Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 3)

Nahal By Fatima Noor 

” اماں ، میرا دوپٹہ نہیں مل رہا “

کمرے میں بکھرے سامان کو اِدھر اُدھر رکھتے ، چیزیں یہاں وہاں پٹختے وہ جھنجھلائ ہوئ لگ رہی تھی

” یا خدایا ! مہر کبھی وقت پر کام بھی کرلیا کرو اپنا ، بڑی بہن کو دیکھا ہے ، سارا سامان پیک کرکے رکھا ہوا ہے اس نے تیاری بھی کرلی ہے، ایک تم ہو سیاپے ہی ختم نہیں ہوتے تمہارے “

” اماں کل یہیں رکھا تھی ۔۔۔” مہر منمنانئ جبکہ اماں اس کی منمناہٹ کو نظرانداز کرتی آگے بڑھیں ، الماری میں چند کپڑے ادھر ادھر کئے اور نیچے سے دوپٹہ نکال کر مہر کے ہاتھ میں تھمایا

” اندھی ہو کر دیکھو گی تو مل گیا تمہیں دوپٹہ ” مہر دپٹہ تھام کر فورا رفو چکر ہوگئ تھی جبکہ اماں باقی سامان کو جوڑنے لگیں

” میں کردوں گی اماں ، آپ ناشتہ دیکھ لیں “

نرمی سے ان کے ہاتھ سے بیڈ پہ بکھرے سوٹ لیتے ہوئے قرت نے دوسرا سامان بھی اٹھانا شروع کردیا وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ گئیں

” کب نکلے گی بس ؟”

” ابا آجائیں تو نکلتے ہیں ، آٹھ بجے روانہ ہونا ہے “

ایک نظر گھڑی پر ڈالی جو سات بجا رہی تھی

” تم یہاں ہو تو تسلی رہتی ہے ، ورنہ مہر کیلئے تو میں پریشان ہوجاتی ہوں “

” چھوٹی سی تو ہے اماں ، ابھی جینے دیں اسے زندگی، سیکھ جائے گی “

مسکرا کر تسلی دیتے ہوئے اس نے مہر کی کتابیں بیگ میں ڈالیں ، وہ چند لمحے خاموش رہیں

” قرۃ العین”

” جی “

” تمہاری تائ آنا چاہ رہی تھیں “

اس کے ہاتھ لمحہ بھر کو تھم گئے

” اچھا “

” میں نے تمہارے جانے کا بتایا تھا انہیں ، ناراض ہونے لگیں ، تمہارے ابا سے کہا بھی تھا لوگ باتیں بنائیں گے لیکن وہ سنیں تو نا ” وہ اسی خاموشی سے کتابیں اندر ڈالتی رہی

” تمہارے ابا سے ابھی بات نہیں کی سوچا پہلے تم سے پوچھ لوں اگر تمہیں کوئ اعتراض ہو تو ” وہ تب بھی خاموش رہی ، نقاب درست کیا اور انہیں دیکھا

” کیا ہم اس موضوع پر میرے واپس آنے کے بعد بات کرسکتے ہیں اماں ،؟ “

سعدیہ نے گہری سانس لی

” تم سوچ لو بیٹا ، ابھی کوئ جلدی نہیں ہے ہمیں ، ” وہ اٹھ کھڑی ہوئیں “میں تمہارے ابا کو دیکھ لوں آتے ہوں گے ” قرت نے بس سرہلادیا ، دل اندر تک اداس ہوگیا تھا

☆☆☆☆☆☆

بیگ نیچے رکھتے ہوئے وہ خود بھی بائیک سے اترے اور قرت کو دیکھا ، وہ نیچے کھڑی مدرسے کی طرف دیکھ رہی تھی جب ابا کے پکارنے پر انہیں دیکھا

” وہاں پہنچ کر میسج کروادینا “

” جی ” اس نے تابعداری سے سر ہلایا

” کوئ مسئلہ ہو تو فورا اپنے باجی کو بتانا ہے ، اور زیادہ مسئلہ ہو تو مجھے کال کروادینا ۔۔۔۔ٹھیک نا ؟” اس نے مسکراہٹ دبائے اب بھی سر ہلادیا

” ہر چیز دھیان سے سننا اور سمجھنا ، اکیلے ادھر ادھر مت جانا ” اب کہ وہ ہنس دی

” ابا ۔۔۔۔چھوٹی بچی نہیں ہوں میں ، بے فکر رہیں “

” میرے لئے تو بچی ہی ہو ، پہلی بار اتنی دور اکیلی جارہی ہو ، فکر تو ہوگی ” وہ شفیق سا مسکرائے

” تو پھر مجھے اپنا خیال رکھنے کا کیوں نہیں کہہ رہے ؟”

” کوئ نحل کو بھی اپنا خیال رکھنے کا کہتا ہے ؟”

” نحل ۔۔۔۔؟”

” نحل، شہد کی مکھی ” انہوں نے مسکرا کر سر ہلایا ” دنیا میں سب زیادہ میٹھا ذائقہ شہد کا ہے ، سب سے میٹھا ذائقہ رکھنے والی نحل اپنے اندر سب سے کڑوا ذہر بھی رکھتی ہے ، جو نحل شہد بناتی ہیں وہ نحل ڈنک مارنا بھی جانتی ہیں ، تم میری شہد کی مکھی ہو ، شہد کی مکھیاں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہیں “

” آپ کی شہد کی مکھی کو دیر ہورہی ہے ، میں چلوں ؟ ” وہ سر آگے کرتی بولی ، نعمان صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا

” خدا کی رحمت میں رہو ” وہ بیگ اٹھاتی ہلکا سا مسکرائ پھر خدا حافظ کہتی آگے کو بڑھ گئ

” اللہ تمہارا شہد ہمیشہ قائم رکھیں “

نعمان صاحب اسے جاتا دیکھ واپس پلٹ گئے

☆☆☆☆☆☆☆

بس میں خاموشی چھائ ہوئ تھی ، کہیں کہیں سے باتوں کی آوازیں یا ہلکی سی سرگوشیاں گونجتیں ، ان سب سے بے نیاز وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی شیشے پر سر ٹکائے بیٹھی تھی ، انہیں نکلے آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا ، ابوبکر اور مہر کی ڈھیروں فرمائشوں ، ابا کی نصیحتوں کے باوجود ذہن میں صرف اماں کی ہی باتیں گونج رہی تھیں

جواد کریم اس کے تایا کا بڑا بیٹا تھا ، بارہ تک پڑھا تھا اور پھر تعلیم چھوڑ دی جانے آج کل کیا کرتا تھا ، اس نے اپنی چند کزنز سے سنا تھا کہ کسی فیکٹری میں جاب کرتا ہے یہ بھی سنا تھا کہ کسی غلط صحبت میں بیٹھتا ہے ، وہ جو بھی کرے اس سے قرت کا تعلق نہیں تھا ، اگر تھا تو وہ تائ نے زبردستی جوڑ رکھا تھا ، بچپن سے ہر جگہ اس کے اور جواد کے رشتے کی بات پھیلادی گئ ، گو نعمان صاحب نے ہاں نہیں کی تھی لیکن پھر بھی سب کو لگتا تھا کہ اس کا رشتہ وہیں ہوگا ، اس نے کبھی اس بات کو اہمیت نہیں دی تھی نا ہی اس بارے میں سوچا تھا ، ایسا نہیں تھا کہ وہ کسی شہزادے کے خواب دیکھا کرتی تھی لیکن اسے بس اتنا چاہئے تھا کہ وہ جس سے شادی کرے وہ کم از کم اسے پردے سے نا روکے لیکن تایا کے گھر میں یہ ناممکن تھا اسے تایا کے گھر کا ماحول پسند نہیں تھا ، ان کے دونوں داماد اکثر وہیں پائے جاتے ، پردے کا تصور ان کی فیملی میں دور دور تک نہیں تھا ، اسے لگتا تھا کہ ابا اس رشتے کیلئے پوچھیں گے تو وہ منع کردے گی ، لیکن نا اس سے کسی نے پوچھا اور نا وہ منع کرسکی کہ بات ہمیشہ آئ گئ ہوجاتی تھی ، لیکن اس بار اس کا اسلام آباد جانا جیسے تائ کو ہضم نہیں ہوا تھا ، سو وہ ارادہ باندھے بیٹھی تھیں کہ اس کی واپسی پر بات پکی کردیں گی ، اور یہ خوف کہیں نا کہیں اسے بھی اذیت سے دوچار کرگیا تھا ، گہری سانس لے کر اس نے نظریں باہر سے ہٹائیں تو ہاتھ میں پڑی تسبیح پر پڑی ، وہ یکدم مسکرادی ، وہ تسبیح اسے عزیز تھی اور عزیز تر تھی ، بے ساختہ تسبیح اٹھا کر اس نے سینے سے لگائ ، دل میں جیسے سکون سا بھرنے لگا

☆☆☆☆☆☆

” میں نیکسٹ منتھ انگلینڈ جارہا ہوں “

چائے تھامتا شہوار کا ہاتھ رکا ، جبکہ حیات صاحب نے بھی چونک کر نظر سامنے بیٹھےعیسیٰ پر ڈالی ، وہ وہی سفید شرٹ اور ٹراؤزر پہنے ہوئے تھاجو رات کو پہن کر سویا تھا ، آنکھوں میں ہلکی ہلکی نیند اب بھی تھی ، وہ ناشتے پر آنے کا تکلف کم ہی کرتا تھا ، یعنی آج اس لئے ناشتے پر تھا کہ یہ اعلان کرنا تھا

” اجازت لے رہے ہو یا بتا رہے ہو ؟” حیات صاحب نے کپ نیچے رکھ دیا

” بتارہا ہوں “

” کس لئے جارہے ہو ؟”

” یونہی۔۔۔۔ ” بے نیازی سے کاندھے اچکائے ، شہوار کا دل دھک سے رہ گیا

” اچانک اس فیصلے کی وجہ پوچھ سکتی ہوں ؟”

” میں یہاں رہ رہ کر تھک گیا ہوں ، سو بورنگ لائف، “

” سارا دن دوستوں کے ساتھ گھومتے ہو ، پھر بھی کہہ رہے ہو بورنگ لائف”

حیات صاحب طنزیہ گویا ہوئے

” اگزیکلی ڈیڈ ، سارا دن دوستوں کے ساتھ گھومنے کے علاوہ یہاں کچھ بھی نہیں ہے “

” تم بزنس جوائن کرلو ڈیڈ کے ساتھ ” شہوار بے چینی سے آگے کو ہوئیں ، یوں جیسے وہ ابھی جارہا ہو اور وہ اسے روک لینا چاہتی ہوں

” well ! i am not interested “

” وہاں کیا کرگے ؟” حیات صاحب نے کپ پیچھے کیا اور اسے دیکھا ، کون سا کھانا کیسا کھانا ، ان دونوں کی بھوک اڑ گئ تھئ جبکہ عیسیٰ آرام سے جوس پی رہا تھا

” میں پچھلے آٹھ سال سے وہیں رہ رہا ہوں ڈیڈ “

” سٹڈی کیلئے ، اب جب سٹڈی کمپلیٹ ہوگئ ہے تو وہاں کیوں جانا ہے ؟”

” میری زندگی وہیں پر ہے ، دوست ، کلاس فیلوز وغیرہ ، اینڈ لیٹ می ٹیل یو ون تھنگ ، میں فیصلہ کرچکا ہوں اور آپ لوگ میرا فیصلہ نہیں بدل سکتے اس لئے یہ ایکسکیوزز، دلائل وغیرہ مت دیں کیونکہ میں ٹکٹ کنفرم کر چکا ہوں ” وہ ہاتھ جھاڑتے اٹھ کھڑا ہوا اور پیچھے شہوار اور حیات صاحب ساکت بیٹھے رہ گئے

☆☆☆☆☆☆

” حسین ترین ” اس کے لبوں سے بے ساختہ نکلا ، وہ لوگ اسلام آباد میں داخل ہوچکے تھے ، اور یوں لگتا تھا جیسے کسی اور دنیا میں داخل ہوگئے ہوں ، گھر سے نکلتے وقت جو بیزاریت اور اداسی چھائ ہوئ تھی وہ سرسبز پہاڑوں ، بل کھاتی سڑکوں ، اور حسین نظاروں کو دیکھ کر لمحوں میں دور ہوئ ،کھڑکی کے پاس بیٹھی لڑکیاں آرام سے جبکہ باقی سب سر نکال کر باہر دیکھ رہی تھیں ، اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی بھی کبھی آگے کبھی پیچھے سے باہر دیکھنے کی کوشش کررہی تھی کچھ دیر تو وہ نظر انداز کرتی رہی پھر اپنی سیٹ سے اٹھ کر اسے وہاں بیٹھنے کی دعوت دے دی ، اور اب کب سے اس وہ ہاتھ کھڑکی پر رکھے مسمرائز سی باہر دیکھ رہی تھی ، اور قرت اسے دیکھتی مسکرارہی تھی ، بعض اوقات دوسروں کو خوش دیکھ کر زیادہ خوشی ہوتی ہے

بس تھوڑی دیر بعد مدرسے پہنچی تو وہ لوگ سامان اتار کر سیدھا اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے ، کیونکہ کافی زیادہ لڑکیاں تھیں اس لئے کچھ ہال میں تھیں جبکہ کچھ کو کمرے دیئے گئے تھے ، خوش قسمتی سے اسے بھی کمرہ مل گیا جو اسے اپنے ہی مدرسے کی تین اور لڑکیوں کے ساتھ شیئر کرنا تھا ، کل سے باقاعدہ تعلیمی سرگرمی کاآغاذ ہو جاتا اور فلحال وہ اتنی تھکی ہوئ تھیں کہ کھانا کھا کر سو گئیں

☆☆☆☆☆☆

” آپ اسے روک کیوں نہیں رہے حیات ؟ ” وہ ہاتھوں پر نائٹ کریم کا مساج کرتے ہوئے سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں حیات صاحب کو دیکھتے ہوئے بولیں، جو کوئ کتاب پڑھ رہے تھے ، شہوار کی بات پر انہوں نے گہری سانس لی, گلاسز اتاریں اور بک سائیڈ پر رکھ دی

” کس حق سے منع کروں “

” بیٹا ہے وہ ہمارا حق رکھتے ہیں ہم اس پر ” وہ قدرے خفا سی پلٹ کر بولیں

” جانتی ہو شہوار مجھے لگتا ہے ہم نے عیسیٰ پر سے اپنا حق کھودیا ہے، جب ہم اپنے فرض صحیح سے ادا نہیں کرسکے ، تو اپنے حق کیسے وصول کریں؟ ” وہ تلخی سے مسکرائے

” ٹھیک ہے میں مانتی ہوں کہ ہم اسے بچپن میں وقت نہیں دے سکے ، بہت سے ماں باپ نہیں دے سکتے ، لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ وہ اس کی سزا ہمیں اس طرح دے “

” ان بہت سے ماں باپ کی اولاد اکلوتی نہیں ہوتی ہوگی شہوار ، وہ اکلوتا تھا ،لیکن ہم دونوں نے اپنی زندگی میں مصروف ہوکر اسے اکیلا بھی کردیا ، وہ ہمیں ہمارے بڑھاپے میں تنہا چھوڑ کر جارہاہے کیونکہ ہم اس کے بچپن میں اس کے ساتھ نہیں تھے “

” حیات….. ” وہ قدرے دکھ سے کہتے ہوئے ان کے سامنے آ بیٹھیں ” ایسے مت کہیں ، اسے روکیں کسی طرح ، ہم نے بچپن میں اسے دور کیا تھا وہ بچپن کی سزائیں بڑھاپے میں کیوں دے رہا ہے ؟ ” وہ ان کے سامنے رو دیں ، حیات صاحب نے زندگی میں بہت کم انہیں روتے دیکھا تھا، انہوں نے زندگی میں بہت کم خود کو بے بس پایا تھا ، لیکن اب انہیں لگنے لگا کہ یہ آنسو اور بے بسی اکثر ان کے ساتھ رہنے والے ہیں