Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 32)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 32)
Nahal By Fatima Noor
کچن میں کھڑے ہوکر لنچ کیلئے ساری ڈشز ڈائننگ ٹیبل پر منتقل کرتے ہوئے اس کی نظر حیات پر پڑی جو ابھی ابھی کچن میں آئے تھے
” آپ کو کچھ چاہئے تھا انکل ؟”
” ہاں ، کچھ گلاب جامن نکال دو بیٹا “
وہ سر ہلاتے فریزر کی طرف بڑھی ، بائول میں رکھے گلاب جامن نکالے اور ان کے سامنے رکھے
” آپ لنچ کے بعد کھا لیتے “
” لنچ کے بعد بھی کھالوں گا “
وہ مسکرا کر سر جھٹکتی سلاد بنانے لگی ، زینت آپا ساتھ کھڑی سالن بنا رہی تھیں
” بھئ زینت ذائقہ آپ کے ہاتھ میں کمال کا ہے “
وہ اس تعریف پر کھل گئیں
” شکریہ سر “
حیات آرام سے گلاب جامن کھاتے رہے ، اس نے سلاد بنا کر ٹیبل پر رکھنے لگی جب لائونج سے گزرتے عیسیٰ کی نظر کچن پر پڑی ، وہ ٹھٹھک کر رکا
” ڈیڈ۔۔۔۔۔۔ “
آخری گلاب جامن کا ٹکڑا منہ کی طرف لے جاتا حیات کا ہاتھ رکھا ، چمچ نیچے رکھتے انہوں نے رخ موڑا ، پیچھے سینے پر ہاتھ باندھے عیسیٰ کھڑا تھا سنجیدگی سے انہیں دیکھتا ہوا ،حیات نے گلاب جامن کا بائول پیچھے کردیا
” تم کب آئے ؟”
” ابھی ابھی …”
کوٹ بازو پر ڈالے وہ کچن کے اندر آگیا، نظر بائول پر گئ
” آپ یہاں کیا کررہے ہیں ؟”
” کیوں میں کچن میں نہیں آسکتا ؟”
عیسیٰ کی نظر بائول پر گئ پھر حیات پر
” آپ گلاب جامن کھارہے تھے ؟”
اس کے ماتھے پر بل پڑے ، حیات کچھ گڑبڑائے
” کس نے کہا ؟”
” مال غنیمت سامنے پڑا ہے اور پوچھا جارہا ہے جنگ کس نے لڑی ” افسوس سے سر ہلاتے وہ زینت آپا کی طرف مڑا ” زینت آپا ، کس نے دیئے انہیں گلاب جامن ؟”
” چھوٹی بی بی نے …”
دروازے سے اندر داخل ہوتی قرت رکی ، عیسیٰ کی نظر اس پر گئ
” ڈیڈ کو یہ آپ نے دیئے ہیں ؟”
وہ سنجیدہ چہرے کے ساتھ پوچھ رہا تھا
” جی ، انہوں نے خود کہا تھا “
” انہیں شوگر ہے قرت ، ڈاکٹر نے منع کیا ہے میٹھا کھانے سے ، آئندہ دھیان رکھئے گا ” وہ سنجیدگی سے کہتا حیات کی طرف مڑا ” اور آپ ،کل کس قدر ہائ تھا شوگر اندازہ ہے آپ کو ؟”
” باپ مت بنو میرے “
وہ چڑچڑے ہوئے
” میں صرف آپ کا بیٹا بن رہا ہوں ، ڈاکٹر نے احتیاط کا کہا ہے اور آپ سریس ہی نہیں لے رہے ” انہیں کہتے وہ قرت کی طرف مڑا ” آئندہ دھیان رکھئے گا ، ڈیڈ کو کوئ شوگر والی چیز نہیں دینی “
وہ بلا کا سنجیدہ لگ رہا تھا ،اس نے بس سر ہلادیا ، عیسیٰ بنا مزید رکے اوپر کی طرف بڑھ گیا ، وہ رخ موڑے اسے دیکھتی رہی ،اسے کیا ہوا تھا ؟
” تمہارا شوہر کبھی کبھی نا قابل برداشت ہوجاتا ہے “
حیات کی آواز پر اس نے رخ واپس موڑا
” آپ کی فکر کرتے ہیں “
وہ میز تک آئ اور سامنے پڑا بائول اٹھالیا
” خواہ مخواہ فکر کرتا ہے اتنی زیادہ ، کبھی کبھی شوگر ہائ ہوجاتی ہے اور یہ ہر کسی کے ساتھ بڑھاپے میں ہوتا ہے لیکن اسے ڈر لگتا ہے کہ مجھے کچھ ہونا جائے “
وہ سر جھٹکتے آزردہ سے مسکرائے ، قرت کی نظر سیڑھیوں پر گئ ٫ پھر واپس حیات کو دیکھا
” آپ کو مجھے بتانا چاہئے تھا کہ آپ کو شوگر ہے “
” بتا تو دیا اب عیسیٰ نے ، اب بہو کی ہمدردی سے بھی گئے ہم “
وہ ٹھنڈی آہ بھرتے اٹھ گئے ، اس کی نظر دوبارہ سیڑھیوں پر گئ
” زینت آپا ، آپ یہ سب رکھیں میں آتی ہوں “
وہ بائول وہیں رکھتی اوپر کی طرف بڑھ گئ ، کمرے کا دروازہ کھولا تو عیسیٰ سامنے ہی بیٹھا تھا ، صوفے پر قدرے تھکے انداز میں آنکھیں بند کئے ہوئے ، ٹائ ڈھیلی تھی ، وہ کچھ متذبذب سے اسے دیکھے گئ
” لنچ کیلئے آجائیں عیسیٰ”
اس نے آنکھیں کھولیں پھر سیدھا ہوا
” آپ جائیں میں آرہا ہوں “
وہ نہیں گئ
” آپ پریشان ہیں ؟”
کچھ نرمی سے پوچھتے وہ صوفے تک آئ ، عیسیٰ جواب دیئے بغیر وہیں بیٹھا رہا ، وہ کچھ دیر منتظر رہی کہ بتائے گا لیکن وہ خاموشی سے نیچے گھورتا رہا
” آپ نے نہیں بتانا تو اٹس اوکے “
اس کی خاموشی بری لگی تھی سو وہ واپس پلٹنے لگی
” میں ڈیڈ کی وجہ سے پریشان تھا “
وہ پلٹی ، عیسیٰ سر نیچے کئے بیٹھا تھا
” ان کی وجہ سے کیوں ؟”
” ان کے ٹیسٹس کروائے تھے کچھ ، اس کی رپورٹس آئ ہیں ، شوگر لیول بہت زیادہ بڑھ گیا ہے “
ماتھے کو مسلتے وہ تھکا ہوا لگ رہا تھا
” لیکن انکل کہہ رہے تھے کہ وہ ٹھیک ہیں “
” انہیں لگتا ہے ایسا ، انہیں لگتا ہے کہ ان کا شوگر نارمل ہے ، وہ احتیاط نہیں کرتے اس لئے اب شوگر بھی نارمل نہیں رہا ، اگر یہی حال رہا تو ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوسکتی ہے “
وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس کے ساتھ بیٹھی
” لیکن وہ ٹھیک لگ رہے تھے “
” بظاہر ۔۔۔۔۔ “
” مجھے نہیں علم تھا کہ انہیں شوگر ہے “
اسے شرمندگی نے آن گھیرا ، بائول بھر کر انکل کے سامنے رکھ دیا تھا
” اٹس اوکے لیکن آئندہ احتیاط کیجئے گا “
وہ اگلے لمحے خاموش رہے پھر قرت نے کچھ متذبذب سے انداز میں اپنا ہاتھ عیسیٰ کے ہاتھ پر رکھا
” انکل ٹھیک ہیں عیسیٰ ،آپ ان کیلئے خواہ مخواہ ڈر رہے ہیں “
” شاید۔۔۔۔ ” وہ تھکی سانس لیتا سیدھا ہوا ” لیکن اب مجھے مام ڈیڈ کو لے کر ڈر لگتا ہے ، انہیں کھونے سے ڈر لگتا ہے ، ڈیڈ کو لگتا ہے میں اوور پروٹیکٹو ہوگیا ہوں ، شاید انہیں ٹھیک لگتا ہے، مجھے ان پر روک ٹوک کرنی پڑتی ہے چاہے وہ اس سے چڑ کیوں نا جائیں ، جب ماں باپ بوڑھے ہوجائیں تو اولاد کو ان کا ماں باپ بننا پڑتا ہے “
وہ پہلی بار اسے اس طرح دیکھ رہی تھی اور اسے احساس ہوا وہ خود سے جڑے رشتوں کے لئے حساس تھا
” وہ احتیاط کریں گے تو ٹھیک ہوجائیں گے لیکن ان کو احتیاط کرنا ہی نہیں آتا “
” میں ان کا خیال رکھوں گی آپ بے فکر رہیں “
اس کے تسلی دینے پر عیسیٰ نے اسے دیکھا ، لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ ابھری
” شکریہ “
اس کا ہاتھ تھپتپایا تو قرت کو احساس ہوا وہ کب سے اس کا ہاتھ پکڑے بیٹھی تھی ،لمحوں میں خفت نے آن گھیرا , ہاتھ کھینچ لیا
” آپ نیچے آجائیں ، انکل آنٹی انتظار کررہے ہوں گے “
وہ اٹھ کھڑی ہوئی تو عیسیٰ نے بس سر ہلادیا ، باہر کی طرف جاتے ہوئے وہ لمحہ بھر کو دروازے پر رکی ، عیسیٰ ٹائ اتارنے کے بعد کف لنکس کھول رہا تھا ، چہرہ قدرے پرسکون تھا ،وہ سر جھٹکتے نیچے کی طرف بڑھ گئ ، کچن میں جاکر بائول پر نظر پڑی تو شرمندگی مزید بڑھ گئ ، عیسیٰ کے آنے اور کھانا کھانے تک خود کو کئ بار کوسا
کس قدر زیادہ میٹھا تھا ان میں
کیا سوچتے ہوں گے کس قدر لاپرواہ لڑکی ہے
لیکن اسے کیا پرواہ تھی وہ جو بھی سوچتا ؟, جھنجھلاہٹ سر پر سوار ہوگئ ، کھانا کھا کر وہ سب لائونج میں چلے گئے تو وہ کچن میں چائے بنانے چلی گئ ، انکل کیلئے شوگر فری چائے بنائ ، اور باقی سب کیلئے نارمل ، زینت آپا کے بیٹے کی طبیعت خراب تھی تو وہ کوارٹر چلی گئی تھیں ، چائے بنا کر وہ لائونج میں لائ اور سب کے کپس سامنے رکھے
” عیسیٰ چائے نہیں پیتا قرت “
اس کا کپ اس کے سامنے رکھتے ہوئے وہ رک گئ ، شہوار کو دیکھا پھر عیسیٰ کو
” کیوں ؟”
بے ساختہ لبوں سے سوال پھسلا
” اس کا بس چلے تو دنیا سے چائے نامی چیز مٹادے ، تمہارے شوہر کو یہ زہر سے بھی زیادہ بری لگتی ہے “
شہوار ہنستے ہوئے بتانے لگیں ، قرت کی آنکھوں میں حیرانی ابھری
” آپ کو چائے ناپسند ہے ؟”
آواز میں اس قدر صدمہ تھا کہ عیسیٰ کو لگا کہ اس سے کوئ بہت بڑا جرم ہوگیا ہے
” میں صرف اسے پینا ناپسند کرتا ہوں “
وضاحت دی
” ایک ہی بات ہے “
وہ ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئ ، چہرے پر شدید حیرانی تھی ، عیسیٰ کو احساس ہوا اس کے باپ کی طرح شاید اس کی بیوی بھی چائے کی شیدائ تھی
” سب کی اپنی اپنی پسند ہے “
شانے اچکائے
” کافی بنائوں آپ کے لئے ؟”
مروت میں پوچھ ہی لیا ، کچھ مزید شرمندگی ہوئ ، شوہر کی پسند نا پسند کا علم ہی نہیں تھا ، اس سوچ پر پھر کوفت ہوئ ، وہ کیوں اس کی پسند ناپسند کا دھیان رکھے ؟
” نہیں اٹس اوکے ، میں ویسے بھی باہر جارہا ہوں۔ زین سے ملنا ہے وہ کل ٹریننگ کیلئے لاہور جاررہا ہے “
وہ اٹھ کھڑا ہوا ، قرت نے بس سر ہلادیا
” لکھ والو مجھ سے بیٹا جی ، اسے چائے کی مہک ناگوار گزر رہی تھی اس لئے چلا گیا ہے “
عیسیٰ چلا گیا تو حیات کی آواز پر اس نے رخ موڑ کر انہیں دیکھا
” آپ کو تو چائے بہت پسند ہے “
” ایسی نہیں پسند “
ان کا اشارہ پھیکی چائے کی طرف تھا جسے وہ بمشکل زہر مار کررہے تھے
” اب ایسی ہی ملے گی آپ کو ، مجھے اتنا افسوس ہورہا ہے کہ آپ نے مجھے کتنی آسانی سے بیوقوف بنا دیا “
اس کے لہجے میں خفگی اور افسوس بیک وقت آیا
” اور پھر تمہارے شوہر نے تمہیں بھڑکایا ہوگا کہ ڈید کو شوگر نہیں دینی وغیرہ وغیرہ “
” وہ آپ کی فکر کرتے ہیں انکل “
جانتا ہوں بیٹا ، پچھلے تین سال میں کچھ زیادہ ہی فکر کرنے لگ گیا ہے “
ان کے لبوں پہ سوگوار مسکراہٹ ابھری
” تین سال سے کیوں ؟”
لمحے بھر کو شہوار اور حیات خاموش ہوگئے
” تین سال پہلے انکل طاہر کی ڈیتھ ہوئ تھی ، ان کو شوگر تھی ، اس کے اندر ڈر بیٹھ گیا ہے کہ شاید میں بھی۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ بات پوری نا کرسکے ، قرت نے کپ میز پر رکھ دیا
” انکل طاہر کون ؟”
” عیسیٰ کے دوست کہہ سکتی ہو ، میرے سسر کے دوست تھے تو عیسیٰ ان سے کافی اٹیچ تھا ، اس کا کافی بچپن انہی کے ساتھ گزارا ہے “
جواب شہوار کی طرف سے آیا تھا
” وہ انگلینڈ نہیں رہتے تھے ؟ “
” انگلینڈ پڑھائ کیلئے گیا تھا ، پہلے اپنے دادا کے ساتھ رہتا تھا “
وہ خاموش ہوگئ ، اسے احساس ہوا وہ عیسیٰ کے بارے میں کچھ زیادہ ہی متجسس ہورہی تھی ، اپنی خاموشی میں اسے احساس نہیں ہوا کہ حیات اور شہوار صرف خاموش نہیں ہوئے تھے کسی گہرے جامد سکوت نے ان کا احاطہ کرلیا تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بلقیس بیگم دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئیں تو ماریہ زینب کے سرہانے بیٹھی تھی ، وہ آہستہ سے چلتی بیڈ کی دوسری طرف آئیں اور زینب کے سر پر ہاتھ پھیرا
” بخار نہیں اترا ابھی ؟”
” نہیں ۔۔۔۔”
وہ تھکن سے زینب کو دیکھنے لگی ، پچھلے کئ دن سے وہ یوں بیمار ہوئ تھی کہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
” جواد کو بتایا کہ زینب بیمار ہے ؟ “
” اس نے خود ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا اماں ، فکر ہوتی تو پوچھ لیتا “
وہ زینب کو دیکھے گئ ، وہ جواد سے بہت زیادہ مانوس تھی ، وہ گھر میں داخل ہوتا تو سب سے پہلے بھاگ کر اس کے پاس جاتی ، وہ گھر پر ہوتا تو پروانے کی طرح اس کے اردگرد چکراتی ، ماریہ سے اس کا رویہ جیسا بھی رہا ہو کہیں نا کہیں اسے لگتا تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے محبت کرتا ہوگا ، یہ امید بھی اب دم توڑ گئ تھی
” بیٹیاں باپ سے اتنی محبت کیوں کرتی ہیں اماں ؟”
زینب کے سر پر ہاتھ پھیرتی بلقیس نے سر اٹھا کر ماریہ کو دیکھا
” یہ کیسا سوال ہے ؟”
وہ شفیق سا مسکرائیں ، ماریہ اسی طرح زینب کو دیکھتی رہی
” اب مجھے ہر سوال یاد آرہا ہے اماں ، ہر جواب اب مل رہا ہے ، جب میں چھوٹی تھی تو شاید میں بھی ابا کے آس پاس ایسے ہی گھومتی ہوں گی پھر جب بڑی ہوئ تو ان سے ڈر لگنے لگا ، محبت پر ڈر کب غالب آیا علم ہی نا ہوسکا ، “
بلقیس کی نظر ماریہ کے پیچھے کھڑے ابراھیم صاحب پر گئ وہ کچھ کہنا چاہتی تھیں لیکن ابراھیم صاحب کے اشارے پر چپ کرگئیں
” تمہارے ابا تم سے بہت محبت کرتے ہیں ماریہ “
” مجھے کبھی ان کی محبت نظر ہی نہیں آئ ، ان کا غصہ ان کی محبت پر غالب آگیا ، ان کے غصے نے میرے اندر کے ڈر کو محبت پر غالب ہونے دیا ، جانتی ہیں ؟ میں دعا کرتی تھی کہ مجھے ویسا شوہر نا ملے جیسا میری ماں کو ملا ہے ، میں یہ دعا کرنا بھول گئ کہ میرے بچوں کو ویسا باپ نا ملے جیسے مجھے ملا ہے “
ابراھیم صاحب کا وجود زلزلوں کی زد میں آیا
” ماریہ۔۔۔۔۔ “
وہ بلقیس کی بے یقینی بھری آواز کو سنے بغیر کہہ رہی تھی
” ابا جب جب آپ پر چلاتے میرے اندر ان کا خوف بڑھ جاتا ، مجھے اپنے لئے ایسے شوہر سے ڈر لگتا تھا، دیکھیں جیسا شوہر آپ کو ملا ویسا مجھے مل گیا، بیٹیاں کیا ماں کا نصیب چرایا کرتی ہیں ؟ “
” وہ ۔۔ اچھے باپ ہیں “
انہوں نے اسے روکنا چاہا
” وہ اچھے شوہر ہیں یہ بھی کہیں نا ” نظر اٹھا کر انہیں دیکھا ، بلقیس خاموش ہوگئیں ، ” وہ اچھے شوہر نہیں ہیں ، اچھے باپ بھی نہیں ہیں ،اچھے شوہر ہوتے تو آپ کی بار بار تذلیل نا کرتے ، اچھے باپ ہوتے تو میری جواد سے شادی نا کرتے “
” انہوں نے صرف تمہارا بھلا چاہا تھا “
وہ اب بھی اپنے شوہر کا دفاع کرنے کو تیار تھیں ، ماریہ کو اب چپ کرجانا چاہئے پیچھے کھڑے ابراھیم صاحب کا چہرہ دھواں دھواں ہورہا تھا
” بھلا نہیں تھا وہ اماں ، علی بھائ کی غیرت تھی ، انہیں شک تھا کہ ماریہ کہیں بھاگ جائے گی ، انہوں نے اپنے اسی دوست سے مجھے بیاہ دیا جس نے اپنے چچا کی بیٹی پر بھرے بازار میں ہاتھ اٹھایا تھا ، وہ میرے لئے اس شخص سے کیسے خیر کی توقع رکھ سکتے تھے ؟”
” اس کی کزن ۔۔۔ قرت وہ گناہگار تھی “
ماریہ کئ لمحے انہیں دیکھتی رہی
” وہ گناہگار نہیں تھی اماں ، وہ صرف بے خبر تھی ، گناہگار میں تھی “
” کیا مطلب ؟”
” وہ اس دن وہاں اکیلی نہیں تھی میں بھی ساتھ تھی۔ اسے میں ہی لے کر گئ تھی ، وہ تو جانتی بھی نہیں تھی کہ ہم عیسیٰ سے ملنے جارہے ہیں ، “
ماریہ نے گہری سانس لی ، بلقیس کی سانس سینے میں اٹکی
” ماریہ۔۔۔۔۔”
” میں نے جھوٹ بول دیا اماں ، نا بولتی تو علی بھائ مجھے مار ڈالتے ، ابا زندہ نا چھوڑتے ، میں اپنے بھائ اور باپ سے ڈر گئ ، اپنے خدا کا ڈر بھول گئ ، میں نے خود کو بچانے کے لئے سارا الزام قرت پر ڈال دیا ، اب دیکھیں ویسا ہی میرے ساتھ ہورہا ہے ، میرے اپنا بھائ اور بھابھی میرے کردار پر شک کررہے ہیں “
ابراھیم صاحب سے مزید نہیں سنا گیا ، وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس پلٹ گئے ، بلقیس وہیں ساکت سی بیٹھی تھیں
” یہ کیا کیا تم نے ماریہ ؟”
” گناہ ہوگیا اماں ، میں نے قرت کی زندگی برباد کردی ، جب اس کی سنور گئ ہے تو میری برباد ہورہی ہے ، پچھتاوا بہت دیر سے ہوا ہے ،جب دوست کو بھی کھودیا اور شوہر کو بھی “
اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے ، اب ہر پچھتاوا یاد آرہا تھا ، وہ ایسی تو نہیں تھی جیسی بن گئ تھی ، کیا کچھ سنا دیا تھا قرت کو آخری ملاقات میں ، اس کے کردار کی دھجیاں اڑا دی تھیں ، خود کے کردار پر اب بات برداشت نہیں ہورہی تھی
” میری بات سنو ماریہ ” بلقیس کو یکدم جیسے اب ہوش آیا تھا ” تم ۔۔ تم اس سب کا زکر کسی سے مت کرنا ،جواد کو پتا چلا تو وہ جانے کیا کرگزرے، تم زبان سی دو اپنی “
” اماں ۔۔۔۔۔” اس نے سر اٹھا کر شاکی نظروں سے انہیں دیکھا ” آپ مجھے سچ چھپانے کا کہہ رہی ہیں ؟”
” میں صرف بدنامی چھپانے کا کہہ رہی ہوں ماریہ ، علی کو پتا چلا تو وہ تمہیں ماردے گا “
وہ متوحش تھیں
” ماردے ، آپ مجھے غلط چیز سکھا رہی ہیں ، وہ بھی اس وقت جب میں سیکھنے کے دور سے گزر چکی ، اب صرف کرنے کا وقت ہے “
” کیا کروگی ؟” انہیں پریشانی نے آن گھیرا
” میں تب قرت کو بے گناہ ثابت نا کرسکی ، تب بہت کچھ کھونے کا خوف تھا ، اب کرسکتی ہوں ، اب کچھ کھونے کا خوف نہیں رہا ، جو غلطی چار سال پہلے کی تھی اسے ٹھیک کرنے کا وقت آگیا ہے ، اس کا انجام جو بھی ہو مجھے یہ کرنا ہوگا “
” ماریہ ۔۔ مت کرو ، جواد تمہیں طلاق دے دے گا “
” وہ تو ویسے بھی دے ہی رہا ہے ، حق مہر کا مسئلہ نا ہوتا تو اب تک دے بھی چکا ہوتا ، لیکن اچھا ہے جلدی دے دے ، مجھے یہ کرنے دیں اماں ، اپنے لئے نا صحیح اپنی بیٹی کیلئے ، مجھے لگتا ہے اسے قرت کی آہ لگ گئ ہے “
اس کی نظر ساتھ لیٹی بچی پر گئ اس نے جواد کے نین نقش چرائے تھے ، آنکھیں ماریہ جیسی تھیں ، بلقیس کچھ پریشانی سے اسے دیکھتی رہیں ، ایک طوفان تھا جو ان کا منتظر تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اس صبح اس نے عیسیٰ کے آفس جانے کے بعد گھر کے نمبر پر کال کی ، فون مہر نے اٹھایا
” السلام علیکم آپی “
” وعلیکم السلام مہر ،کیسی ہو ؟ ” دوسری طرف پل بھر کو خاموشی چھا گئ
“ٹھیک ہوں ، آپ کیسی ہیں ؟” اس کا لہجہ بے تاثر سا تھا
” ٹھیک ہوں، ابوبکر اماں اور ابا کیسے ہیں ؟” وہ بے قراری سے پوچھنے لگی
” سب ٹھیک ہیں “
” تم مصروف ہوتی ہو کیا؟ ، جب کال کرو بات ہی نہیں ہوتی ” اتنے دنوں بعد مہر سے بات ہورہی تھی تو شکوہ بے ساختہ لبوں پر آگیا
” جی۔۔۔۔”
وہ ٹھٹھکی، مہر ایسے بات کیوں کررہی تھی ؟
” سب ٹھیک ہے مہر ؟”
” جی “
” تم کالج کیوں نہیں گئیں ؟”
” دل نہیں چاہ رہا تھا “
اب کہ وہ حیران ہوئ ، مہر چھٹی نہیں کیا کرتی تھی
” مہر وہاں سب ٹھیک ہے نا ؟”
” جی ۔۔”
” مہر ۔۔۔مجھے سچ سچ بتائو “
” سب ٹھیک ہے آپی ۔۔۔۔”
” مہر جھوٹ مت بولو “
اس کی آواز سخت ہوئ ، دوسری جانب چند لمحے کی خاموشی چھائ رہی پھر اسے مہر کی سسکی سنائ دی
” سب خراب ہوگیا ہے آپی ، یہاں سب نے ہمیں اکیلا کردیا ہے ، آپ کی رخصتی کے بعد چچا لوگ آئے تھے ، ابا کو بہت باتیں سنائیں سب نے ، انہوں نے کہا وہ ہم سے قطع تعلق کرلیں گے ، انہوں نے سب نے مل کر ہمیں اکیلا کردیا ہے ۔۔”
موبائل پکڑے اس کا ہاتھ سن ہوا ، مہر اب رو رہی تھی ، اس نے چند گہرے سانس لئے
” ابا ؟ ابا کیسے ہیں ؟ وہ کہاں ہیں بات کروائو ان سے ” دوسری طرف خاموشی چھا گئ
” مہر ۔۔۔”
” ابا ہوسپٹل میں ہیں آپی ، انہیں ہارٹ اٹیک آیا تھا ” اس کا دل رک گیا
” ابا ۔۔”
” وہ اب ٹھیک ہیں ، ڈاکٹر نے کہا ہے مائنر ہارٹ اٹیک تھا، زاہد چاچو انہیں لینے گئے ہوئے ہیں “
” مہر ، میری بات کرادو ان سے پلیز “
آنکھیں لمحوں میں نم ہوئیں
” میں گھر پر ہوں ۔۔۔”
اس نے آنسو صاف کئے ، لبوں پہ ہاتھ رکھ کر ہچکی روکی
” وہ ٹھیک ہیں ؟”
آواز گھٹ گئ
” آپ کو یاد کررہے تھے “
اس کی ہچکی نکلی ، کال کاٹ کر موبائل رکھ دیا ، آہستہ سے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگالی ، آنسو روانی سے نکلنے لگے
مائیں بیمار ہوجایا کرتی ہیں ، وہ بیمار ہوں تو علم بھی ہوجاتا ہے ، ماں کے بیمار ہونے پر لگتا ہے وہ ٹھیک بھی ہوجائیں گی، باپ بیمار نہیں ہوا کرتے ، ہوں تو لاعلم رکھتے ہیں ، باپ بیمار ہوں تو اذیت بھی زیادہ ہوتی ہے ، ایک انجانا سا خوف اندر تک بس جاتا ہے ، اس کے اندر بھی بس گیا تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عیسیٰ جب کمرے میں داخل ہوا تو اندر اندھیرا تھا ، اچھنبے سے لائٹ آن کرتے ہوئے وہ دو قدم ہی چلا تھا جب قرت پر نظر پڑی ، صوفے کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھی ، گھٹنوں کے گرد ہاتھ باندھے اس کی آنکھیں سوجی ہوئ تھیں
” قرت ۔۔۔”
عیسیٰ کی آواز پر سر اٹھا کر اسے دیکھا ، آنکھوں میں پانی بھرنے لگا ، وہ یکدم پریشانی سے آگے بڑھا
” سب ٹھیک ہے ،کیا ہوا ؟” صوفے کے ساتھ رک کر اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا
” ابا ہوسپٹل میں ہیں عیسیٰ ۔۔” اس کا ہاتھ نیچے آگرا ” انہیں ہارٹ اٹیک آیا تھا، مہر کہہ رہی تھی وہ مجھے یاد کررہے ہیں، مجھے ملتان لے چلیں ۔۔” اٹھ کر اس کا ہاتھ تھاما
” پرسکون ہوجائیں “
” مجھ سے نہیں رہا جائے گا پرسکون “
“ہم چلیں گے “
اس کا ہاتھ تھپتھپایا
” نہیں ابھی چلیں، میرا دل بند ہوجائے ، خدا کا واسطہ ہے ابھی چلیں “
اس کا باپ اس کا محبوب ترین شخص تھا ، اس کے سامنے کھڑی عورت اس کی محبوب ترین عورت تھی ، اس کی محبوب عورت اپنے محبوب مرد کیلئے اس کی منت کررہی تھی
“پہلے پرسکون ہوجائیں قرت ، “
” آپ سمجھ نہیں رہے عیسیٰ ۔۔۔”
” میں سمجھ رہا ہوں “
” نہیں آپ نہیں سمجھ رہے ۔۔۔وہ میری پوری دنیا ہیں، انہیں کچھ ہوگیا تو میں مر جائوں گی عیسیٰ ” عیسیٰ کو دکھ ہوا ، نرمی سے اسے کاندھوں سے تھاما
” قرت وہ ٹھیک ہیں، “
” نہیں ہیں ، پلیز کچھ کریں عیسیٰ ، یوں لگتا ہے دل کو کوئ چھری سے کاٹ رہا ہو “
وہ تیزی سے نفی میں سر ہلائے گئ
” میری بات سنیں ، وہ ٹھیک ہیں “
” آپ نہیں جانتے ۔۔۔۔۔۔”
” میں نے کہا نا وہ ٹھیک ہیں ، چھوٹا سا ہارٹ اٹیک تھا ، میرا یقین کریں “
وہ جو روتے ہوئے نفی میں سر ہلارہی تھی یکدم رکی ، آنسو تھم گئے ، سر اٹھا کر عیسیٰ کو دیکھا
” آپ جانتے تھے ؟۔۔”
” کیا ۔۔۔۔؟”
” یہی کہ ابا کو ہارٹ اٹیک آیا ہے “
عیسیٰ کو سمجھ نہیں آئ کیا کہے پھر اس نے گہری سانس لی
” میں جانتا تھا ۔۔۔”
” کب ؟”
” رات کو ابوبکر کا فون آیا تھا آپ تب سورہی تھیں ” وہ چند لمحے اسے دیکھے گئ پھر اس کا ہاتھ جھٹکتے اٹھی
” آپ جانتے تھے کہ ابا ہوسپٹل میں ہیں؟ “
وہ بے یقین سی تھی کہ وہ جانتا تھا
” قرت میں صرف آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا، وہ ٹھیک تھے ، ۔۔۔”
” وہ میرے باپ ہیں عیسیٰ ، ان کا حق ہے کہ میں ان کیلئے پریشان ہوں ، میرا فرض ہے کہ ان کیلئے دعا کروں ، آپ نے ان کا حق اور میرا فرض دونوں چھین لئے ” وہ دبا دبا سا چلائ
” میں ۔۔۔”
” آپ آپ اور صرف آپ عیسیٰ ۔۔” آنسو لڑی کی صورت بہنے لگی ، ایک ہاتھ سے اس کے سینے پر مکا مارا ۔۔” یہاں صرف آپ نہیں ہیں ، یہاں میں بھی ہوں ، میں نے آپ سے کہا تھا کہ مجھے تنگ مت کریں ، میرے راستے میں مت آئیں ، آپ نے بار بار میرا راستہ روکا ، میں نے کہا میری زندگی سے چلے جائیں، آپ جاکر واپس پلٹ آئے ، میں نے کہا ہر نشان مٹا کر جائیے گا آپ نئے نشان بناتے گئے ، کیوں عیسیٰ کیوں ؟ ” عیسیٰ نے اپنے سینے پر دھرا اس کا ہاتھ تھاما وہ ٹھنڈا تھا
” بولتی رہیں ۔۔۔”
وہ سن سکتا تھا ، اگر وہ پوری رات وہاں کھڑے ہوکر اپنے اندر کا غم نکالتی رہتی وہ پھر بھی سن سکتا تھا
“میرے پاس الفاظ بھی ختم ہوگئے ہیں ، ہر کوئ آگے بڑھ گیا عیسیٰ ہر کوئ ” وہ آہستہ سے نیچے بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔” میں وہیں پیچھے رہ گئ ، لکڑی کے بنے کیبن میں ، چنار کے درخت تلے ، آپ میری زندگی سے چلے گئے تو سب ٹھیک ہوگیا ، واپس آئے تو سب خراب ہونے لگا ” عیسیٰ نے آنکھیں بند کرکے کھولیں ، اس کا ہر الزام عیسیٰ حیات کے سر جس کا قصور فقط محبت تھی
” وہ میری ساری زندگی ہیں ، آپ کے آنے نے ان پر بوجھ بڑھا دیا ، ان سے سب کچھ اور مجھ سے انہیں لے لیا ، انہیں کچھ ہوا تو میری نفرت آپ کیلئے تا حیات رہے گی ۔۔”
اس نے رخ موڑ کر باہر کی طرف دیکھا ، گرمیوں کی آخری بارش برس رہی تھی، پھر وہ پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا اور اس کا ہاتھ تھاما
” مجھے آپ کا ہر الزام قبول ہے ، آپ کی تاحیات کی نفرت بھی قبول ہے ، میں زندگی میں صرف دو عورتوں کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ، میری ماں اور آپ ، اپنی آنکھوں پر اور مجھ پر رحم کریں قرت ۔۔” اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے ، اس نے ہاتھ کھینچے لیکن اس کی گرفت سخت تھی
” میری ہر اذیت ہر آنسو کی وجہ آپ ہیں عیسیٰ ، آپ میرے زندگی میں واپس کیوں آئے ؟ ” وہ ہر شے سے تھک گئ تھی
” کیونکہ مجھے آنا تھا “
” آپ نا آتے ، مجھے آپ سے زیادہ نفرت کسی سے نہیں ہوئ ، آپ نا آتے تو وہ نفرت مٹ جاتی ، آپ واپس آئے تو وہ بڑھ گئ “
” مجھے آپ کی نفرت قبول ہے ، لیکن آپ میرے ساتھ رہیں بس ۔۔” اس نے ہاتھ کھینچ لیا
” بے فکر رہیں ، میرے باپ کا قول میرے لئے آخری ہے ، اس گھر سے میرا جنازہ ہی نکلے گا “
ایک ہاتھ کی پشت سے بے رحمی سے آنسو صاف کرتے اس نے اپنا ہاتھ کھینچا ” مجھے ملتان جانا ہے “
” میں فلائٹ بک کرواچکا ہوں قرت ، رات ہی کروالی تھی ، آپ کو ابھی بتاکر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا ، کیونکہ پھر آپ یہی کرتیں جو اب کررہی ہیں ، وہ ٹھیک ہیں ، نا ہوتے تو میں رات ہی آپ کو لے جاتا “
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اٹھ کھڑی ہوئ ، اذیت بڑھ گئ ،درد دو دلوں تک پھیل گیا ، اس کے بھی عیسیٰ کے بھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ابا سے اس کی رات کو ہی بات ہوگئ تھی ،گو وہ زیادہ دیر بات نہیں کرسکی کہ نعمان صاحب کو کمزوری کی وجہ سے ڈاکٹر نے زیادہ بات کرنے سے منع کیا تھا لیکن اس کے دل کو تھوڑی سی تسلی ضرور ہوگئ تھی
ویک اینڈ پر عیسیٰ نے اس کی اور اپنی ملتان کی فلائٹ بک کروادی تھی تو وہ اس طرف سے بھی مطمئن تھی کہ ابا کو سامنے دیکھ کر ہی اسے یقین آتا کہ وہ ٹھیک تھے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اماں اسے سامنے دیکھ کر لمحہ بھر کو حیران رہ گئیں پھر اسے گلے لگایا تو کتنی ہی دیر لگائے رہیں
” تم ٹھیک ہو قرت ؟”
اور وہ بس انہیں تسلی دیتی رہی ، عیسیٰ کو ابوبکر گھر کے اندر لے گیا تھا
مہر اور ابوبکر سے مل کر جب وہ ابا کے کمرے میں آئ تو عیسیٰ ان کے ساتھ ہی بیٹھا تھا ، ابا کی اس پر نظر پڑی تو لبوں پہ وہی مسکراہٹ بکھر گئ جو اسے دیکھتے ہمیشہ ان کے چہرے پر آجاتی تھی ، بازوں آگے کرکے اسے اپنے پاس بلایا تو وہ کتنی ہی دیر ان کے ساتھ لگ کر بیٹھی رہی
” آپ ٹھیک ہیں نا ؟”
” ٹھیک ہوں بیٹا “
” ڈاکٹر نے کیا کہا ؟”
” چھوٹا سا ہارٹ اٹیک تھا بیٹا ، اب ٹھیک ہوں “
اس کا ہاتھ نرمی سے تھپھتپایا
” میں پریشان ہوگئ تھی ۔۔” آواز بھرا گئ
” تم کب سے اتنے کمزور دل والی ہوگئیں ؟”
” آپ کیلئے ہوں ابا ، صرف آپ کیلئے ہوں “
عیسیٰ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ، دل میں اس لمحے پل بھر کو یونہی عجیب سی خواہش اٹھی کہ کاش وہ کبھی اس کیلئے بھی روئے
” اچھا اب بس کرو رونا ، میں ٹھیک ہوں ، جائو عیسیٰ کو کمرے میں لے جائو ، تھک گئے ہوگے تم دونوں “
” میں نہیں تھکی ” نفی میں سر ہلایا، پھر وہ کچھ دیر ان کے پاس بیٹھی رہی ، عیسیٰ کی کوئ کال آگئ تھی تو وہ باہر چلا گیا تھا
” قرت اب آرام کرو بچے ، ، مجھے بھی سونا ہے ابھی ” اب کے وہ بادل نخواستہ اٹھ گئ کہ ابا کو آرام کرنا تھا
عیسیٰ اب بھی باہر تھا ، ابوبکر ان کا بیگ لے کر کمرے میں رکھنے آیا تو ایک نظر باہر ڈالی
” عیسیٰ بھائ کی یہ تیسری کال ہے ، یہ وہاں بھی اتنے ہی مصروف رہتے ہیں ؟” اس کی نظر باہر گئ ، وہ موبائل کان سے لگائے صحن میں یہاں وہاں چل رہا تھا
” ہاں اتنے ہی مصروف ہوتے ہیں “
” ویسے آپی ایک بات کہوں ؟”
” کہو ۔۔۔” اس نے بیگ الماری کے قریب کھڑا کیا
” عیسیٰ بھائ ہیں بہت ہینڈسم “
قرت گہری سانس لیتے واپس پلٹی ، ایک مہر کیا کم اس کی فین تھی جو یہ بھی متاثر ہوگیا
” اتنے بھی کوئ ہینڈسم نہیں ہیں “
ناک بھوں چڑھاتے ہوئے نظر دوبارہ عیسیٰ پر گئی ، اس نے بلیک پینٹ پر سفید شرٹ پہن رکھی تھی ، صبح جو لباس آفس جو پہن کر گیا تھا، بال پیچھے کو جمے تھے ، ایک ہاتھ پاکٹ میں تھا دوسرے ہاتھ سے موبائل تھام رکھا تھا ، دھوپ کے باعث آنکھیں سکیڑ رکھی تھیں، ماتھے پر بل تھے ، اس نے رخ واپس پھیرلیا ، کم از کم اتنا تو اسے پچھلے چند دنوں میں پتا چل گیا تھا کہ عیسیٰ حیات اپنے اردگرد کے لوگوں کو متاثر کرنے کا فن جانتا تھا
” آپ واحد بیوی ہیں جو اپنے شوہر کی تعریف ہضم نہیں کرپارہیں “
ابوبکر کو افسوس ہوا
” میں نے کون سی برائ کی ہے ان کی ؟”
اسے برا لگا تھا
” جو میں نے تعریف کی ہے اس کی تائید بھی تو نہیں کی “
” کس بات کی تائید نہیں کی ؟”
کال بند کرکے کمرے میں داخل ہوتے اس نے شاید ان کی آخری بات سنی تھی سو پوچھ لیا
” میں آپی سے کہہ رہا تھا کہ عیسیٰ بھائ بہت ہینڈسم ہیں تو وہ کہنے لگیں کہ اتنے بھی نہیں ہیں “
اس کا منہ کھلا پھر نظر عیسیٰ پر گئ جو مسکراہٹ دبائے اسے ہی دیکھ رہا تھا تو رخ فورا موڑ لیا
” تم بھاگو ادھر سے پڑھو جاکر ۔۔”
وہ برا منہ بناتے رفو چکر ہوا تو اس نے عیسیٰ کو نظر انداز کرتے بیگ کھولا
” کیا کوئ میری خوبصورتی سے جل رہا ہے ؟”
موبائل رکھ کر بیڈ پر نیم دراز ہوگیا
” آپ کو خوش فہمی بہت ہے “
” مجھے تو چلو ہے لیکن ابوبکر کو بھی ہے کیا ؟”
” اسے غلط فہمی ہے “
وہ ہنسا
” واقعی کوئ جل رہا ہے “
اس نے اب کے جواب نہیں دیا ، عبایا اتار کر سٹینڈ پر لٹکایا دوپٹہ اوڑھا اور اسے دیکھا
” کچھ کھائیں گے ؟”
” نہیں ، فلحال تو بہت تھک گیا ہوں “
وہ واقعی تھکا سا لگ رہا تھا ، آفس سے واپسی پر وہ دونوں سیدھا ملتان کیلئے نکل آئے تھے
” آپ آرام کریں پھر ، میں اماں کے پاس جارہی ہوں “
اس نے کچھ نہیں کہا ، شاید وہ نیند میں جارہا تھا ، قرت تھوڑی دیر وہیں رکی پھر اسے پکارا
” عیسیٰ ۔۔”
” ہوووں ؟”
” سیدھا سوجائیں ، آپ کے پائوں کا رخ قبلہ کی طرف ہے “
وہ آڑا ترچھا لیٹا تھا، آنکھیں کھول کر بدقت اسے دیکھا پھر کمرے کو اور پائوں سیدھے کرلئے ، سر تکیے پر رکھ لیا ، چہرے پر تھکن تھی ، وہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی ،نظر اس کے پائوں پر گئ ، دوبارہ جگانے کا دل نہیں کیا تو آگے بڑھتے اس کے جوتے اتارنے لگی ، عیسیٰ نے نیند میں ہونے کے باوجود پائوں جھٹ اوپر کھینچے
” کیا کررہی ہیں ؟”
” آپ جوتوں سمیت سو گئے ہیں “
حالانکہ وہ کبھی جوتوں سمیت صوفے پر بھی نہیں بیٹھتا تھا آج شاید واقعی تھک گیا تھا
” آپ کو اس لئے تھوڑی خدا سے مانگا تھا کہ اپنے قدموں میں بٹھائوں ۔۔۔”
اس نے اٹھ کر خود ہی اپنے جوتے اتارے ، بیڈ کے نیچے رکھے اور دوبارہ لیٹ گیا ، قرت لمحہ بھر کو رک کر اسے دیکھے گئ ، کانوں میں کسی اور کا جملہ گونجا
” ایک بار شادی ہونے دو ، اپنے پائوں کی جوتی بنا کررکھوں گا تمہیں “
فرق واضح تھا ، فرق سامنے تھا ، تخت سے خاک کا چنائو ، سامنے موجود شخص اسے خاک میں رکھتا تب بھی تخت سر پر ہوتا ، جواد کریم اسے تخت پر بٹھاتا تب بھی خاک بنا کر رکھتا
وہ اسے ایک نظر دیکھ کر باہر کی طرف بڑھ گئ
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” تم یہ کمرے میں لے جائو پتا نہیں دسترخوان پر بیٹھ کر کھائے گا بھی یا نہیں عیسیٰ “
اماں نے ٹرے اس کی طرف بڑھائ تو وہ بس انہیں دیکھ کر رہ گئ، اتنا پروٹوکول دے رہی تھیں عیسیٰ کو جیسے وہ کہیں کا پرائم منسٹر ہو ، اس نے ٹرے واپس رکھ دی
” کھالیں گے سب کے ساتھ بیٹھ کر اماں ، اور یہ اتنا سب کچھ بنانے کی کیا ضرورت تھی ؟” اس کی نظر سامنے رکھی ڈشز پر گئ ، قورمہ ، بریانی ، کوفتے کھیر اور پتا نہیں کیا کیا
” پہلی بار داماد گھر پر آیا ہے دال چاول کھلائوں کیا ؟” اماں ناراض ہونے لگیں
” دال چاول ہی کھلادیں وہ ڈنر میں یہ سب نہیں کھاتا ، “
افسوس سے سر ہلاتے ہوئے وہ مہر کے ساتھ کھانا برآمدے میں دسترخوان پر سجانے لگی ، عیسیٰ ابوبکر کے ساتھ مسجد گیا ہوا تھا ، وہ جب تک واپس آیا انہوں نے کھانا لگادیا تھا ، نعمان صاحب بھی وہیں آگئے
اماں چن چن کر سب اس کے سامنے رکھنے لگیں ، اور وہ منع ہی کرتا رہ گیا ، پھر بمشکل قورمے کے چند نوالہ لینے کے بعد اس نے ہاتھ کھینچ لیا
” کیا ہوا بیٹا پسند نہیں آیا کھانا ؟”
” نہیں آنٹی ، کھانا اچھا ہے لیکن میں ڈنر میں اتنا سب کھاتا نہیں ہوں ” سہولت سے انکار کردیا
” کچھ اور بنادوں ؟” اماں پریشان ہوگئیں
” نہیں ، اٹس اوکے “
اس نے چند نوالے ہی لیئے تھے جبکہ قرت نے پیٹ بھر کر سب کھایا تھا ، کھانے کے بعد مہر چائے لے آئ تو وہ بے ساختہ ٹوک بیٹھی
” عیسیٰ چائے نہیں پیتے ” وہ باہر تھا ،پھر کسی کی کال آگئ تھی
” پھر کیا پیتے ہیں ؟”
” کافی ۔۔۔”
وہ تو یہاں نہیں ہے ، ابوبکر جا کر پتا کر آئو دکان پہ ہے ؟” اس نے اماں کو دیکھا
” اماں اتنا پروٹوکول کیوں دے رہی ہیں اسے ؟”
” داماد ہے گھر کا “
” انسان ہے وہ بھئ ، ایک دن کافی نہیں پیئے گا تو کچھ نہیں ہوگا “
وہ جھنجھلا گئ ، اس سے اچھا عیسیٰ آتا ہی نا ، سب کو اسی کی فکر کھائے جارہی تھی
کمرے میں بیڈ آرام دہ ہے ؟
کھانا کیا کھائے گا ؟
پنکھا چلادوں بیٹا ؟
چائے نہیں پیتا تو کافی منگوالو “
اسے اب جلن ہونے لگی تھی عیسیٰ سے ،وہ تو شکر تھا کہ اس نے کل چلے جانا تھا
” تم تو بس رہنے ہی دو ، یہ نہیں کہ شوہر نے کھانا نہیں کھایا تو تم بھی ہاتھ روک لو ، آرام سے سب کھاتی رہیں ” اسے صدمہ سا لگا
” میں کیوں بھوکی رہتی ؟”
” کیونکہ تمہارا شوہر بھوکا تھا ” اس نے ماتھے پر بل ڈالے سامنے سے آتے عیسیٰ کو دیکھا
” شوہر نامدار کے نخرے کچھ زیادہ ہی ہیں “
وہ بس بڑبڑا کر رہ گئ کہ اماں کے سامنے آواز اونچی رکھ کر اسے باتیں نہیں سننی تھیں
اس دنیا کی سب سے عجیب مخلوق ساس ہوتی ہیں ، لڑکی کی ساس اور لڑکے کی ساس ، اس نے اپنی شادی کے بعد دونوں ساسیں دیکھی تھیں ، شہوار اس کے ساتھ بہت اچھی تھیں اور عیسیٰ یہ دیکھ کر خوش تھا ، اس کی ماں عیسیٰ کے ساتھ بہت اچھی تھیں اور قرت یہ دیکھ کر بالکل خوش نہیں تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
پگڈنڈی پہ اوپر کی جانب چلتے وہ ہلکا سا لڑکھڑائ تو نیچے چلتے عیسیٰ نے بے اختیار اسے تھاما
” گرجائیں گی “
کچھ دیر قبل اس نے یہ جملہ دوسری بار بولا تھا
” نہیں گروں گی ، میرا اپنا گائوں ہے “
یہ جواب بھی دوسری بار ہی ملا تھا ، اور اب یہ تیسری بار تھا جب وہ گرتے گرتے بچی تھی ، عیسیٰ نے رک کر صرف تنبہا اسے دیکھا اور وہ کچھ خفت سے اس بار نیچے اتر گئ
دور تک پھیلے کھیتوں میں کوئ مقدس سی خاموشی چھائ تھی ، صبح صبح پرندوں کی چہکار کے ساتھ پتوں پہ پڑی شبنم ، تھوڑی تھوڑی دیر بعد دور سے کسی کوئل کی گونج سنائ دیتی
عیسیٰ کو مارننگ واک کی عادت تھی سو وہ اماں کے ڈانٹنے پر ان کے ساتھ آگئ ، شوپر محترم کو گائوں گھمانا تھا ، یہ الگ بات تھی کہ وہ شوہر محترم سے زیادہ خود گائوں گھوم رہی تھی
” آپ شاید عرصے بعد باہر نکلی ہیں “
وہ اپنے ساتھ چلتی قرت کی آنکھوں کو دیکھتا پوچھنے لگا ، وہ ہر پھول کے پاس رک جاتی تھی
” عرصے سے بھی زیادہ ، آخری بار شاید میں پانچ چھ سال پہلے یوں بے پرواہ ہوکر باہر نکلی تھی “
اس کی آواز میں کسی پرانے دن کی سی کھنک تھی ، یوں جیسے کوئ پرانا انداز تھا جو واپس آرہا تھا، کوئ سنجیدگی کی پرت تھی جو اترتی جارہی تھی
” یہ تو آپ کے گائوں پر ظلم ہے “
وہ اس کی بات پر رکی ، مدھر سی ہنسی کھیتوں میں گونجی ، عیسیٰ مسکرایا، وہ جانتا تھا وہ اپنے گھر واپس آنے پر خوش تھی ، اس پر عنایت کی جارہی تھی تو وہ کسی اور کے طفیل تھی، وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے دھیمے سے ہنستی گئ اور وہ پگڈنڈی کے سامنے کھڑا اسے دیکھتا رہا ، مدھم سی ہنسی گائوں کی ٹھنڈی فضا میں گونج رہی تھی ، وہ اس کی بے تکی بات پر ہنس رہی تھی ، وہ اس کی ہنسی پر رک کر سالوں اسے دیکھ سکتا تھا ،بے ساختہ چند قدم آگے بڑھ کر وہ اس کے بالکل سامنے آرکا ، اس کی ہنسی رکی، نظریں اٹھا کر عیسیٰ کو دیکھا ، وہ اس کے سامنے ٹھہرا تھا ، ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھاما
جب دھیمے دھیمے ہنستی ہو
اس بارش جیسی لگتی ہو
تھوڑی دل کی کہتی ہو
زیادہ دل میں رکھتی ہو
کیوں جاؤں رنگ ریز کے پاس
تم تو سیاہ میں جچتی ہو
کرنے دو انہیں ہار سنگھار
تم سادہ بھی سجتی ہو
(ہاشم ندیم)
اس کا ایک ہاتھ ہتھیلی میں تھامے دوسرا ہاتھ اس پر رکھا ، نظریں اس کی آنکھوں پر تھیں ،لہجہ دھیما تھا ،پرسوز ، جانے وہ کتنے سالوں کی محبت اس لہجے میں لے آیا تھا ،جانے کتنا سحر ان لفظوں میں پھونک لایا تھا ،وہ کتنے ہی لمحے اسے دیکھے گئ ، سیاہ آنکھوں کا طلسم بھوری آنکھوں تک پہنچا ، بھوری آنکھوں والی قرۃ العین نے نظریں چرا لیں ، سیاہ آنکھوں والے عیسیٰ حیات ان نظروں کا چرانا دیکھا ، اسے اپنے جملے میں ترمیم کرنی پڑی
وہ یہ نظریں چرانے کا منظر بھی صدیوں تک کر دیکھ سکتا تھا
” آپ کو میرا گائوں کیسا لگا ؟”
اس نے موضوع تبدیل کرنا چاہا ، وہ سامنے ٹھہرا یوں دیکھتا رہتا تو وہ باتیں بھولنے لگتی ، فلوقت اسے اپنی یاداشت عزیز تھی
” جیسا آپ کو لگتا ہے “
” پیارا ۔۔۔۔۔؟”
عیسیٰ نے سر ہلادیا ، وہ اس سے زیادہ خوبصورت جگہیں گھوم چکا تھا اور پہلی بار وہ معترف تھا کہ کسی کی موجودگی جگہوں کو حسین بنا دیا کرتی ہے ، چلتے چلتے وہ بڑے سے درخت تلے آگئے ، وہاں بچوں نے کچھ جھولے لگا رکھے تھے ، قرت درخت کے ساتھ لگے جھولے پر بیٹھ گئ ، اس نے ہاتھوں میں سبز پتے اٹھا رکھے تھے ، جھولے پر بیٹھے ، آگے پیچھے اسے گھماتے اس نے سر اٹھا کر درخت کو دیکھا
” یہاں بہت سکون ہے “
وہ اس کے ساتھ ہی ٹھہرا تھا
” بہت ۔۔۔۔۔ “
وہ درخت کے ساتھ کھڑے اسے دیکھتا رہا ، وہ سامنے بیٹھی تھی ، جھولے کو ہلکا ہلکا جھولاتے ، بند آنکھوں سے جیسے کسی اور دنیا کی باسی ، عبایا ہوا سے پھڑپھڑا رہا تھا ،۔ اسے مارگلہ کا منظر یاد آیا، بند آنکھوں سے پہاڑی پر کھڑی کوئ مجسمہ نماز شہزادی ، اس کا ہاتھ نامحسوس انداز میں جھولے کی رسی کی طرف گیا ، ایک ہاتھ سے اس کا جھولا تھامے جیب میں موجود دوسرا ہاتھ باہر نکال کر اس کے سامنے کیا ، ہتھیلی پر سفید پھول رکھے تھے
“” سفید لباس والی ملکہ کو سفید پھول عیسیٰ حیات کی طرف سے !”
وہ حیران ہوئ ، سر اٹھا کر اسے دیکھا ، مسکراہٹوں میں سے خالص ترین مسکراہٹ لئے وہ اس کی طرف پھول بڑھائے ہوئے تھا ، اس نے پھول اٹھا لئے ،جانے وہ یہ ننھے پھول کہاں سے لاتا تھا ، ناک کی طرف لے جاتے انہیں سونگھا ، پہلی بار اس کے دیئے گئے پھول نا اس نے پھینکے تھے نا مسلے تھے
” آپ کو پتا ہے بچپن میں ہم لوگ چوری چوری آم توڑنے جایا کرتے تھے ، میں مہر اور ابوبکر ، ہم ان پر مرچ اور نمک لگا کر کھاتے تھے ، ایک دن تایا نے دیکھا لہا ، بہت زیادہ ڈانٹ پڑی ” سر جھٹکتے وہ مسکرائ ، عیسیٰ کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری
” بچپن یادگار رہتا ہے “
” آپ کا بچپن کیسا گزرا ؟”
اس کا ہاتھ لمحہ بھر کر تھما
” میرا بچپن ؟”
” جی “
وہ پہلی بار اس کے بارے میں جاننا چاہ رہی تھی اور جو وہ جاننا چاہ رہی تھی وہ عیسیٰ بتانا نہیں چاہتا تھا
” میرا بچپن دادا کے ساتھ گزرا ، اور۔۔۔۔۔ “
اس کے آگے الفاظ ختم ہوگئے ، اس کا بچپن عام بچوں جیسا نہیں تھا ، نا اس نے کسی کے ساتھ مل کر شرارتیں کی تھیں ، نا وہ کسی کچی پگڈنڈی پر دوڑا تھا ، اس کا بچپن عام بچوں جیسا ہوتا تو وہ بہت شوق سے قرت کو بتانا ، سر جھٹکتے اس نے اندر پھیلتی تلخی کو کم کرنا چاہا
” یہ کیا ہیں ؟’
وہ جو اس کے جواب کی منتظر تھی اپنے ہاتھ میں تھام سبز چھوٹے چھوٹے پتوں کو دیکھا ، انگلی کے پورے سے بھی کم سائز کے پتے جو دیکھنے میں دل کی طرح لگتے تھے
” یہ سبز املی ہے ، کھٹا ذائقہ ہوتا ہے اس کا ، کھائیں گے ؟”
دو تین سبز پتے توڑ کر اس کی طرف بڑھائے ، عیسیٰ نے وہ تھام کر منہ میں رکھے ، چہرے پر کڑواہٹ پھیلی لیکن بدقت اس نے وہ نگل لئے ، قرت اب اس کی طرف سے تبصرے کی منتظر تھی
” کیسا لگا ؟”
“بہت برا ، یوں جیسے جانوروں کا کھانا ہو “
اس کی آنکھوں میں صدمہ ابھرا
” یہ جانوروں کا کھانا تھا ؟”
” بالکل ، “
وہ برے برے منہ بناتا کہہ رہا تھا ایک ہاتھ سے اب بھی اس کا جھولا جھلا رہا تھا
” ایسے تو پھر انسان ساگ بھی نا کھائے ، وہ بھی جانوروں کا ہی کھانا ہے “
وہ ناراضگی سے اٹھ کھڑی ہوئ ، عیسیٰ نے اس کے پیچھے جاتے زبان سے سے اس ذائقے کو جھٹکا ، حلق تک خراب ہوگیا تھا
” میں نے صرف سچ بولا ہے “
ہاں ٹھیک ہے وہ اسے ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑی تھا وہ اسے جانوروں کی خوراک کھلا کر تعریف کرنے کا کہا
” آدھا سچ کہیں ، اسے انسان بھی کھاتے ہیں “
اس نے دو پتے توڑ کر منہ میں رکھے ، کہ دیکھیں انسان بھی کھاتے ہیں ،عیسیٰ نے سر ہلادیا ، کھاتے ہوں گے ، وہ کھارہی تھی تو کھاتے ہوں گے
” میں ویسے ہی اپنی رائے دے رہا تھا لیکن اس کا ذائقہ اتنا بھی برا نہیں ہے “
گلا کھنکھارتے اس کی ناراضگی دور کرنی چاہی ، انسان کو بہت زیادہ سچ نہیں بولنا چاہئے، اس نے سوچا
” رہنے دیں ، برگر قسم کے لوگ ہیں آپ اسلام آباد والے “
وہ پھر سے پگڈنڈی پر چڑھ گئ ، اب وہ کہے کہ گرجائوگی تو وہ واقعی گرکر دکھادے گی ، کیا مطلب جانوروں والی خوراک ؟ وہ بچپن سے یہ کھارہی تھی
” اس میں بھی اب اسلام آباد کا قصور ہے ؟”
بہت اچھے ہر قصور اس کے اور اس کے شہر کے نام ، قرت نے جواب نہیں دیا اس کا موڈ بگڑ گیا تھا
” اچھا واقعی ، اتنا برا ذائقہ نہیں تھا “
وہ خاموش رہی
” سچ کہہ رہا ہوں بھئ “
وہ خاموشی سے آگے بڑھتی گئ ،لیں جی زوجہ محترمہ ناراض ہوگئیں ،انسان کو واقعی اتنا منہ پھٹ نہیں ہونا چاہئے ، اس نے بے بسی سے سر میں ہاتھ پھیرا
” اچھا سوری ۔۔۔۔۔ “
وہ اس کے ساتھ چلتا اب اسے منانے کی کوشش کررہا تھا اور ان سے فاصلے پر کچھ دور ہی کسی کی کینہ توز نگاہوں نے ان دونوں کو دیکھا تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ اسی دوپہر واپس چلا گیا تو اس نے کچھ مطمئن سا سانس لیا کہ گھر میں وہ دوسرے درجے کی شہری بن گئ تھی
” واپس لینے کب آئوں ؟” وہ جانے سے پہلے اس سے پوچھنے لگا
” کم از کم دو ہفتے تو میں رہوں گی یہاں “
اس کا موڈ کل سے کافی اچھا تھا سو عیسیٰ کو جواب بھی صحیح سے دے رہی تھی
” دو ہفتے ؟ “
” تین ہفتے بھی ہوسکتا ہے “
” بالکل نہیں ۔۔” وہ تیزی سے بولا ” میں دو ہفتے تک آجائوں گا لینے “
” ٹھیک ہے “
وہ خاموش ہی رہ گئ کہ فلحال اس سے کچھ کہنے یا جھگڑنے کا ارادہ نہیں تھا
اس کے جانے کے بعد وہ لمبی تان کر سوگئ ، اور جب اٹھی تو شام ہورہی تھی ، مہر اور اماں باہر تھیں سو وہ بال باندھتی باہر آگئ
” کھانے میں کیا پکارہی ہیں اماں ؟”
“آلو مٹر “
” صرف آلو مٹر ؟ داماد کیلئے اتنا کچھ اور میرے لئے صرف آلو مٹر ؟” قدرے کسلمندی سے ان کے ساتھ بیٹھ گئ ، مہر آٹا گوندھ رہی تھی ، اس نے کام کروانے کا کہا تو اماں نے ڈانٹ دیا
” میکے آکر بھی کام کروگی ؟ آرام کرو بس “
” سسرال میں کون سا کام کرتی ہوں اماں ، ملازم ہیں وہاں ” وہ نرمی سے کہتی آلو کاٹنے لگی
” رویہ کیسا ہے سب کا ؟”
” اچھا ہے ، آنٹی تو بہت سوئیٹ سی ہیں ، اور انکل بھی اچھے ہیں “
” اور عیسیٰ ؟” اس کا ہاتھ تھما
” اچھے ہیں وہ بھی “
” مجھے تو بہت با اخلاق لگا ، جب تمہارے ابا کو ہارٹ اٹیک آیا تھا تو ہر دو گھنٹے بعد فون کرتا تھا پوچھنے کیلئے ، ہسپتال میں بڑے ڈاکٹر صاحب سے بھی اسی نے بات کروائ تھی ، وہ فون نا کرتا تو پتا نہیں کیا ہوتا ، تمہارے تایا لوگ تو تمہاری رخصتی کے بعد یوں پرائے ہوئے تھے جیسے ۔۔”
اگلے الفاظ انہوں نے روک لئے ، قرت خاموشی سے سبزی کاٹے گئ
” واقعی اماں عیسیٰ بھائ نے بہت مدد کی ، ابوبکر نے تو سب سے پہلے انہی کو کال کی تھی آپی ، وہ تو ابا نے ہی منع کردیا تھا عیسیٰ بھائ کو کہ آپ کو نا بتائیں آپ پریشان ہوجاتیں ” قرت نے سر اٹھا کر مہر کو دیکھا ، وہ آٹا رکھتی ان کی طرف آرہی تھی
” ابا نے منع کیا تھا ؟”
” جی ، وہ تو میں نے غصے میں بتادیا ” آواز شرمندگی سے آہستہ ہوگئ ” ورنہ ابا نے تو عیسیٰ بھائ کو منع کردیا تھا “
وہ وہیں رہ گئ جہاں تھی ، کتنا سنا دیا تھا اس نے عیسیٰ کو کہ وہ ہوتا کون تھا اسے نا بتانے والا اور اس نے ایک بار بھی نا کہا کہ اسے ابا نے ہی منع کیا تھا ، دل میں ڈھیروں شرمندگی سی اٹھی
” اس لڑکی کی زبان تو خندق جیسی ہے ، تمہارے ابا نے کہا بھی تھا کہ نا بتائیں ، عیسیٰ کہہ رہا تھا کہ وہ تمہیں ملوانے لائے گا دوچار روز تک ، صبر تو ہوتا نہیں ہے مہر سے ” اماں اب مہر کو ڈانٹنے لگیں اور وہ جواب میں کوئ وضاحت دینے کی کوشش کرنے لگی جبکہ قرت کا دھیان کہیں اور تھا
اتنی شرمندگی ہونے لگی کہ بس
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ رات کو سونے لگی تو اس کا میسج آ گیا
” واقعی دو ہفتے بعد لینے آئوں ؟”
” میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ تین ہفتے بعد بھی آ سکتے ہیں ” وہ مسکراتے ہوئے ٹائپ کرنے لگی
” آپ کتنی ظالم ہیں “
” آپ کتنے رحمدل ہیں “
” ہمارا کمرہ آپ کو مس کررہا ہے “
” صرف کمرہ ؟” بے ساختہ ٹائپ کیا پھر فورا ڈلیٹ کردیا
” میں بھی ” اففف اس نے شاید اوپر نوٹیفیکیشن میں میسج پڑھ لیا تھا
” میں آنٹی کا پوچھ رہی تھی ” شرمندگی مٹانے کو کہہ دیا
” آنٹی کے بیٹے کے بارے میں کیا خیال ہے ؟” اس نے لمحے کو سوچا پھر لکھا
” آنٹی کا بیٹا اپنی مرضی سے واپس گیا تھا “
” آنٹی کی بہو نے روکا بھی نہیں تھا ” وہ دوسری طرف تھوڑا حیران ہوا تھا کہ جواب مسلسل آرہے تھے ورنہ وہ اکثر اس کے میسجز اگنور کردیتی تھی
” اماں اور ابا نے روکا تھا آپ کو “
” میں آپ کی بات کررہا ہوں “
” میرا روکنا ضروری تھا ؟”
” بالکل ۔۔۔آپ کہتیں تو میں رک جاتا ” اس نے وہ میسج پڑھا اور کتنی ہی دیر اس ایک میسج کو دیکھے گئ ، پھر جواب دیئے بغیر موبائل رکھ دیا
کچھ سردمہری سی تھی جو اسے آگے نہیں بڑھنے دے رہی تھی ، کوئ مٹتی نفرت سی تھی جسے وہ زبردستی زندہ رکھے ہوئے تھی ، دل کہتا اسے معاف کردو اسے یاد کرنا پڑتا کس لئے معاف کرنا ہے ، اس کی خطا بھولتی جارہی تھی ، اپنا جرم یاد تک نا رہا تھا ، جانے کب وہ اس چیز کیلئے تیار ہوتی کہ اپنے تعلقات عیسیٰ کے ساتھ بہتر کر سکے
