Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

میں کب سے تجھے تلاش کر رہا ہوں اور تو یہاں اداس بلبل بن کے بیٹھا ہوا ہے _ کیا موٹی کے عشق میں شاعر بننے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے گھاس پہ اپنی کتابیں پھینکتے ہوئے شرارت سے پوچھا بہرہ نہیں ہوں میں صرف اداس ہوں لہذا اتنا چیخنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟ ؟ علی نے ہاتھوں سے گھاس توڑتے ہوئے جواب دیا میں نے بھی یہی پوچھا ہے کہ آپ جناب اداس کیوں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو اپنی قومی زبان اردو میں ہی پوچھا ہے _ میں کونسا تم سے موسم کا حال پوچھ رہا ہوں ویسے بھی تم نے غلط ہی بتانا ہے کیونکہ اگر اتنی ہی قابل ہوتے تو آج کسی اچھی جگہ ہوتے ہیں یہاں بیٹھے گھاس نہ توڑ رہے ہو تے علی نے ہنستے ہوئے اپنی گردن پیچھے کی طرف پھینکتے ہوئے گھاس پر لیٹا ۔
پتا نہیں کہ کیوں اداس ہو مگر اتنا پتا ہے کہ بہت اداس ہوں _ حسن نے سوالیہ نظروں سے اپنے پاس لیٹے ہوئے علی کی طرف دیکھ کر کہا
گاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے تکا لگایا ۔
بہت تکلیف میں ہوں بھولتا نہیں سب کچھ
ایک بار پھر بالکل تروتازہ ہو گیا ہے جیسے ابھی کل کی بات ہو حسن نے تکلیف سے آنکھیں بند کرکے کھولیں تو اس کی آنکھیں لال سرخ ہو گئیں۔
وہ تیرا مسئلہ تھا تو اسے بھول جا
حال کو یاد رکھ اور مستقبل کی فکر نہ کر یہ مستقبل میں کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مستقبل کس نے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ علی نے تقریبا پہلو کہ بل گھاس پر لیٹتے ہوئےجواب دیا
تو کیا میرے آگے آگے ہو کر لیٹ رہا ہے ایک تو میں اتنا پریشان ہوں اوپر سے یہ تیری ادائیں حسن نے اسے ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا
اگر تیری نظروں کے سامنے رہوں گا تبھی تو تجھے میری فکر ہو گی
ورنہ تو تجھے اس “ایفل ٹاور” کے آگے کچھ نظر نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ علی نے آنکھ دبائی
کمینے اب اتنی بھی موٹی نہیں ہے اچھی خاصی پیاری لگتی ہے اگر تھوڑے سے اچھے کپڑے پہنے اور اپنا خیال رکھیں تو مجھے سمجھ نہیں آتی آج کل کے اس فیشن ایبل دور میں اس کے اندر “عابدہ پروین ” جیسی روح کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کو ایک دم اس دن والی عروسہ یاد آگئی ۔
اوئے ہوئے اچھی خاصی پیاری ذرا نوٹ کرو
کون کہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کس سے کہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور کس کے بارے میں کہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے طنزاً ہنستے ہوئے حسن کی طرف دیکھا
زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے بس مجھے اس پر تھوڑا ترس آ رہا ہے۔
لوگوں کو کہتے سنا تھا کہ لمبے بندے کی عقل اس کے ٹخنے میں ہوتی ہے ۔مگر آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا کہ موٹی لڑکی کی عقل کہاں ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے اپنے بال کھجاتے ہوئے کہا
کیوں اب کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ علی کے پوچھنے پہ مسکرایا
ہوا نہیں ہے مگر ہونے والا ہے _ عروسہ بی بی اپنی شادی والے دن بھاگنے کی تیاری کر رہی ہیں وہ بھی اپنے اس عشاق کے ساتھ جو مجھے اس کے ساتھ سیریس نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ باقی لڑکیوں کا پتا نہیں مگر میرے حساب میں عروسہ انتہائی بے وقوف ہے۔ اتنے موٹاپے کے ساتھ بھاگنے کا سوچ رہی ہے اور وہ بھی ایک انتہائی نالائق شخص کے ساتھ _ اس کا پکڑا جانا تو کنفرم ہے ۔حسن نے بالکل نارمل لہجے میں بتایا
یار تو سمجھاتا کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ بے وقوف اپنا نقصان ہی نہ کر بیٹھے ۔علی کو بھی ہمدردی ہوئی۔
اول تو لڑکی کو سمجھانا ہی بہت بڑی بیوقوفی ہے کیونکہ ہر لڑکی اپنے آپ کو بہت عقلمند اور سمجھدار سمجھتی ہے دوسرا موٹی لڑکی کو سمجھانا بیوقوفی کے ساتھ خطرناک بھی ہے اب کی بار علی اور حسن نے مشترکہ قہقہ لگایا تو اب اسے یہ بیوقوفی کرنے دیگا __ علی کو حیرت ہوئی۔
ظاہر سی بات ہے مجھے تو اپنے پیسوں سے غرض ہے اب اگر کوئی کھائی میں گر رہا ہو تو میں کیا کر سکتا ہوں کیونکہ وہ کھائی میں گرنے کے لئے ہی مجھے پیسے دے رہی ہے۔ کیا سمجھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے آبرو اچکائی۔
مگر پھر بھی علی نے جملہ ادھورا چھوڑا
پھر بھی یہ کہ وہ لڑکا عروسہ کو ملا کیسے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور عروسہ اس کی اتنی “جی حضوری ” کیوں کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دونوں کے درمیان مجھے تو “محبت” نظر نہیں آتی یا شاید عروسہ کے موٹاپے کی وجہ سے نہیں دکھائی دیتی جو بھی ہے مگر دونوں کے درمیان “محبت” کہیں نہیں ہے ۔حسن کی بات پر علی نے ایک دفعہ پھر جاندار قہقہ لگایا مجھے تو لگتا ہے وہ لڑکوں اسے بیوقوف بنا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے اپنی رائے دی۔ یعنی میری اتنی لمبی چوڑی بکواس کے بعد بھی ابھی تجھے لگتا ہے “صرف”_ حسن نے کتاب اٹھا کے زور سے علی کے سر پر ماری
یقیناً وہ لڑکا اسے بے وقوف بنا رہا ہے مگر کیوں یہی اصل سوال ہے اور اس سوال کا جواب وہی محترمہ دیں گئی ۔ لہذا ہمیں اپنا دماغ فضول میں استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔اس کا موٹا دماغ کس دن کام آئے گا
چلا آ کینٹین میں چلتے ہیں۔حسن اٹھتا ہوااپنے کپڑے جھاڑنے لگا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
میں کل واپس ہاسٹل جا رہا ہوں مگر جانے سے پہلے ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ تم اچھی طرح سوچو اپنے اور میرے بارے میں _ سعد ایک منٹ رکا یہ زندگی ہے جو ایک بار ہی ملتی ہے اسے ایسے ہی ضائع نہیں کرنا چاہیے. یاد رکھو خوشیاں صرف ایک بار ہی ہمارا دروازہ کھکھٹاتیں ہیں. اگر ہم ان کا استقبال کریں تو وہ اپنا ڈیرہ ڈال لیتی ہیں. پھر عمر بھر ان کے لیے ترسنا نہیں پڑتا. جبکہ بدنصیبی اور دکھ ہمیشہ آپ کے دروازے پر جمع ہو کر شور مچاتے رہتے ہیں. بلآخر آپ تنگ آ رہا اپنا دروازہ ان کے لیے کھول دیتے ہیں. خوشیاں زندگی میں ایک بار جبکہ غم دکھ تکلیفیں بار بار آتیں ہیں. اب یہ ہم پر ہے کہ ہم کس سے دوستی کرتے ہیں مجبھ نہیں پتہ تم کس کا انتخاب کرو گی مگر یاد رکھنا گیا وقت ہاتھ نہیں آتا.
صرف لوگوں کی وجہ سے اپنی زندگی برباد کرنا کہاں کی عقل مندی ہے ……….؟؟؟ سعد اپنے طور پر فرزین کو سمجھانا چاہ رہا تھا تاکہ وہ غلط فیصلہ نہ کرے جو اس کی باتوں سے مکمل بے نیاز ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی.
جب کافی دیر تک سعد کو اس کی طرچ سے کوئی جواب وصول نہ ہوا تو تو اس نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کر دیا.
میں تم سے بات کر رہا ہوں ……… ؟؟؟ سعد نے اس کے آگے ریموٹ لہرایا.
میں کانوں سے سنتی ہوں آنکھوں سے نہیں
فرزین نے تپ کے جواب دیا.
سب ہی کانوں سے سنتے ہیں مگر سننے کے بعد جواب دینے کے لیے زبان کا استعمال بھی کرتے ہیں …………. ؟؟؟ سعد کے جواب پر فرزین چاروناچار صوفے سے اٹھی مگر سعد نے اس کا راستہ روکا
وعدہ کرو میری بات پر عمل کرو گی ……….. ؟؟؟ سعد نے فرزین کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے پوچھا
اچھا ٹھیک ہے مگر اب تم کل ضرور چلے جانا یہ نہ ہو کہ صبح بھی یہیں گھومتے پھرتے پائے جاؤ (سارے ڈرامے کا بیڑہ غرق کر دیا). فرزین نے منہ بنایا.
نہیں نظر آتا تم بےفکر رہواور ہاں ایک بات اور میں روز رات کو تمہیں صرف “پانچ منٹ” کی کال کیا کروں گا جس میں تم مجھے بتاؤ گی کہ آج تم نے میرے بارے میں کیا سوچا یعنی کونسی وجہ میری خلاف ملی _ سعد ہنوز کھڑا تھا. پانچ منٹ تو بہت زیادہ ہوتے ہیں صرف ایک منٹ بلکہ مجھے بتانے میں صرف 30 سیکنڈ لگے گئے. فرزین کے جواب پر سعد نے سر نفی میں ہلایا
چلو تمہاری بات مان لیتے ہیں صرف ایک منٹ _ سعد نے فوراً حامی بھر لی کہیں وہ ایک منٹ سے بھی مکر نہ جائے. اور کال رات کے گیارہ بجے آنی چاہیے فرزین دل ہی دل میں سعد کو تنگ کر کے خوش ہو رہی تھی کیونکہ وہ جلد سونے کا عادی تھا.
چلو یہ بھی منظور سعد صرف اسے موقع دینا چاہتا تھا تاکہ وہ جان سکے کہ اس کہ دل میں کیا خدشات ہیں پھر مداوا آسان تھا. اور آخری بات اگر گیارہ بجے سے ایک منٹ پہلے یا بعد میں کال کی تو میں بات نہیں کروں گی
فرزین نے ایک اور حد لگائی.
منظور منظور منظور _ اور بھی کوئی شرط ہے تو بتا دو. سعد نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا چلو اب آگے سے ہٹو فرزین اسے غصہ میں نہ آتا دیکھ کر خود تپ چکی تھی.
جب میں نے تمہاری تمام شرائط من و عن قبول کر لیں ہیں تو پھر غصہ کس بات کا ……… ؟؟؟ سعد نے اس کے لال سرخ چہرے کی طرف اشارہ کیا.
میں غصے میں نہیں ہوں بلکل میری شکل ہی ایسی ہے فرزین کے جواب پر سعد کے ہونٹوں نے مسکراہٹ کو چھوا.
شکل تو اچھی خاصی ہے یہ الگ بات کہ تم نے اسے خود بگاڑا ہے. سعد نے دل میں سوچا مگر کہا کچھ نہیں.
ایک کپ چائے مل سکتی ہے ……… ؟؟؟سعد نے فرزین کو راستہ دیتے ہوئے کہا
اگر چائے پینی ہے تو کال ٹائم ایک منٹ سے کم ہو کر صرف 30سیکنڈ رہ جائے گا فرزین کو ستانے کا ایک اور موقع ملا
ٹھیک ہے تم جاؤ میں خود ہی بنا لیتا ہوں. ویسے انکار کرنے کا یہ بہت ہی بھونڈا طریقہ ہے
سعد کہتا ہوا کچن کی طرف چل پڑا تبھی باہر سے اندر آتے اقبال صاحب پر فرزین کی نظر پڑی.
اونہو یہ ماموں کہاں سے آگئے ……… ؟؟؟ اب اُس کی وجہ سے لیکچر سننا پڑے گا. فرزین نے اقبال صاحب کو لاؤنچ میں داخل ہوتے سلام کیا.
بیٹا تم یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو یہ تو تمہارے ڈرامہ دیکھنے کا وقت ہے نااااااا اقبال صاحب نے فرزین کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے پوچھا
ماموں وہ سعد کہہ رہا تھا کہ آج رات کی چائے میں بناؤں گا بس اسی کے اصرار پر میں یہاں بیٹھ گئی
فرزین نے بلند آواز میں کہا تاکہ کچن میں کھڑا سعد آسانی سے سن لے.
ارے سعد تم کیوں چائے بنا رہے ہو. تمہیں کونسا چائے بنانے کا تجربہ ہے باہر آؤ.
کچھ گپ شپ کرتے ہیں بلکہ میں تو کہتا ہوں ایک شطرنج کی بازی ہو جائے
اقبال صاحب کی بات پر سعد نے کچن کے دروازے ساتھ ٹیک لگا کر فرزین کو گھورا جو اپنے بالوں سے کھیل رہی تھی.
بابا ہاسٹل میں رہتے ہوئے سب سیکھ لیا ہے. آپ آج میرے ہاتھ کی چائے پی کر تو دیکھیں اگر مزہ نہ آئے تو سعد کے جملے پر اقبال صاحب کے ساتھ ساتھ فرزین نے بھی اسے غور سے دیکھا
تو کیا برخوردار ………… ؟ اقبال صاحب نے اپنی عینک درست کی.
تو آپ سزا کے طور پر میری شادی جلدی کرا دیجیے گا ………. ؟؟؟سعد کے شرارت بھرے لہجے پر اقبال صاحب مسکرا دیے جبکہ فرزین غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی.
ارے اب تم کہاں چلی …………. ؟؟؟ اقبال صاحب نے اسے جاتا دیکھ کر روکا
جانے دیں بابا اسے اب مجھ سے شرم آ رہی ہو گی آخر میں دلہا ہوں اس کا _
سعد کی بات پر فرزین کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ سماں جائے.
وہ میں پھپھو کو لینے جا رہی تھی فرزین کہتے ہوئے بغیر سعد کو دیکھے اندر کی طرف بڑھ گئی.
اب مزہ آیا اور بنواؤں میرے سے چائے وہ سارے گھر کی
میں نے حسن ساتھ وقت گزارا ہے مذاق تھوڑا ہے. سعد شاباش سعد خود کو سراہنے لگا مگر ساتھ ہی دھیان حسن کی طرف چلا گیا.
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
اس وقت مسجد کے صحن میں پنچائیت کے اراکین اپنے مکمل رعب و شان سے بیٹھے تھے جبکہ آج مسجد میں بڑے شاہ جی کی پہلی جمعرات پر قرآن خانی کے ساتھ ساتھ خصوصی دعائیں بھی مانگی گئی تھیں.
لنگر کا بھی وسیع پیمانے پر انتظام کیا گیا تھا. آس پاس کے تمام گاؤں والوں کو دعوت عام تھی.
کیونکہ پنچائیت میں شامل اراکین کا تعلق انہی گاؤں سے تھا. اسی لیے جب ان گاؤں میں کوئی مسئلہ ہوتا تو یہی فیصلہ کرتے.
دعا کے بعد اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد مسجد کے صحن اور باہر فیصلہ سننے کے لیے موجود تھی لیکن اصل وجہ اس رنگ برنگے مزےدار لنگر کی تھی جو اس فیصلہ کے بعد تقسیم ہونا تھا. لوگ اس لالچ میں اپنی پوری پوری فیملیززز ساتھ آئے ہوئے تھے.
زاویار، صدیق اور اس کے کچھ خاص آدمی سجادہ نشین کے دائیں طرف جبکہ مظلوم اسلم بائیں طرف تن تنہا کھڑا تھا.
لوگوں کی توجہ کا مرکز زاویار تھا جو کالا شلوار قمیض پہنے اپنے والد کی چادر اوڑھے ہوا تھا. ویسے بھی گاؤں والے شاہوں کے خلاف بولنا گناہ سمجھتے تھے دوسرا شاہنواز صاحب اپنے گاؤں کے غریب طبقے کے لیے خاصے مہربان ثابت ہوئے تھے.
مقتول کی طرف سے کون دعوےدار ہے ……. ؟؟؟ پنچائیت کے سب سے “باریش بزرگ” (جن کے بال مکمل سفید ہو چکے تھے یہاں تک کہ بھوئیں بھی اور ماتھے پر واضح محراب کا نشان تھا. ) نے انتہائی مہزب اور نرم آواز میں پوچھا
( حالانکہ سارے واقعے کا علم انھیں پہلے سے ہی ہوتا تھا مگر سب کے سامنے پوچھنا پنچائیت کی کاروائی میں شامل تھا. )
میں زاویار علی شاہ اپنے باپ اور اس پنچائیت کے ایک معزز رکن شاہنواز علی شاہ کے خون بہا کا مطالبہ کرتا ہوں………. ؟؟؟
جیسے میرے باپ کو سرے عام گولیوں سے چھنی کیا گیا. مجھے بھی اجازت دی جائے کہ میں مجرم کو اپنے ہاتھوں سے سرے عام گولیاں ماروں زاویار کا لہجہ اس وقت کسی بھی قسم کی لچک اور جذبات سے پاک تھا.
زاویار کی بات سنتے ہی پورے مجمع کے ساتھ ساتھ وہاں موجود ماہی کے جسم میں بھی سنسناہٹ ہوئی. ہر طرف خاموشی کا راج تھا.
اب آپ اپنی صفائی میں کیا کہنا چاہتے ہیں جبکہ ان سب کو معلوم تھا کہ اس نے رحم کی اپیل کے علاوہ کیا کہنا ہے یہی سب کہتے تھے ……… ؟؟؟
سرکار آپ کی پگڑیاں اور بادشاہت سلامت رہے. میں ایک غریب کسان ہوں. میرا ایک بیٹا جو ہر وقت نشے میں دُھت گاؤں کی گلیوں میں پڑا رہتا ہے.
وہ چرسی جو اپنا وزن اٹھانے سے بھی قاصر ہے وہ بھلا کسی کا قتل کیسے کر سکتا ہے. اسے پھنسایا جا رہا ہے ……… ؟؟؟ اسلم نے مسکین سی شکل بنا کر ماہی کا یاد کرایا سبق حرف با حرف دہرا دیا.
زاویار جو اسلم کے منہ سے رحم کی اپیل سننے کے لیے تیار بیٹھا تھا. یہ سب سن کر غصے میں آ گیا. دوٹکے کا بھی نہیں ہے اور ہمارے ساتھ چالاکیاں کر رہا ہے. اب تو بلکل نہیں چھوڑو گا.
کیا بکواس کر رہے ہو میں نے اور اس (زاویار نے صدیق کے کندھے پر ہاتھ رکھا ) نے اسلم کو خود گولیاں چلاتے دیکھا ہے.
زاویار کی بات پر ماہی پریشان ہو گئی کیونکہ انور نے کہا تھا کہ سوائے منیر کے کسی نے اسے گولیاں چلاتے نہیں دیکھا.
مائی باپ میں آپ کو غلط نہیں کہہ رہا
اسلم نے زاویار کے آگے دونوں ہاتھ جوڑے جسے ماہی نے ناگواری سے دیکھا
مگر آپ ایک بار گاؤں والوں سے پوچھ لیں کہ میں درست ہوں یا غلط _ اب کی بار ماہی کا دوسرا سبق اسلم نے دہرایا تو ماہی کے چہرے پر اطمینان چھا گیا. پھر پنچائیت نے انور کے بارے میں اس کے گاؤں والوں سے پوچھا جبکہ صدیق بھی اسلم کی بات پر متفق نظر آرہا تھا. آپ لوگوں کے خیال میں اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو ایک ایسا گواہ میرے پاس موجود ہے جو انور کو قاتل ثابت کرنے کے لیے کافی ہے _ زاویار نے غصے سے کھڑے ہوتے ہوئے جیدے کو اشارہ کیا جس پر وہ سر ہلاتا چل پڑا.
زاویار کے کہنے پر پنچائیت نے اس کے گاؤں والوں سے بھی پوچھا جس پر بہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو چشم دید گواہ ظاہر کرتے ہوئے انور کو مجرم ثابت کیا .
جناب یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں اگر یہ اس وقت موقع پر موجود ہوتے تو شاہ صاحب کو نہ بچاتے انور کو گولی مارنے دیتے ……… ؟؟؟ اور اگر پھر بھی یہ باضد ہیں کہ وہاں موجود تھے تو انھیں بھی وہی سزا ملنی چاہیے جو انور کو دی جائے گی. کیونکہ انھوں نے انور کو نہیں روکا اسلم کی اتنی سمجھدار باتوں پر اب پنچائیت سمیت وہاں موجود سبھی افراد حیران تھے ما سوائے زاویار کے.
کیونکہ زاویار کو اب سمجھ آ گئی تھی کہ یہ جاھل گوار کس کی زبان بول رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یقینا اس سب کے پیچھے ماہی تھی ورنہ اس دیہاتی میں اتنی عقل نہیں ۔
جبکہ ماہی اب قدر مطمئن اور پر سکون ہو کہ مجمع میں کھڑی سب سن رہی تھی ۔لوگ اسلم کی باتوں پر واہ واہ کر رہے تھے اور ایسا پہلی بار ہو رہا تھا ۔
زاویار نے صدیق کی طرف دیکھا مطلب صاف تھا کہ اب آخری پتہ ہمیں نکالنا پڑے گا
کیونکہ وہ کسی بھی صورت یہ بازی ہارنا نہیں چاہتا تھا ۔
صدیق نے اپنے موبائل سے جیدے کو کال کی ۔جیدا جو کب سے باہر پارکنگ میں کھڑا حکم کا انتظار کر رہا تھا کال آتے ہی منیر کو گاڑی میں سے نکال کر پنچایت کی طرف چل پڑا ۔
اگر تمہارا باپ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتا ۔روتا گڑگڑاتا اور مجھ سے معافی مانگ کر رحم کی اپیل کرتا ۔تو میں نے اس کو تمہارے صدقے میں معاف کر دینا تھا۔ مگر ماہی تم نے ایک ان پڑھ جاھل شخص کو میرے سامنے کھڑا کرکے اچھا نہیں کیا زاویار دل ہی دل میں ماہی سے مخاطب تھا ۔
منیر کو دیکھتے ہی اسلم اور ماہی شدید پریشان ہو گے کیونکہ وہ کافی دنوں سے غائب تھا تو ان دونوں باپ بیٹی کا خیال تھا کہ وہ ڈر کر کہیں بھاگ گیا ہے۔
منیر نے جو کہانی صدیق کو سنائی تھی وہی کہانی حرف با حرف پنچایت کے سامنے دہرا دی ۔اب اسلم پریشان ہو گیا اس نے اپنا سر جھکا لیا ۔
خون کے بدلے خون اور عزت کے بدلے عزت
انور نے نا صرف خون کیا ہے بلکہ ہماری عزت پر بھی ہاتھ ڈالا ہے _ زاویار کی بات پر اسلم کا رنگ فق ہو گیا نہیں میری بیٹی کو بیچ میں مت لائیں وہ بے قصور ہے ۔آپ نے جو بھی سزا انور کو دینی ہے وہ دے دیں۔ اسلم ایکدم گھبراہٹ میں ماہی کا پڑھایا سبق بھول کر التجا کرنے لگا جبکہ ماہی نے اپنا سر نفی میں ہلایا ۔ یہ جذباتی قوم کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی ۔ابا جو یاد کرایا ہے خدا کے لئے وہ بولو میں نے پہلے ہی تمہیں یہ ساری صورت حال ہے گھر میں بیٹھ کر آرام سے سمجھ آئی تھی ماہی دل ہی دل میں باپ سے مخاطب تھی کیوں کہ سب کے سامنے تو وہ نہیں جا سکتی تھی ۔
پنچایت ساری کاروائی کو دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ انور نے بڑے شاہ جی کو گولی نہیں ماری کیونکہ سوائے منیر کے اس بات کا اور کوئی گواہ یہاں موجود نہیں مگر انور نے شاہوں کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے اس بات کے بہت سے گواہ ہیں۔
اس لیے عزت کے بدلے عزت دینا پڑے گی
؟ پنچایت کی اس بات پر زاویار نے غصے سے اپنی مٹھی بند کی۔
سرکار میری ایک ہی بیٹی ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ ہم لوگ شاہ نہیں ہیں اس لئے میری بیٹی عزت کے بدلے عزت میں نہیں جا سکتی کیونکہ شاہ لوگ کسی غیر برادری سے شادی نہیں کرتے ۔
اور ویسے بھی شاہوں کے خاندان میں سوائے ایک مرد کے اور کوئی مرد موجود نہیں اسلم کو ایک دم ماہی کا سبق یاد آیا تو اس نے ہمت کرکے اپنی بات کہی جس پر ایک دفعہ پھر پورے مجمعے میں اسلم کی حوصلہ افزائی کے لئے شور مچ گیا۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور مختلف کیس تھا جس میں مظلوم کی طرفداری کی جا رہی تھی ۔اور اب یہ بات زاویار کی انا کا مسئلہ بن رہی تھی۔ جبکہ دوسری طرف وہی بہت مطمئن تھی ۔
سر آپ نے مجھے بہت ہلکا لیا تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کو اپنا خون پیارا ہے تو مجھے اپنا بھائی پیارا نہیں _
دیکھتے ہیں آپ کس طرح میرے بھائی کو سزا دلوا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں تو ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی اب روایت بدلے گی۔ ماہی نے دل میں سوچتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا
🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے