Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

ماہی نے ابھی ابھی حویلی میں قدم رکھا تھا جہاں تک نظر جارہی تھی سبزہ زار ہیںم سبزہ زار تھا اور ایسے لگتا تھا جیسے خوبصورت سے باغ کے اندر ایک شہزادی کا محل ہو ۔
یہ حویلی کتنی خوبصورت ہے ناااااا _ ماہی نے اپنے برابر چلتے ہوئے صدیق کی طرف دیکھ کر کہا پتہ نہیں میں نے کبھی ان چیزوں پر غور نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق بالکل سنجیدہ تھا وہ تو مجھے پتا ہے آپ نے تو کبھی اپنے قریبی چیزوں پر غور نہیں کیا تو دور کی نظر تو بہت ہی کمزور ہوگی ماہی کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے صدیق نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا جس پر وہ ہنس پڑی
تم یہاں رکو میں ذرا دیکھو کہ بیگم صاحبہ کہاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے جان بوجھ کر ماہی کو لاؤنچ سے باہر روکا تاکہ اس کا سامنا سکینہ یا عفت بی سے نہ ہو
صدیق نے جیسے ہی لاؤنچ میں قدم رکھا اب اسے بدنصیبی ہی کہا جا سکتا ہے کہ سامنے ہی عفت بی اور سکینہ صوفے پر بیٹھیں ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھیں۔
وہ میں نے بڑی بیگم سے ملنا ہے انہوں نے مجھے بلوایا تھا صدیق نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے دونوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی
کیوں کیا کام تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ کی بجائے عفت بی نے نرمی سے سوال کیا
انہیں میری بیوی سے ملنا تھا اسی کو ملوانے لایا ہوں
صدیق یہ بات کہنا تو نہیں چاہتا تھا مگر جھوٹ بولنا اسے ٹھیک نہیں لگا
اچھاااااااا تو یوں کہو نا بلاؤ اسے ہم بھی تو دیکھیں کہ کیا چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب کی بار عفت کی بجائے سکینہ بی نے جواب دیا مگر عفت کے دل کی حالت بھی عجیب تھی
ما ہی دونوں عورتیں تھوڑی سی کھسکی ہوئی ہیں کسی کی بات کا برا مت منانا ایک چھوٹے شاہ جی کی پھوپھی اور دوسری منگیتر ہے ۔
صدیق نے آہستہ آواز میں ما ہی کی طرف سرگوشی کی جس پر ماہی ہنس دی
مجھے تو یہاں پر کوئی بھی اپنی جگہ پر نہیں لگ رہا سارے کے سارے ہی کھسکے ہوئے ہیں
جیسے ہی ماہی نے لاؤنچ میں قدم رکھا ان دونوں نے ماہی کو سر سے پاؤں تک ایسے دیکھا جیسے لوگ بکرا عید پر بکرے کو دیکھتے ہیں
گوری چٹی _ دبلی پتلی
کم عمر _ اور اوپر سے انتہائی لائق میری سمجھ سے باہر ہے کہ چھوٹے نے اسے رجیکٹ کیوں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے دل ہی دل میں ماہی کو دیکھتے ہوئے سوچا
اچھا تو تم ہو قاتل کی بہن
سب سے پہلے سکینہ نے طنز کا تیر چلایا
جی بالکل میں ہی ہوں آپ کو شک ہے ماہین کا اعتماد میں بولا گیا جملہ ایک دفعہ دونوں کو حیران کر گیا
لڑکی تم تو خاصی بے شرم ہو بجائے اس کے کہ شرمندہ ہو۔ کس طرح دیدہ دلیری سے جواب دے رہی ہوں۔ تمہارے بھائی نے کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا جو یوں اترا رہی ہو
سکینہ تو ماہی کے اعتماد پر جل ہی گئی تھیں۔
اگر میرے بھائی نے کارنامہ نہیں کیا تو کم از کم آپ کے بیٹے نے تو کارنامہ کیا ہے ناااااا ایک معصوم اور بے گناہ لڑکی کو خون بہا میں حاصل کرکے شرم تو آپ لوگوں کو بھی نہیں آتی ۔
ماہی کے جواب پر سکینہ اور عفت کے ساتھ ساتھ صدیق بھی حیرانی سے اسے دیکھنے لگا
کیا بکواس کر رہی ہو۔ اپنی اوقات پہچانو لڑکی اب کی بار سکینہ اور عفت دونوں صوفے سے کھڑی ہو گئیں۔
ایسے بولنے کا کوئی فائدہ نہیں آپ دونوں اپنا بی پی ہائی کر لیں گیئں اس عمر میں بی پی کا مسئلہ ہوجاتا ہے ۔
اس لیے بہتر ہے کہ آپ مجھے کوئی سزا دیں۔ جیسے مجھے دھوپ میں کھڑا کر دیں۔
یا گالیاں نکالیں یا مجھ سے گھر کے کام کروائیں تاکہ آپ کی روح کو تسکین پہنچے ۔
آپ جو بھی کہیں گئیں میں کرنے کو تیار ہوں مگر یہ آپ کی بھول ہے کہ میں روؤں گی یا آپ کی منتیں کرو گی یہ کام مجھ سے نہیں ہوتا ۔
مائی نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا جب کہ اتنی بدتمیزی وہ بھی سکینہ اور عفت بی سے صدیق نے سوچتے ہوئے اپنا سر جھکا لیا ۔
اس سے پہلے کہ ماہی کی بدتمیزی پر سکینہ بی یا عفت کوئی جواب دیتیں۔ زاویار جو اپنی ہی دھن میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا ماہی کو یوں اچانک حویلی میں کھڑا دیکھ کر حیران رہ گیا
ماہی _ بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا جس پر سب نے مڑ کر ایک نظر زاویار کو دیکھا خاص طور پر عفت بی کی نظر میں ایک چبھن تھی گلہ تھا ۔ بلیک شلوار قمیض پر براؤن چادر اوڑھے اور سر پر پشاوری ٹوپی پہنے وہ سیڑھیوں سے کم اور ماہی کے دل میں زیادہ اتر رہا تھا آئیے سر آپ بھی آئیے دیکھیں یہ دونوں آنٹیاں مجھے کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ماہی کی بات پہ اب کی بار صدیق نے اپنا سر پکڑ لیا آج جو کچھ بھی حویلی میں آج ہو رہا تھا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کبھی ہوگا یہ بات تو بالکل کنفرم تھی _
صدیق نے دل ہی دل میں سوچا
سر ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ نے زیر لب دوہراتے ہوئے نا سمجھی سے زاویار اور ماہی کو باری باری دیکھا
آپ کو شاید معلوم نہ ہو مگر انہوں نے مجھے پڑھایا ہے تو میرے سر ہی ہوئے ناااااا باوجود زاویار کے گھورنے پر ماہی نے اپنا پورا جملہ پورے اعتماد سے ادا کیا اب زاویار عفت کے برابر کھڑا تھا یہ لڑکی کیا بکواس کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ نے تصدیق کے لیے زاویار کی طرف دیکھا جس پر وہ سر ہلانے کے علاوہ کچھ بول نہ سکا جب کچھ دیر تک مکمل خاموشی چھائی رہی کیونکہ سب اپنی اپنی جگہ پر اپنی اپنی الجھنیں سلجھا رہے تھے تو بلآخر ماہی کی آواز ہی دوبارہ سنائی دی سر کو معلوم ہے کہ میں نا تو زیادہ دیر کھڑی رہ سکتی ہوں اور نہ ہی چپ
اس لیے یا تو آپ مجھے کوئی کام بتائیں اور یا پھر جانے کی اجازت دیں۔
ویسے مجھے آپ لوگوں سے مل کر ذرا بھی خوشی نہیں ہوئی _ ماہی نے دھیمی آواز میں صدیق کی طرف منہ کرتے ہوئے کہا ماہی کیسی ہو خوش ہوناااااا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار کے سوال نے صدیق کے ساتھ ساتھ ان دونوں کو بھی حیران کر دیا ۔ چھوٹے تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے بجائے اس کے کہ تم اس دو ٹکے کی لڑکی کو اس کی اوقات یاد دلاؤ تم اس سے اس کی خیریت اور خوشی پوچھ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ بی نے چلاتے ہوئے کہا اور لاؤنچ سے باہر نکل گئیں۔
عفت بی آپ ماں جی کے پاس جا کر انہیں بتائیں کہ ماہی ان سے ملنے آئی ہے _ زاویار نے منظر سے عفت کو غائب کرنے کے لیے کہا جس پر وہ منہ بناتی ہوئی مہرالنساء کے کمرے کی طرف چل پڑیں۔ تم بیٹھو کھڑی کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ۔ عفت بی کے جاتے ہیں زاویار نے ماہی کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا زاویار کے اس طرح اتنی تمیز سے ماہی سے بات کرنے پر صدیق کافی پریشان تھا اگر تمہیں کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف پہنچے یا کسی چیز کی ضرورت ہو تو تم بلا جھجھک مجھے کہہ سکتی ہو تم میری ایک بہت اچھی سٹوڈنٹ رہی ہو۔ آخری جملہ زاویار نے صدیق کے الجھے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا تا کہ اس پر ان دونوں کا رشتہ واضح ہو جائے آپ کا بہت شکریہ مگر فی الحال میں صرف آپ کی امی سے ملنے آئی ہوں وہ بھی ان کے کہنے پر ماہی نے صدیق کی طرف اشارہ کیا جس پر صدیق نے سر ہاں میں ہلایا
صدیق ماہی تھوڑی دیر امی کے پاس بیٹھے گی تم ایسا کروں کہ تب تک ڈیرے پر چکر لگا لو زاویار کیونکہ ماہی کو اکیلے میں سمجھانا چاہتا تھا اس لیے اس نے صدیق کو بھی بہانے سے ڈیرے پر بھیجنے کا سوچا
جی بہتر چھوٹے شاہ جی صدیق سر ہلاتا ہوا ایک نظر مائی کو دیکھتے باہر کی طرف بڑھ گیا
دیکھو ماہی میں چاہتا ہوں کہ تم اب سنجیدہ ہو جاؤ اور بےوقوف اور پاگلوں والی حرکتیں چھوڑ دو زندگی بیوقوفیاں کرنے کا نام نہیں ہے۔
کیونکہ تمہاری یہ بے وقوفیاں نہ صرف تمہاری آنے والی زندگی میں بلکہ میرے لیے بھی مسائل کھڑے کر سکتیں ہیں
تم سمجھ رہی ہو نہ کہ میں تمہیں کیا کہنا چاہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کو اپنی طرف خاموشی سے دیکھتے ہوئے زاویار نے اسے ٹوکا
ایک شخص کی محبت آپکو بتاتی ہے کہ آپ کون ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟
آپکی اوقات کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
برداشت کتنی ہے آپ میں ۔۔۔۔۔؟؟؟
کتنا ظرف ہے آپکا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کتنے رحمدل ہیں کتنا غصہ ہے آپ میں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور پتہ سر رحمدل کسے کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟
احساس کیا چیز ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
مانگنا کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
گڑ گڑانا کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جھکنا کیا ہوتا ہے گرنا کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور ویسے بھی محبت عقلمند لوگوں کے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔
محبت کے لیے تھوڑا پاگل
تھوڑا بے وقوف ہونا ضروری ہے۔
اور عقل مند لوگ محبت نہیں تجارت کرتے ہیں اور ہمیشہ خسارا دیکھ کر راہ بدل دیا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟
بلکہ وہ لوگ تو سرے سے مکر ہی جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے کل بھی آپ سے محبت تھی آج بھی ہے اور مرتے دم تک رہے گی میں اس بات سے کبھی نہیں مکروں گی
اور نہ ہی میں یہ بات بھولوں گی کیونکہ میں یہ بات بھولنا نہیں چاہتی۔
رہی بات مسائل کھڑے کرنے کی تو آپ بالکل مطمئن رہیں میں اپنی اور آپ کی زندگی میں کبھی کوئی مسائل کھڑا نہیں ہونے دوں گی
ویسے مجھے کل تک آپ کی منگیتر پر بہت رشک آ رہا تھا مگر آج بہت افسوس ہو رہا ہے محبت اندھی ہوتی ہے آج پہلی بار دیکھا ہے
کاش ایک بار آپ مجھے دل سے دیکھتے تو آج فیصلہ مختلف ہوتا ۔۔۔۔۔؟؟؟
” بارہا ان کو دیکھا ہے میں نے
پھر بھی جی بھر کے دیکھا نہیں ہے”
میں آپ کو جھوٹے منہ بھی یہ دعا نہیں دوں گی کہ آپ ہمیشہ خوش رہے ۔
مگر آپ کو اپنی زندگی میں خوش دیکھ کر مجھے دکھ نہیں ہوگا ۔
” ‏محبت کی کوئی ٹیکسٹ بک نہیں ہوتی سب آؤٹ آف سلیبس ہوتا ہے
کبھی رگ رگ درد _ تو کبھی روح تک سیراب ” اس لئے آپ مجھے نصیحتیں کرنا چھوڑ دیں کیونکہ میں باز نہیں آسکتی۔ آج کے بعد ہم دونوں اس موضوع پر کبھی دوبارہ بات نہیں کریں گے۔ میرے خیال سے آپ نے مجھے جو سمجھایا ہے اس سے زیادہ اچھی طرح میں نے آپ کو اپنی بات سمجھا دی ہے اب مجھے چلنا چاہیے کیونکہ زیادہ دیر میں آپ کو دیکھ کر اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتی ۔یہ میری مجبوری ہے ۔ ماہی کی باتوں پے زاویار نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے سر نفی میں ہلایا تبھی عفت بی نے آ کر ماہی کو مہرالنساء کا پیغام دیا آپ نے بھی یقیناً میری باتیں سن لی ہوں گی ۔جس سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ سر آپ سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں۔ اس لیے اپنے دل میں شک کا بیج بو کر اپنے اور ان پہ ظلم مت کیجئے گا ما ہی کہتی ہوئی عفت کے پاس سے گزر کر آگے کی طرف بڑھ گئی۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
اقبال صاحب کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا ہاسپیٹل سے گھر شفٹ ہوئے ۔
تقریبا روز ہی ڈاکٹر قاسم فون کرکے اقبال صاحب کی خیریت پوچھتے تھے۔
جس پر رضیہ بیگم وہ خود اور فرزین تینوں ہی خوش تھے سوائے سعد کے ابھی بھی وہ اسی بات پر الجھ رہا تھا
سعد بیٹا ذرا ڈرائنگ روم میں آؤں۔ ڈاکٹر قاسم کی فیملی آئی ہے ۔
رضیہ بیگم کی بات پر سعد جو کمرے میں غصے سے چکر لگا رہا تھا ایک دم چونک پڑا۔
اسے اور اس کی فیملی کو کیا تکلیف ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہزاروں لوگ ہسپتال جاتے ہیں علاج کر کے گھر واپس چلے جاتے ہیں تو کیا یہ ڈاکٹر سب کے پیچھے ان کے گھروں میں خیریت پوچھنے جاتا ہے ۔۔۔۔۔ُ؟ ؟؟
بری بات بیٹا ایسا نہیں سوچتے وہ تمہارے ابو کی خیریت پوچھنے آئے ہیں
سعد کی بات پر رضیہ بیگم نے اسے ڈانٹا
امی بس کریں ابو کا کوئی چکر نہیں ہے بلکہ سارا چکر سعد کہتے کہتے رک گیا
کیا الٹا سیدھا بول رہے ہو تم ڈرائنگ روم میں آکر ہے ہو یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے پوچھا
آ رہا ہوں
آج تو ان کی ٹھیک ٹھاک کلاس لوں گا کہ آئندہ کبھی ہمارے گھر کی طرف نہیں دیکھیں گے سعد دل میں سوچتا ہوا رضیہ بیگم کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔
ڈرائنگ روم میں نہایت خوشگوار ماحول میں باتیں ہو رہی تھیں ۔
ایک طرف ڈاکٹر قاسم اس کے ابو اور اقبال صاحب بیٹھے تھے جبکہ دوسری سائیڈ پر ان کے بالکل مقابل فرزین ان کی بہن اور والدہ کے ساتھ بیٹھی مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی تھی ۔
سعد نے ڈرائنگ روم میں قدم رکھ کر اونچی آواز میں سلام کیا ایک دفعہ سب نے اس کی طرف دیکھا اس نے مسکراتے ہوئے اپنے قدم ڈاکٹر قاسم کی طرف بڑھا دیے ۔
ویسے بلاشبہ آپ ایک عظیم ڈاکٹر ہیں ورنہ آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں کون اپنے پیشنٹ کے پیچھے ان کے گھر ان کی عیادت کے لیے آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے طنز کے تیر چلاتے ہوئے ڈاکٹر قاسم سے مصافحہ کیا
نہیں اب ایسی بات بھی نہیں ہے اچھے یا برے ڈاکٹرز بھی انسان ہی ہوتے ہیں _ ڈاکٹر قاسم نے بھی مصافحہ کرتے ہوئے جواب دیا
برخوردار آج تو ہم آپ کے والد کی خیریت نہیں بلکہ ایک اور ضروری کام سے آئے ہیں سعد کے بیٹھتے ہی ڈاکٹر قاسم نے فرزین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ڈاکٹر قاسم کے والد کی بات پر ایک دفعہ اقبال صاحب اور کمرے میں لوازمات سے بھری ٹرالی لے کر داخل ہوتیں ہوئیں رضیہ بیگم بھی چونک پڑیں۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بات کو واضح کریں اقبال صاحب نے اپنے دل میں آتے خیال کو جھٹلاتے ہوئے سوال کیا
مطلب یہ کہ یہ اپنے بیٹے کے لئے فرزین کا رشتہ مانگنے آئے ہیں ___
ان کی بجائے سعد نے چہک کر وضاحت دی جس پر فرزین کا پورا منہ کھل گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے