Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
ماہی چارپائی پر بیٹھی مسلسل زمین کو گھور رہی تھی یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔؟ لگتا ہے مجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے وہ ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔؟ اپنے آپ سے الجھتے ہوئے جب کافی دیر ہوگئی تو ماہی نے اسلم صاحب کو پکارا
ابا ایک بات پوچھو اگر آپ وعدہ کریں کہ اماں سے نہیں کہیں گے کیونکہ اول تو وہ مانیں گی نہیں دوسرا وہ پریشان ہو جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ما ہی اپنے سامنے بیٹھے اسلم صاحب سے رازداری میں کہنے لگی
ہاں بیٹا پوچھو اور پریشان مت ہو ۔تم تو میری لاڈلی بیٹی ہو میری شہزادی ہو میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری ماں سے ذکر نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلم نے ماہی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے لفظوں سے حوصلہ دیا
بابا میں نے آج انور کو ایک بلیک کرولا میں بیٹھا دیکھا تھا اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو اس کے ساتھ منیر تھا۔ آپ کو وہ کمینہ یاد ہے نااااااا دربار والا منیر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہی کی بات پر اسلم کا حقہ کی طرف جاتا ہاتھ رک گیا اور انہوں نے عجیب نظروں سے ماہی کی طرف دیکھا
منیر وہ جو ہماری بھینس چوری کرکے لے گیا تھا اور بعد میں مانا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی جو گاؤں میں ہونے والی ہر گڑبڑ کا سردار نکلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے گاؤں کے لڑکوں کو نشے پہ لگاتا ہے ۔ماہی نے مزید تفصیل بتائی۔
یہ وہی ہے ابا جس نے میرا رشتہ مانگا تھا تو آپ نے اس کی خوب پٹائی کی تھی یاد آیا کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے غلطی نہیں ہو سکتی۔ وہی منحوس تھا مگر انور اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ماہی کی بات پر اسلم کو ساری کہانی سمجھ آ گئی مگر وہ ماہی سے چھپا گیا
بابا آپ مجھ سے کچھ چھپا تو نہیں رہی ہیں ناااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟ماہی نے باپ کے چہرے کو پڑھتے ہوئے پوچھا
ماہی مجھے لگتا ہے منیر نے ہم سے بدلہ لینے کے لیے یا تمہیں “پانے” کے لیے کوئی چال چلی ہے اور انور اس میں پھنس گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اسلم نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا
مجھے تو انور پہ سخت غصہ آرہا ہے وہ گھر کب آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آنے دیں۔ میں آج اس کی خوب پٹائی کروں گی ۔کہ یاد رکھے گا اس کی ہمت کیسے ہوئی اس بد ذات کے ساتھ دوستی کرنے کی ۔جب پتہ بھی ہے کہ وہ ہمارا دشمن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ماہی بولتے بولتے چارپائی سے کھڑی ہو گئی۔
بیٹی آہستہ بولو کہیں کوئی سن نہ لے۔ تیری ماں شکر ہے اس وقت گھر پر نہیں ہے۔ ورنہ اب تک بات پورے گاؤں میں پھیل چکی ہوتی ۔انور کو آج گھر آنے دے۔ میں خود اس سے پوچھتا ہوں تم اس سے کوئی بات نہیں کروں گی ۔وہ ویسے بھی تیرے آگے بہت بد تمیزی کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ماہی اسلم کی بات پر قدرے نرم پڑی اور اسلم کی چارپائی پر تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئی
ابا ایک بات ضرور کرنی تھی مگر وعدہ کریں کہ آپ میرے بارے میں کچھ برا نہیں سوچیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ میرے ابا نہیں بلکہ میری سہیلی ہیں۔ میں نے اپنی ہر بات ہمیشہ آپ سے ہی کی ہے ۔ ماہی نے نیچے دیکھتے ہوئے کہا
پگلی نہ ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیوں تیرے بارے میں برا سوچوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تجھ پر تو ؟؟؟ مجھے بہت مان ہے ۔کیا میں جانتا نہیں ہوں تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسلم نے پھر شفیق لہجے میں جواب دیا
ابا ہمارے کالج کے ایک پروفیسر ہیں۔ بہت ہی نیک اور شریف انسان ہیں اور مالی طور پر بھی بالکل ہمارے جیسے ہیں غریب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہی کچھ دیر کے لئے رکی ۔۔۔۔۔۔اب اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آگے کیا کہے۔
اسے کہیں میری لاڈو تو پسند نہیں آگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسلم نے ماہی کی مشکل آسان کی۔
جی ابا ایسا ہی ہے۔ وہ لوگ کچھ دنوں تک آئیں گے ۔ابا میں یہاں گاؤں میں نہیں رہنا چاہتی اور نہ ہی کسی ان پڑھ جاھل کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ مجھے شہر میں رہنا اچھا لگتا ہے ۔ ماہی کی بات پر انہوں نے سر ہلایا
بس میرا بیٹا اب تو بے فکر ہوجا۔ جیسا تو چاہے گی ویسا ہی ہوگا ۔اپنی اماں سے کچھ نہ کہنا میں سب سنبھال لوں گا۔ میرا تو خود دل کرتا ہے کہ تو ڈاکٹر بنے ۔۔۔۔۔۔ تیرا بڑا سا گھر ہو ۔۔۔۔۔۔۔لمبی سی گاڑی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میری بیٹی شہزادیوں کی طرح رہے ۔۔۔۔۔۔۔ اسلم کی بات پر ماہی باپ کے سینے ساتھ لگ گئی۔
شکریہ ابا آپ بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ماہی نے محبّت سے کہا
اچھا اب ذرا اس کا نام تو بتا تاکہ جب وہ لوگ آئیں تو میں انہیں پہچان سکوں یہ نہ ہو کہ کسی اور کو غلطی میں “ہاں” کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلم نے پوچھا
ماہی کے چہرے پر دھنک رنگ بکھر گئے اور آنکھوں کے سامنے زاویار کا سراپا گھومنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “زاویار” نام ہے ان کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ما ہی کہتی ہوئی باہر صحن میں آ گئی
دل بالکل ہلکا پھلکا ہو گیا تھا۔ اتنی دیر میں ہلکی ہلکی بارش برسنے لگی۔ گیلی مٹی کی خوشبو چاروں طرف سے آنے لگی۔ ماہی کو اپنے اندر محبت کی بیل بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی ۔پتا نہیں ابھی کیا کر رہے ہوں گے ۔۔۔۔۔ میری یاد بھی آتی ہوگی کہ نہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔؟؟؟ ماہی نے سوچتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا
“وہ پوچھتے ہیں کہ زندگی کیا ہے ؟؟
میں جواباً ، اُنہی کو دیکھتی ہوں۔ “
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
عروسہ اور حسن دونوں ہی اس وقت حیدر جٹ کے سامنے کھڑے تھے ۔ میں کب سے تم دونوں کو اسی حالت میں دیکھ رہا ہوں ۔نہ تم بات کرتے ہو اور نہ یہاں سے جاتے ہو آخر مسئلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ انہوں نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
عروسہ بی بی بات شروع کرو پھر ختم میں کردوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسن نے سرگوشی کی
دادا جی اصل میں ہم چاہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے بات شروع ہی کی تھی کہ حیدر جٹ نے بیچ میں ٹوک دیا
پتر بیٹھ کر بات کر ایسے کیوں کھڑی ہے اور حسن تو بھی بیٹھ جا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔؟ حیدر جٹ نے دونوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
نہیں شکریہ میں بیٹھ گیا تو بھاگنے میں مشکل پیش آئے گی کھڑا بندہ جلدی بھاگ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر بھروسہ نے اسے کہنی ماری
یہ کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ دادا جی نے ناسمجھی سے حسن کو دیکھا
دادا جی بات دراصل یہ ہے کہ میں جب بھی کسی سے “ضروری” بات کرتا ہوں تو ہمیشہ کھڑے ہو کر ہی کرتا ہوں۔ اس طرح مجھے بات کرنے میں آسانی رہتی ہے ۔حسن کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے عروسہ مسکرانے لگی
پتر تجھ میں اور کچھ ہے کہ نہیں مگر تو باتیں بہت مزے کی کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ دادا جی پلنگ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
میں کم از کم ایک دن میں دو دفعہ آپ کے گلے نہیں لگ سکتا۔ میری صحت اور ہڈیاں مجھے اس کی اجازت نہیں دیتی کیلشیم کی کمی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پہ دادا نے قہقہ لگاتے ہوئے زبردستی اسے اپنے ساتھ لگایا جس پر حسن منہ بنا کر رہ گیا
مجھے اب اندازہ ہو رہا ہے کہ تمہاری دادی کی وفات کیسے ہوئی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ دادا کے پیچھے ہٹتے ہی حسن نے عروسہ کے کان میں سرگوشی کی
پتر جب تجھے اپنا مان لیا ہے تو پھر شرم کیسی جو بات کرنی ہے کھل کر کیا کر ، مجھے اچھا لگتا ہے تیرا یہ انداز ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا اپنا سا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح تو بے تکلف ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دادا نے پلنگ پر واپس پہنچتے ہوئے کہا
“بے” تو آپ کی طرف سے ہے میری طرف تو” تکلف ” رہ جاتا ہے ۔حسن کی بات پر کمرے میں داخل ہوتے چچا عباس نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا تو بمشکل حسن پلنگ پر گرتے گرتے بچا۔
میں کدھر “پہلوانوں” کے خاندان میں پھنس گیا ہوں۔ مجھے آپ لوگوں نے “ٹینس بال” سمجھ رکھا ہے۔ اپنے “فٹبال” سے کھیلیں ناااااا ۔۔۔۔۔۔ حسن سنبھلتے ہوئے بڑبڑایا عروسہ جو حسن کی حالت سے محظوظ ہو رہی تھی اس کے آخری لفظ پر غصے میں آ گئی ۔
دادا جی حسن چاہ رہا ہے کہ اگر اسے اس گھر میں رہنے کا موقع دے دیا جائے تو بیچارے کا خرچہ بچ جائے گا مگر میں نے اسے صاف صاف منع کردیا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔
پھر بھی یہ ضد کر رہا تھا تو میں اسے آپ کے پاس لے آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے حسن کے پلین کے عین مطابق بات بنائی۔
ارے واہ میں تو سمجھا تم صرف موٹی ہی ہو مگر تم تو خاصی جھوٹی بھی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کے “تعریفی کلمات” عروسہ کو زیادہ پسند نہیں آئے۔
یہ تعریف تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے اس کا منہ بنتا دیکھ کر تصحیح کی۔
آئندہ ایسی بیہودہ تعریف کم از کم میری مت کرنا آئی سمجھ ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے دانت پیس کر جواب دیا
اوئے تم لوگ آپس میں کیوں لڑ رہے ہو ابا جی کو فیصلہ کرنے دو کہ حسن یہاں رہ سکتا ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چچا عباس نے دونوں کو آپس میں الجھتا ہوا دیکھ کر روکا ۔
ویسے تو تمہارا نکاح ہو چکا ہے ایسا کرتے ہیں کہ حسن کو رہنے کی اجازت دے دیتے ہیں مگر پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں جلد ہی ان کی شادی کا “ایک فنکشن” کرنا پڑے گا تا کہ کسی کو بھی بات کرنے کا موقع نہ ملے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ داد جی نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا
شادی کا ایک فنکشن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تمہارے ہاں شادی کے کتنے فنکشن ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے دادا جی کی بات پر عروسہ عکے کان میں پھر سرگوشی کی
میلی پہلی شادی ہے مجھے نہیں پتا ۔۔۔۔۔۔؟ عروسہ نے منہ بنایا
اچھا خاصا تمہارا بنا بنایا “برا” سا منہ ہے پھر اسے دوبارہ بناتی کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ بالکل “حلوہ کدو” جیسا ہے ۔ حسن ایک بار پھر شروع ہو گیا
جب میں تم دونوں کو اس طرح پیار کرتا دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی جوانی کے دن یاد آ جاتے ہیں ۔حسن تو مجھے بہت پسند آ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیدر جٹ یہ کہہ کر ابھی پلنگ سے نیچے پاؤں اتار ہی رہے تھے کہ حسن نے دونوں ہاتھ کھڑے کردیے ۔
تمہارے دادا جی مجھے اس قابل بالکل نہیں چھوڑیں گے کہ میں کسی اور کو “پیار” کر سکوں۔ میرے خیال سے یہ پھر مجھے گلے لگانے آ رہے ہے۔ موٹی کچھ کرو کیوں کسی غریب کے بچے کی بد دعا لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے عروسہ کے پیچھے چھپتے ہوئے کہا
دادا جی ہم آپ کی طرف سے ہاں سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کے ساتھ ساتھ اس کا بھائی علی بھی یہیں رہے گا ۔ عروسہ نے درمیان میں کھڑے ہوتے ہوئے بتایا ۔
پہلی دفعہ تمہارے “بھرپور سراپے” کا فائدہ ہوا ہے اور یقین جانو مجھے لفظ “بھرپور” کا مطلب بھی صحیح طرح سمجھ آ گیا ہے ۔حسن نے عروسہ کے کان میں سرگوشی کی اس سے پہلے کہ وہ پلٹ کر کچھ کہتی وہ خدا حافظ کرتا باہر نکل گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
حویلی میں اس وقت صرف عفت، سکینہ اورمہرالنساء موجود تھیں۔ اور صدیق کا انتظار بہت بے چینی سے کر رہیں تھیں جب گاڑی کے مسلسل بجتے ہارن پر چونکی۔
بھابھی گاڑی کا ہارن گیٹ پر مسلسل بج رہا ہے ایسے لگتا ہے جیسے ہمارا “زی” آ گیا ۔ایک منٹ بھی اگر گیٹ دیر سے کھلتا تھا تو کتنا ہنگامہ کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سکینہ بی کی آواز پر مہرالنساء نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا
تائی جی وہ نہیں ہے کیوں اپنے آپ کو دکھی کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔؟ عفت نے تسلی دی ۔
دو سال ہوگئے ہیں اسے دیکھے ہوئے۔ ہر پل دل کو یہی انتظار ہوتا ہے کہ شاید ابھی آجائے ابھی آ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرالنساء کا جملہ ابھی پورا ہی نہیں ہوا تھا کہ لہجہ بھیگ گیا اور وہ آگے بول نہ سکیں۔ عفت نے اٹھ کر انہیں اپنے ساتھ لگایا تبھی اچانک باہر لان سے شور کی آوازیں آنے لگیں ۔
اللہ خیر یہ کیسا شور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عفت نے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا ۔اللہ نہ کرے جو دو سال پہلے ہوا تھا وہ دوبارہ ہو ۔اس وقت حویلی میں ہم تین عورتیں ہیں۔کہیں دلاور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ عفت کی حالت غیر ہو رہی تھی ہاتھ ٹھنڈے اور رنگت ایک دم پیلی پڑنے لگی۔
عفت تم مجھے تسلی دے رہی ہو مگر خود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی مہرالنساء نے اتنا ہی کہا تھا کہ ایک نوکر بھاگتا ہوا لیونگ روم میں داخل ہوا۔
بیگم صاحبہ بیگم صاحبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا بات بھی صحیح طرح نہیں کر پا رہا تھا ۔
بول بھی دے کیا موت پڑی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سکینہ بی نے جلدی سے پوچھا
وہ جی چھوٹے شاہ جی ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی نوکر کے منہ سے لفظ چھوٹے شاہ جی نکلا سب اپنی اپنی جگہ پر ساکت ہوگے۔
مہرالنساء کی آنکھوں سے آنسو پانی کی طرح بہنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لب خودبخود مسکرانے لگے دکھ ۔۔۔۔۔۔۔ غم ۔۔۔۔۔۔۔۔ جدائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوشی ۔۔۔۔۔۔۔۔ انتظار ۔۔۔۔۔۔۔محبت ۔۔۔۔۔۔۔ سب جذبہ آپس میں مکس ہو رہے تھے جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا ۔
سکینہ اور عفت کے چہروں پر بھی عجیب سی خوشی تھی ۔نظریں دروازے پر لگی ہوئی تھیں۔ تبھی زاویار سفید شلوار قمیض پر چیک دار واسکٹ پہنے اپنے دراز قد ، کھلتی رنگت ، مضبوط جسم اور اپنی سحر انگیز شخصیت کے ساتھ اندر داخل ہوا ایک سیکنڈ کے لئے وقت جیسے تھم گیا۔
زاویار نے آگے بڑھ کر ماں کو ساتھ لگایا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔
اب بھی نہ آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوگی تیری ضد پوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تڑپا لیا ماں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔سکون مل گیا تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب میں مر جاتی تب آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی ساتھ وہ رو رہی تھی اور اسے پیار بھی کر رہی تھی۔ جب کہ یہ منظر دیکھ کر سکینہ اور عفت کی آنکھوں میں بھی آنسو سے چمکنے لگے ۔کافی دیر بعد زاویار نے ماں کو خود سے الگ کیا اور سکینہ سے ملا پھر عفت بی کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔
آج پھی آپ ہی پیار دیں گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں پوچھ رہا تھا یا بتا رہا تھا مگر چہرے پر عجیب خوشی تھی۔
چھوٹے ہمیشہ میں ہی دیتی ہوں۔ بڑی جو ہوں تم سے ، اب بھی میں ہی دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پہ ہاتھ پھیرا ۔یہ ایک “لمس” جسے وہ دو سال سے مس کر رہا تھا عجیب طاقت بخش گیا اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر وہ دیکھتا رہا مگر منہ سے کچھ نہیں بولا بالآخر عفت نے ہی بات شروع کی
بیٹھو کھڑے کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟ آنے کا بتا دیتے ۔۔۔۔۔۔۔؟ عفت کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا ۔
آپ پہلے سے کافی کمزور ہو گئی ہیں۔ اپنا خیال رکھا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود پر قابو پانے کے باوجود بھی جملہ منہ سے پھسل گیا جس پر عفت نے سر نفی میں ہلایا
تم بدل نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹے باز آجاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مسکرائیں۔
کیونکہ میں بدلنا نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار کہتا ہوا پیچھے ماں کے ساتھ بیٹھ گیا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
