Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 31)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 31)
Nahal By Fatima Noor
گھر والوں سے اس کی بات عیسیٰ کے موبائل پر ہوجاتی تھی ، زیادہ تر ابا سے ہی بات ہوتی تھی یا وہ گھر کے نمبر پر کال کرلیتی اور اماں اس سے تشویش سے بس پوچھتی ہی رہ جاتیں کہ وہ خوش تھی یا نہیں ؟ سب ٹھیک تھا ؟ عیسیٰ کا رویہ اس کے ساتھ کیسا تھا؟
وہ انہیں جتنا مطمئن کرلے اگلی مرتبہ گفتگو کا آغاز پھر وہیں سے ہوتا
عیسیٰ تمہارے ساتھ کیسا ہے ؟
سسرال والوں کا رویہ کیسا ہے ؟
تم خوش ہو ؟
اماں کو اس کی خوشی کا احساس آخر میں آتا ، سسرال کے رویے کی فکر پہلے ستاتی ، جانے مائوں کو کیوں لگتا ہے کہ سسرال والوں کے رویے سے بیٹی کی خوشی جڑی ہے
گو عیسیٰ نے اس سے کہا بھی تھا کہ وہ اسے نیا موبائل لا دے گا لیکن اس نے منع کردیا
” میں کیا کروں گی موبائل کا ؟”
اس کے پاس کبھی بھی اپنا اکیلا موبائل نہیں رہا تھا ، جو موبائل گھر میں تھا وہی وہ سب بہن بھائ استعمال کرلیتے ، نا اسے کسی سے رابطہ رکھنا ہوتا نا کسی اور چیز کا شوق تھا
” مجھ سے باتیں کیجئے گا “
شرارت سے اسے دیکھا
” آپ سے گھر پر بات ہوجاتی ہے “
” میں دن کا آدھا وقت آفس میں ہوتا ہوں اس وقت بات کرلیجئے گا “
” میں آنٹی کے ساتھ مصروف ہوتی ہوں ، آپ سے بات ویسے بھی نہیں ہوپائے گی ” وہ نظریں چرا کر رہ جاتی
اور اس کی مصروفیت کیا تھی یہ بھی اس نے جان لی ، اس دن وہ کوئ فائل بھول گیا تھا سو واپس گھر آیا تو گارڈ دروازے کے باہر کھڑا تھا
” تم کیوں باہر ہو ؟”
” میڈم جی نے منع کیا ہے اندر آنے سے “
وہ اچھنبے سے گاڑی وہیں باہر پارک کرتا اندر آیا تو گارڈ کے باہر ہونے کی وجہ بھی سمجھ آگئ
سامنے ہی مام اور قرت گارڈننگ کررہی تھیں ، اردگرد ڈھیروں نئے پلانٹس پڑے تھے ، کچھ ڈیکوریشن کیلئے پیسز بھی ، وہ دونوں اتنی مگن تھیں کہ اس کے آنے کا احساس تک نا ہوا ، چونکیں تو تب جب وہ بالکل ان کے ساتھ آکھڑا ہوا
” میری بیوی کو بھی اپنے ساتھ لگالیا آپ نے ؟”
وہ جو دوپٹہ سامنے پھیلائے آلتی پالتی مار کر گود میں کوئ پودا رکھے بیٹھی تھی چونکی
عیسیٰ سامنے کھڑا تھا
” میں خود آنٹی کے ساتھ آئ تھی “
اسے دیکھتے وضاحت دی کہ کہیں شہوار کو برا ہی نا لگ جائے لیکن انہوں نے گویا عیسیٰ کی بات کو سرے سے نظرانداز کیا تھا
” کس لیے واپس آئے ہو ؟”
” فائل لینی تھی ایک “
” تو لو اور جائو ادھر سے ، میں اور قرت مصروف ہیں “
وہ سمجھ کر سر ہلاگیا ، یہی تو وہ مصروفیت تھی جس کی وجہ سے محترمہ اس سے بات نہیں کرسکتی تھیں
” آپ کی اسی مصروفیت کی وجہ سے میری بیوی نے موبائل لینے سے منع کردیا ، وہ مجھ سے بات نہیں کرسکتیں کیونکہ وہ مصروف ہیں “
وہ منہ پھٹ تھا اور بلا کا تھا ، قرت کو آج احساس ہوا ، شہوار نے سر گھوما کر قرت کو دیکھا ، وہ گود میں موجود پودے کے کاٹ چکے پتے مزید کاٹنے لگی ، چہرے پر سرخی تھی
” اور کیونکہ تمہیں نظر آرہا ہے کہ وہ مصروف ہے تو جائو اور اپنا کام کرو “
” اسے مصروفیت نہیں ٹائم پاس کہتے ہیں “
جواب نہیں آیا، دونوں خواتین نے اسے مکمل نظرانداز کیا تو وہ بھی سر جھٹکتے اندر کی طرف بڑھ گیا
” اس پیس پر کون سا ڈیزائن کہہ رہی تھیں تم ؟” شہوار نے لکڑی کا بنا وہ گول واز کے اس کے سامنے کیا تو وہ ان کی طرف آئ پھر دروازے کو دیکھا
” میں نے ڈیزائنز کی پکس عیسیٰ کے موبائل میں ڈائنلوڈ کی تھیں ، آپ رکیں میں ان کا موبائل لے کر آتی ہوں “
دوپٹہ سیدھا کیا اور اندر کی طرف بڑھ گئ ، وہ جانتی تھی کہ عیسیٰ سٹڈی میں ہوگا سو سیدھا وہیں گئ
سامنے وہ ریک میں کچھ فائلز ادھر ادھر کررہا تھا
” سنیں “
” سنائیں ” رک کر پلٹ کر مسکرا کرجواب دیا ، وہ تھوڑا سا مزید آگے آئ
” آپ کا موبائل چاہئے تھا ایکچولی ۔۔۔۔”
بات منہ میں رہ گئ عیسیٰ نے جھٹ سے موبائل نکالا اور اس کی طرف بڑھایا
” ایک ہاتھ سے وہ کوئ فائل کھولے کھڑا تھا ، قرت نے موبائل لے کر آن کیا
” پاسورڈ ؟”
” بیس اکتوبر “
صفحے پلٹے ہوئے مصروف سا جواب دیا ، وہ سر ہلاتی باہر کی طرف بڑھی ، کل ہی شہوار نے کہا تھا کہ مل کر لان میں نئے پودے لگائیں گے تو ابا سے بات کرنے کے بعد اس نے یوں ہی عیسیٰ کے موبائل میں کچھ ڈیزائنز کی پکس ڈائنلوڈ کرلیں جو گملوں پر پینٹ کرنے تھے ، باہر کی طرف جاتے ہوئے اس نے وہ نمبرز موبائل سکرین پر لکھے
بیس اکتوبر
ہاتھ لمحہ بھر کو رکے ، وہ دس دن پہلے کی تاریخ تھی ، دس دن پہلے ؟ ، اس نے رخ موڑ کر عیسیٰ کو دیکھا ، وہ کوئ فائل اٹھائے ہوئے تھا، قرت کے گلے میں کچھ اٹکا پھر وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھی
وہ ان کے نکاح کی تاریخ تھی
وہ شخص عجیب تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
سردیوں کی آمد تھی سو شہوار کے کہنے پر عیسیٰ اسے شاپنگ پر لے آیا
” کتنا اچھا ہوگا اگر آپ میری پسند سے ڈریسز لیں “
وہ جو ایک سوٹ کو اٹھا کر دیکھ رہی تھی عیسیٰ کے پیچھے سے کہنے پر گھوم کر اسے دیکھا
” آپ کا پسندیدہ رنگ کون سا ہے ؟”
سوٹ کو سینے سے لگائے اس سے پوچھا
” پرپل ، اورنج اور مہرون ، کیا آپ اب یہ کہیں گی کہ آپ میرے پسندیدہ رنگ میں ڈریس لیں گی ؟”
وہ حیران ہوا
” نہیں ۔۔۔” اس نے رخ موڑا ” میں ان تین رنگوں کے علاوہ کسی رنگ میں ڈریس لوں گی “
اطمیان سے کہتے ہوئے سیاہ سوٹ اٹھایا ، عیسیٰ کا موڈ بگڑا
” نارمل بیویاں اپنے شوہر کی پسند کو ترجیح دیتی ہیں “
” میں نارمل بیوی نہیں ہوں آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں “
” بھولنے کہاں دیتی ہیں آپ “
آواز میں کوئ شکوہ سا در آیا
” اچھا ہے کہ آپ کو یاد رہے “
اس نے کچھ نہیں کہا ، اگر ان کا رشتہ نارمل ہوتا تو شاید وہ اس کی پسند سے ڈریسز لیتی ، لیکن ان کا رشتہ نارمل نہیں تھا
اپنے لئے ڈریسز لینے کے بعد ایک عبایا شاپ سے گزرتے ہوئے اس کے قدم خود بخود اندر کی طرف بڑھ گئے ، سٹینڈ پر ڈھیروں عبایا لٹکا رکھے تھے ، انہیں آگے پیچھے کرتے وہ کچھ اشتیاق سے دیکھ رہی تھی ، عام نقابی لڑکی کا سا جوش ، عبایا کو دیکھ کر دل میں آنے والا سب سے پہلا خیال کہ کاش وہ یہ سارے لے سکتی
” آپ نے لینے ہیں تو لے لیں “
عیسیٰ کی آواز پر اس نے پلٹ کر اسے دیکھا
” میرے پاس پہلے ہی بہت ہیں پڑے “
وہ اسے دیکھتی رہی ، مشرقی بیوی کی نظر ، بھلے وہ بظاہر منع کررہی تھی لیکن وہ چاہتی تھی کہ شوہر محترم اسے وہ چیز لازماً لے کر دیں ، وہ فلاں فلاں چیز کے لئے منع کرے گی لیکن وہ چاہتی ہے کہ فلاں فلاں چیز اسے لے کر دی جائے ، وہ شوہر کا خیال کرتے ہوئے منع کرے گی لیکن شوہر کو چاہئے کہ والٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دے ، عیسیٰ مسکرایا
” آپ کے پاس پہلے ہیں پڑے لیکن یہ نہیں ہوں گے”
وہ آگے بڑھا ، سٹینڈ پر لٹکے عبایا میں سے دو اٹھائے اور اسے دکھایا
” یہ ٹھیک ہیں ؟”
قرت نے بمشکل مسکراہٹ دبائ ، وہ کفتان نما عبایا پکڑے کھڑا تھا ، بڑے بڑے پھولوں والے ، نفی میں سر ہلاتے وہ آگے بڑھی ، ایک سفید اور ایک سیاہ عبایا نکالا اور اسے دکھایا
” مجھے ایسے سادہ پسند ہیں”
عیسیٰ نے کان کھجایا ، وہ خواتین کی شاپنگ کے معاملے میں کورا تھا
بل پے کرتے ہوئے وہ ابھی پلٹا ہی تھا جب پیچھے سے آتی تانیہ پر نظر پڑی جو اسی کی طرف آرہی تھی
” اوہ عیسیٰ ، کیسے ہو ؟” عیسیٰ بدقت رکا
” فائن، تم کیسی ہو ؟ “
مختصرا جواب دیا ، قرت وہیں کہیں شاپ میں تھی ، بیگز عیسیٰ کے پاس تھے
” بالکل ٹھیک ، میں ملک سے باہر تھی کل ہی آئ ہوں ، صوفیہ بتارہی تھی کہ تم نے شادی کرلی ؟ ، یقین کرو ہم سب کو لگا تھا کہ تم دونوں شادی کرنے جارہے ہو ، تم دونوں مطلب تم اور صوفیہ ” عیسیٰ کے پیچھے سے آتی قرت رکی
” صوفیہ تم سے محبت کرتی تھی عیسیٰ ،تم اس کے ساتھ ایسا کیسا کرسکتے ہو ؟”
” کیا ہم بعد میں بات کرسکتے ہیں تانیہ ؟”
وہ مزید کچھ بولتی اس سے پہلے ہی وہ بول پڑا ، دل میں بے اختیار شکر ادا کیا کہ قرت وہاں نہیں تھی اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس کے پیچھے ہی کھڑی تھی
“Sure ..”
“Thanks …”
وہ پلٹا اور پھر رک گیا ، نظر قرت پر گئ
” قرت ۔۔۔”
” میں باہر جارہی ہوں ۔۔”
وہ بنا کچھ کہے سنے باہر کی طرف بڑھ گئ
” یہ تمہاری بیوی تھی ؟ “
وہ گہری سانس لیتے پلٹا
” بہت شکریہ میرا دن برباد کرنے کے لئے “
تانیہ کی مسکراہٹ غائب ہوئ
” مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ سن لے گی آئ ایم سوری “چہرے پر افسوس جھلکا
” بالکل ، تم نے ہمارے ریسپشن کی پکس بھی نہیں دیکھی ہوں گی ، صوفیہ نے تمہیں قرت کے پردے کا بھی نہیں بتایا ہوگا ، انفیکٹ ابھی تم نے ہم دونوں کو ساتھ شاپنگ کرتے بھی نہیں دیکھا ، سو اٹس اوکے ” بے تاثر لہجے میں کہتے وہ باہر کی طرف بڑھا ، ان کے بیچ چیزیں درست ہونے سے پہلے مزید خراب ہوجاتی تھیں، اس نے تانیہ کا پھیکا پڑتا چہرہ نہیں دیکھا تھا
وہ ایک بیگ اٹھائے باہر کی طرف بڑھ رہی تھی جب عیسیٰ اس تک پہنچا
” وہ جان بوجھ کر ایسا کہہ رہی تھی “
وہ اس کے سامنے آیا تو وہ رک گئ
” یہ بھی کہہ دیں کہ وہ جھوٹ تھا “
” وہ جھوٹ تھا “
اس کی آنکھوں میں افسوس ابھرا
” ایک اور جھوٹ اور دھوکہ عیسیٰ ؟”
” میں نے نا ہی کوئ جھوٹ بولا ہے اور نا ہی دھوکہ دیا ہے وہ واقعی جھوٹ بول رہی تھی ، آپ میرے حال میں موجود واحد عورت ہیں “
” وہ آپ کا ماضی تھی “
” میرا ماضی بھی آپ ہیں “
” یہ بھی جھوٹ ہوگا “
عیسیٰ گہری سانس لیتا دو قدم آگے ہوا
” یہ سب سے بڑا سچ ہے ، میرا ماضی آپ تھیں حال آپ ہیں اور مستقبل بھی آپ ہی رہیں گی ، آپ کو میری آنکھوں میں اپنا عکس نظر نہیں آتا ؟” آواز میں قدرے بے بسی جھلکی ، قرت نے عرصہ ہوا اس کی آنکھوں میں دیکھنا چھوڑ دیا
وہ باغ کی کچی روش پر کھڑ ا اس سے کہہ رہا تھا کہ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بتائے کہ کیا اس کی محبت جھوٹ ہے ؟
اس نے ایک بار ان آنکھوں میں دیکھنے کی غلطی کی تھی ، آنکھیں جھوٹ نہیں بولا کرتیں لیکن قرت العین کو اب عیسیٰ حیات کی آنکھوں میں موجود سچائ سے ڈر لگتا تھا
” گھر چلیں ؟” رخ موڑ کر سنجیدگی سے اس سے پوچھا ، عیسیٰ نے ہاتھ بڑھا کر اس سے بیگ لے لیا
” آپ بہت سی باتیں ادھوری چھوڑ دیتی ہیں قرت ۔۔۔”
” کیونکہ بہت سی باتیں اب میرے لئے اذیت سے زیادہ کچھ نہیں رہیں ، “
وہ آگے بڑھ گئ عیسیٰ نے رخ موڑ کر شاپ کو دیکھا جہاں تھوڑی دیر پہلے تانیہ سے ملاقات ہوئ تھی
زین صحیح کہہ رہا تھا صوفیہ سے ایک ملاقات ضروری ہوگئ تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
واپسی کا سارا راستہ انہوں نے خاموشی سے طے کیا ، عیسیٰ ڈرائیونگ کرتا رہا اور وہ باہر دیکھتی رہی ، حلق میں بہت کچھ اٹک رہا تھا ، وہ اس کی محبت کی سچائ سے واقف تھی لیکن اس کی محبت قرت العین کیلئے صرف اذیت لائ تھی
گھر واپسی پر شہوار ان کی منتظر تھیں تاکہ اس کی شاپنگ دیکھ سکیں ، ملازمہ سارے بیگز لے کر لائونج میں رکھ گئ ، وہ دونوں وہیں بیٹھ گئے
” تم بہت سادگی پسند نہیں ہو قرت ؟”
اس کی ساری شاپنگ دیکھنے کے بعد یہ وہ پہلی بات تھی جو شہوار نے کہی تھی ، وہ بدقت مسکرائ
” مجھے ہیوی ڈریسز پسند نہیں آتے “
” کلر بھی عیسیٰ کے فیورٹ لئے ہیں تم نے ویسے ” اب کے مسکرا کر اسے دیکھا تو قرت کی نظر بے اختیار عیسیٰ پر گئ ، صوفے پر بیٹھے ٹانگ پر ٹانگ جمائے وہ موبائل دیکھ رہا تھا ، ہونٹوں کے کناروں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی
” پرپل، اورنج اور مہرون ۔۔”
اسے لمحہ لگا سمجھنے میں کہ وہ تینوں اس کے پسندیدہ رنگ نہیں تھے ، بلکہ ناپسندیدہ تھے اور وہ چاہتا تھا کہ وہ ان کے علاوہ کسی اور رنگ میں ڈریس لے اور وہ بیوقوف اس کی مخالفت میں وائٹ بلیک اور گرے میں سارے سوٹ لے آئ تھی حالانکہ اسے یہ تک یاد نا رہا کہ عیسیٰ کے خود کے زیادہ تر سوٹ بلیک اور وائٹ میں تھے ، خود پر ڈھیروں ڈھیر غصہ آیا
شہوار اب اس کے ڈریسز اوپر رکھوارہی تھیں وہ بھی تھکن کا بہانہ بناتی اوپر آگئ
تھوڑی دیر پہلے والی کوفت اب غصے میں بدل گئ تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
پھر اس کے منع کرنے کے باوجود بھی عیسیٰ نے اسے موبائل لاکر دے دیا
” میں کیا کروں گی موبائل کا “
وہ جھنجھلائ
” مجھے میسجز اور میرے میسجز کا انتظار “
ٹائ کی گرہ لگاتے ہوئے اسے دیکھا
” میں نہیں کروں گی میسجز “
” میں کردوں گا “
” میں رپلائے نہیں کروں گی “
” کال کا آپشن بھی موجود ہے “
مسکراہٹ دبائ
” بلاک کا بھی ہوگا ؟”
عیسیٰ ہنس دیا
” ان بلاک کا بھی ہے “
” میری زندگی سے بلاک ہونے والوں کو میں ان بلاک نہیں کیا کرتی ۔۔”
کچھ جتلایا ، عیسیٰ نے کوٹ اٹھا کر اسے دیکھا
” مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے “
کسی کرب زدہ مسکراہٹ سے کہتے وہ نیچے کی طرف بڑھا ، قرت سر جھٹکتے اس کے پیچھے گئ
پھر دوپہر تک وہ اسے مسلسل میسجز کرتا رہا اور اگنور کرتی رہی ، نمبر سارے عیسیٰ نے ہی سیو کئے تھے ، اپنا ، شہوار ، حیات ایک دو اور لوگوں کا، اپنے گھر کا اس نے خود سیو کیا تھا ، اور جب اس کا پہلا میسج آیا تو وہ شہوار کے ساتھ بیٹھی تھی
میسج کی ٹون بجنے پر دونوں کی نظر موبائل پر گئ
ہزبینڈ ڈیئرسٹ کی طرف سے میسج آیا تھا
” ڈنر پر چلیں گی میرے ساتھ ڈیئر وائفی ؟”
اس نے آنکھیں میچیں ، شہوار نے میسج دیکھ لیا تھا، اففف یہ عیسیٰ ، یہ بھی کوئ نام تھا ؟ اپنا نام نہیں لکھ سکتا تھا ؟
” رپلائے تو کردو ۔۔”
اسے موبائل واپس رکھتے دیکھ شہوار محظوظ سی مسکراہٹ سے بولیں تو اس نے اندر ہی اندر جھنجھلاتے ہوئے بادل نخواستہ اسے جواب دیا
” جی نہیں ۔۔”
دوسری طرف اپنے آفس میں میٹنگ روم میں بیٹھے عیسیٰ نے مسکراہٹ دبا کر اس کا میسج دیکھا پھر رپلائے کیا
” شاپنگ پر ؟ “
“نہیں “
” آئسکریم ؟”
” صاف انکار ۔۔۔” وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے روم کی طرف جارہی تھی
” بکس لینے ؟”
” میں ایسی آفرز سے متاثر نہیں ہوتی “
اب کے وہ ہلکا سا ہنس دیا، پریزینٹیشن دیتے لڑکے نے رک کر اسے دیکھا ، عیسیٰ کو یکدم احساس ہوا وہ میٹنگ روم میں تھا ، اس کے ہنسنے پر ہر کسی کی نظر اس پر گئ ، چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے موبائل رکھ دیا
” جاری رکھیں شاہد ۔۔۔”
انگلی ہونٹوں پر جمالی ، ۔مسکراہٹ تھی جو لبوں سے جدا ہی نہیں ہورہی تھی
دوسری طرف قرت نے موبائل رکھ کر وارڈروب کھولی اسے شہوار کے ساتھ کہیں جانا تھا ، دھیان البتہ موبائل کی طرف ہی تھا ، لاشعوری طور پر وہ اس کے اگلے میسج کی منتظر تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کس قدر بیزاری اور اکتاہٹ سے اس نے اردگرد دیکھا ، ساری ایلیٹ کلاس کی خواتین وہاں جمع تھیں ، رنگ برنگے ملبوسات پہنے، کچھ مغرور کچھ سٹائلش سی اور ان سب میں سیاہ برقعے اور نقاب میں بیٹھی وہ عجیب سی لگ رہی تھی ، یہ ماحول اس کے لئے کمفرٹیبل نہیں تھا
شہوار کی کسی دوست کی طرف پارٹی تھی اور وہ اسے ساتھ لے کر آئ تھیں ، وہ گھر پہ بور ہورہی تھی سو ان کے ساتھ آگئ اب یہاں مزید بور ہورہی تھی ، ہر دوسری عورت عیسیٰ حیات کی بیوی کا سن کر اسے سر تا پیر گھورتی ، عجیب نظریں، یہ تھی عیسیٰ کی بیوی ؟ اور وہ بس پہلو بدل کر رہ جاتی
، شہوار اپنی دوستوں کے ساتھ تھیں اور وہ سنسان سے کونے میں بیٹھی سب کو دیکھ رہی تھی ، تبھی نظر اس کی طرف آتی صوفیہ پر پڑی ، اس کی بیزاری مزید بڑھی
اس لڑکی سے اسے خواہمخواہ کی چڑ ہوگئ تھی ، کیوں؟ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی
” ہیلو قرت کیسی ہو ؟” اس کے ساتھ کوئ اور لڑکی بھی تھی
” ٹھیک ہوں صوفیہ آپ کیسی ہیں ؟”
موڈ کے برعکس لہجے میں نرمی تھی
” فائن ، بور ہورہی ہیں ؟”
اس نے وائٹ جینز پر پرپل شرٹ پہنی ہوئ تھی شرٹ نیچے سے کافی چھوٹی تھی وہ جب گھومتی تو شرٹ اوپر اٹھ جاتی
” جی کافی حد تک ۔۔”
” آئ نو یہ آپ کیلئے تھوڑا بورنگ ہوگا لیکن عادت ہوجائے گی جلد ہی “
اس کی توبہ جو آئندہ ایسی کسی پارٹی میں گئ لیکن پھر بھی سر ہلادیا
” ویسے قرت نقاب کیوں کررکھا ہے ؟ آئ مین یہاں تو صرف فی میل ہی ہیں ؟” صوفیہ کے ساتھ موجود لڑکی اسے کچھ عجیب نظروں سے دیکھتی مسکرائ ، قرت کی نظر بے ساختہ اِدھر اُدھر گئ ، کونے میں گٹارسٹ کا ایک گروپ بیٹھا تھا جو کوئ دھن بجارہے تھے ، لان کے اختتام پر گارڈ ٹھہرے تھے ، ادرگرد ویٹر بھی گھوم رہے تھے
” میں شرعی پردہ کرتی ہوں “
قدرے سکون سے اسے بتایا
” ہاں لیکن یہاں ۔۔”
” اوہ فلزا ڈارلنگ چھوڑو بھی اس بات کو ” صوفیہ نے درمیان میں ہی اسے کاٹ دیا ” تم یہ بتائو قرت عیسیٰ کہاں ہے ؟ بزی ہوگیا ہے آج کل “
” جی ، آفس میں بزی ہوتے ہیں “
” کچھ زیادہ ہی بزی ہوگیا ہے عیسیٰ ، ایک وقت وہ بھی تھا جب وہ ہمارے ساتھ کلبز میں بیٹھا کرتا تھا ، پارٹیز میں جایا کرتا تھا “
وہ نزاکت سے ہنسی ، قرت نے پہلو بدلا
” میں بھی وہی کہہ رہی تھی صوفی ، کیسے بدل گیا ہے اب عیسیٰ ، حالانکہ ماضی میں وہ ایک لاپرواہ لڑکا ہوتا تھا ، انگلینڈ میں کافی انجوائے کرتے تھے ہم، اب تو بالکل ہی بدل گیا ہے”
” بالکل۔۔۔۔ ابھی کل۔۔۔۔۔”
” میرا خیال ہے ماضی کا زکر نا ہی کریں تو اچھا ہوگا “
اس نے ان دونوں کی بات کاٹ دی ، صوفیہ اور فلزا پل بھر کو خاموش ہوگئیں ، پھر فلزا کچھ دلچپسی سے آگے کو ہوئ
” تمہیں تمہارے شوہر کے ماضی کا زکر ناگوار لگ رہا ہے ؟”
” مجھے میرے شوہر کے ماضی کا زکر کسی اور کے منہ سے سننا ناگوار لگ رہا ہے “
” اس نے شاید تمہیں بتایا نہیں کہ ماضی میں ، جب وہ لندن میں تھا تو اس کی کافی لڑکیوں سے دوستی تھی “
قرت کے ماتھے پر بل پڑے ، یہ دونوں کیا اسے عیسیٰ سے بدظن کرنے آئ تھیں ؟ حالانکہ انہیں اس کی ضرورت نہیں تھی
” اگر ماضی اتنا ہی ضروری ہوتا تو عیسیٰ مجھے بتادیتے مس فلزا ، انہوں نے نہیں بتایا اس کا مطلب ہے ہم ماضی اہم نہیں سمجھتے “
” ہم صرف تمہارا بھلا چاہتے ہیں ، میرا مطلب ہے کہ وہ لوگوں سے بہت جلدی اکتا جاتا ہے ، وہ لوگوں کو بہت جلدی بھول جاتا ہے ، اس کی بہت سی محبتیں وقتی تھیں “
اب کے اس کی آنکھوں میں صاف ناگواری ابھری ، صوفیہ خاموشی سے ان دونوں کو بات کرتے دیکھ رہی تھی
” لوگوں کو بھول جاتے ہیں اپنوں کو یاد رکھتے ہیں ” اس کا لہجہ سپاٹ سا ہوا
” اپنوں کو بھی بھول جاتا ہے ، مجھے بھی بھول گیا تھا “
صوفیہ نے پہلی بار مداخلت کی ،گویا اسے بتانا چاہا کہ وہ بھی عیسیٰ کی اپنی تھی ،قرت آگے کو ہوئ اور اس کی آنکھوں میں دیکھا
” مجھے تو یاد رکھتے ہیں ہمیشہ “
صوفیہ لاجواب ہوئ پھر مسکرا کر سر جھٹکا
” تمہارا غرور بنتا ہے “
” غرور نہیں ہے ، فخر کہہ سکتی ہیں ، انہوں نے دو ملاقاتوں کے بعد بھی مجھے یاد رکھا حالانکہ وہ مجھے جانتے تک نہیں تھے ، وہ چند لوگوں کے ساتھ بہت وفادار ہیں اور میں ان چند لوگوں میں شامل ہوں ” مسکرا کر انہیں جتلایا
” تم ٹھیک کہہ رہی ہو ہم تو صرف اس کے پرانے دنوں کو یاد کررہے تھے ” فلزا نے ایک بار پھر جیسے اسے تپانا چاہا
” حالانکہ پرانے دنوں کو بھول کر آگے بڑھ جانا زیادہ بہتر ہوتا ہے ، عیسیٰ بھی آگے بڑھ گئے ہیں اس لئے نا وہ پرانے دنوں میں رہنا چاہتے ہیں نا میں ، آپ لوگوں سے بات کرکے خوشی ہوئ ، خدا حافظ “
وہ اٹھی پاس پڑا بیگ اٹھایا اور آگے بڑھ گئ ، بڑی آئ تھیں عیسیٰ سے اسے بدظن کرنے ، اسے عیسیٰ سے لاکھ شکوے صحیح ، وہ بھلے اس سے نفرت کرتی ہو لیکن کم از کم اس کی محبت پر اسے شک نہیں تھا
شہوار کی طرف جاتے ہوئے اس کا موڈ ایک بار پھر سے خراب تھا ، وجہ کیا تھی وہ لا علم تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وارڈروب بند کرتے وہ صوفے تک آئ اور وہاں پڑی کتاب اٹھا کر عیسیٰ کو دیکھا ، وہ بیڈ پر لیپ ٹاپ اور فائلز رکھے کام میں مصروف تھا ، ساتھ رکھی کافی ٹھنڈی ہوچکی تھی
قرت صوفے پر آلتی پالتی مارے بیٹھی اور کتاب گود میں رکھ لی ، نظر دوبارہ عیسیٰ پر گئ ، وہ عموماً آفس کا کام کمرے میں لے کر نہیں آتا تھا لیکن آج شاید بہت ضروری کام تھا
” آج میری صوفیہ سے ملاقات ہوئ تھی “
لیپ ٹاپ کے بٹن دباتے عیسیٰ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ، سامنے ہی صوفے پر نیوی بلیو سوٹ میں ملبوس قرت سکون سے بیٹھی تھی ، بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا ، دوپٹہ سامنے پھیلائے وہ بظاہر کتاب میں منہمک تھی
” کہاں پر ؟”
اسے سمجھ نہیں آئ کہ اس وقت صوفیہ کا تذکرہ کس لئے کیا گیا تھا
” آنٹی کے ساتھ گئ تھی میں آج ان کی کسی دوست کی طرف ، وہیں پر “
” آل رائٹ ۔۔۔۔۔ “
وہ اس کے علاوہ کیا کہتا
” آنٹی نے بتایا تھا کہ اس کے ڈیڈ سے آپ کے بزنس ریلیشنز ہیں “
” کافی زیادہ “
” یہ بھی کہ اس کے ساتھ دوستی بھی ہے “
” تھوڑی بہت “
” وہ ان دنوں کا تذکرہ کررہی تھی جب وہ آپ کے ساتھ اسلام آباد کے مالز گھوما کرتی تھی “
عیسیٰ کو یکدم احساس ہوا کہ کچھ غلط ہوگیا تھا
” میں کبھی اس کے ساتھ مالز نہیں گیا “
گلا کھنکھارتے اس نے کچھ محتاط لہجے میں وضاحت دی ، ساتھ رکھا کافی کا کپ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا ، اس کے آگے وہ کیا کہے گی ؟ اسے ہر جملے کیلئے تیار رہنا چاہئے ، قرت نے صفحے پر سے نگاہ ہٹا کر اسے دیکھا
” مالز میں نے کہا ہے ، وہ کلبز کا کہہ رہی تھی “
کافی عیسیٰ کے حلق میں اٹک گئ ، وہ اس جملے کیلئے تیار نہیں تھا
” اور یہ بھی کہ ماضی میں آپ کی کافی دوستیاں رہی ہیں “
لہجہ بظاہر عام سا تھا اس نے کس کے ساتھ دوستیاں رہی ہیں ، اس کی وضاحت نہیں دی تھی ، اس کی ضرورت بھی نہیں تھی ، کم از کم وہ قرت کے ساتھ بیٹھ کر زین اور اس کی دوستی کا زکر کرنے سے رہی ، اس لمحے اسے احساس ہوا اس کا ماضی اتنا قابل فخر نہیں تھا کہ وہ قرت کو اس کے بارے یہ جاننے دیتا اور اسے فکر نا ہوتی
” اور کیا کہا اس نے ؟”
کافی ٹھنڈی تھی لیکن وہ پئے گیا ، زہن میں حساب کتاب چلنے لگا ، اسے قرت کو کیسے اپنے ماضی کے بارے میں بتانا چاہئے اس طرح کے وہ بدظن نا ہو
” یہ کہ مجھے محتاط رہنا چاہئے کیونکہ بقول اس کے عیسیٰ حیات کی محبتیں وقتی ہوتی ہیں ، جیسے کہ ماضی میں تھیں “
یہ وار کاری تھا ، اس نے کافی رکھ دی ،قرت اس کی کیفیت سے بے خبر آرام سے صفحے پلٹ رہی تھی یوں جیسے یہ سب نارمل سی بات ہو ، لیکن اندر سے وہ اس کی کسی وضاحت کی منتظر تھی ، دوسری طرف خاموشی تھی ، اس نے نظر اٹھائ عیسیٰ چل کر صوفے تک آرہا تھا ، وہ کچھ جزبز ہوئ ، وضاحت دور بیٹھ کر بھی دی جاسکتی تھی
” آپ نے یقین کرلیا ؟”
اس کے ساتھ بیٹھتے سنجیدگی سے پوچھا
” کرنا چاہئے تھا ؟”
” نہیں “
” کیوں ؟”
” کیونکہ مجھے ایک عورت کے علاوہ کبھی کسی سے محبت نہیں ہوئ “
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی ، وہ سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
” میں کیسے یقین کروں ؟”
” آپ کا یہاں ہونا کیا یقین دلانے کیلئے کافی نہیں ہے ؟”
” کاش یہ وہ حقیقت ہی نا ہوتی جس پر مجھے یقین کرتا پڑتا “
کتاب پر نگاہیں جمائے اس نے کس قدر تلخی سے کہا تھا ، عیسیٰ کی نظر اس کے ہاتھ پر گئ ، کتاب کے آخری کونے کو کھرچتے وہ نگاہیں نیچے کئے ہوئ تھی
” آپ مجھے معاف نہیں کرسکتیں ؟”
اس کا صفحہ کھرچتا ہاتھ رکا
” کس چیز کے لئے ؟”
” جو کچھ ہوا اس سب کیلئے “
جو کچھ ہوا وہ سب دہرانا نہیں چاہتا تھا ، وہ اسے ازیت دیتا لیکن وہ قرت کو زیادہ اذیت دیتا
” میں نے آپ کی طرف معافی کا کوئ حساب نہیں رکھا تھا “
” پھر آپ آگے کیوں نہیں بڑھ رہیں ؟”
” مزید کتنا آگے بڑھنا ہے عیسیٰ ؟ “
” آپ اس رشتے کو قبول کیوں نہیں کرلیتیں ؟”
” میں آپ کے حقوق ادا کررہی ہوں ، اس کے علاوہ رشتے کو قبول کرنا کیسا ہوتا ہے ؟”
وہ سر اٹھا کر اس سے پوچھ رہی تھی ، وہ چند لمحے اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہا
” میاں بیوی کا رشتہ صرف حقوق اور فرائص کا نہیں ہوتا ، یہ محبت کا بھی ہوتا ہے “
اسے لگا وہ قرت سے بحث نہیں کرسکتا ، وہ اس ایک عورت سے بحث نہیں کرسکتا تھا
” محبت کو بیچ میں مت لائیں ، آپ کی محبت بیچ میں آگئ تو میری نفرت بھی آئے گی “
اس کے لہجے میں تلخی گھل گئ
” آپ کی نفرت مجھے دکھ دیتی ہے قرت “
اس کی صرف نفرت نہیں لہجہ بھی دکھ دیتا تھا
” آپ کی محبت بھی میرے لئے دکھ کا باعث بنی تھی عیسیٰ ، جو اذیت میں نے برداشت کی اس کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں “
” میں ہر اذیت کا ازالہ کرنے کو تیار ہوں “
اس نے گود میں رکھا قرت کا ہاتھ تھامتے ایک عزم سے کہا ، اس کی نظر اپنے ہاتھ پر گئ پھر عیسیٰ کی آنکھوں پر
” جو کچھ چار سال پہلے ہوا اسے بدل سکتے ہیں ؟”
وہ لاجواب ہوا
” میں۔۔۔۔۔۔”
” اسے بدل سکتے ہیں عیسیٰ ؟ ہم چار سال پیچھے چلتے ہیں ، میں آپ سے کہوں کہ میرے شہر سے چلے جائیں اور آپ چلے جائیں ، نا وہ آخری ملاقات ہو نا جواد میرے چہرے پر ہاتھ اٹھائے ، نا مجھ پر الزام لگائے جائیں ، نا میرا باپ سر جھکا کر چلے ، نا میری ماں مجھے کہے کہ کاش تم مر گئ ہوتیں قرت ، کیا وہ سب بدل سکتے ہیں ؟”
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، عیسیٰ کو شدید بے بسی نے آ گھیرا ، اسے یہ نہیں کرنا چاہئے ، وہ اس سے نفرت کرلے لیکن یہ مت کرے ، وہ ان آنکھوں میں آنسو نا لائے
” میں وہ سب نہیں چاہتا تھا “
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے سے آنسو صاف کئے ، چار سال میں پہلی بار وہ کسی کے سامنے اس سب پر روئ تھی تو کوئ تھا جو آنسو صاف کرنے کیلئے موجود تھا لیکن جو تھا اس کی موجودگی نے اسے مزید اذیت دی
” آپ کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ، آپ کو لگتا ہوگا میں بے حس ہوں ؟ میرے باپ کو بھی لگتا ہوگا ، شاید آپ نے جس جس کو بتایا ہو کہ قرت العین عیسیٰ حیات کو معاف نہیں کررہی اسے لگا ہو میں بے حس ہوں ، آپ میری اذیت محسوس کرسکتے ہیں عیسیٰ ؟ میں نے ساری زندگی محتاط ہوکر گزاری ، میں نے لوگوں کی باتیں سنیں کیونکہ میں خود پر دوگز کی چادر اوڑھتی تھی ، انہوں نے کہا تم کچھ زیادہ ہی پاکیزہ بننے کی کوشش کرتی ہو ، انہوں نے کہا لوگوں کو یہ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تم عالمہ ہو ، میں لوگوں کو یہ نہیں دکھا رہی تھی ،میں صرف اللہ کو دکھا رہی تھی کہ میں مسلمان ہوں ،پھر انہیں لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اپنا دوگز کا پردہ اتار دو قرت کیونکہ تمہارا عمل اس کے مخالف ہے ، تم اسی پردے کے ساتھ نا محرم مرد سے ملنے گئیں ، آپ یہ اذیت نہیں سمجھ سکتے عیسیٰ ، آپ ایک چھوٹے سے گائوں کی مدرسے میں پڑھنے والی قرت العین کی اذیت نہیں سمجھ سکتے ، اس سب کے بعد جب آپ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں آپ کو معاف کردوں تو آپ صرف اپنا سوچتے ہیں “
وہ مسلسل رو رہی تھی ، بنا یہ سوچے کہ مضبوطی کا بھرم ٹوٹ جائے گا ، اسے اب ٹوٹ جانا چاہئے ، وہ اس اذیت کے ساتھ تھک گئ تھی ، اس کا دل تھک گیا تھا ، عیسیٰ ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامے اسے دیکھتا رہا ، وہ اس کی اذیت سمجھ سکتا تھا ، اس سے زیادہ اذیت یہ تھی کہ اس کی اذیت کا قصوروار وہ خود تھا
” میں نے آپ کے اور اپنے معاملات کا زکر کسی سے نہیں کیا ، میں نے کسی کو نہیں بتایا کہ عیسیٰ حیات نے قرت العین کو ہر سزا ، ہر نفرت کا حق دیا ہے ، اور نہیں ، میں آپ کو مجبور نہیں کروں گا ، مجھے چوبیس سال لگے اپنے دو محبوب لوگوں کو معاف کرنے میں ، میں چار سال میں آپ سے یہ توقع رکھوں بھی تو کیسے ؟ لیکن میں بس اتنا چاہوں گا کہ خود کو مزید اذیت مت دیں ، آپ کی اذیت مجھے اذیت دیتی ہے “
” آپ کو میری زندگی میں واپس نہیں آنا چاہئے تھا عیسیٰ ” اس کے آنسو تیز ہوگئے ” میں خدا سے ڈرتی ہوں ، میں اپنے شوہر کا دل دکھانے کے معاملے میں خدا سے ڈرتی ہوں ، میں جہنم کی آگ سے ڈرتی ہوں ، آپ کو دیکھ کر اذیت بڑھ جاتی ہے ، میرا دل آپ کو قصوروار سمجھتا ہے اور زبان یہ کہہ دیتی ہے ، میں اپنی زبان کو روک نہیں سکتی ،دل کو سمجھا نہیں سکتی ، آپ کی جگہ کوئ اور ہوتا تو یہ اذیت اتنی زیادہ نا ہوتی “
” میرے علاوہ کوئ اور ہوتا تو یہ اذیت اتنی زیادہ ہوتی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں قرت …” اس نے گہرا سانس لیا ، ہر اذیت اندر تک چلی گئ ” آپ کا دل حق رکھتا ہے ، آپ کی زبان کو ہر حق معاف ،”
اس کی آنکھیں رونے کے باعث سرخ ہونے لگیں عیسیٰ کو اس سرخ رنگ نے اذیت دی
” ان آنکھوں کو اتنی اذیت مت دیا کریں ، یہ آنکھیں آپ سے زیادہ مجھے عزیز ہیں “
وہ اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا
” یہ آپ کو عزیز ہوں گی لیکن ان آنکھوں کی اذیت صرف میری ہے “
اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا لیا ، کتاب گود سے اٹھا کر میز پر رکھی اور واش روم کی طرف بڑھ گئ ، عیسیٰ کا ہاتھ اور دل خالی رہ گیا
” ان آنکھوں کی اذیت آپ سے زیادہ مجھے تکلیف دیتی ہے “
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ماریہ نے دروازہ ہلکا سا کھولا ، اندر جھانکا اور پھر اندر آگئ
” آپ سے دو منٹ بات ہوسکتی ہے ابا ؟”
ابراھیم صاحب جو بازوں آنکھوں پر رکھے لیٹے تھے ، ماریہ کو دیکھا پھر سیدھے ہوبیٹھے
” آئو ۔۔۔۔۔”
وہ متذبذب سی چلتی ہوئ صوفے تک آئ اور اس پر بیٹھی ، بلقیس جائے نماز طے کرتی اٹھیں
” مجھے اجازت لینی تھی آپ سے “
” کس چیز کی ؟”
وہ انگلیاں مروڑتی کچھ لمحے خاموش رہی پھر سر اٹھا کر انہیں دیکھا
” میں جاب کرنا چاہتی ہوں “
ابراھیم صاحب چند لمحے کچھ کہہ نا سکے
” جاب کس لئے ؟”
” آپ لوگوں پر کب تک بوجھ رہوں گی ؟ آپ سب کے اپنے اخراجات بھی ہوتے ہوں گے ، میں نے اور زینب نے اخراجات بڑھا دیئے “
وہ لب کاٹنے لگی ، صاف ظاہر تھا کہ وہ آنسو ضبط کرنے کی کوشش کررہی تھی
” ثناء نے کچھ کہا ہے تم سے ؟”
بلقیس ابراھیم صاحب کے ساتھ بیٹھیں
” نہیں اماں ، وہ کیا کہیں گی ؟ میں خود سمجھتی ہوں سب۔ دکان جل چکی ہے ، بھائ اکیلے کماتے ہیں ، بھابھی کے اپنے اخراجات ہیں ، ان کے بچے ہیں ، ان سب میں میں آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتی “
” کیا جاب کروگی ؟ “
” ایک دو مدارس میں پتا کروایا ہے ، انہیں ضرورت ہے استاذہ کی “
اس کا سر جھکا ہوا تھا ، آواز آہستہ تھی ، ابراھیم صاحب کتنے ہی لمحے اسے دیکھتے رہے ، ان کی وہ بیٹی جو چار سال پہلے تھی جانے کہاں چلی گئ تھی
” علی ، علی ….”
ان کی دھاڑ پر ماریہ کا سر جھٹکے سے اٹھا ، وہ دروازے کی طرف دیکھتے زور سے چلا رہے تھے ،
” ابا۔۔۔۔۔۔”
وہ بوکھلا گئ
” علی ، کہاں ہو ؟”
ان کی پکار میں ماریہ کی آواز دب گئ ، علی اور ثناء کچھ پریشان سے اندر داخل ہوئے
” کیا ہوا ابا ؟ خیریت ہے ؟”
” یہ تم اپنی بیوی سے پوچھو “
ان کا چہرہ اس قدر زور سے بلانے پر سرخ پڑ گیا تھا
” ثناء سے کیا پوچھنا ہے ؟”
” یہی کہ میری بیٹی اور نواسی کا تین وقت کا کھانا اس پر بھاری پڑرہا ہے جو اب وہ جاکر باہر کے دھکے کھائے گی ؟”
ثناء نے بے اختیار ماریہ کو دیکھا وہ متوحش نظر آرہی تھی
” میں نے کب کہا ایسا ؟”
” جھوٹ مت بولو ، اس دن میں نے خود اپنے کانوں سے سنا تھا ، تم اسے طعنے دے رہی تھیں ، “
ثناء نے لب بھینچے ، دانت چبا کر ماریہ کو دیکھا
” میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ مالی حالات خراب ہیں تو ماریہ تھوڑا بہت صبر سے گزارہ کر لے “
” وہ ہی کیوں صبر کرے ؟ تم لوگ ہر آئے دن باہر کھانا کھاتے ہو ، جب میری بیٹی پر خرچ کرنے کی باری آتی ہے تو حالات تنگ ہوجاتے ہیں “
ان کا سانس پھولنے لگا ، بلقیس نے کچھ پریشانی سے انہیں دیکھا
” معاف کیجئے گا ماموں ، اپنے شوہر کے پیسوں سے کھاتی ہوں ، اتنا ہی ماریہ کو جلن ہورہی ہے تو چلی جائے سسرال “
” ثناء ۔۔۔۔۔ “
علی نے تنبیہہ کی تو وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑائ ، جبکہ ابراھیم صاحب کا غصہ مزید بڑھا
” کون سی جائیداد ہے تمہارے شوہر کی جو وہ کمارہا ہے ؟ جن دکانوں کا کرایہ یہاں آتا ہے وہ میری ہیں ، اور میری بیٹی کو بار بار طعنے مارنا بند کرو یہ واپس نہیں جائے گی”
ماریہ کی بوکھلاہٹ میں مزید اضافہ ہوا ، وہ یہ جھگڑا نہیں چاہتی تھی
” توکیا ساری زندگی گھر پر بٹھائیں گے ابو ؟”
علی نے اب کہ کچھ اکھڑ مزاجی سے پوچھا
” بٹھا لوں گا ، مرا نہیں ہوں ابھی میں “
” آپ بٹھا سکتے ہیں ماموں ہم نہیں ، مجھے معاف کیجئے گا لیکن اتنے صاحب ثروت نہیں رہے آپ اب ، حالات بدل چکے ہیں ، ہمارے اپنے بھی اخراجات ہیں ، اوپر سے زینب الگ بیمار رہنے لگی ہے ہر وقت ، ہمارا تو شکریہ ادا کریں کہ ماریہ کو اپنے گھر رکھا ہوا ہے ورنہ طلاق یافتہ لڑکی کو کون برداشت کرتا ہے “
” ثناء ، طلاق یافتہ مت کہو اسے “
بلقیس کے دل پر گھونسا پڑا تھا ، ماریہ کے دماغ پر ہتھوڑے چلے
” عنقریب طلاق یافتہ ہوہی جائے گی ، جس طرح کے تیور آپ کی بیٹی کے تھے مجھے تو حیرت ہے چار سال کیسے برداشت کرلیا جواد نے ، ایسی عورتوں کو تو شوہر دو دن نا برداشت کریں “
” میں نے کچھ نہیں کیا بھابھی “
وہ پہلی بار اپنی صفائ میں بولی , باقی آواز حلق میں اٹک گئ
” اتنی ہی تم نیک پروین ہو تو جواد چھوڑ نا رہا ہوتا تمہیں ، کچھ تو گل کھلائے ہوں گے نا ، ایسے ہی تو وہ طلاق نہیں دے رہا “
اس کے کردار کی دھیجیاں لمحوں میں بکھریں
” خبردار ، بس کرو تم ، دفع ہوجائو اِدھر سے “
ابراھیم صاحب کا چہرہ غضب سے سرخ پڑ گیا ، علی کچھ پریشانی سے آگے کو ہوا
” ابا بی پی شوٹ کرجائے گا آپ کا “
انہوں نے علی کا ہاتھ جھٹک دیا
” میری نظروں کے سامنے سے نکل جائو ، شکل بھی نہیں دیکھنی تمہاری مجھے “
وہ ہاتھ نچا نچا کر کہنے لگی ، علی کچھ پریشانی سے پیچھے کو ہوا پھر ماریہ کو کڑی نظر سے گھورتے باہر نکلا، ثناء اس کے پیچھے چلی گئ ، چہرے پر صرف بیزاری تھی ، بلقیس ابراھیم صاحب کو پرسکون ہونے کا کہنے لگیں
اور رہی ماریہ تو اس لمحے اسے احساس ہوا جب آپ کے کردار پر کیچڑ اچھالا جائے اور یہ کام کرنے والے آپ کے اپنے ہوں تو کیسا محسوس ہوتا ہے ، جب آپ کی کوئ گواہی بھی نا دے تب کیا احساس ہوتا ہے ، زمین کے پھٹ جانے اور آسمان کے چھن جانے جیسا احساس
