Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

زاویار ماں کی گود میں سر رکھ کر گم صم سے لیٹا ہوا تھا. جب شاہنواز اسےچھوڑ کر گئے تھے تب سے اسے ایک چپ سی لگ گئی تھی. نہ وہ ڈھنگ سے کھا رہا تھا _ نہ پی رہا تھا نہ کسی سے بات کر رہا تھا.
تیرا کیا خیال ہے صرف تجھے ان کے جانے کا دکھ ہے _ مجھے یا سکینہ کو کوئی دکھ تکلیف نہیں ارے پگلے میری تو ساری کائنات ہی وہ ایک شخص تھا.
سکینہ کا واحد سہارا اور خون کا رشتہ تھا. مگر پھر بھی ہم اس طرح نہیں کر رہے جیسے تو کر رہا ہے.
تُو اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی تکلیف پہنچا رہا ہے. جب میں تجھے اس طرح دیکھتی ہوں تو شدید تکلیف میں مبتلا ہو جاتی ہوں. مہروالنسا نے زاویار کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
چل اٹھ زیادہ نہیں تو یہ دودھ ہی پی لے. کھانے پینے سے کیسی ناراضگی …….. ؟ اللہ ناراض ہوتا ہے جب اس کی مخلوق اُس کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتی ہے.
ویسے بھی بھوکا رہنے سے انھوں نے واپس تھوڑا ہی آ جانا ہے سکینہ بی جو ابھی ابھی دودھ لے کر کمرے میں داخل ہوئیں تھی زاویار کا کندھا تھپکتے ہوئے دودھ اس کے آگے بڑھایا.
میرا کچھ بھی کھانے پینے کو دل نہیں کرتا
آپ پلیز مجھے کچھ دنوں کے لیے میرے حال پر چھوڑ دیں ۔زاویار نے ماں کی گود میں منہ چھپاتے ہوئے کروٹ لی جبکہ مہرونساء نے دکھ سے سکینہ کو دیکھا جو اب دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھ رہی تھی ۔
زاویار اٹھو اس طرح مت کرو اب سب کچھ تمہیں کرنا ہے ۔کیونکہ آپ تمام ذمہ داریاں تمہارے کندھوں پر ہے ۔اگر تم اپنا خیال نہیں رکھو گے تو پھر ہم سب کا خیال کون رکھے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر ایسا کرو گے تو یقین مانو لالہ کی روح کو بھی دکھ پہنچے گا ۔اس لیے تم اپنے آپ کو سنبھالو سکینہ کی بات پر زاویار نے اپنی لال سرخ آنکھیں کھولیں۔
انھیں دکھ ہی تو دیا ہے اور میں نے ساری زندگی کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے اب ساری زندگی اس گلٹ کے ساتھ جینا ہے کہ میں ایک اچھا بیٹا نہیں بن سکا
زاویار نے بیٹھتے ہوئے سکینہ بی کو جواب دیا ۔
ایسا نہیں سوچتے وہ تم سے بہت پیار کرتے تھے۔ماں باپ اپنی اولاد کو اگر کسی بات پر ڈانٹیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ اپنی اولاد سے پیار نہیں کرتے _ سکینہ نے زاویار کو تسلی دینا چاہی۔
یہی بات یہی بات زیادہ تکلیف دے رہی ہے کہ وہ تو مجھے بہت پیار کرتے تھے اور میں بدلے میں انہیں نیچا دکھانا چاہتا تھا۔
میں سمجھتا تھا کہ میں اپنی قابلیت پر انہیں ہرا دوں گا میں کتنا غلط تھا بھلا کبھء باپ کا بھی مقابلہ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ زاویار نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا تم پریشان مت ہو ۔ تمہیں ایسا دیکھ دیکھ کر میرا کلیجہ کٹ رہا ہے۔میری تکلیف دوہری ہو رہی ہے۔کیا اب اپنی ماں کو بھی مار دو گے بس کر دو ۔ ہو تجھ سے بہت پیار کرتے تھے ہم کس طرح تجھے اس بات کا یقین دلائیں تجھے میری بات کا یقین کیوں نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟مہرالنساء نے اپنے ہاتھوں میں زاویار کے ہاتھ لیے۔
تمہیں اب لالہ کے قاتلوں کو سزا دلوائی ہے اور وہ تمام کام کرنے ہیں جو وہ چاہتے تھے کہ تم کرو۔ مگر اس کے لیے تمہارا ذہنی اور جسمانی طور پر پرسکون اور صحت مند ہونا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکینہ بی نے دودھ کا گلاس آگے کرتے ہوئے کہا
آپ کا کیا خیال ہے کہ میں ان کو چھوڑ دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ میں تو ان کے پورے خاندان کا بیڑہ غرق کروں گا جو اس سازش میں شامل بھی ہوا اچانک ہی زاو یار کی آواز میں تیزی آئی اور لہجہ تلخ ہوگیا ۔ دو دن بعد بابا کی پہلی جمعرات ہے اور عصر کے بعد پنچایت بیٹھے گی ۔آپ بے فکر رہیں میں کسی کو نہیں بخشوں گا “خون کے بدلے خون” نا اس سے زیادہ اور نہ ہی کم
زاویار نے دودھ کا گلاس پکڑتے ہوئے مضبوط لہجے نیں یقین دہانی کرائی۔
تمہارا باپ صدیق مکمل بھروسہ کرتا تھا ۔میں چاہتی ہوں تم اپنے تمام معاملات میں اسے اپنے ساتھ رکھو۔ وہ ایک بے وفا اور ذمہ دار شخص ہے ۔یہ میری خواہش بھی ہے اور تمہارے باپ کی وصیت بھی مہرالنساء کی بات پر زاویار نے سر ہلایا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
تہہ خانے میں اس وقت منیر رسیوں سے کرسی پر بندھا ہوا تھا ۔بھوک اور نیند کی شدت نے اس کا برا حال کیا ہوا تھا۔
میں آخری بار پوچھ رہا ہوں کہ انور کے علاوہ تمہارے ساتھ اور کون کون تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر تم نے مجھے اب کی بار سچ نہیں بتایا تو میں یہ پٹرول کی بوتل تمہارے اوپر گرا کہ آگ لگا دوں گا صدیق نے ہاتھ میں پکڑی بوتل کو منیر کی آنکھوں کے آگے لہرایا
میں بتا چکا ہوں کہ انور نے ہی بڑے شاہ جی وہ گولی ماری ہے اور اس نے ہی یہ سارا پلان بنایا تھا
منیر نے دلاور کا نام نہیں لینا چاہتا تھا ۔
ایک “چرسی بھنگی” کی شاہ جی سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے اس بندے کے بارے میں ساری معلومات اکٹھی کی ہیں۔ وہ تو ہمارے گاؤں کا بھی نہیں ہے اور اس کے والدین نہایت شریف اور غریب انسان ہیں ۔
اس لیے زیادہ چالاکیاں دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔؟ جو اصل بات ہے وہ جتنی جلدی بتا دو گے اتنا ہی تمہیں فائدہ پہنچے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اب کی بار صدیق نے نرم لہجہ اپنایا
منیر کو خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے اپنی جان بچائے اور ایسا کون سا بہانہ بنائے کہ دلاور کا نام بھی نہ آئے اور انور بری طرح پھنس جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیوں کہ دلاور کا نام لینا اصل میں اپنی موت کو آواز دینے کے برابر تھا آگے “کنواں” اور پیچھے “کھائی” والی کہاوت تھی ۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد اس کے شیطانی دماغ میں کام کرنا شروع کیا ۔اور ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھو گئی جسے صدیق میں بخوبی نوٹ کیا ۔
اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اگر میں آپ کو سب سچ سچ بتا دوں گا تو آپ مجھے چھوڑ دیں گے ۔کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ منیر نے شاطرانہ انداز میں صدیق کی طرف دیکھا
میں تمہاری طرح کم ذات اور بےغیرت نہیں ہوں جو بات کرتا ہوں اس پہ قائم رہتا ہوں میری زباں نہیں گارنٹی ہے ۔مگر یاد رکھنا جھوٹ بولنے کی صورت میں تمہیں کفن نصیب نہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ صدیق کہتا ہوا منیر کے سامنے کھڑا ہو گیا
وہ انور اصل میں عفت بی بی کو بہت پسند کرتا ہے اس نے انہیں کہیں دیکھا تھا شاہ جی کو مارنا پلان میں شامل نہیں تھا وہ صرف عفت بی کو اغوا کرنا چاہتا تھا ۔
مگر اچانک ہی بڑے شاہ جی کے آنے پر وہ بوکھلا گیا اور اس نے فائر کر دیا _
منیر نے دلاور کا پلان گول مول کرکے انور کے نام سے بتا دیا ۔
اس بات کا ثبوت کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا
درگاہ کے تہہ خانے میں ایک کمرہ ہے جو انور نے عفت بی کے لئے تیار کروایا تھا اگر آپ چاہیں تو وہ جا کر دیکھ سکتے ہیں منیر نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے صدیق کو بتایا کہ کہیں وہ اس کا منہ ہی نہ توڑ دے ۔
ہمممممم تو تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ انور عفت بی کو اغوا کرنا چاہتا تھا کہ عین موقع پر شاہنواز آگئے اور غلطی سے گولیاں دنہیں لگ گئیں۔ جو انور نے اپنے دفاع میں چلائی تھی
صدیق نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بوتل دائیں بائیں گھماتے ہوئے پوچھا
جی جی بالکل میں یہی کہنا چاہ رہا ہوں منیر نے فورا ہاں میں ہاں ملائی ۔
ٹھیک ہے انور کی سزا کا فیصلہ تو زاویار شاہ جی کریں گے مگر میرے ہاتھوں سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا کیونکہ مجھے جھوٹے شخص سے شدید نفرت ھے ۔
میں اپنے طور پر تمہاری ہر بات کی تحقیق کروں گا اگر ویسا ہی ہوا جیسا تم نے بتایا ہے تو تمہیں باعزت چھوڑ دیا جائے گا
بصورت دیگر تمہارے ٹکڑے کر کے میں اپنے شیر کو کھلاؤں گا جو کہ کافی دنوں سے بھوکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق نے دوستانہ انداز میں منیر کا کندھا تھپکا اور باہر نکل گیا۔
کے خانے سے باہر آتے ہیں صدیق نے باہر کھڑے جیدے کو مخاطب کیا۔
مجھے آج شام تک انور کے گھر کے ہر فرد کے بارے میں مکمل معلومات چاہیے وہ کتنے لوگ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ گاوں والے ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟
مگر ایک بات کا خاص خیال رکھنا کہ ان تمام باتوں کے بارے میں زاویار شاہ جی کو علم نہیں ہونا چاہیے _ صدیق کہتا ہوا جانے لگا جب جیدے نے پکارا
میرے خیال سے اب اسے کھانے کو کچھ دے دینا چاہیے یہ نہ ہو کہ یہ بھوک سے مر جائے اور ہمارے لیے پریشانی کا باعث بنے جیدے کی بات پر بغیر پلٹے صدیق نے ہاں میں سر ہلایا
ٹھیک ہے دے دوں مگر یاد رکھنا صرف اتنا ہی جس سے وہ زندہ رہ سکے اس سے ایک لقمہ بھی زیادہ نہیں اور کہتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ابا میں کہیں نہیں جا رہی ہوں اس طرح آپ سب لوگوں کو پریشان اور خطرے میں چھوڑ کر میں کہیں بھی سکون سے نہیں رہ پاؤں گی ۔ماہی نے صحن میں کھڑے ہوتے ہوئے اسلم کا بازو پکڑ کر کہا
پاگل نہ بن اور چپ کر کے نکل چل میرے ساتھ _
ہم لوگوں کے بارے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کچھ بھی نہیں ہوگا ۔
چند دن یہ لوگ ہمیں پریشان کریں گے پھر خود بھی تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے میں تجھے ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں اور تو ڈاکٹر ضرور بنے گی میرے لئے اور اپنے لئے اسلم نے ماہی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے پیار سے سمجھایا
نہیں ابا میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں اپنے بھائی انور اور تجھے چھوڑ کر کہیں بھی نہیں جاؤں گی اور نہ ہی میں انور کو مرنے دوں گی کیونکہ میں اسے مرتا نہیں دیکھ سکتی ماہی نے اسلم کا بازو پکڑ کر ضدی لہجے میں کہا
اچھا تیرا کیا خیال ہے کہ وہ تجھے پیارا ہے اور مجھے اس سے ذرا محبت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ میری اولاد ہے میں اس کا باپ ہوں اور باپ کو اپنی اولاد بہت پیاری ہوتی ہے مگر اب یہ تو نہیں ہوسکتا نااااا کہ میں تجھے اس کے جرم کی سزا بھگتنے دوں اسلم نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے سمجھایا
ابا میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا ہے اگر آپ میری بات ٹھنڈے دل سے سنیں تو
اس طرح انور کی جان بھی بچ جائے گی اور مجھے بھی کہیں نہیں جانا پڑے گا ۔ماہی نے باہر پڑی چارپائی پر اسلم کو بٹھاتے ہوئے کہا
ابا ہم ایسا کرتے ہیں کہ پنچایت لگنے سے پہلے ہی شاہوں کی حویلی جا کر ان سے مل لیتے ہیں ہم ان کے پاؤں پڑ جائیں گے ان کی منت سماجت کریں گے امید ہے وہ ہمیں معاف کر دیں گے ۔ ہم انہیں بتائیں گے کہ انور نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر نہیں کیا بلکہ یہ سب منیر کا کیا دھرا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہی نے آس بھری نظروں سے اسلم کی طرف دیکھا میں سادہ بیٹی تو بالکل پاگلوں والی بات کر رہی ہے اگر ہم وہاں گئے تو پھر اپنی ٹانگوں پر کبھی واپس نہیں لوٹیں گے _ اسلم نے بے چارگی سے ماہی کی طرف دیکھا ۔
ابا تو ایک بات میری مان کر تو دیکھ ایک بار مجھے شاہوں کی حویلی لے جا ۔میں ان کو جاکر منیر کے بارے میں سب بتاؤں گی کہ کس طرح اس نے انور کو استعمال کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہ بے وقوف ان کی باتوں میں آ گیا اس سے زیادہ اس کی غلطی نہیں ہے۔مجھے بہت امید ہے کہ وہ ہماری بات ضرور سنیں گے
ماہی نے اسلم کی طرف دیکھا
تم لوگ ابھی تک یہاں آرام سے بیٹھے ہو صبح ہونے میں تھوڑی سی بے رہ گئی ہے سورج نکلنے سے پہلے پہلے گاؤں سے نکل جاؤ نوراں نے صحن میں دونوں کو بیٹھا دیکھ کر حیرت سے کہا
تو ہی سمجھا اپنی بیٹی کو کہتی ہے کہ یہاں سے نہیں جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اسلم بے چارگی سے کہتا ہوا چارپائی سے کھڑا ہو گیا ۔ میرے لیے “بیٹے کا جنازہ” برداشت کرنا آسان ہے مگر اس کی “عزت کا جنازہ” برداشت کرنا بہت مشکل _
میں برداشت نہیں کر پاؤں گا میں مر جاؤں گا ۔
یہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے میں نے اسے بہت لاڈ پیار سے پالا ہے اسے لے کر بہت سے خواب میری آنکھوں میں سجے ہیں۔
میں اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔میں کیسے خود اپنے ہاتھوں سے اسے ظالموں کے حوالے کردوں جبکہ مجھے پتہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہاں جگہ جگہ درندے جسم نوچنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں انہیں تو موقع ملنا چاہئے ۔تو سمجھا اسے اسلم اس وقت دکھ اور تکلیف سے دبا دبا چیختا ماہی کے آگے چکر کاٹ رہا تھا۔
ابا بس کر دیں۔ ایسا کچھ نہیں ہو گا میں اپنے سر کو صبح فون کرو گی وہ ضرور ہماری مدد کریں گے مجھے ان پر پورا یقین ہے
ماہی کی بات پر اسلم غصے سے اسے دیکھتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
ما ہی اپنے باپ کی بات مان لے _ یہ کوئی فلم نہیں ہے یہ اصل زندگی ہے اس میں ایسا نہیں ہوگا کہ عین وقت پر کوئی ہیرو آجائے گا اور وہ سب ٹھیک کر دے گا نوراں نے اسے سمجھایا
نہیں اماں میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی اور نہ ہی میں انور کو کچھ ہونے دوں گی آپ دیکھ لینا میں سب ٹھیک کر لوں گی ۔
یہ بالکل غلط طریقہ ہے کہ مصیبت پڑنے پر انسان مقابلہ کرنے کی بجائے اپنا گھر چھوڑ کر بھاگ جائے اور دوسروں کے گھر میں پناہ لے لے
ما ہی کہتی ہوئی اسلم کے پیچھے کمرے کی طرف بڑھ گئی
اگر تو چاہتا ہے کہ میں تجھے بچا لوں تو پھر تو مجھے ہر بات شروع سے اور سچ سچ بتائیے گا ماہی نے گھٹنوں کے بل انور کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جس پر انور کی آنکھوں میں زندگی کی رمق ابھری۔
اگر میں تجھے سب سچ سچ بتا دو تو مجھے بچا لے گی نا مرنے تو نہیں دے گی اسلم کی بات پر ماہی نے سر ہاں میں ہلایا 🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️ تم دو دن سے کہاں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے جیسے ہی لون میں قدم رکھا اندر سے عروسہ بھاگتی ہوئی باہر آئی۔ تم بھاگ بھی لیتی ہو _ حسن نے لان میں پڑے سنگ مرمر کے بیچ پر بیٹھتے ہوئے کہا
زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بتاؤ کہ تم مجھے بتائے بغیر دو دن سے کہاں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کم از کم بتا کر تو جاتے۔ عروسہ ہانپتی کانپتی اس کے برابر میں آ کر بیٹھ گئی ۔
بتا کر میں تمہیں تب جاتا جب مجھے خود بھی پتا ہوتا کہ میں نے جانا ہے ایک دوست کے والد اسے بتائے بغیر فوت ہوگے اور مجھے وہاں جانا پڑ گیا ۔حسن نے تھکاوٹ سے اپنی گردن پیچھے کرتے ہوئے بتایا ۔ تم نے سب خراب کر دیا ہے تمہاری اس دن کی حرکتوں کی وجہ سے وسام مجھ سے ناراض ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے اتنی شدید ٹینشن ہے کہ تمہیں بتا نہیں سکتی ۔عروسہ نے پریشانی سے اپنے دونوں ہاتھوں کو ملتے ہوئے کہا تمہیں ٹینشن لینی چاہیے کیونکہ ٹینشن تمہاری صحت کے لیے بہت اچھی چیز ہے ۔اس سے نہ صرف تمہارا وزن کم ہوگا بلکہ تمہارا دماغ بھی بہتر طریقے سے کام کر سکے گا ۔ ویسے تمہاری معلومات کے لئے جو لوگ پہلے “اٹنشن” دیتے ہیں وہی بعد میں “ٹینشن” کا سبب بھی بنتے ہیں _
حسن نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا
مجھے کچھ نہیں پتا تم ہی نے سب بگاڑا ہے اور اب سنواروں گیے بھی تمہیں تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ سب ٹھیک کر دو گے ۔عروسہ نے روٹھے ہوئے لہجے میں کہا
اچھا بتاؤ کہ میں کیا کروں جس سے تمہارا یہ منہ ٹھیک ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے باوجود تھکاوٹ کے عروسہ کے آگے ہار مانی ۔
وہ دادا جی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسی مہینے وہ میری اور تمہاری شادی کر دیں گے تو عروسہ کچھ دیر کے لیے رکی۔
تو حسن نے پوچھا
تو یہ کہ میں تم سے شادی نہیں کر سکتی اس لیے ہم نے یہ سوچا ہے کہ شادی والے دن جب ہم ہوٹل سے واپس آرہے ہوں گے تو میں راستے میں وسام کے ساتھ چلی جاؤنگی۔
تم گھر آکر کہہ دینا کہ راستے میں مجھے کسی نے اغوا کر لیا ہے۔اس طرح تمہاری جان بھی چھوٹ جائے گی اور میری بھی _ پھر تم اپنے راستے اور میں اپنے
عروسہ نے پرجوش لہجے میں بتایا
اتنی فلاپ پلاننگ یقینا تمہارے اس ہیرو نے کی ہو گئی ہے نااااااا حسن نے تصدیق چاہی جس پر عروسہ نے منہ بنا لیا
فی الحال تو میں بہت تھکا ہوا ہوں۔ بعد میں تمہارے بارے میں سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے مگر کم از کم اس پلان پر عمل نہیں کرنا کیونکہ یہ بالکل بکواس ہے حسن نے اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کرنا شروع کیے۔
ٹھیک ہے تم أرام کرو مگر جب دادا جی تمہیں شادی کا کہیں تو فورا مان جانا _
عروسہ نے حسن کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے لجاجت سے کہا
جی بہتر یا اور کچھ حسن نے تھکاوٹ زدہ لہجے میں کہا جس پر عروسہ نے نہ میں سر ہلا دیا
ابھی وہ سیڑھیوں کی طرف جا ہی رہا تھا کہ دادا جی نے اسے پیچھے سے پکارا
یا اللہ مجھے اس بزرگ سے بچا لیں یہ بندہ تو مجھے shake کر کر کے ہی مار دے گا
جی داداجی حسن نے بمشکل مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے جواب دیا
پتر تُو دو دن سے کہاں تھا ہم نے تیرے اور عروسہ کے بارے میں ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دادا جی نے کمرے سے باہر آتے ہوئے بتایا جب کہ حسن وہاں ریلنگ ساتھ ہی ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا ۔ مجھے پتا ہے بس شادی والے دن دوبارہ یاد کرا دینا عروسہ نے بتا دیا ہے زیادہ پریشان مت ہوں جیسا آپ چاہیں گے بالکل ویسا ہی ہوگا
مجھے پتا ہے بس شادی والے دن دوبارہ یاد کرا دینا ۔عروسہ نے بتا دیا ہے آپ پریشان مت ہوں جیسا آپ چاہیں گے بالکل ویسا ہی ہوگا حسن نے سیڑھیوں میں ہی کھڑے کھڑے جواب دیا ۔
بس یہی بات مجھے تم دونوں کی بہت اچھی لگتی ہے کہ تم میں بہت محبت ہے اور تیری فرمابرداری اس کے تو کیا کہنے ___
اتنے دنوں بعد آیا ہے اپنے دادا جی کے گلے نہیں لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دادا جی نے سیڑھیوں کی طرف آتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ کھلے جبکہ حسن نے “میں شدید تھکا ہوا ہوں” کہہ کر اوپر کی طرف دوڑ لگا دی ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے