Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 40)

Nahal By Fatima Noor 

وہ دروازہ بند کرتے ہوئے پلٹا ہی تھا جب نظر صوفیہ پر گئ ، وہ کسی سے کال پر بات کرتی ہوئ کاریڈور میں چل رہی تھی ، یہاں سے وہاں ،وہاں سے یہاں ،کسی پینڈولیم کی طرح ، وہ جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا اس تک آیا ، اس کے بالکل سامنے دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ، پائوں قینچی کی صورت رکھ لئے ، صوفیہ اسے دیکھتی اختتامی کلمات کہنے لگی

” تم عیسیٰ سے نہیں ملیں ؟”

وہ فون بند کر چکی تو وہ پوچھنے لگا

” گئ تھی ملنے ، وہ سو رہا تھا “

” تم اسی وقت کیوں گئیں جب وہ سو رہا تھا ؟”

وہ کچھ خاموش ہوگئ پھر ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھی

” میں اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی “

” وجہ ؟”

” ہمارے بیچ تعلقات ٹھیک نہیں چل رہے “

زین دیوار سے ہٹتا اس کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھا

” تم دونوں کے بیچ تعلقات تھے ؟”

” میں دوستی کا کہہ رہی ہوں “

اسے گھورا

” ٹھیک ٹھیک۔۔۔۔۔ “

وہ سمجھ کر سر ہلا گیا ، چند لمحے وہ دونوں خاموش رہے

” وہ مجھے معاف کردے گا ؟”

زین نے رخ موڑ کر اسے دیکھا

” کس لئے ؟”

” میں اسے اور قرت کو کافی تنگ کرتی رہی ، میں نے عیسیٰ کو بہت ہرٹ کیا ہے “

” یہ اچھا ہے ۔۔۔” وہ بد مزہ ہوا ” ہر کسی کو عیسیٰ سے معافی مانگنے کی پڑی ہے ، تم لوگوں نے کبھی میرا دل نہیں دکھایا ؟ “

” میں سریس ہوں زین”

وہ واقعی سنجیدہ لگ رہی تھی ، اسے بھی سنجیدہ ہونا پڑا

” معافی مانگ لو وہ معاف کردے گا “

” کیا یہ اتنا آسان ہے ؟”

” مشکل بھی نہیں “

اس نے ہونٹ کانٹے ،زین کو محسوس ہوا وہ آنسو ضبط کرنے کی کوشش کررہی تھی

” تم مجھ سے کہہ سکتی ہو صوفیہ “

اس کے لہجے میں نرمی گھل گئ ، صوفیہ نے جھپکتی نظریں اس کی طرف موڑیں ، چند لمحے وہ اسے دیکھتی رہی ،آنسو بہہ نکلے

” میں اس سے محبت کرتی تھی زین “

” جانتا ہوں “

” اب بھی کرتی ہوں “

” یہ بھی جانتا ہوں “

” آگے بھی کرتی رہوں گی “

” اس کا مجھے یقین نہیں “

” مجھے ہے ، محبت اچھی چیز ہے لیکن تب تک جب تک محبوب مل جائے ، جیسے عیسیٰ کو مل گیا ، محبت بری چیز ہے ، تب تک جب تک محبوب نا ملے ، جیسے مجھے نہیں ملا “

” تم غلط خواہش کررہی تھیں صوفیہ “

اسے اس لڑکی کے لئے دکھ ہوا

” غلط تو نہیں تھی ، غلط انسان کے لئے کرلی تھی ، محبت پر اختیار نہیں ہوتا ، میرا بھی نہیں تھا ، محبت کے بعد جو کریں اس پر اختیار ہوتا ہے ،میرا اس پر بھی نہیں رہا “

” شاید تمہیں اس سے دکھ پہنچے لیکن عیسیٰ کبھی تم سے شادی نا کرتا ، اسے قرت ملتی یا نا لیکن اس کی زندگی میں تمہاری جگہ نہیں تھی “

” مجھے دکھ پہنچا ہے ، لیکن میں نے یہ بات جان لی ہے , ایک بات بتائو زین “

وہ آنسو صاف کرتی اس پر نگاہیں جمائے پوچھنے لگی ، زین نے سر کو خم دیا

” قرت سے محبت کیوں ہوئ اسے ؟ مجھ سے کیوں نہیں ؟ اس نے کہا تھا کہ اسے قرت کی آنکھوں سے محبت ہوئ تھی ، ہم دونوں کی آنکھیں ایک جیسی ہیں ، پھر قرت العین کی ہی آنکھیں کیوں ؟ صوفیہ مہران کی کیوں نہیں ؟”

زین کو جواب دینے میں دقت ہوئ ، پھر وہ کھنکھارا

” تم اس کی زندگی میں دیر سے آئیں ، نہیں میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پہلے آتیں تو اسے تم سے محبت ہوجاتی ، لیکن تم نے اس کی زندگی میں آنے میں دیر کردی ، وہ اس سے پہلے ہی کسی اور پر دل ہار چکا تھا “

” کیوں زین ؟ وہی تو پوچھ رہی ہوں میں کیوں نہیں؟”

وہ وہ عورت تھی جسے محبوب نہیں ملا تھا ، وہ وہ شخص تھا جس نے کبھی محبت نہیں کی تھی ، جس نے محبت نا کی ہو وہ محبوب کے نا ملنے کا غم نہیں سمجھ سکتا ،وہ بھی نہیں سمجھ سکتا تھا

” یہ قسمت تھی “

وہ اتنا ہی کہہ سکا

” مجھے اس قسمت سے شکوہ ہے “

” تم صبر کرلو صوفیہ “

” مجھے اس صبر کا طریقہ بتادو جو محبوب کے نا ملنے پر کیا جاتا ہے “

” تم دعا کرلو”

وہ بے ساختہ کہہ گیا ، صوفیہ نے رک کر اسے دیکھا

” دعا ؟”

” دعا۔۔۔۔۔۔ میرا دل کرتا ہے اب ہر شخص کو پکڑ کر بتائو کہ دعا کیوں ضروری ہے ، دعا معجزے کرتی ہے ،میرا دل کرتا ہے انہیں دکھائوں کہ دیکھو عیسیٰ نے قرت العین کے ملنے کی دعا کی تھی وہ اسے مل گئ ، قرت العین نے عیسیٰ کی زندگی کی دعا کی تھی ،وہ زندہ ہے ، تم دعا کرو صوفیہ ، میں بہت مذہبی نہیں ہوں لیکن میں نے دعا کی تاثیر دیکھی ہے “

” کیا دعا کروں ؟”

اسے دعائوں کا بھی پوچھنا پڑرہا تھا ۔۔۔۔ آہ محبت !

” یہ کہ عیسیٰ کی محبت تمہارے دل سے چلی جائے “

اس نے محبت کے ملنے کی دعا کرنے والوں کو دیکھا تھا ، وہ محبت نا ملنے پر دعا کرنے والے کو دیکھنا چاہتا تھا

” کیا ایسے اس کی محبت مٹ جائے گی ؟”

” شاید مٹ جائے ، شاید تمہیں صبر آجائے “

” عیسیٰ نے صبر کیا تھا ؟”

وہ جو محبت کرنے والے ہوتے ہیں وہ ہر بات میں محبوب کا زکر لے آتے ہیں

” چار سال اس نے اور کیا کیا تھا ؟” وہ ہلکا سا مسکرایا ” صبر اور دعا ، وہ کبھی قرت العین کو نہیں بھول پایا ، وہ آگے بھی نا بھول پاتا سو اس نے اس کے مل جانے کی دعا کی ، تمہیں کبھی عیسیٰ نہیں مل پائے گا ، سو تم اس کی محبت بھلانے کی دعا کرو ، جب تک اسے بھلانے کی کوشش نہیں کروگی اسے بھلا نہیں پائو گی “

عیسیٰ یہاں ہوتا تو وہ حیران ہوتا ، زین اور ایسی باتیں ؟

” جن محبتوں کو کوشش کرکے بھلانا پڑے وہ محبتیں کبھی نہیں بھلائ جاسکتیں “

زین کی ایسی باتوں کا صوفیہ پر کوئ اثر نہیں ہوا تھا ، وہ اندر ہی اندر جھنجھلایا

” تم بنا کوشش کئے بھلا دو “

” کوشش نہیں کروں گی تو بھولے گا کیسے ؟”

لو جی ، جھنجھلاہٹ اب چہرے پر آ گئ ، شکر عیسیٰ وہاں نہیں تھا ، شکر صوفیہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی، ورنہ وہ اس کی جھنجھلاہٹ دیکھ لیتی ، وہ اپنے بیگ کو کھرچ رہی تھی ، زین کے کچھ نا کہنے پر سر اٹھا کر اسے دیکھا

” تم مزید کچھ نہیں کہوگے ؟”

‘ جب تم پر اثر ہی نہیں ہورہا تو کیا کہوں ؟”

” مجھ پر اب کچھ اثر نہیں کرے گا ” وہ بیگ سنبھالتی اٹھی ” مجھے خود ہی خود کو سنبھالنا پڑے گا ،تمہارا شکریہ “

وہ ہیل کی ٹک ٹک کے ساتھ وہاں سے چلی گئ ، اس کی ہیل کی ٹک ٹک کتنی ہی دیر تک اس کے اردگرد گونجتی رہی

خدا کی پناہ محبت سے !

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اگر وہ دروازہ کھولنے میں لمحہ بھر کی جلدی کرتا تو شاید وہ فون کھڑاک سے اس کے ماتھے پر جا کر لگتا ، لمحہ بھر کا کھیل حمزہ آفندی کی پیشانی بچا گیا

” کیوں موبائل پر غصہ نکال رہے ہیں ؟”

وہ نیچے پڑے موبائل کو افسوس سے دیکھتا اپنے باپ تک آیا

” کیا تمہارے پاس کچھ اور ہے جس پر غصہ نکال سکوں ؟ اپنی گردن پیش کرسکتے ہو ؟”

وہ دھاڑے ،حمزہ کے ماتھے پر بل پڑے ،لیکن اسے تحمل کا مظاہرہ کرنا تھا

” آپ تو یوں رئیکٹ کررہے ہیں جیسے عیسیٰ کے مرنے سے ہمیں بہت فائدہ ہوجاتا “

وہ کرسی کھینچتے اس پر بیٹھ گیا

” اس کے زندہ رہنے سے جتنا نقصان ہوگا ،اس کا تمہیں اندازہ نہیں ہے “

ان کا چہرہ چار دن سے غیض و غضب کی عملی تصویر بنا ہوا تھا

” آپ کو بجائے دوسروں کو لائن سے ہٹانے کے اپنی لائن پر توجہ دینی چاہئے “

” اپنے باپ کو مت سکھائو “

حمزہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر رہ گیا ، کامران آفندی اب اپنے دوسرے موبائل سے کسی کو کال ملا رہے تھے

” ہیلو ؟”

وہ رک کر دوسری جانب کچھ سنتے رہے

” میری بات سنو ، اگر پولیس کے سامنے میرا نام آیا تو میں یہاں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ،تم جانتے نہیں ہو مجھے”

حمزہ نے چونک کر سر اٹھایا

” میری بلا سے جو کرنا ہے کرو ، میرا نام نہیں آنا چاہئے “

انہوں نے کھڑاک سے کال کاٹ کر فون پٹخا

” آپ کا نام کیوں آئے گا ؟”

پیشانی کو مسلتے ان کے ہاتھ رکے ، نظر حمزہ پر ڈالی جو مشکوک نظروں سے انہیں گھور رہا تھا

” کچھ نہیں ،جائو تم یہاں سے “

انہوں نے ہاتھ جھلایا ،وہ نہیں گیا

” عیسیٰ پر حملہ آپ نے کروایا ہے ؟”

اس کے سوالیہ لہجے میں یقین تھا ، وہ جیسے اپنے باپ کو جانتا تھا

” دماغ مت خراب کرو حمزہ “

” سچ بتائیں پاپا”

کامران آفندی رکے،چند لمحے اسے دیکھتے رہے پھر میز پر ہاتھ رکھے آگے کو ہوئے

” ہاں ،میں نے ہی کروایا ہے ، اب ؟ پولیس کو بتائو گے ؟ بولو ۔۔گرفتار کروانا ہے مجھے ؟”

طیش سے پھنکارتے سامنے بیٹھے حمزہ سے کہا تو وہ لمحے بھر کو ساکت رہ گیا

” پاپا ۔۔۔۔”

” میں نے ہی کروایا ہے حملہ حمزہ ، میں مارنا چاہتا تھا اسے ، اور کچھ ؟”

” یہ کیا کیا آپ نے ؟”

وہ ششدر تھا ،اسے لگا تھا زیادہ سے زیادہ وہ بزنس میں نقصان پہنچائیں گے لیکن اس حد تک ؟

” جو صحیح تھا وہی کیا ، آئندہ بھی کروں گا ، دوبارہ کروں گا ، سو بار کروں گا “

ان کا چہرہ وحشت ناک ہوگیا ، ظالمانہ حد تک سفاک ،حمزہ کچھ سنبھلا

” اوکے ، آپ ،، آپ کی مرضی ،لیکن اب ؟”

اسے چند لمحے یقین کرنے میں لگ گئے ، وہ اپنے باپ سے ہر شے کی امید رکھ سکتا تھا ،اس شے کی نہیں

” اب کیا ؟ کسی کو نہیں معلوم کہ یہ میں نے کیا ہے ، پولیس کے بقول جس نے حملہ کیا تھا پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ہے ،ہمارا نام نہیں آئے گا “

وہ کہنا چاہتا تھا” آپ کا “

وہ اس سب میں ملوث نہیں تھا لیکن اس وقت اپنے باپ سے بحث شیر کی کھچار میں ہاتھ ڈالنے جیسی تھی ،کامران آفندی اب کسی کو کال ملارہے تھے

” گاڑی نکالو۔۔۔آرہے ہیں ہم “

کال کاٹ کر انہوں نے خاموش بیٹھے حمزہ کو دیکھا

” چلو ، عیسیٰ کی خیریت دریافت کرنے جانا ہے ہم نے “

کرسی پر رکھا کوٹ اٹھاتے ہوئے حمزہ سے کہا تو اس نے ابرو اچکائے

” قتل کی کوشش کے بعد اس کی خیریت دریافت کرنے جارہے ہیں ؟”

” میری بات سنو حمزہ ، ۔۔۔” وہ اس تک آتے سختی سے پھنکارے ” یہ بات اس آفس سے باہر نکلی تو میں تمہارا حشر بگاڑدوں گا ، تم نے میرے منہ سے سنا ، کانوں سے نکال دیا ، بات ختم ، اٹھو اب “

وہ سر ہلاتا چاروناچار اٹھ کھڑا ہوا، کامران آفندی باہر جارہے تھے

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

پانی لے کر ٹیبلٹ حلق سے نگلتے ہوئے اس کی نظر قرت پر گئ جو سامنے رکھے صوفے پر بیٹھی تھی ، اس نے زندگی میں اس سے زیادہ زرد اور اداس چہرہ آج تک کسی کا نہیں دیکھا تھا ، اسے یہ یقین کرنے میں مشکل تھی کہ یہ چہرہ اس کی وجہ سے زرد تھا

” ڈاکٹر نے کیا کہا ہے ؟ کب تک ڈسچارج کریں گے ؟”

” کہہ رہے ہیں کہ دو دن تک کردیں گے “

اس کے چہرے پر اکتاہٹ ابھری

” میں ٹھیک ہوں اب ، خواہمخواہ یہاں رکھا ہوا ہے “

وہ ایک ہی جگہ پابند رہنے والا انسان نہیں تھا ، اور اب چار دن سے یوں بیڈ پر پڑے پڑے اکتا گیا تھا

اس نے جواباً کچھ نہیں کہا وہ خاموشی سے پھل کاٹتی نیچے دیکھ رہی تھی اور وہ اسے ، وہ یوں ہوگئ تھی جیسے شادی کے شروع دنوں میں ہوتی تھی ، وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ اس قدر بے نیازی کا مظاہرہ کیوں کررہی تھی ؟ یہ لاتعلقی کیوں ؟ لیکن پچھلے کئ دن سے روز کوئ نا کوئ ملنے آرہا تھا ، نا وہ میسر تھی نا وہ پوچھ سکا ، دروازے پر ہونے والی دستک نے اس کے خیالوں کو روکا

” کیا ہم اندر آسکتے ہیں ؟”

وہ اس آواز کو پہچانتا تھا ، چہرے پر ناگواری آئ ،پھر قرت کو دیکھا

” پردہ کرلیں۔۔۔۔”

وہ اس کے کہنے سے پہلے ہی اپنا نقاب درست کررہی تھی ، دستانے ساتھ بیگ میں رکھے تھے وہ پہنے اور پلیٹس اٹھا کر میز پر رکھ دیں

” آجائیں ۔۔۔۔۔”

دروازہ کھلا ، کھلے دروازے سے مسکراتے ہوئے کامران آفندی اور اکتاہٹ بھرا چہرہ لئے حمزہ اندر داخل ہوئے ، ساتھ موجود ملازم نے پھول اٹھا رکھے تھے ، اس کے ہاتھ سے پھول لیتے انہوں نے عیسیٰ کی طرف بڑھائے تو وہ زبردستی مسکراتا تھام گیا

” شکریہ ….”

” طبیعت کیسی ہے اب برخوردار ؟”

اس نے شانے اچکائے ” میں کافی ڈھیٹ واقع ہوا ہوں تو اتنی جلدی دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع نہیں دوں گا “

کامران صاحب اسی طرح مسکراتے رہے البتہ حمزہ کا چہرہ تنائو کا شکار ہوا

” تمہیں بہت سے لوگوں کی دعائوں نے بچا لیا “

اس کی نظر قرت پر گئ

” بالکل….. دعائوں نے ہی بچالیا “

حمزہ جو کچھ بے زاری سے عیسیٰ کو دیکھ رہا تھا اس کی نظر مڑنے پر سامنے دیکھا ،سیاہ نقاب ،سیاہ عبایا ، سیاہ دستانے پہنے کوئ لڑکی جس کی صرف جھکی آنکھیں نظر آتی تھیں ، اس کے ابرو بے ساختہ کھڑے ہوئے

یہ کون تھی ؟

” یقیناً ۔۔۔۔۔” کامران آفندی اب دائیں طرف رکھے دوسرے صوفے پر جابیٹھے تھے ” گولی کس نے چلائ تھی ؟”

قرت کے گلے میں گلٹی ابھری

” میں نہیں جانتا “

” تم نے اس انسان کا نام بھی نہیں جاننا چاہا جو تمہیں مارنا چاہتا تھا ؟”

وہ مسکرائے

” میں اس رب کو جانتا ہوں جس نے مجھے بچایا ہے، مارنے والا اہم نہیں لگا “

وہ بے نیاز تھا ، نظر حمزہ پر گئ وہ سامنے دیکھ رہا تھا ، عیسیٰ نے رخ موڑ کر سامنے دیکھا ،جبڑے بھینچ گئے ، آنکھوں میں صاف ناگواری ابھری

” قرت۔۔۔۔۔۔”

وہ چونکی

” جی ؟”

” آپ باہر چلی جائیں “

آواز میں صاف ناگواری اور سختی تھی ، وہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی ، نظر دونوں مہمانوں پر گئ پھر پلیٹ وہیں رکھتی باہر بڑھ گئ ، حمزہ کے چہرے پر خفت ابھری

” یہ تمہاری بیوی تھی ؟”

” جی ۔۔۔۔”

کامران صاحب کو جواب دے کر کڑی نظر حمزہ پر ڈالی جو اب کھسیا کر کامران صاحب کے ساتھ بیٹھ رہا تھا

” تم سے یہ امید نہیں تھی کہ کسی مذہبی لڑکی سے شادی کروگے “

” یہ میرا ذاتی معاملہ ہے کامران صاحب “

اس کی اکتاہٹ چڑچڑے پن میں تبدیل ہونے لگی ، درد ، بے زاری ، قرت کی لاتعلقی ، حمزہ کی نظریں ، بیک وقت ہر احساس نے اردگرد دستک دی

” آفکورس۔۔۔۔۔”

وہ شانے اچکا گئے ، نظریں غور سے عیسیٰ کو دیکھ رہی تھیں ، جیسے وہ کھوج رہے تھے کہ وہ لاپرواہ ہونے کا ڈرامہ کررہا تھا یا سچ میں لاپرواہ تھا

” تم واقعی نہیں جانتے تم پر حملہ کس نے کروایا تھا ؟”

کامران صاحب نے کھا جانے والی نظروں سے حمزہ کو دیکھا ، عیسیٰ نے بے نیازی سے شانے اچکائے

” آپ کا شکریہ توجہ دلانے کے لئے ،میں زین سے پوچھ لوں گا “

” جس نے بھی کیا ہے اسے سخت سزا ملنی چاہئے “

حمزہ پر سے نگاہیں ہٹا کر عیسیٰ کو دیکھتے کہا

” یقیناً ملے گی کامران صاحب ، انہیں علم ہوجائے گا کہ عیسیٰ حیات پر حملہ کروانا کیسا ہے “

کامران صاحب اسی طرح مسکراتے رہے جبکہ حمزہ کے گلے میں گلٹی ابھری ، وہ باقی سارا وقت خاموش رہا ، بنا کچھ بولے

کچھ دیر بعد وہ لوگ چلے گئے تو عیسیٰ نے تھک کر تکیے پر سر رکھا ، عجیب بے زاریت چھا رہی تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

پھر اگلے دو دن تک وہ اسے نظر نا آئ ، ہوسپٹل میں مام اس سے ملنے آتی رہیں ، ڈیڈ ،زین ، باقی سب اور صوفیہ بھی لیکن قرت دوبارہ نظر نا آئ ، وہ حیران تھا کہ اسے کیا ہوا تھا

صوفیہ اس سے ملنے آئ تو وہ پرسکون تھی

” تمہیں کیا آخری طریقہ یہی ملا تھا اپنی اہمیت بتانے کا ؟”

” مجھے اپنی اہمت پہلے ہی معلوم ہے “

وہ بس ہلکا سا مسکرایا

” یقیناً ہے ۔۔اس لئے سوچا سب کو مزید پریشان کیا جائے “

” تمہیں لگتا ہے میں زین کی طرح ہوں ؟”

ابرو اچکائے استفسار کیا تو صوفیہ کے پیچھے کھڑا زین تلملایا

” زیادہ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے “

” دو تین مہینے پرانی بات ہے زین”

” دو مہینے ماضی میں آتے ہیں “

” ماضی قریب میں ….”

صوفیہ مسکراتے ہوئے ان کی نوک جھونک سنتی رہی پھر اس نے ہاتھ کھڑا کیا

” خاموش ! ، مجھے کہنے دو گے کچھ ؟”

” تم نے کیا کہنا ہے ؟”

زین اس طعنے پر سیخ پا ہوا تھا، عیسیٰ اسے تپانے والے انداز میں مسکرا رہا تھا

” کہنا ہے اور اب تم دونوں کچھ نہیں بولو گے ” انگلی اٹھا کر وارن کیا تو وہ دونوں سعادت مندی سے سر ہلاگئے، وہ گہری سانس لیتے آگے کو ہوئ

” زین ٹھیک کہہ رہا ہے عیسیٰ ۔۔ماضی میں جینے کا فائدہ نہیں ہے ، یہ بات پچھلے ایک ہفتے میں مجھے بہت اچھے سے سمجھ آگئ ہے ،پلیز کچھ مت کہنا ” وہ کچھ کہنے لگا تو اس نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا ، وہ خاموش ہوگیا

” مجھے لگا تھا کہ مجھ سے زیادہ تم سے کوئ محبت نہیں کرسکتا ، میری محبت تمہاری قرت سے محبت سے زیادہ ہے ، قرت کی تمہارے لئے محبت کو میں نے شمار ہی نہیں کیا تھا، مجھے لگتا تھا اسی کی طرف سے تمہارے لئے محبت کا تعلق رہا ہی نہیں، سو میں اپنی محبت کا مقابلہ تمہاری محبت سے کرتی رہی ، غلط کرتی رہی ” اس کی آنکھیں نم ہوئیں لیکن آنسو نیچے نہیں گرے ، عیسیٰ بس خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا

” جب تم زخمی تھے اور یہاں آپریشن تھیٹر میں تھے تب میں ہوسپٹل آئ ، قرت یہاں نہیں تھی ، ڈاکٹر کہہ رہے تھے تمہارا بچنا مشکل ہے ، مجھے لگا مجھے تمہارے لئے دعا کروانی چاہئے ، میں جارہی تھی جب قرت پر نظر پڑی، میں نے اس سے پوچھا وہ کہاں گئ تھی تو وہ کہنے لگی تمہارے لئے شفا لانے گئ تھی، وہ دعا کرکے پہلے ہی تمہاری شفا لے آئ تھی ، مجھے تب بھی دیر ہوگئ ، میں شاید ہمیشہ دیر کردیتی ہوں ” وہ کرب سے ہنسی ” جب ڈاکٹر نے بتایا کہ تم ٹھیک ہو سب تمہیں دیکھنے گئے ،وہ اپنے رب کے پاس گئ ، وہ شفا لائ تھی تو شکر واجب تھا ، مجھے مذہبی لوگوں سے ڈر لگتا ہے عیسیٰ وہ اللہ سے اپنے پسندیدہ لوگ لے لیتے ہیں ، قرت نے بھی تمہیں لے لیا ، مجھ سے بھی موت سے بھی ” وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوگئ ، آنسو آنکھوں سے گرنے لگے

” صوفیہ۔۔۔” عیسیٰ نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس نے اس کی بات کاٹ دی

” میں تم سے دستبردار ہوتی ہوں عیسیٰ ، میں نے جانا کہ میری محبت تمہاری قرت کیلئے اور قرت کی تمہارے لئے محبت سے کہیں زیادہ کم ہے ، میں تمہارا دعویٰ کس حق سے کروں پھر ؟ قرت العین کو عیسیٰ حیات اور عیسیٰ حیات کو قرت العین مبارک ہو ، صوفیہ مہران خود کو اس داستان سے خارج کرتی ہے ، میں تم دونوں کی کسی داستان کا حصہ نہیں رہنا چاہتی “

بلآخر وہ خاموش ہوگی ، زین کے چہرے پر پھیکی سی مسکان ابھری ، عیسیٰ نے گہری سانس لی

” آئ ایم سوری صوفیہ ، میں جانتا ہوں تمہیں تکلیف پہنچی ہے لیکن میں یہ نہیں چاہتا تھا “

” سوری قبول کیا ۔۔۔لیکن تم سے ایک آخری خواہش کا اظہار کرسکتی ہوں ؟” وہ قدرے جھجکی ، عیسیٰ نے سر ہلایا

” کیا ہم دوست رہ سکتے ہیں؟ صرف دوست؟ “

” آاا۔۔۔۔ کیوں نہیں ” مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تو وہ بھی مسکرادی

” تھینکیو ۔۔۔ میں چلتی ہوں زین کو شاید تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے “

وہ اٹھی اور زین کو دیکھا

” نہیں تو “

” سچ میں ؟ پھر تم بار بار گھڑی دیکھ کر میرے جانے کا انتظار کیوں کررہے ہو ؟”

ابرو اچکائے تو وہ شرمندہ ہوگیا

” وہ تو۔۔۔۔۔۔ “

” اٹس اوکے اے سی صاحب ، آپ کب سے شرمندہ ہونے لگے ؟”

اس نے بات کو مزاق میں اڑایا تو وہ ہنس دہا

” never mind !”

عیسیٰ خاموش تھا ، صوفیہ چلی گئ تو وہ زین کی طرف متوجہ ہوا

” کیا ضروری بات کرنی ہے ؟”

” یعنی تمہیں بھی لگتا ہے کہ میں صوفیہ کے جانے کا انتظار کررہا تھا ؟”

” مجھے لگتا نہیں یقین ہے”

وہ سکون سے بولا تو زین کی بولتی بند ہوئ پھر اس نے ڈھٹائ سے شانے اچکائے

” یہ سچ ہے “

” اب بولو بھی کیا کہنا تھا ؟” اس نے بند دروازے کو دیکھا پھر اسے

” تم جانتے ہو تم پر گولی کس نے چلائ تھی ؟”

” کس نے چلائ تھی؟”

وہ آگے کو ہوا ، زین چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر گہری سانس لی

” جواد ۔۔۔”

پل بھر کو وہاں سناٹا چھایا

” جواد کریم ؟ قرت کا کزن جواد ؟”

وہ بے یقین تھا

” ہاں ۔۔۔”

عیسیٰ چند لمحے کچھ کہہ نا سکا

” مجھے اس سے یہ امید نہیں تھی “

اس نے سر جھٹکا پھر چونکا

” قرت کو یہ بات معلوم ہے ؟”

” ظاہر ہے ۔۔۔”

اور اسے لمحوں میں سمجھ آیا کہ وہ اس کے ہوش میں آنے کے بعد سے اس سے ملنے سے کیوں کترا رہی تھی ، وہ گلٹی فیل کررہی تھی کیونکہ عیسیٰ کو گولی لگنے کا ذمہ دار وہ کہیں نا کہیں خود کو سمجھ رہی تھی ، جواد اس کا کزن تھا اور یقیناً وہ اسی وجہ سے اس کا سامنا نہیں کررہی تھی ، اوہ قرت ، وہ کراہا

زین اب بھی بولے جارہا تھا

” پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ہے تفتیش چل رہی ہے ، اس کے پاس گن تھی اور وہ فارم ہائوس میں بھی قرت بھابھی کا حوالہ دے کر گیا تھا اس لئے گارڈ نے چیکنگ نہیں کی ، تمہیں گولی لگی تو وہ فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا، گارڈ نے پکڑ لیا “

” قرت کو کس نے بتایا ؟ “

اسے اس ساری تفصیلی سے ذرا دلچسپی نہیں تھی

” مجھ سے سنا تھا اور کیا سنائ تھی انہوں نے جواد کو ، واللہ سینے میں ٹھنڈ پڑگئ میری تو “

وہ جو بے زار سا تھا یکدم رک کر اسے دیکھا

” انہوں نے جواد کو سنایا ؟”

” ہاں بہت زیادہ ” وہ عیسیٰ کو متوجہ دیکھ کر کچھ جوش میں آیا ” ایک تھپڑ بھی رکھ کر مارا تھا اس کے منہ پر ، میرے سامنے ہی “

عیسیٰ نے اس کی بات کاٹ دی

” کہاں پر سنایا تھا ؟”

” پولیس اسٹیسن میں ۔۔۔وہ وہی تھا نا ” وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر آگے کو ہوا

” تم قرت کو پولیس اسٹیشن لے کر گئے تھے ؟”

آواز میں درشتگی سمٹ آئ

” وہ خود کہہ رہی تھیں “

” اور تم لے کر چلے گئے ؟ ہمت کیسے ہوئ تمہاری ؟”

وہ دبی دبی آواز میں غرایا

” اکیلا نہیں گیا تھا ۔۔ملازمہ ساتھ تھی “

اسے لگا شاید اسی وجہ سے وہ خفا ہورہا تھا اس لئے خفگی سے بتایا

” میری بلا سے وہ کس کے ساتھ گئ تھیں ، لیکن تم انہیں پولیس اسٹیشن لے گئے؟ پولیس اسٹیشن؟” وہ بے یقین تھا، صدمے میں تھا ، بھاڑ میں گئ ساری تکلیف

” وہ خود کہہ رہی تھیں میں نے منع بھی کیا تھا “

اب کے اسے بھی غصہ آیا یعنی ایک تو وہ اس کیلئے خوار ہوتا رہا اور اب جناب اسی پر غصہ کررہے تھے

” لے کر ہی نا جاتے پھر ۔۔۔۔۔زخمی ہوا تھا مرا نہیں تھا میں ، یا وحشت تم اس گھٹیا جگہ پر انہیں لے کر گئے ؟ وہاں مجرم ہوتے ہیں اور وہ جواد ، اس کے سامنے کیسے لے کر گئے ؟” جانے کس بات کا غصہ تھا جو اس پر نکل رہا تھا

” واہ ۔۔۔یہ صحیح ہے ، میں ساتھ تھا ان کے بھائ ، پولیس اسٹیشن کا انسپکٹر دوست ہے میرا ، تمیز اور تہذیب سے ہمیں اندر بٹھایا ، جواد کو بلاکر لائے ، تمہاری قرت العین نے اسے تھپڑ مارا ،باتیں سنائ ، اگر عیسیٰ کو کچھ ہوا تو میں تمہارا حشر نشر کردوں گی ، جان سے ماردوں گی اور بلاں بلاں اور ہم واپس آگئے بس ، اتنا ہوا اب کس بات پر غصہ ہورہے ہو تم ؟” وہ غصے میں اسے سناتا بھڑکا جبکہ عیسیٰ جو قدرے چڑ کر غصے سے دیکھ رہا تھا اس کی بات پر بے اختیار ابرو اچکائے

” انہوں نے کہا کہ اگر عیسیٰ کو کچھ ہوا تو وہ جواد کی جان لے لیں گی ؟”

” ہاں بھئ یہی کہا تھا کہو تو پورے سین کے ڈائلاگز سنادوں ؟”

وہ اب بھی سیخ پا تھا

” انہوں نے واقعی یہی کہا تھا ؟”

” نہیں جھوٹ بول رہا ہوں میں “

اس کے لبوں پہ ساختہ مسکراہٹ آئ ، سکون سے پیچھے کو ٹیک لگائ اور اسے دیکھا

” جان سے مارنے کی دھمکی دی اور تھپڑ بھی مارا ؟” وہ محظوظ ہوا تھا

” میں چشمدید گواہ ہوں اس تھپڑ کا “

زین کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا

” گڈ ۔۔۔”

” شکریہ ۔۔۔”

” تمہیں نہیں کہہ رہا ” ماتھے پر بل لئے اسے دیکھا ” میں بھولانہیں ہوں کہ تم انہیں اس غلیظ جگہ پر لے کر گئے تھے “

وہ ضبط سے اسے دیکھتا رہا پھر آگے کو ہوا اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھا ، عیسیٰ کی کراہ نکلی

” لیکن میں شکریہ تمہیں ہی کہہ رہا تھا ، بہت شکریہ جو تم مرے نہیں “

عیسیٰ نے دوسرےہاتھ سے اس کا ہاتھ پٹخا

” ایک نمبر کے ذلیل انسان ہو تم “

” دوبارہ سے شکریہ ۔۔۔”

” دفع ہوجائو یہاں سے “

اس نے سر کو خم دیتے اسے خدا حافظ کہا اور باہر چلا گیا ، باہر جاتے وہ کوئ دھن بجارہا تھا ، عیسیٰ نے سر تکیے پر رکھا ، سینے میں تکلیف سی ہوئ تھی ، زین کو زیرلب دو چار گالیوں سے نواز اور آنکھیں موندیں

” عیسیٰ کو کچھ ہوا تو میں تمہاری جان لے لوں گی ” زین کی کہی گئ بات یاد آئ تو بند آنکھوں سے مسکرایا

” تو یعنی مسز عیسیٰ کو میری فکر تھی “

درد کچھ کم ہونے لگا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ باہر آیا تب بھی صوفیہ باہر ہی ٹھہری تھی ، آنکھوں پہ سیاہ چشمہ لگا لیا تھا ، اپنی گاڑی کی طرف جاتے ہوئے وہ رکا

” اگر تمہاری گاڑی خراب ہوگئ ہے تو میں ڈراپ کرسکتا ہوں “

وہ سکون سے پلٹی اور اسے دیکھا

” میری گاڑی بالکل ٹھیک ہے ، تمہاری پیشکش کا شکریہ “

” پھر تم میرا انتظار کیوں کررہی تھیں ؟”

اس نے سینے پر بازوں باندھ لئے

” تمہیں شکریہ کہنا تھا “

” وہ کس لئے ؟”

” تم نے اس دن کافی سمجھایا مجھے “

” اثر تو تم پہ ہوا نہیں تھا،شکریہ کس بات کا ؟ “

وہ ہلکا سا مسکرائ

” تم نے سمجھانے کی کوشش کی اس کے لئے شکریہ ، اثر نہیں ہوا اس کے لئے معذرت “

وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ، بظاہر وہ پرسکون لگ رہی تھی

” تم واقعی عیسیٰ کی محبت سے دستبردار ہوتی ہو ؟”

صوفیہ کے گلے میں کچھ اٹکا

” اپنی محبت سے ، اس کے ملنے کی خواہش سے”

” کیا یہ آسان ہے ؟”

” نہیں ہے ، لیکن میں نے جانا کہ بعض اوقات یہ بات قبول کرلینی چاہئے کہ آپ کہانی کا ثانوی کردار ہیں ، اور ثانوی کرداروں کو مرکزی کرداروں سے محبت ہوجائے تو انہیں وہ محبت نہیں ملا کرتی ، کبھی کبھی یہ بھی مان لینا چاہئے کہ مرکزی کرداروں کے ملنے میں رکاوٹ آپ ہیں، اس لئے آپ کو کہانی سے چلے جانا چاہیے ، بعض کہانیوں میں آپ کہانی کا وہ کردار ہوتے ہیں جس کے کہانی سے چلے جانے پر کوئ آپ کو یاد نہیں کرتا ، جس کی کمی محسوس نہیں کی جاتی ، کہانی جس کے بغیر چلتی رہتی ہے ،جسے کوئ کہانی میں نہیں روکنا چاہتا ، نا منفی نا مثبت آپ بس ایک اضافی کردار ہوتے ہیں ، اس لئے میں ان دونوں کی کہانی سے خود کو الگ کرتی ہوں “

وہ اگلے کئ لمحے اسے دیکھتا رہا

” اسے بھول جائو گی ؟”

” اسے بھولنے کی دعا کروں گی ، تم نے ہی تو کہا تھا دعا معجزے کیا کرتی ہے ، ایک معجزہ اب میں بھی چاہتی ہوں “

” تم دعا کرنا صوفیہ ، تم اپنے دل کے لئے دعا کرنا “

وہ مسکرائ ، سیاہ چشمے کے پیچھے موجود آنکھوں میں نمی ابھری

” ایک دعا تم بھی کروگے میرے لئے ؟”

” کیا ؟”

” دعا کرنا کہ اس کی محبت میرے دل سے چلی جائے ورنہ میں ساری عمر روتی رہوں گی “

اس نے مزید کچھ نہیں کہا ، مزید کچھ نہیں سنا ، ہیل کی ٹک ٹک کے ساتھ وہ وہاں سے چلی گئ ، اس کی ہیل کی ٹک ٹک کتنی ہی دیر زین کے دماغ میں گونجتی رہی

خدا کی پناہ محبوب کے نا ملنے سے !

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اسے گھر شفٹ کردیا گیا وہ تب بھی اس کا سامنا کرنے سے کتراتی رہی

جو لوگ ہوسپٹل میں ملنے نا آ سکے وہ گھر پر آتے رہے ، تحفے تحائف، گلدستے ، وہ سب سے ملتا رہا ، اپنا بتاتا رہا اور وہ خود کو مصروف ظاہر کرتی رہی ، صبح اس کے اٹھنے سے پہلے کمرے سے باہر چلی جاتی ،رات کو اس کے سونے کے بعد آتی

انہی دنوں نعمان صاحب اور سعدیہ ان سے ملنے آئے

” معذرت بیٹے پہلے نہیں آسکے ، بیٹی کے امتحانات ہورہے تھے اسے اب خالہ کے گھر چھوڑا ہے تبھی آسکے ہیں یہاں “

” آپ شرمندہ کررہے ہیں مجھے ، آپ کا فون آتا رہا روز ، یہاں آئے پوچھنے یہ بھی زحمت کی “

وہ اب پہلے سے بہتر تھا ، چہرے کی زردی غائب تھی ، طبیعت بھی بہتر تھی ، زخم اب بھی درد کرتا تھا لیکن وہ ٹھیک تھا ،وہ لوگ کافی دیر اس کے پاس بیٹھے رہے پھر وہ اماں کو گیسٹ روم میں چھوڑنے آئ تو انہوں نے اسے روک لیا

” جواد تمہیں تنگ کررہا تھا ؟”

وہ گہری سانس لیتی صوفے پر بیٹھی

” جی ۔۔۔”

” بھائ صاحب آئے تھے دو دن پہلے معافی مانگ رہے تھے ، تمہارے ابا سے کہا کہ وہ جواد کو چھڑوادیں” اس کی آنکھوں میں سختی ابھری

” یہ امید نا رکھیں وہ تو بہتر ہوگا ، “

اماں کچھ دیر اسے دیکھتی رہیں

” عیسیٰ نے کچھ کہا تم سے ؟”

” نہیں اماں ۔۔۔وہ کیا کہیں گے “

وہ خود اس سے چھپتی پھررہی تھی ، دل کا دکھ جاتا ہی نا تھا ، احساس ندامت کم ہی نا ہوتا تھا ، یہ احساس کہ جواد نے اسے اس کی وجہ سے گولی ماری تھی اس کی نیند اڑانے کو کافی تھا

” کہیں باتیں تو نہیں سنائیں کہ جواد تمہارا چچازاد ہے تو۔۔۔” وہ بات پوری نا کرسکیں ، اس کے لبوں پہ پھیکی سی مسکان ابھری

” وہ کبھی نہیں کہیں گے ، وہ کبھی نہیں جتائیں گے اماں بے فکر رہیں ” سعدیہ کچھ متذبذب سے اسے دیکھنے لگیں

” اور تمہاری ساس ؟ ان کا رویہ کچھ عجیب لگا مجھے “

اس کی مسکراہٹ غائب ہوئ، شہوار کو جب سے جواد کا پتا چلا تھا وہ اس سے کچھ اکھڑی اکھڑی سی تھیں ، اور وہ انہیں حق بجانب سمجھتی تھی

” ان کا حق ہے اماں ۔۔لیکن وہ ٹھیک ہوجائیں گی ، پہلے بھی مجھ سے بہت اچھی تھیں یہ تو اب جواد کی وجہ سے ” اس نے سر جھٹکا

” تمہیں کوئ پریشانی تو نہیں ہے نا قرت ؟ کچھ چھپا تو نہیں رہیں ؟” ان کی پریشانی کم ہی نہیں ہورہی تھی ، قرت نے ان کا ہاتھ تھاما

” بے فکر رہیں اماں ۔۔میں ٹھیک ہوں اور خوش ہوں ” انہیں تسلی نہیں ہوئ لیکن وہ مزید کچھ نا کہہ سکیں کہ نعمان صاحب جو نماز پڑھنے گئے تھے وہ واپس آچکے تھے ، وہ ان دونوں کو خدا حافظ کہتی اٹھ گئ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اپنے لئے چائے بنا کر وہ پلٹی تو رک گئ ، نعمان صاحب اسی طرف آرہے تھے

” کچھ چاہئے تھا ابا ؟”

” جائے نماز نہیں تھی کمرے میں وہی ڈھونڈ رہا تھا “

” اوہ سوری ۔۔۔۔رات رکھنا بھول گئ تھی میں ، آپ یہیں رکیں میں لے کر آتی ہوں “

انہیں وہیں چھوڑ وہ تیزی سے سٹڈی میں گئ ، جائے نماز لی اور اور واپس کچن میں آئ تو نعمان صاحب وہیں کھڑے تھے

” عیسیٰ کیسا ہے اب ؟”

اس کے ہاتھ سے جائے نماز لیتے وہ پوچھنے لگے

” پہلے سے بہتر ہیں “

نعمان صاحب اسے دیکھتے رہے پھر جائے نماز وہیں کائونٹر پر رکھی

” تم کس وجہ سے پریشان ہو قرت ؟”

وہ جو کپ پر ہاتھ پھیر رہی تھی چونک کر سر اٹھایا اور انہیں دیکھا

” کسی وجہ سے نہیں “

” یہ جھوٹ کب سے خود سے بول رہی ہو جو اب مجھ سے بولا ہے ؟”

” سچ ہے ابا “

” تمہارا دل کا سچ تمہاری آنکھوں میں نظر آجاتا ہے ” وہ کچھ خاموش سی ہوگئ پھر سر جھٹکا

” آپ جان جاتے ہیں کہ میں پریشان ہوں “

” کس وجہ سے ہو ؟” نرمی سے اس سے پوچھا تو وہ چند لمحے زمین کو گھورتی رہی آنکھیں نم ہونے لگیں

” عیسیٰ کو گولی میری وجہ سے لگی ہے ابا ، جواد کی دشمنی مجھ سے تھی نشانہ عیسیٰ بنے ” آواز بھرا گئ ، نعمان صاحب کو دکھ ہوا

” وہ گولی اس کا نصیب تھی “

” وہ گولی اس کے نصیب میں لکھی مصیبت تھی جو میری وجہ سے اس تک آئ “

” تم نا ہوتیں تو کسی اور وجہ سے آجاتی “

” میری وجہ سے آئ۔۔۔ یہی تو دکھ ہے ” آنسو پھسلنے لگے

” عیسیٰ نے تم سے کچھ کہا ہے ؟”

انہیں خدشہ ہوا

” نہیں ۔۔۔وہ کبھی نہیں کہیں گے لیکن میں اپنے دل کا کیا کروں جو سچ جانتا ہے “

نعمان صاحب اسے دیکھتے آگے کو بڑھے پھر اس کا سر اپنے کاندھے لگایا

” خود کو اذیت مت دو قرت ، جو شے لکھی تھی وہ ٹل نہیں سکتی ، جو ٹل گئ ہے اس کا شکر ادا کرو ، عیسیٰ ٹھیک ہے ” وہ اس کا سر تھپکتے رہے ، تسلی دیتے رہے تو وہ کچھ پرسکون ہوئ ، پھر آنسو صاف کرتے پیچھے کو ہوئ اور انہیں دیکھا

” آپ لوگ رکیں گے نا کچھ دن ؟”

” نہیں بیٹے ۔۔۔آج شام کو واپس جانا ہے ، گھر اکیلا نہیں چھوڑ سکتا وہاں “

” ایک دن بھی نہیں ابا ؟”

شکوہ کیا

” ایک دن رک تو گئے ہیں ، اگلی بار تم دونوں آجانا ، بیٹی باپ کے گھر رہے تو اچھا لگتا ہے باپ بیٹی کے گھر رہے تو شرمندگی ہوتی ہے “

” دیکھیں گے کب آسکتے ہیں ، ابھی تو ڈاکٹر نے انہیں بیڈ ریسٹ کا کہا ہے کچھ عرصہ “

” اللہ کی طرف سے شفا ملے تو آجانا ، میں نماز پڑھ لوں ” اس نے سر ہلایا ، نعمان صاحب چلے گئے تو وہ پیچھے کو مڑی ، چائے ٹھنڈی ہوگئ تھی اور اب اس کا دل بھی نہیں تھا پینے کا