Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Nahal (Episode 42) Last Episode (Last Part)
No Download Link
Rate this Novel
Nahal (Episode 42) Last Episode (Last Part)
Nahal By Fatima Noor
اس کی گاڑی جھٹکے سے رکی ، بمشکل سر کو سٹیئرنگ ویل سے ٹکرانے کی سے بچایا ، اندر طیش کا ایک طوفان اٹھا اور وہ جھٹکے سے دروازہ کھولتا باہر نکلا ، یہ جو بھی تھا آج اس کی شامت آئ تھی
پیچھے کھڑی کار کا دروازہ بجانے سے پہلے ہی اندر موجود انسان باہر نکلا اور زین کے قدم وہیں رک گئے
وہ صوفیہ تھی
اس نے آبرو اچکاتے اسے دیکھا پھر ایئرپورٹ کی عمارت کو
” میں نے آج جان لیا کہ خواتین کو ڈرائیونگ کرنے سے کیوں روکا جاتا ہے ” وہ جو جھنجھلا کر باہر نکلی تھی زین کو دیکھتے جھنجھلاہٹ خفت میں بدلی
” گاڑی ڈرائیو چلا رہا تھا “
” گاڑی ہے کس کی ؟”
” اب اس کا الزام بھی مجھ پر ڈال دو ، غلطی تمہاری بھی تھی ” وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے سامنے آیا
” میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں “
” بہت شکریہ ، اب جانے دو مجھے ، میری فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے “
” تم آج جارہی ہو ،کال پر چند دن بعد کا کہا تھا ؟”
” یہ بات چند دن پہلے کہی تھی میں نے ،چند دن گزر چکے “
” میرا خیال تھا تم مجھے الوداع کرنے آئ ہو “
” میں تمہیں کیوں الوداع کرنے لگی ؟”
” جانے میں کیوں تم سے الوداع کی امید رکھنے لگا ” وہ دلکشی سے مسکرایا
” ہٹو سامنے سے زین ” وہ کچھ بیزار ہوئ ، زین کی نگاہیں اسے کنفیوژ کررہی تھیں
” جو آپ کا حکم مادام ” ہاتھ سینے پررکھتے وہ سائیڈ میں ہوا اور اس کی کار سے ٹیک لگالی ،صوفیہ نے دانت کچکائے
” دروازے کے سامنے سے ہٹو ،مجھے سامان اٹھانا ہے “
” میری فلائٹ میں ابھی دیر ہے ،کیا تم مجھے کمپنی نہیں دے سکتیں ؟”
” تم کیا چاہتے ہو میری فلائٹ مس ہوجائے ؟”
” اوہ تم تو میرا دماغ پڑھنے لگیں ” وہ حیران ہوا
” زین۔۔۔۔۔” اب کے صوفیہ کو رونا آیا ،اس کا دل رک رک کر چل رہا تھا اور اس انسان کو مزاق کی پڑی تھی
” جی صوفیہ۔۔۔۔۔”
” مجھے تنگ مت کرو ،میں پہلے ہی بہت مشکل سے جانے کا فیصلہ لے رہی ہوں ” وہ سنجیدہ ہوا
” تم غلط کررہی ہو “
” فرق نہیں پڑتا ” وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا
” اگر میں کہوں کہ رک جائو ؟ ” وہ میں پر زور دیتا بولا
” میں چاہوں گی تم مجھے رکنے کا نا کہو “
وہ خاموش ہوا
” واپس کب آئوگی ؟”
” میں واپسی کیلئے نہیں جارہی “
” الوداع بھی نہیں کہوگی ؟”
” جو الوداع کہہ کر جائے ،وہ واپسی کی امید تھما کر جاتا ہے “
” یعنی تم پیچھے والوں کو چھوڑ کر جارہی ہو ؟”
” میں پیچھے والوں کو بھلا کر جارہی ہوں “
” یہ مت کرو صوفیہ ” اسے دکھ ہوا ، وہ عیسیٰ کے لئے خوش تھا ،اسے صوفیہ کے لیے دکھ ہوا
” مجھے یہ کرنے دو زین ،میں آج اس کے گھر گئ تھی ،ایک آخری بار ملنے ، آخری ملاقات ،وہ نہیں مل سکا ،میرے مقدر میں آخری ملاقات بھی نہیں تھی ، جو چاہئے ہو وہ کیوں نہیں ملتا ؟ صبر کریں تو کتنا ؟”
” جو مل جائے اسے چاہ بنالو “
” جسے کچھ ملا ہی نا ہو ؟”
” کچھ نا کچھ تو ہر کسی کو ملتا ہے “
” پھر جو چاہئے ہو وہ کیوں نہیں ملتا ؟”
زین نے بے بسی سے اسے دیکھا ،اسے لمبے لمبے فلسفے جھاڑنے نہیں آتے تھے ،وہ تسلی دینے کے معاملے میں کورا تھا
” محبت مرض ہے ،خدا کی پناہ اس مرض سے ” اسے اس شے سے پناہ مانگنی تھی ،وہ اس شے سے صحیح پناہ مانگتا تھا
” محبت معجزہ ہے ….مل جائے تو
محبت مرض ہے….نا ملے تو “
فلائٹ کی انائونسمنٹ ہونے لگی ،صوفیہ نے کچھ بے بسی سے اسے دیکھا ، زین گہری سانس لیتا دروازے کے سامنے سے ہٹا ، وہ آگے بڑھی اپنا بیگ اٹھایا ، ڈرائیور سے کچھ کہا اور بنا زین پر دوسری نظر ڈالے جانے لگی جب پیچھے سے اس کی آواز آئ
” واپسی کی کوئ امید ہی چھوڑ دو “
“میں واپس نہیں آئوں گی ،ہم اب کبھی نہیں ملیں گے زین “
وہ نہیں مڑی ، زین چلتا ہوا اس کے سامنے آیا
” شاید ہم مل جائیں ۔۔۔۔۔”
” نہیں ملیں گے “
” شاید کہ مل جائیں….
کسی پرانے دھند میں ڈوبے کیفے میں
کسی کچی پگڈنڈی پہ
کسی بارش میں ڈوبتی سڑک پر چھاتا تانے
پرانے قدیم قلعے کے دروازے پہ
تم مجھے دیکھو اور رخ پھیر لو
میں تمہیں دیکھوں اور مسکرادوں
تمہارا رخ پھیرنا اجنبیت
میرا مسکرانا محبت “
وہ دھیرے سے کہہ رہا تھا ،صوفیہ کی آنکھوں میں بے یقینی اتری
” زین۔۔۔۔”
” کسی شاعر کی نظم ہے ” اس نے دونوں ہاتھ اٹھائے ، لیکن وہ ایسی نظم کیوں سنانے لگا ؟ وہ محبت سے پناہ مانگا کرتا تھا ، کیا ہو جس سے تم پناہ مانگو وہے تمہارے اندر موجود ہو ؟
” الوداع زین !”
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر دھیرے سے ایئرپورٹ کی طرف بڑھ گئ ، زین وہیں ٹھہرا رہا ، وہ الوداع کہہ کر گئ تھی ، تو کیا وہ واپسی کا پروانہ تھما کر گئ تھی ؟ اس کے نظریں صوفیہ کے قدموں پر تھیں ، آج اس کی ہیل کی ٹک ٹک ارگرد گونج رہی تھی ، زہن میں ، دل میں ، ہر جگہ ، وہ واضح نظر آرہی تھی ،پھر وہ بھیڑ میں گم ہونے لگی ، اس نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا ، وہ بنا مڑے اسے دیکھتا رہا ،پھر ہجوم میں وہ گم ہوگئی ، اس کا سرخ کوٹ نقطہ بن گیا ، زین نے نظریں پھیر لیں ، اپنی گاڑی کی طرف بڑھا اور بیگ اٹھایا
تو یہ انجام تھا ؟ یوں ؟ مبہم سا ، غیر واضح ،اس کے قدم مخالف سمت میں چلنے لگے
شاید عرصے بعد۔۔۔۔
وہ دونوں کسی کیفے میں مل جائیں
کسی اجنبی سڑک پر
کسی پگڈنڈی پر
اس کا رخ موڑنا خفگی ہو
اس کا مسکرانا محبت
شاید۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
دو دن زینب کا رونا برداشت کرنے کے بعد اس شام اس نے زینب کو علی بھائ اور ثناء بھابھی کے ساتھ باہر بھیج دیا ، خود وہ دو دن سے کمرے میں قید تھی ، جواد کی واپسی اس کا دماغ سن کرگئ تھی ، ابا اور اماں نے فیصلہ اس پر چھوڑ دیا تھا اور وہ چاہتی تھی کہ دنیا سے ہی غائب ہوجائے ، کیا جواد کو سب مزاق لگتا تھا ؟
باہر سے شور کی آواز آنے لگی تو وہ چہرے سے آنسو صاف کرتی باہر کی طرف بڑھی ، ثناء بھابھی بگڑے چہرے کے ساتھ آرہی تھیں، اس کی نظریں دروازے پر گئیں
” زینب کہاں ہے بھابھی ؟”
علی بھائ پیچھے نہیں تھے ،بچے نیند سے جھولتے آرہے تھے لیکن زینب وہاں نہیں تھی ، ثناء نے سامان رکھتے کچھ پریشانی سے اسے دیکھا
” وہ بازار میں گم ہوگئ تھی “
زمین اس کے قدموں کے نیچے سے سرک گئ
” گم ہوگئ مطلب ؟”
” ہمارے ساتھ ہی تھی ،پتا نہیں کیسے اِدھر اُدھر چلی گئ ،علی کب سے اسے ڈھونڈ رہے ہیں “
اس کا وجود لڑکھڑا گیا ، پورا کا پورا آسمان سر پر آگرا
” ایسے کیسے گم ہوگئ ؟”
” پتا نہیں ۔۔۔۔ ” وہ کچھ بوکھلائ ہوئ سی تھیں ،ماریہ کچھ صدمے سے انہیں دیکھتی رہی پھر سب کچھ بھلائے دروازے کی طرف دوڑی
” ماریہ کیا کررہی ہو ؟”
ثناء نے بروقت اسے پکڑا
” میری بیٹی کہاں ہے بھابھی ؟ مجھے جانے دیں ” وہ چلا رہی تھی ، دماغ سن ہوگیا ،دل بند ، آنکھیں نم
” ماریہ رکو ,علی ڈھونڈ رہے ہیں اسے ” وہ بمشکل اسے قابو کرتی ابراھیم صاحب اور بلقیس کو آواز دینے لگی ،
” ایسے کیسے گم ہوگئ ،وہ چھوٹی سی ہے “
وہ ہوش میں نہیں لگ رہی تھی ، بلقیس ہونق سی بیٹھک میں آئیں
” کیا ہوا ؟”
” پکڑیں اسے ممانی ، یہ باہر جارہی ہے ،کچھ ہوش کرو ماریہ “
” ہوا کیا ہے ؟’
” زینب بازار میں گم ہوگئی ہے ،ہمارے ساتھ ہی تھی جانے کیسے اِدھر اُدھر ہوگئ “
اب کے ان دونوں کے سر پر آسمان گرا
” گم ہوگئ ؟”
ماریہ رو رہی تھی ،اس کا سانس جیسے اکھڑنے لگا تھا ، وہ اس کے پاس واحد سہارا تھی ،نہیں اللہ
” میں نہیں جانتی کیسے گم ہوئ ، وہ آئسکریم کے لئے ضد کررہی تھی ، علی نے منع کیا کہ سردی میں گلا خراب ہوجائے گا ، جانے کیسے ہماری نظر ہٹی اور وہ گم ہوگئ “
” آپ کو دھیان رکھنا چاہئے تھا بھابھی ،آپ کے بھروسے بھیجا تھا میں نے اسے ” وہ پوری شدت سے چلائ ، ثناء نے بمشکل ضبط کیا
” کیا ہی تھا دھیان ، علی کب سے خوار ہورہے ہیں اس کے پیچھے ، اور تم ہم پر ہی الزام ڈالنا شروع کردو ، زرا اس کے باپ کو فون کرکے پوچھو کہ وہ کہاں ہے ؟ مجھے یقین ہے وہی لے گیا ہوگا اسے “
ماریہ کا وجود ساکت ہوا ، رواں رواں رک گیا ، جواد ؟ وہ یہ کرسکتا تھا ؟ یہ بھی ؟ اس نے جھٹکے سے خود کو چھڑوایا ، کمرے میں جاتے جھپٹ کر بیڈ پر پڑا موبائل اٹھایا ،جواد کی کل سے کئ کالز آئ پڑی تھیں ، اس کا نمبر ملا کر اس نے بے دردی سے آنسو صاف کئے
” ماریہ ؟” وہ دوسری طرف کچھ حیران سا بولا
” زینب کہاں ہے جواد ؟ میری بیٹی کہاں ہے ؟” اس کی آواز پورے کمرے میں گونجی
” کیا مطلب ؟”
” معصوم مت بنو ، تم لے کر گئے ہو نا اسے ؟ زینب کہاں ہے جواد “
” مجھے کیسے معلوم ہوگا وہ کہاں ہے ؟ وہ تمہارے پاس تھی ، کیا ہوا اسے ؟” وہ لمحوں میں بوکھلا گیا
” جھوٹ مت بولو ، وہ بھائ کے ساتھ گئ تھی ، تم لے گئے ہو نا اسے ؟ میری بیٹی واپس کردو ” وہ رو رہی تھی اور پوری شدت سے رو رہی ، بلقیس پریشانی سے اندر داخل ہوئیں ، پیچھے ابراھیم صاحب اور ثناء بھی تھے
” میں اپنی ہی بیٹی کو کیوں اغوا کروں گا ؟ دماغ خراب ہے تمہارا ؟ مجھے بتائو وہ کہاں گئے تھے ؟”
” تم یہ کرسکتے ہو ، تم ہر شے کرسکتے ہو”
” میری بات سنو ماریہ ،مجھ پر الزام بعد میں بھی لگاسکتی ہو ، مجھے بتائو وہ کہاں گئے تھے ” اس کا رواں رواں کانپنے لگا ، کانپتے لبوں سے اس نے بازار کا بتا کر فون بند کردیا ، اگر جواد کے پاس بھی نہیں تو پھر کہاں ؟ وہ وہیں بیڈ کے ساتھ بیٹھتی چلی گئ ،ہچکیاں نکلنے لگیں ، بلقیس اس کے ساتھ بیٹھ گئیں ، ثناء کچھ پریشانی اور بے زاری سے وہیں تھی ، ابراھیم صاحب علی کو کال ملانے لگے ، جانے کتنے ہی لمحے گزرے ،کتنی ساعت ، کتنے منٹ شاید کئ گھنٹے جب اسے زینب کی آواز سنائ دی بے یقنی سے سر اٹھاتے وہ ہوش بھلائے باہر کی طرف بھاگی ،کھلے دروازے سے زینب کو اٹھائے جواد اندر داخل ہورہا تھا ، وہ تیزی سے زینب تک بڑھی اور اسے جھپٹ کر جواد کے ہاتھ سے تھاما
” اوہ زینب ،میری بیٹی “
وہ اسے چوم رہی تھی ،کبھی گلے سے لگارہی تھی ، اذیت کم ہونے لگی ،اسے کچھ ہوجاتا یہ خیال موت جیسا تھا
” وہ ٹھیک ہے ماریہ ” آواز پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا ، سرخ پڑتی آنکھوں اور تھکے چہرے کے ساتھ جواد اسے دیکھ رہا تھا ، وہ اس تک آئ اور اس کے سینے پر ہاتھ مارا
” تم لے کر گئے تھے نا اسے ؟ ہاں ؟ اس قدر گرجائو گے اب ؟ ” وہ دھاڑتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی ،جواد نے ضبط سے اسے دیکھا
” میں نہیں لے کر گیا تھا “
” جھوٹ مت بولو ، تم مجھے اذیت دینا چاہتے تھے نا ؟ دے لی اذیت ؟ بس کرو اب جواد ، خدا کے لئے بس کرو “
” ماریہ ۔۔۔۔۔ ” علی فوراً آگے بڑھا اور اسے تھاما ” یہ نہیں لے کر گیا تھا ، یہ بازار میں آیا تھا میرے پاس ،اسی نے زینب کو ڈھونڈا ہے ، اسے الزام مت دو “
اس کے آنسو رکے ، سرخ پڑتے چہرے سے جواد کو دیکھا،وہ ضبط سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ، وہ گہرے گہرے سانس لیتی پیچھے ہوئ ، نیچے ڈر کر ٹھہری زینب کو تھاما
” یہاں سے چلے جائو “
” گھر چلو ماریہ ، مت ازیت دو خود کو بھی، اور مجھے بھی “
” میں نے کہا یہاں سے چلے جائو جواد ” وہ زینب کو اٹھائے جانے لگی جب ثناء بھابھی کی آواز کانوں میں پڑی
” چلی جائو اس کے ساتھ ماریہ ، کب تک یہاں رہوگی ؟”
وہ کچھ بے زاری سے کہہ رہی تھیں
” میرے ماں باپ کا گھر ہے بھابھی “
” جب بھائ کمانے لگ جائے تو وہ ماں باپ کا نہیں بھائیوں کا گھر بن جاتا ہے “
ماریہ کا گلا رندھ گیا ، یہ اس کے منہ پر جیسے تمانچہ تھا
” وہ میرا بھائ ہے ، “
” وہ میرا شوہر ہے ، میرے بچوں کا باپ ہے ، اپنے ماں باپ کا بیٹا ہے ، اس پر اور بھی زمہ داریاں ہیں ، “
اس بعزتی پر اس کا چہرہ سرخ ہوا ، جواد کے سامنے یہ الفاظ اس کے لئے زلت تھے
” ثناء ،چپ کرجائو “
علی سختی سے کہتے آگے کو ہوا
” کب تک چپ کروں ؟ برداشت کی بھی حد ہوتی ہے ، آپ اکیلے اس کے بھائ نہیں ہیں ، ہر شے آپ کے کاندھوں پر ڈال دی ہے سب نے “
زینب اس سے اپنا آپ چھڑاتی نیچے اتر رہی تھی ،اس کی گرفت ڈھیلی تھی ، وہ ثناء کی طرف متوجہ تھی
” میری بیٹی میری جائیداد میں سے کھاتی ہے ثناء “
” ماموں ، وہ جائیداد آگ میں جل گئ تھی ،اسے دوبارہ میرے شوہر نے کھڑا کیا ہے “
ماریہ کو احساس ہوا ،کسی نے اسے پاتال میں جاپھینکا تھا, زینب اس کے حصار سے نکلتی پیچھے کھڑے جواد کی طرف بڑھ گئ ،وہ چونکی ، جواد کو دیکھا پھر زینب کو ، باپ بیٹی ، سب سے محفوظ رشتہ ، وہ اس کے گم ہونے کا سن کر سب سے پہلے گیا تھا ، اسے ڈھونڈ کر بھی وہی لایا تھا ،وہ ان دونوں کو دیکھے گئ ، زینب کو سینے سے لگاتے جواد نے اذیت سے اسے دیکھا
” گھر چلو ماریہ ، مت خود کو ازیت دو “
وہ اسی طرح ساکت اسے دیکھتی رہی
” کہیں نہیں جائے گی وہ ، اتنی ہی بوجھ بن رہی ہے علی تم پر تو میں اسے لے کر چلاجائوں گا یہاں سے ،بلقیس سامان باندھو اپنا “
وہ فیصلہ صادر کرتے جانے لگے جب پیچھے سے ماریہ کی آواز ابھری
” میں جواد کے ساتھ جائوں گی ابا “
جواد کے ساتھ ساتھ وہاں موجود ہر شخص ٹھٹک گیا ، وہ آنسو صاف کرتی مضبوط لہجے میں کہہ رہی تھی
” ماریہ ۔۔۔۔۔ “
” نہیں ابا ، میں نے سوچ کر ہی فیصلہ لیا ہے ،مجھے اپنی بیٹی کو ماریہ نہیں بنانا ، میں جیسے م ر مر کر جی ہوں اسے ویسی زندگی نہیں دینی ، ماں باپ کی عدم توجہی اور علیحدگی دونوں میں سب سے زیادہ نقصان اولاد کا ہوتا ہے ، مجھے اپنی بیٹی کو وہ نقصان نہیں دینا “
اس کا لہجہ پھر سے بھیگ گیا ، جواد کو پھر سے ازیت ہوئ ،وہ پہلی بار اس کے آنسو صاف کرنا چاہتا تھا
” مجبور ہوکر مت فیصلہ لو ماریہ ، یہ شخص تمہیں تکلیف دے گا “
” میں وعدہ کرتا ہوں میری طرف سے اب کوئ تکلیف ماریہ کو نہیں ملے گی ” وہ زینب کو اٹھائے اس تک آیا ، آنکھوں میں نرمی گھل گئ
” تم پہلے بھی اسے ازیت دے چکے ہو جواد ،میں دوبارہ کیسے یقین کروں ؟” وہ غصے سے چٹخ کر بولے
” نہیں ابا ، ہم دونوں نے برابر ایک دوسرے کو تکلیف دی ہے ، قصور دونوں کا تھا ، نا میں نے اس گھر کو اپنا سمجھا ،نا جواد نے مجھے اپنا سمجھا ، میں اس کے گھر والوں کو اہمیت نا دے سکی ،یہ مجھے ، اب اگر ہم دونوں کو احساس ہے تو یونہی صحیح ، زینب کیلئے ہی صحیح ، مجھے جانے دیں “
ابراھیم صاحب کے پاس الفاظ ختم ہوگئے ، جواد کے پاس الفاظ کا زخیرہ جمع ہوگیا ،وہ اس سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا ،بہت کچھ سننا چاہتا تھا
” شکریہ ماریہ ۔۔۔۔ “
وہ فلوقت اتنا ہی کہہ سکا
صرف زینب کے لئے جواد ،صرف زینب کیلئے ” اس کی نظر جواد سے لپٹ کر کھڑی زینب پر گئ
” لیکن میں نے صرف زینب کے لئے نہیں کیا ، میں اب واقعی یہ رشتہ نبھانا چاہتا ہوں ماریہ۔ دل سے ” وہ ہلکا سا مسکرایا ،ماریہ نہیں مسکرائ ،وہ عورت تھی ،وہ ماں تھی ، مجبور تھی ، اندر کی طرف جاتے ہوئے اسے پہلی بار احساس ہوا وہ ایک بیوی ہوتی تو کبھی نا جاتی واپس ، وہ ماں تھی ،اور ماں ہمیشہ ہار جاتی ہے ، آنسو صاف کرتے وہ کمرے کی طرف بڑھ گئ اسے سامان لینا تھا
اور پیچھے کھڑے جواد کو پہلی بار احساس ہوا ،کہ دین اسلام کس قدر خوبصورت تھا ، وہ راستے کھلے رکھتا تھا ، وہ آسانیاں دیتا تھا ، اگر تب وہ ماریہ کو تین طلاق ایک ساتھ دے دیتا تو وہ سب کھو دیتا ، آج کچھ باقی تھا تو وہ اسی وجہ سے تھا کہ اس نے اس حکم پر عمل کیا تھا جو شرعی تھا ، جو اس کی آسانی کے لئے رکھا گیا تھا
اور بے شک رب کے احکام آسانی کے لئے ہی ہیں
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بریک لگاتے ہوئے اس نے بے یقینی سے عیسیٰ کو دیکھا
” میں نے کرلیا ؟'”
” بلکل۔۔۔”
وہ مسکرایا
” اف مجھے مبارک “
وہ ہنس دیا
وہ یوں خوش ہورہی تھی جیسے کوئ معرکہ سر کرلیا ہو ، عیسیٰ پچھلے کئ دن سے اسے ڈرائیونگ سکھا رہا تھا ,شروع شروع میں وہ صاف بدک گئ
” میں نہیں سیکھوں گی “
” کیوں ؟”
” مجھے نہیں سیکھنی بس ، ڈرائیور ہے نا “
” آپ اکیلی ڈرائیور کے ساتھ نہیں جاتیں ، اور ہر بار ملازمہ کو لے کر جانا مشکل ہے “
” تو آپ کے ساتھ آیا جایا کروں گی “
” میں ساری عمر آپ کا ڈرائیور بننے کیلئے حاضر ہوں مادام قرت ، لیکن ڈرائیونگ آپ کو سیکھنی ہی ہوگئ” وہ ضد کا پکا تھا ،اسے ضد کرنی نہیں آتی تھی
پہلے دن اس نے کسی ہمسائے کی گاڑی میں ٹھوک دی ، عیسیٰ شام کو انہیں چیک اور معذرت دونوں دے آیا ، اگلے دن اس نے کسی درخت کو زخمی کردیا ، وہ نیچے اترا ،درخت کے زخم پر افسوس کیا اور اسے پھر سے سکھانا شروع کردیا ، تیسرے دن اس نے اپنا ماتھا زخمی کرلیا ، وہ بنا سیٹ بیلٹ کے ڈرائیونگ سیکھ رہی تھی ، جھٹکا لگنے پر ماتھا سیدھا جاکر اسٹیئرنگ سے ٹکرایا، عیسیٰ کے اچھا خاصا جھڑکنے پر اس نے سیٹ بیلٹ باندھنا شروع کردی لیکن اس سے پہلے شہوار کے ساتھ بیٹھ کر اس کی پورے زور شور سے شکایت لگائ
” تو اب میں نے ڈانٹ دیا تو آپ میری شکایت لگائیں گی ؟”
وہ ماتھے پر بل ڈالے پوچھنے لگا
” آپ مجھے ڈانٹئے گا ہی مت “
” غلط کریں گی تو ڈانٹ تو پڑے گی “
” آپ مجھے ڈانٹیں گے ؟ مجھے ؟ قرۃ العین کو ؟” وہ گردن اٹھائے مان سے پوچھنے لگی، وہ مسکرایا
” عیسیٰ حیات کو اپنا دل پیارا ہے ، اس ڈانٹ کے لئے معذرت !”
وہ اس کی پسندیدہ عورت تھی ، مرد کی پسندیدہ عورت کو چاہے جانے کا مان ہوتا ہے ،اسے بھی تھا ، بالآخر کئ دن کی محنت کے بعد اس نے دل لگا کر ڈرائیونگ سیکھ ہی لی ، آہستہ لیکن احتیاط سے
” اس طرح چلائیں گی تو ہم پہنچ گئے گھر آج “
” مناسب سپیڈ ہے ” وہ گہری سانس لے کر رہ گیا
” چیونٹیوں جیسی ،میں انہیں سڑکوں پر ون ویلنگ کیا کرتا تھا جہاں میری زوجہ کچھوے کی رفتار سے گاڑی چلا رہی ہیں “
” آپ ون ویلنگ کرتے تھے ؟” صدمہ !!
” بالکل۔۔۔۔ ” فخر !!
” کتنی غلط بات ہے ” افسوس !!
” میں نے کب کہا کہ اچھی بات ہے ” ڈھٹائ !!
اور وہ اس ڈھیٹ کو گھور کر رہ گئ ،پھر بھی سپیڈ زیادہ نا کی ، عیسیٰ اسے دیکھ کر رہ گیا ، وہ اسے نظر انداز کرتی رہی ، وہ بالآخر ٹھیک تھی ،وہ بالآخر خوش تھا ، پیچھے سب ٹھیک تھا ،آگے سب بہترین تھا ، اماں سے بات ہوجاتی ، مہر کا کچھ دن تک نکاح تھا ، جواد اور ماریہ اپنے گھر میں خوش تھے ، ابوبکر اسلام آباد آرہا تھا ، سب ٹھیک تھا ،سب بہترین تھا
” اتنی بزدل مت بنیں ” وہ اکتا گیا
” احتیاط کررہی ہوں “
اس کی اکتاہٹ اڑنچھو ہوئ ، قرۃ العین اکیلی نہیں تھی ،اس کے اندر ایک اور وجود تھا
پہلے پہل اس خبر پر اسے اس خبر پر یقین نہیں آیا تھا ، وہ کئ دن کی طبیعت خرابی کے بعد شہوار کے ساتھ چیک اپ کرانے گئ تھی ، واپس پر جو خبر اس نے دی وہ کتنی دیر اسے دیکھتا رہا
” کیا مطلب ؟”
” میں کہہ رہی ہوں کہ آپ کو معلوم ہے عربی میں والد کو کیا کہتے ہیں ؟”
” نہیں۔۔۔۔ “
” اَبٌ کہتے ہیں “
” اوکے ۔۔۔۔؟”
وہ نہیں سمجھا تھا ، وہ سمجھانا چاہتی تھی
” تو یہ کہ آپ کی اولاد آپ کو اَبٌ کہے گی “
“یعنی آپ ان کو بھی عربی سکھانا شروع کردیں گی ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوگا ،مجھے آپ کی عربی کی سمجھ نہیں آتی ، اپنی اولاد کی کیسے سمجھ آئے گی ؟ ، ڈیڈ ، پاپا یا جو بھی ۔۔۔۔۔۔۔”
باقی الفاظ منہ میں رہ گئے ، ایک منٹ ،اس کی اولاد ؟ اس کے چہرے پر بے یقینی پھیلی ، وہ سرخ پڑتے چہرے سے اسے دیکھ رہی تھی ، وہاں سے ہٹتے وہ وارڈروب درست کرنے لگی ، عیسیٰ کو الفاظ سمجھ میں آئے اور اس کے چہرے پر وہ تاثرات آئے جیسے اسے پوری دنیا مل گئ ہو ، وہ جھٹکے سے اس کے سامنے آیا
” یہ سچ ہے ؟”
وہ یوں پوچھ رہا تھا جیسے اس نے جواب میں ” نہیں یہ جھوٹ ہے” کہا تو وہ م ر جائے گا
” یہ سچ ہے “
قرۃ العین نے عیسیٰ حیات کو زندہ رہنے دیا ، وہ اسے کتنی ہی دیر دیکھتا رہا، نعمت تھی تو یہی تھی ، کوئ معجزہ تھا تو سامنے تھا ، اس کا دل اندر تک کسی گہرے احساس میں ڈوبا ، پھر اس نے قرت کے دونوں ہاتھ تھامے اور انہیں آنکھوں سے لگایا
” یہ اب صرف محبت نہیں رہی ،یہ عقیدت بن گئ ہے، شکریہ میرے زندگی میں آنے کے لئے ، شکریہ مجھے مکمل کرنے کے لئے “
اس کی آواز میں نمی گھلی، قرۃ العین کے آنسو بہہ نکلے ، وہ معجزوں جیسی باتیں کرتا تھا
اور اسے احساس ہوا وہ انتہا کا احساس کرنے والا واقع ہوا تھا ، اگلے دن خود جاکر ڈاکٹر سے اس کا ڈائٹ پلان بنوایا ، شہوار کے ساتھ بیٹھ کر اس پر اچھی خاصی پابندیاں لگوائیں ،جن میں سر فہرست چائے پینا تھا
وہ کچن میں چائے بنا رہی تھی جب وہ کسی جن کی طرح وہاں نازل ہوا
” آپ کو یہ منع ہے “
” ایک کپ ۔۔۔۔ “
معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں ، وہ اس معصومیت پر فدا ہوجاتا لیکن فلحال چائے کی کیٹل اٹھا کر دور رکھ دی
” ہرگز نہیں ۔۔۔۔ “
وہ خفا ہوئ ، پھر سرخ ہوئ پھر اسی خفگی سے لائونج میں جاکر صوفے پر پائوں اوپر کئے بیٹھ گئ
” کیا ہوا ؟”
اس نے رخ موڑ کر حیات کو دیکھا
” آپ کا بیٹا کبھی کبھی ناقابل برداشت ہوجاتا ہے”
کچھ عرصہ پہلے کہا گیا ان کا جملہ دہرایا
” تمہاری فکر کرتا ہے “
کچھ عرصہ پہلے کہا گیا اس کا جواب لوٹایا
” اس فکر میں خیر نہیں “
” میرا دکھ سمجھ آیا ،؟”
اسے اپنا دکھ ستارہا تھا کسی اور کا کیا دیکھتی ؟ ایک کپ ؟ اسے پورا سو فیصد یقین تھا کہ اس نے جان بوجھ کر ڈاکٹر سے چائے پر پابندی لگوائ ہے ،بھلا چائے پینے سے کون ڈاکٹر منع کرتا ہے ؟ ڈاکٹر نے بہت زیادہ چائے پینے سے منع کیا تھا ، عیسیٰ نے سرے سے پابندی لگادی ، چائے پر پابندی لگانے والا چائے کے تینوں پیکٹ زینت آپا کے ہاتھوں باہر پھیکنوا رہا تھا ، چائے کے دونوں شیدائ صدمے سے اٹھے
” یہ ظلم ہے “
ظالم نے کاندھے اچکا کر مظلوموں کو دیکھا
” یہ میرا فرض ہے ، آپ دونوں چوری چوری چائے بنا لیں گے “
بڑے چور اور چھوٹی چورنی نے منہ بسیرا ، چائے گمنام ہوئ اور لائونج میں عیسیٰ کافی لے کر بیٹھ گیا
” اسے پیا کریں ،فائدہ دے گی ” انہیں اپنا نقصان عزیز تھا ، حیات نے خفگی دکھائ ،قرت نے منہ پھلایا ، تھوڑی دیر گزری جب منہ پھلائے قرت العین کا چہرہ زرد ہوا ،پھر وہ منہ پر ہاتھ رکھے واش روم کی طرف گئ ، عیسیٰ بوکھلا کر اور شہوار پریشانی سے اس تک گئے ،واپسی پر وہ پہلے سے زیادہ زرد چہرے سے واپس آئ ، ایک ہاتھ سے عیسیٰ کا ہاتھ پکڑے وہ نڈھال سی صوفے پر بیٹھی ، دو تین دن سے عجیب کیفیت تھی
“ڈاکٹر کے پاس چلیں ؟”
وہ متفکر تھا
” ٹھیک ہوں ” وہ بیمار لگ رہی تھی ، نڈھال ، چہرہ تھکا سا تھا ،نظر سامنے ٹیبل پر گئ ، کافی ، تازہ بھنی ہوئ مچھلی ، پیسٹری ، اسے پھر سے ابکائ آئ
” عیسیٰ یہ کافی ہٹائو یہاں سے ” ظالم شخص مظلوم بن گیا ،کافی کا کیا تعلق ؟
” مام ۔۔۔۔۔” مام ساسوں ماں بن گئیں ، اسے گھور کر دیکھا ،اس نے کافی ہٹوادی ، چہرے پر پہلے سے زیادہ پریشانی ابھری
” ڈاکٹر کو یہیں بلا لیتے ہیں”
” ریلیکس عیسیٰ ، یہ نارمل ہے ،ہوتا ہے ایسا” اس کے لئے نہیں تھا ، وہ کمرے میں گیا ،دوائ اٹھائ ، شہوار کچن میں گئیں ،پانی اٹھایا ،پیچھے بیٹھے حیات نے مشکوک ہوکر اسے دیکھا
” کافی ؟”
” مچھلی۔۔۔۔” اور وہ دونوں ہنس دیئے
عیسیٰ اس کے بعد بھولے سے بھی اس کے سامنے کافی پینے سے بچنے لگا ، وہ اس پر کسی سائے کی طرح نظر رکھتا ، اس کے ساتھ بیٹھ کر گھٹنوں اس بارے میں بات کرتا ، بلا تکان بولتا ، وہ دلچسپی سے سنتی ، مستقبل کی پلاننگ ، بچوں کا سکول ، ان کی پڑھائ وغیرہ وغیرہ ،وہ حیران ہوتی کہ وہ ابھی سے یہ سب سوچ رہا تھا ، وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنی اولاد کو ویسا بچپن نہیں دینا چاہتا تھا جیسا اس کا تھا ، جن کا بچپن ابنارمل گزرا ہو ان کے سارے خواب اپنی اولاد کے بچپن سے جڑ جاتے ہیں
وہ اس کا یوں خیال رکھتا کہ وہ کبھی کبھی جھنجھلا جاتی ، وہ ٹیبل پر چڑھ کر سامان اتار رہی ہے تو وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اتارے گا ، دو چار منٹ ڈانٹے گا پھر آدھا گھنٹہ اسے سوری کہے گا ، اس کی آنکھوں میں آج کل منٹوں میں نہیں سیکنڈز میں آنسو آتے تھے ، موڈ سوئینگز کس بلا کا نام ہے یہ عیسیٰ حیات کو اب پتا چل رہا تھا
” آپ کو زرا میری فکر نہیں ہے”
وہ بیڈ پر بیٹھی ساتھ ٹشو باکس رکھے شوں شوں کرتی رو رہی تھی
” یہ آپ کی فکر ہی تھی مادام “
وہ تھوڑی دیر پہلے سٹول پر کھڑی بلائنڈز سیٹ کررہی تھی جب پائوں پھسلنے لگا ، عیسیٰ اسی کمرے میں داخل ہوا تھا ، لمحوں میں اس تک پہنچ کر اسے سنبھالا ، غصہ عود کر آیا
” آپ ہوش میں ہیں ؟ منع کیا تھا نا کہ اس طرح کی بے احتیاطی نہیں کرنی ؟”
اور بس اس کے نین کٹورے سیکنڈز میں بھرگئے ،اس کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا اور اب وہ پچھلے دس منٹ سے رو رہی تھی ، اس کا خیال تھا شاید اس کی ڈانٹ کی وجہ سے رو رہی تھی ،درحقیقت وہ یہ سوچ کر ہول گئ تھی اگر وہ نا آتا تو جانے کیا ہوجاتا
” آپ کو دو دن سے کہہ رہی تھی سیٹ کرنے کا ، قصور خود کا ہے اور ڈانٹ مجھے رہے ہیں”
سرخ گال ، سرخ ناک ، بہتے آنسو ، وہ گہری سانس لے کر رہ گیا، یہ عورت کسی دن اسے پاگل کردے گی
” اچھا آئ ایم سوری “
قصور جس کا بھی تھا معافی اسے ہی مانگنی تھی ، قرۃ العین کے ناز عیسیٰ حیات کو ہی اٹھانے تھے ، اس نے معاف نہیں کیا ، شہوار کو جا کر پہلے سب بتایا پھر اس کے پاس آکر آنٹی کا پیغام دیا
” آنٹی بلا رہی ہیں “
خفا چہرہ ، ناراضگی بھرا انداز ، وہ مسکراہٹ ضبط کرگیا
وہ ان سے کلاس لینے کمرے میں گیا اور سر جھکائے ڈانٹ سنی
” زرا سا ہی ڈانٹا تھا “
” زرا سا بھی کیوں ڈانٹا ؟”
” اب میں یہ حق بھی نہیں رکھتا ؟”
” ڈانٹنے کا نہیں رکھتے “
” مام ، آپ سچ بتائیں ،آپ دونوں کی میرے پیچھے لڑائ نہیں ہوتی ؟” وہ اس محبت پر حیران تھا ،شہوار اس سوال پر غصہ ہوئیں
” تم ہم دونوں کو لڑوانا چاہتے ہو ؟” لڑوانے والے نے اپنا سر ان کی گود میں رکھا
” اپنے عزیز لوگوں کو کون لڑوانا چاہتا ہے ؟بہت شکریہ مام ، میری مام ہونے کے لئے ” حیات اور شہوار دونوں مسکرائے ، وہ آنکھیں موندے وہاں لیٹا تھا ، قرۃ العین دروازے سے مسکراتے ہوئے پلٹ گئ ، اسے شہوار سے کوئ کام تھا لیکن یہ اس کے ماں باپ کا وقت تھا ، عیسیٰ پیچھے اب بھی آنکھیں موندے لیٹا تھا ، سکون سے ، یوں جیسے اس ایک جگہ صدیوں کی تھکن اتر جاتی ہو
وہ کچھ دیر بعد کمرے میں واپس آیا تو وہ ہنوز خفا سی صوفے پر بیٹھی تھی ، یعنی وہ منائے گا تو ناراضگی دور ہوگی ، ورنہ نہیں ،گہری سانس لیتے وہ اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھا
” آئ ایم سوری “
” ضرورت نہیں ہے”
” آئ ایم سوری “
” جائیں یہاں سے “
” آئ ایم سوری “
” تنگ مت کریں “
” آئ ایم سوری مادام قرۃ العین”
اس نے رخ موڑ کر اسے دیکھا
” آپ نرمی سے بھی سمجھا سکتے تھے”
” ہاں ،نرمی سے بھی سمجھا سکتا تھا”
سر ہلایا
” دراصل آپ کو آج کل غصہ زیادہ آرہا ہے”
اس نے اب بھی سر ہلادیا ، اسے غصہ زیادہ نہیں آرہا تھا محترمہ آج کل چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوجاتی تھیں ، یہ الگ بات تھی اس کا حق اچھا لگتا تھا
” اور مجھے بھی احتیاط کرنی چاہیے تھی”
آواز میں شرمندگی گھل گئ
” بالکل۔۔۔۔۔ “
” آئ ایم سوری “
” آپ کے سوری کا کیا کروں گا ؟”
نرمی سے مسکراتے اس کا ٹھنڈا ہاتھ تھاما
” میں آئندہ احتیاط کروں گی”
” کرنی بھی چاہئے “
وہ وہیں بیٹھے اس سے باتیں کرنے لگا ، وہ سنتی رہی ، جب جب وہ بزی نا ہوتا اس کے پاس ایک موضوع ہمیشہ موجود ہوتا ، ہم یہ کریں گے ، وہ کریں گے ، بچوں کا بچپن
” آپ ان کا بچپن اپنے بچپن جیسا بنانا چاہتے ہیں ؟”
یوں ہی اس کی کسی بات پر ہنستے کہا تو عیسیٰ کا چہرہ سنجیدہ ہوگیا
” ہرگز نہیں”
قرت کی مسکراہٹ سمٹی ، وہ سنجیدہ تھا بلکہ ڈسٹرب ہوا تھا
” کیوں ؟”
” مجھے اپنے بچپن جیسا بچپن اپنی اولاد کو نہیں دینا “
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی
” آپ نے کبھی اپنے بچپن کے قصے نہیں سنائے عیسیٰ”
اس نے کچھ نہیں کہا ، یہ موضوع اس کے لئے تکلف دہ تھا ، قرت اس کے بولنے کی منتظر تھی
” کوئ بات نہیں اگر آپ نہیں بتانا چاہتے “
عیسیٰ نے تھکی سی سانس خارج کی
” میرا بچپن بہت اچھا نہیں گزرا قرت ، میں چاہوں گا آپ مجھ سے اس بارے میں نا پوچھیں ، اس لئے نہیں کہ مجھے تکلیف ہوگی ، اس لئے کہ یہ میرا اور میرے ماں باپ کے بیچ کا معاملہ ہے ، میں نہیں چاہتا میں آپ کو کچھ بتائوں اور آپ کی نظر میں ان کی قدر کم ہوجائے “
اس نے نرمی سے عیسیٰ کا ہاتھ تھپتھایا
” ان کی قدر میری نظر میں ہر روز پہلے سے زیادہ بلند ہوجاتی ہے ، لیکن میں آپ کی بات کا احترام کرتی ہوں ، میں آئندہ نہیں پوچھوں گی”
” آپ کو برا تو نہیں لگا ؟”
وہ ہلکا سا مسکرائی
” بالکل بھی نہیں “
اس نے کچھ نہیں کہا ، جو ماضی میں ہوا تھا وہ وہیں رہ گیا تھا ،وہ اپنے ماضی کا اثر اپنے حال اور مستقبل پر نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا ، جو پیچھے رہ گیا اسے پیچھے ہی رہ جانا چاہئے ،ماضی کا غم رکھنے سے ماضی تبدیل نہیں ہوتا ، ماضی کا غم رکھنے سے حال ضرور تبدیل ہوسکتا ہے ،اور اسے اپنا حال عزیز تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ایک ماہ بعد !
عصر کی آذانوں کی آواز آرہی تھی جب وہ دونوں وہاں پہنچے، سیاہ برقعے پر شال اوڑھے قرت العین اور سیاہ پینٹ پر سفید شرٹ اور جیکٹ پہنے اس کا ہاتھ تھام کر سیڑھیاں اترنے میں مدد دیتا عیسیٰ ، وہ نیچے کھڑا تھا اور قرت اس کا ہاتھ تھام کر سیڑھیاں اتررہی تھی
نیچے اتر کر اس نے شال کچھ اپنے اوپر مزید درست کی ، موسم بہتر تھا لیکن آج بادل بنے ہوئے تھے تو اچانک ہی ڈھنڈ اتر آئ تھی ، عیسیٰ اس کے ساتھ چل رہا تھا ، اس نے جیکٹ اب بازو پر ڈال لی تھی ، وہ دونوں چلتے ہوئے چنار کے درخت تلے آئے ، سامنے ایک پتھر پڑا تھا وہ اس پر بیٹھی ، عیسیٰ نے درخت سے ٹیک لگالی
” بارش شروع ہونے والی بس ” اس کی نظر آسمان پر تھی ، عیسیٰ آسمان کو نہیں دیکھ رہا تھا ، وہ اسے دیکھ رہا تھا
” آج بادلوں کو حق ہے کہ وہ برسیں ” اس نے رخ موڑ کر عیسیٰ کو دیکھا
” ہم بھیگ جائیں گے “
” کھلے آسمان تلے یہ میرا پسندیدہ منظر ہوگا ” وہ مسکرایا ، قرت کے لبوں پہ بھی مسکراہٹ ابھری
” آپ کا نہیں معلوم لیکن مجھے سردی لگ جائے گی “
” میری جیکٹ حاضر ہے ، لیکن آج آسمان کو حق ہے کہ بادلوں کو برسنے دے ” وہ ہنسی پھر نظر سامنے گئ ، وہاں آج بھی کسی نے دیئے جلا رکھے تھے
وہ لوگ ملتان میں تھے، کل مہر کا نکاح ہوا تھا ، رخصتی دو سال بعد کی تھی ، تھوڑی دیر تک ان کی سعودی کی فلائٹ تھی ، عیسیٰ کا سرپرائز ، اس نے حیات اور شہوار اور ان دونوں کے عمرہ کا ٹکٹ بک کروایا تھا ،لیکن پھر اسے گ ولی لگ گئ تو وہ لوگ نا جاسکے، اب جانا مقدر ہوا تھا تو اب جارہے تھے ، فلائٹ سے پہلے عیسیٰ نے اس سے کہا کہ وہ اسی جگہ جانا چاہتا ہے جہاں ان کی آخری ملاقات ہوئ تھی ،
” جانے دیئے کون جلا کر رکھ جاتا ہے یہاں ” عیسیٰ کی نظر اس کے تعاقب میں گئ
” کوئ بنجارا جس نے کسی منزل کی دعا کی ہوگی، یا کوئ صوفی جس نے عشق کی حقیقت پالی ہو اور وہ اپنی امید ان دیوں کی صورت ان دیوں کو رکھ گیا ہو “
” آپ شروع سے ایسی باتیں کرتے ہیں ؟”
” ایسی کیسی ؟”
” صوفیانہ ۔۔۔شاعرانہ ۔۔۔۔فلسفیانہ “
” عاشقانہ۔۔۔۔ ” وہ سر جھکائے ہنسا ، پھر اسے دیکھا ” پہلے نہیں کرتا تھا ، آپ سے ملنے کی بعد میری زبان ایسی بہت سی باتیں کہنا سیکھ گئ ہے جو وہ نہیں جانتی تھی ” اس نے ہاتھ شال میں چھپائے اور ان دیوں کو دیکھا ، ہوا کے باعث وہ پھڑپھڑا رہے تھے
” یہ بجھ جائیں گے ” عیسیٰ نے ان دیوں کو دیکھا
” میں جلادوں گا ” پھر اسے دیکھا ۔۔۔” پچھلی بار جب وہ بجھے تھے تب بھی جلادیا تھا “
” جانتی ہوں ۔۔” وہ کچھ بول نا سکا
” کیسے ؟”
” جب میں یہاں سے واپس گئ تھی تو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا ، آپ ان دیوں کو جلا رہے تھے “
” پیچھے مڑنے والے پتھر ہوجاتے ہیں قرت “
” میں بھی ہوگئ تھی عیسیٰ ” وہ چند لمحے اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہا ، ان میں کچھ ایسا تھا جو پہلے نہیں ہوتا تھا
” کب ۔۔۔؟” وہ اس سوال کا جواب جاننے کیلئے صدیوں اپنی سانس روک سکتا تھا ، اپنی سماعت متوجہ رکھ سکتا تھا ، اپنی زبان خاموش رکھ سکتا تھا
” جب باغ میں آپ نے کہا تھا کہ آپ کی آنکھوں میں دیکھ کر بتائوں کہ کیا آپ جھوٹ بول رہے ہیں ؟ میں اسی لمحے پتھر کی ہوگئ تھی عیسیٰ ” وہ اب صدیوں کا انتظار اس کی قسمت میں نہیں لکھ سکتی تھی ، قسمت نے محبت کا قلم اس کے ہاتھ میں تھمایا تھا تو قرت العین اس اجنبی مسافر کو بلآخر محبت کا تحفہ دان کرنا چاہتی تھی، عیسیٰ کی زبان سے جیسے گنگ ہوگئ تھی ، وہ اس کے کچھ بولنے کی منتظر بھی نہیں تھی، دیوں کو دیکھتے وہ سادگی سے کہہ رہی تھی ” میں نے ایک عرصہ تب اپنے دل سے کہا تھا کہ میری آنکھوں کی چمک اس لئے معدوم ہوئ ہے کیونکہ میں نے کسی کا دل توڑا ہے ، وہ جھوٹ تھا سچ وہ تھا جو حریم کہتی تھی ، اور وہ کہتی تھی کہ میری آنکھوں کی چمک اس لئے معدوم ہوئ تھی کہ میں نے ایک اجنبی مسافر کے ساتھ ساتھ اپنا بھی دل توڑا تھا “
” قرت۔۔۔۔”
” قرت العین سالوں پہلے ہی پتھر کی ہوگئ تھی عیسیٰ ” رخ موڑ کر اسے دیکھا، اس کے چہرے پر اس قدر حیرت تھی کہ وہ چند لمحے اسے دیکھے گئ ، عیسیٰ اسے دیکھتا اس تک آیا ، بالکل اس کے سامنے ٹھہرا، وہ سر اٹھاکر اسے دیکھے گئ
” کیا وہ محبت تھی ؟” وہ سوال صدیوں کی امید لئے تھا ، سالوں کا انتظار لئے ہوئے تھا
” وہ آپ کی محبت کا احساس تھا ” اس کے گلے میں بار بار گلٹی سی ابھرتی
” یعنی وہ محبت نہیں تھی ؟” وہ نظر جھکائے پتھر پر بیٹھی اس سیاہ چغہ پوش شہزادی کو دیکھتا پوچھ رہا تھا
” وہ محبت نہیں تھی ۔۔” شہزادی نے سر اٹھا کر اجنبی کو دیکھا، اجنبی کی آنکھوں کی چمک ماند پڑی تھی لیکن کلام اختتام کو نہیں پہنچا تھا ” اللہ نے میرا دل نامحرم کی محبت میں مبتلا نہیں ہونے دیا ، جو محبت محرم کیلئے لکھی گئ تھی وہ کسی نامحرم کا حصہ کیسے بنتی ؟” چغہ پوش شہزادی کو الفاظ منتخب کرنا آتے تھے ، اجنبی کا وجود اس لمحے خاک کا ہوا ، وہ الفاظ غیر واضح تھے ، وہ غیر واضح ہوکر بھی خاص تھے ، وہ مبہم تھے، وہ مبہم ہوکر بھی اس کیلئے قیمتی تھے ، قرت اسے دیکھتی اٹھی ، بالکل مقابل ، نظر اب بھی اس کی آنکھوں ہر تھی
” آپ پوچھتے ہیں نا جس دن تایا آئے تھے اس دن میں نے عربی میں کیا کہا تھا ؟ “
عیسیٰ نے سر ہلایا
” میں نے کہا تھا کہ عیسیٰ حیات کا دل قرت العین کے دل کیلئے بنایا گیا ہے اور قرت العین کا دل عیسیٰ حیات کے دل کیلئے بنایا گیا ” وہ جو الفاظ ہوتے ہیں وہ کیسے امرت لگتے ہیں کوئ اس لمحے عیسیٰ سے پوچھتا ، وہ جو اظہار ہوتا ہے وہ کیسے دل کی زمین پر اترتا ہے کوئ قرت العین سے پوچھتا ،
” وہ تب محبت نہیں تھی عیسیٰ ” وہ مشرقی عورت تھی ،مشرقی عورت اظہار کھلے عام نہیں کرتی، وہ لفظ منتخب کرتی ہے ، ان منتخب لفظوں کو اعزار بخشتی ہے ، وہ الفاظ ادھورے چھوڑدیا کرتی ہے، عیسیٰ حیات کو ادھورے الفاظ کے معانی سمجھ میں آجاتے تھے، وہ دو قدم آگے ہوا اور اس کا ہاتھ تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھا
” عیسیٰ حیات خاک ہوا “
” قرت العین کو عروج حاصل ہوا ” اس کی آنکھیں نم ہوئیں، عیسیٰ نے ان آنکھوں میں اترتی نمی کو دیکھا
” میں نے ایک عرصہ انتظار کیا ہے قرت “
” میں اس انتظار کے لئے معذرت خواہ ہوں “
” مجھے لگا تھا کہ آپ نے مجھے بھلا دیا ہوگا “
” ایک آپ کو ہی تو نا بھلا سکی، چار سال آپ کو بھلانے کی کوشش کی ، اس کوشش میں آپ اور زیادہ یاد آئے “
” اور آپ کہتی ہیں یہ محبت نہیں تھی ” اس نے نظر اٹھائ ، گردن سیدھی کی
” ہاں نہیں تھی ” وہ اس بات پر خوش تھی ، خدا نے اسے کا دل کسی نا محرم کی محبت میں مبتلا نہیں کیا تھا
” میرے لئے وہ محبت سے زیادہ تھی ،پہلے پہل محبت ،پھر احترام اور پھر وہ عقیدت بن گئ ” وہ اس کا ہاتھ چھوڑتا اپنی جیب سے کچھ نکال رہا تھا ، قرت کی نظر اس کے ہاتھ پر گئ ، وہ سفید تسبیح نکال رہا تھا، ادھوری تسبیح مکمل تھی ، اس کے موتی پورے تھے ،قرت العین کا نام مکمل تھا ، عیسیٰ حیات کا دل بھی ،وہ ساکت رہ گئ
” میرے لئے ہر شے محبت سے زیادہ تھی، ہر احساس اس احساس سے زیادہ تھا جو آپ کو دیکھ کر ہوتا تھا ” وہ تسبیح اس نے اس کے ہاتھ میں رکھی ” میں نے کہا تھا کہ میں دعائیں کرنا سیکھ گیا ہوں ” قرت نے وہ سفید کانپتے ہاتھوں سے تھامی
” یہ۔۔۔”
” جو ہر شے کے آغاذ کی وجہ تھی میں اسے اسی جگہ دینا چاہتا تھا جہاں مجھے لگا سب ختم ہوا ” وہ اس تسبیح کو دیکھے گئ ، سفید تسبیح مکمل تھی اس پر لکھا اس کا نام بھی مکمل تھا ،اس کی آنکھیں آنسو کو روکنے میں ناکام ہوئیں ، دل کا غبار آنکھوں سے بہہ نکلا ، عیسیٰ بس اسے روتے دیکھے گیا ، وہ اس تسبیح کو آنکھوں سے لگا رہی تھی ، کبھی ہونٹوں سے ، آنسو ہچکی میں بدلے ، وہ پچھلی مرتبہ جب اس جگہ پر روئ تھی تب وہ آنسو غم کے تھے ، آج ہر آنسو خوشی کا نکلتا
” آپ اپنی آنکھوں اور میرے دل پر بہت ظلم کرتی ہیں ” وہ کچھ دیر تک چپ نا ہوئ تو اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کئے
” آج مجھے ہر جرم معاف ہونا چاہئے ” وہ اس کا ہاتھ جھٹکے بنا اسی طرح روئے گئ
” آپ کو برسوں سے ہر جرم معاف ہے ” رک کر اس کا ہاتھ پھر سے تھاما اسی ہاتھ کو جس میں تسبیح تھی ” اور میرا جرم قرت ؟ اسے معاف کردیں گی ؟” وہ آنسو روک کر اسے دیکھنے لگی
” کون سا جرم ؟”
” میں آپ کا برسوں سے مجرم ہوں ، آپ کی بہت سی اذیتوں کا ذمہ دار ہوں ، بہت سی آزمائشوں کی وجہ ہوں ” وہ جھکی نظریں اس کے ہاتھ پر جمائے ہوئے تھا ، قرت کی آنکھیں نم ہوئیں، کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اسے ہر جرم معاف کرچکی تھی ؟
” آپ میرے مجرم نہیں تھے عیسیٰ “
” میں تھا۔۔۔”
” آپ میرا اجر تھے ” اس نے سر اٹھاکر قرت کو دیکھا وہ آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لئے اسے دیکھ رہی تھی ” ابا کہتے ہیں ہر صبر اجر لاتا ہے ، میں نے صبر کیا تھا اور اجر آپ کی صورت مل گیا ، آپ میری آزمائشوں کی وجہ نہیں ہیں عیسیٰ ، آپ میرے صبر کا اجر ہیں ” سیاہ آنکھوں نے بھوری آنکھوں کو دیکھا ، نم لیکن پرسکون آنکھیں
” آپ نے مجھے معتبر کردیا “
” آپ کا ساتھ میرے لئے ہمیشہ سے معتبر رہا ہے “
، وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر یونہی اس کا ہاتھ تھامے نیچے کی طرف جھکا ، جیکٹ کی جیب سے کچھ نکالا اور سیدھا ہوا ،وہ جو آنسو صاف کر ررہی تھی نظر اس کے ہاتھ میں تھامے سفید موتیے کے پھولوں پر گئ ، مٹھی بھر سفید پھول وہ اس کی طرف بڑھارہا تھا ، لبوں پہ اداس سی مسکراہٹ تھی
” سفید پھول محبت کے ساتھ قرت العین کے نام ! ” وہ روتی آنکھوں سے ہنس دی، ایک ہاتھ میں تسبیح تھی وہ ہاتھ عیسیٰ نے تھاما ہوا تھا ، دوسرے ہاتھ میں اس نے آدھے پھول تھام لئے
” سفید پھولوں کی خوشبو احترام کے ساتھ عیسیٰ حیات کے نام !” خوشبو نصف ہوئ ، آدھی اس کے پاس آدھی عیسیٰ کے پاس ، وہ آدھے پھول ناک کے پاس لے گئ ، تازہ موتیے کی خوشبو اندر تک اتر گئ
” کہاں سے توڑے ہیں ؟”
“آپ کے باغ سے “
” مجھے ان کی خوشبو بہت پسند ہے “
” اور مجھے ان کا رنگ “
” کس لئے ۔۔۔” وہ پھولوں کو دیکھتا رہا پھر نظر اٹھائ
” یہ سفید رنگ کے ہیں اور سفید رنگ پاکیزگی کا ہے “
” بالکل ۔۔۔”
” اس لئے میں ہمیشہ آپ کو یہی دیتا ہوں ،” وہ نم آنکھوں سے مسکرائ ” ہمارا تعلق پھولوں کا ہے ” اور وہ کہنا چاہتا تھا باغ میں لہراتے سفید پھولوں کا ، کیبن میں رکھے سفید گلابوں کا ، خط میں لپٹے موتیے کا ، سیڑھیوں کے اوپر گرتے سفید گلابوں کا لیکن ان میں سے ہر حوالہ اذیت ناک تھا ، وہ وہاں کھڑے اسے اذیت یاد نہیں دلا سکتا تھا ، لیکن جو اذیت اس کی خود کی آنکھوں میں ابھری وہ اسے چھپا نا سکا، وہ اس ایک شخص کی آنکھوں کے تاثر جان جاتی تھی
” ہمارا تعلق آنکھوں کا ہے ” برسوں بعد اس نے یہ بھی جان لیا کہ وہ آنکھیں تھیں ، عیسیٰ کی سیاہ آنکھیں ، قرت کی بھوری آنکھیں
” محبت کا ہے ” وہ بے ساختہ بولا
” احترام کا ہے “
” پہاڑیوں کے سبزے کا ہے “
” بارش کی قطروں کا ہے “
” خوشبو میں لپٹے خطوں کا ہے “
” سوکھے نشان زدہ پتوں کا ہے “
” سیاہ پردے کا ہے “
” سفید موتیوں کا ہے “
” سیاہ دل اور سفید دل کا ہے “
” سیاہ دل اور سفید دل کا کیسے ؟” طلسم ٹوٹ گیا ، وہ سفید موتیوں والی لڑکی سیاہ کوٹ والے لڑکے سے پوچھ رہی تھی ، عیسیٰ نے نظریں پھیر کر دیوں کو دیکھا ، وہ اب تک جل رہے تھے ، وہ اس کے جواب کی منتظر اسے دیکھتی رہی یہانتکہ وہ بہت دھیرے سے بولا
” ہمارا تعلق سیاہ اور سفید کا ہے قرت ، ہماری کہانی سبز پہاڑی پر سفید تسبیح اور سیاہ برقعے سے شروع ہوئ تھی ، آپ کا سیاہ برقع سفید تسبیح ، مدرسے کے سیاہ گیٹ ، مسجد کے سفید منار ، باغ کے سفید پھول ، نعمان صاحب کی سفید چادر ، آپ کے گیٹ سے لہراتا سفید آنچل ، کیبن میں رکھے سفید گلاب ، فرش پر گرتا سیاہ خون ، ہوسپٹل کا سیاہ اندھیرا ، ہر شے سیاہ اور سفید ہوگئ ، دنیا میں اس کے سوا کوئ رنگ باقی نا رہا ، میں نے اپنا آفس سفید کرلیا ، کمرہ سیاہ ، میرے اردگرد بس یہی دو رنگ باقی رہ گئے ، عیسیٰ حیات کا سیاہ رنگ قرت العین کا سفید رنگ ، سیاہ دل۔۔۔ سفید دل ” وہ بہت دکھ سے کہہ رہا تھا ، نظریں دیوں کو دیکھ رہی تھیں دماغ کہیں اور تھا ، دل کہیں اور ، وہ کچھ لمحے کچھ کہہ نا سکی
” ایسا نہیں ہے عیسیٰ “
” ایسا ہی ہے ، مجھے اس شے سے زیادہ اذیت کچھ نہیں دیتا ، میرا ماضی قابل ترس رہا ہے ، حال قابل فخر نہیں ہے اور مستقبل ۔۔۔” قرت نے اس کی بات کاٹ دی
” مستقبل صرف اللہ جانتا ہے ، “
” اور ماضی ۔۔۔”
” ماضی کا علم خود تک رہنے دیں “عیسیٰ نے رخ موڑ کر اسے دیکھا، آنکھوں میں نرمی لئے وہ اسے دیکھ رہی تھی ، وہ اس کا ماضی نہیں جاننا چاہتی تھی
” میں چاہتا ہوں کہ آپ جانیں میرا ماضی کیسا تھا “
” آپ کا حال کیسا ہے ؟”
” آپ کے سامنے ہے “
” جو میرے سامنے ہے مجھے اسی سے غرض ہے ” عیسیٰ پھر بھی اسے دیکھے گیا ، کچھ دکھ سے کچھ اذیت سے
” میں ماضی میں اچھا انسان نہیں رہا قرت ، شاید میں آپ کے قابل بھی نہیں تھا ۔۔۔۔” وہ بات پوری نا کرسکا ، وہ یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ کو کوئ اچھا انسان ڈیزرو کرتا تھا ، وہ اس کیلئے اپنے سوا کسی کا نہیں سوچ سکتا تھا ، قرت گہری سانس لیتی اس کے بالکل سامنے آئ
” بہت زیادہ نہیں کچھ عرصہ پہلے ہی صوفیہ مجھ سے کہہ رہی تھی کہ آپ کی ماضی میں بہت سی دوستیں رہی ہیں ، میں نے اس سے کہا میں ماضی میں رہنے والی لڑکی نہیں ہوں ، میں نے سچ کہا تھا عیسی ، مجھے نہیں معلوم آپ کا ماضی کیسا تھا آپ کا حال اور مستقبل میں ہوں میں بس یہی جانتی ہوں “
” میں سیاہ ہوں قرت ۔۔ “
” آپ سے زیادہ سیاہی میرے پاس ہے ” اس کی اذیت کچھ اور بڑھی لیکن قرت اسے نہیں سن رہی تھی ” جن سیاہ اور سفید چیزوں کا آپ نے کہا ہے ان میں سے اکثر سیاہ چیزیں مجھ سے جڑی ہیں آپ چیزوں سے اپنے دل کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں ” عیسی نے اسے دیکھتے سر جھٹکا
” آپ کو باتیں کرنا آتی ہیں “
” آپ کو صرف دکھی باتیں کرنا آتی ہیں ” وہ مغوم سا مسکرایا
” وہ سچ تھا “
” میں صرف ایک سچ جانتی ہوں عیسی ، ہم میں سے کوئ بھی مکمل اچھا نہیں ہے ، ہر شخص سیاہ اور سفید رکھتا ہے ، کسی کا سیاہ بڑھ جاتا ہے کسی کا سفید لیکن ہر شخص سیاہ اور سفید رکھتا ہے ، اور میرا رب ہر سیاہ اور سفید رکھنے والا رب ہے ، جو اپنے سیاہ کیلئے معافی مانگ لے اسے معاف کردیا جاتا ہے ” اس کی مسکراہٹ گہری ہوئ
” آپ امید ہیں ۔۔۔”
” اور آپ ۔۔۔آپ ۔۔۔” وہ بھول گئ کیا کہے ، عیسی ہلکا سا ہنسا
” اور میں۔۔۔؟” مسکراہٹ ابھری
” آپ بہت برے ہیں ” وہ خفا ہوئ
” جیسا بھی ہوں آپ کا ہوں ” جھک کر دھیرے سے کہا وہ سرخ ہوئ
” میرے پھول دیں ” ہاتھ آگے کیا
” لیکن وہ تو میرے ہیں “
” جی نہیں وہ میرے ہیں “
” اور آپ کس کی ہیں ؟” وہ پھر سے سرخ ہوئ چند لمحے اسے گھورتی رہی پھر آنکھوں میں شرارت ابھری ، پنجوں کے بل سر اٹھایا
” انا للہ وانا الیہ راجعون ” عیسیٰ نے اسے گھورا
” یہاں یہ کہنے کی کیا تک بنتی تھی ؟”
” جو سچ ہے وہی کہا ہے “
” اور اس سچ کا ترجمہ کیا ہے ؟”
” اس کا مطلب ہے کہ ہم اللہ کیلئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ” پرسکون سا ہوکر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے باہر نکالا
” آپ کچھ اور بھی کہہ سکتی تھیں ، کچھ اور یعنی دوسرا سچ “
” اور وہ دوسرا سچ کیا ہے ؟”
” یہی کہ آپ میری ہیں “
” یہ کس نے کہا ؟”
اس نے مسکراہٹ دبائ پھر برستی بارش کو دیکھا
” یہ ازل سے طے ہے ” وہ نیچے پڑا کوٹ اٹھاکر کچھ پرسکون سا اسے جتلا رہا تھا
” اچھا اچھا ہزبینڈ ڈیئرسٹ ، چلیں اب بارش تیز ہوجائے گی ” وہ اس کا انتظار کئے بغیر سیڑھیوں کی طرف بڑھی، سیڑھیاں چڑھ کر رکی اور اسے دیکھا، عیسیٰ پیچھے تھا
” اور یہ ابد تک طے رہے گا کہ قرت العین عیسیٰ حیات کی ہے ” مسکراہٹ دبا کر وہ اسی تیزی سے آگے بڑھ گئ ، عیسیٰ لمحہ بھر کو رکا ، اس کے الفاظ ذہن میں جذب ہوئے اور پھر وہ دھیرے سے ہنسا اور اسے دیکھا ، دل میں اندر تک سکون اور خوشی بھر گئ ، نظر درخت تلے رکھے دیوں پر گئ ، ان کے اوپر بہت سایہ تھا وہ بارش کی پہنچ سے دور تھے
اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا ، لب مسکرا اٹھے پھر سر جھٹکتے سیڑھیوں کی طرف بڑھا
اور جو طے ہے وہ ازل سے طے ہے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ شہر محبت سے تھا
وہ شہر وفا سے تھی
وہ نظریں اٹھا کر صرف اسے دیکھتا
وہ جھکی نظروں میں اس کا عکس رکھتی
وہ اس کی اجنبی دنیا میں واحد شناشا
وہ اس کے مفتوح ملک کی ملکہ
وہ دنیا سے بے نیاز سلطان
وہ سیاہ چغہ پوش شہزادی
وہ عیسیٰ حیات تھا
وہ قرۃ العین تھی
ختم شد !
