Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
حسن کب سے عروسہ کو تلاش کر رہا تھا مگر اسے کوئی بتانے کو تیار نہ تھا کہ عروسہ کدھر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بلکہ الٹا اسے کوئی نہ کوئی ذومعنی جملہ بدلے میں سننے کو ملتا۔
کیا مصیبت ہے موٹی مجھے تم سے ملنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے لان میں ٹہلتے ہوئے اپنے آپ سے کہا
ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایسا کیا کرے کہ اس کی عروسہ سے بات ہو جائے کہ اچانک اس کے موبائل میں چیخنا شروع کر دیا
آج تو بڑے بڑے لوگوں نے یاد کیا ہے یقیناً کوئی کام ہی ہوگا ورنہ ہم جیسے چھوٹے لوگوں کو کون بغیر مقصد کہ یاد کرتا ہے حسن نے کال اٹینڈ کرتے ہیں زاویار کی کلاس لے ڈالی
بےعزت کرنے کا اس سے اچھا طریقہ ابھی تک ایجاد نہیں ہوا اس سے پہلے کہ میں گلہ کروں کہ تمہیں میری یاد ابھی تک کیوں نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جب سے گاؤں سے گئے ہو نہ کوئی کال نہ میسیج ایسے غائب ہوئے ہو جیسے گدھے کے سر سے سینگ ہوتے ہیں۔الٹا تم شروع ہو گئے ہو زاویار کے جواب پر حسن مسکرانے لگا
میں تو ایک غریب انسان ہیں میرا فون نہ کرنا تو سمجھ آتا ہے ۔
مگر ایک جاگیردار کا فون نہ کرنا سوائے اس کی مصروفیت کے اور کیا ہوسکتا ہے کیونکہ پیسہ تو اس کا مسئلہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن اب لان کی نرم نرم گھاس پر ننگے پاؤں چل رہا تھا
یار تو کہاں پیدا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میرا مطلب ہے کہ تجھے کسی سیاستدان کے ہاں پیدا ہونا چاہیے تھا یا وکیل کے گھر اپنے آپ کو بچانا اور دوسرے کو پھنسانا تو کوئی تجھ سے سیکھے زاویار کے جواب پر حسن نے رک کے موبائل کو گھورا
میں نے آج تک تجھے کبھی پھنسایا ہے یا ایسی کوئی بھی کوشش کی ہے ؟؟؟ اور رہی بات کہاں پیدا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تو اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ حسن کے دل میں ایک درد کی لہر اٹھی ۔ اچھا چھوڑ ان باتوں کو اور یہ بتا آج کل کیا چل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے بات بدلی فی الحال تو میں چل رہا ہوں وہ بھی ننگے پاؤں حسن نے اب دوبارہ چلنا شروع کر دیا
اوہو میرا مطلب کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے دوبارہ پوچھا
کچھ بھی نہیں ہورہا ہونا کیا ہے اکیلا بندہ کر ہی کیا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا
اچھا تو یہ طے ہے کہ تونے سنجیدگی سے جواب نہیں دینا زاویار اب ناراض ہوا اچھا اچھا زیادہ میری محبوبہ بننے کی کوشش نہ کر اگر تو منہ پھلانے کی تیاری کر رہا ہے تو رہنے دے کیونکہ میں بالکل بھی اس وقت کسی کے نخرے اٹھانے اور اسے منانے کے موڈ میں نہیں ہوں ۔حسن نے صاف جواب دیا
یعنی تجھے میرے ناراض ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے پوچھا
بتا رہا ہے یا پوچھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر بتا رہا ہے تب بھی اور اگر پوچھ رہا ہے تب بھی تیری اطلاع کیلئے عرض ہے مجھے فرق پڑتا ہے مگر فی الحال نہیں پڑھ رہا حسن کے جواب پر زاویار نے اپنا سر پکڑ لیا
تجھ سے میں نہیں جیت سکتا اس لئے سیدھی طرح بتا دے کہ تُو ، علی اور سعد سب ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار نے تنگ آکر پوچھا
تُو بھی تو سیدھا سوال نہیں کر رہا تھا اب کیا ہے تو بتا دیتا ہوں ۔
میں تو “خود کش شادی” کرنے لگا ہوں اور علی کا مجھے پتہ نہیں جب کہ سعد کافی دنوں سے ملا نہیں _ جواب پھر گول مٹول تھا حسن اب زاویار کی حالت کا اندازہ لگا کر خوب مسکرا رہا تھا مجھے تُو ایسے جواب دے رہا ہے جیسے لوگ NAB کو دیتے ہیں نہ سر کا پتہ لگتا ہے نہ پیر کا زاویار اب حسن کی شرارت سمجھ گیا تھا
سیدھی طرح کہہ ناااا کہ تجھے اپنی شادی کی خوشی میں علی اور سعد کی خبر لینا یاد ہی نہیں رہا اب زاویار بھی شرارت پر اتر آیا تھا
ہاں جی بالکل یہی بات ہے لوگوں کو تو خوشی کے مارے کچھ یاد ہی نہیں رہتا جبکہ یہاں مجھے دکھ میں سب بھول بھال گیا ہے حسن نے اداس ہونے کی ایکٹنگ کی۔
دکھ کس چیز کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے تو سنا ہے اتنی بڑی جائیداد کے ساتھ ساتھ اس سے بھی بڑی “بیگم” مل رہی ہے زاویار نے قہقہ لگایا
اب مجھے پتا چلا لوگ وڈیروں کو گالیاں کیوں دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کیونکہ میرا بھی اس وقت یہی دل کر رہا ہے ۔حسن خفا ہوا جب کہ زاویار اب باقاعدہ ہنس رہا تھا
ابھی میں تجھے وہ “کلو کلو” والی گالیاں نہیں نکال سکتا آس پاس بہت لوگ ہیں اور ان لوگوں پر میرا امپریشن بہت اچھا ہے۔
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں تجھے بخش دوں گا۔ جس دن بھی تجھ سے ملاقات ہوئی سب سے پہلے حساب برابر کروں گا حسن نے آس پاس کام کرتے ملازموں کو دیکھ کر جواب دیا
ہاہاہا _ چل بتا کب ہے شادی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ کتنے دن ہو گئے ملے ہوئے ۔۔۔۔۔۔؟ زاویار نے سنجیدگی سے پوچھا شادی اس جمعہ کو ہے مگر میں اور علی ایک خاص مشن پر مصروف ہوں گے جبکہ سعد پیپرز میں مصروف ہے اس لیے فی الحال ملنے کا تو کوئی تین ہیں حسن بھی اب سنجیدہ تھا ۔
اس جمعہ کو تو میں بھی فارغ نہیں زاویار کو ایک دم ماہین کی رخصتی کا خیال آیا۔
یار زندگی ایک دم بدل گئی ہے زاویار نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا
تجھ میں کہاں سے “صبیحہ خانم” کی روح آ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تیری مرضی کے خلاف تیرا “ویاہ” تو نہیں ہو رہا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پھر کیوں تو نیم مردانہ آواز میں خالصتاً زنانہ ڈائیلاگ بول رہا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن ایک بار پھر پٹری سے اتر گیا تھا
تجھ سے بات کرنے سے بہتر ہے کہ بندہ ٹی وی دیکھ لے زاویار نے فون بند کر دیا
ویسے آئیڈیا زبردست ہے حسن ہنستا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
فرزین کب سے موبائل ہاتھ میں پکڑے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی ۔
کیا مصیبت ہے گیارہ بجکر گیارہ منٹ ہوگئے ہیں ابھی تک کال کیوں نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ تھک کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے بڑابڑانے لگی
مزید چار منٹ فون کی سکرین کو گھورتے ہوئے گزر گئے اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تھا
کیا وقت ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے سعد کو میسج کیا ۔
وہ جو تھکاوٹ کے مارے سونے لگا تھا میسج ٹون کی آواز پر موبائل پکڑ کر دیکھنے لگا
خلاف توقع فرزین کا میسج دیکھ کر بیڈ ساتھ ٹیک لگا لی۔
خدا خیر کرے بابا کی طبیعت ٹھیک ہو اتنی رات کو تو وہ میسج نہیں کرتی سعد خود سے مخاطب میسج پڑھنے لگا ایک نظر میسج کو دیکھ کر دوسری گھڑی پر ڈالی۔
رات کے گیارہ بج کر 18 منٹ ہوئے ہیں مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو خیریت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد بہت حیران تھا
اتنی دیر ہو گئی کال کیوں نہیں کی میں تمہاری نوکر ہوں جو جاگتی رہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ شدید غصے والے ایموجی ساتھ ریپلائی آیا
خود ہی تو کہا تھا کہ ایک منٹ بھی لیٹ ہوئے تو کال نہ کرنا اٹھائی نہ جائے گی پھر اب سعد نے فرزین کو میسج کا جواب دیا
میرے تو جیسے تم بہت فرمانبردار ہو میں نے کہا اور تم نے مان لیا۔ مجھے تمہاری یہی عادتیں بہت بری لگتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے ٹائپنگ کی
او ہیلو مس فردین آپ شاید نیند میں ہیں یا کسی اور کو میسج کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مگر میں وضاحت دے دو کہ میں سعد ہوں سعد اب باقاعدہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔
پتا ہے اور تمہیں ہی میسج کر رہی ہوں فرزین کا فوراً جواب آیا
(یار اس کی ٹائپنگ سپیڈ بہت تیز ہے ابھی میں سوچ رہا ہوتا ہوں اور یہ جواب بھی دے دیتی ہے سعد خود سے بڑبڑایا۔ )
اول تو مجھ میں کوئی بری عادت نہیں اور اگر فرض کرو کہ ہو بھی تو کیونکہ میں بندہ بشر ہوں تو ایک آدھ ہی ہوگی۔
جب کہ تم نے مجھ میں “بری عادتیں” کہاں سے دیکھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کو شدید غصہ آیا
ایک تو تمہیں “بیوی” کی عزت کرنا بھی نہیں آتی لوگ کیسے اپنی بیویوں کی خود بھی عزت کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی کرواتے ہیں فرزین کے جواب پر سعد کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
( یہ فرزین ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔؟ )
آپ کون ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے غیر یقینی حالت میں میسج ٹائپ کیا
سعد کا میسج پڑھتے ہی فرزین کا پارہ ہائی ہوگیا
کیا مطلب ہے کون ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یعنی اب تم مجھے پہچاننے سے بھی انکاری ہو تم مجھے خاک عزت دو گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
فرزین نے میسج ٹائپ کرکے فون زور سے بیڈ پر اچھالا اور خود گھٹنوں کے بل نیچے کارپٹ پر بیٹھ گئی
یہ ایسے تو بات نہیں کرتی یقینا گھر میں کچھ ہوا ہو گا مگر کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کافی دیر سعد ہاتھ میں موبائل پکڑ کر سوچتا رہا
کال کروں نہ کروں کال کروں _ نا کروں کیا کروں ۔۔۔۔۔؟؟؟
عجیب کشمکش تھی بالآخر اس نے فرزین کا نمبر ڈائل کیا رات کے پورے بارہ بج رہے تھے یہ تو پتا تھا کہ وہ آج رات سونے والی نہیں ۔
تیسری دفعہ نمبر ڈائل کرنے پر فرزین نے فون اٹھا لیا۔
اب کیا تکلیف ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آواز کچھ بھاری تھی۔
تم سو گئی تھی یا رو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کو اس کی فکر ہوئی۔
تمھاری بلا سے _ انتہائی بدتمیزی سے جواب دیا فرزین گھر میں سب خیریت ہے نااااا ؟؟؟ سعد نے اس کے لہجے کو اگنور کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا
مجھے کیا پتہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے منہ بنایا
اچھا سوری آئندہ وقت کا خیال رکھوں گا سعد نے صلح کرنا چاہی۔
سب سے پہلے تم اپنی عادتیں ٹھیک کرو پھر میں تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے روٹھے پن کا اظہار کیا
ذرا ان “بری عادتوں” پر تھوڑی سی روشنی ڈال دو ۔ وہ کیا ہے نااااا رات کافی ہے تو اندھیرے کی وجہ سے مجھے کچھ نظر نہیں آرہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے شرارت بھرے لہجے میں پوچھا
تم میری عزت بھی بالکل نہیں کرتے فرزین سیدھا مدعے پر آئی
مگر میں نے تمہاری “بےعزتی” کب کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے حیرت سے پوچھا
یعنی تم میری “بےعزتی” کرنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین یکدم بھڑک اٹھی
نہیں میں تو کہہ رہا ہوں کہ میں تمہاری عزت ہی کرتا ہوں۔ سعد نے اپنی تصیح کی ۔
نہیں تم میری عزت نہیں کرتے بلکہ تمہاری وجہ سے ہی دوسرے لوگ میری بےعزتی کرتے ہیں اور یہ بات تم مان لو کیونکہ تمہیں ماننی پڑے گی ۔
اب تک جو میں نے لوگوں کی باتیں اپنی ذات پر سنیں وہ سب تمہاری وجہ سے ہے ۔کیونکہ تم نے نہ خود میری عزت کی اور نہ دوسروں سے کروائی _ فرزین کی بات پر سعد ہکا بکا رہ گیا ۔
فرزین سعد نے ہلکا سا پکارا
ہاں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جلدی سے پوچھا گیا
رات کھانے میں کیا کھایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے انتہائی سنجیدہ لہجے میں پوچھا
گوبھی گوشت فرزین نے فرمانبرداری کی انتہا کرتے ہوئے فوراً جواب دیا
یہ سبزی تو بہت ٹھنڈے مزاج کی ہے پھر تمہیں اتنا غصہ کیوں آیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد باقاعدہ ہنسنے لگا تھا
اچھا تم مجھے اب پاگل بھی کہہ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین پھر غصے سے بولی
یا اللہ سعد نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا
تم چاہتی کیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے پوچھا
عزت بالکل ویسی جیسے ماموں نے خاندان والوں سے پھپھو کو دلوائی ہے فرزین نے اپنی گردن اکڑاتے ہوئے جواب دیا
(ابو نے کونسا تمغہ امی کو پہنایا تھا میں نے آج تک نہیں دیکھا سعد نے زیر لب دہرایا )
اچھا ٹھیک ہے میں تمہیں ویسی عزت دینے کو تیار ہوں مگر کچھ پتہ بھی تو چلے سعد نے خود پر کنٹرول کرتے ہوئے نرم لہجہ اپنایا جب کہ وہ اب کافی تپ چکا تھا
سعد کے پوچھنے پر فرزین نے آج دن کو رضیہ بیگم کا سنایا قصہ جوں کا توں سعد کو سنا دیا
اچھا تو یہ بات ہے ۔ یہ تو کوئی مسئلہ نہیں میں تو اس سے بھی زیادہ کر سکتا ہوں سعد نے نارمل انداز میں دوبارہ بیڈ ساتھ ٹیک لگا لی
اچھا وہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین کو تجسس ہوا
مگر اس کے لیے تمہیں میرے ساتھ رہنا ہوگا جبکہ تم ایسا چاہتی ہی نہیں سعد میں دکھ سے جواب دیا
کچھ دیر فرزین چپ رہی کیونکہ وہ بھول گئی تھی کہ وہ سعد ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی ۔
اگر تم مجھے بتاؤ کہ تم کیا کرنا چاہتے ہو پھر شاید میرا ارادہ بدل جائے فرزین نے پر سوچ انداز میں جواب دیا
اس کے لئے تمہیں کل کا انتظار کرنا پڑے گا ۔کیونکہ تمہاری اس لڑائی میں رات کا 2 بج رہا ہے اور مجھے صبح پیپر دینے جانا ہے ۔
اپنا خیال رکھنا اور آئندہ “گوبھی گوشت” کھانے سے ذرا پرہیز ہی کرنا ۔شب بخیر
سعد نے کہتے ساتھ فرزین کی بات سنے بغیر ہی فون بند کر دیا جب کہ فرزین یہ سوچنے لگی کہ یہ اپنی بیوی کو عزت دینے کے لئے کیا کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
گاؤں کی تقریبا سبھی عورتیں اس وقت اسلم کے گھر موجود تھیں۔ کچھ تو صرف تماشہ دیکھنے آئی تھیں جبکہ کچھ نوراں سے ہمدردی کر رہی تھیں۔
زاویار نے بہت قیمتی لباس اور زیورات جیدے کے ہاتھ ایک دن پہلے بھجوا دیا تھا اور انہیں کپڑوں زیور میں ماہی آج سچ مچ چاند کا ٹکڑا لگ رہی تھی ۔
لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہیں یا نہیں اس کا تو مجھے پتا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر ہر لڑکی “دلہن” بن کر بہت ہی خوبصورت لگتی ہے پھر میں تو ماہین ہوں ماہین نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتے ہوئے سوچا
ارے بہن کبھی پہلے ایسا ہوا ہے کہ “خون بہا” میں دی گئی لڑکی کو یوں عزت سے بیاہ کر لے جایا جائے _ اتنے قیمتی کپڑے زیور اور بارات تو دیکھو باہر گاڑیوں کی گاڑیاں کھڑی ہیں ایک عورت نے دوسری کے کان میں حسرت سے سرگوشی کی ۔
یہ تو اس لڑکی کی قسمت جاگ گئی ہے بھائی بھی بچ گیا اور خود بھی عیش کرے گی دوسری نے فوراً ہاں میں ہاں ملائی ۔
زاویار نے کسی بھی قسم کا خرچہ کرنے سے اسلم کو سختی سے منع کر دیا تھا یہاں تک کہ بارات کا کھانا بھی زاویار نے اپنے ذمے لے لیا تھا ۔
کھانے کے سارے انتظامات صدیق خود دیکھ رہا تھا کہیں نہ کہیں اس کے دل میں اپنی پھپھو کا دکھ تھا جو وہ یوں ماہی کے ارمان پورے کرکے نکال رہا تھا ۔
میدان میں ٹینٹ لگا تھا دس اور بارہ قسم کے مختلف میٹھے اور نمکین کھانے بنائے گئے تھے انتظام اتنا زبردست تھا کہ سب ہی حیران تھے مگر ماہی نہیں۔
ماہی پتر سارا گاؤں ہی حیران ہے یہاں تک کہ میں اور تیرا ابا بھی _ نوراں نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
مگر میں حیران نہیں میری زندگی میں اماں پچھلے کچھ دنوں میں اتنے حیران کن واقعے پیش آئے ہیں کہ اب میں کسی بھی چیز پر حیران نہیں ہوتی ۔
میں نے یہ سیکھا ہے کہ آپ کی زندگی میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے ماہی نے بظاہر اپنی کلائی میں پہنے سونے کے کڑے کو گھماتے ہوئے جواب دیا جب کہ اس کے دل میں کچھ ٹوٹا تھا
عفت بی اور سکینہ دونوں ہی زاویار کے اصرار پر اس کے ساتھ آ تو گئیں تھیں مگر گاڑی سے باہر نہیں نکلیں۔
دونوں ہی اپنی دنیا میں گم بہت خاموش بیٹھی تھیں یہاں تک کہ ایک دوسرے سے بھی بات نہیں کر رہی تھیں۔
سکینہ کو صدیق کا دکھ تھا جو آج سفید شلوار قمیض پر روایتی چادر اور پشاوری ٹوپی پہنے اپنی سادگی میں بھی کمال لگ رہا تھا۔
جب کہ ماہی ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی مقابلہ نہ ہونے کے باوجود بھی عفت کے دل میں ماہی کے لیے جلن تھی کیونکہ وہ زاویار ساتھ محبت کرتی تھی اور یہ بات زاویار جانتا بھی تھا اور مانتا بھی تھا۔
چلیں اب رخصتی کا وقت ہو رہا ہے اور آپ دونوں نے وعدہ کیا تھا کہ اسے رخصت کرکے عزت سے گھر لائیں گئیں زاویار نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے دونوں کو مخاطب کیا
چھوٹے آپ چلو اور ان کے گھر کی کسی عورت کو بلاکر لاؤ تاکہ وہ ہمیں اندر لے کر جائے کیونکہ پہلے ہماری “عزت ” ہے اور بعد میں آپ کی “محبت” عفت نے آخری لفظ بہت آہستہ کہا مگر زاویار نے سن لیا
صحیح کہا ہے کسی نے اپنے دوست کو بھی اپنا ہم راز نہ بناؤ زاویار نے عفت کی طرف کا دروازہ کھولا مگر وہ منہ موڑ گئیں۔ مجبوراً زاویار نے جیدےکو اشارہ کر کے بلایا کہ وہ اندر سے ماہی کی ماں کو بلا کر لائے
یہ تم نے آج کالے کپڑے کس خوشی میں پہنے ہیں کوئی اور رنگ نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ نے زاویار کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
محبت میں ناکامی کی وجہ سے عفت زیر لب بڑبڑائیں۔
گھر سے ہی آپ ساتھ آ رہا ہوں اس وقت تو نہ پوچھا اور نہ ہی منع کیا تو پھر اب _ زاویار نے شکایتی نظروں سے عفت کی طرف دیکھا مگر جو سکینہ کو دیا
یہ تم نے اتنا خرچہ کیوں کیا ہے تمہاری بہن کی شادی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ نے کڑے تیوروں ساتھ پوچھا جب کہ عفت منہ پر ہاتھ رکھ کر دبا دبا ہنسنے لگی
ان عورتوں کو سمجھنا کتنا مشکل ہے زاویار نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے افسوس سے سر ہلایا
اتنی دیر میں نوراں کے ساتھ ساتھ گاؤں کی مزید دس بارہ عورتیں بھی آن پہنچیں۔
ماہی کو اسلم اور نوراں نے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے خوب پیار کیا اور چادر دی پھر قرآن پاک کے سائے میں کمرے سے باہر نکالا وہاں انور ماہی کے پاؤں میں بیٹھ گیا
مجھے معاف کر دینا ماہی وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا اور پھر کھڑے ہو کر رونے لگا ماہی اب تک مضبوط بنی ہوئی تھی مگر انور کو دیکھ کر اپنے اوپر قابو نہ پا سکی اور اس کے گلے لگ کر رونے لگی
سکینہ اور عفت نے یہ سین انتہائی بیزاری سے دیکھا جبکہ صدیق کو بیس سال پہلے اپنی پھپھو کی رخصتی یاد آگئی۔
کس طرح وہ اور اس کا بھائی رو رہے تھے مگر ظالم انھیں چھین کر لے گئے _ صدیق نے ضبط سے اپنی آنکھیں بند کیں ۔پھر عفت اور سکینہ اسے ساتھ لے کر باہر آ گئی ۔ آپ دونوں بے فکر رہیں آپ جب چاہیں اس سے ملنے آ سکتے ہیں آپ کی بیٹی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے _ صدیق میں اسلم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو اسلم کے ساتھ ساتھ وہاں موجود ہر شخص حیران رہ گیا ۔
ماہی کی نظر جیسے ہی پھلوں سے سجی گاڑی پر پڑی تو اسے یاد آیا ۔
” سر آپ جب بارات لے کر آئیں گے تو “لیموزین” پر لانا سچی میرا گاؤں والوں پر بہت رغب پڑے گا مجھے پتا ہے اتنی مہنگی گاڑی تو آپ ساری زندگی کام کرکے بھی نہیں لے سکتے اس لیے کرائے پر لے آنا ماہی نے ہنستے ہوئے زاویار کی حیرت نوٹ کی
کیا فائدہ کرائے کی چیز کا اپنی ہو تب مزا ہے _ زاویار نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا فائدہ کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فائدہ ہی فائدہ ہے سارا گاؤں حیران رہ جائے گا جہاں سب کے پاس “گدھاگاڑی” ہے وہاں ماہین کی بارات “لیموزین” پر لوگ برسوں یاد رکھیں گے میری شادی کو ماہی نے رجسٹر ساتھ لگاتے ہوئے مزے سے جواب دیا
پاگل کہیں کی زاویار کہتے ھوئے آگے بڑھ گیا۔ “
گاڑی کا دروازہ کھولتے صدیق سائیڈ پر کھڑا ہو گیا جبکہ عفت نے ماہی کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے ماضی سے نکالا
ماہی نے ایک نظر پھولوں سے سجی ہوئی گاڑی کو دیکھا “لیموزین ” زیر لب دہرایا اور اندر بیٹھ گئ۔
میں تمہاری خوشی کے لئے جو کچھ کرسکتا تھا وہ میں نے تمہارے لئے کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس سے زیادہ کرنا میرے بس میں نہیں تھا میری دعا ہے کہ تم ہمیشہ خوش رہو اور خدا مجھے بھی خوش رکھے ۔
ماہی کی گاڑی جاتا دیکھ کر زاویار نے دل میں ماہی کو مخاطب کیا اور پھر عفت کی طرف مڑ گیا ۔
پتا نہیں اب کیسے کیسے سوال کریں گی مجھ سے اور کیا کیا الزام لگائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محبت تیرا ستیاناس بیڑہ غرق ___ اچھے خاصے بندے کو ایک عورت سے ذلیل کروا کے رکھ دیتی ہے ۔زاویار مسکراتا ہوا عفت کی طرف بڑھ گیا ۔
” قرض ہوتا تو اتار دیتے صاحب عشق ہے چڑھتا جارہا ہے چڑھتا جارہا ہے”
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
