو چھوڑ کر ایک سیاہ رنگ اوڑھنا، جب کوئ لڑکی پردہ شروع کرتی ہے تو لوگ طائف والے بن جاتے ہیں ، آپ پر اپنے الفاظ سے پتھر پھینکے جاتے ہیں، دل میں بہت تکلیف کے ساتھ ہر بار انہی لوگوں میں جانا پڑتا ہے ، لیکن ان سب میں یہ خیال کہ ان سو لوگوں میں آپ اجنبی لیکن منفرد ہیں ، سات رنگوں میں آپ کا سیاہ رنگ اللہ کو زیادہ پسند ہے ، آپ بھیڑ چال کا حصہ نہیں بنے بلکہ ٹوٹے دل کے ساتھ ہی صحیح لیکن اللہ کی طرف جانے والے راستے پر جانے کی کوشش کررہے ہیں یہ بات ہر شے سے زیادہ ہمت دیتی ہے ، دل مارنا پڑتا ہے ، آسان نہیں ہے لیکن یہ سیکھ لیا تھا تو اب عادت ہوگئ ہے ، عادت ہوہی جاتی ہے ، بس شروع کا عرصہ گزارنا پڑتا ہے “

وہ اپنے ازلی سادہ انداز میں کہہ رہی تھی اور وہ ہونٹوں پر انگلیاں رکھے سن رہا تھا ، اس کے سامنے بیٹھی عورت نے ایک دل مارنا ہی سیکھا تھا اور جیسے اس نے راکھ جیسی دنیا کی حقیقت پالی تھی ، اور ایک وہ تھا جس کو بچپن میں چند آزمائشیں ملیں تو اپنے رب سے ہی دور ہوگیا تھا

” آپ خاص ہیں قرت “

” آپ کو لگتی ہوں عیسیٰ ، ورنہ قرت العین جتنا عام کوئ نہیں “

وہ مسکرائ

” ان بصارتوں پر افسوس ہے جو خاص لوگوں کو پہچاننے سے قاصر ہیں “

اس نے سر جھٹکتے ہوئے کپ اٹھایا

” فری ہیں آپ ؟”

وہ اصل مدعے پر آئ

” پچھلے پندرہ منٹ سے ہوں “

” اوکے ، انکل کہہ رہے تھے کہ لنچ ساتھ کریں گے ، مجھے کچھ بات کرنی تھی لیکن پھر کبھی سہی ، ابھی آپ لنچ پر چل رہے ہیں ؟”

” کیا بات کرنی تھی ؟”

اس نے لیپ ٹاپ بند کیا

” پھر کبھی عیسیٰ ، آپ چل رہے ہیں ؟”

” شیور ۔۔۔۔” وہ لیپ ٹاپ رکھتا اٹھا ، پیچھے سے کوٹ اٹھا کر بازو پر رکھا ، وہ کپ رکھتی اٹھ رہی تھی ، اس نے ڈھنگ سے چائے نہیں پی تھی ، شاید وہ صرف عیسیٰ کے آفس کی روایت توڑنے آئ تھی

نیچے کی طرف جاتے ہوئے اسے ہر ایک کی نگاہ خود پر محسوس ہوئ ، یقیناً افشاں نے سب کو بتادیا ہوگا کہ وہ کون ہے ، کوئ معتبر سا احساس تھا جو اسے اس وقت عیسیٰ کے ساتھ چلتے ہوئے محسوس ہوا تھا ، وہاں موجود سب کی نظروں میں عزت تھی جو اس کا سر بلند کرگئ تھی ، عیسیٰ موبائل پر مصروف اس کے ساتھ چل رہا تھا ، اسے کچھ میٹنگز آگے پیچھے کرنی تھیں ، اس سے کچھ پوچھ بھی لیتا ، اور وہ مدھم سی آواز میں جواب دے دیتی ، اسے بھول گیا کہ وہ عیسیٰ سے کیا بات کرنے آئ تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اور پھر بہت سوچنے کے بعد اس نے ابا کو جواد کا بتادیا، وہ کتنی ہی دیر تو بے یقین بیٹھے رہ گئے

“مگر وہ تمہیں کیوں تنگ کررہا ہے ؟”

” اسے لگتا ہے کہ میں نے اسے عیسیٰ کی وجہ سے ریجیکٹ کیا ہے ، دو مرتبہ کی ریجیکشن نے اس کی غیرت کو ٹھیس پہنچائ ہے “

” میں نہیں جانتا تھا کہ وہ اسلام آباد میں ہے ،وہ یہاں سے بہاولپور کا کہہ کر گیا تھا “

” وہ پچھلے چند دن سے یہاں ہے ابا ۔۔۔”

نعمان صاحب افسوس سے سر ہلاکر رہ گئے

” مجھے اس سے اس قدر گھٹیا پن کی امید نہیں تھی ، عیسیٰ کو بتایا تم نے ؟”

” نہیں “

” کیوں ؟”

” پتا نہیں ابا ، مجھے ڈر لگتا ہے “

” کس چیز کا ڈر ، وہ کچھ کہے گا ؟”

” نہیں ، لیکن مجھے پھر بھی کوئ ڈر ہے جو عیسیٰ کو بتانے نہیں دے رہا ” صوفے پر بیٹھ کر اس نے تھکے انداز میں ماتھا مسلا

” تم فکر مت کرو میں بھائ صاحب سے بات کرتا ہوں “

” پلیز ، عیسیٰ کو پتا چلا تو میں نہیں جانتی وہ کیا کریں گے ” ابا نے تسلی دے کر فون بند کردیا تو وہ بھی کچھ مطمئن سی ہوگئ ، یقیناً تایا اسے سمجھائیں گے تو وہ سمجھ جائے گا ، وہ مزید اسے تنگ نہیں کرے گا، ہاں نہیں کرے گا ، بلآخر وہ کچھ پرسکون ہوئ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

حمنہ کی طبیعت خراب تھی سو وہ اگلے دن اسے پوچھنے چلی گئ، صبا اس کے ساتھ تھی ، واپسی پر راستے میں گاڑی خراب ہوگئ ، ڈرائیور گاڑی کو لے کر چلا گیا تو وہ دونوں پیدل چلنے لگیں ، ہائوسنگ سوسائٹی نئ تھی اس لئے زیادہ لوگ نہیں تھے ، چلتے چلتے اسے یونہی احساس ہوا کہ کوئ پیچھے تھا ، لیکن اس نے نظرانداز کیا، صبا ہاتھ میں کوئ گڑیا اٹھائے ہوئے تھی جو حمنہ نے اسے دی تھی ،

دفعتاً پیچھے سے قدموں کی آواز تیز ہونے لگی ،صبا کا ہاتھ تھامے وہ رکی ، مڑ کر پیچھے دیکھا اور سانس رک گیا

جواد تیزی سے اس کی طرف آرہا تھا ، آنکھوں میں طیش اور چہرے پر غصہ ، اس نے صبا کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما

” تم یہاں کیا کررہے ہو ؟”

جواد نے جواب نہیں دیا ، وہ آگے بڑھا اور قرت کا بازو پکڑ کر اسے زور سے ساتھ کھڑی کار سے لگایا ، صبا کی چیخ نکلی ، گڑیا ہاتھ سے گرگئ

” تمہاری ہمت کیسے ہوئ میرے باپ تک میری شکایت پہچانے کی ؟ “

وہ دھاڑا ، چہرہ سرخ پڑنے لگا ، قرت جو اس کے اس عمل پر ساکت ہوئ تھی یکدم ہوش میں آئ اور اس کا ہاتھ جھٹکا

” مجھے ہاتھ لگانے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئ ؟” آواز اس کی آواز سے زیادہ بلند تھی

” حد میں رہو اپنی ورنہ قسم خدا کی یہیں کھڑے کھڑے تمہارا وہ حشر کروں گا کہ یاد رکھو گی “

وہ اس کے دھکا دینے سے مزید طیش میں آیا تھا ،صبا تھر تھر کانپنے لگی

” حد میں تم رہو جواد ، مجھے ایک بار مزید ہاتھ لگا کر دکھائو، بخدا تمہارا ہاتھ توڑ دوں گی “

جانے اتنی ہمت کہاں سے آئ تھی لیکن اس کے ہاتھ لگانے پر جیسے اس کا جسم آگ میں جلا تھا

” تم اب مجھے دھمکی دو گی ؟ اوقات کیا ہے تمہاری ؟”

” تمہارے سامنے قرت العین کھڑی ہے ، یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں اس بار خود کو مزید رسوا کرنے دوں گی ” اس کا وجود کانپنے لگا ، آواز غراہٹ میں بدل گئ

” بہت ہمت آگئ ہے تم میں ؟ بھولو مت میں کیا کیا کرسکتا ہوں “

اس کی آنکھیں سرد ہونے لگیں

” جو کرسکتے ہو کرکے دکھائو، تمہارے باپ کی غلام نہیں ہوں جسے تم تنگ کروگے اور وہ چپ چاپ بیٹھی رہے گی ، اب مزید ایک بار تم کچھ کہو مجھے اور واللہ میں تمہارا حشر بگاڑ دوں گی “

وہ دھونکنی کی مانند چلتی سانس سے کہہ رہی تھی ،جواد چند لمحے اسے گھورتا رہا ، طیش سے، غصے سے ، اور پھر وہ ایک قدم آگے بڑھا ، قرت کا دل یکدم سکڑا ، اوہ خدایا وہ اکیلی تھی ، ساری ہمت ہوا ہوگئ ، ارگرد کوئ نہیں تھا ، خوف غالب آگیا

” میں نے کہا تھا مجھے دھمکی مت دینا ، سرپھرا بندہ ہوں ، جو کہوگی کر گزروں گا “

وہ سرد مہری سے کہتے آگے کو ہوا ، اس نے بیگ مضبوطی سے تھاما ،وہ مزید قدم آگے ہوا تو وہ اس کے سر پر دے مارے گی ، دل دھک دھک کرنے لگا ، جواد کا ہاتھ اس کے نقاب کی طرف بڑھا اس سے پہلے وہ اسے ہاتھ لگاتا کسی نے یکدم اس کے منہ پر مکا مارا ، وہ کراہ کر پیچھے کو گرا

اس کے ہاتھ سے بیگ چھوٹ گیا، اسے مڑنے کی ضرورت نہیں پڑی ، اس کے پیچھے موجود عیسیٰ آگے بڑھا اور زمین پر گرے جواد کو گریبان سے تھام کر کھڑا کیا

“، تمہارئ ہمت کیسے ہوئ اسے ہاتھ لگانے کی “

وہ شدید غصے میں اس کے منہ پر مکے ماررہا تھا ، جواد نے خود کو چڑھانے کی کوشش کی ، ایک مٹھی زور کی عیسیٰ کے چہرے پر لگی ، وہ نیچے کو جھکا

” عیسیٰ ۔۔۔”

وہ جو صدمے سے وہیں چپک گئ تھی ، آگے بڑھی ، عیسیٰ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ وہ وہیں منجمد ہوگئ ،

جواد اب اپنا منہ کلائ سے صاف کررہا تھا ، اس کے ہونٹوں سے خون نکلنے لگا تھا

” اچھا ہوا جو تم سے ایک بار پھر آمنا سامنا ہوگیا عیسیٰ ، بہت اچھا ہوا ، بہت سے حساب باقی ہیں تم سے ” وہ طیش سے اس کی طرف بڑھا ، عیسیٰ کو گریبان سے تھاما ، اس سے پہلے وہ اسے کچھ کہتا عیسیٰ نے ٹانگ اونچی کرتے اس کے پیٹ میں ماری

” بہت سے حساب اب میری طرف بھی جمع ہیں ” وہ مسلسل غصے سے اس کے پیٹ میں ٹانگ ماررہا تھا ، جواد ادھ موا ہوا

” تمہاری ہمت کیسے ہوئ میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی ؟ ہاں ؟ کیسی ہوئ ؟” دھاڑتے ہوئے اسے گریبان سے تھاما اور ایک مزید مکا اس کے منہ پر مارا ،

” بیوی ؟ قرت میری منگیتر تھی اس سے پہلے “

” نام مت لو اس کا ۔۔”

اس کی آنکھوں میں خون اترا ، پٹخ کر اسے زمین پر پھینکا اور پیچھے گاڑی کی طرف بڑھا ، جواد پیٹ پر ہاتھ رکھے دہرا ہورہا تھا ، عیسیٰ گاڑی سے کچھ نکالتا جواد کی طرف آیا ، قرت کی نظر اس کے ہاتھ پر گئ ، اس نے گن اٹھا رکھی تھی ، اس کا دل دھک سے رہ گیا، فورا عیسیٰ کی طرف بڑھی

” عیسیٰ نہیں ۔۔۔”

اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے روکا ، وہ جو گن اٹھا کر جواد پر تان رہا تھا قرت کو دیکھا

” میرے سامنے سے ہٹ جائیں قرت ، اسے میں زندہ نہیں چھوڑوں گا آج “

اس کی آنکھیں سرخ تھیں، قرت نے سر نفی میں ہلایا

” نہیں عیسیٰ ۔۔ایسا مت کریں پلیز مت کریں “

وہ روتے ہوئے نفی میں سر ہلارہی تھی، چہرہ سفید پڑرہا تھا ، آواز کانپ رہی تھی ، عیسیٰ نے اپنے سینے پر سے اس کا ہاتھ جھٹکا ، وہ جیسے اپنے آپ میں نہیں تھا ، قرت نے اس کا ہاتھ تھاما

” خدا کا واسطہ رک جائیں ، خدا کا واسطہ رک جائیں عیسیٰ”

” قرت ہٹ جائیں ۔۔۔”

” پلیز عیسیٰ ، خدا کا واسطہ ۔۔۔”

اس کے سینے پر ہاتھ رکھے ایک ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا ، عیسیٰ نے اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو کو دیکھا ، اس کا طیش کم ہوا ، وہاں کھڑے کھڑے چند گہرے سانس لئے ، چہرہ اب بھی سرخ تھا ، آنکھیں اس سے زیادہ سرخ تھیں

جواد موقعے کا فائدہ اٹھاتے وہاں سے فورا غائب ہوا تھا

” پلیز عیسیٰ پلیز ۔۔۔” وہ اب بھی اس سے کہہ رہی تھی ، عیسیٰ نے اس کا ہاتھ جھٹکا ، نظر صبا پر گئ جو بے ہوش ہونے کے قریب تھی ، اس نے گہری سانس لیتے اپنا غصہ کم کرنا چاہا ، پسٹل پاکٹ میں ڈالی ، صبا کی طرف بڑھا اور اس کا ہاتھ تھاما

” چلیں یہاں سے ۔۔۔”

قرت کے پاس سے گزرتے ہوئے کاٹ دار نظر اس پر ڈالی ، وہ ہچکی لیتے اس کے پیچھے بڑھی ، بیگ یہیں کہیں گرا تھا ، اسے ڈھونڈا ، عیسیٰ روتی صبا کو چپ کرواتا کار میں بٹھا رہا تھا ، قرت بیگ ڈھونڈ کر آئ اور پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا ، وہ تب تک ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا ، اس کے بیٹھنے پر گاڑی زن سے بڑھائ ، ماتھے کی رگیں پھولی ہوئ تھیں ، چہرہ اب بھی ہلکا ہلکا سرخ تھا ، آنکھوں میں اتنا طیش تھا کہ وہ اس پر دوسری نظر تک نا ڈال سکی

سارا راستہ وہ خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا اور وہ اپنے آنسو پر قابو پاتی رہی ، گھر آکر اس نے پورچ میں گاڑی روکی ، کھٹاک سے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور اندر بڑھ گیا ، قرت دروازہ کھول کر پیچھے بڑھی ، صبا کو باہر نکالا ، اسے پُرسکون کیا اور اندر کچن میں کام کرتی زینت آپا کے حوالے کیا ، مختصراً انہیں بتابھی دیا کہ راستے میں کسی نے ان دونوں کو تنگ کیا تھا تو وہ خوفزدہ ہوگئ تھی

صبا کو ان کے حوالے کرنے کے بعد وہ ڈرتے ڈرتے اوپر کمرے کی طرف بڑھی ، دل کی دھڑکن بڑھ گئ تھی ، عیسیٰ کو آج اس نے پہلی بار اس قدر غصے میں دیکھا تھا اور اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا غصہ اس قدر تیز ہوگا ، جواد کو مارتے ہوئے وہ اس عیسیٰ سے بالکل مختلف لگ رہا تھا جسے وہ جانتی تھی، یوں جیسے اس کے اندر کوئ اور روح آگئ ہو

کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر بڑھی تو عیسیٰ بیڈ پر بیٹھا تھا ، گہرے سانس لیتا وہ اپنے اندر کے غصے کو کم کرنے کی کوشش کررہا تھا ، قرت کو اندر آتا دیکھ وہ اٹھا اور باہر کی طرف جانے لگا جب وہ یکدم اس کے سامنے آئ ، ایک ہاتھ سے اس کی کہنی کو تھاما

” میری بات سنیں عیسیٰ “

وہ رکا اور اسے دیکھا، آنکھوں کی سرخی کچھ اور بڑھی

” ہٹ جائیں قرت ۔۔”

” عیسیٰ پلیز بات سنیں ۔۔۔”

وہ روہانسی ہوئ

” اس وقت کم از کم اس وقت میرے سامنے سے ہٹ جائیں ، میں نہیں چاہتا کہ میں غصے میں آپ کو کچھ بول دوں “

کسی قدر ضبط سے اس سے کہا

” نہیں ۔۔۔آپ پہلے میری بات سنیں “

وہ نفی میں سر ہلانے لگی ، آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے ، عیسیٰ نے اپنی کہنی پر رکھا اس کا ہاتھ ہٹایا

” مجھے اس وقت آپ کے آنسو بھی نرم نہیں کرپائیں گے ، یہاں سے چلی جائیں ” چبا چبا کر کہتے اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا ، وہ نہیں گئ

” پلیزز۔۔”

فائن ” وہ اس کے سامنے سے ہٹتا جھٹکے سے دروازہ کھولتا باہر کی طرف بڑھ گیا ، وہ وہیں پیچھے کھڑی رہ گئ ، دل میں شدید درد سا اٹھنے لگا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ رات تک واپس نہیں آیا ، وہ انتظار کرتی رہی ، کالز بھی کیں لیکن اس نے نہیں اٹھائ ، میسجز کئے جواب نہیں دیا ، زینت آپا دو بار اس سے کھانے کا پوچھنے آئیں اس نے منع کردیا ، بھوک مرگئ تھی ،

شہوار اور حیات دوسرے شہر گئے ہوئے تھے ، کسی فیملی فرینڈ کے ہاں شادی تھی تو شکر وہ یہاں نہیں تھے ، رات بارہ بجے تک وہ واپس نہیں آیا تو وہ نیچے لائونج میں آئ ، ملازمین چلے گئے تھے گھر سائیں سائیں کررہا تھا ، اس کا دل ایک بار پھر بھر آیا

” عیسیٰ پلیز کال اٹھا لیں ” اس کا نمبر ملایا لیکن وہ بند جارہا تھا ، اس کا دل وحشت کا شکار ہونے لگا ، تبھی کار کے ہارن کی آواز آئ ، پھر گاڑی رکنے کی ، چند لمحوں بعد وہ دروازے پر نمودار ہوا ، قرت اٹھ کھڑی ہوئ

” کہاں تھے آپ “

وہ اس کا سوال نظر انداز کرتا اوپر کی طرف بڑھ گیا ، اس کا دل دکھا لیکن آنسو پونچھتے وہ اس کے پیچھے گئ اوپر آئ تو عیسیٰ بیڈ پر بیٹھ کر جوتے اتار رہا تھا ، اسے آتا دیکھ بھی اپنے کام میں مشغول رہا

” کھانا لائوں ؟”

کس قدر ہمت کرکے پوچھا

” نہیں ” آواز سپاٹ تھی

” کافی ۔۔۔؟”

اس کی ہمت جواب دینے لگی

” کچھ نہیں چاہئے مجھے “

جوتے اتار کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے گیا اور گھڑی اتاری، ماتھے پر بل تھے ، اس کے حلق میں آنسو اٹکے ، گھڑی اتار کر وہ وارڈروب کی طرف بڑھا تو وہ فورا سے آگے ہوئ

” میں نکال دیتی ہوں ۔۔”

وہ رک گیا ، قرت نے اس کی چبھتی نظریں نظر انداز کیں ، اندر سے اس کیلئے ایک ٹی شرٹ اور ٹرائوزر نکالا اور اس کی طرف بڑھایا ، وہ یونہی ٹھہرا رہا ، پھر کھلی وارڈروب کی طرف بڑھا اندر سے کھینچ کر سوٹ نکالا اور واش روم کی طرف بڑھ گیا ، اس کا دل چھن سے ٹوٹا ،سوٹ اندر رکھا اور صوفے پر بیٹھتے پائوں اوپر کرلئے ، آنسو تیزی سے بہنے لگے ، عیسیٰ کچھ دیر بعد باہر نکلا تو وہ وہیں بیٹھی تھی ، وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھاتا دروازہ کھولتا باہر بڑھ گیا ، قرت کا دل شدید ترین اذیت میں گھرا ، اتنی اذیت تھی کہ لگتا تھا وہ اس سے مر جائے گی، کیا عیسیٰ اس پر شک کررہا تھا ؟

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

رات کے کس پہر جانے اس کی آنکھ لگی تھی ، صبح سورج کی روشنی پڑنے پر آنکھ کھلی تو کچھ دیر تک کچھ سمجھ ہی نا آئ ،پھر کل کا سارا دن ذہن میں گھوم گیا

” عیسیٰ ۔۔۔۔۔ “

جھٹکے سے اٹھتی وہ باہر کی طرف بڑھی کمبل نہچے گرگیا ، وہ رات صوفے پر ہی سو گئ تھی ، کمبل کس نے ڈالا تھا ؟ عیسیٰ نے ؟ ، کیا وہ رات کمرے میں آیا تھا ؟

سٹڈی کا دروازہ کھولتے وہ اندر آئ تو وہ خالی تھی ، نظر میز پر رکھی ایش ٹرے پر گئ ، وہ راکھ سے بھری ہوئ تھی ، اس کا دل ایک بار پھر دکھ سے بھر گیا ، وہ ساری رات کیا یہاں سگریٹ پیتا رہا تھا ؟کیا وہ واقعی اس پر شک کررہا تھا ؟

لائونج میں واپس آتے ہوئے نظر ڈائننگ ہال پر گئ زینت آپا ٹیبل پر سے برتن اٹھا رہی تھیں

” عیسیٰ کہاں ہیں زینت آپا؟ “

” وہ تو آفس چلے گئے “

چلے گئے ؟ یعنی وہ کمرے میں آیا تھا ؟

” کب گئے ہیں ؟”

” ابھی ابھی ۔۔۔۔ کہہ رہے تھے کہ آپ سورہی ہیں اس لئے نا اٹھائوں ، لیکن اب آپ اٹھ گئ ہیں تو ناشتہ ابھی کریں گی یا بعد میں ؟”

اس نے بنا کچھ کہے سر نفی میں ہلایا ، بھوک کے ساتھ ساتھ اب دل بھی مرنے لگا تھا

پھر وہ پورا دن کمرے میں رہی ، عیسیٰ کو کالز کیں اس نے نہیں اٹھائیں، میسیجز کئے ،اس نے جواب نہیں دیا ، قریب دوپہر میں اس نے آفس کال کی

” جی میم ؟”

” عیسیٰ آفس میں ہیں ؟”

” جی ۔۔۔۔ “

” ان سے بات کروادیں ، ان کا موبائل بند جارہا ہے شاید “

افشاں کچھ دیر انتظار کرنے کا کہہ کر دوسری طرف مصروف ہوگئ پھر کچھ دیر بعد اس کی آواز ابھری

” میم سر کہہ رہے کہ وہ مصروف ہیں تھوڑی دیر بعد آپ کو کال کریں گے “

اس نے کال کاٹ دی ، آنسو پھر سے بہہ نکلے ، مصروف ؟ وہ اس کے لئے تب بھی مصروف نہیں تھا جب وہ اپنی بے تکی باتیں لے کر بیٹھ جاتی تھی ، تب بھی نہیں جب وہ اپنے اہم ترین کام کررہا ہوتا اور وہ اسے اپنی کتابیں خریدنے کے لئے لے جاتی ،تب بھی نہیں جب وہ اس کے آفس گئ تھی ، عیسیٰ حیات قرت العین کے لئے مصروف نہیں ہوتا تھا ، وہ اب بھی نہیں تھا، اب وہ اجنبی بن گیا تھا ، شہوار نے ایک بار اس سے کہا تھا کہ عیسیٰ کی ناراضگی بہت سخت ہوتی ہے ، اسے لگا تھا کہ وہ اس سے ناراض نہیں ہوسکتا ، اب ہوگیا تھا تو ہر منظر سیاہ بن گیا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ رات کو دیر سے واپس آیا تو وہ صوفے پر بیٹھی تھی ، پائوں اوپر کئے ، سامنے گھورتے ہوئے ، چہرہ پرآنسو کے مٹے نشانات تھے ، وہ نظریں چراتا وارڈروب کی طرف بڑھ گیا

” میں نے آپ کو کالز کی تھیں “

پیچھے سے اس کی آواز ابھری ، وہ اسے نظر انداز کرنا چاہتا تھا لیکن اسے انداز ہوا ناراضگی میں بھی وہ یہ کام نہیں کرسکتا تھا

” میٹنگ میں تھا “

” آپ کے آفس کے نمبر پر بھی کی تھی “

” مصروف تھا “

” میسج کئے تھے “

” دیکھے نہیں “

” آپ مجھے نظر انداز کررہے ہیں ؟”

” نہیں “

وہ وارڈروب سے ڈریس نکالتا جانے لگا

” مجھے اتنی اذیت مت دیں عیسیٰ “

پیچھے سے قرت کی بھرائ آواز ابھری تو وہ رکا ، پیچھے پلٹا اور اسے دیکھا

” آپ کی اذیت ؟ اور جو آگ اس وقت میرے سینے میں لگی ہے اس کا کیا ؟”

” مجھے وضاحت تو دینے دیں ایک بار “

بے بسی عود کر آئ ، وہ سوٹ وہیں صوفے پر پٹختا اس کی طرف بڑھا

” کون سی وضاحت دیں گی ؟ “

” جواد ۔۔۔”

” بس ۔۔” وہ ہاتھ اٹھا کر سختی سے گویا ہوا ” میرے سامنے اس گھٹیا انسان کا نام بھی مت لیں ” اس کا غصہ پھر سے بڑھنے لگا

” سن تو لیں ” وہ اٹھ کھڑی ہوئ ،آنکھوں میں آنسو جمع ہوگئے

” جو میں سن کر اپنا ضبط کھودوں اسے نا ہی سنائیں تو اچھا ہے ” وہ دوبارہ پیچھے مڑا جب قرت نے اس کا بازو تھاما

” میرے الفاظ کی اب کوئ وقعت نہیں رہی عیسیٰ ” وہ یکدم طیش میں آتے پلٹا

” وضاحت دینی ہے نا تو دیں ، بتائیں کب سے یہ سب چل رہا ہے ” ، اس کا سانس خشک ہوا ، کیا وہ اس پر شک کررہا تھا ؟

” عیسیٰ ۔۔۔”

اس کا دل ڈوبنے لگا ، عیسیٰ کو اس پر بس اتنا ہی اعتبار تھا ؟ کیا وہ اس پر شک کررہا تھا ؟

” میں سن رہا ہوں قرت بتائیں ، کب سے چل رہا ہے یہ سب ؟” کیا وہ اس پر شک کررہا تھا؟

” آپ کو مجھ پر یقین نہیں ؟”

بے یقینی سے پوچھا

” کررہا ہوں یقین ، بتائیں کب سے یہ سب چل رہا ہے، کب سے وہ آپ کو تنگ کررہا ہے ؟ کب سے بلیک میل کررہا ہے ؟”

اس کے آنسو رک گئے

” بلیک میل ؟” دھیرے سے لبوں سے نکلا

” یہ مت کہئے گا کہ وہ یونہی مل گیا تھا ، بچہ نہیں میں قرت ، سچ سچ بتائیں وہ کب سے آپ کو تنگ کررہا ہے “

اوہ خدایا وہ اس پر شک نہیں کررہا تھا ، وہ صرف جاننا چاہ رہا تھا کہ جواد اسے کب سے تنگ کررہا تھا ، وہ غصہ تھا کیونکہ قرت نے اسے نہیں بتایا تھا کہ جواد اسے تنگ کرتا ہے ، وہ غصہ تھا کیونکہ جواد کا وجود اسے اس کے گرد برداشت نہیں تھا ، وہ اس پر شک نہیں کررہا تھا

” تقریبا ایک مہینے سے ” اس نے بول دیا ، عیسیٰ کی آنکھیں سرخ ہوئیں

” ایک مہینہ ؟ یعنی ایک مہینے سے وہ ۔۔۔وہ آپ کو تنگ کررہا ہے اور آپ نے مجھے بتایا تک نہیں ، کیوں قرت ؟یا اللہ ! ” بے یقینی سے اس کی کہنی تھامی

” میں ڈر گئ تھی عیسیٰ “

” ڈر گئ تھیں ؟ کس سے ڈر گئ تھیں ؟ اس جواد سے ؟ آپ کو لگتا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے وہ آپ کو کوئ نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ آپ کو لگتا ہے میں ایسا ہونے دوں گا ؟” وہ نفی میں سر ہلانے لگی ، آواز گم ہوگئ ، وہ اس پر شک نہیں کررہا تھا

” پھر کس بات کا ڈر ؟ یا آپ کو لگا میں آپ کی حفاظت نہیں کرسکتا ؟ ایسا ہے تو لعنت ہو مجھ پر “

” ایسا نہیں ہے عیسیٰ ۔۔” وہ اس پر شک نہیں کررہا تھا

” تو پھر مجھے کیوں نہیں بتایا ؟” وہ دبی دبی آواز میں چلایا

” میں بس ڈر گئ تھی عیسیٰ “

اس کا ہاتھ تھاما اور آنکھوں سے لگایا ، وہ اس پر شک نہیں کررہا تھا، وہ اس پر شک نہیں کررہا تھا

عیسیٰ کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا ، سارا طیش غائب ہوا ، وہ اس کا ہاتھ آنکھوں سے لگائے رو رہی تھی ، اس کے آنسو ہتھیلی پر گررہے تھے ، اس نے گہری سانس لی ، یعنی اب وہ ناراض بھی نا ہو ؟ یہ اچھا تھا

” قرت ۔۔۔”

” میں ڈر گئ تھی “

” میری بات سنیں “

” میں ڈر گئ تھی عیسیٰ ” عیسیٰ نے ایک ہاتھ سے اس کا سر ہلکا سا اوپر اٹھایا ، بھوری آنکھیں سوجی ہوئ تھیں ، چہرہ لال ہورہا تھا ، اسے بے اختیار افسوس ہوا ، وہ غصے میں جانے کیا کیا بول گیا تھا

” آئ ایم سوری ۔۔۔” ایک ہاتھ سے اس کی کہنی تھامی اور اسے بیڈ پر بٹھایا ” میں غصے میں تھا “

” ہاں آپ صرف غصے میں تھے “

سمجھ کر سر ہلایا ،وہ اس پر شک نہیں کررہا تھا وہ صرف غصے میں تھا کہ جواد اسے تنگ کرتا رہا اور وہ بے خبر رہا ، وہ اس پر شک نہیں کررہا تھا، اور وہ اب بھی رو رہی تھی

” روئیں مت “

” میں نہیں رو رہی ۔۔” ایک ہاتھ سے آنسو صاف کئے دوسرا ہاتھ اب بھی عیسیٰ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا

” پھر آنسو کیوں نکل رہے ہیں؟” وہ بے بس ہوا ، خود پر سو بار لعنت بھیجی ، وہ اس کی وجہ سے روتی رہی

” پتا نہیں کیوں نکل رہے ہیں “

” ان سے کہیں رک جائیں ان کا بہنا مجھے تکلیف دے رہا ہے ” اس کے آنسو مزید تیز ہوئے

” ائ ایم سوری “

” کس لئے ؟”

” مجھے آپ کو بتادینا چاہئے تھا “

” بالکل “

” اور مجھے ڈرنا نہیں چاہئے تھا “

” یقینا ” سر ہلایا

” لیکن میں ڈر گئ تھی “

” نہیں ڈرنا چاہئے تھا “

” آئ ایم سوری عیسیٰ “

آنکھیں مزید بھریں ، اس نے گہری سانس لیتے اس کے چہرے پر سے آنسو صاف کئے

” آئ ایم سوری ٹو ، میں کچھ زیادہ ہی غصہ کرگیا تھا “

” بالکل “

” اور آپ کو ڈانٹا “

” ہاں “

” نہیں ڈانٹنا چاہئے تھا “

” ہاں نہیں ڈانٹنا چاہئے تھا ” پھر وہ رکی اور اسے دیکھا ” آپ نے میرا ہاتھ بھی جھٹکا تھا ” شکایت کی ، عیسیٰ نے لبوں پہ آنے والی مسکراہٹ بمشکل ضبط کی ، اس وقت وہ مسکراتا تو جلتی پر تیل چھڑکنے والی بات ہوتی

” اس کیلئے بھی سوری “

” کوئ بات نہیں ” اس کے آنسو صاف کرکے اس کا ہاتھ تھاما اور سنجیدگی سے اسے دیکھا

” میں نہیں جانتا آپ کس چیز سے ڈر گئ تھیں لیکن آپ آئندہ مجھ سے کچھ نہیں چھپائیں گی قرت ، کم ازکم اتنا تو مجھ پر اعتبار کرلیں ، اور اس جواد کو تو میں دیکھ لوں گا ، آئندہ یہ آپ کے آس پاس بھی نظر آیا تو واللہ اس کی جان لے لوں گا ، اور مجھے ایسے مت دیکھیں میں واقعی اس کی جان لے لوں گا ” قرت نے سر ہلادیا، وہ جانتی تھی وہ اسے نہیں مارے گا

” میں آئندہ کچھ نہیں چھپائوں گی “

عیسیٰ نے بھی سر ہلادیا اور اٹھ کھڑا ہوا

” کھانا ملے گا ؟”

” میں لے کر آتی ہوں ، آپ کی وجہ سے میں نے بھی نہیں کھایا ” وہ شکوہ نہیں تھا بس اطلاع تھی جسے دے کر وہ باہر بڑھ گئ ، اور ان سب میں پہلی بار عیسیٰ کے لبوں پہ مسکراہٹ آئ، بات مسکرانے کی نہیں تھی لیکن اس کا اس طرح اس کی ناراضگی کی پرواہ کرنا اچھا لگا تھا ، سر جھٹکا اور پیچھے پڑا سوٹ اٹھایا ، وہ جب چینج کرکے آیا روم خالی تھا ، وہ صوفے پر بیٹھ گیا

جواد کو وہاں دیکھ کر دماغ کھول اٹھا تھا ، چار سال پہلے کی اذیت ، کیبن میں قرت کو دھکا دیتا جواد ، اسکے سر پر واز مارتا ہوا ، وہ سارے پرانے منظر تازہ ہوگئے ،بیٹھک میں کھڑے ہوکر قرت پر الزام لگاتا ہوا جواد ، اس لمحے اسے وہی سب یاد آیا باقی ہر شے بھول گئ، وہ اس کے سامنے کھڑا تھا ، اس کے نقاب کی طرف اس کا ہاتھ بڑھ رہا تھا ، یہ آخری منظر ہوتا وہ تب بھی یہ نا دیکھنا چاہتا، دماغ کھول اٹھا ، اندر باہر آگ سی بھر گئ ، جو کچھ ان دونوں نے سہا تھا اس کا ذمہ وہ شخص تھا ، اگر قرت بیچ میں نا آتی تو شاید وہ واقعی اسے جان سے مار ڈالتا ، ایک بار اذیت سی اندر بھرنے لگی ، اس نے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا ، لائٹر سے اسے جلانے ہی لگا تھا جب وہ دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئ ، اس کا ہاتھ رکا

قرت کی نظر ٹیبل پر پڑی سگریٹ کی ڈبی پر گئ ، آگے بڑھتے ہوئے اس نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ، پورے حق سے ، عیسیٰ نے گہری سانس لیتے سگریٹ اس کے ہاتھ میں رکھی ، وہ جھکی اور ٹیبل پر پڑی ڈبی اٹھائ

” آپ آئندہ یہ نہیں پئیں گے “

لہجے میں کوئ حق سا تھا ، عیسیٰ کے ہونٹوں کے کنارے پر مسکراہٹ ابھری

” جو حکم مادام “

” وعدہ کریں “

” وعدہ ” وہ ڈبی لئے ڈسٹبن کی طرف بڑھی اور وہ اسے دیکھے گیا

یہ حق اس کے لہجے میں کب آیا تھا ؟

وہ واپس آئ تو عیسیٰ کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ، ٹرے میں سے دو پلیٹیں اٹھائیں اور کھانا نکالا

” آپ کھا لیتیں کھانا “

اسے اب رہ رہ کر اپنے رویے کا افسوس ہورہا تھا

” بھوک مر گئ تھی تب ” زکام زدہ سانس اندر کھینچی، بار بار رونا آرہا تھا ، عیسیٰ نے ایک پلیٹ سائیڈ پر کی اور دوسری اٹھالی ، نوالہ بنایا اور اس کی طرف بڑھایا ، اس نے خاموشی سے کھالیا

” آپ وہاں کیا کرنے آئے تھے ؟”

” ڈرائیور نے کال کی تھی ، گاڑی میں کوئ بڑا مسئلہ تھا تو اس نے مجھے کال کردی میں آپ کو پک کرنے آیا تھا “

وہ ایک نوالہ خود کھاتا دوسرا اس کی طرف بڑھاتا

” ایم سوری مجھے آپ کو بتادینا چاہئے تھا “

” بالکل بتادینا چاہئے تھا اگر میں وہاں نا آتا تو ؟”

” آپ ہمیشہ آجاتے ہیں “

” کبھی نا آسکا پھر ؟”

” پھر میں مر جائوں گی “

عیسیٰ کے ماتھے پر بل پڑے ، وہ ہنس دی ، سر خ ناک اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ ہنستے ہوئے وہ سیدھا اس کے دل میں اتری تھی ، اس نے گہری سانس لیتے رخ پھیر لیا

” آپ آئندہ احتیاط کئے بغیر باہر نہیں جائیں گی ، میں قاری صاحب سے بات کرتا ہوں وہ اسے واپس بلوائیں ورنہ مجھ سے اس معاملے میں کسی رحمدلی کی توقع نا رکھے کوئ “

وہ جواب میں کچھ کہنے لگی لیکن نظر عیسیٰ کے گال پر گئ

” آپ کو چوٹ لگی ہے ؟”

وہ چونکا پھر اپنے گال پر ہاتھ لگایا ، وہاں ہلکی سی جلن تھی، جواد نے شاید مکا مارا تھا

” شاید ، چھوٹی سی چوٹ ہے ۔۔۔” سر جھٹکا جیسے معمولی سی بات ہو ، وہ اٹھی ، دراز سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور اس تک واپس آئ

” چھوٹی چوٹ نظر انداز نہیں کرتے “

بردباری سے کہتے روئ پر دوائ لگائ اور اس کے زخم پر رکھی ، وہ اسے دیکھے گیا ، وہ کب سے اس کی اتنی فکر کرنے لگی تھی ؟، قرت نے دوائ لگائ ، زخم کو صاف کیا اور فرسٹ ایڈ باکس واپس رکھ کر آئ تو عیسی اسے ہی دیکھ رہا تھا

” کیا ہوا ؟”

” کچھ نہیں ۔۔۔”

سر جھٹکا، وہ واپس آکر وہیں بیٹھ گئ ، وہ کھانا کھاتا رہا اسے بھی کھلاتا رہا ، چند بے تکی سی باتیں اور وہ دونوں نارمل ہوتے گئے ، دور اندر وہ دونوں اب بھی کسی بات کو لے کر پریشان تھے کیا یہ دونوں نہیں جانتے تھے

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ان سے دور اسلام آباد کے مڈل کلاس طبقے میں واقعی گھروں میں سے ایک کے سامنے وہ سیاہ گاڑی رکتی نظر آرہی تھی ، گارڈ نے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سیاہ سوٹ میں ملبوس کامران آفندی باہر نکلے

” یہاں رہ رہا ہے وہ ؟”

رخ موڑ کر گارڈ کو دیکھا

” جی سر ، دو دن سے ہم اس کا پیچھا کررہے ہیں یہیں رہ رہا ہے “

وہ ہنکار بھرتے دروازے تک آئے ،ملازم نے دروازہ کھٹکھٹایا ، چند لمحوں بعد قدموں کی آواز ابھری اور پھر دروازہ کھل گیا

” آپ ؟”

وہ سامنے موجود انسان کو دیکھ کر ٹھٹکا تھا

” کیا میرے آنے کی توقع نہیں تھی ؟”

” تھی ۔۔۔ لیکن اتنی جلدی نہیں “

سر جھٹکتے اس نے دروازہ پورا کھول دیا ، کامران صاحب ماتھے پر ناگواری کے بل لئے اندر داخل ہوئے ، چھوٹی سی بیٹھک تھی جس میں دو تین کرسیاں اور ایک طرف صوفہ پڑا تھا

” بیٹھئے “

” میں ٹھیک ہوں”

مقابل نے شانے اچکائے جیسے کہہ رہا ہو جیسے آپ کی مرضی پھر غور سے انہیں دیکھا

” اب آپ وہ بات کریں گے جس کے لئے آئے ہیں ؟”

” بالکل ۔۔۔۔ سیدھا مدعے پر آتا ہوں ، تم چند دن پہلے میرے آفس آئے تھے تو تم نے کہا تھا کہ تم عیسیٰ سے بدلہ لینا چاہتے ہو “

” میں اب بھی اس قول پر قائم ہوں “

” اور اگر میں تمہیں وہ موقع دوں تو ؟”

” کیسا موقع ؟”

وہ چونکا

” جو کام میں تم سے کروانا چاہتا ہوں اس کام کے لئے میرے پاس کئ لوگ تھے ، تم سے بہتر بھی ، تم سے بہترین بھی ،لیکن جس طرح تم یہ کام کرسکتے ہو کوئ دوسرا نہیں کرے گا ، جانتے ہو کیوں ؟”

” کیوں ؟”

کامران آفندی آگے کو ہوئے اور مقابل کی سرد آنکھوں میں دیکھا

” کیونکہ تمہاری جنگ عیسیٰ حیات سے ذاتی ہے ، دوسرے یہ کام معاوضے کے لئے کریں گے ، تم دشمنی کے لئے “

” صحیح سمجھا آپ نے ، بہت سے حساب جمع ہیں عیسیٰ حیات کی طرف ، لیکن آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں جو آپ کو یہاں آنا پڑا ؟”

کامران افندی کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ ابھری

” کیونکہ ہمارا دشمن ایک ہی ہے اس لئے میں چاہتا ہوں اس دشمن کو ہم مل کر ختم کریں “

” کیسے ؟”

” طریقہ میں بتاتا ہوں ، عمل تم کرو “

سامنے کھڑا شخص چند لمحے آنکھیں سکیڑے انہیں دیکھتا رہا پھر اس نے گہری سانس لی

” کیا کرنا ہے ؟”

” عیسیٰ حیات سے اس کی عزیز ترین چیز لے لو “

ان کی آنکھوں میں آگ ابھری

” اور کیا ہے عیسیٰ حیات کی عزیز ترین شے ؟”