Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Last Episode Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Pt.2
اب آپ مجھ پر شک کر رہی ہیں۔ کیا سچ بولنے کی سزا ساری زندگی ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے عفت کے ناراض چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا
آخر کیوں تم اس سے اتنی ہمدردی رکھتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کچھ تو دال میں کالا ہے بلکہ یہاں تو مجھے ساری دال ہی کالی لگ رہی ہے ۔
تمہیں خود بھی معلوم نہیں مگر آج میں تمہیں بتاتی ہوں زاویار شاہ کو ماہین اسلم سے محبت ہے وہ بھی شدید قسم کی عفت کے لہجے میں واضح طنز تھا
اچھا اور زاویار نے دکھ سے عفت کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
اور مجھے صرف روایات کی بنا پر اپنا کر اپنا نام دیا ہے۔ مگر یہ نام میرے کسی کام کا نہیں جب دل ہی میرا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت کا آج سخت موڈ خراب تھا
جس طرح ایک عورت کے لیے اس کی “عزت” سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے بالکل ویسے ہی ایک مرد کے لئے اس کے “نام” کی اہمیت ہوتی ہے ۔
ایک باعزت مرد اپنا “نام” ہر کسی کو نہیں دیتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ مرد اپنی “بیٹی” کو بھی اپنا نام دینا پسند نہیں کرتے ۔
اور یہاں آپ کو میرے نام سے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا زاویار کو افسوس ہوا
میری طرف دیکھیں کیا آپ کو میری آنکھوں میں اپنی محبت نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے عفت کا چہرہ اپنی طرف کیا
پھر آج اس کے کوارٹر میں کیوں گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جب اس نے کہہ دیا ڈاکٹر نہیں بننا تو آپ کو کیا تکلیف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جانے دو ان کو اپنے بھائی کے ساتھ روکتے کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عفت نے ایک ہی سانس میں سب کہہ دیا جو اس کے دل میں تھا ۔
اچھا تو اب میری جاسوسی شروع کر دی ہے میں آپ کا تھا آپ کا ہوں اور مرتے دم تک آپ کا ہی رہوں گا عفت آپ اپنے ساتھ ساتھ میری زندگی بھی مشکل بنا رہی ہے کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار کو عفت کی باتیں سخت بری لگیں۔ میں نے شروع سے اپنے دل کی ہر بات صرف آپ ہی کے ساتھ شئیر کی ہے آپ مجھے مجبور مت کریں کہ میں آپ سے اپنے دل کی باتیں چھپا نے لگ جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے تلخی سے کہا میں تمہیں شیئر نہیں کرنا چاہتی کسی کے ساتھ بھی _ شراکت پسند نہیں ہے مجھے عفت کا لہجہ بھی تھوڑا تیز ہوا
تم دو کشتیوں کے سوار ہو یا تو اس سے شادی کر لو یا پھر مجھے طلاق عفت نے اتنا ہی کہا تھا کہ زاویار کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا مگر عفت کے چہرے پر پڑنے سے پہلے ہی رک گیا
آپ اتنی گندی بات بھی بول سکتی ہیں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔ اگر میں نے اس سے شادی کرنا ہوتی تو مجھے کون روک سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ تو ہر دم تیار تھی مگر میں نے آپ کی “محبت” میں کبھی “خیانت” نہیں کی اس کا مجھے یہ صلہ دے رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار بھی اب کی بار چیخا جس پر عفت ایک دم خاموش ہوگئی
پھر اس پر اتنی مہربانیاں کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت کا لہجہ اب کی بار نرم تھا
کیونکہ میں آپ کی طرح ظالم نہیں ہوں جو اسے محبت کی سزا دوں ۔
وہ مجھے اپنا سمجھ کر مجھ سے اپنا ہر خواب شیئر کرتی تھی۔
میں اسے وہ نہیں دے سکا جو اسے چاہیے تھا مگر اس کے خواب تو پورے کر سکتا ہوں ۔
اس لئے تاکہ اس کا یقین “محبت” پر قائم رھے وہ اس لفظ سے “بد ظن” نہ ہو اور کبھی یہ نہ سوچتے کہ اس نے ایک “غلط شخص” سے محبت کی۔
ہم دونوں ہی بد نصیب ہیں اسے محبت نہیں ملی مگر باقی سب کچھ مل گیا مجھے محبت ملی اور باقی کچھ نہیں زاویار کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا عفت کو شرمندگی نے آن گھیرا
اور یہ کہ “مجھے آپ سے محبت ہے “ اس جملے پر ایمان رکھیں ۔
باقی میں کسی ساتھ کیا کرتا ہوں اسے مجھ پر چھوڑ دیں۔
میں کہیں بھی جاؤں گا کچھ بھی کروں گا یاد رکھنا آنا مجھے آپ کے ہی پاس ہے ۔
کیا جب میں مر جاؤں گا تو میری محبت پر یقین آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
زاویار نے کہتے ہوئے عفت کی طرف نرمی سے دیکھا
اچھا سوری _ عفت نے آہستہ سا کہا جبکہ زاویار اس کی بات پر خوش ہو گیا ایسے کہتے ہیں سوری ؟؟؟ زاویار نے مصنوعی غصے سے عفت کی طرف دیکھا جو اب مسکرا رہی تھی
کم ازکم گلے ہی لگ جائیں اس سے زیادہ کی تو آپ کو توفیق نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
(اگر ماہی ہوتی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ زاویار نے اپنے خیال پر خود ہی لعنت بھیجی ) جب کہ عفت مسکراتے ہوئے زاویار کے پاس سے گزر گئی
“یہ نہ تھی ہماری قسمت “
زاویار نے ایک سرد آہ بھری اور واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
نوراں چارپائی پر اسلم کے ساتھ بیٹھی ہوئی چائے پی رہی تھی جب دروازے پر کسی نے دستک دی۔
یہ اس وقت کون آ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسلم نے خود سے کہتے ہوئے انور کو دروازہ کھولنے کا کہا
دروازہ کھولتے ہی انور خوشی کے مارے کچھ بول ہی نہ سکا ۔
کیا بات ہے میں تین ماہ میں اتنی بدل گئی ہوں کہ میرا بھائی مجھے پہچان ہی نہیں رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے انور کے آگے اپنا ہاتھ ہلایا
جس پر وہ ہوش میں واپس آیا اور ماہی کو اپنے ساتھ لگا کر آبدیدہ ہو گیا
بس بس زیادہ دکھی ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں بہت خوش ہوں اور یہ بتانے آئی ہوں کہ بلکہ پہلے ابّا کو بتاؤں گی _ ماہی کہتے کہتے رکی ماہی کی آواز سنتے ہی اسلم اور نوراں بھی کمرے سے باہر آ گئے۔ اتنے ماہ بعد اپنی بیٹی کو دیکھ کر دونوں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اسے پیار کرتے ہوئے رونے لگے کیوں رو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دیکھیں میں بالکل ٹھیک ہوں اور بہت خوش بھی ماہی نے دونوں کے آنسو اپنے ہاتھوں سے صاف کیے
ابا آپ کو پتا ہے میں بہت زبردست نمبرز سے پاس ہوئی ہوں اور اب آپ کا خواب پورا کرنے کے لئے شہر ڈاکٹر بننے جا رہی ہوں ۔
ماہی کی بات پر نوراں سے زیادہ اسلم نے بے یقینی سے اسے دیکھا
تو سچ کہہ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تو ڈاکٹر بنے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میری لاڈو ڈاکٹر بنے گی سنا تو نے نوراں اسلم خوشی سے بے حال تھا ۔
جی اور اسی لئے آپ کو ملنے آئی ہوں مگر آپ لوگوں نے مجھے یہاں صحن میں ہی کھڑا کر رکھا ہے ماہی نے منہ بنایا
اندر آجا نوراں پیار سے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہنے لگی
اسے بھی اندر بلا لائیں۔ بیچارہ باہر کھڑا کھڑا سوکھ جائیگا ماہی نے دروازے کی طرف اشارہ کیا
کسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ انور نے باہر دیکھتے ہوئے پوچھا
وہی جس کے ساتھ مجھے بھیجا تھا _ ماہی کے کہنے پر انور باہر چلا گیا جب کہ نوراں نے اسے ڈانٹا
سر کے سائیں کو ایسے نہیں بلاتے بری بات ہے پھر وہ باتیں کرتی کمرے میں آ گئ۔
اسلم اور صدیق ایک جگہ چارپائی پر بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے جبکہ انور دور بیٹھا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
وہ تیرے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے نااااااا نوراں نے چائے بناتے ہوئے ماہی سے پوچھا
اماں آپ کو مجھے دیکھ کر محسوس نہیں ہو رہا کہ وہ میرے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ میری سوچ سے بھی زیادہ اچھا انسان ہے میری عزت کرتا ہے میرا بہت خیال رکھتا ہے ۔
پیار محبت تو وقت کے ساتھ ہو ہی جائے گا ماہی نے کمرے میں بیٹھے صدیق کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
صاحب آپ کا ہم پر بہت احسان ہے کہ آپ ہم غریبوں کے گھر آئے اور ہماری بیٹی کو اتنی عزت دی اسلم نے صدیق کا شکریہ ادا کیا
آپ کی بیٹی اب میری عزت ہے اور مجھے اپنی عزت کا خیال رکھنے کے لیے کسی پر احسان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
صدیق کے جواب پر اسلم نے اسے گلے لگا کر خوب پیار کیا اور دعائیں بھی دیں ۔
ابا یہ تو زیادتی ہے میرے بجائے آپ اس کو دعائیں دے رہے ہیں ماہی ناراض ہوئی
پگلی اس کو بھی تیری وجہ سے ہی دعائیں دے رہا ہوں پھر ماہی باری باری اپنے اسلم اور نوراں سے ملی۔
انور شرمندگی کے مارے ایک جگہ کھڑا تھا اس نے کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی
تم کیوں ایسے کھڑے ہو کوئی بات کرو نا ااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے پیار سے اس کے قریب جاتے ہوئے کہا
میں تم سے بہت شرمندہ ہوں ماہی مجھے انور نے معافی مانگنے کے لئے ہاتھ جوڑے ہی تھے کہ ماہی نے پکڑ لیے
تمہیں مجھ سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ میں تو تمہارا شکریہ ادا کرنے لگی تھی ۔
تمہاری وجہ سے مجھے صدیق جیسا اچھا انسان ملا اور اب میں ڈاکٹر بننے بھی جا رہی ہوں یہ تو میرا خواب تھا ۔
تمہاری وجہ سے نہ تو میرا کوئی خواب ٹوٹا اور نہ ہی مجھ پہ کسی نے ظلم کیا اس لیے تم اس شرمندگی سے باہر نکل آؤ ۔
بس میری تم سے ایک ہی گزارش ہے کہ ماضی میں جو بھی ہو گیا اسے بھول کر اپنا مستقبل خوبصورت بناؤ دن رات محنت کرو ماں باپ کی خدمت کرو تاکہ پھر ہم تمہاری دلہن لے کر آئیں۔
ماہی کی بات پر انور نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ سب کے ساتھ ہی اچھے سے پیش آتے ہیں سوائے میرے _ ماہی نے گاڑی چلاتے ہوئے صدیق سے گلہ کیا
میں تو تمہاری وجہ سے ہی سب کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں کیونکہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو ۔
ورنہ بنیادی طور پر میں ایک خشک طبع انسان ہوں صدیق نے سنجیدگی سے جواب دیا
پھر مجھے کیوں نہیں پتہ چلتا کہ _ ماہی نے شرارت سے صدیق کو دیکھا
کہ صدیق نے ایک نظر سامنے دیکھنے کے بعد اسے جواب دیا
کہ میں آپ کو بہت اچھی لگتی ہوں ماہی نے معصوم سی شکل بنائی
تمہارے خیال سے مجھے ایسا کیا کرنا چاہیے کہ تمہیں پتہ چلے کہ تم مجھے اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے پوچھا
آپ اپنے عمل سے ظاہر کریں اگر آپ کو بولتے ہوئے شرم آتی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے آپ مجھے مس کریں گے نااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میرے بغیر آپ کو نیند آ جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے تو بالکل نہیں آئے گی ماہی نے اداسی سے کہا
ماہی اگر تم ایسا کرو گی تو میں تمہیں کیسے شہر چھوڑ کر آؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کا دل بھی اداس ہوا
تو کس نے کہا ہے کہ چھوڑ کر آئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حسن کہہ تو رہا ہے کہ ہم اس کے پاس آجائیں ماہی نے احتجاج کیا
وہ تو گھر داماد ہے اب میں بھی بن جاؤں صدیق کو غصہ آیا
ٹھیک ہے پھر ہم کرائے کا مکان لے لیتے ہیں ماہی نے ایک اور کوشش کی
اور اتنے مہنگے شہر میں کرایہ کون دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق میں پوچھا
کرایہ دیں گے آپ کے چھوٹے شاہ جی وہ میرا اے ٹی ایم کارڈ ہے ۔جسی میں ساری زندگی کیش کروں گی اب امیر بندی کے ساتھ محبت کرنے کا اتنا تو فائدہ ہونا چاہیے ۔ ماہی نے دل میں سوچا مگر منہ سے نہیں کہا
اس کا بندوبست ہوجائے گا آپ فکر مت کریں ماہی نے تسلی دی
اگر میں تمہارے پاس رہا تو تم پڑھو گی نہیں اتنا مجھے معلوم ہے صدیق نے ماہی کی طرف دیکھا
پکا پڑھونگی قسم سے وعدہ لے لیں ماہی نے کان پکڑے
اچھا چلو دیکھتا ہوں صدیق نے نیم رضامندی ظاہر کی۔
آپ بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتے مجھے پتا ہے بندے کو ایک دفعہ بیوی ساتھ سونے کی عادت پڑ جائے تو اسے کہاں اکیلے نیند آتی ہے ماہی کی بات پر صدیق کو جھٹکا لگا
کچھ شرم ہے یا نہیں صدیق کے کانوں کی لو لال ہوئی ۔
ہائے میں صدقے واری آپ کی شرم و حیا پر ماہی اب بھرپور شرارت پر اتری
اب اگر تم نے کچھ بھی کہا تو میں گاڑی روک دوں گا اور واپس گاؤں چلا جاؤں گا صدیق نے مصنوعی غصہ کیا
اچھا اچھا سوری اب نہیں بولتی ماہین نے معذرت کی ۔
کہاں اور کس کے ساتھ رہتی رہی ہو ۔کس قسم کی باتیں کرتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے نفی میں سر ہلایا
جس ساتھ بھی رہتی رہی ہوں یہ بتائیں آپ کو تو مزا آرہا ہے نااااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے قہقہ لگایا جبکہ صدیق نے اسے گھورا
اچھا اب چپ اب نہیں بولوں گی _ ماہی نے منہ پہ انگلی رکھی مگر وہ مسلسل ہنس رہی تھی
میرے آنے سے آپ کی بنجر زمین جیسی زندگی میں اچانک تیل نکل آیا ماہی نے ایک اور شوشہ چھوڑا
اب یہ کیا بکواس ہے میں نے تو کبھی ایسا کچھ نہیں سنا _ صدیقی نے ماہی کی تشبیہ کو سخت نا پسند کیا
تیری بہت قیمتی چیز ہے اب آپ میری تعریف نہیں کر رہے تو مجبوراً مجھے خود ہی کچھ کرنا پڑے گا ماہین نے مسکین شکل بنائی
تم چپ ہو تو میں کچھ بولو نااااا میرے بولنے کی نوبت ہی نہیں آتی صدیق نے ہاسٹل کے گیٹ پر گاڑی روکی پھر خود نیچے اتر کر ماہی کی طرف کا دروازہ کھولا
مجھے “ڈاکٹر” نہیں “ماما” بننا ہے پلیز مجھے واپس لے چلے ناااااا میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی ماہی نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا جس پر صدیق نے ایک سرد آہ بھری
بھائی تم ایک بہت ذہین لڑکی ہوں۔میرا دل کرتا ہے کہ میری بیوی ڈاکٹر ہو ۔
کتنا اچھا لگے گا نا جب ہمارے بچے کہاںکریں گے کہ ہماری ما ما ڈاکٹر ہیں صدیق نے اپنے طور پر اس کا دل بہلایا
ایسے حالات رہے تو بچے نہیں آئیں گے میں یہاں اور آپ وہاں گاؤں میں ابھی سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی ماہی مسلسل بولتی گاڑی سے نیچے اتری
ناراض ہو کر جا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی جب صدیق سے ملے بغیر گیٹ کی طرف بڑھ گئی تو صدیق نے اسے پکارا
آپ کو میری ناراضگی سے فرق نہیں پڑتا بغیر منہ توڑ جواب آیا جس پر صدیق نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
اچھی چیز کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے اور میں تمہارا انتظار کروں گا ۔
ڈاکٹر بننا تمہارا خواب تھا اور یہ خواب میں تم سے چھین نہیں سکتا _ صدیق نے محبت سے ماہی کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹوں کو پیچھے کیا جو ہوا سے اڑ رہی تھیں۔
خواب تھا مگر ہے نہیں آپ سمجھ کیوں نہیں رہے مجھے اب ڈاکٹر نہیں بننا ۔
میں پاگل تھی جو ایسے خواب دیکھ رہی تھی ۔ مگر اب مجھے آپ سے دور نہیں جانا ماہی نے صدیق کے سینے ساتھ اپنا سر لگایا جبکہ صدیق نے اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا
اچھا اگر میں بھی تمہارے ساتھ ادھر آ جاؤں تو پھر تم ڈاکٹر بنوں گی صدیق کی بات میں ماہی نے سر اٹھا کر دیکھا
مگر تمہیں وعدہ کرنا ہوگا کہ تم دل سے پڑھائی کروں گی اور فضول کاموں میں اپنے دن برباد نہیں کروں گی۔
اگر تم وعدہ کرتی ہوں تو پھر میں کچھ سوچ سکتا ہوں صدیق کو ماہی پر ترس آ گیا کیونکہ وہ خود بھی اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا تھا
ٹھیک ہے میں دن میں پڑھوں گی مگر رات کی پابندی نہیں ہوگی ماہی کی بات پر صدیق مسکرا دیا
منظور تم ہاسٹل جاؤ میں گھر کا بندوبست کرکے تمہیں لے جاؤں گا ۔صدیق نے اسے کہا اور گاڑی کی طرف مڑ گیا کیونکہ ماہی کے بغیر رہنا اب اس کے بس کی بات نہیں تھی۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
چند سال بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔
سکینہ بی پھر آپ کہتی ہیں کہ اب مجھے زاویار پر شک نہیں کرنا چاہیے مگر وہ کام سارے ایسے ہی کرتا ہے ۔ عفت نے سکینہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
اب کیا ہے زاویار نے کیوں اتنا غصہ کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرالنساء نے عفت کی بات سنتے ہوئے سکینہ کی جگہ جواب دیا
آپ کو پتا ہے آپ کے لاڈلے نے کروڑوں روپے خرچ کر کے گاؤں میں چھوٹا ہسپتال بنوایا ہے عفت نے اپنے طور پر انہیں معلومات دی
یہ بات تو میرے ساتھ ساتھ پورے گاؤں کو معلوم ہے اس میں عجیب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرالنساء نے اپنی عینک درست کرتے ہوئے پوچھا
اچھا ہے نا گاؤں کے لوگوں کا بھلا ہوگا تو وہ دعائیں دیں گے تو تمہاری زندگی میں بھی خوشیاں آئیں گی سکینہ نے بھی حصہ لیا
آپ لوگ صرف تصویر کا ایک رخ دیکھ رہے ہیں دوسرا پتہ نہیں کیوں نظر نہیں آتا یا آپ لوگ دیکھنا ہی نہیں چاہتے اپنے زاویار کی محبت میں _ عفت بی تپ گئیں۔
بھئی ہم تو بوڑھے ہوگئے ہیں قریب پڑی چیز نظر نہیں آتی تو آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والی مثال ہے تم بھی بتا دو کہ اس میں کیا برائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرالنساء نے پوچھا
یہ ہسپتال اس نے اپنی لاڈلی کے لئے بنایا ہے ۔میں نے سنا ہے کل وہ تشریف لا رہی ہے دیکھا نہیں آج کس طرح بھاگ بھاگ کے ہسپتال جا رہے ہیں عفت کی بات پر مہرونساء کے ساتھ سکینہ نے بھی افسوس سے سر ہلایا
تم اس شک کی دلدل سے باہر کیوں نہیں نکل آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
رہی بات اس کی تو یہ تو شروع سے ہی طے تھا کہ اس نے ڈاکٹر بن کر واپس آنا ہے ۔
سکینہ نے عفت کی عقل پر افسوس کیا ۔
مجھے وہ لڑکی ذرا پسند نہیں ۔۔۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہیں مجھے غصہ آنے لگتا ہے _ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے وہ زاویار کو مجھ سے چھین لے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے دکھ سے سکینہ بی کی طرف دیکھا یہ تمہارا وہم ہےزاویار ایسا نہیں ہے۔ ویسے بھی وہ لڑکی اب دو بچّوں کی ماں ہے مہرونساء نے بھی سمجھایا
آپ نے زاویار کی آنکھوں میں خوشی کی چمک دیکھی ہے جو اس کی آنے سے ہے۔ عفت بی گھوم پھر کر پھر وہیں پہنچ گئی
شک ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا ۔
اس لئے بی بی اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو اور ہمارا دماغ مت خراب کرو ہوسکے تو زاویار سے بھی مت لڑنا سکینہ بی کے کہنے پر عفت پاؤں پٹختی لاؤنج سے باہر چلی گئی۔ 🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️ اس وقت سعد ، حسن ،علی ، یار زاویار اور صدیق سب لان میں بیٹھے گپے لگا رہے تھے کیونکہ کل زاویار اور صدیق نے واپس گاؤں چلے جانا تھا ۔ یار تم لوگ چلے جاؤ گے تو میں تم لوگوں کو بہت مس کروں گا خاص طور پر بچوں کو حسن نے صدیق کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کب تک دوسروں کے بچوں پر عیش کرو گے اپنی محنت آپ کے تحت اپنے گھر رونق کا بندوبست کرو سعد نے حسن کی طرف دیکھ کر شرارت سے کہا ہاں بات تو بالکل ٹھیک ہے اور اگر کوئی مسئلہ ہو تو اپنی بھابھی سے رجوع کرو خیر سے وہ اب ڈاکٹر ہیں علی نے بھی سنجیدگی سے حسن کو جواب دیا
کمینوں تم جیسے دوستوں کے لیے ہی کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
“یہ ان کا ظرف ہے بیٹھے ہیں آستینوں میں
یہ میرا ظرف ہے کہ میں یار یار کہتا ہوں۔”
حسن نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے بآواز بلند شعر پڑھا۔جس پر سب نے اسے داد بھی خوب دی
اگر تجھے لگتا ہے کہ تیری اس قسم کی شاعری سے ہم بےعزتی محسوس کریں گے تو میرے خیال سے تو غلط ہے علی کی بات پر سعد اور زاویار نے باقاعدہ قہقہ لگایا
ظاہری سی بات ہے انتہائی تمیز اور مہذب سے کی گئی بےعزتی تو تم لوگوں کو محسوس ہی نہیں ہوتی ۔ تم لوگ کمینگی اور بے غیرتی میں آخری ذگری کی بھی آخری قسم ہو
حسن کی بات پر علی نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا۔
یار کم از کم مجھے تو معاف کر دی۔ میں نے تجھے کبھی کچھ نہیں کہا زاویار نے محبت سے حسن کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا جو اس وقت منہ پھولا کر بیٹھا تھا
میں تجھ سے بالکل بھی ناراض نہیں ہوں ۔تو ہم سب میں سب سے شریف اور معصوم بندہ ہے ۔
نہیں نہیں معصومیت میں صدیق بھائی کا نام پہلے نمبر پر آتا ہے علی نے تصیح کی
وہ کسی زمانے میں معصوم ہوا کرتے تھے مگر جب سے ان کی زندگی میں وہ پٹاخہ آیا ہے یہ بھی اب بجتے رہتے ہیں .حسن نے ماہی کا اشارہ دیا ۔
ویسے ہم لوگوں کی زندگی کتنی بدل گئی ہے یاد ہے ہم چاروں کتنے مزے سے ہاسٹل کے ایک کمرے میں رہتے تھے سعد نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں کہا
مزے میں تو صرف میں اور علی رہتے تھے تُو تو بہت سڑا رہتا تھا جبکہ زاویار ہم سب کی امی کا کردار ادا کرتا تھا حسن کے تجزیے پر ایک بار پھر سب ہنسنے لگے
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے حادثاتی طور پر عروسہ ملے گی اب کی بار حسن سنجیدہ تھا مگر اس کے چہرے پر ایک خاص مسکراہٹ تھی
اور میں بذات خود حادثاتی طور پر فرزین کی زندگی میں شامل ہو گیا سعد کی بات پر سب کا قہقہ بے ساختہ تھا
اور میری زندگی میں بھی حادثاتی طور پر ماہی شامل ہوئی مگر مجھے یہ حادثہ بہت پیارا ہے ۔صدیق کی بات پر زاویار کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ چھا گئی جسے حسن نے نوٹ کیا اگر غور کیا جائے تو لفظ “حادثہ” خطرناک ہے مگر یہ تمام حادثے خوبصورت تھے _ حسن نے چہک کر کہا
مگر ایک حادثہ تو “موٹا” تھا علی کی بات پر حسن نے اسے مکا مارا
میں نے ساری زندگی ایک ہی عورت کو چاہا تھا اور ابھی بھی میرے دل کی وہی ملکہ ہے
مگر میں نے اپنی زندگی کے تجربے سے سیکھا ہے کہ ہر بات ہر شخص سے شیئر نہیں کرنی چاہیے خاص طور پر اپنی بیوی سے ورنہ آپ ایک ان دیکھی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔
اور پھر آپ کو ساری زندگی صفائیاں دیتے گزارنی پڑتی ہے زاویار نے بہت دکھ اور سنجیدگی سے کہا
تو زاویار شاہ ہے واشنگ مشین نہیں جو ہر کسی کو صفایاں دیتا پھرے تجھے کس نے کہا ہے صفائیاں دینے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے زاویار کی طرف دیکھ کر کہا
کچھ لوگوں کو صفایاں دینی پڑتی ہیں کیونکہ ہم ان کے دلوں کو اپنی طرف سے میلا نہیں کرنا چاہتے۔
یار یہ قسم کی باتیں کر رہا ہے میرا تو سر دکھنے لگا ہے بلکہ عروسہ کے ساتھ رہتے رہتے میرے تو پیٹ میں درد ہونے لگتا ہے اگر میں کچھ دیر کھانا نہ کھاؤ تو حسن نے ماحول میں چھائی افسردگی کو ختم کرنے کے لئے نوکر کو کھانے کا کہا
کھڑرکی میں کھڑی ماہی نے دور لان میں بیٹھے ان چاروں دوستوں کو دیکھا
زندگی میں رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے کچھ رشتے خون سے بڑھ کر بھی ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی میں وہ کچھ کرتے ہیں کہ آپ کے اپنے بھی نہیں کر سکتے ۔
میرا اور سر زاویار کا بھی ایک ایسا ہی رشتہ ہے احساس کا رشتہ _ اعتماد کا رشتہ انہوں نے میرے لئے جتنا کیا شاید ہی کوئی کسی کے لئے کرتا۔
مگر پھر بھی زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی آپ کو اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے اپنے حصے کی خوشیاں چھیننی پڑتی ہیں۔
سب خواب پورے نہیں ہوتے مگر ہم صرف ادھورے خوابوں کا رونا روتے ہیں اور جن کی تعبیر مل جائے اس پر شکر ادا نہیں کرتے ۔
مگر میں اپنے رب کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے اس نے بہت کچھ دیا اور جو نہیں دیا اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی۔
“پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہے “وہ بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست تھا” 🎗️🎗️🎗️🎗️ ختم شد الحمدللہ آج میرا پانچواں ناول بھی مکمل ہوگیا ۔ ریڈرز نے میرا بہت ساتھ دیا ورنہ شاید میں یہ ناول مکمل نہ کر سکتی ۔ جنہوں نے کمنٹس نہیں کرنے تو انہوں نے نہیں کرنے میں لاکھ چلاؤں ریڈرز ریڈرز ۔۔۔۔۔۔ اس لئے میں نے خود ہی انتہائی شرافت سے دوسرا حصہ بھی پوسٹ کر دیا ہے میں نے کوشش کی ہے کہ خون بہا کے اوپر تھوڑا مختلف لکھوں۔ ہر لڑکی ساتھ ظلم نہیں ہوتا اور نہ ہی سب وڈیرے برے ہوتے ہیں اچھے اور برے انسان ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں مگر پتہ نہیں کیوں ہم اتنے وحشی ہوگئے ہیں کہ مار دھاڑ رونے دھونے کو پسند کرتے ہیں اور اچھائی کو دبا دیتے ہیں جیسے وہ ہمارے معاشرے میں ہے ہی نہیں ۔ جنہوں نے تمام ناول کے دوران کمنٹس کیے میری حوصلہ افزائی کی تعریف کی میں ان کی بے حد مشکور ہوں ۔ ان تمام ریڈز کے لیے علیحدہ سے پوسٹ لگاؤں گی کیونکہ میں بیمار ہوں نزلہ زکام کی وجہ سے سر میں سخت درد ہے اس لیے فی الحال معذرت خواہ ہوں میں محبتوں اور محبت کرنے والوں کو کبھی نہیں بھولتی __ ایک بار پھر آپ کا بہت شکریہ اگر ہو سکے تو تبصرہ ضرور کیجئے گا کہ اینڈ کیسا لگا
اور ہاں آخر میں جو میرا نیا ناول ہے وہ ایک لڑکے کی آپ بیتی ہے
ویسے تو مجھے محبت کی کہانیوں میں زیادہ دلچسپی محسوس نہیں ہوتی مگر جس انداز سے اس لڑکے نے بیان کی ہے میرا دل کیا کہ میں اس پر ایک چھوٹا سا ناول ضرور لکھوں
لڑکیاں تو محبت کرتی ہی ہیں کیونکہ وہ اتنی معصوم ہوتی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے متاثر ہوجاتی ہیں مگر ایک لڑکے کا کسی ایسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہونا جس میں بظاہر کوئی خوبی نہ تھی عجیب ہے ۔۔۔۔۔۔؟
چلئے پھر جلد ہی ملتے ہیں نئے ناول کے ساتھ تب تک اپنا بہت خیال رکھیں محبتوں کا شکریہ
