Nahal By Fatima Noor Readelle50350 Last updated: 10 November 2025
No Download Link
316.5K
43
Rate this Novel
Nahal (Episode 1)Nahal (Episode 2)Nahal (Episode 3)Nahal (Episode 4)Nahal (Episode 5)Nahal (Episode 6)Nahal (Episode 7)Nahal (Episode 8)Nahal (Episode 9)Nahal (Episode 10)Nahal (Episode 11)Nahal (Episode 12)Nahal (Episode 13)Nahal (Episode 14)Nahal (Episode 15)Nahal (Episode 16)Nahal (Episode 17)Nahal (Episode 18)Nahal (Episode 19)Nahal (Episode 20)Nahal (Episode 21)Nahal (Episode 22)Nahal (Episode 23)Nahal (Episode 24)Nahal (Episode 25)Nahal (Episode 26)Nahal (Episode 27)Nahal (Episode 28)Nahal (Episode 29)Nahal (Episode 30)Nahal (Episode 31)Nahal (Episode 32)Nahal (Episode 33)Nahal (Episode 34)Nahal (Episode 35)Nahal (Episode 36)Nahal (Episode 37)Nahal (Episode 38)Nahal (Episode 39)Nahal (Episode 40)Nahal (Episode 41) 2nd Last EpisodeNahal (Episode 41) Last Episode (Part – 1)Nahal (Episode 42) Last Episode (Last Part)
Nahal By Fatima Noor
" آپ اسے روک کیوں نہیں رہے حیات ؟ " وہ ہاتھوں پر نائٹ کریم کا مساج کرتے ہوئے سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں حیات صاحب کو دیکھتے ہوئے بولیں، جو کوئ کتاب پڑھ رہے تھے ، شہوار کی بات پر انہوں نے گہری سانس لی, گلاسز اتاریں اور بک سائیڈ پر رکھ دی
" کس حق سے منع کروں "
" بیٹا ہے وہ ہمارا حق رکھتے ہیں ہم اس پر " وہ قدرے خفا سی پلٹ کر بولیں
" جانتی ہو شہوار مجھے لگتا ہے ہم نے عیسیٰ پر سے اپنا حق کھودیا ہے، جب ہم اپنے فرض صحیح سے ادا نہیں کرسکے ، تو اپنے حق کیسے وصول کریں؟ " وہ تلخی سے مسکرائے
" ٹھیک ہے میں مانتی ہوں کہ ہم اسے بچپن میں وقت نہیں دے سکے ، بہت سے ماں باپ نہیں دے سکتے ، لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ وہ اس کی سزا ہمیں اس طرح دے "
" ان بہت سے ماں باپ کی اولاد اکلوتی نہیں ہوتی ہوگی شہوار ، وہ اکلوتا تھا ،لیکن ہم دونوں نے اپنی زندگی میں مصروف ہوکر اسے اکیلا بھی کردیا ، وہ ہمیں ہمارے بڑھاپے میں تنہا چھوڑ کر جارہاہے کیونکہ ہم اس کے بچپن میں اس کے ساتھ نہیں تھے "
" حیات..... " وہ قدرے دکھ سے کہتے ہوئے ان کے سامنے آ بیٹھیں " ایسے مت کہیں ، اسے روکیں کسی طرح ، ہم نے بچپن میں اسے دور کیا تھا وہ بچپن کی سزائیں بڑھاپے میں کیوں دے رہا ہے ؟ " وہ ان کے سامنے رو دیں ، حیات صاحب نے زندگی میں بہت کم انہیں روتے دیکھا تھا، انہوں نے زندگی میں بہت کم خود کو بے بس پایا تھا ، لیکن اب انہیں لگنے لگا کہ یہ آنسو اور بے بسی اکثر ان کے ساتھ رہنے والے ہیں
