Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

سعد نے انتہائی فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے پورے گیارہ بجے کال کی _ ایک دو تین اور پھر کئی لگاتار کالز مگر کال نے نہ اٹینڈ ہونا تھا اور نہ ہوئی ۔ کچھ دیر تو وہ فون ہاتھ میں پکڑ کر اسے گھورتا رہا پھر ایک “وائس نوٹ” فرزین کے نمبر پر میسج کیا اور سونے کے لئے لیٹ گیا۔مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔ آج یہ کمرہ مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے کبھی اس کمرے میں کتنی رونق ہوا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اس کمرے میں آج نہ تو زاویار ہے اور نہ ہی حسن اور علی _ وہ بالکل اکیلا بیڈ پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا پھر کچھ خیال آتے ہی حسن کے نمبر پر میسج کیا ۔
اگر تم جاگ رہے ہو جس کا مجھے سو فیصد یقین ہے تو مجھے کال کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میسج سینڈ کرنے کے بعد فرزین کا وٹس ایپ آن کرکے دیکھا جہاں ابھی تک سعد کا بھیجا گیا پیغام چیک نہیں کیا گیا تھا ۔ابھی وہ سکرین کو گھور ہی رہا تھا کہ حسن کا میسج موصول ہوا۔
یہ میسج تو نے مجھے ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کے میسج پر سعد ہنس دیا۔
جی بالکل سعد نے رپلائی کیا
کوئی ثبوت پیش کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کے ریپلائی پر سعد نے اپنی اور اس کی چیٹ کا سکرین شاٹ کھینچ کر حسن کو سینڈ کیا ۔
ٹھیک ہے مجھے یقین آگیا ہے مگر میں اس وقت بات کرنے کے موڈ میں نہیں کیونکہ مجھے سخت نیند آ رہی ہے میری طرف سے تجھے sweet dreams حالانکہ تیرا ایسے خوابوں سےکوئی تعلق نہیں پھر بھی
حسن نے ایک ایموجی میسج کے ساتھ سینڈ کیا ۔
کمینے تو اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اب مجھ سے بات کرنے سے انکار کر رہا ہے ۔تیری تو ایسی کی تیسی سعد نے میسج کا جواب دیتے ہوئے غصے سے اسے کال کی ۔
ذہے نصیب آج میری کیسے یاد آگئی۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں وہی حسن ہوں جسے تم دو سال کے عرصے میں کمرے سے نکالتے آئے ہو وہ تو بھلا ہو زاویار کا جس نے تمہاری باتوں کو کبھی سیریس نہیں لیا ورنہ میں تو گیا تھا کام سے
حسن کی چہکتی ہوئی آواز سپیکر سے ابھری
لوگوں میں پھر بھی ابھی احساس نام کی چیز ہے مگر تیرے میں یہ بالکل ختم ہوگئی ہے ۔
خود سسرال جا کر بیٹھ گیا ہے اور یہاں میں بالکل اکیلا ہوں کم از کم علی کو ہی بھیج دے اتنا تو انسان دوست کا احساس کرتا ہے
سعد کی بات بے حسن نے مزے سے سوتے ہوئے علی کو ایک نظر دیکھا
تو تُو بھی ادھر ہی آ جا یہاں صرف مرد ہی مرد ہیں تجھے کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہو گا میرے سسرال میں عورت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔پتہ نہیں ان کے ہاں “افزائش نسل” کا کیا طریقہ ہے میں تو خود پریشان ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کے جواب پر سعد نے نفی میں سر ہلایا
کبھی تو سیریس ہو جایا کر ہر وقت بونگیاں مارتا رہتا ہے اگر کسی نے سن لیا تو وہ تیرے بارے میں کیا سوچے گا _ سعد کے جواب پر حسن ہنس دیا ان لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ یہ دوسرے کے بارے میں سوچیں _انہیں کھانے سے فرصت ملے تو کچھ اور کریں نااااااا اچھا کھانا _ اچھا پہننا اور خوب دل لگا کر سونا_ یہ لوگ یہی کام کرتے ہیں۔
مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ ان کا ذریعہ معاش کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ خیر چھوڑ ان کو تو یہ بتا کہ زاویار ابھی تک گاؤں سے واپس کیوں نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ حسن نے کچھ سوچتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا
کیونکہ اب اس نے آنا نہیں ہے یعنی اب وہ وہاں ہی رہے گا ویسے بھی وہ یہاں صرف اور صرف اپنے بابا سے ناراض ہو کر آیا تھا وہ صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ ان کے بغیر بھی کما سکتا ہے اسے اپنے باپ کی کمائی کی ضرورت نہیں
سعد کی بات ہے حسن کو افسوس ہوا
ویسے عجیب انسان ہے۔ شکر نہیں کرتا تھا کہ کوئی ناز نخرے اٹھانے والا ہے
ایک میں ہوں دل کرتا ہے کہ کوئی میرا خرچہ اٹھائے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں اور ایک وہ تھا بیوقوف اب ساری ذمہ داریاں پڑیں گئی تو لگ پتہ جائے گا نواب صاحب کو حسن کی بات پر سعد نے اس کی تائید کی ۔
ویسے زاویار سے مجھے اتنی جہالت کی امید نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ سعد کی بات پر حسن کو حیرت ہوئی ۔
کیسی جہالت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہی کہ وہ اپنے باپ کے قتل کی تحقیقات کے لیے قانون کا سہارا لینے کی بجائے پنچایت میں گھس رہا ہے
کیا فائدہ اتنے پڑھے لکھے ہونے کا اگر اس کی نظر میں قانون کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے افسوس کیا مگر حسن لفظ “پنچایت” پر الجھ گیا ۔
اچھا چل پھر بات کرتا ہوں۔ حسن کو اپنا سانس ایک دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا اور اس نے فورا بند کر دیا
اسے کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے پریشانی سے موبائل سکرین کو گھورا
مگر سکرین کے اوپر وٹس ایپ کا نوٹیفیکیشن جگمگاتا دیکھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی ۔
“کال لیٹ آنے کی صورت میں نہیں اٹھائی گی”
میں نے تو پورے وقت پر کال کی تھی فرزین کا میسج پڑھتے ہی سعد نے سوچا
اچھا ایسا کرو کہ تم مجھے اپنے موبائل کا ٹائم بتاؤ کہ اس وقت کیا ہوا ہے تاکہ میں اس کے مطابق میں اپنا ٹائم سیٹ کر لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سعد نے جیسے ہی میسج کیا تو وہ اسی وقت چیک بھی کر لیا گیا ۔مطلب محترمہ ابھی تک جاگ رہی ہیں ۔ امیزنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد کو حیرت ہوئی۔
کیونکہ میں اس وقت سو رہی ہوں اس لیے جواب صبح دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزین کا ریپلائی موصول ہوا ۔
آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ سوتے میں کوئی شخص میسج نہیں پڑھ سکتا ہے اور ریپلائی کرنا تو بہت دور کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ لہذا جھوٹ بولنے سے اجتناب کرے اور میری کال اٹینڈ کریں ۔
سعد کا میسج پڑھتے ہی فرزین نے اپنا موبائل آف کر کے رکھ دیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ہر طرف چاند کی چاندنی نے رات میں دن کا سماں کیا ہوا تھا ۔مکئی کی فصل ٹھنڈی ہوا سے لہلہا رہی تھی۔جہاں تک نظر جارہی تھی ہریالی ہی ہریالی تھی ۔رات کا کون سا پہر تھا ان دونوں معصوم بچوں کو کچھ فکر نہ تھی ۔
چھوٹو میری بات سن میں ذرا پھپھو کی خبر لے لو کہ وہ کیسی ہیں اور کہاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تو جامن کے پیڑ کے نیچے میرا انتظار کرنا اور اگر مجھے آنے میں دیر ہو جائے تو صبح سب سے پہلی بس جو آئے گی اس میں بیٹھ کے شہر چلے جانا یہاں رہے گا تو وہ تجھے مار دیں گے
دونوں بچوں میں سے جو بچہ قدرے بڑا تھا اس نے چھوٹے کو مخاطب کیا
کیوں کہ میرا دل نہیں مانتا کہ میں پھوپھو کو اکیلا چھوڑ کر خود تیرے ساتھ شہر چلا جاؤں میں نے ایک بہت زبردست پلان بنایا ہوا ہے ہم پھوپھو کو بھی حویلی سے نکال لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے کی آنکھوں میں امید کی چمک کو ابھری۔
لیکن بھائی مجھے بہت ڈر لگتا ہے میں اکیلا کیسے جامن کے درخت تک جاؤں گا وہ تو بہت دور ہے سڑک کے کنارے
تم بھی میرے ساتھ چلو ناااااا چھوٹو نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
ارے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے میں حویلی سے پھپھو کو لے کر آتا ہوں پھر ہم تینوں کے شہر جائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ مل کر رہیں گے ۔
میں تجھے وہاں بڑے لوگوں کے سکول میں پڑھاؤں گا اور تو پینٹ کوٹ پہن کر گھوما کرنا
تو تو ہمارا بابو ہے نا ااااا چھوٹو کو پیار کرتے ہوئے وہ گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا
اچھا کسی کو بھی راستے میں یہ مت بتانا کہ تیرے پاس بہت سارے پیسے ہیں ورنہ کوئی بھی تجھ سے چھین لے گا بڑے کے سمجھانے پر چھوٹو نے سر ہلایا
اور ہاں ایک اور بات جب تو سڑک کے تھوڑے سے فاصلے پر ہو تو اپنی جوتیاں کھیتوں کی طرف پھینک دینا تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ تو شہر والی سڑک کی طرف گیا ہے ۔
ویسے تو میں صبح ہونے سے پہلے پہلے پھوپھو کو لے کر تیرے پاس پہنچ جاؤں گا لیکن اگر ایسا نہ ہو تو میری باتیں یاد رکھنا۔تو میرا بہت بہادر بھائی ہے
بڑے کے کہنے پر چھوٹو نے سر ہلایا مگر اس کی آنکھیں موٹے موٹے آنسو سے بھر چکی تھی ۔
دیکھ اگر تو نے بڑا افسر بننا ہے تو تجھے ہمت اور محنت دونوں کرنا پڑے گی ۔ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا میں یہاں پھپھو کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ورنہ وہ لوگ ان پر بہت ظلم کریں گے۔
ونی والی لڑکی ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوتا میں انہیں کسی نہ کسی طرح یہاں سے دور لے جانا چاہتا ہوں۔میں ابا کی طرح ڈرپوک نہیں ہوں نہ ہی بے حس کہ اپنی پھوپھو کو ان لوگوں کے حوالے کر کے بھول جاؤں۔
ہاں ایک اور بات اگر تو پکڑا جائے اور کوئی تم سے میرے بارے میں پوچھے یا تیرے گھر والوں کے تو صاف مکر جانا کہنا تیرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔بڑے نے ایک بار پھر چھوٹو کو خوب پیار کیا۔
اچھا ٹھیک ہے اب میں جاتا ہوں مگر تم پھپھو کو لے کر جلدی آ جانا اتنا کہہ کر وہ چھوٹا سا بچہ کھیتوں کی طرف چل پڑا چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ڈر جاتا۔ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتا دور دور تک کچھ نہ تھا ۔
بڑی ہمت سے آگے بڑھنے لگا اور پھر کھیتوں کے درمیان میں پہنچ کر اس نے اپنی جوتیاں اتار کے پھینک دیں۔نرم مٹی پر پاؤں رکھتے وہ اب بڑی سڑک کے کنارے لگے جامن کے درخت کے پاس پہنچنے ہی والا تھا کہ پیچھے سے گولیوں کے چلنے اور کتوں کے بھونکنے کی آواز آئی۔
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ میرے بھائی کو نہیں مار سکتے بالکل نہیں
روتے ہوئے اس نے اندازے کے بغیر ہی واپسی کا سفر شروع کیا مگر چھوٹی چھوٹی ٹانگوں میں کتنا دم تھا ۔
وہ کھیتوں کے درمیان تھک کر خوف سے گر پڑا اب اسے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں بالکل اپنے قریب سنائی دے رہی تھیں۔ نہیں _ لمبے لمبے سانس لیتا پسینے سے تربتر حسن بیڈ پہ بیٹھا اپنے ماتھے کو مسل رہا تھا ۔آخر یہ خواب میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ذرا سانس بحال ہوا تو پاس پڑے جک سے پانی انڈیل کر گلاس میں پیا ۔
اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر فورا خود کو نارمل کرتے ہوئے خود کو یقین دلایا کہ وہ اپنے کمرے میں موجود ہے ۔تھوڑی دیر بعد اپنے آپ کو بہتر محسوس کرتے ہوئے وہ نرم و ملائم دبیز کارپٹ پر چلنے لگا
پتا نہیں پھپھو کا کیا بنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور بھائی کس حال میں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا کروں مجھے ان کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عجیب اضطرابی کیفیت میں وہ کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا ۔
سارے مر جاؤ
اللہ کرے سارے ہی مرگئے ہوں اور خاص طور پر وہ “بابو” جس نے میری پھوپھو کو اس اذیت میں مبتلا کیا تھا ۔
ایک دفعہ
صرف ایک دفعہ پیارے اللہ جی مجھے اس شخص سے ملا دے ۔میں اس کا گریبان پکڑ کر پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں کیا اس نے ایسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
صرف ایک مرتبہ مجھے میرے پیار سے ملا دے تاکہ میں ان کے سینے پر سر رکھ کر رو سکوں۔ صرف ایک دفعہ
حسن بار بار دہراتے ہوئے اب گھٹنوں کے بل کارپٹ پر بیٹھا رو رہا تھا ۔
اس کی دبی دبی چیخوں اور رونے کی آواز سے علی کی آنکھ کھل گئی۔
تو باز کیوں نہیں آتا کیا عورتوں کی طرح آدھی رات کو اٹھ کر رونا شروع کر دیتا ہے ؟ مجھے لگتا ہے تو ایک دن vampire کی شکل اختیار کر لے گا اور تیرا سب سے پہلا شکار نہیں بنوں گا علی کی بات پر حسن اپنے جذبات پر قابو پاتا نیچے سے اٹھا اور اپنے قریب پڑا کشن اٹھا کر علی کو مارا ۔
احسان فراموش ایک تو میرے کمرے میں
میرے بیڈ پر _ میری بیگم کی جگہ پر مزے سو رہا ہے ۔دوسرا بکواس بھی کر رہا ہے مان گیا تجھے کمینے _ حسن اب دوبارہ بیڈ ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ چکا تھا ۔
احسان فراموش میں نہیں بلکہ احسان فراموش تو ہے
اتنے بڑے بیڈ پر اکیلے لیٹتے تجھے “موت” پڑتی ہے اس لیے تو مجھے اپنے ساتھ سلاتا ہے اوپر سے نخرے بھی دکھاتا ہے میں کل ہی سعد پاس ہوسٹل چلا جاؤں گا اور تو یہاں اکیلے بیٹھا ڈرتا رہیں۔ علی نے دھمکی دی۔
ہاں جا وہ بھی اداس ہے بلکہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں گا تاکہ پتا تو چلے کہ یہ اداسی کی اصل وجہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
مجھے اصل وجہ جاننے کا ببہت شوق ہے۔ آخر میں ایک پاکستانی ہوں ۔جب تک اگلے بندے کے اندر کی بات معلوم نہ کر لوں۔ مجھے چین نہیں پڑتا
حسن ہنسنے لگا جبکہ علی نے اس کی طرف رخ موڑتے ہوئے انتہائی ناگواری سے کہا
تجھے کسی اچھے ماہر نفسیات کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ ابھی کچھ دیر پہلے تو کیسے چیخیں مار مار کر رو رہا تھا اور اب دیکھو پاگلوں کی طرح ہنس رہا ہے علی کہتا دوبارہ رخ موڑ گیا ۔
وہ تو مجھے خواب نے پریشان کردیا تھا مگر اب حقیقت میں سعد کے پریشان ہونے کی باری ہے ۔
صبح جلدی تیار ہو جانا ہم دونوں مل کے ہاسٹل جائیں گے بڑا مزہ آئے گا
اتنے دن ہو گئے اس کڑوے کریلے کو چھیڑے ہوئے _ حسن اس وقت فل فام میں واپس آ چکا تھا۔ ویسے تو بہت ہی گھٹیا قسم کا دوست ہے بجائے اس کے کہ تو مجھے اپنے سینے سے لگا کر تسلی دیتا الٹا مجھے باتیں سنا رہا ہے حسن نے ایک افسوس بھری نظر سے علی کی پشت کو دیکھا میرے خیال سے میں دادا جی کو بلا لاتا ہوں۔تجھے وہی بہتر طریقے سے اپنے سینے سے لگا کر پیار اور تسلی دیں گے علی کی شرارت کو سمجھتے ہوئے حسن نے تکیہ زور سے اس کے سر پر کھینچ کر مارا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
آپ اس کے گاؤں والوں سے پوچھ لیں میرے خیال سے یہ بات تقریبا سب کو ہی معلوم ہے خیر مجھے اس سے کیا لینا دینا ۔۔۔۔۔۔؟
یہ خون بہا میں اپنا بیٹا دے یا پیسے
یا بیٹی اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا اس کے لیے _ زاویار اس وقت بالکل ایک جنونی بے رحم جاھل انسان لگ رہا تھا جو ایک انسان کے کیے کی سزا اس کے پورے گھرانے کو دینے پر تلا ہوا تھا ۔
ٹھیک ہے مجھے ایک ہفتے کی مہلت دیں تاکہ میں سوچ کر بتا سکوں _ اسلم نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ہاتھ جوڑ کر عرض کی ۔ ٹھیک ہے ہمیں منظور ہے مگر اس دوران تم یا تمہارے خاندان کا کوئی بھی فرد گھر سے باہر نہیں نکلے گا ۔ پنچایت کی طرف سے تمہارے گھر کے باہر پہنچا دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پنچایت نے اپنا فیصلہ سنایا جسے زاویار نے بھی قبول کرلیا۔ نہیں ان کے گھر کا پہرہ میرے آدمی دیں گے کیونکہ مجھے کسی پہ بھروسہ نہیں۔ ان کے گھر کا پہرہ میرا خاص آدمی صدیق دے گا ۔زاویار نے صدیق کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ٹھیک ہے چھوٹے شاہ جی جیسے آپ کی مرضی ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگلی جمعرات تک پہنچائت موخر کی جاتی ہے آپ سب لوگ میدان میں تشریف لے جائیں اور لنگر کھول دیا جائے _ پنچایت اپنا فیصلہ سناتی اٹھ کھڑی ہوئی
زاویار نے ایک غصیلی نظر سے اسلم کو دیکھا اور پھر کسی کو بھی ملے بغیر تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔
جیدے تو شاہ جی کی گاڑی کو باقی لوگوں ساتھ حویلی لے جا۔جبکہ میں اپنے آدمیوں کے ساتھ اس بندے کے ساتھ جا رہا ہوں۔
پھر صدیق نے اسلم کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا جبکہ اسلم لوگوں کے ہجوم میں ماہی کو تلاش کر رہا تھا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے