No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
زاویار اس وقت آفس میں بیٹھا ضروری پیپر ورک کر رہا تھا۔ جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔
آ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار نے سر اٹھائے بغیر کہا
کافی دیر تک جب آنے والے نے کچھ نہ کہا تو زاویار نے سر اٹھا کر دیکھا اس کے بالکل سامنے ماہین کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
آپ اپنا کام کر لیں میں انتظار کر لیتی ہوں نہایت فرمابرداری سے ماہی نے جواب دیا
ماہین آپ لوگوں کے پیپرز کی ڈیٹ آگئی ہے ۔دیکھیں میں آپ لوگوں کا کام ہی کر رہا ہوں۔ رول نمبر سلیپ کل کلاس میں سب سٹوڈنٹس کو دے دی جائے گی ۔
آپ لوگوں کی تیاری اچھی ہے مجھے امید ہے کہ سب ہی اچھے نمبروں میں پاس ہوں گے اور خاص طور پر آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی تو سکالرشپ آنی چاہیے ۔اگر کوئی مسئلہ یا سوال ہے تو کل کلاس میں اس کو ڈسکس کر لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار مسلسل کام کرتے ہوئے بول رہا تھا
بس کہہ دیا ہے یا کچھ اور کہنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ماہین کی بات پر زاویار کے ماتھے پر سلوٹیں پڑیں اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ماہین نے انگلی کے اشارے سے منع کیا
آپ نے ابھی اتنا لمبا لیکچر کلاس کے بغیر دیا اور میں نے سنا آپ میری بات بھی اسی طرح آرام سے سنیں گے جیسے میں نے سنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہین کے کہنے پر زاویار نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے کرسی سے ٹیک لگا لی۔
کہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور اسے جانچتی نظروں سے دیکھنے لگا
سر میں پیپرز کے بعد اپنے گاؤں واپس چلی جاؤں گی۔ میرے ابو ہمارے گاؤں کے وڈیرے کے ملازم ہیں۔ ماں بالکل ان پڑھ اور سادہ سی عورت ہے جبکہ ایک بھائی ہے مگر وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہین ایک دم خاموش ہو گئی جب کہ زاویار نے تجسس سے اسے دیکھا
مگر کیا۔۔۔۔۔۔۔ ؟ زاویار کے پوچھنے پر ماہین پھیکا سا مسکرا ئی
مگر وہ نشہ کرکے ہر وقت دربار یا گاؤں کی گلیوں میں جوا یا تاش کھیلتا رہتا ہے۔۔ اپنی بات کے آخر میں ماہین نے سر جھکا لیا
آپ یہ سب باتیں مجھے کیوں بتا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حالانکہ اس وقت زاویار کو ماہین کے ساتھ ہمدردی ہو رہی تھی مگر وہ اس پر یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
ایک منٹ کے دسویں حصے میں ماہین کی اداسی کہیں غائب ہوگی اور وہ پہلی والی ماہی بن گئی.
سر آپ بھی کمال کرتے ہیں بندے کو اپنے ” سسرال” کا پتا ہونا چاہیے کہ اس میں کتنے لوگ ہیں اور وہ کیا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ تاکہ جب آپ رشتہ لے کر آئیں تو کوئی پریشانی نہ ہو ۔ماہی کی بات پہ زاویار کو حیرت کا جھٹکا لگا
کس احمق نے آپ سے کہا ہے کہ میں رشتہ لے کر آپ کے گھر آؤں گا ۔۔۔۔۔۔؟ زاویار کو سچ مچ ماہی کی بات غصہ دلاگی ۔
کہا نہیں ہے بلکہ میں کہہ رہی ہوں کہ پیپرز کے بعد آپ میرے گھر رشتہ لے کر آئیں گے اور ہم سادگی سے شادی کر کے دوبارہ شہر آ جائیں گے کیونکہ میں اب گاؤں نہیں رہنا چاہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہین نے ایک ادا سے کہتے ہوئے کرسی کھینچ کر اپنے بیٹھنے کے لئے سیدھی کی۔
ماہین میں کتنی بار بتا چکا ہوں جو میں نظر آتا ہوں جیسا نہیں ہوں۔ مجھے ڈر لگتا ہے تم اپنی بیوقوفیوں کی وجہ سے کہیں پھنس نہ جاؤ۔ یہ دنیا درندوں سے بھری پڑی ہے۔ اخبار دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹی وی دیکھو ۔۔۔۔۔۔ کیا نہیں ہو رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تم کن خوابوں میں رہتی ہوں ۔آنکھیں کھولو ۔اپنے آس پاس دیکھو۔ یہ دنیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں سب کچھ آپ کی مرضی کا آپ کو ملے گا اور کچھ غلط نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار نے اسے سمجھانا چاہا
آپ کی طرف سے ہو گیا اب میری بات سنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو بہت خوش رکھوں گی ۔آپ کی ہر ضرورت کا خیال رکھوں گی۔ کبھی آپ کو اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔ چاہے جیسے بھی حالات ہوں ۔میرا پکا وعدہ ہے آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہاں آپ دوسری ۔۔۔۔۔۔۔۔ تیسری بلکہ چوتھی ۔۔۔۔۔۔۔ شادی بھی کر سکتے ہیں میری طرف سے اجازت ہے مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ میں نہیں سنوں گی۔
اگر آپ نے مجھ سے شادی نہ کی تو میں لوگوں کو کہہ دوں گی کہ آپ نے مجھ سے خفیہ نکاح کیا ہوا ہے اور میڈیا آجکل ان خبروں کو اتنا پروٹوکول دیتا ہے جتنا صدر یا وزیراعظم کو نہیں ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہین نے کہتے ساتھ ہی ایک پرچی زاویار کے آگے ٹیبل پر رکھی۔
اب یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار نے بغیر ہاتھ لگائے پوچھا
بے فکر رہیں “تعویذ” نہیں ہے میرے گھر کا ایڈریس ہے میں انتظار کروں گی مگر زیادہ مت کروائیے گا ورنہ میں خود آ جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہین کہہ کر کرسی سے کھڑی ہو گئی۔
ابھی مزید بھی کچھ کہنے کے لیے رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار نے اسے کھڑا دیکھ کر پوچھا
میں آپ کی اتنی اچھی سٹوڈنٹ ہوں آپ مجھے وش نہیں کریں گے اچھے پیپروں کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال مجھے آپ کی “محبت” کے ساتھ ساتھ ” دعاؤں” کی بھی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ماہی کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ دیکھ کر زاویار نے نفی میں سر ہلایا
جائیں ماہین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کام کرنے دیں جبکہ نیچے منہ کرکے اسے ماہین کے جملے پر ہنسی آگئی ۔۔۔۔۔۔ “محبت کے ساتھ ساتھ دعاؤں” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاگل لڑکی
سر کھل کر ہنسا کریں ابھی ہماری حکومت نے اس پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا ۔ماہی کہتی ہوئی آفس سے باہر چلی گئی جب کہ کافی دیر تک بغیر مقصد کے زاویار بند دروازے کو دیکھتا رہا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
میری بات نہایت تحمل سے سن اور جب تک میں بات ختم نہ ہو بیچ میں بولنا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر نے انور کو سمجھاتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے تو بول میں سن رہا ہوں۔ انور بڑے غور سے منیر کو دیکھ رہا تھا۔
وہ جو اس دن تو نے بلیک مرسڈیز کے اندر آدمی دیکھا تھا نااااا وہ ہمارے گاؤں کے ساتھ والے گاؤں کا ایک با اثر آدمی ہے۔ منیر نے بتانا شروع کیا
اچھا پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ انور نے پوچھا
چپ کر کے پہلے میری پوری بات سن لو پھر سوال کرنا۔ منیر ناراض ہوا
اچھا سوری تو بتا اب نہیں بولوں گا ۔انور نے معذرت کی دونوں اس وقت نہر کے کنارے بیٹھے اس پار دوسرے گاؤں کو دیکھ رہے تھے ۔
یار اس آدمی کا نام دلاور ہے وہ اپنے گاؤں کے وڈیرے کی بیٹی کو پسند کرتا تھا مگر اس لڑکی کے بڑے نہیں مانتے تھے پھر اس نے کسی بھی طرح سے اس لڑکی کے ماں باپ کو قتل کرا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر کچھ دیر کے لیے رکا جب کہ انور اشتیاق سے سٹوری سن رہا تھا۔
دلاور کا خیال تھا کہ ماں باپ کے مرتے ہی وہ لڑکی اکیلی رہ جائے گی تو وہ آسانی سے اسے پھںسا کر شادی کر لے گا مگر بیچ میں اس کا تایازاد کود پڑا اور دلاور کا بنا بنایا کھیل خراب ہوگیا ۔
نہ صرف کھیل خراب ہوا بلکہ اس کے تایاذاد نے دلاور کو سزا بھی کروا دی۔۔۔۔۔۔۔ منیر نے رازداری سے انور کو کہانی سنائی جسے انور بڑی دلچسپی سے سن رہا تھا
ابھی ایک ماہ پہلے دلاور رہا ہو کر آیا ہے اس کے سر سے “محبت” کا بھوت تو اتر چکا ہے مگر اب “انتقام” کا چڑھ گیا ہے۔
اس کے گاؤں کا کوئی بھی آدمی یہ کام نہیں کر سکتا اس لیے ہم نے اس کام کے لیے تیرا انتخاب کیا ہے منیر نے انور کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
مگر کام کیا ہے یہ تو پتہ چلے ۔۔۔۔ُ۔۔۔۔؟ انور نے پوچھا
تو بہت بے صبرا ہے پہلے میری بات کو ختم ہونے دے ۔۔۔۔۔۔۔ منیر کو غصہ آیا جس پر انور نے چھوٹے بچوں کی طرح اپنے منہ پر انگلی رکھ لی۔
وہ لڑکی بلکہ عورت نہایت رحم دل ہے اور اپنی حویلی میں بالکل اکیلی رہتی ہے تو نے کسی بھی طرح بہلا پھسلا کر اسے حویلی سے باہر نکالنا ہے کیونکہ وہ کہیں بھی آتی جاتی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بس اتنا سا کام ہے اور اس کام کی تجھے منہ مانگی رقم ملے گی۔ پھر تو ساری زندگی عیش سے گزاری۔ ماں باپ بھی طعنے نہیں دیں گے اور بہن کی شادی دھوم دھام سے ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر کی بات پر انور نے اسے سوالیہ انداز سے دیکھا
مگر وہ میرے کہنے پر حویلی سے باہر کیوں آئے گی میں تو اسے جانتا بھی نہیں ہوں اور نہ وہ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. انور کے سوال پوچھنے پر منیر بولا
یار ہم تجھے بتائیں گے نااااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کرنا ہے کیسے کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نے ویسا کرنا ہے بس یہی کام ہے تیرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بے فکر رہ تو کسی مصیبت میں نہیں پھنسے گا وہاں کے لوگ تجھے پہچانتے نہیں ہیں اس لئے تو بچ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور کو لڑکی مل جائے گی اور تجھے پیسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بول منظور ہے منیر نے اپنا ہاتھ انور کے آگے کیا
اگر اتنا ہی کام ہے تو منظور ہے مگر میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔ انور نے ہاتھ ملاتے ہوئے جواب دیا
بس یار اتنا ہی کام ہے منیر نے شیطانی ہنسی منہ پر سجاتے ہوئے انور کی طرف دیکھا
پھر تو بھی مجھ سے ایک وعدہ کرکہ تو اس بارے میں میرے ماں باپ کو کچھ نہیں بتائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ انور کی بات ہے منیر نے قسم اٹھا لی
انور اپنے ماں باپ کو کما کر پیسہ دے۔ ہر وقت رونا روتے رہتے ہیں کہ میں کچھ نہیں کرتا۔ اتنے پیسوں میں تو گڑیا کی شادی بھی دھوم دھام سے ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔انور دل ہی دل میں پلین بنا رہا تھا جبکہ منیر اس کی بیوقوفی پر مسلسل مسکرا رہا تھا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
اوئےکمینوں ، ذلیلوں کھڑے ہو کر مجھے ملو اور مبارک باد دو تمہارا دوست اب غریب نہیں رہا بلکہ بہت امیرکبیر ہوگیا ہے مگر پھر بھی میرا بڑا پن دیکھو کہ میں تم جیسے (حسن نے سعد کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا) غریبوں سے ملنے اسی تھرڈ کلاس ہاسٹل میں آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر زاویار اور سعد نے اسے حیرت سے دیکھا
تو “چور” تو تھا ہی اب لگتا ہے “نشئی” بھی ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں سے آ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ کیا کسی نے پکڑ کر مارا ہے جس کی وجہ سے سر پر گہری چوٹ آئی ہے اور تیری یاد داشت چلی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے تپ کی طرف دیکھا جو مسلسل مسکرا رہا تھا
نہ ہی نشہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ نہ کسی نے مارا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نہ یادداشت خراب ہوئی ہے بلکہ شادی ہوگئی ہے ہمارے یار کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی کے بتانے پر حسن نے سینہ اکڑا کر اپنے دوستوں کو دیکھا
کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟ اب کی بار سعد کے ساتھ ساتھ زاویار کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا
جھٹکا تو تمہیں اپنی بھابھی کو دیکھ کر لگے گا شادی پر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے کہتے ساتھ ہی علی کو اشارہ کیا تو وہ اپنی پاکٹ سے فون نکالنے لگا
یہ کیا بکواس ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پہلی بار زاویار نے حسن سے پوچھا
میری جان ایسے بکواس نہیں شادی بولتے ہیں اور موبائل پر ویڈیو چلا کر دونوں کے آگے کردی جو ہکابکا دیکھنے لگے
کیا ہوا کچھ تو بولو منحوسوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم مبارک ہی دے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “شادی” کی نہ سہی “امیر” ہونے کی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے دونوں کو خاموش دیکھ کر کہا
سعد نے زاویار کی طرف دیکھا اور پھر دونوں نے ایک ساتھ ایک ۔۔۔۔۔۔ دو ۔۔۔۔۔۔۔ تین ۔۔۔۔۔۔۔ بول کر حسن کو مارنا شروع کر دیا۔
کمینے تو اتنا تیز نکلے گا کبھی سوچا نہ تھا ہمارے بغیر ہی شادی کر لی ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ علی ہنستے ہوئے ان کی ویڈیو بنا رہا تھا
چل اب سچ سچ بتا کہ ماجرا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ جب دونوں اسے مار کر تھک گئے تو پاس بیٹھ کر پوچھنے لگے
ایسا کرو تھوڑا اور مارو پھر میری قبر پر آ کر پوچھتے رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے منہ بنایا اور سعد نے قہقہہ لگایا
مختصراً الفاظ میں حسن نے قصہ سنایا جس پر زاویار نے سر ہلایا
اچھا تو یہ بات ہے۔ خیر جو بھی ہے شادی مبارک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار نے حسن کو گلے لگاتے ہوئے کہا
دفع ہو جاؤ خبردار جو مجھے ہاتھ بھی لگایا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تو اس “جٹ فیملی” نے گلے مل مل کر میری تمام ہڈیاں ہلا دی ہیں اور رہتی کسر تم کمینوں نے نکال دی۔
اگر تم لوگوں نے ہاتھ بھی لگایا تو میں تم دونوں پر ریپ کا کیس کرادوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر سب نے مشترکہ قہقہ لگایا
ہم نے کیا تیری پسلیوں کو ہلانا ہے ہلائے گی تو تجھے بھابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی نے اتنا ہی بولا تھا کہ حسن اسے مارنے لگا جبکہ سعد اور زاویار چھڑانے کے ساتھ ساتھ جملہ بازی بھی کر رہے تھے
“تو اس کی ہلانے سے فلیکچر ہو جائے گا ہمیں ایسا لگتا ہے تجھے کیسا لگتا ہے”۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
