Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
سنو مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے…….. ؟ عروسہ جو کب سے حسن سے بات کرنا چاہ رہی تھی. آج کچھ ہچکچاتے ہوئے اس کے کمرے میں آئی.
بس ایک بات _ یہ کیا بات ہوئی آپ تو ایسا کہہ کر “بات” کی توہین کر رہیں ہیں. کم از کم آپ کو تو ایک درجن بات کرنی چاہیے آپ تو بلکل ہماری جیسی باتیں کر رہیں ہیں یعنی عام لوگوں جیسی اب آپ کے منہ سے ایک بات کیسی لگے گی……… ؟ حسن نے سوچنے کی ایکٹنگ کی.
عروسہ جو کچھ کنفیوز سی کمرے میں داخل ہوئی تھی. حسن کی بات سنتے ہی غصے میں آ گئی.
تم کس قسم کے انسان ہو _ کیا ہر وقت سرکس کے جوکر ہی طرح حرکتیں کرتے رہتے ہو. عروسہ نے اپنا غصہ نکالا
میرا شمار انسانوں کے ایسے گروہ سے ہے جو زیادہ کھانا پسند نہیں کرتے اور صرف اپنے حصے کا ہی کھا کر گزارہ کرتے ہیں حسن نے مسکراتے ہوئے عروسہ کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا.
پہلی بات تو یہ کہ تم اپنے دیکھنے کا طریقہ ٹھیک کرو یہ جو تم مجھے قربانی کے بیل کی طرح سر سے پاؤں تک دیکھتے ہو مجھے بہت برا لگتا ہے. دوسرا میں بھی صرف اپنے حصے کا ہی کھاتی ہوں یہ اور بات ہے کہ میرے حصے میں آتا ہی زیادہ ہے. عروسہ نے انگلی اٹھا کر حسن کو جتلایا.
دیکھو تم میری بات کا برا مت منانا مگر ایک نظر میں تم مجھے پوری نظر نہیں آتی ہو اس لیے میری مجبوری ہے ایسا کرنا. چلو چھوڑو فضول باتیں یہ بتاؤ کیسے آنا ہوا……… ؟ حسن نے مزید ستانا مناسب نہ سمجھا
میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے اپنے بارے میں کچھ بتاؤ یعنی اپنی فیملی کے بارے میں عروسہ کہتے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئی.
میری فیملی میں ایسا کچھ نہیں ہے جو میں کسی کو بھی بتاؤں میں بھی تمہاری طرح اکلوتا ہوں. مگر اللہ کی شان ہے تم اکلوتی ہو اور تمہیں پورے کا پورا شہر میسر ہے جبکہ میں بھی اکلوتا ہوں مگر مجھے میرے حصے کا بھی نصیب نہیں حسن اب کی بار بہت سنجیدہ تھا.
یہ کیا بات ہوئی بہت معزرت مگر مجھے سمجھ نہیں آئی عروسہ نے ناسمجھی سے حسن کو دیکھا
پھر کبھی تفصیل سے سمجھاؤں گا اب تم بتاؤ جو تم کہنا چاہ رہی ہو کیونکہ تمہارے اس بورڈ جیسے منہ پر صاف لکھا ہے کہ تم کسی ضروری کام سے آئی ہو حسن کی بات پر عروسہ نے ایک گہرا سانس لیا اور خود کو نارمل کیا.
وہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں عروسہ نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے بات شروع کی.
اس میں اتنا کنفیوز ہونے والی کیا بات ہے ……… ؟میں تو تقریباً ہر لڑکی کو ہی پسند کرتا ہوں. اب اللہ نے اتنی پیاری پیاری لڑکیاں پیدا کیں ہیں دوسرا میک اپ والوں نے رہتی سہتی کسر پوری کر دی ہے یہ کاشی والے تو کمال ہیں عجیب غریب لڑکیوں کو بھی فیری لینڈ کی پرنسس بنا دیتے ہیں اب بندہ کیا کرے میں تو خود کئی بار اس دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی ٹھکائی کروا چکا ہوں. تمہیں بتا رہا ہوں ویسے یہ باتیں بتانے والی نہیں _ حسن کی بات پر عروسہ نے اسے گھور کر دیکھا
ایسے کیوں دیکھ ریی ہو تم نے اپنے دل کی بات کی اور میں نے اپنے دل کی. حساب برابر حسن نے سر کھجاتے ہوئے جواب دیا.
میں چاہتی ہوں کہ تم کچھ ایسا کرو کہ میری عزت بھی گھر والوں کے سامنے ری جائے اور معاہدے کے مطابق جب میں تمہیں رقم دے دوں تو تم مجھے طلاق دے کر چلے جاؤ عروسہ اصل مدعے پر آئی.
یعنی تمہاری عزت خاندان والوں کے سامنے کم نہ ہو اور میں مفت میں رگڑا جاؤں حسن نے تصدیق چاہی
میرے گھر والے تمہیں بہت ہسند کرنے لگے ہیں تو ایسے میں مجھے اب اپنا پلان ناکام ہوتا محسوس ہو رہا ہے _ عروسہ نے پریشانی سے کہا
تم بے فکر رہو تمہاری عزت پر کوئی بات نہیں آئے گی میں سارا الزام اپنے سر لے لوں گا کہہ دوں گا کہ دولت کی لالچ میں میں نے تمہیں بے وقوف بنایا لیکن حسن کچھ دیر کے لیے رکا
لیکن کیا ؟ عروسہ نے بیتابی سے پوچھا
تم لوگ بہاولپور کے نواب ہوناااااا حسن نے تصدیق چاہی ۔
نواب تو نہیں ہم تو جٹ ہیں عروسہ نے تصحیح کی جس پر حسن نے سر پر ہاتھ مارا ۔
“موٹی عقل” نواب سے مراد کاسٹ نہیں بلکہ دولت کے حساب سے کہا ہے یعنی تمہارا سٹیٹس اب بات سمجھ آئی۔ حسن نے سمجھایا
ہاں ہم اپنے علاقے کے نواب ہیں بہت رعب ہے ہمارا سب ہمارے خاندان کو وہاں اچھی طرح جانتے ہیں اور ہماری بات مانتے بھی ہیں۔عروسہ نے فخر سے بتایا
ہمممممم میرا ایک عزیز کھو گیا ہے تم اسے ڈھونڈنے میں میری مدد کرو گی میں تمہاری شادی تمہاری پسند کے بندے سے کروا دوں گا اور تمہاری عزت پر ذرا بھی آنچ نہیں آنے دوں گا تم اپنے گھر والوں کے لیے اتنی ہی لاڈلی اور اہم رہو گی جتنی اب ہو بولو منظور حسن نے عروسہ کے چہرے پر نظر جماتے ہوئے پوچھا
تم اس کام کے لیے پولیس سے مدد لو تو زیادہ بہتر ہے عروسہ نے مشورہ دیا
میں نے مشورہ نہیں مانگا تعاون مانگا ہے حسن اب کھڑا ہو گیا تھا۔ اچھا ٹھیک ہے ناراض مت ہو مجھے منظور ہے ۔کچھ دیر سوچنے کے بعد عروسہ نے سر ہاں میں ہلا دیا 🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️ انور گاڑی کے آگے کھڑا ہاتھ زور زور سے ہلا رہا تھا جبکہ زاویار کو اس پر سخت غصہ آ رہا تھا کیونکہ نہ تو وہ آگے سے ہٹ رہا تھا اور نہ ہی منہ سے کچھ بول رہا تھا ۔ لگتا ہے کوئی پاگل ہے عفت نے انور کو دیکھتے ہوئے کہا
زاویار مسلسل ہارن دے رہا تھا مگر انور آگے سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا ۔
آپ اندر ہی رہیں میں ذرا اس کی ٹھکائی کر کے آتا ہوں ۔زاویار کہتا ہوا دروازہ کھولنے لگا اس سے پہلے کہ وہ گاڑی سے باہر نکلتا عفت کو جھاڑیوں میں کچھ حرکت کا احساس ہوا۔
چھوٹے گاڑی سے باہر مت نکلو پیچھے صدیق کی گاڑی آ رہی ہے وہ سب دیکھ لے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت جو سارے راستے باہر دیکھتی آئی تھی اسے یہاں خطرے کا احساس ہوا ۔
آپ بھی کمال کرتیں ہیں وہ پاگل آگے سے ہٹ نہیں رہا زاویار نے غصے سے انور کی طرف دیکھا جو اب گاڑی کے شیشے پر زمین سے پتھر اٹھا اٹھا کر پھینک رہا تھا ۔
چھوٹے میرا دل گھبرا رہا ہے میری مانو تو باہر مت جاؤ صدیق کی گاڑی کا انتظار کرو عفت نے ایک بار پھر زاویار کو روکا مگر زاویار نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر قدم رکھا ۔ اب اسے دلاور کی بدقسمتی کہیں یا زوایار کی خوش قسمتی _ کہ جیسے ہی زاویار باہر نکلنے لگا ایک سنسناتی ہوئی گولی گاڑی کے فرنٹ پر لگی ۔
زاویار نے جلدی سے گاڑی کے اندر بیٹھتے ہوئے گاڑی میں پسٹل دیکھنا شروع کی ۔اتنی دیر میں باقاعدہ گاڑی پر فائرنگ ہونے لگی اور انور ، عفت کی سائیڈ کا دروازہ کھولنے لگا مگر گاڑی آٹو لاک ہونے کی وجہ سے محفوظ رہی۔
عفت کا خوف سے چہرہ زرد پڑنے لگا ۔ گاڑی کے ٹائر پنچر ہو گئے تھے۔ شیشے بھی باری باری ٹوٹ رہے تھے اتنے میں پیچھے سے صدیق کی گاڑی بھی پہنچ گئی ۔
صدیق کے ساتھ بھی زیادہ آدمی نہیں تھے۔ صرف دو ہی تھے جیسے ہی اس نے زاویار کی گاڑی پر فائرنگ ہوتے دیکھی اس نے اپنے بندوں کو گاڑی سے نکلنے کا حکم دیا اور خود گاڑی زاویار کی گاڑی کے پاس روکی۔
چھوٹے شاہ جی آپ میری گاڑی میں آجائیں اور عفت بی کو گھر لے جائیں میں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟صدیق کی بات پر زاویار نے اسے غصے سے دیکھا
تم نے مجھے بزدل سمجھ رکھا ہے ادھر دو مجھے پسٹل اور تم عفت بی کو گھر لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار کو غصے میں آتا دیکھ کر صدیق نے شاہنواز کو کال ملائی۔
شاہ جی ۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹے سرکار کی گاڑی پر کسی نے فائرنگ کردی ہے آپ برائے مہربانی نہر کے قریب والی جگہ پر پہنچیں۔ کیونکہ وہ میری بات نہیں مان رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق نے کہتے ساتھ ہی شاہنواز کا جواب سنے بغیر ہی کال کاٹ دی ۔
یہ منحوس کہاں سے بیچ میں آ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھاڑیوں کے اس پار سے دلاور نے صدیق کی گاڑی کو دیکھتے ہوئے منیر سے کہا
تم لوگ ایسا کرو جا کر لڑکی کو گھسیٹ کر باہر لے آؤ۔ میں اپنے بندوں سے فائرنگ تیز کرواتا ہوں تاکہ زاویار اور صدیق کی توجہ ہماری طرف ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور نے منیر کو ہدایت دیتے ہوئے خود دوسری طرف کا رخ کیا ۔
زاویار کے بے حد اصرار پر صدیق نے ایک ریوالور اسے دے دیا ۔
عفت بی کچھ بھی ہو جائے آپ گاڑی سے باہر نہیں نکلے گی زاویار نے پیچھے مڑ کر کہا اور دونوں گاڑیوں کی اوٹ میں ہوتے ہوئے مخالف سمت کی جھاڑیوں میں چھپ گئے۔یہاں سے ان لوگوں کا مقابلہ کرنا بہت آسان تھا ۔صدیق کے آدمی پہلے ہی جھاڑیوں میں موجود تھے ۔ زاویار اور صدیق کے گاڑی خالی کرتے ہی منیر اور انور نے موقع غنیمت جانا اور عفت کو گاڑی میں سے نکالنے کی کوشش شروع کر دی ۔ صدیق کا فون آتے ہی شاہنواز ڈیرے سے اپنے بندے لے کر نکل پڑے ۔دل میں جس انہونی کا ڈر تھا وہ ہو گئی تھی ۔ایک طرف عغت بی کی فکر جبکہ دوسری طرف زاویار کا خیال ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر وہاں پہنچ جائیں ۔جہاں سے بھی ان کی جیپ گزر رہی تھی لوگ کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے ۔
سکینہ اورمہرالنساء اس وقت حویلی میں بیٹھیں باتوں میں مگن تھیں جب ایک نوکر بھاگا بھاگا آیا ۔
بڑی بیگم صاحبہ _ وہ جی بڑے شاہ جی کہیں بہت تیزی میں گئے ہیں ۔وہ کافی پریشان اور جلدی میں لگ رہے تھے ۔پتہ نہیں جی کیا بات ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ابھی ابھی ڈیرے سے نوکر آیا ہے تو اس نے بتایا ہے۔نوکر کی بات پر مہرالنساء نے ایک دم اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا ۔ خدا خیر کرے اسی لیے میرا دل گھبرا رہا تھا کہیں زاویار تو کسی مشکل میں نہیں پھنس گیا ۔۔۔۔۔۔؟ تم ذرا اسے فون کروں ۔مہرالنساء نے کانپتے ہاتھوں کو آپس میں ملتے ہوئے کہا
بھابھی کیا ہوگیا ہے کچھ نہیں ہوتا صدیق نے ان لوگوں کے ساتھ ہی ہے ۔اور اپنا زاویہ کون سا بچہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سب ٹھیک ہو جائے گا دیکھنا ابھی سب آتے ہی ہونگے ۔سکینہ نے تسلی دی جب کہ اس کا اپنا دل بھی اندر سے ڈر رہا تھا۔
فائرنگ میں بہت تیزی آ گئی تھی ۔وہ لوگ تعداد میں زیادہ تھے اور اس طرف صرف یہ چار لوگ ہی تھے زاویار ، صدیق اور اس کے دو آدمی پتہ نہیں ابھی تک بڑے شاہ جی بندے لے کر کیوں نہیں پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔؟ صدیق نے اپنی گن میں گولیاں ختم ہوتی دیکھ کر سوچا
شاہنواز جب وہاں پہنچے تو جو پہلا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے سے گزرا وہ یہ تھا کہ انور عفت کو گاڑی سے باہر کھینچ رہا تھا وہ اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکے اور فورا گاڑی سے باہر نکل آئے یہی ان کی سب سے بڑی بے وقوفی تھی۔
منیر نے جب سامنے شاہنواز کو کھڑے دیکھا تو اسے اپنی جان خطرے میں محسوس ہوئی کیونکہ شاہنواز کے ساتھ جیپ سے بندے اب نیچے اتر رہے تھے۔
منیر نے گن انور کو دی اور اسے شاہنواز پر گولی چلانے کا کہا اور خود عفت کو زمین پر گھسیٹنے لگا جب کہ وہ مسلسل اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
انور جس نے کبھی گن نہیں پکڑی تھی کانپتے ہاتھوں کے ساتھ گولی چلائی جو سیدھی شاہنواز کی گردن میں جا کر لگی ۔صدیق اور زاویار جو جھاڑیوں کی اوٹ میں فائرنگ کا جواب دے رہے تھے شاہنواز کی چیخ پر ادھر متوجہ ہوئے۔
دلاور نے جب شاہنواز کو گولی لگتے ہوئے دیکھی تو وہ بھاگ کھڑا ہوا انور نے بھی شاہنواز کا خون بہتے دیکھ کر جھاڑیوں کی طرف دوڑ لگا دی جبکہ منیر کو شاہنواز کے آدمیوں نے پکڑ کر مارنا شروع کر دیا ۔
ایک دم ماحول میں خاموشی چھا گئی ۔زاویار اور صدیق کے سامنے شاہنواز کا خون میں لت پت جسم سڑک پر پڑا تھا جبکہ عفت یہ سب دیکھ کر بے ہوش ہو گئی تھیں۔
🎗️🎗️🎗️🎗️
پھپھو میں نے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم ابھی مغرب کی نماز پڑھ کے جائےنماز پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھی جب فرزین نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
بولو کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم نے تسبیح رکھتے ہوئے پیار سے فرزین کے سر پہ ہاتھ پھیرا
مفہوم پہلے یہ بتائیں کہ آپ مجھے اپنی بیٹی سمجھتی ہیں نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین کے سوال پر رضیہ بیگم نے اسے گھور کر دیکھا
تمہیں کب یہ محسوس ہوا کہ میں تمہیں اپنی بیٹی نہیں سمجھتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں تو تمہیں سعد سے بھی زیادہ پیار کرتی ہوں ۔ایسی بات کر کہ تم نے میرا دل دکھایا ہے۔رضیہ بیگم کچھ ناراض ہوئیں۔
پھپھو آپ مجھے جذباتی بلیک میل نہیں کریں میری بات غور سے سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزین نے لاڈ سے ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا
اچھا اب جو بھی بات ہے سیدھی طرح کر زیادہ گھمانے پھرانے کی ضرورت نہیں ہے میں نے ابھی اور تسبیح پڑھنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
پھوپھو مجھے سعد سے شادی نہیں کرنی۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے اور سعد کے درمیان جو رشتہ ہے آپ اسے ختم کر دیں فرزین کی بات پر رضیہ بیگم کا رنگ اڑ گیا
پاگل ہو گئی ہو کیا کیسی باتیں کر رہی ہو ___دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا یہ کوئی مذاق ہے؟ رضیہ بیگم کو ایک دم غصہ آیا
میں آپ کی بیٹی ہوں اور ہمیشہ آپ کی بیٹی ہی رہوں گی اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آپ میری ساس بنیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزین نے رضیہ بیگم کے مقابل بیٹھتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی ۔
لڑکی میرا دماغ مت خراب کرو اور اگر تم نے یہی بات کرنی ہے تو اپنے ماموں سے جاکر کرو کیونکہ میں اس معاملے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتی ۔رضیہ بیگم نے فرزین کو جائے نماز سے اٹھنے کا اشارہ کیا
مگر پھپھو فرزین نے بے بسی سے ان کی طرف دیکھا
اگر تم اپنے ماموں کو راضی کر لو تو پھر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر میرے ساتھ دوبارہ ایسی بات مت کرنا _رضیہ بیگم دکھی ہو گئی تھیں۔
میں نے تمہیں ہمیشہ سعد سے زیادہ اہمیت دی ہے ۔سعد بھی تمہیں کچھ نہیں کہتا ۔مجھے سمجھ نہیں آتی آخر تمہیں تکلیف کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم نے غصے سے فرزین کی طرف دیکھا
میں آپ کو اپنی بات کیسے سمجھاؤں میں ساری زندگی کسی کے احسان کے ساتھ نہیں جی سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرزین نے دل میں سوچا
ٹھیک ہے میں ماموں سے بات کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ فرزین کہتی ہوئی جائے نماز سے اٹھ گئی ۔
ایک بات یاد رکھنا اگر تم نے یہ رشتہ ختم کیا تو پھر میرا بھی تم سے رشتہ ختم ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم کی بات پر فرزین نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا
آپ اب خود غرض بن رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے
تمہیں پتا نہیں ہے خود غرضی کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اب تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھ سے بات مت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔رضیہ بیگم نے منہ پھیرتے ہوئے کہا جس پر فرزین کا دل کٹ گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
