Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nahal (Episode 35)

Nahal By Fatima Noor 

عیسیٰ کا والٹ اٹھاتے ہوئے اس کی نظر موبائل پر گئ

” صوفیہ کالنگ “

یہ کیوں کال کررہی تھی ؟ ماتھے پر بل پڑے

نظر اٹھا کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے عیسیٰ کو دیکھا ، وہ کف لنکس لگا رہا تھا ، موبائل بجنے کی آواز پر نظر اٹھائ

” کس کی کال ہے ؟”

” صوفیہ کی “

عام سے لہجے میں کہتے اس نے والٹ بیڈ پر رکھا، کوٹ اور کار کی چابیاں بھی ، کف لنکس لگاتے عیسیٰ نے آئینے میں نظر آتے اس کی عکس کو دیکھا، بے تاثر چہرہ ، لیکن ماتھے پہ پڑے بل ، وہ خواہمخواہ بیڈ شیٹ دوبارہ درست کررہی تھی ، اس کے لبوں کے کنارے پر مسکراہٹ پھیلی

” موبائل اٹھادیں پلیز “

مصروف سا اسے مخاطب کیا، اس کی نظر موبائل پر گئ ، کال ابھی تک آرہی تھی ، یہ بند کیوں نہیں ہورہی ؟

سر ہلاتے وہ سائیڈ ٹیبل تک گئ اور موبائل اٹھایا ، پھر بہت آہستہ قدموں سے عیسیٰ کی طرف بڑھی ، یوں جیسے گن گن کر قدم رکھ رہی ہو ، عیسیٰ تک پہنچنے میں کال بند ہوگئ

” بند ہوگئ یہ تو “

اس کی طرف موبائل بڑھاتے سادگی سے کہا

” کوئ بات نہیں میں دوبارہ کرلوں گا “

اس کے ماتھے پر بل پڑے

” دوبارہ کیوں کریں گے ؟”

” ہوسکتا ہے کوئ ضروری کام ہو “

وہ پیچھے رکھا کوٹ پہننے لگا، چہرے پر سنجیدگی چھائ ہوئ تھی

” وہ خود کرلے گی اگر ضروری کام ہوا تو “

اسے شاید واقعی ضروری کام تھا ، موبائل دوبارہ بجنے لگا ، دونوں کی نظر بیک وقت موبائل پر گئ

” صوفیہ کالنگ “

قرت کے چہرے کے تاثرات اس بار صاف صاف خراب ہوگئے ، عیسیٰ کے لئے مسکراہٹ ضبط کرنا مشکل ہوگیا

” اتنی صبح کیوں کال کررہی ہے یہ ؟”

” مجھے کیسے معلوم مسز “

اس کے ہاتھ سے موبائل لے کر کال کاٹی اور موبائل جیب میں ڈال لیا ، اس کے دل کو جیسے سکون پہنچا ، وہ کار کی چابیاں اٹھاتا پلٹا اور اس تک آیا

” صوفیہ سے مت جلا کریں ، میرے لئے آپ کے علاوہ دنیا کی کوئ عورت معنیٰ نہیں رکھتی “

” میں نے کب کہا میں جل رہی ہوں ؟”

بے نیازی سے شانے اچکائے ، اندر ہی اندر خود کو کئ بار ملامت کی ، کیا ضرورت تھی چہرے کے تاثرات بگاڑنے کی

” واقعی میں نہیں جل رہیں ؟”

” بالکل نہیں “

” یعنی کال اٹھالوں صوفیہ کی ؟”

اسبکی آنکھوں میں خفگی ابھری ، عیسیٰ ہنس دیا

” کوئ کہہ رہا تھا وہ نہیں جل رہا “

” کوئ کہہ رہا تھا آپ کے علاوہ میرے لئ دنیا کی کوئ عورت معنیٰ نہیں رکھتی “

” سچ ہے “

” میں نہیں جل رہی ،یہ بھی سچ ہے “

” آپ کے ہر سچ پر یقین ہے “

وہ سر ہلاتے آگے بڑھا وارڈروب کھولی اور اندر سے کچھ نکالا ، قرت کی نظر اس کے ہاتھ پر گئ ، پھر عیسیٰ پر

” گن ؟”

وہ ہاتھ میں سیاہ رنگ کی گن اٹھائے بریف کیس میں رکھ رہا تھا

” اپنی حفاظت کے لئے ساتھ رکھنی پڑتی ہے”

وہ اس کے ششدر چہرے کو دیکھتا بولا

” حفاظت کے لئے کیوں ؟”

” مادام ! آپ نے کیا مجھے عام انسان سمجھ رکھا ہے ؟ حیات انڈسٹریز کا اکلوتا وارث ہوں ، کئ طرح کے خطرات ہوتے ہیں”

کہنے کے بعد اسے احساس ہوا وہ غلط بات کرگیا تھا ، قرت کے چہرے پر لمحوں میں پریشانی ابھری

” خطرات ؟ کیسے خطرات؟”

” زیادہ نہیں ، میرا مطلب دشمن ہوتے ہیں تو ان سے حفاظت کے لئے”

اس نے لاپرواہ لہجے میں بات اڑانی چاہی ، وہ اس کے لئے پریشان تھی یہ اچھا لگا تھا ، لیکن وہ پریشان تھی یہ اچھا نہیں لگا تھا

” آپ گارڈز کیوں نہیں ساتھ رکھتے ؟ “

” مجھ سے نہیں برداشت ہوتے یہ گارڈز نام کے دم چھلے “

کوٹ اٹھاکر بازوں پہ رکھتے وہ اس تک آیا جو اب بھی پریشان صورت لئے کھڑی تھی

” پریشان مت ہوں ، جو ہونا ہے وہ تو ہوگا، لیکن “

ہاتھ اس کے کیچر میں بندھے بالوں کی طرف گیا اور جھٹ سے کیچر اتار لیا ” اچھا لگا آپ کا میرے لئے پریشان ہونا “

کیچر اس کے ہاتھ میں پکڑایا اور باہر بڑھ گیا ، اس کے چہرے پر پریشانی کی جگہ جھنجھلاہٹ نے لی ، مڑ کر آئینے میں دیکھا ، سیاہ ریشمی بال کمر پر پھیلے تھے

اس سے اچھا تو وہ ناراض ہی رہتی ، یہ تو کچھ زیادہ ہی فری ہورہا تھا عیسیٰ ۔۔۔۔۔ہنہہ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” کیا کررہی ہیں ؟”

کٹنگ کرتے ہوئے اس نے رک کر اس کا میسج پڑھا اور پھر ٹائپ کیا

” کھانا بنارہی ہوں “

” کس کیلئے ؟”

” کس کیلئے بنایا جاتا ہے ؟”

مسکرا کر ٹائپ کیا آج کل بلاوجہ ہی مسکراہٹ چہرے سے چپک گئ تھی

” شوہر کیلئے ؟”

وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا ، ایک ہاتھ سے ٹائ ڈھیلی کرتے ہوئے اسے جواب دیا

” انکل کیلئے “

عیسیٰ کی مسکراہٹ گہری ہوئ

” انکل کے بیٹے کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ مجھے بھی بھوک لگی ہے “

میسج بھیج کر اس نے دروازے کی طرف دیکھا وہاں سے شور کی آواز آرہی تھی

” کینٹین سے منگوالیں ” وہ تیزی سے ہاتھ چلارہی تھی

” کینٹین والے کے ہاتھوں میں آپ کے ہاتھوں جیسا ذائقہ کہاں ؟” وہ رکی ۔میسج دیکھا پھر ٹائپ کیا

” میرے ہاتھ کا کھانا کب کھایا ؟”

وہ اس سے پہلے صرف زینت آپا کی مدد کرواتی تھی ، آج پہلی بار کچن میں کھانا بنانے کی نیت سے قدم رکھا تھا

” ملتان میں ۔۔”

اوہ۔ جب وہ مسجد میں تھا تب وہ کھانا بنا کر دیتی تھی

” گھر پر کھالیجئے گا آج رات کو “

” میں دوپہر والا کھانا رات میں کھائوں ؟”

” کیا حرج ہے ؟”

شور اب مزید قریب آرہا تھا عیسیٰ نے بے زاری سے دروازے کو دیکھا

” حرج تو نہیں ایک دوسرا آپشن ضرور ہے “

” کیا ؟”

” ڈنر پر چلیں گی میرے ساتھ؟”

شور اب اس کے آفس کے باہر تک آگیا تھا ، یہ جو بھی تھا آج اس کی ڈانٹ سنیں گے ،میسج بھیج کر وہ اٹھا اور وہیں رک گیا ، سامنے صوفیہ آرہی تھی ، اس کے پیچھے اسے روکتی سیکرٹری بھی ، عیسیٰ کے ماتھے پر بل پڑے

” لک عیسیٰ یہ تمہاری سیکرٹری مجھے تم سے ملنے سے روک رہی ہے ، “

قدرے مان سے کہتے ہوئے وہ اس کے آفس میں آئ اور چیئر کھینچی

” سر آئ ایم سوری یہ ۔۔۔”

اس نے بات کاٹ دی

” اٹس اوکے ، آپ جائیں “

ضبط سے صوفیہ کو دیکھا، سیکرٹری منہ بناتی وہاں سے چلی گئ تو وہ صوفیہ کی طرف متوجہ ہوا ، کرسی پر واپس بیٹھا اور اسے دیکھا

” خیریت ؟”

” تم کال نہیں اٹھا رہے تھے تو ملنے آگئ ، نہیں آ سکتی کیا ؟ ” اس نے جواب نہیں دیا وہ موبائل پر میسج پڑھ رہا تھا

” کس کس کو یہ آفر کرچکے ہیں ؟ “

اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری، صوفیہ نے غور سے اس مسکراہٹ کو دیکھا

” پہلی مرتبہ آپ کو کی تھی ،دوسری مرتبہ بھی آپ کو کررہا ہوں”

” عیسیٰ ۔۔۔”

وہ چونکا اور اسے دیکھا

” میں کہنے آئ تھی کہ آج رات کو سب دوستوں کا پروگرام تھا ، سوچا تمہیں پرسنلی انوائٹ کردوں “

” آااا۔۔۔اوکے ” نظر موبائل پر گئ

” میں نے پہلی مرتبہ منع کردیا تھا “

” میں دوسری مرتبہ جواب کا منتظر ہوں “

” میں دوسری مرتبہ ہاں کررہی ہوں “

اب کے اس نے ہنس کر سر جھٹکا

” عیسیٰ ۔۔۔” صوفیہ کا ضبط جواب دینے لگا وہ اس کے چہرے کی مسکراہٹ سے جان گئ تھی کہ وہ کس سے بات کررہا تھا

” تیار رہئے گا شام کو ۔۔۔” قرت کو آخری میسج بھیج کر وہ اس کی طرف متوجہ ہوا ، مسکراہٹ سنجیدگی میں بدلی ” آل رائٹ۔۔۔۔ کیا کہہ رہی تھیں تم ؟ “

” آج رات سب دوستوں کا پروگرام تھا، چلو گے ؟”

” نہیں ۔۔۔” اسے اس قدر صاف انکار کی امید نہیں تھی

” کیوں ؟”

” کیا میں تمہیں جواب دہ ہوں صوفیہ ؟”پیچھے کو ٹیک لگائے اس نے ابرو اچکائے

” انکار کی وجہ بتاسکتے ہو ایٹ لیسٹ ” اس کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑرہا تھا

” میں بزی ہوں “

شانے اچکاتے ہوئے وہ آگے کو ہوا اور لیپ ٹاپ سامنے کیا

” کس کے ساتھ ؟ اپنی وائف کے ساتھ ” آواز میں غصہ جھلکا

” dont be personal Sofia”

عیسیٰ کی آواز سخت ہوئ

” پرسنل میں نہیں ہورہی ۔۔بلکہ تم دوستوں سے دور ہورہے ہو ، اس عام سی لڑکی کیلئے تم نے ان لوگوں کو چھوڑ دیا جو تم سے محبت کرتے تھے عیسیٰ ” اس کی آواز بلند ہوئ

” مجھے مجبور مت کرو کہ میں تم سے وہ سب کہوں جو میں نہیں کہنا چاہتا “

” کہہ دو عیسیٰ ۔۔۔آج کہہ ہی دو ” صوفیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے

” تمہیں اچھا نہیں لگے گا اس لئے بہتر ہے جائو یہاں سے ” اس نے اسے نظر انداز کرتے توجہ کام پر کرلی لیکن صوفیہ وہاں سے نہیں گئ

” تمہیں احساس ہے عیسیٰ تم نے میرا دل کتنی بے دردی سے توڑا ہے ؟ اس عام سی قرت العین کو مجھ پر فوقیت دے کر تم نے مجھے کس اذیت میں جھونکا ہے ؟ کیا ہے اس میں ایسا ، وہ چھوٹے سے شہر کی عام سی عورت ، اس کا مجھ سے مقابلہ بنتا تھا ؟” آنسو بھل بھل گرنے لگے ، عیسیٰ نے لیپ ٹاپ سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ، وہ رو رہی تھی ، اس نے گہری سانس لی ، بہتر تھا اب بات کلیئر کرلی جائے ، یوں تھا تو یوں ہی صحیح

” لسن صوفیہ، قرت کے بارے میں میں کسی کی کوئ بات برداشت نہیں کرتا سو ان کے بارے میں مجھ سے کچھ ایسا مت کہنا جس پر میں ضبط کھو دوں، جہاں تک بات ہے اس کو فوقیت دینے کی ، وہ قرت العین ہے ، عیسیٰ حیات کی محبت اس کی بیوی اور اس کی زندگی ، مجھے جتنی بار محبت کا موقع دیا گیا میں قرت سے کروں گا ، جتنی بار انتخاب کا موقع دیا گیا میں قرت کو منتخب کروں گا ، جتنی بار اس کا نام میرے سامنے لیا گیا میں اسی کا نام چنوں گا ” وہ دو ٹوک لہجے میں کہہ رہا تھا ، صوفیہ کے آنسو تیز ہوئے

” اور میں ؟ میرا کیا عیسیٰ ؟”

” آئ فیل سوری فار یو ۔۔۔لیکن تم شروع سے ایسی خواہش کررہی تھیں جو پوری ہونا ناممکن تھی ، مجھے قرت نا ملتیں تب بھی میری زندگی میں تمہاری جگہ نہیں تھی “

” اور اگر وہ تمہاری زندگی میں نا رہی تو ؟” اس سوال نے لمحہ بھر کو اس کا دل روک دیا

” ایسا کبھی نہیں ہوگا ”

” اگر تم اسے کھودو پھر عیسیٰ ؟”

” ایسا کبھی نہیں ہوگا “

” کیا معلوم ایسا ہوجائے عیسیٰ” اس نے زکام زدہ سانس اندر اتاری ، آنسو چہرے پر خشک ہوگئے تھے ، صاف کرنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی ، آنکھیں عیسیٰ پر جمائیں ” کیا معلوم۔۔۔۔ اگر کبھی۔۔۔۔ وہ تمہیں چھوڑجائے ؟ “

وہ اسے دیکھتے آگے کو ہوا

” ” تب بھی ۔۔۔وہ میرے ۔۔۔اندر تک ۔۔۔دل کے اندر تک رہے گی ۔۔ہمیشہ ۔۔۔گاٹ اٹ ؟ اور ہاں میرے سامنے آنسو مت بہایا کرو کیونکہ میری ماں کے علاوہ مجھ پر صرف ایک عورت کے آنسو بھاری پڑتے ہیں ، یو مے لیو نائو ” سختی سے کہتے وہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوا ماتھے پر بل تھے

” اور اگر اسے تمہارے ماضی کے بارے میں علم ہوجائے پھر ؟”

اس سوال پہ پل بھر کو وہ تھم گیا ، صوفیہ کے لبوں پہ زہر خند سی مسکراہٹ ابھری

” کیا ہو عیسیٰ اگر وہ جان لے کہ ماضی میں تم کیسے انسان رہے ہو ؟ کیا ہو اگر اسے علم ہوجائے کہ لندن میں تمہاری زندگی کیسی گزری ہے ؟ کیا ہو اگر وہ جان لے کہ تم ڈرگز لیتے رہے ہو؟ ، حیران مت ہو جس سے محبت ہو اس کے بارے میں ہر شے کا علم ہوتا ہے ، سنا ہے مذہبی لوگ دین کو لے کر بہت سخت ہوتے ہیں، مذہب پر عمل کرنے والی عورتیں اپنے لئے ایسے مرد پسند نہیں کرتیں جیسے کبھی تم تھے ، ،تو کیا ہو عیسیٰ اگر قرت العین جان لے کہ تم ماضی میں کیسے مسلمان رہے ہو ؟ کیا تب قرت العین تمہارے ساتھ رہے گی ؟”

” تم اس سے کچھ نہیں کہو گی صوفیہ “

وہ میز پر ہاتھ رکھے آگے کو ہو کر سختی سے گویا ہوا ، ماضی وہ شے تھی جس کے بارے میں وہ قرت کو بھنک تک نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا

“میں نہیں بتائوں گی لیکن اگر اسے علم ہوگیا تب ؟ ممکن ہے تم اسے کسی دن کھو دو ، میں تب تم سے وہ اذیت پوچھنے آئوں گی جس سے میں گزر رہی ہوں ، میں اس دن کا انتظار کروں گی “

وہ بیگ کہنی پر رکھتے اٹھ کھڑی ہوئ، بنا اس پر دوسری نظر ڈالے وہ باہر بڑھ گئ ، عیسیٰ نے جواب نہیں دیا ، اس کا چہرہ سخت ہورہا تھا، لیپ ٹاپ ٹھک سے بند کیا اور آنکھوں کو مسلا

ایک پل کو اس کی بات سن کر دل اندر تک دہل گیا تھا ، کیا یہ ماضی کا کانٹا ہمیشہ اس کی گردن پر رہے گا ؟

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

عیسیٰ کو میسج بھیج کر اس نے لنچ تیار کیا ، شہوار کو بتایا اور تیار ہونے چلی گئ ، اس نے کہا تھا کہ وہ شام ساتھ تک آجائے گا ، وہ کچھ دیر دیر اِدھر اُدھر مصروف رہی ، اماں سے بات کی، وہ مہر کے رشتے کے بارے میں بتانے لگیں ، خالہ کا بیٹا سفیان دبئ میں انجینئر تھا وہ کہہ رہی تھیں، ابا ہاں کرنے کا سوچ رہی تھے ، وہ بہت خوش ہوئ اور اماں اس کی آواز کی خوشی میں خوش ہوگئیں

ساڑھے چھ تک وہ انتظار کرتی رہی پھر تیار ہوکر لائونج تک آئ ، عیسیٰ آفس سے آرہا تھا ، ملازم بریف کیس اٹھائے ہوئے تھا

” ریڈی؟” اس نے سر ہلاکر غور سے اسے دیکھا کچھ سنجیدہ سا لگ رہا تھا

” میں چینج کر آئوں “

وہ ٹائ ڈھیلی کرتا اوپر کی طرف بڑھ گیا ، دس پندرہ منٹ تک باہر آیا تو نیلی جینز پر سفید شرٹ اور سیاہ جیکٹ پہنی ہوئ تھی ، ایک ہاتھ میں سوئیٹر تھا وہ قرت کی طرف بڑھایا

” اسے پہن لیں۔ باہر سردی ہوگی “

” اتنی بھی نہیں ہوگی کہ سوئیٹر پہنا جائے ” اس نے ناک سے مکھی اڑائ

” قرت ۔۔۔۔”

اس کی آواز میں تننیہہ جھلکی

” میں نہیں پہن رہی “

بازوں سینے پر باندھے اسے دیکھا ، عیسیٰ نے گہری سانس لیتے سوئیٹر وہیں رکھ دیا

” فائن جب سردی لگے گی تب آپ کو معلوم ہوگا “

” نہیں لگتی سردی آپ اسلام آباد والے کچھ برگر واقع ہوئے ہیں، اتنی جلدی کہاں سردی آئے گی ” عیسیٰ نے سکون سے اپنے شہر والوں کی شان میں وہ کلمات سنے

” اپنے الفاظ یاد رکھئے گا ” گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اسے کچھ جتایا ، موڈ اس سے بات کرکے ہی صحیح ہوگیا تھا ورنہ صوفیہ سے ہوئ ملاقات نے تو ایسا موڈ خراب کیا تھا کہ وہ آفس میں بھی صحیح طرح سے کام نہیں کرسکا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” سردی تو نہیں لگ رہی عیسیٰ ؟”

آرڈر کرنے کے بعد جب وہ ریلیکس ہوکر بیٹھ گئ تو نظر عیسیٰ پر گئ ، اس کے پوچھنے پر وہ مسکرایا

” یہ سوال کچھ دیر بعد میں پوچھوں گا “

” آپ کو جواب نا ہی ملے گا ، ملتان میں سردیاں بہت سخت ہوتی ہیں ،میں عادی ہوں “

” اسلام آباد سے زیادہ نہیں ہوتی ہوں گی “

” مقابلہ کررہے ہیں یا موازنہ ؟”

” دونوں نہیں ، آپ کے شہر سے کیسا موازنہ یا مقابلہ “

وہ ہنس دی

” کرنا بھی نہیں چاہئے ، ملتان بہت زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہے ، لیکن مجھے اس سرزمین سے محبت ہے ، وہاں چپے چپے پہ کسی ولی کے قدموں کا عکس ہے ، اس کی خوشبو گائوں کی کچی زمین سے لے کر شہر کی اونچی عمارتوں تک پھیلی ہوئ ہے “

وہ پرائیویٹ کیبن میں تھے تو آرام دہ اور پرسکون تھی ، اگر کوئ پرسکون نہیں تھا تو وہ عیسیٰ تھا ، اس کا چہرہ تنائو کا شکار لگتا تھا

” آپ کا شہر مذہبی ہے “

” لوگ مذہبی ہوتے ہیں شہر نہیں “

وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا

” آپ نے اپنے لائف پارٹنر کیلئے کچھ سوچا ہوگا قرت ، وہ کون سی خوبیاں تھیں جو آپ اپنے لائف پارٹنر میں دیکھنا چاہتی تھیں ؟”

سوال غیر متوقع تھا ، وہ کچھ حیران ہوئ

” یہ سوال کیسے زہن میں آگیا آپ کے ؟”

” بتائیں نا “

وہ چند لمحے کو سوچ میں پڑ گئ

” زیادہ نہیں ، بس اتنا کہ وہ نیک ہو ، مومن ہو ، وہ مجھے پردے سے نا روکے ، اپنے دین سے مخلص ہو ، میرے ساتھ مخلص رہے ، محبت بھلے نا کرے عزت کرے ، “

” اور وہ ہینڈسم ، امیر مشہور یہ سب نا ہو ؟”

” امیر نہیں چاہا تھا یہ بھی نہیں کہ غریب چاہا تھا ، بس اتنا کمانے والا چاہئے تھا کہ دن کے اختتام پر شکر ادا کرسکوں ، لوگوں کو لگتا ہے کہ جو لڑکیاں اپنے لئے صاحب ثروت مرد کی دعا کرتی ہیں وہ لالچی ہوتی ہیں ، وہ لالچی نہیں ہوتیں وہ صرف ایسی زندگی گزارنے سے ڈرتی ہیں جو انہیں شکوے کرنے والا بنا دے ، وہ عورتیں اپنے اردگرد کی مفلس کہانیوں سے ڈر جاتی ہے ، ، صاحب ثروت مرد کے ملنے کی دعا کرنا برا نہیں ہے ، اس کی لالچ کرنا برا ہے ، عورت کو اپنے نصیب کی دعا ہر شے سے زیادہ کرنی چاہئے۔ “

” آپ نے کی تھی ؟”

وہ جواب وہ نہیں تھے جو وہ چاہتا تھا

” ظاہر ہے کی تھی ، مجھے ایسے مردوں سے ڈر لگتا ہے جو عورت کو محبت دیں لیکن عزت نا دیں ، مجھے ایسی عورتوں سے بھی ڈر لگتا ہے جو اچھے نصیب کی خواہش کریں لیکن دعا نا کریں ، ایسی عورتوں کو خود سے بھی ڈرنا چاہیے ، ان کا نصیب ان کی دعا سے بھی جڑا ہوتا ہے ، سو میں نے بھی کی تھی، نیک نصیب ، نیک شوہر ،نیک زندگی کی دعا “

وہ پرسکون تھی ، عیسیٰ اگلے کئ لمحے چپ رہا پھر وہ دھیرے سے بولا

” آپ کی دعا قبول نہیں ہوئ قرت “

” کیا معلوم ہوگئ ہو “

اس نے مسکراہٹ دبائ ، اس کا خیال تھا عیسیٰ مسکرائے گا، وہ نہیں مسکرایا ، اس کی سنجیدگی کچھ اور بڑھی

” نہیں ہوئ ، میں وہ مرد نہیں ہوں جس کیلئے آپ نے دعا کی تھی “

اب کے وہ بھی سنجیدہ ہوئ ، اسے کیا ہوا تھا ؟

” میں سمجھی نہیں “

وہ گہری سانس لیتا آگے کو ہوا ، یوں جیسے ایک جوا تھا جو وہ کھیلنے جارہا تھا ، وہ ماضی جس کا ڈر تھا اس ڈر کو ختم کرنا تھا ،میز پر دونوں ہاتھ رکھے اور اسے دیکھا

” میرا ماضی قابل فخر نہیں تھا ، آپ نے کہا آپ نے نیک مرد کے ملنے کی دعا کی ، میں نے سوچا آپ کی دعا قبول نہیں ہوئ ، میں نیک مرد نہیں ہوں “

” آپ کے نزدیک نیک مرد کیا ہوتا ہے ؟”

وہ بھی آگے کو ہوئ ، گفتگو سے زیادہ ان دونوں کے چہرے سنجیدہ تھے

” وہ جو ساری نمازیں پڑھتا ہو ، روزے رکھے ، لڑکیوں سے دوستی نا ہو ، شراب نا پئے ، حرام سے دور رہے ، شاید یہی ؟ “

” آپ نے یہ سب کیا ہے ؟”

وہ سوال آزمائش تھا ، عیسیٰ کو اس سے گزرنا تھا نتیجہ جو بھی ہوتا ، وہ اب ماضی کی تلوار سر سے اتارنا چاہتا تھا

” سب کچھ نہیں ، شراب سے دور رہا ہوں لیکن ۔۔۔۔۔۔”

قرت نے اس کی بات کاٹ دی

” اگر یہ حقوق اللہ سے متعلق ہے اور وہ آپ کا ماضی تھا تو مجھے نہیں جاننا “

” وہ میرا ماضی تھا لیکن وہ آپ کی دعا کے برعکس تھا “

” اگر آپ کا ماضی اچھا نہیں تھا اور آپ اس پر اللہ سے معافی مانگ چکے ہیں تو مجھے مت بتائیں ، وہ سب راز ہے تو مجھے نہیں جاننا “

” آپ مذہبی لڑکی ہیں اور آپ نے اپنے لئے بھی ایسا ہی مرد چاہا ہوگا “

وہ ایسا مرد نہیں تھا وہ یہ بات جانتا تھا

” مذہبی ہونے کا مطلب جنگلوں میں جاکر چلہ کاٹنا نہیں ہے ، ہر نماز پڑھنے والا مرد مذہبی ہے ہر قرآن پڑھنے والی عورت مذہبی ہے، مجھے حیرت ہے کہ جو لوگ دین پر ویسے عمل کرتے ہیں جیسے کرنے کا کہا گیا ہے تو انہیں مذہبی کیوں کہا جاتا ہے ؟ ہر مسلمان مذہبی ہے پھر یہ لفظ چند لوگوں کے لئے خاص کیوں کردیا گیا ہے ؟”

وہ چاہتی تھی گفتگو کسی اور موضوع پر چلی جائے ، عیسیٰ اپنے ماضی کا زکر نا کرے ، وہ کوئ ایسی بات نہیں جاننا چاہتی تھی جو اسے بدظن کردے

” یہ آپ کا حق ہے “

وہ اب بھی وہیں اٹکا تھا

” نہیں ہے ، میرا آپ کے ماضی پر حق نہیں ہے”

” آپ کو علم ہونا چاہیے کہ آپ کا شوہر کیسا انسان تھا، کیسا مسلمان تھا “

وہ چاہتا تھا وہ سنے ، وہ چاہتا تھا وہ جانے ، وہ اس پھندے کو گلے سے اتارنا چاہتا تھا

” میں یہ جانتی ہوں کہ میرا شوہر اب کیسا انسان ہے ، جس ماضی میں ،میں نہیں تھی اس ماضی پر میرا حق نہیں ہے ، جس حال میں میں ہوں وہ حال میں جانتی ہوں ، جس مستقبل میں اپنے ہونے نا ہونے کا مجھے علم نہیں اس میں مجھے دلچسپی نہیں ہے “

” آپ کو علم ہونا چاہیے کہ آپ کا شوہر نیک انسان نہیں رہا “

” کون نیک ہے اور کون نہیں اس کا فیصلہ اللہ کو کرنے دیں عیسیٰ ،مجھ پر اور لوگوں پر نیک اور بد کا فیصلہ کرنے کا بوجھ مت ڈالیں، لوگ چند اعمال پر فیصلہ دے دیا کرتے ہیں ، ممکن ہے لوگ آپ کے ظاہر گناہوں کو دیکھیں اور چھپی نیکیوں کو نظر انداز کردیں ،”

کوئ مرہم تھا جو وہ اس کے دل پر رکھ رہی تھی ، کوئ دوا تھی جو اس تک پہنچ رہی تھی ، گلے میں لٹکا پھندا اتررہا تھا

” آپ نہیں جاننا چاہتیں کہ میرے ماضی میں کوئ تھا یا نہیں ؟”

وہ سوال آزمائش تھا ، قرت العین کو اس آزمائش سے بچنا تھا

” نہیں عیسیٰ ، مجھے آپ کے ماضی میں دلچپسی نہیں ہے ، حال میں ہے اور آپ نے کہا تھا کہ میں آپ کے حال میں موجود واحد عورت ہوں “

” لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ کو علم ہو “

” جو ماضی ماضی میں رہ گیا اور جس پر خدا نے پردہ ڈال رکھا ہے اس پر آپ مجھے کیوں گواہ بنانا چاہتے ہیں ؟ ، اپنے گناہوں اور نیکیوں کا پرچار نہیں کرنا چاہئے ، جن گناہوں پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہو ان پر لوگوں کو گواہ نہیں بنانا چاہیے ، جو نیکیاں اللہ کیلئے کی ہوں ان پر لوگوں کو گواہ بنا کر ستائش طلب نہیں کرنی چاہئے “

” اگر کبھی میرا ماضی آپ کے سامنے آکھڑا ہوا تو کیا آپ مجھے چھوڑ دیں گی ؟”

وہ کچھ لمحے بول نا سکی ، اس کی آواز کا خوف اور آنکھوں کا درد اسے چند لمحے کیلئے ساکت کرگیا تھا

” میں آپ کے ماضی کے عمل پر آپ کو نہیں چھوڑوں گی ، البتہ اپنے حال کا دھیان رکھئے گا ، کسی خاتون کے ساتھ مجھے نظر آئے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی “

اس نے بات مزاق میں اڑانی چاہی

وہ اسے دیکھتا رہا ، جس ماضی کو لے کر وہ ڈر رہا تھا اس ڈر کو قرت العین نے بنا سنے اس کے اندر سے کھینچ لیا تھا ، وہ کئ لمحے اسے دیکھتا رہا ، اگر کوئ کہتا تھا کہ وہ عام عورت تھی تو عیسیٰ حیات ہر اس شخص سے اختلاف رکھتا تھا

” آپ خدا کا انعام ہیں”

” اس کے چہرے پر حیرانی ابھری پھر وہ ہنس دی

” بہت شکریہ لیکن فلحال مجھے بھوک لگ رہی ہے ، کب تک آئے گا کھانا ؟”

وہ دھیرے سے مسکراتا اٹھا

” میں دیکھتا ہوں “

دروازہ کھول کر باہر جاتے وہ رکا ، نظر اس پر گئ ، وہ اپنا موبائل کھول رہی تھی ، عیسیٰ اسے دیکھتا رہا پھر مڑ گیا

وہ اسے یوں دیکھتا تھا جیسے وہ کوئ معجزہ ہو ، ایسا معجزہ جس کے ہونے کی امید عیسیٰ حیات کو اپنے لئے نہیں تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

سڑک پر زیادہ رش نہیں تھا لیکن وہ پھر بھی سائیڈ پر چل رہے تھے ، گاڑی نیچے پارک تھی تو نیچے تک ان دونوں کا واک کرنے کا ارادہ تھا ، تھوڑی دیر پہلے کے برعکس عیسیٰ اب پرسکون تھا ، چہرے کا تنائو ختم ہوچکا تھا

” تو کیسا لگا میرے ساتھ پہلا ڈنر ؟”

کن اکھیوں سے اسے نظر آرہا تھا کہ قرت نے دونوں بازوں اپنے گرد لپیٹے تھے

” اچھا تھا ، اتنا بورنگ نہیں تھا جتنا سوچا تھا “

” یہ اچھا انداز ہے “

وہ مسکرایا ، قرت ہلکا سا ہنسی

” یہ خاص انداز ہے “

” آپ پر جچتا ہے “

وہ لوگ ڈھلوان سے نیچے اترنے لگے ، قرت نے بازوں مزید خود کے گرد لپیٹ لئے ، عیسیٰ نے مسکراہٹ دبائ

” سردی لگ رہی ہے ؟”

” نہیں ۔۔۔” زور سے سر ہلایا ، کیسے بتاتی پائوں جمنے لگے تھے

” آل رائٹ ، کیا خیال ہے آگے واک پر چلیں ؟”

” آاا نہیں ۔۔میں تھک گئ ہوں “

اللہ اللہ اتنی دیر اسے ٹھنڈ میں نہیں رہنا تھا

” ایسا کون سا کام کیا ہے جو تھک گئ ہیں ؟” وہ رک گیا اور پاکٹ میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھا

” بس تھک گئ ہوں ۔۔” وہ جھنجھلائ، موصوف راستے میں کھڑے ہوگئے تھے اور وہ سردی سے جمنے کو تھی

” کوئ وجہ بھی تو ہو نا ۔۔۔”

” عیسیٰ ۔۔۔۔”

” جی مسز عیسیٰ ۔۔۔”

” مجھے سردی لگ رہی ہے “

قدرے روہانسی ہوئ

” لیکن سردی کہاں ہے ؟ ہم اسلام آباد والے کچھ برگر واقع ہوئے ہیں اس لئے ہمیں سردی لگتی ہے ” سنجیدگی سے اسے دیکھا

” آپ کا شہر بہت برا ہے “

” حد ادب ۔۔میرا شہر مجھے بہت عزیز ہے “

” پھر رہیں اسی شہر میں ۔۔”

پیر پٹختی وہ آگے بڑھی ، دانت بجنے کو تھے ، عیسیٰ جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے پیچھے آیا

” اچھا رکیں ۔۔۔ایسے کیسے سردی میں جائیں گی ” وہ اس کے ساتھ چلنے لگا

” چلی جائوں گی ، آپ یہاں بیٹھ کر اپنے شہر کی شان میں قصیدے پڑھیں “

وہ تیزی سے نیچے کی طرف جارہی تھی ، عیسیٰ نے بمشکل مسکراہٹ دبائ

” قرت العین ۔۔”

” نام مت لیں میرا “

” مسز عیسیٰ ۔۔”

” ٹائٹل سے مت پکاریں “

” جان عیسیٰ ۔۔۔”

اس کا چہرہ سرخ ہوا

” ایسے بھی مت پکاریں “

” پھر کیسے پکاروں ؟”

” پکاریں ہی مت “

” یعنی سانس لینا چھوڑ دوں ؟”

وہ رکی ،خفا نگاہوں سے اسے دیکھا ، ناک سرخ پڑرہی تھی

” اچھا بولنا سیکھ لیں بس “

وہ ہنسا اور اس کا ہاتھ تھاما

” آئیں میرے ساتھ “

اس کا ہاتھ تھامے نیچے بنی ایک شاپ میں لے کر آیا ، وہاں مختلف شال اور جیکٹ وغیرہ رکھی تھیں ، اندر جاکر ایک دو شال اٹھائیں

” کون سی لیں گی ؟”

سیاہ اور مہرون شال اس کو دکھائیں

” مجھے نہیں لینی “

وہ ہنوز خفا تھی، وہ گہری سانس لیتا شال لے کر اس تک آیا

” پہن لیں ۔۔”

” مجھے نہیں پہننی “

زکام زدہ سانس اندر کھینچی، اس نے اب کے افسوس سے سر ہلایا اور شال کھول کر اس کے گرد پھیلائ

” اپنے لئے نا صحیح میرے لئے خود کا خیال رکھیں “

اسے دیکھتے دھیرے سے کہا قرت نے نگاہ اٹھائ ، اسے دیکھا نظر اس کی سیاہ جیکٹ پر گئ، پھر شال کو دیکھا ، دوبارہ اسے دیکھا ، کھینچ کر شال کو اپنے اردگرد پھیلایا اور پھر ایک قدم آگے کو ہوئ

” ایک بات کہوں عیسیٰ ؟”

” میں سن رہا ہوں “

وہ مسکرایا

” کاش آپ نے دو چار ناول پڑھے ہوتے “

افسوس سے کہتے وہ پیچھے کو ہوئ، دروازہ کھولا اور باہر بڑھ گئ ، عیسیٰ کی مسکراہٹ غائب ہوئ

” ناولز کیا کیا تعلق اس سب سے ؟” پیچھے سے پکارا لیکن وہ ان سنی کرتی آگے بڑھ گئ، وہ پیچھے پیمنٹ کرنے کیلئے رک گیا تھا ، کار میں بیٹھ کر اس نے دروازہ کھٹاک سے بند کیا ، ہاتھ سینے پر باندھ لئے چہرہ خفا سا تھا

اپنی جیکٹ دے دیتے ہنہہ

تبھی اس کے موبائل کی ٹون بجی ، کسی کا میسج آیا تھا ، قدرے خفا اور بے زاری سے اس نے فون اٹھایا

” کیسی ہو کزن ؟”

میسج دیکھ کر اس سانس لمحہ بھر کو خشک ہوا ، وہ جانتی تھی یہ جواد ہوگا وہ یقننا جواد ہی تھا

” میں تو ٹھیک ہوں “

عیسیٰ کیسا ہے ؟” میسج مسلسل آرہے تھے یوں جیسے وہ صرف اپنی کہنا چاہتا ہوں قرت کی سننے میں نا اسے دلچسپی تھا نا ارادہ

” جواب تو دے دو “

” کوئ بات نہیں تم میسج پڑھ رہی ہوگی یہی بہت ہے ، ویسے تمہارے لئے ایک سرپرائز ہے “

یا اللہ

” پہلے سوچا عیسیٰ کو کال کروں پھر ۔۔۔”

میسج ادھورا تھا وہ ادھورے پیغامات کے مطلب جانتی تھی اس نے جھٹ سے اس کا نمبر بلاک کیا ، سر دونوں ہاتھوں میں تھاما

یہ کیوں اس کے پیچھے پڑ گیا تھا ؟ چاہتا کیا تھا ؟ ذہن میں جھکڑ سے چلنے لگے ، تبھی کار کا دروازہ کھولتا عیسیٰ اندر بیٹھا

” یہ ابھی آپ کیا کہہ کر آئ ہیں ؟” وہ چونکی

” جی ؟”

” شاپ پر کیا کہا ہے ابھی ؟” وہ گاڑی سٹارٹ کررہا تھا اور وہ اسے غائب دماغی سے دیکھے گئ اس نے کیا کہا تھا ؟ پھر یاد آیا وہ اسے ناول نا پڑھنے کا طعنہ مار کر آئ تھی

” کچھ نہیں ویسے ہی کہا تھا ” سر جھٹکا ، عیسیٰ نے رخ پھیر کر اسے دیکھا

” آپ ٹھیک ہیں؟” وہ اس کا موڈ بھانپ لیا کرتا تھا

” جی ۔۔”

” کچھ ہوا ہے ؟”

” نہیں ” اس نے رخ شیشے کی طرف کرلیا ، عیسیٰ خاموش ہوگیا ابھی تو ٹھیک تھیں

” کہیں اور چلیں ؟”

” نہیں عیسیٰ ، گھر چلیں پلیز ، سر میں درد ہورہا ہے ” وہ کچھ بے زار سی لگ رہی تھی ، اندر ہی اندر پریشانی ہوئ جواد کس سرپرائز کی بات کررہا تھا ؟

” اچھا ۔۔۔” عیسیٰ نے توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کرلی رخ پھیر کر بار بار قرت کو دیکھ لیتا

اسے کیا ہوا تھا ؟

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ان کے تعلقات بہت اچھے نا صحیح مگر بہت برے بھی نا رہے تھے، بات بہ بات ہنس لیتے ، یونہی باتیں کرلیتے ، وہ اس کے بنا کہے کام کردیتی اور وہ بنا کہے اس کیلئے چیزیں لے آتا ، پھول گجرے ، چاکلیٹس، بنا بتائے میز پر رکھ دیتا ، وہ شکریہ کہے بغیر اٹھا لیتی ،

عیسیٰ کے ساتھ رہنے میں اسے صرف ایک مسئلہ تھا اسے چائے سے شدید ترین چڑ تھی ، اتنی کہ اسے چائے کی مہک بھی ناگوار گزرتی ، اور وہ ہر روز رات کو چائے بنا کر کمرے میں لے آتی ، اس کے ماتھے پر بل پڑتے لیکن خاموش رہتا

” چائے اتنی پسند کیوں ہے آپ کو ؟”

ایک دن وہ جھنجھلا گیا

” آپ کو اتنی ناپسند کیوں ہے ؟”

مزے سے چائے کا گھونٹ بھرا

” عجیب ذائقہ ، بو اور شکل ، کافی اس سے کئ گنا اچھی ہے “

” یہ شوخ رنگ اور کڑوے ذائقے والی ؟”

ساتھ پڑے اس کے کپ کو دیکھا

” اس پھیکے رنگ اور بد ذائقہ چائے سے تو اچھی ہی ہے “

وہ ماتھے پر بل لئے اسے دیکھتی رہی

” آپ میری محبت کی توہین کررہے ہیں “

اس نے لیپ ٹاپ سے نظر اٹھا کر اس کی ” محبت ” کو دیکھا ، چائے سے نفرت کچھ مزید بڑھ گئ

” پورے دل سے کررہا ہوں “

محبت ؟ اس کی محبت ؟سریسلی ؟

” اپنی کافی کو دیکھا ہے جیسے ۔۔۔۔ “

کچھ مزید کہنا چاہا لیکن سمجھ نا آئے کیا کہے اس نے زندگی میں ایک بار بھی کافی نہیں پی تھی اور عیسیٰ کو انداز تھا اس لئے اس نے کافی کا کپ اس کے سامنے رکھا

” اسے پئیں اور پھر بتائیں ” وہ چند لمحے کپ کو دیکھتی رہی ، پھر اسے اٹھایا ہونٹوں سے لگایا ایک گھونٹ بھرا ، ماتھے پر بل پڑے، فورا کپ نیچے رکھا

” یککک ۔۔۔کس قدر کڑوی ہے ” وہ برے برے منہ بنارہی تھی ، وہ جو صدمے سے اسے دیکھ رہا تھا یکدم ہونٹوں پہ مسکراہٹ ابھری

” میرے لئے تو نہیں رہی اب ” کپ اٹھالیا

” کیسے پیتے ہیں اسے ؟ توبہ استغفراللہ، ” اس کی زبان کا ذائقہ یوں تھا گویا زہر چکھ لیا تھا جھٹ چائے کا کپ اٹھایا

” عادت ہے ۔۔۔” اس نے کندھے اچکائے

” بہت بری عادت ہے ۔۔۔” وہ ہنس دیا ، کسی گائوں کے درخت تلے کھڑے دو مجسمے یاد آئے ، سبز پتوں کی برائ کرتا لڑکا ، آگے چلتی خفا لڑکی

، اس دن کے بعد سے اس نے بھولے سے بھی عیسیٰ کی کافی دوبارہ نہیں چکھی تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

دروازے کے باہر کھڑے سیکرٹری نے تھوک نگل کر دستک دی پھر ٹائ کی ناٹ ڈھیلی کی ، اس کا سانس ابھی سے حلق میں خشک ہورہا تھا

اجازت ملنے پر وہ دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا ، اس کا باس میز کے پار کرسی پر بیٹھا تھا ، لیپ ٹاپ سامنے تھا اور سامنے والی چیئر پر بیٹھے اپنے بیٹے سے کوئ بات کرریا تھا ، سیکرٹری کے اندر آنے پر نظر اٹھا کر اسے دیکھا

“جی عمر ؟”

” سر ۔۔۔۔ ایک امپورٹنٹ نیوز دینی تھی آپ کو “

اس نے ٹائ پھر سے ڈھیلی کی

” میں سن رہا ہوں ۔۔” کامران آفندی کے سامنے بیٹھا حمزہ بھی اس کی طرف متوجہ تھا

” سر ۔۔۔وہ ۔۔” وہ رک گیا ، حلق تر کیا

” کیا ؟”

” سر آپ نے آج اخبار نہیں پڑھا ؟”

” نہیں ۔۔۔اب بولو گے ؟”

اس کی غیر متوقع بات پر وہ کچھ جھنجھلائے

” سر آسٹریلیا والے پراجیکٹ کے لئے ہینڈلر مل گئے ہیں ” لمحہ بھر کو وہاں سناٹا چھا گیا ، کامران آفندی نے ابرو اچکائے جبکہ ان کے سامنے بیٹھا حمزہ یکدم سیدھ ہوا

” سر وہ پراجیکٹ ۔۔۔”

وہ ایک بار پھر رک گیا

” بک بھی چکو اب ۔۔۔”

حمزہ سختی سے بولا

” وہ پراجیکٹ عیسیٰ حیات کو ملا ہے ۔۔۔”

اگلے کئ لمحے وہ کبھی حمزہ اور کبھی کامران صاحب کو دیکھنے لگا ، وہ دونوں یوں خاموش تھے گویا کسی نے ان کی روح کھینچ لی ہو ، پھر کامران آفندی اٹھے اور دھاڑے

” کیا بکواس کررہے ہو ؟”

سیکرٹری کا سانس رک گیا

” یہ سچ ہے سر ، دو گھنٹے پہلے ہی انائونسمنٹ ہوئ ہے ، وہ پراجیکٹ حیات انڈسٹریز کو ملا ہے ۔۔” وہ جلدی جلدی بتانے لگا ، کامران آفندی تیزی سے ٹیبل سے گزر کر اس تک پہنچے اور اس کا گریبان پکڑا

” اور تم اب آکر بتارہے ہو ہاں ؟ حرام خوری کیلئے رکھا ہوا ہے تمہیں ؟”

وہ غراتے ہوئے اس سے پوچھ رہے تھے ، حمزہ آگے بڑھا اور انہیں تھاما

” پاپا ریلیکس ۔۔۔”

” کیا ریلیکس ؟ وہ کل کا بچہ جسے بزنس کی ب بھی نہیں معلوم وہ مسلسل ہمارے پراجیکٹ لے رہا ہے اور تم کہتے ہو ریلیکس ؟” وہ سیکرٹری کو چھوڑ کر اس پر چلائے

” تم جائو ۔۔۔۔”

حمزہ نے سیکرٹری کو اشارہ کیا تو وہ فورا رفو چکر ہوا ، حمزہ آگے بڑھا اور ماتھا مسلتے کامران صاحب کو کاندھے سے تھاما

” بیٹھیں پاپا ” انہوں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ، چہرہ غصے کی شدت سے سرخ پڑ رہا تھا

” وہ چھٹانک بھر کا عیسیٰ ، وہ اب میرے مقابل آرہا ہے ؟ کامران آفندی کے ؟ ” وہ یہاں وہاں چکر لگا رہے تھے ، یہ تیسرا انٹرنیشنل پراجیکٹ تھا جو ان کی بجائے عیسیٰ کو ملا تھا ، پہلے دو پراجیکٹ وہ ہضم کرگئے لیکن اب ، اب بس !!!!!

” غصہ کرنے سے پراجیکٹ واپس نہیں ملے گا پاپا “

” تم ۔۔۔تم ” وہ اس تک آئے” وہ تم سے دس سال چھوٹا ہے اور بزنس کو دیکھو ، سر پر اٹھا رکھا ہے اس نے ، بجائے اس کے کہ تم جاکر اس کا بندوبست کرو ، مجھے یہاں ریلیکس ہونے کا کہہ رہے ہو ؟ لعنت ہو تم پر حمزہ ” ان کا نزلہ اب اس پر گرا ، حمزہ نے آنکھیں گھمائیں

” میرا کیا قصور اس میں ؟ “

” قصور ؟ شاباش بیٹا ، وہ عیسیٰ ،اس کا باپ گھر پر بیٹھا ہے اور وہ اپنے باپ کا پورا بزنس سنبھالے ہوئے ہے ، تم ہو کہ میں تمہیں انگلی سے پکڑ کر چلنا سکھا رہا ہوں “

” تو آپ بھی گھر پر بیٹھ جائیں اور میرے حوالے کردیں سب ” وہ غصے سے کہتا چیئر پر بیٹھا

” تاکہ اگلے دن سب برباد کرکے تم بھی گھر پر آ بیٹھو ” وہ مسلسل ہانپ رہے تھے ، غصہ تھا کہ کم ہی نہیں ہورہا تھا ، عیسیٰ حیات کو بہت برداشت کرلیا تھا انہوں نے بہت زیادہ

” آپ مجھے انڈراسٹیمیٹ کررہے ہیں ، ایک چانس دے کر دیکھیں میں خود کو ثابت کرکے دکھادوں گا “

اس کا چہرہ اپنی بعزتی پر سرخ ہوا تھا ، کامران آفندی نے جواب نہیں دیا ، وہ گلاس وال کے پاس جا کھڑے ہوئے تھے اور اب باہر دیکھ رہے تھے ، چہرے پر سرد پن اور آنکھوں میں آگ سی تھی ، حمزہ کرسی پر بیٹھے گردن موڑے انہیں دیکھتا رہا ، وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا رہا تھا پھر اسے کامران آفندی کی آواز سنائ دی

” موقع اب میں عیسیٰ کو بھی نہیں دوں گا حمزہ، وہ کل کا بچہ میرے مقابلے پر کھڑا ہونے کی جرات کررہا ہے تو اس جرات کا خمیازہ تو بھگتنا پڑے گا ، وہ مسلسل میرا نام بزنس میں خراب کررہا ہے ، میرے پراجیکٹ خود لے رہا ہے اب میری برداشت ختم ہوچکی “

” کیا کریں گے آپ ؟” اس نے مشکوک نگاہوں سے باپ کی پشت کو دیکھا

” میں اسے اس قابل ہی نہیں چھوڑوں گا کہ وہ مجھ سے مقابلہ کرسکے “

” کیسے ۔؟” چند لمحے وہ خاموش رہے پھر کمرے میں ان کی سرد آواز گونجی

” کیا ہو اگر میں اس کی عزیز شے اس سے لے لوں ؟ وہ ختم ہوجائے گا اور ختم ہونے والے لوگ کچھ کرنے کے قابل کہاں رہتے ہیں ؟”

حمزہ کے جسم میں سنسنی خیز لہر دوڑ گئ جبکہ کامران صاحب کی آواز صرف بے حس تھی ، بے حس اور سرد ، اور کرسی پر بیٹھا حمزہ سوچ رہا تھا کہ عیسیٰ حیات کی عزیز شے کیا تھی ؟